Explained with ayahs 45–47
مسیح ابن مریم ؑ
یہ خوشخبری حضرت مریم کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہوگا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ " کن " کے کہنے سے ہوگا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت (مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ) 3۔ آل عمران :39) کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گذر چکا، اس کا نام مسیح ہوگا، عیسیٰ بیٹا مریم ؑ کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
سورة اٰلِ عِمْرٰن 44
یعنی باوجود اس کے کہ کسی مرد نے تجھے ہاتھ نہیں لگایا، تیرے ہاں بچہ پیدا ہوگا۔ یہی لفظ کَذٰلِکَ (ایسا ہی ہوگا) حضرت زکریا کے جواب میں بھی کہا گیا تھا۔ اس کا جو مفہوم وہاں ہے وہی یہاں بھی ہونا چاہیے۔ نیز بعد کا فقرہ بلکہ پچھلا اور اگلا سارا بیان اسی معنی کی تائید کرتا ہے کہ حضرت مریم ؑ کو صنفی مواصلت کے بغیر بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی اور فی الواقع اسی صورت سے حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش ہوئی۔ ورنہ اگر بات یہی تھی کہ حضرت مریم ؑ کے ہاں اسی معروف فطری طریقہ سے بچہ پیدا ہونے والا تھا جس طرح دنیا میں عورتوں کے ہاں ہوا کرتا ہے، اور اگر حضرت عیسیٰ کی پیدائش فی الواقع اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
خلاصہ تفسیر
حضرت مریم (علیہا السلام) بولیں اے میرے پروردگار کس طرح ہوگا میرے بچہ حالانکہ مجھ کو کسی بشر نے (صحبت کے طور پر) ہاتھ نہیں لگایا (اور کوئی بچہ جائز طریق سے عادۃ بدون مرد کے پیدا نہیں ہوتا، تو معلوم نہیں کہ ویسے ہی محض قدرت خداوندی سے بچہ ہوگا یا مجھ کو نکاح کا حکم کیا جائے گا) اللہ تعالیٰ نے (جواب میں فرشتے کے واسطے سے) فرمایا ایسے ہی (بلا مرد کے) ہوگا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ جو چاہیں پیدا کردیتے ہیں (یعنی کسی چیز کے پیدا ہونے کے لئے صرف ان کا چاہنا کافی ہے، کسی واسطہ یا سبب خاص کی ان کو حاجت نہیں، اور ان کے چاہنے کا طریقہ یہ ہے کہ) جب کسی چیز کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو اس کو کہہ دیتے…
Read the full tafseer →سیدنا مسیح کا گہوارے میں بات کرنا حضرت مریم کی پاکدامنی کے اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک معجزہ تھا۔ اس معجزے کی بشارت بچے کی ولادت کی بشارت کے ساتھ ہی حضرت مریم کو اس لیے دے دی گئی کہ وہ مطمئن رہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر اپنی ایک عظیم نشانی کے ظہور کے لیے ان کو واسطہ بتایا ہے تو ان کے ناموس کو اعدا کی بد زبانیوں سے بچانے کے لیے بھی اس نے ایسا انتظام فرمایا ہے کہ کسی تہمت کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے یہ کس طرح ممکن تھا کہ وہ اپنی ایک مومنہ و قانتہ بندی کو ساری خدائی کی تہمتوں کا ہدف بنا دے اور اس کی مدافعت میں کوئی ایسی زبان نہ کھولے جو سب کی…
Read the full tafseer →46۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کے (گہوارے) میں گفتگو کرنے کا ذکر خود قرآن کریم کی سورة مریم میں موجود ہے اس کے علاوہ صحیح حدیث میں دو بچوں کا ذکر اور ہے ایک صاحب جریج اور ایک اسرائیلی عورت کا بچہ (صحیح بخاری) ادھیڑ عمر میں کلام کرنے کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ جب وہ بڑے ہو کر وحی اور رسالت سے سرفراز کئے جائیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ آپ کا قیامت کے قریب جب آسمان سے نزول جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے جو صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے تو اس وقت جو وہ اسلام کی تبلیغ کریں گے وہ کلام مراد ہے۔ (تفسیر ابن کثیر و قرطبی)
Read the full tafseer →19: اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم ؓ کی پاک دامنی واضح کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ ؑ کو معجزے کے طور پر اس وقت بات کرنے کی قدرت عطا فرمائی تھی جب دودھ پیتے بچے تھے اس کا ذکر سورة مریم (29 تا 33) میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
حضرت مریم (علیہ السلام) اپنی پاکیزگی ‘ اپنی یکسوئی اور اپنی پیہم عبادت گزاری کی وجہ سے اس بات کی اہل ہوئیں کہ وہ اس کے اس فعل کو قبول کرسکیں اور اس عظیم واقعہ کے لئے تیار ہوسکیں ۔ اور دیکھئے اب وہ تیار ہیں اور اب ملائکہ ان کے ساتھ ہمکلام ہورہے ہیں ۔ انہیں اطلاع دی جاتی ہے ۔
إِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلا وَمِنَ الصَّالِحِينَ
” اور جب فرشتوں نے کہا ” اے مریم ! اللہ تجھے ایک فرمان کی خوشخبری دیتا ہے ۔…
Read the full tafseer →11 یعنی نہایت شائستہ اور اعلیٰ درجہ کے نیک ہونگے اور اول ماں کی گود میں پھر بڑے ہو کر عجیب و غریب باتیں کرینگے۔ ان الفاظ سے فی الحقیقت مریم کی پوری تسکین کردی گئی۔ گزشتہ بشارات سے ممکن تھا یہ خیال کرتیں کہ وجاہت تو جب کبھی حاصل ہوگی مگر یہاں تو ولادت کے بعد ہی طعن وتشنیع کا ہدف بننا پڑے گا۔ اسوقت براءت کی کیا صورت ہوگی۔ اس کا جواب دیدیا کہ گھبراؤ نہیں، تم کو زبان ہلانے کی ضرورت نہ پڑے گی، بلکہ تم کہہ دینا کہ میں نے آج روزہ رکھ چھوڑا ہے کلام نہیں کرسکتی۔ بچہ خود جواب دہی کرے گا جیسا کہ سورة " مریم " میں پوری تفصیل آئے گی۔ بعض محرفین نے کہا ہے کہ ( وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا…
Read the full tafseer →آیت 46 وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْْمَہْدِ وَکَہْلاً
کہولت چالیس برس کے بعد آتی ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع سماوی 33 برس کی عمر میں ہوگیا تھا۔ گویا اس آیت کا تقاضا ابھی پورا نہیں ہوا ہے۔ اور اس سے اندازہ کر لیجیے کہ یہ بات کہنے کی ضرورت کیا تھی ؟ پوری عمر کو پہنچ کر تو سبھی بولتے ہیں ‘ یہاں اس کا اشارہ کیوں کیا گیا ؟ اس لیے تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر موت ابھی وارد نہیں ہوئی ‘ بلکہ وہ واپس آئیں گے ‘ دنیا میں دوبارہ اتریں گے ‘ پھر ان کی کہولت کی عمر بھی ہوگی۔ وہ شادی بھی کریں گے ‘ ان کی اولاد بھی ہوگی اور ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نظام خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
47 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گہوارہ میں تین بچوں کے سوا کسی بچہ نے بات نہیں کی۔ ان میں سے ایک عیسیٰ ابن مریم ہیں۔ دوسرے بنی اسرائیل سے جریج راہب جس پر حرامی بچہ کی نسبت تہمت لگائی تھی : اس نے بول کر اپنے اصلی باپ کا نام بتلا دیا۔ تیسرے وہ بچہ جس نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر کہا تھا یا اللہ ! مجھے اس ظالم سوار کی طرح نہ کرنا۔ (بخاری، کتاب، الانبیائ، باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم اذا نتبذت من اھلھا)
اور مہد (گود) میں کلام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ ابھی گود میں ہو، شیر خوار ہو اور وہ کلام کرنے کی عمر کو نہ پہنچا ہو، نہ ہی ابھی اس نے کلام کرنا سیکھا ہو اور کھلا کا مطلب پختہ عمر ہے یعنی حضرت عیسیٰ نے…
Read the full tafseer →،118 ۔ (نہ کہ معاذ اللہ ساحر یا شعبدہ باز یا بداخلاق جیسا کہ یہود نے افتراء کر رکھا ہے) لیکن بایں عظمت واجلال بہرحال دوسرے ہی بندگان صالح کی طرح ہوں گے۔ (آیت) ” من الصلحین “ نہ کہ ان سے مافوق کچھ اور جیسا کہ مسیحیوں نے اپنے دل سے ٹھہرا لیا ہے۔ (آیت) ” یکلم الناس “ اس سے اشارہ نکلتا ہے آپ کے جوش تبلیغ کی جانب۔ لوگوں سے آپ کی گفتگو قصہ کہانی کی نہیں، یقیناً توحید وتصحیح عقائد ہی پر ہوگی۔ انجیلوں سے بھی جتنی شہادتیں ملتی ہیں سب سے تائید آپ کے جوش تبلیغ ہی کی ہوتی ہے۔ (آیت) ” فی المھد “۔ یعنی بالکل بچپن سے۔ یا اس سن سے جو گہوارہ میں لیٹے رہنے کا ہوتا ہے۔ ای طفلا (کشاف) حال، کونہ طفلا (بیضاوی)…
Read the full tafseer →یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلاً وَّمِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ مہد (گہوارہ) میں کلام کرنے کا مقصد تو صاف ہے کہ شیر خوارگی کے زمانہ میں اعجازی طور پر یا معنیٰ کلام کریں گے۔ کہولت (ادھیڑ عمر) میں بات کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ ادھیڑ عمر میں تو سب ہی بات کرتے ہیں۔
اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ مقصد تو حالت شیرخوارگی کے کلام کا بیان کرتا ہے اس کے ساتھ بڑی عمر میں کلام کرنے کو اس لیے لایا گیا ہے کہ جس طرح انسان بڑی عمر میں عاقلانہ دانشمندانہ کلام کرتا ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بچپن میں ہی ایسا کلام کیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جب آسمانوں پر اٹھایا گیا تھا تو اس وقت…
Read the full tafseer →وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ : اور پالنے میں لوگوں سے باتیں کرے گا یعنی شیر خوارگی کی حالت میں کلام کرے گا۔
وَكَهْلًا : اور درمیانی عمر کی حالت میں بھی لوگوں سے باتیں کرے گا۔ جیسے دوسرے انبیاء کرتے ہیں یعنی اس کے کلام کے لیے اوّل آخر عمر کا کوئی فرق نہیں ہوگا۔ وہ متوسط عمر کی طرح شیر خوارگی میں بھی باتیں کرے گا۔ اس جملہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ سن کہولت کو پہنچنے سے پہلے اس کی وفات نہیں ہوگی اور کہولت سے اس کی عمر آگے نہیں بڑھے گی حسن بن فضل نے کہا یعنی آسمان سے اترنے کے بعد وہ کلام کرے گا کیونکہ آپ کو سن کہولت سے پہلے آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا (اس لیے آسمان پر اٹھانے سے پہلے بحالت کہولت…
Read the full tafseer →(46) اور وہ گہوارہ (ماں کی گود) میں بھی جب کہ وہ چالیس دن کے ہوں گے تب بھی اور پھر نبوت ملنے کے بعد ایک ہی جیسا کلام کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
اِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ : اس آیت میں عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ قرار دیا گیا ہے، اس کی وضاحت آیت (38) کے فوائد میں گزر چکی ہے۔ فرشتوں نے مریم [ سے بالمشافہہ یہ بات کی، جیسا کہ سورة مریم (17) میں ہے کہ جبریل ؑ انسانی شکل میں ان سے ہم کلام ہوئے۔
”الْمَسِيْحُ“ لفظ ”مَسَحَ“ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہاتھ پھیرنے یا زمین کی مساحت کے ہیں۔ لہٰذا عیسیٰ ؑ کو مسیح یا تو اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بیماروں اور کوڑھیوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور وہ تندرست ہوجاتے تھے، یا اس بنا پر کہ آپ ہر وقت زمین میں سفر کرتے رہتے تھے۔ (ابن کثیر)
یہاں مسیح ؑ کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں : 1 ”وَجِيْهًا“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت نمبر : 45 تا 46
یہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی نبوت کی دلیل ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، اور (آیت) ” اذ یختصمون “ کے متعلق ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ (آیت) ’ وما کنت لدیھم “۔ کے متعلق ہو (آیت) ” بکلمۃ منہ “ ابو السمان نے اسے بکلمۃ منہ پڑھا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ (آیت) ” اسمہ المسیح “۔ اس میں اسمھا نہیں فرمایا کیونکہ کلمۃ بمعنی ولد ہے، اور المسیح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا لقب ہے، اور اس کا معنی صدیق ہے، حضرت ابراہیم نخعی نے یہی کہا ہے اور یہ معرب الفاط میں سے ہے اور اس میں اصل شین ہے اور وہ مشترک ہے۔
ابن فارس نے کہا ہے : مسیح کا معنی پسینہ ہے اور المسیح کا معنی الصدیق ہے اور مسیح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
(1) ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات حضرت ابن عباس ؓ سے پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا ” المھد “ سے مراد ہے کہ بچے کے لیٹنے کی جگہ دودھ پینے کے زمانہ میں۔
پنگھوڑے میں صرف بچوں نے بات کی
(2) بخاری ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پنگھوڑے میں صرف تین بچوں نے بات کی ہے عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور ایک آدمی جو بنی اسرائیل میں تھا جس کو جریج کہا جاتا تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا اس کی ماں آئی اس نے اس کو پکارا تو کہنے لگا کہ میں اس کو جواب دوں یا نماز پڑھوں ؟ (جب اس نے جواب نہ دیا) تو اس کی ماں نے کہا اے اللہ ! یہ نہ مرے یہاں تک…
Read the full tafseer →[وَیُکَلِّمُ : اور وہ کلام کریں گے ] [النَّاسَ : لوگوں سے ] [فِی الْمَهْدِ : گہوارے میں ] [وَکَہْلاً : اور ادھیڑ عمر ہوتے ہوئے ] [وَّمِنَ الصّٰلِحِیْنَ : اور (وہ ہوں گے) صالحین میں سے ]
نوٹ : یہاں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دو معجزوں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ وہ گہوارے میں لوگوں سے کلام کریں گے۔ دوسرا یہ کہ ادھیڑ عمری کی حالت میں کلام کریں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ دودھ پیتے بچے کا کلام کرنا تو معجزہ ہے ‘ لیکن ادھیڑ عمری میں تو ہر شخص کلام کرتا ہے۔ اس کو معجزے کے طور پر بیان کرنے کا کیا مطلب ہے ؟
یہ بات سب مانتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کے عقیدہ کے مطابق پھانسی دیے جانے کے وقت اور اسلامی عقیدے کے مطابق…
Read the full tafseer →فِی الْمَھْدِ وَ کَھْلًا :
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مزید فرمایا (وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَ کَھْلًا) (کہ اے مریم تمہارے جو یہ لڑکا پیدا ہوگا۔ گہوارہ میں اپنے بچپن میں بات کرے گا۔ اور بڑی عمر میں بھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ سورة مریم کے دوسرے رکوع میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ جب ان کی ولادت ہوگئی اور ان کی والدہ ان کو اٹھا لائیں تو لوگوں نے کہا کہ اے مریم تم نے یہ بڑے غضب کا کام کیا۔ اس وقت انہوں نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کردیا اور کہنے لگے کہ ہم اس سے کیا بات کریں جو گہوارہ میں ہے بچہ ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے کہ (اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
تتمہ قصہ حضرت مریم علیہا السلام۔
قال اللہ تعالی، واذ قالت الملائکۃ یا مریم۔۔۔ الی۔۔۔ صراط مستقیم۔
یہاں تک حق جل شانہ نے آل عمران اور آل ابراہیم کے اصطفاء اور ان پر اپنی توجہات و عنایات کے واقعات ذکر فرمائے اب آگے اور قصہ اسی سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں کہ جو درحقیقت حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ تتمہ ہے اس لیے کہ سلسلہ کلام کا آغاز حضرت مریم کے قصہ سے ہوا تھا درمیان میں مناسبت کی وجہ سے ضمنا حضرت زکریا کا قصہ ذکر فرمایا اب آگے پھر حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ ذکر فرماتے ہیں اور وہ دوسرا قصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں کے ایک گروہ نے بالمشافہ حضرت مریم سے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا کہ اپن…
Read the full tafseer →65:۔ یہ بھی فرشتے کا کلام ہے یعنی وہ بچہ شیر خوارگی کے زمانہ میں بھی باتیں کرے گا اور بڑھاپے میں بھی اور صالحین میں سے ہوگا شیر خوارگی کے زمانہ میں باتیں کرنا تو ایک معجزہ تھا۔ اس لیے اس کا ذکر کرنے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے مگر بڑھاپے میں باتیں کرنا تو کوئی کمال نہیں پھر اس کے ذکر کی آخر کیا وجہ ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عمر 33 برس کی ہوئی اس وقت اللہ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ چناچہ ابھی تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر ہیں اور ان کا کہولت میں باتیں کرنا ابھی باقی ہے کیونکہ کہولت چالیس سال کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔ اس لیے وہ آسمان سے اتریں گے اور دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
ربط آیات : گذشتہ درس میں حضرت مریم کے کچھ مناقب بیان ہوئے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم پیغمبر کی پیدائش کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ اور اس ضمن میں انہیں تمام جہان والی عورتوں پر فضیلت بخشی۔ اس کے علاوہ انہیں ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے پاکیزہ بنایا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی عبادت کرنے کی نصیحت کی گئی۔ اور پھر یہ اصول بھی بیان کردیا کہ جو واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔ وہ غیب کی خبروں میں سے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی انبیاء (علیہم السلام) تک پہنچاتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت کی گئی کہ حضرت مریم کی کفالت کے متعلق جب قرعہ اندازی ہو رہی تھی تو اے پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) آپ وہاں…
Read the full tafseer →وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَہْدِ وَكَہْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ 46
كلم
الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها،
( ک ل م ) الکلم ۔
یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔
مهد
المَهْدُ : ما يُهَيَّأُ للصَّبيِّ. قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
1 ؎ یہود میں قدیم دستور تھا کہ وہ جس کو سردار یا برگزیدہ کرتے تھے تو اس وقت کا نبی یا کاہن اس شخص پر زیتون کا تیل مسح کردیتا یعنی مل دیتا تھا۔ اس لئے اس شخص کو مسیح کہتے تھے چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی مقبولیت کا تیل ملا گیا اور اسی قدیم عزت پر ان کا لقب مسیح مشہور ہوا اور یشوع عبرانی میں ان کا نام ہے جو عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔ چونکہ لقب زیادہ مشہور تھا اس لئے اس کو نام سے پہلے ذکر کیا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
اِذْقَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْـہُ صلے ق اسْمُہٗ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ۔ لا وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ وَکَہْلاً وَّمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔
(اس وقت کو یاد کرو ! جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے، اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں وجاہت والا ہوگا اور اللہ کے مقربین میں سے ہوگا۔ اور وہ لوگوں سے کلام کرے گا گہوارے میں بھی اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وہ نیکو کاروں میں سے ہوگا) (45 تا 46)
سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت مریم [ کو ولادت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اوصاف، معجزات اور ان کے مشن کا بیان۔
ملائکہ کی گفتگو ابھی جاری تھی کہ حضرت مریم (علیہ السلام) شرمندگی اور گھبراہٹ کے عالم میں فرشتوں کی بجائے اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگیں کیونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دے رہے تھے۔ اے میرے رب ! مجھے کیونکربیٹا ہوگا ؟ جب کہ کسی بشر نے آج تک مجھے چھوا ہی نہیں۔ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ صرف اس کام کے ہوجانے کا حکم دیتا ہے اور وہ کام اسی طرح ہوجا تا ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →کلام مہد و سہولت :
46: وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ، وَیُکَلِّمُ النَّاسَ (وہ لوگوں سے پنگھوڑے میں کلام کرے گا اور کہولت میں) الْمَھْدِ ، پنگھوڑا جو بچے کو لٹانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مھد ہے مگر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ وَکَھْلًا اس کا عطف مھد پر ہے یعنی یکلم الناس طفلاً وکھلاً یعنی وہ ان دونوں حالتوں میں یکساں کلام کرے گا۔ جیسا انبیاء ( علیہ السلام) کلام کرتے ہیں طفولیت و کہولت کے کلام میں فرق نہ ہوگا کہو لت وہ زمانہ ہے جس میں عقل پختہ ہوتی اور نبوت ملتی ہے۔ وَّمِنَ الصّٰلِحِیْنَ (اور شائستہ لوگوں میں سے ہوگا) یہ بھی حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے جس کی…
Read the full tafseer →(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات)
(تفسیر) 46۔ :
(آیت)” ویکلم الناس فی المھد “۔ بچپن میں بولنے سے پہلے ، شیرخوارگی میں کلام کرے گا ، جیسا کہ سورة مریم میں ہے (آیت)” قال انی عبداللہ اتانی الکتاب “۔ مجاہد (رح) سے بیان کیا گیا کہ حضرت مریم (علیہا السلام) فرماتی ہیں کہ جب میں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اکیلے ہوتے تو ہم دونوں آپس میں باتیں کرتے رہتے اور جب کوئی انسان ہمارے پاس آجاتا تو وہ میرے پیٹ میں تسبیح بیان کرتے اور میں اس کو سنتی تھی ، ” وکھلا “ رفع الی السماء سے پہلے تمام قوتوں کا مجتمع ہونا۔
حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان سے اترنے کے بعد وہ کلام کرے گا اور بعض نے کہا کہ ہمیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
(45 ۔ 47) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا پورا قصہ تو سورة مریم میں آئے گا۔ مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے حضرت مریم کو جو دو حیض آئے تھے ان میں سے آخری حیض سے فارغ ہو کر جب وہ سب سے الگ نہانے کو گئیں اور پردہ کر کے نہانے لگیں تو ایک خوبصورت مرد کی شکل میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ان کو نظر آئے۔ حضرت مریم نے ان کو دیکھ کر یہ کہا کہ اے شخص اگر تو پرہیزگار آدمی ہے تو میں تیرے بد ارادہ سے اللہ کی پناہ میں آنا چاہتی ہوں۔ حضرت جبرئیل نے جواب دیا کہ مریم میں تو تیرے رب کی طرف سے تجھ کو ایک بڑی شان کے لڑکے کے پیدا ہونے کی خوش خبری دینے آیا ہوں۔ حضرت مریم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–58
آیت 45-58
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ فرشتوں نے حضرت مریم کو عظیم ترین بشارت دی، وہ اللہ کا کلمہ، اس کا بندہ، اس کا رسول، مریم کا بیٹا عیسیٰ ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس لئے کہا گیا کہ آپ اللہ کے ایک کلمہ (اور خصوصی فرمان) کے ذریعے پیدا ہوئے تھے اور آپ کے حالات اسباب سے خارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانی اور عجیب مخلوق بنایا۔ وہ اس طرح کہ اللہ نے جبرئیل کو مریم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے آپ کی قمیض کے گریبن میں پھونک ماری۔ مقدس فرشتے کی یہ مقدس پھونک مریم کے جسم میں داخل ہوگئی جس سے وہ پاک روح پیدا ہوگئی۔ اس وجہ سے آپ روحانی فطرت رکھتے تھے جو روحانی مادے سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
مباہلہ کا جواز
قول بارے ہے (فقل تعالواند ع ابناء نا وایتاء کم ونساء ناونساء کم وانفسنا وانسکم، اے محمد ! ان سے کہو، آؤہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال کو بھی لے آئیں) عیسائیوں کے اس قول کے خلاف کہ حضرت مسیح ابن اللہ ہیں اس آیت سے استدلال پہلے گذرچکا ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جس میں ان کا سردار اورنائب سرداردونوں تھے، حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ ان دونوں نے حضور ﷺ سے سوال تھا کہ آپ نے بن باپ کا کوئی بچہ دیکھا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال کی طرح ہے) حضرت ابن عباس حسن اور قتادہ سے یہی روایت…
Read the full tafseer →104 حضرت عیسیٰ کے زمانہ کہولت کے کلام کا ذکر و فائدہ ؟ : یعنی یہاں پر " مہد " اور " کہولت " کے دو دوروں میں کلام کرنے کا جو ذکر آیا ہے تو اس میں " مہد " یعنی گود اور گہوارے میں کلام کرنا تو ظاہر ہے ایک معجزہ ہے، جس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے نوازا گیا تھا۔ اس لئے اس کے ذکر کا مقصد و مدعا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر کہولت میں کلام کرنا تو کوئی معجزانہ بات نہیں، اس کے ذکر کا مقصد و مدعا کیا ہے ؟ سو اس میں دراصل دو عظیم الشان مطلب اور فائدے مضمر ہیں۔ ایک یہ کہ مہد و کہل کے یکجا ذکر کرنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ آنجناب کی مہد والی گفتگو بھی اتنی معقول اور ٹھوس ہوگی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
حضرت مریم کو بیٹے کی بشارت
تشریح : اس آیت میں حضرت عیسیٰ کی بشارت دی گئی ہے اور ان کو کلمۃ اللہ کہا گیا ہے جس طرح روح القدس جبرئیل (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ کا لقب اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ ان کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی اور یہ صرف اللہ کے حکم سے ہوئی۔ اللہ نے آپ کو عیسیٰ ابن مریم کہہ کر پکارا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ صرف ایک بندہ بشر ہیں کیونکہ آپ کی پیدائش ایک عورت حضرت مریم کے ذریعہ ہوئی۔ تو ظاہر ہوا کہ آپ خود بھی انسان تھے اور آپ کی پیدائش بھی کسی غیر انسانی مخلوق کے ذریعہ سے نہیں ہوئی۔ اس لئے آپ کو محض ایک مقرب نبی ہی مانا جائے۔ نصاریٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–54
آیات 42- 54
اسرارومعارف
واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔
اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔
بعض منازل سلوک :
صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…
Read the full tafseer →ف 6 سورت مریم آیت 30 ۔ 33، میں وہ باتیں بھی مذکور ہیں جو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی پیدا ئش کے بعد مہد میں کیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ماں کی گود میں چار بچوں نے کلام کیا۔ عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) شاہد یوسف م، صاحب جریج اور فرعون کی ماشطہ کے لڑکے نے (فتح البیان )
Read the full tafseer →(3:46) المھد۔ اسم ۔ گہوارہ۔ پنگھوڑا۔ مراد شیر خوارگی کا زمانہ یا ماں کی گود میں ہونے کا زمانہ۔
کہلا۔ باوقار۔ متوسط عمر کا آدمی جس کے کچھ بال سفید اور کچھ سیاہ ہوں۔ عمر کا وہ حصہ جب آدمی کی قوتیں شباب پر ہوں۔
الکہل۔ ادھیڑ عمر کا ۔ تیس سے پچاس سال تک کی عمر والا۔ (المنجد)
یکلم الناس ۔۔ کہلا۔ یعنی پچپن سے لے کر پکی عمر تک حکمت و دانش کی باتیں لوگوں کو بتائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 54
وجیه (باعزت، بلندمرتبہ) المقربین (قریب والے) یکلم (کلام کرے گا، بات کرے گا) المھد (گہوارہ) کھل (بڑی عمر) لم یمسسنی ( مجھے نہیں چھوا مجھے ہاتھ نہیں لگایا) بشر (انسان ، آدمی) قضی (فیصلہ کیا) الطین (مٹی) ھیة (شکل) انفخ (میں پھونکتا ہوں) طیر (پرندہ) ابری (میں اچھا کردیتا ہوں) الابرص (کوڑھی) الاکمه (پیدائشی اندھا) احیٖ (میں زندہ کرتا ہوں) انبئکم (میں تمہیں بتاتا ہوں) تدخرون (تم جمع کرتے ہو، ذخیری کرتے ہو ! ) بیوت (گھروں، (بیت، گھر) حرم (حرام کردیا گیا) احس (محسوس کیا) من انصاری (میرا مددگار کون ہے ؟ ) الحواریون (ہم مجلس (حضرت عیسیٰ کے صحابہ ) انصار اللہ (اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
کلمہ سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے کن فرما کر بغیر باپ کے پیدا کیا اور ان پر سب سے پہلے ایمان لانے والے اور ان کے تصدیق کرنے والے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عمر میں چھ ماہ بڑے تھے۔ یہ دونوں حضرات خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی والدہ اپنی بہن حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے ملیں تو انہوں نے اپنے حاملہ ہونے پر مطلع کیا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) نے فرمایا :” میں بھی حاملہ ہوں “۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے کہا :
” اے مریم ! (سلام اللہ علیہا) مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میرے پیٹ کا بچہ تمہارے پیٹ کے بچہ کو سجدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
[19] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اسی سورة کا حاشیہ 17 صفحہ 561۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو خوشخبری سنائی ہے کہ تیرا بیٹا اللہ کا نبی ہوگا اور اس کا کام لوگوں کی اصلاح وتربیت ہوگا ۔
جھولے میں گفتگو کرنے کا مطلب وہ نہیں جو بعض قرآن نا آشنا لوگوں نے سمجھا ہے کہ وہ معمولی اور عادی گفتگو ہے ، اس لئے کہ مقام بشارت میں اس کا ذکر خصوصیت فاضلہ چاہتا ہے اور پھر ” الناس “ کی طرف تکلم کا انتساب متقاضی ہے کہ اس سے مراد وہ گفتگو ہو جس کا تعلق منصب اصلاح ورشد سے ہے ۔
حدیث میں آتا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے علاوہ تین اور بچوں نے بھی بچپن میں باقاعدہ گفتگو کی ہے ، شاہد یوسف ، صاحب جریج اور ماشتہ صاحب فرعون نے ،
بات یہ ہے کہ انبیاء فطرۃ ملکہ نبوت لے کر…
Read the full tafseer →ف 2۔ اور وہ لوگوں سے گہوارے اور ماں کی گود میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی لوگوں سے کلام کرے گا یعنی حالت رضاعت و طفولیت کے کلام میں اور بڑی عمر کے کلام میں باہم کوئی فرق نہ ہوگا اور وہ ان نیکو کار لوگوں میں سے ہوگا جو صلاح کے انتہائی مرتبہ پر فائز ہوتے ہیں ۔
مطلب یہ ہے کہ وہ صاحب معجزات ہوگا جو بچنے میں بھی لوگوں سے بات چیت کرے گا ۔ مہد اس مقام کو کہتے ہیں جو بچوں کے لئے بنایا جاتا ہے ۔ خواہ ماں کی گود ہو ، یا گہوارہ ہو ۔ جھولا ہو یا پنگورا ہو ۔ صلاح کا مطلب ہم اوپر بیان کرچکے ہیں یعنی صلاح اور نیکو کاری کا بلند سے بلند مرتبہ۔
کہولت میں مفسرین کے کئی قول ہیں عام طور سے کہولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ف 4۔ یعنی کسی چیز کے پیدا ہونے کے لئے صرف ان کا چاہنا کافی ہے کسی واسطہ و سبب خاص کی ان کو حاجت نہیں۔
Read the full tafseer →وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ کَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ 0046 یہ الفاظ تو اس بشارت کے ہیں جو سیدہ مریم کو دی گئی تھی اور جو حرف بہ حرف پوری بھی ہوئی اس جگہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ جو عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ ” وہ لوگوں سے باتیں کریں گے گہوارہ میں بھی اور پختہ عمر میں بھی “ پھر گہوارہ سے مراد ” جھولا “ اور عمر کے لحاظ سے ایک دو دن یا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ شیر خوارگی میں باتیں کریں گے۔ حالانکہ صاف صاف مطلب اس کا یہی نکلتا ہے کہ وہ اس زمانہ میں جس زمانہ میں عام بچے کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں وہ اس مدت عمر میں کھیل کود میں بھی نہیں مصروف ہوں گے بلکہ بڑی عمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
The previous verse (44) appeared parenthetically between the present verses 45 - 46 and verses 42 - 43 and the purpose was to affirm the prophethood of Sayyidna Muhammad ﷺ . The present verse resumes with the story of Sayyidah Maryam which actually pre-pares the ground for a fuller account of the birth, mission and miracles of Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) .
Commentary
One of the qualities of Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) mentioned in this verse is that 'he shall speak in the cradle' which means that he will speak while still a child, although no child has the ability to do so. When soon after…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
44. Thus it was affirmed that a child would be born to Mary despite the fact that no man had touched her. The angel's answer mentioned here, 'Thus shall it be', was exactly the same as the response given to Zechariah. Both the following sentences and the preceding section support the view that the angel had conveyed to Mary the glad tidings that a son would be born to her without normal sexual contact, and it was thus that Jesus was born. For, if Mary's child was to be born to her in the usual manner in which children are born to women, and if the birth of Jesus did take place in the normal…
Read the full tafseer →