Explained with ayahs 48–51
فرشتوں کا مریم سے خطاب
فرشتے حضرت مریم سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو حضرت موسیٰ بن عمران پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو حضرت عیسیٰ ہی پر اتری، چناچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لئے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا، حضرت عیسیٰ کی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 48
اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیا (علیہم السلام) کی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی دعوت کے بھی بنیادی نکات یہی تین تھے
ایک یہ کہ اقتدار اعلیٰ ، جس کے مقابلہ میں بندگی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور جس کی اطاعت پر اخلاق و تمدن کا پورا نظام قائم ہوتا ہے، صرف اللہ کے لیے مختص تسلیم کیا جائے۔
دوسرے یہ کہ اس مقتدر اعلیٰ کے نمائندے کی حیثیت سے نبی کے حکم کی اطاعت کی جائے۔
تیسرے یہ کہ انسانی زندگی کو حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کی پابندیوں سے جکڑنے والا قانون و ضابطہ صرف اللہ کا ہو، دوسروں کے عائد کردہ قوانین منسوخ کردیے جائیں۔
پس در حقیقت حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت محمد ﷺ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
خلاصہ تفسیر
(اور اے مریم اس مولود مسعود کی یہ فضیلتیں ہوں گی) اللہ ان کو تعلیم فرمادیں گے، (آسمانی) کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور (بالخصوص) توریت اور انجیل اور ان کو (تمام) بنی اسرائیل کی طرف (پیغمبر بنا کر یہ مضمون دے کر) بھیجیں گے کہ (انی جئتکم تا مستقیم یعنی) میں تم لوگوں کے پاس (اپنی نبوت پر) کافی دلیل لے کر آیا ہوں وہ یہ ہے کہ میں تم لوگوں کے (یقین لانے کے) لئے گارے سے ایسی شکل بناتا ہوں جیسی پرندہ کی شکل ہوتی ہے پھر اس (مصنوعی شکل) کے اندر پھونک مار دیتا ہوں جس سے وہ (سچ مچ کا جاندار) پرندہ بن جاتا ہے خدا کے حکم سے (ایک معجزہ تو یہ ہوا) اور میں اچھا کردیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص…
Read the full tafseer →”خدا کے لیے لفظ ’ اب ‘ کے استعمال کی حقیقت : انجیلوں میں خدا کے لیے میرا باپ اور تمہارا باپ، کی جو تعبیر باربار آتی ہے، یہ قرآن نے اس کی تصحیح فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے در اصل جو بات فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، سو اسی کی بندگی کرو۔ لیکن نصاری نے متشابہات کی پیروی کی اور آپ کی واضح تعلیمات کو نظر انداز کردیا۔ عبرانی میں ’ اب ‘ کا لفظ باپ اور رب دونوں معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی طرح ابن کا لفظ بیٹے اور عبد دونوں معنوں میں آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے تو سیاق وسباق متعین کرتا ہے کہ لفظ کس مفہوم میں استعمال ہوا ہے لیکن…
Read the full tafseer →51۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت کرنے میں اور اس کے سامنے ذلت و عاجزی کے اظہار میں میں اور تم دونوں برابر ہیں۔ اس لئے سیدھا راستہ صرف یہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی واحدانیت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
22: حضرت عیسیٰ ؑ کے صحابہ کو حواری کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا یہ خاتمہ ہے ۔ یعنی یہ تھی وہ دعوت جو آپ نے بنی اسرائیل کو دی ۔ اس میں انہی بنیادی نکات کی وضاحت کی گئی ہے جو ہمیشہ اللہ کے دین کے اصل نکات رہے ہیں ۔ اور جن کی طرف تمام رسول دعوت دیتے رہے ہیں ۔ اور یہ وہ حقائق ہیں جن کی بہت ہی اہمیت ہے ۔ خصوصاًجبکہ ان حقائق کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے دہرایا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی ولادت ہی وجہ نزاع تھی اور یہ نزاعات اس لئے پیدا ہوگئے تھے کہ لوگوں نے دین اور رسولوں کی حقیقت پر غور نہ کیا ۔ یعنی یہ کہ رسول بھی ایک ہیں اور ان کا دین بھی ایک ہے ۔ اس لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔
وَمُصَدِّقًا لِمَا…
Read the full tafseer →10 یعنی سب باتوں کی ایک بات ساری جڑوں کی اصل جڑ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کو میرا اور اپنا دونوں کا یکساں رب سمجھو (باپ بیٹے کے رشتے قائم نہ کرو) اور اسی کی بندگی کرو۔ سیدھا راستہ رضائے الہٰی تک پہنچنے کا یہ ہی توحید، تقویٰ اور اطاعت رسول ہے۔
Read the full tafseer →آیت 51 اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ
یہی الفاظ سورة مریم آیت 36 میں بھی وارد ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →50 ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت بھی بعینہ وہی کچھ تھی جو دوسرے تمام انبیاء کی رہی ہے۔ مثلاً :
1۔ پروردگار یعنی مقتدر اعلیٰ صرف اللہ کی ذات ہے۔ لہذا وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ اس لحاظ سے عیسائیوں کا عقیدہ الوہیت مسیح غلط قرار پاتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ کی حیثیت سے نبی کی اطاعت کی جائے اور ہر نبی کی دعوت یہی رہی ہے۔
3۔ حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کے اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہذا جو باتیں تم نے خود اپنے اوپر حرام قرار دے رکھی ہیں۔ میں اللہ کے حکم سے انہیں حلال قرار دے کر تمہیں ایسی ناجائز پابندیوں سے آزاد کرتا ہوں۔ نیز آپ نے اللہ کے حکم سے…
Read the full tafseer →129 ۔ (جس کی تعلیم ابتداء سے لے کر آخرتک سارے ہی پیغمبر دیتے آئے ہیں) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل تعلیم اسی عبدیت اور اسی توحید کی تھی، ظالموں نے اسے مسخ کرکے تثلیث بنادیا۔ جو شرک ہی کی ایک کھلی ہوئی شکل ہے۔ (آیت) ” ربی وربکم “۔ اس میں اشارہ اسی طرف ہے کہ اللہ کے مخلوق، مربوب اور عبد ہونے کے اعتبار سے پیغمبر اور امتی سب یکساں ہیں۔ (آیت) ” فاعبدوہ “۔ یعنی صرف اسی کی پرستش کرو، بغیر کسی کی شرکت وآمیزش کے۔ آج جو انجیلیں دنیا کے پردہ پر موجود ہیں ان میں سے ایک انجیل برنابا بھی ہے اس کے انگریزی، عربی، اردو ترجمے موجود ہیں۔ اور وہ حضرت برنابا سانامی حضرت (علیہ السلام) کے ایک حواری کی جانب منسوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
اِنَّ اللہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ، رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ کی مخلوق مربوب اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے پیغمبر اور امتی سب برابر ہیں۔ فاعْبُدُوْہُ ، یعنی اس کی بندگی کرو، آج جو انجیلیں روئے زمین پر موجود ہیں، ان میں ایک انجیل برناباسی ہے اس کے انگریزی، عربی ترجمے موجود ہیں اور وہ حضرت برناباسا نامی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ایک حواری کی جانب منسوب ہے، اس میں ظہور اسلام کی خبریں اور آپ ﷺ کے ختم رسل ہونے کی بابت پیش گوئیاں ایسے صاف اور صریح الفاظوں میں موجود ہیں کہ مسیحیوں کو مفر اسی میں نظر آیا کہ اسے جعلی کہہ کر الگ کردیں اور…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ : فاتقوا اللہ واطیعون میں جو مضمون مجمل تھا یہ اس کی تفصیل ہے اور اس میں قوت نظریہ اور قوت عملیہ دونوں کے استکمال کی طرف اشارہ کیا ہے صحیح اعتقاد جس کا بنیادی پتھر توحید ہے قوت نظر یہ کا استکمال کرتا ہے۔ اس کا بیان ان اللہ ربی و ربکم سے کردیا اور مامورات و منہیات کی پابندی سے قوت عملیہ کامل ہوتی ہے اس کا اظہار فاعبدوہ سے فرما دیا پھر پہلے اللہ کو اپنا رب قرار دیا اور اپنی عبدیت کا اقرار کیا تاکہ آئندہ ہونے والے فتنہ کا دروازہ بند ہوجائے کہیں لوگ آپ کو اللہ کا بیٹا یا تین میں کا تیسرا الٰہ نہ کہنے لگیں۔ آخر میں دونوں جملوں کے مضمون کو پختہ کرنے…
Read the full tafseer →(51) بیشک اللہ تعالیٰ میرے بھی اور تمہارے بھی رب ہیں تم سب اسی کی توحید بیان کرو، کہ یہی سیدھے راستے پر چلانے والا اور اس رب کو خوش کرنے والا دین اسلام ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ۔۔ : عیسیٰ ؑ نے معجزات پیش کرنے کے ساتھ ضروری سمجھا کہ اصل دین کی تاکید فرما دیں کہ میرا اور تمہارا داتا (رب) اللہ ہے، سو اسی کی عبادت کرو۔ مگر افسوس کہ نصرانیوں نے مسیح ؑ کو اللہ یا اللہ کا بیٹا قرار دے کر رب اور نفع و نقصان کا مالک سمجھ لیا اور ان سے فریادیں کرنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت نمبر : 50 تا 51۔
(آیت) ” ومصدقا اس کا عطف ورسولا پر ہے، اور کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے کہ میں تمہارے پاس تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں (آیت) ” لما بین یدی “ اس کی جو مجھ سے پہلے آئی (آیت) ” ولاحل لکم “ اس میں حذف ہے، ای ولا حل لکم جئتکم “ (اور تاکہ میں تمہارے لئے حلال کر دوں میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں) (آیت) ” بعض الذی حرم علیکم “ یعنی کھانے کی اشیاء میں سے بعض جو تم پر پہلے حرام کی گئی تھیں۔
کہا گیا ہے : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انکے لئے ان چیزوں کو حلال کردیا جو ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں اور وہ تورات میں نہ تھیں، مثلا تھوم کھانا اور ہر ناخن والا جانور، اور یہ بھی کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری
(1) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فلما احس عیسیٰ منہم الکفر “ سے مراد ہے کہ جب انہوں نے کفر کیا اور ان کے قتل کا ارادہ کیا اور یہ اس وقت ہوا تھا جب آپ نے اپنی قوم سے مدد طلب کی تھی تو اس وقت فرمایا لفظ آیت ” فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل وکفرت طائفۃ “ یعنی بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت ایمان لے آئی اور ایک جماعت نے کفر کیا۔
(2) ابن المنذر ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” من انصاری الی اللہ “ سے مراد ہے کہ کون میری تابعداری کرتا ہے اللہ کی طرف۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے لفظ آیت…
Read the full tafseer →[اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [رَبِّیْ : میرا رب ہے ] [وَرَبُّکُمْ : اور تمہارا رب ہے ] [فَاعْبُدُوْہُ : پس تم لوگ بندگی کرو اس کی ] [ہٰذَا : یہ ] [صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ : ایک سیدھا راستہ ہے ]
Read the full tafseer →دعوت توحید :
(اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ) (کہ بلاشبہ میرا رب اور تمہارا رب اللہ ہے پس اس کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بار بار بنی اسرائیل کو ایمان کی دعوت دی لیکن وہ ان کے دشمن ہوگئے۔ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کو قتل کردیا اور ان سے پہلے پتہ نہیں کتنے انبیاء کو قتل کرچکے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے بھی درپے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا اور اوپر اٹھا لیا۔ پھر صدیوں کے بعد ان لوگوں نے جو اپنے جھوٹے خیال میں ان کے ماننے والے تھے عقیدہ تثلیث اور عقیدہ تکفیر اپنی طرف سے گھڑ لیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
تتمہ قصہ حضرت مریم علیہا السلام۔
قال اللہ تعالی، واذ قالت الملائکۃ یا مریم۔۔۔ الی۔۔۔ صراط مستقیم۔
یہاں تک حق جل شانہ نے آل عمران اور آل ابراہیم کے اصطفاء اور ان پر اپنی توجہات و عنایات کے واقعات ذکر فرمائے اب آگے اور قصہ اسی سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں کہ جو درحقیقت حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ تتمہ ہے اس لیے کہ سلسلہ کلام کا آغاز حضرت مریم کے قصہ سے ہوا تھا درمیان میں مناسبت کی وجہ سے ضمنا حضرت زکریا کا قصہ ذکر فرمایا اب آگے پھر حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ ذکر فرماتے ہیں اور وہ دوسرا قصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں کے ایک گروہ نے بالمشافہ حضرت مریم سے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا کہ اپن…
Read the full tafseer →73 اور میرے ان حیرت انگیز اور تعجب خیز معجزات سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجانا اور مجھے متصرف ومختار اور کارساز نہ سمجھ بیٹھنا میں خدا کا شریک نہیں ہوں بلکہ اللہ کا بندہ ہوں۔ جو خدائے واحد تمہارا پروردگار ہے۔ وہی میرا پروردگار اور کارساز اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو اور صرف اسے ہی پکارو اور یہی صراط مستقیم اور سیدھی راہ ہے۔ جس کی طرف تمام انبیاء (علیہم السلام) دعوت دیتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
بنیادی عقیدہ :
گذشتہ درس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعض معجزات کا تذکرہ تھا جن کے متعلق آپ نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں لے کر آیا ہوں ، اس لیے میرا تم سے مطالبہ ہے۔ کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ قرآن پاک شاہد ہے۔ کہ جن انبیاء کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ان سب نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ حضرت صالح ، حضرت ہود ، حضرت شعیب اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے واقعات سے یہی پتہ چلتا ہے۔ یہ بنیادی عقیدہ تخلیق آدم سے لے کر ہر دور میں ہر امت میں پایا گیا ہے۔ اور انبیاء اسی عقیدے کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔ یہاں پر بھی…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْہُ 0 ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ 51
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
1 ؎ یہود میں قدیم دستور تھا کہ وہ جس کو سردار یا برگزیدہ کرتے تھے تو اس وقت کا نبی یا کاہن اس شخص پر زیتون کا تیل مسح کردیتا یعنی مل دیتا تھا۔ اس لئے اس شخص کو مسیح کہتے تھے چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی مقبولیت کا تیل ملا گیا اور اسی قدیم عزت پر ان کا لقب مسیح مشہور ہوا اور یشوع عبرانی میں ان کا نام ہے جو عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔ چونکہ لقب زیادہ مشہور تھا اس لئے اس کو نام سے پہلے ذکر کیا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَلِاُحِلَّ لَـکُمْ بَعْضَ الَّذِیْنَ حُرِّمَ عَلَـیْـکُمْ وَجِئْتُـکُمْ بِاٰ یَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ قف فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّـکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَـقِیْمٌ۔
(میں تصدیق کرتا ہوا آیا ہوں اپنے سے پیشتر سے آئی ہوئی توراۃ کی اور اس لیے آیا ہوں کہ بعض ان چیزوں کو تمہارے لیے حلال ٹھہرائوں جو تم پر حرام کردی گئیں اور میں تمہارے پاس تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ بیشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کر، یہی سیدھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام اور عقیدہ توحید تھا۔
یہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ تمام انبیاء رشتۂ نبوت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں بالخصوص بنی اسرائیل کے انبیاء کی اکثریت نسب کے اعتبار سے بھی آپس میں رشتہ دار تھی اور سب انبیاء کی دعوت کے بنیادی اصول بھی ایک ہی ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صاحب انجیل ہونے کے باوجود تورات سے اپنی تائید میں اکثر حوالہ پیش کیا کرتے تھے۔ واضح اور ٹھوس دلائل دینے اور بےمثال معجزات دکھانے کے بعد جناب عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ایک ہی دعوت دیا کرتے تھے۔ اس اللہ کی عبادت کرو جو تمہارا اور میرا رب ہے۔ یاد رہے کہ…
Read the full tafseer →51: اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ (بیشک اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے) یہ اقرار عبودیت ہے اور اپنے سے ربوبیت کی نفی ہے برخلاف اس کے جو نصاریٰ گمان کرتے ہیں۔
فَاعْبُدُوْہُ تم اس ہی کی عبادت کرو نہ کہ میری ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ (یہ سیدھا راستہ ہے) جو چلنے والے کو جنت کی قائم رہنے والی نعمتوں تک پہنچا دے گا۔
Read the full tafseer →51۔ (آیت)” ان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
(48 ۔ 51) ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس زمانہ کے موافق معجزہ دیا ہے چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادو کا بڑا زور تھا اس لئے ان کو ایسا معجزہ دیا کہ جس سے سب جادوگر بےبس ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طبیبوں کا بڑا زور تھا اس واسطے ان کو ویسا ہی معجزہ دیا کہ مردہ کو اٹھانا تو درکنار مادرزاداندھے اور بدن پر کے سفید داغ والے کو بھی کوئی طبیب اچھا نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طبیب یہ بتلا سکتا ہے کہ بیمار نے کل کیا کھایا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ سب کچھ کرتے تھے جس سے سب طبیب حیران تھے۔ اسی طرح نبی آخر الزمان کے زمانہ میں عربی زبان کی فصاحت و بلاغت بڑا زور تھا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
آیت 45-58
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →116 صراط مستقیم سے مقصود و مراد ؟ : سو سیدھا راستہ صرف توحید خداوندی اور اطاعت و اتباع پیغمبر کا راستہ ہے۔ اور یہ سیدھا راستہ جو کہ عبارت ہے اللہ پاک کی توحید اور اس کی یکتائی و وحدانیت، تقویٰ و طہارت، اور پیغمبر کی اتباع و اطاعت سے، دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والا عظیم الشان اور بےمثل و عدیم النظر راستہ ہے۔ پس خبردار، تم لوگ میرے معجزات کی بناء پر کسی شرک کا ارتکاب نہ کرلینا کہ ایسا کرنا دارین کی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر اس کے باوجود آپ کے نام لیواؤں نے آپ کے بعد آپ کے نام پر شرک کا کاروبار کیا اور آج تک کئے جا رہے ہیں۔ آپ کو خدا اور خدا کا اکلوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات
تشریح : ان آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو بتاتے ہیں کہ میں اس کتاب کی تصدیق کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی جس کا نام ہے تورات۔ میں اس کتاب کو اور اس کے اصول و قوانین کو مانتا ہوں۔ بس تھوڑی سی تبدیلی اس میں اللہ کے حکم سے میں کروں گا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہودیوں کی حجت بازی کی وجہ سے کچھ چیزیں ان پر حرام کردی گئی تھیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ میں اللہ کے حکم سے ان حرام چیزوں کو حلال کر دوں گا۔ اس کے علاوہ میں تمہاری یقین دہانی کے لئے اپنی نبوت کی کچھ نشانیاں لے کر آیا ہوں اس لئے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–54
آیات 42- 54
اسرارومعارف
واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔
اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔
بعض منازل سلوک :
صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 6 یعنی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں میرا مددگار بنے۔ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا یہ قول ویسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے زمانہ حج میں مختلف عرب قبائل سے فرمایا کرتے تھے۔ کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں۔ اس لیے کہ قریش نے مجھے پیغام پہنچانے سے روک رکھا ہے تاآنکہ آپ ﷺ کی انصار ؓ مل گئے جنہوں نے آپ ﷺ کو پناہ دی اور اپنے جان ومال سے آپ ﷺ کی مدد کی۔ (ابن کثیر)7 حواریوں کے قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار ؓ کے ہیں۔ اور یہ بنی اسرائیل کا وہ طائفہ ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرلی تھی، ان کی کی کل تعداد بارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(3:49) الطین۔ گارا۔ مٹی۔ خاک۔ مٹی اور پانی کا آمیزہ۔ مٹی اور پانی دونوں کا آمیزہ طین ہے گو اس سے پانی کا اثر زائل ہی کیوں نہ ہوجائے۔ کہیئۃ۔ ک۔ حرف تشبیہ ۔ ہیئۃ۔ کسی چیز کی حالت۔ کیفیت۔ شکل و صورت ہئی مادہ۔
انفخ۔ نفخ سے باب نصر۔ مضارع واحد متکلم ۔ میں پھونک مارتا ہوں۔
ابری۔ ابراء (افعال) سے مضارع واحد متکلم۔ ابرائ۔ ہر بری چیز۔ مرض وغیرہ سے بری کرنا اور نجات دلانا۔ میں بری کردیتا ہوں مرض سے۔ میں تندرست کردیتا ہوں۔
اکمہ۔ مادہ زاد اندھا۔ صفت مشبہ کا صیغہ۔
ابرص۔ کوڑھی۔ جس کو برص کی مرض ہو۔ ہر دو اکمہ و ابرص کی تانیث و جمع بروزن افعل (واحد مذکر) فعلاء (واحد مؤنث) فعل (جمع مذکر و مؤنث)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54
وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے…
Read the full tafseer →اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کو بتلایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی عبادت میں شریک ٹھہراتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
[22] بعض چیزوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جو یہود کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کردی تھیں، جیسے گائے، بکری کی چربی، مچھلی، اونٹ کا گوشت، ناخن دار جانور اور ہفتہ کے دن کام کاج۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم :
(ف 1) آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور ان پابندیوں کو اٹھاتا ہوں جن کو خواہ مخواہ تم نے اپنے اوپر عاید کرلیا ہے ، اور فرمایا کہ میرا رب اور تمہارا رب صرف ایک ہے ، اسی کی پوجا اور پرستش صراط مستقیم ہے ۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یقین جانو ! اللہ تعالیٰ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے لہٰذاتم اس کی عبادت اور بندگی اختیار کرو اور یاد رکھو یہی راستہ سیدھا ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ دین کی سیدھی راہ اور نجات کا صحیح راستہ یہی ہے کہ بندے کے عقائد و اعمال درست ہوں ۔ ربی و ربکم میں عقیدے کی اصلاح ہے اور فاعبدوہ میں اعمال کی بجا آوری کا خلاصہ ہے میرا بھی رب ہے یہ شاید اس لئے فرمایا کہ مبادا بےباپ کے پیدا ہونے اور میرے متعلق پیار و محبت کے کلمات فرمانے کی وجہ سے کہیں میرے متعلق کوئی غلط عقیدہ قائم نہ کرلیا جائے بلکہ وہ جس طرح تمام مخلوق کا خالق اور مالک ہے اسی طرح وہ میرا خالق اور مالک ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
ف 1۔ چناچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہوگئے۔
2۔ ایک اور شخص کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل بنادیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا، جس سے وہ محفوظ رہے، اور وہ ہم شکل سولی دیا گیا۔
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) کا اعلان کہ ربوبیت صرف اللہ ہی کو سزا وار ہے :
120: سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی زبان رسالت سے اس کا اعلان کرایا جارہا ہے کہ ” میری قوم کے لوگو ! اللہ میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ پس اس کی بندگی کرو یہی دین کا سیدھا راستہ ہے۔ “ جب سے نظام کائنات مشیت ایزدی نے ترتیب دیا اس وقت سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے انبیاء کرام آئے سب کی دعوت یہی تھی کہ ” اللہ کی ذات کے سوا کوئی الٰه اور معبود نہیں وہی ساری کائنات کا رب بھی ہے۔ “ لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوموں اور امتوں نے ہمیشہ انہیں لوگوں کو جو یہ صدا بلند کرنے والے تھے الٰه اور معبود بنایا اور رب بنا کر ان کی پوجا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
1. Verse 48 recounts the august virtues of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) who would be born blessed with the honour of learning from Allah: Scriptures, Wisdom and specially the توراۃ Torah and the اِنجیل Injil; and that he will be sent as a Messenger of Allah to all of the Children of Isra` il.
2. The message he will carry to them will be his argument in favour of his prophethood. In order that they believe, enumerated in verse 49, there are four signs or miracles that he would perform, being enough for willing believers.
3. Verse 50 says that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) will declare that he…
Read the full tafseer →48. This shows that as with the other Prophets, the fundamental points of Jesus' mission were the following:
(1) Man should acknowledge- the exclusive sovereignty of God which demands absolute service and obedience to Him, and Him alone. This principle serves as the basis for the entire structure of human morality and social behaviour.
(2) Man should obey the Prophets since they are the representatives of the true Sovereign.
(3) The Law which should regulate man's conduct by elaborating what is right and what is wrong should be none other than the Law of God. The laws devised by others should…
Read the full tafseer →