Explained with ayahs 48–51
فرشتوں کا مریم سے خطاب
فرشتے حضرت مریم سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا لفظ حکمت کی تفسیر سورة بقرہ میں گذر چکی ہے، اور اسے توراۃ سکھائے گا جو حضرت موسیٰ بن عمران پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو حضرت عیسیٰ ہی پر اتری، چناچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں، انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لئے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا، حضرت عیسیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
سورة اٰلِ عِمْرٰن 45
یعنی یہ علامت تم کو اس امر کا اطمینان دلانے کے لیے کافی ہیں کہ میں اس خدا کا بھیجا ہوا ہوں جو کائنات کا خالق اور حاکم ذی اقتدار ہے۔ بشرطیکہ تم حق کو ماننے کے لیے تیار ہو، ہٹ دھرم نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
خلاصہ تفسیر
(اور اے مریم اس مولود مسعود کی یہ فضیلتیں ہوں گی) اللہ ان کو تعلیم فرمادیں گے، (آسمانی) کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور (بالخصوص) توریت اور انجیل اور ان کو (تمام) بنی اسرائیل کی طرف (پیغمبر بنا کر یہ مضمون دے کر) بھیجیں گے کہ (انی جئتکم تا مستقیم یعنی) میں تم لوگوں کے پاس (اپنی نبوت پر) کافی دلیل لے کر آیا ہوں وہ یہ ہے کہ میں تم لوگوں کے (یقین لانے کے) لئے گارے سے ایسی شکل بناتا ہوں جیسی پرندہ کی شکل ہوتی ہے پھر اس (مصنوعی شکل) کے اندر پھونک مار دیتا ہوں جس سے وہ (سچ مچ کا جاندار) پرندہ بن جاتا ہے خدا کے حکم سے (ایک معجزہ تو یہ ہوا) اور میں اچھا کردیتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور برص…
Read the full tafseer →”رسولاً“ سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یعنی یبعثہ رسولا، سیدنا مسیح حضرت یحییٰ کی طرح صرف ایک نبی نہیں تھے بلکہ جس طرح حضرت موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اسی طرح یہ بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔
نبی اور رسول میں فرق : رسول اور نبی میں فرق ہوتا ہے، رسول جس قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے اس کے لیے خدا کی عدالت بن کر آتا ہے۔ اس کے لازماً اس قوم کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ایمان لاتی ہے تو نجات پاتی ہے اور اگر اپنے کفر پر اڑی رہ جاتی ہے اور اپنے نبی کو گزند پہنچانے کی کوشش کرتی ہے تو فنا کردی جاتی ہے۔ اس حقیقت کی طرف حضرت یحییٰ نے مختلف اسلوبوں سے اشارہ فرمایا…
Read the full tafseer →49۔ 1 اخلق لکم۔ یعنی خلق یہاں پیدائش کے معنی میں نہیں ہے، اس پر تو صرف اللہ تعالیٰ ہی قادر ہے کیونکہ وہی خالق ہے یہاں اس کے معنی ظاہر شکل و صورت گھڑنے اور بنانے کے ہیں۔
49۔ 2 دوبارہ باذن اللہ (اللہ کے حکم سے) کہنے سے مقصد یہی ہے کہ کوئی شخص اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ میں خدائی صفات یا اختیارات کا حامل ہوں نہیں میں تو اس کا عاجز بندہ ہوں اور رسول ہی ہوں یہ جو کچھ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو رہا ہے معجزہ ہے جو محض اللہ کے حکم سے صادر ہو رہا ہے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کے زمانے کے حالات کے مطابق معجزے عطا فرمائے تاکہ اس کی صداقت ہو اور بالاتری نمایاں ہو سکے حضرت موسیٰ ؑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
20: یہ سب معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ان کی نبوت کے ثبوت کے طور پر عطا فرمائے تھے اور آپ نے ان کا عملی مظاہرہ فرمایا۔
Read the full tafseer →اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی رسالت صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی ۔ اس لئے کہ آپ انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ تورات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی ‘ اور جس میں بنی سرائیل کی زندگی کی تنظیم کے لئے شریعت موجود تھی ۔ اور جس میں باہم معاملات اور اجتماعی تنظیم کے امور طے ہوئے تھے ۔ وہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی تھی ‘ ہاں اس پر انجیل کا اضافہ کیا گیا تھا ۔ اور مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں روحانی پاکیزگی پیدا کی جائے اور ان کا ضمیر جاگ اٹھے اور قلب روشن ہو۔
اور وہ معجزہ جس کی بابت اللہ نے ان کی والدہ حضرت مریم کو بشارت دی تھی کہ وہ معجزہ ان کے پاس…
Read the full tafseer →4 یعنی پیغمبر ہو کر اپنی قوم بنی اسرائیل سے یہ فرمائینگے۔
5 محض شکل و صورت بنانے کو " خلق " سے تعبیر کرنا صرف ظاہری حیثیت سے ہے۔ جیسے حدیث صحیح میں معمولی تصویر بنانے کو " خلق " سے تعبیر فرمایا " احیوا ماخلقتم " یا خدا کو " احسن الخالقین " فرما کر بتلا دیا کہ محض ظاہری صورت کے لحاظ سے غیر اللہ پر بھی یہ لفظ بولا جاسکتا ہے۔ اگرچہ حقیقت تخلیق کے لحاظ سے حق تعالیٰ کے سوا کوئی خالق نہیں کہلا سکتا۔ شاید اسی لئے یہاں یوں نہ فرمایا "ــ اَنِّی اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ طَیْرًا " (میں مٹی سے پرندہ بنا دیتا ہوں) یوں کہا کہ میں مٹی سے پرندہ کی شکل بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں پھر وہ پرندہ اللہ کے…
Read the full tafseer →آیت 49 وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ لا
اب یہ جو دو بیک وقت آنے والی contemporary اصطلاحات ہیں ان کو نوٹ کر لیجیے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں تمام توصیفی کلمات کے بعد آخری بات یہ فرمائی : نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ نبی ہوں گے صالحین میں سے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا : وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَلا یعنی بنی اسرائیل کی طرف رسول بن کر آئیں گے۔ نبی اور رسول میں یہ فرق نوٹ کر لیجیے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام صرف نبی تھے اس لیے وہ قتل بھی کردیے گئے ‘ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول تھے اور رسول قتل نہیں ہوسکتے ‘ اس لیے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
49 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طب کا فن اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا۔ بڑے بڑے حکمائے یونان بقراط و سقراط اور ارسطاطالیس وغیرہ نے اسی دور میں شہرت پائی تھی۔ لہذا عیسیٰ کو معجزات بھی ایسے عطا کئے گئے جو اطباء کی دسترس سے باہر تھے۔ مثلاً آپ مٹی سے ایک پرندہ کی شکل بناتے پھر اس میں پھونک مارتے تو وہ زندہ ہو کر اڑنے لگ جاتا۔ مردوں کو کہتے کہ اللہ کے حکم سے اٹھ کر کھڑے ہوجاؤ، تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے اور باتیں کرنے لگتے۔ مادر زاد اندھوں کی آنکھوں پر اور کوڑھی کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تو وہ بالکل تندرست ہوجاتے اور بھلے چنگے ہوجاتے اور اندھوں کی بینائی لوٹ آتی اور کوڑھیوں کے جسم ٹھیک ہوجاتے۔ علاوہ…
Read the full tafseer →123 ۔ (آیت) ” رسولا “۔ آپ کا مرتبہ پیغمبری کا ہوگا۔ نہ آپ معاذ اللہ ساحر وشعبدہ باز ہوں گے جیسا کہ بدتمیز یہود نے آپ کو سمجھا، اور نہ (نعوذ باللہ) آپ خود خدایا فرزند خدا ہوں گے۔ جیسا کہ نصرانیوں نے اپنی بیہودگی سے فرض کرلیا۔ (آیت) ” الی بنی اسرآء یل “۔ یہ بالکل صریح ہے اس باب میں کہ آپ کی دعوت بنی اسرائیل تک محدود تھی اور دوسرے بنی اسرائیلی پیغمبروں کی طرح آپ (علیہ السلام) بھی صرف قومی نبی تھے، انجیل تک میں یہ تصریح، اتنی تحریفوں کے بعد بھی باقی رہ گئی ہے :۔ ” ان بارہ کو یسوع نے بھیجا اور انہیں حکم دے کے کہا کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
اِنَّ اللہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ، رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ کی مخلوق مربوب اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے پیغمبر اور امتی سب برابر ہیں۔ فاعْبُدُوْہُ ، یعنی اس کی بندگی کرو، آج جو انجیلیں روئے زمین پر موجود ہیں، ان میں ایک انجیل برناباسی ہے اس کے انگریزی، عربی ترجمے موجود ہیں اور وہ حضرت برناباسا نامی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ایک حواری کی جانب منسوب ہے، اس میں ظہور اسلام کی خبریں اور آپ ﷺ کے ختم رسل ہونے کی بابت پیش گوئیاں ایسے صاف اور صریح الفاظوں میں موجود ہیں کہ مسیحیوں کو مفر اسی میں نظر آیا کہ اسے جعلی کہہ کر الگ کردیں اور…
Read the full tafseer →وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ : رسولا میں تنوین اظہارِعظمت کے لیے ہے اور فعل محذوف ہے یعنی ہم اس کو بنی اسرائیل کے پاس عظیم الشان پیغمبر بنا کر بھیجیں گے۔
اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ : یہاں حرف جر محذوف ہے اور رسولاً سے اس کا تعلق ہے یا احوال مذکورہ پر عطف ہے اور رسالت نطق کے معنی کو متضمن ہے مطلب اس طرح ہوگا کہ ہم اس کو بنی اسرائیل کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجیں گے اور وہ ان سے کہے گا کہ میں تمہارے پاس معجزہ لے کر آیا ہوں جو میری رسالت کو ثابت کر رہا ہے حضرت عیسیٰ کے معجزات اگرچہ متعدد تھے مگر آپ کی صداقت تمام معجزات سے ایک ہی طرح ثابت ہوتی تھی اس لیے باٰیات کی جگہ بٰایۃ…
Read the full tafseer →(49) اور پھر تیس سال کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں تمام بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجیں گے، آپ عیسیٰ ؑ ان سے جا کر کہیں گے کہ میں تم لوگوں کے پاس اپنی نبوت پر کھلی اور روشن دلیل لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ پرندے کی شکل کی طرح مٹی کی مصنوعی صورت تمہارے سامنے بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں اور وہ پرندہ بن کر بحکم الہی آسمان و زمین کے درمیان اڑنے لگے گا، چناچہ ان کے سامنے چمگاڈر بنادی وہ لوگ بولے یہ تو جادو ہے، اسے ہم نہیں مانتے اس کے علاوہ اور کوئی دلیل لاؤ، حضرت عیسیٰ ؑ بولے کہ میں پیدائشی نابینا اور کوڑھی کو اللہ کے حکم سے اچھا کردیتا ہوں تو اس پھر بھی وہ ہٹ دھرم لوگ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے تب حضرت…
Read the full tafseer →اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ : یعنی جب وہ رسول بن کر آئیں گے تو ان کی دعوت یہ ہوگی جو آگے بیان ہوئی ہے۔
اَنِّىْٓ اَخْلُقُ : یہاں ”خَلَقَ“ کا لفظ ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا : (اَحْیُوْا مَا خَلَقْتُمْ) ”تم نے جو خلق کیا اسے زندہ کرو۔“ [ بخاری، البیوع، باب التجارۃ فیما یکرہ۔۔ 2105 ] پیدا کرنے اور زندگی دینے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ: یہاں ”بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ“ کا لفظ بار بار لانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو عیسیٰ ؑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیت نمبر : 48 تا 49۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ویعلمہ الکتب والحکمۃ والتورۃ والانجیل “۔ ابن جریج نے کہا ہے : الکتاب سے مراد کتابت کرنا اور لکھنا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد تورات اور انجیل کے علاوہ کوئی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سکھائی۔
(آیت) ” ورسولا “۔ (یعنی) اور ہم اسے رسول بنائیں گے یا وہ ان سے رسول کی حیثیت سے ہم کلام ہوگا، اور یہ قول بھی ہے کہ وہ (آیت) ” وجیھا “ پر معطوف ہے اور اخفش نے کہا ہے : اگر چاہے تو (آیت) ” ورسولا میں واؤ کو مقحم بنا دے اور رسولا کوہ ضمیر سے حال بنا لے تقدیر کلام ہوگی ” ویعلمہ الکتاب رسولا “ (اور اللہ تعالیٰ اسے کتاب سکھائے گا…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ایک دن چند لڑکوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کاتبوں میں سے آپ نے مٹی اٹھالی اور فرمایا کیا میں تم کو اس مٹی سے ایک پرندہ نہ بنا دوں انہوں نے کہا کیا آپ اس کی طاقت رکھتے ہیں فرمایا ہاں اپنے رب کے حکم سے پھر اس کو تیار کیا یہاں تک کہ اس کو پرندہ کی شکل میں بنا کر اس میں پھونک مار دی پھر فرمایا اللہ کے حکم سے پرندہ بن جا وہ پرندہ بن کر آپ کی ہتھیلیوں کے درمیان سے اڑ گیا اور یہ لڑکے اس بات کو لے ان کے حکم سے باہر نکل گئے اور انہوں نے یہ (بات) اپنے معلمین کو بتائی تو انہوں نے اس بات کو لوگوں میں پھیلا دیا۔
(2) ابن جریر نے ابن جریج…
Read the full tafseer →[وَرَسُوْلاً : اور (وہ ہوں گے) ایک رسول ] [اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ : بنو اسرائیل کی طرف ] [اَنِّیْ : (وہ کہیں گے) کہ میں ] [قَدْ جِئْتُکُمْ : آیا ہوں تمہارے پاس ] [بِاٰ یَۃٍ : ایک نشانی کے ساتھ ] [مِّنْ رَّبِّکُمْ : تمہارے رب (کی طرف) سے ] [
اَ نِّیْ : کہ میں ] [اَخْلُقُ : بناتا ہوں ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [مِّنَ الطِّیْنِ : گارے سے ] [کَہَیْئَۃِ الطَّیْرِ : پرندوں کی شکل جیسا ] [فَاَنْفُخُ : پھر میں پھونکتا ہوں ] [فِیْہِ : اس میں ] [فَـیَکُوْنُ : تو وہ ہوجاتا ہے ] [طَیْرًا : اڑنے والا ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کی اجازت سے ] [وَاُبْرِیُٔ : اور میں شفا دیتا ہوں ] [الْاَکْمَہَ : پیدائشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے منصب کی ذمہ داری اور ان کے معجزات
ان آیات میں حضرت سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعض صفات بیان فرمائیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ ان کو کتاب کی تعلیم دے گا۔ کتاب سے کیا مراد ہے جبکہ تورات اور انجیل کا ذکر بعد میں آ رہا ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے اس سے تورات و انجیل کے علاوہ کتابیں مراد ہیں مثلاً زبور وغیرہ، نیز فرمایا کہ اللہ ان کو حکمت سکھائے گا۔ صاحب روح المعانی صفحہ 166: ج 3 حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ اس سے علم الحلال و الحرام مراد ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ تمام امور دینیہ مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکھائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرات انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
تتمہ قصہ حضرت مریم علیہا السلام۔
قال اللہ تعالی، واذ قالت الملائکۃ یا مریم۔۔۔ الی۔۔۔ صراط مستقیم۔
یہاں تک حق جل شانہ نے آل عمران اور آل ابراہیم کے اصطفاء اور ان پر اپنی توجہات و عنایات کے واقعات ذکر فرمائے اب آگے اور قصہ اسی سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں کہ جو درحقیقت حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ تتمہ ہے اس لیے کہ سلسلہ کلام کا آغاز حضرت مریم کے قصہ سے ہوا تھا درمیان میں مناسبت کی وجہ سے ضمنا حضرت زکریا کا قصہ ذکر فرمایا اب آگے پھر حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ ذکر فرماتے ہیں اور وہ دوسرا قصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں کے ایک گروہ نے بالمشافہ حضرت مریم سے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا کہ اپن…
Read the full tafseer →68 یہ اَنِّیْ قَدْجِئْتُکُمْ سے بدل ہے اور اذن اللہ سے مراد امر اللہ ہے اور یہاں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی تفصیل شروع ہوتی ہے ان کا ایک معجزہ تھا کہ وہ مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس میں دم کردیتے تو وہ زندہ ہوجاتا۔ باذن اللہ کا اضافہ کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ مٹی کے بت کا زندہ ہوجانا یہ محض اللہ کے حکم سے تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس میں کوئی تصرف یا اختیار نہیں تھا۔ والمراد بامر اللہ واشار بذالک الی ان احیاءہ من اللہ تعالیٰ ولکن بسبب النفع ولیس ذالک مخصوصیۃ فی عیسیٰ (علیہ السلام) الخ (روح ج 3 ص 168)
69 یہ اخلق پر معطوف ہے۔ اکمہ اسے کہتے ہیں۔ جو ماں کے پیٹ سے ہی اندھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ربط آیات :
گذشتہ درس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق بشارت کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتوں نے حضرت مریم کو خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ جو کلمہ تجھ کو عطا کرے گا۔ اس کا نام مسیح ابن مریم ہوگا۔ بڑی عزت والا اور دنیا و آخرت میں مقربین میں سے ہوگا۔ نیز یہ کہ وہ گود میں اور ادھیڑ عمر میں کلام کرے گا۔ اور نیکو کاروں میں سے ہوگا۔ حضرت مریم نے تعجب کا اظہار کیا۔ کہ اس کے ہاں بچہ کیسے ہوگا جب کہ نہ اس نے نکاح کیا ہے۔ اور نہ وہ کسی لغزش کا شکار ہوئی ہے۔ بلکہ کسی مرد نے اس کو چھوا تک نہیں تو اللہ کی جانب سے ارشاد ہوا۔ کہ اس کے لیے بغیر باپ کے بچہ عطا کردینا کچھ مشکل نہیں۔ وہ…
Read the full tafseer →وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 0ۥۙ اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ 0ۙ اَنِّىْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَہَيْــــَٔــۃِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْہِ فَيَكُوْنُ طَيْرًۢا بِـاِذْنِ اللہِ 0ۚ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْىِ الْمَوْتٰى بِـاِذْنِ اللہِ 0ۚ وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ 0ۙ فِيْ بُيُوْتِكُمْ 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 49ۚ
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
1 ؎ یہود میں قدیم دستور تھا کہ وہ جس کو سردار یا برگزیدہ کرتے تھے تو اس وقت کا نبی یا کاہن اس شخص پر زیتون کا تیل مسح کردیتا یعنی مل دیتا تھا۔ اس لئے اس شخص کو مسیح کہتے تھے چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی مقبولیت کا تیل ملا گیا اور اسی قدیم عزت پر ان کا لقب مسیح مشہور ہوا اور یشوع عبرانی میں ان کا نام ہے جو عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔ چونکہ لقب زیادہ مشہور تھا اس لئے اس کو نام سے پہلے ذکر کیا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ 5 لا اَنِّیْ قَدْجِئْـتُـکُمْ بِاٰ یَۃٍ مِّنْ رَّبِّـکُمْ لا اَنِّیْٓ اَخْلُقُ لَـکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْئَۃِ الطَّیْرِفَاَنْفُخُ فِیْہِ فَـیَـکُوْنُ طَیْرًا م بِاِذْنِ اللّٰہِ ج وَاُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ ج وَاُنَـبِّـئُـکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ لا فِیْ بُیُوْتِکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّـکُمْ اِنْ کُنْـتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ ج
(اور اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا، چناچہ اس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی) میں تمہارے خداوند کی جانب سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام اور عقیدہ توحید تھا۔
یہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ تمام انبیاء رشتۂ نبوت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بھائی ہیں بالخصوص بنی اسرائیل کے انبیاء کی اکثریت نسب کے اعتبار سے بھی آپس میں رشتہ دار تھی اور سب انبیاء کی دعوت کے بنیادی اصول بھی ایک ہی ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صاحب انجیل ہونے کے باوجود تورات سے اپنی تائید میں اکثر حوالہ پیش کیا کرتے تھے۔ واضح اور ٹھوس دلائل دینے اور بےمثال معجزات دکھانے کے بعد جناب عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ایک ہی دعوت دیا کرتے تھے۔ اس اللہ کی عبادت کرو جو تمہارا اور میرا رب ہے۔ یاد رہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48، 49: وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَنِّیْ قَدْجِئْتُکُمْ بِٰایَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ، اَنِّیْٓ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاُبْرِیئُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (اور وہ اس کو کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا۔…
Read the full tafseer →(تفسیر) 49۔:
(آیت)” ورسولا “۔ اور آپ کو رسول بنائیں گے (آیت)” الی بنی اسرائیل “ بعض نے کہا کہ رسول بلوغت کے بعد تھے ، بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے پہلے نبی یوسف (علیہ السلام) ہیں اور آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ، جب ان کو بھیجا فرمایا ” انی “ امام کسائی (رح) فتحہ پڑھتے ہیں کیونکہ رسالت اس پر واقع ہے ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ” انی “ ہے، ” قد جئتکم بایۃ “ بمعنی نشانی علامت ہے ” من ربکم “ اپنے قول کی تصدیق ہے کہ جو اللہ کا دیا ہوا ہوگا ، یہاں تو ایک علامت کا ذکر کیا حالانکہ آپ کے پاس بہت سارے معجزات تھے ، یہ سب ایک چیز پر دلالت کرتے ہیں، یعنی جس نے رسالت کی تصدیق کی گویا اس نے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
(48 ۔ 51) ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس زمانہ کے موافق معجزہ دیا ہے چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادو کا بڑا زور تھا اس لئے ان کو ایسا معجزہ دیا کہ جس سے سب جادوگر بےبس ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طبیبوں کا بڑا زور تھا اس واسطے ان کو ویسا ہی معجزہ دیا کہ مردہ کو اٹھانا تو درکنار مادرزاداندھے اور بدن پر کے سفید داغ والے کو بھی کوئی طبیب اچھا نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طبیب یہ بتلا سکتا ہے کہ بیمار نے کل کیا کھایا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ سب کچھ کرتے تھے جس سے سب طبیب حیران تھے۔ اسی طرح نبی آخر الزمان کے زمانہ میں عربی زبان کی فصاحت و بلاغت بڑا زور تھا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
آیت 45-58
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
110 حضرت عیسیٰ کا پیغام صرف بنی اسرائیل کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ کا رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف۔ نہ کہ کسی اور قوم کی طرف۔ یعنی ان کی بعثت و تشریف آوری خاص وقت اور خاص قوم کے لئے تھی۔ اور یہ بات بائبل میں بھی طرح طرح کی تحریفات کے باوجود آج بھی موجود و معروف ہے۔ مثال کے طور پر انجیل متی ( 10 ۔ 75) کے مطابق حضرت عیسیٰ اپنے حواریوں کو ہدایات دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا، بلکہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔ نیز اسی انجیل متی ہی کے ایک دوسرے مقام پر اس طرح آیا ہے کہ ہمیں بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ وہ تمام خوبیاں بیان کر رہے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دی جائیں گی۔
-1 اللہ تعالیٰ ان کو کتاب و حکمت کا علم عطا کرے گا اور تورات وانجیل کا علم دیا جائے گا۔
-2 وہ حکمت کی باتیں بتائے گا۔
-3 اللہ تعالیٰ اسے بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گا۔
-4 اسے کئی معجزے عطا فرمائے گا۔ مثلاً :
ا مٹی کے پرندوں کو اللہ کے حکم سے اڑا دینا۔
ب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں سے کہیں گے کہ میں مادر زاد اندھوں کو اور کوڑھی کو اللہ کے حکم سے ٹھیک کرسکتا ہوں۔
ج میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں۔
د تم جو کچھ کھا کر آؤ میں بتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–54
آیات 42- 54
اسرارومعارف
واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔
اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔
بعض منازل سلوک :
صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…
Read the full tafseer →ف 2 یہاں خلق کا لفظ ظاہر شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا احیو اما خلقتم (کہ تم نے جو خلق کیا اسے زندہ کرو) پیدا کرنے اور ندگی دینے کے معنی ہیں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔3 یہاں باذن اللہ لا لفظ مکر ذکر کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) یہ معجزات نہ کھا سکتے۔۔ اور یہی ہر نبی کے معجزات کا حال ہے۔ (شو کانی۔ ابن کثیر)4 اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر نبی ( علیہ السلام) کو اس کے زمانے کے منا سب حال معجزات عطا فرمائے ہیں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانے میں جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(3:49) الطین۔ گارا۔ مٹی۔ خاک۔ مٹی اور پانی کا آمیزہ۔ مٹی اور پانی دونوں کا آمیزہ طین ہے گو اس سے پانی کا اثر زائل ہی کیوں نہ ہوجائے۔ کہیئۃ۔ ک۔ حرف تشبیہ ۔ ہیئۃ۔ کسی چیز کی حالت۔ کیفیت۔ شکل و صورت ہئی مادہ۔
انفخ۔ نفخ سے باب نصر۔ مضارع واحد متکلم ۔ میں پھونک مارتا ہوں۔
ابری۔ ابراء (افعال) سے مضارع واحد متکلم۔ ابرائ۔ ہر بری چیز۔ مرض وغیرہ سے بری کرنا اور نجات دلانا۔ میں بری کردیتا ہوں مرض سے۔ میں تندرست کردیتا ہوں۔
اکمہ۔ مادہ زاد اندھا۔ صفت مشبہ کا صیغہ۔
ابرص۔ کوڑھی۔ جس کو برص کی مرض ہو۔ ہر دو اکمہ و ابرص کی تانیث و جمع بروزن افعل (واحد مذکر) فعلاء (واحد مؤنث) فعل (جمع مذکر و مؤنث)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54
وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس زمانے کے موافق معجزہ دیا ہے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادو کا کیونکہ اس زمانہ میں جادو کا بہت زور تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طبیبوں کا بڑا زور تھا۔ اس واسطے ان کو ویسا ہی معجزہ دیا کہ مردہ کو جلانا تو در کنار مادر زاد اندھے اور بدن کے اوپر سفید داغ والے کو بھی طبیب اچھا نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طبیب یہ بتلا سکتا ہے کہ بیمار نے کل کیا کھایا تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ سب کچھ کھول کر کہہ دیتے تھے۔ جس سے طبیب حیران تھے۔ اسی طرح نبی آخر الزماں کے زمانہ میں عربی زبان کی فصاحت وبلاغت کا بڑا زور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ان فصیح وبلیغ لفظوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
[21] کتاب سے مرادکتابت (لکھنا) یا انجیل و تورات کے علاوہ کوئی اور کتاب ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
حضرت مسیح (علیہ السلام) کا عہد رسالت :
(ف 1) یہودیوں میں جب حضرت مسیح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے ، اس وقت ان کی حالت نہایت بگڑ چکی تھی ، ان میں مادیت کے جراثیم بری طرح سرایت کرچکے تھے اور سرمایہ کا حصول ان کی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین تھا ، وہ دنیا میں سب سے زیادہ مال دار تھے ، اور چاہتے تھے کہ دنیا بھر کے ذخائر وخزائن ان کے پاس جمع رہیں اور ساری دنیا ان کی محتاج ہو ، اس مادیت کے ساتھ ساتھ وہ مذہبیت کے دعوے دار بھی تھے چند رسوم وظواہر کے سوا ان کے پاس اور کچھ نہ تھا ، روحانیت اور اخلاق حمیدہ سے وہ کوسوں دور تھے ۔
اس لئے ان کے ہاں مسیح (علیہ السلام) ایسے روحانی شخص کو بھیجنے…
Read the full tafseer →ف 4۔ اور اس عیسیٰ (علیہ السلام) بن مریم کو اللہ تعالیٰ عام کتب سماویہ کی تعلیم دے گا اور اس کو فہم و دانش کی باتیں سکھائے گا اور خاص طور پر اس کو تورات و انجیل کی تعلیم دے گا اور اس کو تمام بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر اور یہ پیغام دے کر بھیجے گا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اپنے پروردگار کی جانب سے بہت بڑی دلیل لے کر آیا ہوں ۔ وہ یہ کہ میں تمہارے سامنے مٹی کے گارے سے ایک پرندے جیسی صورت اور مجسمہ بناتا ہوں پھر اس مصنوعی مجسمہ کے اندر پھونک مار دیتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سچ مچ کا پرندہ بن جاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھ کے بیمار کو اچھا کردیتا ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ف 5۔ پرندہ کی شکل بنانا تصویر تھا جو اس شریعت میں جائز تھا، ہماری شریعت میں اس کا جواز منسوخ ہوگیا، اور ابرء اکمہ و ابرص کا امکان اگر اسباب طبعیہ سے ثابت ہوجاوے تو وجہ اعجاز یہ تھی کہ بلا اسباب طبعیہ ابراء واقع ہوجاتا تھا۔
Read the full tafseer →سیدہ مریم (علیہ السلام) کے مبشر بیٹے کے دوسرے اوصاف کا ذکر :
114: ” اللہ تعالیٰ اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر مبعوث کرے گا۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل بنی اسرائیل ہر قسم کی برائیوں میں مبتلا تھے انفرادی اور اجتماعی عیوب و نقائص کا کوئی پہلو ایسا نہیں تھا جو ان سے بچ رہا ہو۔ وہ اعتقاد و اعمال دونوں ہی قسم کی گمراہیوں کا مرکز و محور بن گئے تھے حتیٰ کہ اپنی ہی قوم کے ہادیوں اور پیغمبروں کے قتل تک پر جری اور دلیر ہوگئے تھے۔ یہود کے بادشاہ ہیرودیس کے متعلق معلوم ہوچکا ہے کہ اس نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو اپنی محبوبہ کے اشارہ پر کیسے عبرت ناک طریقہ پر قتل کرادیا تھا اور اس نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
1. Verse 48 recounts the august virtues of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) who would be born blessed with the honour of learning from Allah: Scriptures, Wisdom and specially the توراۃ Torah and the اِنجیل Injil; and that he will be sent as a Messenger of Allah to all of the Children of Isra` il.
2. The message he will carry to them will be his argument in favour of his prophethood. In order that they believe, enumerated in verse 49, there are four signs or miracles that he would perform, being enough for willing believers.
3. Verse 50 says that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) will declare that he…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
45. It is hinted here that these signs are sufficient proof that Jesus was designated by God, the Creator and Sovereign of the universe, provided people are prepared to accept the truth instead of obstinately clinging to their prejudiced views. This is further proof that Jesus had been entrusted with a mission by God. Had he not been designated by God but by an imposter he would surely have attempted to found an independent religion, exploiting his miracles to lead people away from their original faith. However, Jesus believed in, and confirmed, the validity of the teachings of the original…
Read the full tafseer →