Explained with ayahs 52–54
پھانسی کون چڑھا ؟
جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے ؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے ؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 49
”حواری“ کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو ہمارے ہاں ”انصار“ کا مفہوم ہے۔ بائیبل میں بالعموم حواریوں کے بجائے ”شاگردوں“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور بعض مقامات پر انہیں رسول بھی کہا گیا ہے۔ مگر رسول اس معنی میں کہ مسیح ؑ ان کو تبلیغ کے لیے بھیجتے تھے، نہ اس معنی میں کہ خدا نے ان کو رسول مقرر کیا تھا۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 50
دین اسلام کی اقامت میں حصہ لینے کو قرآن مجید میں اکثر مقامات پر ”اللہ کی مدد کرنے“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ایک تشریح طلب مضمون ہے۔ زندگی کے جس دائرے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی عطا کی ہے، اس میں وہ انسان کو کفر یا ایمان، بغاوت یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
خلاصہ تفسیر
(غرض بشارت مذکورہ کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ اسی شان سے پیدا ہوئے، اور بنی اسرائیل سے مضمون مذکورہ کی گفتگو ہوئی، اور معجزات ظاہر فرمائے، مگر بنی اسرائیل آپ ؑ کی نبوت کے منکر رہے) سو جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان سے انکار دیکھا (اور انکار کے ساتاھ درپے ایذا بھی، اور اتفاقا کچھ لوگ ان کو ایسے ملے جو حواریین کہلاتے تھے) تو (ان حواریین سے) آپ نے فرمایا کوئی ایسے آدمی بھی ہیں جو (دین حق میں بمقابلہ مخالفین و منکرین کے) میرے مددگار ہوجاویں اللہ کے واسطے (جس سے دعوت دین میں مجھے کوئی ایذاء نہ پہنچائے) حواریین بولے کہ ہم ہیں مددگار اللہ کے (دین کے) ہم اللہ تعالیٰ پر (حسب دعوت آپ کے) ایمان لائے اور آپ…
Read the full tafseer →’ حواری ‘ کا مفہوم : ’ حواری ‘ کا لفظ عربی میں عبرانی سے آیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اس کے لغوی مفہوم میں اہل لغت کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک اس کے معنی خیر خواہ، حامی، ناصر اور مددگار کے ہیں۔ جس طرح لفظ انصار مدینہ کے ان جانثاروں کے لیے خاص ہوا جنہوں نے ابتدائے دعوت ہی سے آنحضرت ﷺ کا ساتھ دیا اسی طرح ’ حواریین ‘ کا لفظ حضرت عیسیٰ ؑ کے ان خاص شاگردوں کے لیے استعمال ہوا جو آپ پر ایمان لائے، ہر قسم کے نرم و گرم حالات میں آپ کے ساتھ رہے، آپ نے پوری شفقت اور دل سوزی سے شب وروز جن کی تعلیم وتربیت کی اور جو بالآخر آپ کے داعی، نقیب اور آپ کے پیغام بر بن کر بنی اسرائیل کی ایک ایک بستی میں پہنچے۔ ان شاگردوں…
Read the full tafseer →52۔ 1 یعنی ایسی گہری سازش اور مشکوک حرکتیں جو کفر یعنی حضرت مسیح کی رسالت کے انکار پر مبنی تھیں۔
52۔ 2 بہت سے نبیوں نے اپنی قوم کے ہاتھوں تنگ آ کر ظاہری اسباب کے مطابق اپنی قوم کے با شعور لوگوں سے مدد طلب کی ہے۔ جس طرح خود نبی ﷺ نے بھی ابتداء میں جب قریش آپ کی دعوت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے تو آپ موسم حج میں لوگوں کو اپنا ساتھی اور مددگار بننے پر آمادہ کرتے تھے تاکہ آپ رب کا کلام لوگوں تک پہنچا سکیں جس پر انصار نے لبیک کہا اور نبی ﷺ کی انہوں نے قبل ہجرت مدد کی۔ اس طرح یہاں حضرت عیسیٰ ؑ نے مدد طلب فرمائی یہ وہ مدد نہیں ہے جو مافوق الاسباب طریقے سے طلب کی جاتی ہے کیونکہ وہ تو شرک ہے اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
22: حضرت عیسیٰ ؑ کے صحابہ کو حواری کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →یہاں سیاق قصہ میں ایک بہت بڑا خلا ہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی ۔ نہ یہ مذکور ہے کہ ان کی ماں ان کے ساتھ قوم کے سامنے آئی اور اس نے گہوارے میں ان سے باتیں کیں ‘ یہ بات مذکور نہیں ہے کہ جوان ہوکر انہوں نے تبلیغ رسالت شروع کی ‘ نہ یہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ کی والدہ کو جن معجزات کے بارے میں بشارت دی گئی تھی وہ ان کے ہاتھ دکھائے گئے (جب کہ یہ سورت مریم میں مذکور ہے۔ ) اس قسم کے گیپ قرآنی قصوں میں بار بار آتے ہیں ‘ اس کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ تکرار نہ ہو ‘ دوسری یہ کہ قرآن کریم میں قصص کے صرف وہی حصے دیئے جاتے ہیں جن کا تعلق اس سورت موضوع کلام سے ہوتا ہے باقی…
Read the full tafseer →1 یعنی یہ میرا دین قبول نہ کرینگے بلکہ دشمنی اور ایذاء رسانی کے درپے رہینگے۔
2 یعنی میرا ساتھ دے اور دین الہٰی کو رواج دینے میں میری مدد کرے۔
3 اللہ کی مدد کرنا یہ ہی ہے کہ اس کے دین و آئین اور پیغمبروں کی مدد کی جائے جس طرح انصار مدینہ نے اپنے پیغمبر ﷺ اور دین حق کی مدد کر کے دکھلائی۔
4 " حواری " کون لوگ تھے اور یہ لقب ان کا کس وجہ سے ہوا۔ اس میں علماء کے بہت اقوال ہیں مشہور یہ ہے کہ پہلے دو شخص جو حضرت عیسیٰ کے تابع ہوئے دھوبی تھے اور کپڑے صاف کرنے کی وجہ سے حواری کہلاتے تھے۔ حضرت عیسیٰ نے ان کو کہا کہ کپڑے کیا دھوتے ہو آؤ میں تم کو دل دھونے سکھا دوں۔ وہ ساتھ ہو لئے۔ پھر ایسے سب ساتھیوں کا…
Read the full tafseer →آیت 52 فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ ط
یہاں پھر درمیانی عرصے کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام کو کئی سال بیت چکے تھے۔ اس دعوت سے جب علماء یہود کی مسندوں کو خطرہ لاحق ہوگیا اور ان کی چودھراہٹیں خطرے میں پڑگئیں تو انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی شدید مخالفت کی۔ اس وقت تک یہودیوں پر ان کے علماء کا اثر ورسوخ بہت زیادہ تھا۔ جب آپ علیہ السلام نے ان کی طرف سے کفر کی شدت کو محسوس کیا کہ اب یہ ضد اور مخالفت پر تل گئے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے ایک پکار لگائی ‘ ایک ندا دی ‘ ایک دعوت عام دی کہ کون ہیں جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
51 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پوری طرح معلوم ہوچکا تھا کہ یہود اور ان کے علماء دلائل کے میدان میں مات کھا کر اب ان کی زندگی کے درپے ہوچکے ہیں اور اس کام کے لیے سازشیں تیار کر رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ انبیاء کو ناحق قتل کرنا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے۔ یہود کے ایک رئیس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسے برگزیدہ پیغمبر کا سر قلم کر ڈالا ہے تو انہیں اپنی موت کے آنے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انہیں فکر تھی تو یہ تھی کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام نہ رکنا چاہئے۔ چناچہ انہوں نے اپنے چند پیرو کاروں کو مخاطب کرکے پوچھا کہ کون ہے جو اس سلسلہ میں…
Read the full tafseer →130 ۔ (اپنی ہر سعی اور تبلیغ کے باوجود) (آیت) ” احش “ یعنی پایا یا محسوس کیا جو اس ظاہری سے۔ معناہ علم ووجد قالہ الزجاج وقال ابوعبیدہ معنی احش عرف (قرطبی) لایقال ذلک الافی ماکان من جھۃ الحاسۃ (راغب) لحقق یدرک بالحواس (بیضاوی) (آیت) ” منہم “۔ یعنی اپنے مخاطبین کی طرف سے جو بنی اسرائیل یا یہود تھے۔ ای من بنی اسرائیل (قرطبی) (آیت) ” الکفر “۔ یعنی انکار نبوت عیسوی سے اور انکار بھی ظلم وتعدی کے ساتھ۔ یہ انکار و طغیان علانیہ وبرملا تھا۔ کوئی دقیق ومخفی شے نہ تھی جو مستنبط کی جاتی بلکہ حواس ظاہری ہی سے محسوس ہونے والی کھلی ہوئی چیز تھی اور یہی نکتہ ہے کہ یہاں فعل احسن استعمال کیا گیا جس کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
یہود کی عدالت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو سزائے موت : وَمَلکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ ، اللہ کی طرف جو مکر کی نسبت کی گئی ہے یہ فن مشاکلت کے طور پر ہے۔ پہلے مکروا کے فاعل یہود ہیں، یہود کے اکابر اور سرداروں نے مخالفت اور ایذاء کے بہت سے درجے طے کرنے کے بعد بالآخر یہ طے کیا کہ یسوع نامی اسرائیلی مدعی نبوت کو ختم ہی کردینا چاہیے، چناچہ پہلے اپنی مذہبی عدالت میں الحاد کا الزام لگا کر آپ کو واجب القتل قرار دیا، پھر رومی حاکموں کی ملکی عدالت میں لاکر آپ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مخالفین کا یہ معرکہ ملک شام کے صوبہ فلسطین میں پیش آیا تھا…
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ : لماّ ظرف زمان ہے مگر اس میں شرط کا معنی ہے اور جزاء مَنْ انصاری الی اللہ ہے یعنی جب حضرت عیسیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف سے اپنی تکذیب اور کفریہ کلمات سنے جیسے عزیر کو اللہ کا بیٹاقرار دینا اور ایسی حرکتیں دیکھیں جن سے کفر مترشح ہورہا تھا۔ اس جملہ میں کچھ الفاظ محذوف ہیں اختصار کلام کے پیش نظر ان کو حذف کردیا گیا ہے پورا کلام اس طرح تھا کہ مریم سے عیسیٰ پیدا ہوئے اور اپنی قوم سے شیر خوارگی کے زمانہ میں کلام کیا اور حد کمال کو پہنچ گئے یہاں تک کہ آسمانی کتابوں کے عالم اور نبی ہوگئے اور لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا اور معجزات مذکورہ پیش کئے اور بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(52۔ 53) سو جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان منکرین کی طرف سے اپنے قتل کی سازش محسوس کی یا یہ کہ ان کے انکار حق کو دیکھا تو بولے کچھ آدمی ایسے بھی ہیں جو دین حق اور کفر کے ابطال میں میرے رفیق و مددگار ہوں ؟ تب بار و مخلص آدمی بول اٹھے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمنوں کے مقابلے میں ہم آپ کے مددگار ہیں، اور آپ اے عیسیٰ ؑ ہمارے اقرار عبادت اور توحید پر گواہ رہیے، اے ہمارے پروردگار ہم (دیگر تمام آسمانی کتابوں اور) خصوصا انجیل پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے سچے دین کی پیروی کی۔
سوہ میں ان سابقین اولین کے ساتھ لکھ دیجیے جنہوں نے ہم سے پہلے گواہی دی یا ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ تمہیں حق کی گواہی دینے میں سچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ۔۔ : یعنی صرف عقل سے نہیں سمجھا بلکہ حواس سے معلوم کرلیا، آنکھوں اور کانوں سے یہ حقیقت جان لی کہ یہود اور ان کے علماء اللہ کی دی ہوئی نشانیوں اور دلائل و معجزات کے سامنے بےبس ہوچکے ہیں، مگر ماننے کے لیے کسی صورت آمادہ نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے درپے ہیں اور اس مقصد کے لیے سازشیں کر رہے ہیں تو انھیں اپنے دنیا سے رخصت ہونے میں کچھ شبہ نہ رہا۔ اب انھیں فکر تھی تو یہ کہ دین کی اشاعت و تبلیغ کا کام رکنا نہیں چاہیے، چناچہ انھوں نے اپنے پیروکاروں سے پوچھا کہ کون ہے جو اللہ کی طرف دعوت دینے اور اس کے راستے پر چلنے اور چلانے میں میرا مددگار ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 52
قولہ تعالیٰ (آیت) ” فلما احس عیسیٰ منھم الکفر “۔ یعنی جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے کفر محسوس کیا، آیت میں احس بمعنی علم اور وجد کے ہے (یعنی جانا اور پایا) زجاج نے یہی کہا ہے۔ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : احس عرف (آپ نے پہنچانا) کے معنی میں ہے۔ اور اس کا اصل معنی کسی شے کو حاسہ کے ساتھ پانا (وجود الشیء بالحاسۃ) اور احساس کا معنی کسی شے کو جاننا ہے۔ (العلم بالشیئ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” ھل تحس منھم من احد “۔ (مریم : 98)
ترجمہ : کیا آپ ان میں سے کسی کو جانتے ہیں ؟۔
اور الحس بمعنی قتل ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(آیت) ” اذ تحسونھم باذنہ “۔ (آل عمران :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری
(1) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فلما احس عیسیٰ منہم الکفر “ سے مراد ہے کہ جب انہوں نے کفر کیا اور ان کے قتل کا ارادہ کیا اور یہ اس وقت ہوا تھا جب آپ نے اپنی قوم سے مدد طلب کی تھی تو اس وقت فرمایا لفظ آیت ” فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل وکفرت طائفۃ “ یعنی بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت ایمان لے آئی اور ایک جماعت نے کفر کیا۔
(2) ابن المنذر ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” من انصاری الی اللہ “ سے مراد ہے کہ کون میری تابعداری کرتا ہے اللہ کی طرف۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے لفظ آیت…
Read the full tafseer →[فَلَمَّآ : پھر جب ] [اَحَسَّ : احساس کیا ] [عِیْسٰی : عیسیٰ (علیہ السلام) نے ] [مِنْہُمُ : ان لوگوں سے ] [الْکُفْرَ : انکار کا ] [قَالَ : (تو ) انہوں نے کہا ] [مَنْ : کون ] [اَنْصَارِیْ : میرا مددگار ہے ] [اِلَی اللّٰہِ : اللہ کی طرف ] [قَالَ : کہا ] [الْحَوَارِیُّوْنَ : حواریوں نے ] [نَحْنُ : ہم ] [اَنْصَارُ اللّٰہِ : اللہ کے مددگار ہیں ] [اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَاشْہَدْ : اور آپ (علیہ السلام) گواہی دیں ] [بِاَنَّا : کہ ہم ] [مُسْلِمُوْنَ : فرماں برداری قبول کرنے والے ہیں ]
ح س س
حَسَّ (ن) حَسًّا : جڑ سے اکھاڑنا ‘ قتل کرنا۔ { اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِہٖج }…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
عامۃً بنی اسرائیل کا کفر اختیار کرنا اور حواریوں کا حضرت عیسیٰ کی مدد کے لیے کھڑا ہونا
سیدنا عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اپنے اتباع اور اطاعت کی دعوت دی اور انجیل پر ایمان لانے کا حکم فرمایا اور ان کو بتایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم میری اطاعت و فرمانبر داری کرو۔ لیکن بنی اسرائیل نے عناد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ لی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہود سے خطاب فرماتے اور حق کی دعوت دیتے تھے اور وہ لوگ ان کا مذاق بناتے تھے ان کے انکار اور ہٹ دھرمی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس فرما لیا کہ بنی اسرائیل ایمان لانے والے نہیں ہیں لہٰذا انہوں نے پکارا کہ کون ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–58
ذکر عداوت یہود باعیسی (علیہ السلام) و حفاظت خداوندنام وبشارت رفع الی السماء ومحفوظیت از مکر اعداء۔
قال تعالی، فلمااحس عیسیٰ منھم الکفر۔۔۔ الی۔۔۔ الممترین۔
حسب بشارت جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور پھر نبی ہوئے اور لوگوں کو توحید اور تقوی اور اپنی اطاعت کی دعوت دی اور سیدھی راہ کی طرف بلایا اور معجزات اور نشانات ان کو دکھلائے تو یہود بےبہبود نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کے ایذاء اور قتل کے درپے ہوئے حق جل شانہ نے ان آیات میں یہود کی عداوت کا ذکر کیا وہ حضرت عیسیٰ کے قتل کی کیا کیا تدبیریں کررہے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت کا ذکر فرمایا کہ ہم نے ان کی حفاظت کی کیا تدبیر کی وہ…
Read the full tafseer →74 یہاں کلام میں اندماج ہے۔ یعنی عِلْماً سے پہلے کچھ عبارت محذوف ہے ای فولد عیسیٰ کما بشر بہ وبلغ قومہ الرسالۃ۔ یعنی جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حسب بشار پیدا ہوچکے اور تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دیدیا تو یہودیوں نے ان کے خلاف حسدوبغض کی وجہ سے سازشیں شروع کردیں۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے کفر و انکار اور عداوت کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے ماننے والوں کو اپنی مدد اور نصرت کی دعوت دی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے کا قول وَرَسُوْلاً اِلیٰ بَنِیْ اِسْرَائِیلَ تک اور اس کے بعد اندماج ہو اور مذکورہ عبارت اس کے بعد محذوف ہو (کذا فی الروح ج 3 ص 174) اس سے بھی عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
بنیادی عقیدہ :
گذشتہ درس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعض معجزات کا تذکرہ تھا جن کے متعلق آپ نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں لے کر آیا ہوں ، اس لیے میرا تم سے مطالبہ ہے۔ کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ قرآن پاک شاہد ہے۔ کہ جن انبیاء کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ان سب نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ حضرت صالح ، حضرت ہود ، حضرت شعیب اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے واقعات سے یہی پتہ چلتا ہے۔ یہ بنیادی عقیدہ تخلیق آدم سے لے کر ہر دور میں ہر امت میں پایا گیا ہے۔ اور انبیاء اسی عقیدے کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔ یہاں پر بھی…
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْھُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللہِ 0 ۭ قَالَ الْحَـوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہِ 0 ۚ اٰمَنَّا بِاللہِ 0 ۚ وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ 52
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
1 ؎ یہود میں قدیم دستور تھا کہ وہ جس کو سردار یا برگزیدہ کرتے تھے تو اس وقت کا نبی یا کاہن اس شخص پر زیتون کا تیل مسح کردیتا یعنی مل دیتا تھا۔ اس لئے اس شخص کو مسیح کہتے تھے چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی مقبولیت کا تیل ملا گیا اور اسی قدیم عزت پر ان کا لقب مسیح مشہور ہوا اور یشوع عبرانی میں ان کا نام ہے جو عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔ چونکہ لقب زیادہ مشہور تھا اس لئے اس کو نام سے پہلے ذکر کیا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْـکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ط قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ ج اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ج وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ رَبَّـنَـآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ ۔
(اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے کفر کو بھانپ لیاتو آپ نے دعوت دی کہ کون ہے جو میرا مددگار بنے اللہ کی راہ میں ؟ حواریوں نے جواب دیا ہم ہیں اللہ کے مددگار اور ہم ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور آپ گواہ رہئے کہ ہم مسلم ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کی پیروی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عیسائیوں کا اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی پکار۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہودیوں کو راہ راست پر لانے کے لیے لازوال اور انتھک جدوجہد فرمائی اور ایسے معجزات دکھائے جن کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ مگر یہودی اس قدر متلوّن مزاج، موقع شناس، نافرمان اور مکار قوم ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد انہوں نے انبیاء اور مصلحین کے ساتھ ایسا گھناؤ نا کردار ادا کیا کہ دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسے معجزات پیش فرمائے جو اپنی تاثیر اور…
Read the full tafseer →تکذیب کے وقت معاونت کی اپیل :
52: فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ۔ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ ٰامَنَّا بِاللّٰہِ وَاشْھَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ (جب عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی طرف سے تکذیب اور کفریہ کلمات سنے تو کہا کون میری مدد کرنے والا ہے۔ اللہ کی راہ میں ‘ حواریین نے کہا ہم اللہ تعالیٰ کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تو گواہ ہوجا کہ ہم مسلمان ہیں۔ ) فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ علم کی جگہ اَحَسَّ لائے تاکہ یہ ظاہر کردیا جائے کہ ان کو اس طرح علم ہوگیا تھا جیسا کہ کسی محسوس چیز…
Read the full tafseer →(تفسیر) 52۔:
(آیت)” فلما احس عیسیٰ “۔ امام فراء (رح) نے ” احس “ کا ترجمہ ” وجد “ سے کیا اور ابوعبیدہ ؓ نے ” عرف “ (پہنچانا) سے کیا ہے مقاتل نے کہا کہ احس کا معنی ” رای “ دیکھا ہے (آیت)” منھم الکفر “ جب انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کیا تو انہوں نے مدد طلب کی ۔
(ایک واقعہ)
(آیت)” قال من انصاری الی اللہ “۔ امام سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا سبب یہ ہوا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف بھیجا اور انکو دعوت دینے کا حکم دیا ، بنی اسرائیلیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے شہر سے نکال دیا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ شہر سے نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
52 ۔ 54) ۔۔ اگرچہ یہود کو تورات کے پڑھنے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب نبی ہوں گے تو تورات کے بعض مسئلے خدا کے حکم سے منسوخ ہوں گے۔ لیکن جب وہ وقت آیا تو محض عناد سے یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے بادشاہ سے مل کر حضرت عیسیٰ کے قتل پر آمادہ ہوگئے یہاں تک کہ موقع پا کر ان کو ایک مکان میں گھیر لیا۔ اسی وقت خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں میں سے یا یہود میں کے ایک آدمی میں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا حضرت عیسیٰ کی شکل پیدا کردی اور یہود نے اسی شخص مشابہ عیسیٰ کو عیسیٰ سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
آیت 45-58
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →117 حضرت عیسیٰ کی پکار حق کی نصرت و امداد کے لیے : سو حضرت عیسیٰ نے فرمایا " کون ہے جو میرا مددگار ہو اللہ کی راہ میں ؟ سو اس طرح حضرت عیسیٰ نے اللہ کی راہ میں نکلنے والے مددگاروں کیلئے اعلان فرمایا تاکہ وہ راہ حق میں ان کا ساتھ دیں۔ یعنی ایسا مددگار جو اللہ کی راہ میں میرے ساتھ نکلے اور ان ناہنجاروں اور ظالموں کے مقابلے میں راہ ِحق میں میرا ساتھ دے، جو کہ مجھ پر ایمان لانے کی بجائے میرے قتل کے در پے ہوگئے ہیں۔ یہاں پر " الی اللہ " کے کلمہ سے یہ مضمون نکلتا ہے کہ میں تو اللہ کی راہ میں بہرحال چل رہا ہوں اب تم میں سے کون ایسا ہے جو اس راہ میں میرا ساتھ دے۔ یہ آپ نے اس وقت فرمایا جبکہ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری
تشریح : جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ قوم ماننے کو تیار نہیں، بلکہ انکار ہی کئے جاتے ہیں تو پھر انہوں نے قوم کو دین کی مدد کے لئے پکارا اس پر کچھ حواری بولے کہ ہم حاضر ہیں۔ حواری بمعنی انصار کے ہے اور کہیں ان کو رسول بھی کہا گیا ہے۔ اس لحاظ سے کہ وہ تبلیغ دین کا کام کرتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے کہ وہ سمندر کے کنارے رہنے والے دھوبی تھے۔ اسی مناسبت سے آپ کے رفیقوں اور صحابیوں کا لقب ہی حواری پڑگیا۔ (مطالعہ قرآن)
یہ اہل کتاب سچے مسلمانوں کی طرح توحید کے قائل تھے اور مسیح سے گفتگو کرتے ہوئے براہ راست اللہ سے باتیں کرنے لگے اور بولے کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–54
آیات 42- 54
اسرارومعارف
واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔
اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔
بعض منازل سلوک :
صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 6 یعنی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں میرا مددگار بنے۔ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا یہ قول ویسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے زمانہ حج میں مختلف عرب قبائل سے فرمایا کرتے تھے۔ کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں۔ اس لیے کہ قریش نے مجھے پیغام پہنچانے سے روک رکھا ہے تاآنکہ آپ ﷺ کی انصار ؓ مل گئے جنہوں نے آپ ﷺ کو پناہ دی اور اپنے جان ومال سے آپ ﷺ کی مدد کی۔ (ابن کثیر)7 حواریوں کے قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار ؓ کے ہیں۔ اور یہ بنی اسرائیل کا وہ طائفہ ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرلی تھی، ان کی کی کل تعداد بارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
(3:52) احس۔ احساس (افعال) سے محسوس کیا اس نے ماضی واحد مذکر غائب ای عرف منہم اصرارھم علی الکفر
فلما۔ میںفصاحت کے لئے ہے۔
من انصاری الی اللہ ۔ کون ہیں میرے مددگار اللہ کی راہ میں۔
حواریون۔ حواری کی جمع۔ حواری حور سے مشتق ہے جس کے معنی خالص سپیدی کے ہیں۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے۔ بقول شاہ عبد القادر صاحب حواری اصل میں دھوبی کو کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے پہلے دو شخص جوان کے تابع ہوئے دھوبی تھے۔ حضرت عیسیٰ نے ان کا کہا تھا کہ کپڑے کیا دھوتے ہو میں تم کو دل دھونے سکھا دوں وہ ان کے ساتھ ہوئے اس طرح سب کو یہ خطاب ٹھہر گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54
وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان پر جانا
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بارہ شخص جو ایمان لائے تھے ان کو حواری کہتے ہیں۔ حواری کے معنی : ” مددگار “ کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[32] حواری کے لغوی معنی دھوبی کے ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی پیروؤں میں سے اکثر دھوبی تھے اس لئے آپ کے پیروؤں کا یہی لقب پڑگیا۔ مجازی معنی مخلص مددگار کے ہیں۔
[24] اللہ کی مدد کرنا یہی ہے کہ اس کے دین اور پیغمبروں کی مدد کی جائے جس طرح انصار مدینہ نے رسول اللہ ﷺ اور دین حق کی مدد کی۔
Read the full tafseer →آپ (علیہ السلام) کے اصحاب ارادت :
(ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی یہ تعلیم توحید وروحانیت یہودیوں کو ناگوار محسوس ہوئی ، اس لئے انہوں نے پوری طرح مخالفت کی ٹھان لی حکومت وقت کو آپ کے خلاف آمادہ تعزیر کیا ۔ اس پر آپ (علیہ السلام) نے مخلصین کی ایک جماعت کو دعوت ارادت دی اور (آیت) ” من انصاری الی اللہ “۔ کا نعرہ لگایا ، جس کو سن کر حواریین نے لبیک کہا اور نصرت واعانت کا مضبوط عہد کیا ۔
قرآن حکیم نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو تقدیس کے ساتھ ساتھ حواریوں کو بھی شرف خلعت سے نوازا ، مگر انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے حواریوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دھوکا دیا اور گرفتار کرا دیا اور…
Read the full tafseer →ف 3۔ لہٰذا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی جانب سے کفر و انکار دیکھا اور آپ کو ان کے کفر کا پورا علم ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ کون ہے جو کافروں کے مقابلہ میں دین حق کی حمایت کرنے کو اللہ کے واسطے میرا مدد گار ہو اس پر حواریوں نے عرض کیا ہم اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے رسول کے مدد گار ہیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور آپ اس امر پر گواہ رہیئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول کے فرمانبردار ہیں۔ (تیسیر)
حور کے معنی ہیں خالص سفید ہوسکتا ہے کہ یہ دھوبی ہوں جو کپڑے کو سفید کرتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ مچھلی کا شکار کرنے والے ہوں یا ملاح ہوں۔
بہر حال خواری کے معنی مدد گار کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
ف 1۔ چناچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہوگئے۔
2۔ ایک اور شخص کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل بنادیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا، جس سے وہ محفوظ رہے، اور وہ ہم شکل سولی دیا گیا۔
Read the full tafseer →مسیح (علیہ السلام) کی گزشتہ تمثیل کی وضاحت :
121: غور کرو کہ اگر ایک شخص مردوں کو زندہ کردے ، کوڑھیوں کو چنگا کر دے اور نابینوں کو بینا کردکھائے تو اس کے اس طرح کے کاموں کو انکار کیسے ہو سکتا ہے ؟ نبوت کوئی مانے یا نہ مانے۔ ان مشاہدہ میں آنے والی باتوں کا وہ انکار نہیں کرسکے گا ؟ پھر یہ کام جو سارے کے سارے اللہ ہی کے متعلق ہیں کسی انسان کے اختیار میں نہیں جب انسان سے ان کا ظہور ہونے لگے تو اس کو لوگ کیا مانیں گے ؟
قرآن کریم نے صاف صاف بتا دیا کہ مسیح (علیہ السلام) نے کفر کی موت مرے ہوؤں کو زندہ اور منافقت کے کوڑھیوں کو چنگا کرنے کے لیے جب تعلیم دینا شروع کی تو جن لوگوں نے اس پر دھیان دیا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
Following blessed predictions mentioned earlier, Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) was born with all promised signs. As a messenger sent to Bani Isra` il, he presented his call to them supported by miracles to prove his prophethood. But, the Bani Isra'il were adamant and kept on rejecting him as a prophet, even going to the limit of being physically hostile to him.
The text now identifies the very first followers of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) brings to light their real creed, expressed first before their prophet and then (in verse 53), reiterated it in the form of a prayer before their…
Read the full tafseer →49. The word hawari means approximately the same as the word ansar in the Islamic tradition. In the Bible the usual terms are 'apostles' and 'disciples'. Jesus' chosen disciples were called apostles in the sense that they had been entrusted with a mission by him rather than in the sense of having been entrusted with a mission by God.
50. At various places the Qur'an characterizes man's participation in the effort to establish the supremacy of Islam as 'helping God'. This needs a little explanation. God has endowed man with the freedom of will and choice, with the result that He does not…
Read the full tafseer →