Aal-i-Imraan 3:47

Aal-i-Imraan · from ayah 47

3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ ؕ— قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ— اِذَا قَضٰۤی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ ۟قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِىۡ بَشَرٌ ‌ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ‌ ؕ اِذَا قَضٰٓى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

She said, "My Lord, how will I have a child when no man has touched me?" [The angel] said, "Such is Allah; He creates what He wills. When He decrees a matter, He only says to it, 'Be,' and it is.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 5 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:47

یہ سن کر مریمؑ بولی، "پروردگار! میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا" جواب ملا، "ایسا ہی ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہنے لگیں الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حاﻻنکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا، فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا کرتا ہے، جب کبھی وه کسی کام کو کرنا جاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا! تو وه ہو جاتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

مریم نے کہا : پروردگار مجھ سے لڑکا کیسے پیدا ہوجائے گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ؟ اللہ نے فرمایا : اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کوئی کام کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ“ ہوجا ”بس وہ ہوجاتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولی اے میرے رب! میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب، کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(مریم علیہا السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا درآنحالیکہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا، ارشاد ہوا: اسی طرح اﷲ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، جب کسی کام (کے کرنے) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس سے فقط اتنا فرماتا ہے کہ ’ہو جا‘ وہ ہو جاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، حالانکہ کسی بشر نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا ؟ فرمایا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مریم کہنے لگی : پروردگار ! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا جب کہ مجھے کسی آدمی نے چھوا تک نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا : ایسا ہی ہوگا، اللہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ تو جب کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اسے کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولی کہ اے میرے پروردگار میرے کس طرح لڑکا ہوگا جب کہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ارشاد ہوا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب وہ کسی امر کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مریم نے (اس پر بطور تعجب) عرض کیا کہ اے میرے رب، میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح ہوگا، جب کہ مجھے کسی بشر نے چھوا بھی نہیں، (اس پر ان کو) جواب ملا کہ ایسے ہی ہوگا، اللہ (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) جو چاہتا ہے پیدا فرما ہے، وہ جب کسی کام (کے کرنے) کا فیصلہ فرما دیتا ہے تو اسکو صرف اتنا کہتا ہے کہ " ہوجا " تو وہ ہوجاتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولیں اے میرے پروردگار میرے لڑکا کسی طرح ہوگا درآنحالیکہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا ہے۔ ارشاد ہوا ایسے ہی اللہ پیدا کردیتا ہے جو کچھ وہ چاہتا ہے۔ جب وہ کسی بات کو پورا کرنا چاہتا ہے تو بس اس سے کہتا ہے کہ ہوجا۔ سو وہ ہوجاتی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(حضرت مریم ؑ نے یہ بات سنی تو تعجب سے) بولی : اے اللہ ! میرے اولاد کیسے ہوجائے گی جبکہ مجھے تو کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا ! فرمایا : اسی طرح اللہ تعالیٰ تخلیق فرماتا ہے جو کچھ چاہتا ہے وہ تو جب کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(یہ سن کر) مریم نے کہا : اے رب ! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا، حالانکہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا ؟ جواب ملا ایسا ہی ہوگا اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

She said: 'O my Lord! How shall I have a son when no man has ever touched me?' The angel answered: Thus shall it be. Allah creates whatever He wills. When He decides something, He merely says: "Be" and it is.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

She said: :O my Lord, how shall I have a son while no human has ever touched me? Said He: :That is how Allah creates what He wills. When He decides a matter, He simply says to it _Be‘, and it comes to be.

— Muhammad Taqi Usmani

She said: :O my Lord, how shall I have a son while no human has ever touched me? Said He: :That is how Allah creates what He wills. When He decides a matter, He simply says to it _Be‘, and it comes to be.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

She said: "O my Lord! How shall I have a son when no man has touched me." He said: "So (it will be) for Allah creates what He wills. When He has decreed something, He says to it only: `Be! ـ and it is."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

She said: My Lord! How can I have a child when no mortal hath touched me? He said: So (it will be). Allah createth what He will. If He decreeth a thing, He saith unto it only: Be! and it is.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

She said, "My Lord, how will I have a child when no man has touched me?" [The angel] said, "Such is Allah; He creates what He wills. When He decrees a matter, He only says to it, 'Be,' and it is.

— Saheeh International

(Mary) said, "How can there be a son for me when no mortal has touched me?" The angel replied, "That is how God creates whatever He wants. When He decides to do something He just orders it to exist and it comes into existence."

— Muhammad Sarwar

She said: My Lord! when shall there be a son (born) to I me, and man has not touched me? He said: Even so, Allah creates what He pleases; when He has decreed a matter, He only says to it, Be, and it is.

— Muhammad Habib Shakir

She said: my Lord! in what wise shall there be unto me a son whereas no human being hath touched me. Allah said: even so. Allah createth whatsoever He will, When He hath decreed a thing, He only saith to it: Be, and it becometh;

— Abdul Majid Daryabadi

She said: "O my Lord! How shall I have a son when no man hath touched me?" He said: "Even so: Allah createth what He willeth: When He hath decreed a plan, He but saith to it, 'Be,' and it is!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–47

مسیح ابن مریم ؑ یہ خوشخبری حضرت مریم کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہوگا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ " کن " کے کہنے سے ہوگا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت (مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ) 3۔ آل عمران :39) کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گذر چکا، اس کا نام مسیح ہوگا، عیسیٰ بیٹا مریم ؑ کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 45–47

سورة اٰلِ عِمْرٰن 44 یعنی باوجود اس کے کہ کسی مرد نے تجھے ہاتھ نہیں لگایا، تیرے ہاں بچہ پیدا ہوگا۔ یہی لفظ کَذٰلِکَ (ایسا ہی ہوگا) حضرت زکریا کے جواب میں بھی کہا گیا تھا۔ اس کا جو مفہوم وہاں ہے وہی یہاں بھی ہونا چاہیے۔ نیز بعد کا فقرہ بلکہ پچھلا اور اگلا سارا بیان اسی معنی کی تائید کرتا ہے کہ حضرت مریم ؑ کو صنفی مواصلت کے بغیر بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی اور فی الواقع اسی صورت سے حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش ہوئی۔ ورنہ اگر بات یہی تھی کہ حضرت مریم ؑ کے ہاں اسی معروف فطری طریقہ سے بچہ پیدا ہونے والا تھا جس طرح دنیا میں عورتوں کے ہاں ہوا کرتا ہے، اور اگر حضرت عیسیٰ کی پیدائش فی الواقع اسی طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–47

خلاصہ تفسیر حضرت مریم (علیہا السلام) بولیں اے میرے پروردگار کس طرح ہوگا میرے بچہ حالانکہ مجھ کو کسی بشر نے (صحبت کے طور پر) ہاتھ نہیں لگایا (اور کوئی بچہ جائز طریق سے عادۃ بدون مرد کے پیدا نہیں ہوتا، تو معلوم نہیں کہ ویسے ہی محض قدرت خداوندی سے بچہ ہوگا یا مجھ کو نکاح کا حکم کیا جائے گا) اللہ تعالیٰ نے (جواب میں فرشتے کے واسطے سے) فرمایا ایسے ہی (بلا مرد کے) ہوگا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ جو چاہیں پیدا کردیتے ہیں (یعنی کسی چیز کے پیدا ہونے کے لئے صرف ان کا چاہنا کافی ہے، کسی واسطہ یا سبب خاص کی ان کو حاجت نہیں، اور ان کے چاہنے کا طریقہ یہ ہے کہ) جب کسی چیز کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو اس کو کہہ دیتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 40 کے تحت اس آیت کے اہم اجزا کی وضاحت گزر چکی ہے۔ البتہ اس میں اس کلمہ کی وضاحت بھی ہوگئی ہے جس سے حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی۔ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (اللہ جب کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس کو حکم دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے)

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

47۔ 1 تیرا تعجب بجا لیکن قدرت الٰہی کے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے وہ تو جب چاہے اسباب عادیہ و ظاہریہ کا سلسلہ ختم کر کے حکم کن سے پلک جھپکتے میں جو چاہے کر دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

20: یہ سب معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ان کی نبوت کے ثبوت کے طور پر عطا فرمائے تھے اور آپ نے ان کا عملی مظاہرہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

مریم کنواری تھیں ‘ اس کی زندگی پاکیزہ تھی ‘ اس کی سوچ بابت ولادت ایسی ہی تھی جس طرح ماحول میں وہ دیکھ رہی تھی ‘ اس نے اس بشارت کو اسی طرح لیاجس طرح ایک جوان لڑکی اسے سمجھ سکتی ہے ‘ وہ فوراً اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئیں ‘ استدعا کی کہ یہ معملہ ان کے فہم کے لئے ناقابل حل ہے ۔ اس کی عقل حیران ہے ۔ قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ……………” میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا ‘ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا ۔ “………اس کا انہیں فوراً جواب دیا گیا ‘ اس جواب میں انہیں ایک سادہ سی حقیقت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ جسے انسان روز مرہ زندگی میں سلسلہ اسباب ومسببات کے ساتھ عادی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 معلوم ہوا کہ وہ بشارت سے یہ ہی سمجھیں کہ لڑکا بحالت موجودہ ہونیوالا ہے۔ ورنہ تعجب کا کیا موقع تھا۔ 2 یعنی اسی طرح بدون مس بشر کے ہوجائے گا۔ خلاف عادت ہونے کی وجہ سے تعجب نہ کر حق تعالیٰ جو چاہے اور جس طرح چاہے پیدا کر دے اسکی قدرت کی حد بندی نہیں ہوسکتی۔ ایک کام کا ارادہ کیا اور ہوگیا۔ نہ وہ مادہ کا محتاج نہ اسباب کا پابند۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 47 قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ ط قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ط وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین فطرت کا پابند نہیں ہے۔ اگرچہ عام ولادت اسی طرح ہوتی ہے کہ اس میں باپ کا بھی حصہ ہوتا ہے اور ماں کا بھی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ ان اسباب اور وسائل و ذرائع کا محتاج نہیں ہے ‘ وہ جیسے چاہے پیدا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 46–47

47 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گہوارہ میں تین بچوں کے سوا کسی بچہ نے بات نہیں کی۔ ان میں سے ایک عیسیٰ ابن مریم ہیں۔ دوسرے بنی اسرائیل سے جریج راہب جس پر حرامی بچہ کی نسبت تہمت لگائی تھی : اس نے بول کر اپنے اصلی باپ کا نام بتلا دیا۔ تیسرے وہ بچہ جس نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر کہا تھا یا اللہ ! مجھے اس ظالم سوار کی طرح نہ کرنا۔ (بخاری، کتاب، الانبیائ، باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم اذا نتبذت من اھلھا) اور مہد (گود) میں کلام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ ابھی گود میں ہو، شیر خوار ہو اور وہ کلام کرنے کی عمر کو نہ پہنچا ہو، نہ ہی ابھی اس نے کلام کرنا سیکھا ہو اور کھلا کا مطلب پختہ عمر ہے یعنی حضرت عیسیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

،119 ۔ (بہ طریق مواصلت) حسب بیان انجیل حضرت مریم (علیہ السلام) کی رخصتی ابھی نہیں ہوئی تھی اور رخصتی کے قبل نامزد شوہر سے خلوت یہودی قانون میں بالکل ممنوع تھی (آیت) ” قالت رب “۔ انجیل میں اس مقام پر ہے کہ ” مریم (علیہ السلام) نے فرشتہ سے کہا “ (لوقا۔ 1:24) قرآن مجید نے اپنے حسب دستور اس موقع پر بھی انجیل کے بیان کی تصحیح کرکے یہ بتادیا کہ مریم (علیہ السلام) کی مخاطبت اب فرشتہ سے نہیں براہ راست حق تعالیٰ سے تھی، اور ہر صاحب نظر پر واضح ہے کہ اس سے مریم (علیہ السلام) کا مرتبہ معرفت و ایمان کتنا بڑھ جاتا ہے۔ (آیت) ” انی یکون لی ولد “۔ فرشتہ کی زبان سے وہ پوری تقریر سن کر اب حضرت مریم (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ۔ تیرا تعجب بجا، لیکن قدرت الہیٰ کے لیے یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ وہ تو جب چاہے اسباب عادیہ ظاہریہ کا سلسلہ ختم کرکے حکم کن سے پلک جھپکنے میں جو چاہے کر دے۔ اِنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْْ مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ ، (الآیۃ) یہاں ” خلق “ پیدائش کے معنی میں نہیں ہے اس پر تو صرف اللہ ہی قادر ہے کیونکہ وہی خالق ہے یہاں اس کے معنی ظاہری شکل و صورت گھڑنے اور بنانے کے ہیں۔ مفسر علام نے اخلق کی تفسیر اصور سے کرکے اسی معنیٰ کی طرف اشارہ کیا ہے حضرت عیسیٰ نے خفّاش (چمگادڑ) کی مٹی کی صورت بنائی مشہور ہے کہ چمگاڈر اکمل طیور میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ : مریم نے کہا اے رب ! میرے بچہ کیسے ہوگا مجھے تو کسی مرد نے نہیں چھوا۔ مریم ( علیہ السلام) نے یہ بات اظہار تعجب وحیرت کے طور پر کہی تھی یا یہ دریافت کرنا مقصود تھا کہ نکاح کے بعد بچہ پیدا ہوگا یا یونہی بغیر مرد کے۔ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭ : اللہ نے جبرائیل کی زبان سے فرمایا یونہی (بچہ ہوگا ) ۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا : جب وہ کسی چیز کے ہونے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ : تو اس چیز کے ہونے کا حکم دیدیتا ہے بس فوراً وہ چیز ہوجاتی ہے یعنی جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(47) حضرت مریم ؑ نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرا لڑکا ہوگا جب کہ کسی بشر نے جائز یا ناجائز طریقہ پر مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا تب اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کے واسطہ سے کہا جیسا تم سے کہا گیا، تم اسی طرح یقین رکھو اسی طرح ہوگا (جیسے وہ مصور حقیقی چاہے گا) جب اللہ تعالیٰ تم سے بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا چاہے گا تو کن کہتے ہی وہ پیدا ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ ۭ: مریم [ کو جب لڑکے کی خوشخبری دی گئی تو انھوں نے تعجب کا اظہار کیا، تعجب کا اظہار اس کے ناممکن ہونے پر نہیں بلکہ کس طرح ہونے پر کیا، کیونکہ ظاہری اسباب موجود نہیں۔ کہنے لگیں، مجھے تو آج تک کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا، پھر میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا ! ؟ فرمایا : ”اللہ اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔“ زکریا ؑ کے قصے میں ”يَفْعَلُ“ اور یہاں ”يَخْلُقُ“ فرمایا۔ پہلا لفظ عام ہے، کیونکہ وہاں میاں بیوی دونوں موجود تھے، گو بوڑھے تھے۔ ”يَخْلُقُ“ خاص ہے، کیونکہ مرد کے بغیر اسباب ہی مکمل نہیں۔ مزید دیکھیے سورة مریم (20، 21)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 47۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” قالت رب “ مریم بولیں اے میرے سردار، آپ حضرت جبریل (علیہ السلام) کو خطاب کر رہی ہیں، کیونکہ جب وہ اس کے پاس انسانی شکل میں آئے اور اسے کہا : بلاشبہ میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ وہ تجھے ایک پاکیزہ کو برو بچہ عطا فرمائے تو جب مریم نے ان کا یہ قول سنا تو آپ نے ان سے بچہ کے طریقہ کے بارے پوچھا اور کہا : میرے ہاں بچہ کیوں کر ہو سکتا ہے حالانکہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا ؟ یعنی نکاح کے ساتھ (سورۃ مریم میں ہے) (آیت) ” ولم اک بغیا “۔ (مریم) (اور نہ میں بدچلن ہوں) انہوں نے یہ بطور تاکید ذکر کیا ہے، کیونکہ ان کا یہ قول (آیت) ” لم یمسسنی بشر “۔ (مجھے کسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–48

(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویعلمہ الکتب “ سے مراد ہے قلم کے ساتھ لکھنا سکھائے گا۔ (2) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویعلمہ الکتب “ سے مراد ہے کہ وہ ہاتھ سے لکھنا سکھائے گا۔ (3) ابن المنذر نے صحیح سند کے ساتھ سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) سمجھ دار ہوگئے تو ان کی ماں نا کو لے کر کتاب (لکھنے پڑھنے والے) کے پاس آئی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس کے سپرد کردیا تو اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہہ تو ” بسم اللہ “ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ (نام کے ساتھ) معلم نے کہا کہو ” الرحمن “ عیسیٰ (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَتْ : (بی بی مریم نے) کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اَنّٰی : کہاں سے ] [یَکُوْنُ : ہوگا ] [لِیْ : میرے لیے ] [وَلَدٌ : کوئی لڑکا ] [وَّ : اس حال میں کہ ] [لَمْ یَمْسَسْنِیْ : چھوا ہی نہیں مجھ کو ] [بَشَرٌ : کسی بشر نے ] [قَالَ : (فرشتے نے) کہا ] [کَذٰلِکِ : اسی طرح ہی ہے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [یَخْلُقُ : پیدا کرتا ہے ] [مَا : اس کو جس کو ] [یَشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [اِذَا : جب کبھی ] [قَضٰٓی : وہ فیصلہ کرتا ہے ] [اَمْرًا : کسی کام کا ] [فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [یَـقُوْلُ : وہ کہتا ہے ] [لَـہٗ : اس سے ] [کُنْ : تو ہوجا ] [فَـیَکُوْنُ : پس وہ ہوجاتا ہے ] نوٹ : ” کُنْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–48

بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش : حضرت مریم [ کو جو فرشتوں نے بشارت دی اس بشارت کو سن کر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگیں (رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ) (مریم عرض کرنے لگیں کہ اے میرے رب ! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا حال یہ ہے کہ مجھے کسی بھی بشرنے چھوا تک نہیں) سورة مریم میں یہ بھی ہے کہ حضرت مریم نے عرض کیا (وَ لَمْ اَکُ بَغِیًّا) اور نہ میں بدکار ہوں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا (کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ) اللہ تعالیٰ اسی طرح پیدا فرماتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے انسانوں کی پیدائش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–51

تتمہ قصہ حضرت مریم علیہا السلام۔ قال اللہ تعالی، واذ قالت الملائکۃ یا مریم۔۔۔ الی۔۔۔ صراط مستقیم۔ یہاں تک حق جل شانہ نے آل عمران اور آل ابراہیم کے اصطفاء اور ان پر اپنی توجہات و عنایات کے واقعات ذکر فرمائے اب آگے اور قصہ اسی سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں کہ جو درحقیقت حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ تتمہ ہے اس لیے کہ سلسلہ کلام کا آغاز حضرت مریم کے قصہ سے ہوا تھا درمیان میں مناسبت کی وجہ سے ضمنا حضرت زکریا کا قصہ ذکر فرمایا اب آگے پھر حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ ذکر فرماتے ہیں اور وہ دوسرا قصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں کے ایک گروہ نے بالمشافہ حضرت مریم سے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا کہ اپن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–48

66:۔ حضرت مریم چونکہ ابھی کنواری تھیں۔ اور نہایت ہی عفیفہ اور پاکدامن تھیں۔ اس لیے یہ خوشخبری سن کر تعجب اور حیرت سے بولیں کہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ میرے بیٹا کس طرح پیدا ہوگا۔ 67 اس پر فرشتے نے کہا کہ تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ظاہری اسباب کے بغیر جو چاہتا ہے پیدا کرلیتا ہے۔ اس کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں۔ جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو بس اس کام کے مکمل ہوجانے کے لیے صرف اس کا ارادہ ہی کافی ہوتا ہے۔ وَیُعَلِّمُهٗ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاة وَالْاِنْجِیْلَ ۔ یہ بھی فرشتے کا مقولہ ہے اور یُبَشِّرُکَ پر معطوف ہے۔ فرشتے نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ اس ہونے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–48

ربط آیات : گذشتہ درس میں حضرت مریم کے کچھ مناقب بیان ہوئے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم پیغمبر کی پیدائش کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ اور اس ضمن میں انہیں تمام جہان والی عورتوں پر فضیلت بخشی۔ اس کے علاوہ انہیں ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے پاکیزہ بنایا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی عبادت کرنے کی نصیحت کی گئی۔ اور پھر یہ اصول بھی بیان کردیا کہ جو واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔ وہ غیب کی خبروں میں سے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی انبیاء (علیہم السلام) تک پہنچاتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت کی گئی کہ حضرت مریم کی کفالت کے متعلق جب قرعہ اندازی ہو رہی تھی تو اے پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) آپ وہاں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ۝ 0ۭ قَالَ كَذٰلِكِ اللہُ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ۝ 0 ۭ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَہٗ كُنْ فَيَكُوْنُ۝ 47 ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ، ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى.…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–54

1 ؎ یہود میں قدیم دستور تھا کہ وہ جس کو سردار یا برگزیدہ کرتے تھے تو اس وقت کا نبی یا کاہن اس شخص پر زیتون کا تیل مسح کردیتا یعنی مل دیتا تھا۔ اس لئے اس شخص کو مسیح کہتے تھے چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی مقبولیت کا تیل ملا گیا اور اسی قدیم عزت پر ان کا لقب مسیح مشہور ہوا اور یشوع عبرانی میں ان کا نام ہے جو عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔ چونکہ لقب زیادہ مشہور تھا اس لئے اس کو نام سے پہلے ذکر کیا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی یَـکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ ط قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَایَشَآئُ ط اِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَـقُوْلُ لَـہٗ کُنْ فَیَـکُوْنُ ۔ (فرشتوں کی خوشخبری سن کر حضرت مریم نے) کہا : اے میرے پروردگار ! میرے یہاں لڑکا کس طرح ہوگا جبکہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا ؟ اللہ نے فرمایا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب وہ کسی عمل کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے) (47) یہ بعینہٖ ویسا ہی سوال ہے جیسا حضرت زکریا (علیہ السلام) نے کیا تھا کہ میں بوڑھا کھوسٹ ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ ہم دونوں اولاد پیدا کرنے کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–47

فہم القرآن ربط کلام : حضرت مریم [ کو ولادت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف، معجزات اور ان کے مشن کا بیان۔ ملائکہ کی گفتگو ابھی جاری تھی کہ حضرت مریم (علیہ السلام) شرمندگی اور گھبراہٹ کے عالم میں فرشتوں کی بجائے اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگیں کیونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دے رہے تھے۔ اے میرے رب ! مجھے کیونکربیٹا ہوگا ؟ جب کہ کسی بشر نے آج تک مجھے چھوا ہی نہیں۔ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ صرف اس کام کے ہوجانے کا حکم دیتا ہے اور وہ کام اسی طرح ہوجا تا ہے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

47: قَا لَتْ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ اِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ (کہا اے میرے رب کیسے ہوگا میرے لیے بچہ حالانکہ مجھے کسی انسان نے نہیں چھوا۔ کہا اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں۔ جب وہ کسی کام کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو کہتے ہیں ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے) یعنی جب وہ کسی چیز کو بنانا چاہتا ہے تو بغیر تاخیر کے بنا ڈالتا ہے۔ لیکن اس کی تعبیر لفظ کُنْ سے فرما کر اشیاء کے بنانے میں سرعت و تیزی کی خبر دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 47۔ : (آیت)” قالت رب “ اے میرے سردار یہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو فرمایا بعض نے کہا کہ یہ کلام عزوجل کو فرمایا (آیت)” انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر “۔ یعنی مجھے کسی مرد نے نہیں چھوا ‘۔ حضرت مریم (علیہا السلام) نے یہ بات بطور تعجب کے کہی کیونکہ عام طور پر تو بچہ پیدا ہوتا ہے والد کے ساتھ جبکہ میں نے تو نکاح ہی نہیں کیا (آیت)” قال کذلک اللہ یخلق مایشاء اذا قضی امرا “۔ جب کسی چیز کا ارادہ کرلیتا ہے ۔ (آیت)” فانما یقول لہ کن فیکون “ جس چیز کا تو ارادہ کرتا ہے وہ ہوجاتا ہے (آیت)” کذلک اللہ یخلق مایشاء “۔ بعض نے کہا یہ قول عطف ہے اس فرمان (آیت)” ان اللہ یبشرک “ پر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–47

(45 ۔ 47) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا پورا قصہ تو سورة مریم میں آئے گا۔ مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے حضرت مریم کو جو دو حیض آئے تھے ان میں سے آخری حیض سے فارغ ہو کر جب وہ سب سے الگ نہانے کو گئیں اور پردہ کر کے نہانے لگیں تو ایک خوبصورت مرد کی شکل میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ان کو نظر آئے۔ حضرت مریم نے ان کو دیکھ کر یہ کہا کہ اے شخص اگر تو پرہیزگار آدمی ہے تو میں تیرے بد ارادہ سے اللہ کی پناہ میں آنا چاہتی ہوں۔ حضرت جبرئیل نے جواب دیا کہ مریم میں تو تیرے رب کی طرف سے تجھ کو ایک بڑی شان کے لڑکے کے پیدا ہونے کی خوش خبری دینے آیا ہوں۔ حضرت مریم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–58

آیت 45-58 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–61

مباہلہ کا جواز قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

105 حضرت مریم کی بےمثال پاک دامنی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے حضرت مریم صدیقہ کی بےمثال پاک دامنی کا ایک عظیم الشان اور بےمثال مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے کہ ان کے لیے قرآن حکیم میں اس امر کی تصریح فرمائی گئی کہ ان کو کسی بشر نے چھوا بھی نہیں تھا : نہ جائز طریقے سے، کہ آپ کا کسی سے نکاح نہیں ہوا تھا، اور نہ ناجائز طریقے سے، کہ آپ کی پاکیزہ ہستی اس طرح کے کسی تصور اور شائبہ سے بھی پاک تھی۔ اس لیے انہوں نے کمال تعجب سے عرض کیا کہ میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح پیدا ہوگا، جبکہ مجھے کسی نے چھوا بھی نہیں۔ اور بچے کی پیدائش اس عالم اسباب و مسببات میں مرد اور عورت کی مباشرت اور باہمی اتصال ہی پر مبنی و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش تشریح : اس آیت کی تشریح درس قرآن سے ماخوذ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب فرشتہ کے ذریعہ حضرت مریم کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری سنائی تو ان کو حیرت ہوئی کہ مجھے تو کسی شخص نے چھوا تک نہیں تو بغیر باپ کے بچہ کی پیدائش کیونکر ممکن ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی وسیع قدرت کا پتہ چلتا ہے وہ مسبب الاسباب ہے ہر کام کا سبب خود ہی پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام چلانے کے لئے قوانین بنارکھے ہیں۔ مثلاً پانی پیاس بجھاتا ہے، آگ جلاتی ہے۔ عورت اور مرد کے ملاپ سے اولاد پیدا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–54

آیات 42- 54 اسرارومعارف واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔ بعض منازل سلوک : صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 حضرت مریم ( علیہ السلام) کو جب لڑکے کی خوشبری دی گئی تو انہوں نے تعجب کا اظہار کیا (انی یکون لی ولد) کہ مجھے تو آج تک کسی مردنے ہاتھ تک نہیں لگا یا پھر میرے ہاں بچہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ؟ اللہ تعالیٰ نے کذالک اللہ الخ فرماکر انہیں تسلی دی یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ مزید دیکھئے (سورت مریم آیت 20 ۔ 21)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:47) انی۔ کیونکر۔ کیسے۔ دیکھو (2:233) قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضاء مصدر۔ قضاء فعلی ہو یا قولی۔ بشری ہو یا الٰہی۔ بہرحال فیصلہ کردینا یا کرلینا۔ کسی بات کے متعلق آخری ارادہ یا حکم یا عمل کو ختم کردینا۔ ضرور مفہوم قضا کے اندر ماخوذ ہے۔ صلات کے اختلاف اور سیاق کی مناسبت سے مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔ بنانا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ حکم جاری کرنا۔ حکم دینا۔ مقدر کرنا۔ قطعی وحی بھیج کر اطلاع دینا۔ مقرر کرنا ۔ حاجت پوری کرکے قطع تعلق کرلینا۔ فارغ ہونا۔ مرجانا۔ مار ڈالنا۔ ان سب معانی کے لئے اس کا استعمال قرآن حکیم میں ہوا ہے۔ یہاں مراد فیصلہ کرنا ہے۔ اذا قضی امرا۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–54

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54 وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–47

کلمہ سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے کن فرما کر بغیر باپ کے پیدا کیا اور ان پر سب سے پہلے ایمان لانے والے اور ان کے تصدیق کرنے والے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عمر میں چھ ماہ بڑے تھے۔ یہ دونوں حضرات خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی والدہ اپنی بہن حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے ملیں تو انہوں نے اپنے حاملہ ہونے پر مطلع کیا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) نے فرمایا :” میں بھی حاملہ ہوں “۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے کہا : ” اے مریم ! (سلام اللہ علیہا) مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میرے پیٹ کا بچہ تمہارے پیٹ کے بچہ کو سجدہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–49

حضرت مسیح (علیہ السلام) کا عہد رسالت : (ف 1) یہودیوں میں جب حضرت مسیح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے ، اس وقت ان کی حالت نہایت بگڑ چکی تھی ، ان میں مادیت کے جراثیم بری طرح سرایت کرچکے تھے اور سرمایہ کا حصول ان کی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین تھا ، وہ دنیا میں سب سے زیادہ مال دار تھے ، اور چاہتے تھے کہ دنیا بھر کے ذخائر وخزائن ان کے پاس جمع رہیں اور ساری دنیا ان کی محتاج ہو ، اس مادیت کے ساتھ ساتھ وہ مذہبیت کے دعوے دار بھی تھے چند رسوم وظواہر کے سوا ان کے پاس اور کچھ نہ تھا ، روحانیت اور اخلاق حمیدہ سے وہ کوسوں دور تھے ۔ اس لئے ان کے ہاں مسیح (علیہ السلام) ایسے روحانی شخص کو بھیجنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 47–48

ف 3۔ اس پر حضرت مریم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ مجھ کو تو کسی آدمی نے چھوا تک بھی نہیں ۔ فرشتے کے واسطے سے جواب دیا گیا کہ اسی طرح بلا مردھ کے تیرے ہاں بچہ ہوگا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یعنی وہ کسی واسطے اور سبب کا محتاج نہیں ہے وہ جب کسی شے کو پورا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اور کسی چیز کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس چیز کو کہتا ہے کہ موجود ہوجا بس وہ چیز موجود ہوجاتی ہے۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم نے کیفیت دریافت کی جواب دیا گیا کہ بغیر آدمی کے ہاتھ لگائے اور کسی مرد کی صحبت کئے بغیر ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 45–47

ف 4۔ یعنی کسی چیز کے پیدا ہونے کے لئے صرف ان کا چاہنا کافی ہے کسی واسطہ و سبب خاص کی ان کو حاجت نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدہ مریم نے اس موعود لڑکے کی بشارت پر تعجب کیا ، آخر کیوں ؟ : 111: قبل اس کے کہ اس بات کا جواب دیا جائے کہ سیدہ مریم بیٹے کی بشارت سن کر متعجب کیوں ہوئیں ؟ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا سیدہ مریم (علیہ السلام) بیٹے کی بشارت سن کر ملول خاطر ہوئیں ؟ ہرگز نہیں اس بات کی نفی خود اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مبین میں کردی۔ کیونکہ یہ صرف بیٹا دیئے جانے کی خبر نہیں تھی بلکہ بشارت یا خوشخبری تھی۔ ظاہر ہے کہ خوشخبری اور بشارت کسی انسان کو بھی ملول خاطر نہیں کرتی۔ بلکہ جس بات کو سن کر آدمی کا چہرہ کھل جاتا ہے اور دل خوش ہوتا ہے لطف و سرور روئیں روئیں میں دوڑ جاتا ہے اس کو بشارت یا خوشخبری کا نام دیا جاتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The glad tidings given by the angel (verse 46) regarding the birth of Sayyidna ` Isa without a father surprised Sayyidah Maryam as she was a virgin. She wondered how it would happen. Would that be a Divine miracle or would she be asked to marry a man? The Divine answer eliminates the latter possibility. Not restricted by it, 'Allah creates what He wills', that is, His will is all sufficient to bring some-thing into existence. He needs no medium or cause. It is only His command "be" which makes things come into existence.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–47

44. Thus it was affirmed that a child would be born to Mary despite the fact that no man had touched her. The angel's answer mentioned here, 'Thus shall it be', was exactly the same as the response given to Zechariah. Both the following sentences and the preceding section support the view that the angel had conveyed to Mary the glad tidings that a son would be born to her without normal sexual contact, and it was thus that Jesus was born. For, if Mary's child was to be born to her in the usual manner in which children are born to women, and if the birth of Jesus did take place in the normal…

Read the full tafseer →