Aal-i-Imraan 3:48

Aal-i-Imraan · from ayah 48

3:48

وَیُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِیْلَ ۟ۚوَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَالتَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ‌ۚ

اور وہ انہیں لکھنا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He will teach him writing and wisdom and the Torah and the Gospel

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 5 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:48

(فرشتوں نے پھر سلسلئہ کلام میں کہا) "اور اللہ اُسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ انہیں لکھنا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ اسے لکھنا اور حکمت اور توراة اورانجیل سکھائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہی (اللہ) اس کو (یعنی عیسیٰ ابن مریم کو) کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اﷲ اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل (سب کچھ) سکھائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ تعالیٰ اسے (عیسیٰ بن مریم کو) کتاب و حکمت، تورات اور انجیل کی تعلیم دے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور حکمت، تورات اور انجیل سکھائے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کو اللہ خود ہی (بغیر کسی معلم اور استاذ کے) سکھائے گا کتاب اور حکمت (کے معارف) بھی، اور تورات و انجیل بھی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (اللہ) اسے کتاب اور حکمت اور انجیل سکھا دے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ تعالیٰ اس کو سکھائے گا کتاب اور حکمت بھی اور تورات اور انجیل بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ اسے کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

And He will teach him the Book, the Wisdom, the Torah, the Gospel,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He shall teach him the Book and the Wisdom, and the Torah and the Injil,

— Muhammad Taqi Usmani

He shall teach him the Book and the Wisdom, and the Torah and the Injil,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He will teach him the Book and Al-Hikmah, and the Tawrah and the Injil.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He will teach him the Scripture and wisdom, and the Torah and the Gospel,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He will teach him writing and wisdom and the Torah and the Gospel

— Saheeh International

God will give (Jesus) wisdom and teach him the Book, the Torah, and the Gospel.

— Muhammad Sarwar

And He will teach him the Book and the wisdom and the Tavrat and the Injeel.

— Muhammad Habib Shakir

And He shall teach him the Book and wisdom and the Taurat and the Injil:

— Abdul Majid Daryabadi

"And Allah will teach him the Book and Wisdom, the Law and the Gospel,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–51

فرشتوں کا مریم سے خطاب فرشتے حضرت مریم سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو حضرت موسیٰ بن عمران پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو حضرت عیسیٰ ہی پر اتری، چناچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لئے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا، حضرت عیسیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–49

سورة اٰلِ عِمْرٰن 45 یعنی یہ علامت تم کو اس امر کا اطمینان دلانے کے لیے کافی ہیں کہ میں اس خدا کا بھیجا ہوا ہوں جو کائنات کا خالق اور حاکم ذی اقتدار ہے۔ بشرطیکہ تم حق کو ماننے کے لیے تیار ہو، ہٹ دھرم نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–51

خلاصہ تفسیر (اور اے مریم اس مولود مسعود کی یہ فضیلتیں ہوں گی) اللہ ان کو تعلیم فرمادیں گے، (آسمانی) کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور (بالخصوص) توریت اور انجیل اور ان کو (تمام) بنی اسرائیل کی طرف (پیغمبر بنا کر یہ مضمون دے کر) بھیجیں گے کہ (انی جئتکم تا مستقیم یعنی) میں تم لوگوں کے پاس (اپنی نبوت پر) کافی دلیل لے کر آیا ہوں وہ یہ ہے کہ میں تم لوگوں کے (یقین لانے کے) لئے گارے سے ایسی شکل بناتا ہوں جیسی پرندہ کی شکل ہوتی ہے پھر اس (مصنوعی شکل) کے اندر پھونک مار دیتا ہوں جس سے وہ (سچ مچ کا جاندار) پرندہ بن جاتا ہے خدا کے حکم سے (ایک معجزہ تو یہ ہوا) اور میں اچھا کردیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تورات اور انجیل کے الفاظ یہاں کتاب اور حکمت کی تفسیر کے طور پر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان دونوں چیزوں کی تعلیم دے گا۔ سیدنا مسیح جہاں تک کتاب و شریعت کا تعلق ہے حضرت موسیٰ کی شریعت میں ہی کے پیرو اور داعی تھے، وہ تورات سے کوئی الگ شریعت لے کر نہیں آئے تھے۔ اس حقیقت کا اعلان بار بار بڑے زور اور تاکید کے ساتھ انہوں نے خود فرمایا ہے۔ انجیلوں میں ان کی تصریحات موجود ہیں۔ البتہ انہوں نے اس شریعت کی روح اور اس کی حکمت نہایت معجزانہ انداز میں بےنقاب فرمائی ہے اور اناجیل درحقیقت ان کی انہی حکمتوں کا مجموعہ ہیں۔ یہود نے تورات کو بالکل بےروح احکام اور بےجان رسوم کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

48۔ 1 کتاب سے مراد کتابت ہے جیسا کہ ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے یا انجیل و تورات کے علاوہ کوئی اور کتاب ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا (قرطبی) یا تورات و انجیل (الکتاب وحکمۃ) کی تفسیر ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

20: یہ سب معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ان کی نبوت کے ثبوت کے طور پر عطا فرمائے تھے اور آپ نے ان کا عملی مظاہرہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد اس بشارت کی مزید تفاصیل بتائی جاتی ہیں ‘ جس کی پیدائش کے لئے حضرت مریم کو منتخب کیا گیا اور جو بےمثال طریقے سے روبعمل آرہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نئے آنے والے کی سیرت اور کردار کیا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ کی آئندہ تاریخ بتائی جاتی ہے ۔ اب بشارت اور تاریخ مستقل ساتھ ساتھ جاری ہیں تو یا بشارت بھی ہورہی اور ساتھ ہی تاریخ بھی چلتی پھرتی ہے۔ یہ قرآن کریم کا اپنا اسلوب کلام ہے ۔ وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإنْجِيلَ……………” اور اللہ اسے کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا اور تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا۔ اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا۔ “ کتاب سے کبھی مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی لکھنا سکھائے گا، یا عام کتب ہدایت کا عموما اور تورات و انجیل کا خصوصا علم عطا فرمائے گا اور بڑی گہری حکمت کی باتیں تلقین کرے گا۔ اور بندہ کے خیال میں ممکن ہے کتاب و حکمت سے مراد قرآن و سنت ہو، کیونکہ حضرت مسیح نزول کے بعد قرآن و سنت رسول اللہ ﷺ کے موافق حکم کرینگے اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ ان چیزوں کا علم دیا جائے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ یہاں پر چار چیزوں کا ذکر آیا ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو تعلیم دی : کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل۔ ان چار چیزوں کے مابین جو تین وآئے ہیں ان میں سے دو واو عطف ہیں ‘ جبکہ درمیانی وواو تفسیر ہے۔ اس طرح آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ ان کو سکھائے گا کتاب اور حکمت یعنی تورات اور انجیل۔ اس لیے کہ تورات میں صرف احکام تھے ‘ حکمت نہیں تھی اور انجیل میں صرف حکمت ہے ‘ احکام نہیں ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کو سمجھ لینے سے یہ گتھی حل ہوتی ہے اور اسے سمجھے بغیر لوگوں کے ذہنوں میں الجھنیں رہتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بلا کا حافظہ عطا فرمایا تھا۔ علاوہ ازیں وہ خوشنویس بھی تھے اور تورات ہاتھ سے لکھا کرتے تھے۔ تورات پر انہیں اتنا عبور تھا کہ جب یہودی علماء (فقیہ اور فریسی) ان سے کسی بات پر الجھتے تو آپ تورات کے زبانی حوالے دے کر انہیں قائل کرتے اور چپ کرا دیتے تھے اور فقیہ اور فریسی ان کے کمال درجہ کے حافظہ پر حیران و ششدر رہ جاتے تھے۔ آپ کو تیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی تھی۔ اس کے بعد تین سال مسلسل سیاحت کرتے رہے اور دین کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہے اور غالباً اسی وجہ سے آپ کو مسیح کہا جانے لگا تھا آپ نے یہود کی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کی ان تھک کوشش کی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

،122 ۔ (آیت) ” یعلمہ “ میں ضمیر مفعول ظاہر ہے کہ ولد مریم (علیہ السلام) یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جانب ہے،۔ حضرت کا جو مقام عظمت ان الفاظ سے بیان کرنا مقصود ہے وہ تو ظاہر ہی ہے لیکن خود مریم (علیہ السلام) کی بھی تشفی خاطر کا کتنا سامان ضمنا ہوا جارہا ہے۔ ارشاد گویا یہ ہورہا ہے کہ تم غم نہ کرو اور پریشان نہ ہو۔ بےشوہر ہی اولاد کی بنا پر خلق تمہیں جتنا بدنام اور مطعون کرے گی، اس کی تلافی کے لیے اولاد بھی تمہیں کس پایہ کی مرحمت کی جارہی ہے۔ (آیت) ” الکتب “۔ یعنی کتب سماوی۔ لفظ کتاب بہ طور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔ ذھب کثیرون الی ان ال فیہ للجنس والمراد جنس الکتب الالھیۃ (روح) (آیت) ” الحکمۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 48–51

اِنَّ اللہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ، رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ کی مخلوق مربوب اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے پیغمبر اور امتی سب برابر ہیں۔ فاعْبُدُوْہُ ، یعنی اس کی بندگی کرو، آج جو انجیلیں روئے زمین پر موجود ہیں، ان میں ایک انجیل برناباسی ہے اس کے انگریزی، عربی ترجمے موجود ہیں اور وہ حضرت برناباسا نامی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ایک حواری کی جانب منسوب ہے، اس میں ظہور اسلام کی خبریں اور آپ ﷺ کے ختم رسل ہونے کی بابت پیش گوئیاں ایسے صاف اور صریح الفاظوں میں موجود ہیں کہ مسیحیوں کو مفر اسی میں نظر آیا کہ اسے جعلی کہہ کر الگ کردیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ : اس جملہ کا عطف یخلق یا یبشرک پر ہے مریم ( علیہ السلام) کو جب معلوم ہوا کہ بچہ یونہی بغیرمرد کے پیدا ہوگا تو ان کو فکر ہوئی اور لوگوں کی لعنت ملامت کا اندیشہ پیدا ہوا اس فکر کو دور کرنے اور ان کے دل کو تسکین دینے کے لیے فرمایا کہ اللہ اس کو لکھنا سکھائے گا۔ کتاب سے مراد ہے تحریر اور خط۔ چناچہ آپ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے خوشنویس تھے یا آسمانی کتابیں مراد ہیں یعنی اللہ ان کو آسمانی کتابوں کا علم عطا فرمائے گا من جملہ دیگر کتب کے تورات و انجیل کا خصوصی ذکر اس وجہ سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ کے لیے یہ دونوں کتابیں زیادہ اہم تھیں فروع اعمال میں ان کی پابندی آپ کے لیے لازم تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(48) اور اللہ تاس مولود (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو انبیاء کرام کی کتابوں کی تعلیم فرمائے گا اور حلال و حرام کی یا انبیاء سابقین کی حکمت اور ماں کے پیٹ میں توریت کی اور پیدا ہونے بعد انجیل کی نعمت سے نوازے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ : عیسیٰ ؑ کو تورات اور ہر کتاب بغیر پڑھے آتی تھی اور یہ سب معجزے تھے۔ (موضح) بعض مفسرین نے ”الْكِتٰبَ“ کا معنی لکھنا کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 48–49

آیت نمبر : 48 تا 49۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” ویعلمہ الکتب والحکمۃ والتورۃ والانجیل “۔ ابن جریج نے کہا ہے : الکتاب سے مراد کتابت کرنا اور لکھنا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد تورات اور انجیل کے علاوہ کوئی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سکھائی۔ (آیت) ” ورسولا “۔ (یعنی) اور ہم اسے رسول بنائیں گے یا وہ ان سے رسول کی حیثیت سے ہم کلام ہوگا، اور یہ قول بھی ہے کہ وہ (آیت) ” وجیھا “ پر معطوف ہے اور اخفش نے کہا ہے : اگر چاہے تو (آیت) ” ورسولا میں واؤ کو مقحم بنا دے اور رسولا کوہ ضمیر سے حال بنا لے تقدیر کلام ہوگی ” ویعلمہ الکتاب رسولا “ (اور اللہ تعالیٰ اسے کتاب سکھائے گا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–48

(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویعلمہ الکتب “ سے مراد ہے قلم کے ساتھ لکھنا سکھائے گا۔ (2) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویعلمہ الکتب “ سے مراد ہے کہ وہ ہاتھ سے لکھنا سکھائے گا۔ (3) ابن المنذر نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) سمجھ دار ہوگئے تو ان کی ماں نا کو لے کر کتاب (لکھنے پڑھنے والے) کے پاس آئی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس کے سپرد کردیا تو اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہہ تو ” بسم اللہ “ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ (نام کے ساتھ) معلم نے کہا کہو ” الرحمن “ عیسیٰ (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَیُعَلِّمُہُ : اور وہ علم دے گا ان (علیہ السلام) کو ] [الْکِتٰبَ : کتاب کا ] [وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کا ] [وَالتَّوْرٰٹۃَ : اور تورات کا ] [وَالاِْنْجِیْلَ : اور انجیل کا ] ترکیب : ” یُعَلِّمُہٗ “ کا فاعل اس میں ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ‘ جبکہ ضمیر مفعولی ” ہٗ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہے اور یہ ” یُعَلِّمُ “ کا مفعول اوّل ہے۔ ” اَلْکِتٰبَ “ سے ” وَالْاِنْجِیْلَ “ تک مفعول ثانی ہیں۔ نوٹ (2) : حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو تورات اور انجیل کی تعلیم دینے کا مطلب تو واضح ہے۔ لیکن یہاں ” الکتٰب “ اور ” الحِکمۃ “ کی تعلیم دینے سے کیا مراد ہے ‘ اس ضمن میں آراء مختلف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–48

بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش : حضرت مریم [ کو جو فرشتوں نے بشارت دی اس بشارت کو سن کر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگیں (رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ) (مریم عرض کرنے لگیں کہ اے میرے رب ! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا حال یہ ہے کہ مجھے کسی بھی بشرنے چھوا تک نہیں) سورة مریم میں یہ بھی ہے کہ حضرت مریم نے عرض کیا (وَ لَمْ اَکُ بَغِیًّا) اور نہ میں بدکار ہوں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا (کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ) اللہ تعالیٰ اسی طرح پیدا فرماتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے انسانوں کی پیدائش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–51

تتمہ قصہ حضرت مریم علیہا السلام۔ قال اللہ تعالی، واذ قالت الملائکۃ یا مریم۔۔۔ الی۔۔۔ صراط مستقیم۔ یہاں تک حق جل شانہ نے آل عمران اور آل ابراہیم کے اصطفاء اور ان پر اپنی توجہات و عنایات کے واقعات ذکر فرمائے اب آگے اور قصہ اسی سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں کہ جو درحقیقت حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ تتمہ ہے اس لیے کہ سلسلہ کلام کا آغاز حضرت مریم کے قصہ سے ہوا تھا درمیان میں مناسبت کی وجہ سے ضمنا حضرت زکریا کا قصہ ذکر فرمایا اب آگے پھر حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ ذکر فرماتے ہیں اور وہ دوسرا قصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں کے ایک گروہ نے بالمشافہ حضرت مریم سے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا کہ اپن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–48

66:۔ حضرت مریم چونکہ ابھی کنواری تھیں۔ اور نہایت ہی عفیفہ اور پاکدامن تھیں۔ اس لیے یہ خوشخبری سن کر تعجب اور حیرت سے بولیں کہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ میرے بیٹا کس طرح پیدا ہوگا۔ 67 اس پر فرشتے نے کہا کہ تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ظاہری اسباب کے بغیر جو چاہتا ہے پیدا کرلیتا ہے۔ اس کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں۔ جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو بس اس کام کے مکمل ہوجانے کے لیے صرف اس کا ارادہ ہی کافی ہوتا ہے۔ وَیُعَلِّمُهٗ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاة وَالْاِنْجِیْلَ ۔ یہ بھی فرشتے کا مقولہ ہے اور یُبَشِّرُکَ پر معطوف ہے۔ فرشتے نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ اس ہونے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–48

ربط آیات : گذشتہ درس میں حضرت مریم کے کچھ مناقب بیان ہوئے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم پیغمبر کی پیدائش کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ اور اس ضمن میں انہیں تمام جہان والی عورتوں پر فضیلت بخشی۔ اس کے علاوہ انہیں ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے پاکیزہ بنایا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی عبادت کرنے کی نصیحت کی گئی۔ اور پھر یہ اصول بھی بیان کردیا کہ جو واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔ وہ غیب کی خبروں میں سے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی انبیاء (علیہم السلام) تک پہنچاتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت کی گئی کہ حضرت مریم کی کفالت کے متعلق جب قرعہ اندازی ہو رہی تھی تو اے پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) آپ وہاں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيُعَلِّمُہُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَالتَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ۝ 48 ۚ علم ( تعلیم) اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–54

1 ؎ یہود میں قدیم دستور تھا کہ وہ جس کو سردار یا برگزیدہ کرتے تھے تو اس وقت کا نبی یا کاہن اس شخص پر زیتون کا تیل مسح کردیتا یعنی مل دیتا تھا۔ اس لئے اس شخص کو مسیح کہتے تھے چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی مقبولیت کا تیل ملا گیا اور اسی قدیم عزت پر ان کا لقب مسیح مشہور ہوا اور یشوع عبرانی میں ان کا نام ہے جو عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔ چونکہ لقب زیادہ مشہور تھا اس لئے اس کو نام سے پہلے ذکر کیا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ یُعَلِّمُہُ اللّٰہُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ۔ ج (اللہ اسے تعلیم دے گا کتاب اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی۔ (48) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کی غرض وغایت چار لفظوں میں سمیٹ کر بیان کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ اسے اس لیے دنیا میں بھیج رہا ہے تاکہ اس کو کتاب کی تعلیم دے اور حکمت سے آشنا کرے۔ بعد کے دونوں لفظ کتاب اور حکمت کی تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ یعنی اللہ جس کتاب کی تعلیم دے گا وہ کتاب ” توراۃ “ ہوگی اور جو حکمت سکھائے گا اسے انجیل کی شکل میں نازل فرمائے گا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نئی شریعت عطانھیں کی گئی بلکہ آپ کو تورات کی شریعت کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–51

فہم القرآن ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام اور عقیدہ توحید تھا۔ یہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ تمام انبیاء رشتۂ نبوت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں بالخصوص بنی اسرائیل کے انبیاء کی اکثریت نسب کے اعتبار سے بھی آپس میں رشتہ دار تھی اور سب انبیاء کی دعوت کے بنیادی اصول بھی ایک ہی ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صاحب انجیل ہونے کے باوجود تورات سے اپنی تائید میں اکثر حوالہ پیش کیا کرتے تھے۔ واضح اور ٹھوس دلائل دینے اور بےمثال معجزات دکھانے کے بعد جناب عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ایک ہی دعوت دیا کرتے تھے۔ اس اللہ کی عبادت کرو جو تمہارا اور میرا رب ہے۔ یاد رہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 48–49

48، 49: وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَنِّیْ قَدْجِئْتُکُمْ بِٰایَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ، اَنِّیْٓ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاُبْرِیئُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (اور وہ اس کو کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 48۔: (آیت)” ویعلمہ “ قراء اہل مدینہ ، عاصم (رح) ، یعقوب (رح) ، نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے ان کے ساتھ پڑھا ہے ۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان (آیت)” ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک “۔ (الکتاب) کتاب سے مراد تحریر اور خط ہے ” والحکمۃ “ سے مراد علم اور سمجھ ہے ، (آیت)” والتوراۃ والانجیل “ سکھلایا اللہ نے تورات اور انجیل کو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–51

(48 ۔ 51) ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس زمانہ کے موافق معجزہ دیا ہے چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادو کا بڑا زور تھا اس لئے ان کو ایسا معجزہ دیا کہ جس سے سب جادوگر بےبس ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طبیبوں کا بڑا زور تھا اس واسطے ان کو ویسا ہی معجزہ دیا کہ مردہ کو اٹھانا تو درکنار مادرزاداندھے اور بدن پر کے سفید داغ والے کو بھی کوئی طبیب اچھا نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طبیب یہ بتلا سکتا ہے کہ بیمار نے کل کیا کھایا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ سب کچھ کرتے تھے جس سے سب طبیب حیران تھے۔ اسی طرح نبی آخر الزمان کے زمانہ میں عربی زبان کی فصاحت و بلاغت بڑا زور تھا اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–58

آیت 45-58 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–61

مباہلہ کا جواز قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

108 پیغمبر کا علم براہ راست اللہ کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو اللہ خود سکھائے گا کتاب و حکمت بھی اور تورات و انجیل بھی۔ سو پیغمبر کی ایک امتیازی شان ہے کہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کرتا۔ سو یہ پیغمبر کی ایک امتیازی شان ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں کسی سے نہیں پڑھتا، بلکہ اس کا علم براہ راست اللہ پاک ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ قادیانی دجال کی طرح نہیں کہ سکول میں مڈل فیل اور پھر اس کے بعد نبوت کا دعویٰ ۔ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے علوم براہ راست اللہ پاک کی طرف سے ہوتے ہیں۔ روایات میں ہے کہ حضرت عیسیٰ جب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–49

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ وہ تمام خوبیاں بیان کر رہے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دی جائیں گی۔ -1 اللہ تعالیٰ ان کو کتاب و حکمت کا علم عطا کرے گا اور تورات وانجیل کا علم دیا جائے گا۔ -2 وہ حکمت کی باتیں بتائے گا۔ -3 اللہ تعالیٰ اسے بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گا۔ -4 اسے کئی معجزے عطا فرمائے گا۔ مثلاً : ا مٹی کے پرندوں کو اللہ کے حکم سے اڑا دینا۔ ب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں سے کہیں گے کہ میں مادر زاد اندھوں کو اور کوڑھی کو اللہ کے حکم سے ٹھیک کرسکتا ہوں۔ ج میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔ د تم جو کچھ کھا کر آؤ میں بتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–54

آیات 42- 54 اسرارومعارف واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔ بعض منازل سلوک : صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:48) آیۃ 47 بطور جملہ معترضہ بیچ میں آگئی۔ آیۃ 46 میں فرشتوں کا کلام جو شروع ہوا تھا آیۃ 47 کے بعد اب پھر جاری ہوگیا۔ یہ سلسلہ کلام آیۃ 49 کے اختتام سے قبل ہی ختم ہوکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام بغیر کسی تمہید کے شروع ہوجاتا ہے۔ یہ طرز کلام انشاء عربی میں انوکھا اور غیر معروف نہیں ہے۔ اور قرآن حکیم میں اس کی اکثر مثالیں ملیں گی۔ ویعلم الکتاب ۔۔ کا عطف یبشرک پر ہے اور ہر دو یعلم اور یبشر میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–54

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54 وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–49

[21] کتاب سے مرادکتابت (لکھنا) یا انجیل و تورات کے علاوہ کوئی اور کتاب ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–49

حضرت مسیح (علیہ السلام) کا عہد رسالت : (ف 1) یہودیوں میں جب حضرت مسیح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے ، اس وقت ان کی حالت نہایت بگڑ چکی تھی ، ان میں مادیت کے جراثیم بری طرح سرایت کرچکے تھے اور سرمایہ کا حصول ان کی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین تھا ، وہ دنیا میں سب سے زیادہ مال دار تھے ، اور چاہتے تھے کہ دنیا بھر کے ذخائر وخزائن ان کے پاس جمع رہیں اور ساری دنیا ان کی محتاج ہو ، اس مادیت کے ساتھ ساتھ وہ مذہبیت کے دعوے دار بھی تھے چند رسوم وظواہر کے سوا ان کے پاس اور کچھ نہ تھا ، روحانیت اور اخلاق حمیدہ سے وہ کوسوں دور تھے ۔ اس لئے ان کے ہاں مسیح (علیہ السلام) ایسے روحانی شخص کو بھیجنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 47–48

ف 3۔ اس پر حضرت مریم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ مجھ کو تو کسی آدمی نے چھوا تک بھی نہیں ۔ فرشتے کے واسطے سے جواب دیا گیا کہ اسی طرح بلا مردھ کے تیرے ہاں بچہ ہوگا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یعنی وہ کسی واسطے اور سبب کا محتاج نہیں ہے وہ جب کسی شے کو پورا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اور کسی چیز کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس چیز کو کہتا ہے کہ موجود ہوجا بس وہ چیز موجود ہوجاتی ہے۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم نے کیفیت دریافت کی جواب دیا گیا کہ بغیر آدمی کے ہاتھ لگائے اور کسی مرد کی صحبت کئے بغیر ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

ف 5۔ پرندہ کی شکل بنانا تصویر تھا جو اس شریعت میں جائز تھا، ہماری شریعت میں اس کا جواز منسوخ ہوگیا، اور ابرء اکمہ و ابرص کا امکان اگر اسباب طبعیہ سے ثابت ہوجاوے تو وجہ اعجاز یہ تھی کہ بلا اسباب طبعیہ ابراء واقع ہوجاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تعلیم براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے : 113: نبی کی تعلیم کا بندوبست اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہبی اور عطائی طور پر کیا جاتا ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ دنیا والوں پر یہ بات ثابت کردی جائے کہ نبوت کسبی چیز نہیں ہے کہ کوئی انسان ترقی کرتے کرتے اس ترقی کے آخری زینہ تک ترقی کر جائے اور ایک وقت آئے کہ وہ نبی ہوجائے۔ نہیں بلکہ نبوت خالصتہً وہبی چیز تھی۔ اللہ نے جہاں نبوت کا عہدہ عطا کرنا ہوتا تھا اس کی حفاظت و نگہبانی کا خاص انتظام الٰہی اس طرح ہوتا تھا کہ خود اس شخص کو بھی جس کو نبی بنانا مقصود ہوتا تھا یہ بات معلوم نہ ہوتی تھی۔ گویا طبعی طور پر بنی ان باتوں سے متنفر ہوتا تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–51

1. Verse 48 recounts the august virtues of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) who would be born blessed with the honour of learning from Allah: Scriptures, Wisdom and specially the توراۃ Torah and the اِنجیل Injil; and that he will be sent as a Messenger of Allah to all of the Children of Isra` il. 2. The message he will carry to them will be his argument in favour of his prophethood. In order that they believe, enumerated in verse 49, there are four signs or miracles that he would perform, being enough for willing believers. 3. Verse 50 says that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) will declare that he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–49

45. It is hinted here that these signs are sufficient proof that Jesus was designated by God, the Creator and Sovereign of the universe, provided people are prepared to accept the truth instead of obstinately clinging to their prejudiced views. This is further proof that Jesus had been entrusted with a mission by God. Had he not been designated by God but by an imposter he would surely have attempted to found an independent religion, exploiting his miracles to lead people away from their original faith. However, Jesus believed in, and confirmed, the validity of the teachings of the original…

Read the full tafseer →