Explained with ayahs 42–44
تین افضل ترین عورتیں
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم (علیہما السلام) کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت ان کی دنیا کی بےرغبتی کی شرافت اور شیطانی وسو اس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرمادیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے، صحیح مسلم شریف وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، حضرت مریم بنت عمران اونٹ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
سورة اٰلِ عِمْرٰن 43
یعنی قرعہ اندازی کر رہے تھے۔ اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ حضرت مریم ؑ کی والدہ نے ان کو خدا کے کام کے لیے ہیکل کی نذر کردیا تھا۔ اور وہ چونکہ لڑکی تھیں اس لیے یہ ایک نازک مسئلہ بن گیا تھا کہ ہیکل کے مجاوروں میں سے کس کی سرپرستی میں وہ رہیں۔
Read the full tafseer →(وارکعی مع الراکعین) یہاں ارکعی کے ساتھ مع الراکعین کی قید ذکر کی گئ، لیکن واسجدی کے ساتھ مع السجدین کی قید ذکر نہیں کی گئی، اس سے بظاہر اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ رکوع کرنے میں لوگ عموما اہتمام نہیں کرتے بلکہ معمولی سا جھک کر اٹھ جاتے ہیں، اس قسم کا رکوع قیام کے قریب زیادہ ہوتا ہے، اس لئے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے راکعین کی قید ذکر کر کے لوگوں کے لئے ایک نمونہ بتلادیا کہ تمہارا رکوع کامل رکوع کرنے والوں جیسا ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
تفسیر آیت 42 -43:۔ ’ اصطفاء ‘ کے معنی چھانٹنے اور انتخاب کرنے کے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں اس کا مفہوم اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی بندے کو کسی کار خاص کے لیے منتخب کرلینا ہے۔ حضرت مریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک عظیم نشانی کے ظہور کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ یہ نشانی ایک بہت بڑی خدائی امانت بھی تھی جو ان کے سپرد ہونے والی تھی اور ساتھی ہی ایک عظیم ابتلا بھی۔ یہ چیز اس بات کی مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اس بار امانت کے اٹھانے کے لیے ان کی خاص تربیت فرمائے تاکہ وہ آنے والے مراحل میں حالات کا مقابلہ کرنے کی اہل بن سکیں۔ اسی تربیت کو یہاں ’ تطہیر ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اس اصطفاء کے متعلق تصریح فرمائی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
44۔ 1 آجکل کے اہل بدعت نے نبی کریم ﷺ کی شان میں غلو عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرح عالم الغیب اور ہر جگہ حاضر اور ناظر ہونے کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔ اس آیت سے ان دونوں عقیدوں کی واضح تردید ہوتی ہے۔ اگر آپ نبی ﷺ عالم الغیب ہوتے تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ ہم غیب کی خبریں آپ کو بیان کر رہے ہیں کیونکہ جس کو پہلے ہی علم ہو اس کو اس طرح نہیں کہا جاتا اور اس طرح اور ناظر کو یہ نہیں کہا جاتا کہ آپ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے جب لوگ قرعہ اندازی کے لئے قلم ڈال رہے تھے۔ قرعہ اندازی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت کے اور بھی کئی خواہش مند تھے۔ (ذٰلِكَ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
17: جیسا کے اوپر آیت نمبر : 34 میں ذکر کیا گیا، حضرت مریم ؓ کے والد کی وفات کے بعد ان کی کفالت کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہوا تو اس کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا، اس زمانے میں قرعہ قلموں کے ذریعے ڈالا جاتا تھا اس لئے یہاں قلم ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ……………” اے مریم ! رب کی تابع فرمان بن کر رہ ‘ اس کے آگے سر بسجود ہو ‘ اور جو بندے اس کے سامنے جھکنے والے ہیں ‘ ان کے ساتھ تو بھی جھک ۔ “………یعنی خضوع وخشوع اختیار کر ‘ اللہ کی طاعت و عبادت میں مصروف رہ ‘ اور ایسی زندگی بسر کر جو اللہ سے جڑی ہوئی ہو اور یہ سب کچھ عظیم ذمہ داری ادا کرنے کے لئے ‘ جو آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →6 یعنی خدا نے جب ایسی عزت اور بلند مرتبہ تجھ کو عطا فرمایا تو چاہیے کہ ہمیشہ اخلاص و تذلل کے ساتھ اپنے پروردگار کے آگے جھکی رہے اور وظائف عبودیت کے انجام دینے میں بیش از بیش سرگرمی دکھلائے تاکہ حق تعالیٰ نے تجھے جس امر عظیم کے بروئے کار لانے کا ذریعہ تجویز کیا ہے وہ ظہور پذیر ہو۔
7 جیسے راکعین خدا کے آگے رکوع کرتے ہیں، تو بھی اسی طرح رکوع کرتی رہ۔ یا یہ مطلب ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر اور چونکہ کم از کم رکوع میں امام کے ساتھ شریک ہونے والا اس رکعت کو پانے والا سمجھا جاتا ہے، شاید اس لئے نماز کو بعنوان رکوع تعبیر کیا گیا ہے۔ کما یفہم من کلام ابن تیمیہ فی فتاواہ۔ واللہ اعلم۔ اس تقدیر پر…
Read the full tafseer →آیت 43 یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَا سْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرّٰکِعِیْنَ
یعنی نماز باجماعت کے اندر شریک ہوجایا کرو۔
Read the full tafseer →44 اس آیت سے معلوم ہوا کہ جن ایام میں حضرت مریم ہیکل کے حجرہ میں مقیم رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہا کرتی تھیں ان دنوں فرشتے ان سے ہمکلام ہوا کرتے تھے۔ فرشتوں ہی نے حضرت مریم کو اطلاع دی کہ اس کا پروردگار اس پر کس قدر مہربان ہے اور اس نے حضرت مریم کو سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت اور ترجیح دی ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : مردوں میں تو بہت سے باکمال لوگ ہو گزرے ہیں مگر عورتوں میں کوئی کامل نہیں ہوا۔ بجز مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے۔ (بخاری، کتاب الانبیاء باب قولہ تعالیٰ (وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفٰىكِ عَلٰي نِسَاۗءِ…
Read the full tafseer →113 ۔ آیت ماقبل اگر یہود کے رد میں تھی جنہوں نے مریم (علیہ السلام) کی ذات کو اتہامات کا ہدف بنارکھا تاھ تو یہ آیت یہود ونصاری دونوں کے رد میں ہے۔ یہود کو تو یہ بتایا گیا کہ آپ بڑی عبادت گزار وطاعت شعار خاتون تھیں اور نصرانیوں کو یہ جتلایا گیا کہ مریم (علیہ السلام) نہ (نعوذ باللہ) خدا کی ماں تھیں اور نہ کسی قسم کی دیوی، کہ ان کی پرستش کی جائے یا انہیں کسی درجہ میں بھی شریک عبادت کیا جائے۔ بلکہ ان کی ساری بزرگی وبرگزیدگی تو بس یہ تھی کہ وہ اپنے مالک ومولی کی مخلص پرستار، فرمانبردار اور نہایت درجہ عبادت گزار وطاعت شعار تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
یُبَسِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ حضرت مریم کو بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے وہ بیٹا جس کو بن باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے کلمۃ اللہ کہا گیا ہے مریم اس وقت تک یہودی رسم و رواج کے لحاظ سے ناکت خدا تھیں (غیر شادی شدہ) البتہ آپ کی منگنی آپ کے کفوآل داؤد کے ایک نوجوان یوسف نامی لڑکے سے ہوئی تھی، جن کے یہاں لکڑی کا کام ہوتا تھا، انجیل کا بیان ہے۔
جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرہ تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا جس کی منگنی داؤد کے گھرانے کے ایک شخص یوسف نامی سے ہوئی تھی اور اس کنواری کا نام مریم تھا۔ (لوقاء 28: 27: 1) یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب آپ کی ماں مریم کی منگنی یوسف…
Read the full tafseer →يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ : یعنی اے مریم اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے نماز میں طویل قیام کیا کر۔
وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ : اور جماعت کے ساتھ رکوع و سجدہ کر۔
والراکعین سے مراد ہے نمازیوں کی جماعت۔ الراکعات (رکوع کرنے والیوں کی جماعت) نہیں فرمایا (بلکہ الراکعین یعنی رکوع کرنے والوں کی جماعت فرمایا) کیونکہ (نماز میں) عورتیں مردوں کی تابع ہیں برعکس نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(43) لہٰذا اس چیز کے شکر ادا کرنے کے لیے اپنے پروردگار کی اطاعت کرتی رہو، یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ اس چیز کے شکریہ میں نمازیں خوب لمبی پڑھو اور خشوع و خضوع والی اور نماز والوں کے ساتھ نماز میں رکوع و سجدہ میں یعنی اٹھتے بیٹھتے بھی عبادت میں مصروف رہو۔
Read the full tafseer →وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ : مریم [ چونکہ بیت المقدس کے ساتھ محراب میں رہتی تھیں اور بیت المقدس کی خادمہ تھیں، اس لیے انھیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 43
مراد یہ ہے کہ اے مریم نماز میں قیام طویل کر، یہ مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے، حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے تو اطاعت و عبادت پر دوام اختیار کر قنوت کے بارے تفصیلی گفتگو پہلے گزر چکی ہے، امام اوزاعی نے کا ہے : جب ملائکہ نے انہیں یہ کہا تو وہ نماز میں کھڑی ہوئیں یہاں تک کہ ان کے قدم ورم آلود ہوگئے اور ان سے خون اور پیپ بہنے لگی، (آیت) ” واسجدی وارکعی “۔ یہاں رکوع پر سجود کو مقدم کیا گیا ہے کیونکہ واؤ ترتیب کو ثابت نہیں کرتی اور اس بارے میں اختلاف سورة البقرہ میں اس ارشاد کے تحت گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “۔ پس جب تو کہے : قام زید وعمرو “ تو یہ مراد لینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
(1) ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات حضرت ابن عباس ؓ سے پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا ” المھد “ سے مراد ہے کہ بچے کے لیٹنے کی جگہ دودھ پینے کے زمانہ میں۔
پنگھوڑے میں صرف بچوں نے بات کی
(2) بخاری ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پنگھوڑے میں صرف تین بچوں نے بات کی ہے عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور ایک آدمی جو بنی اسرائیل میں تھا جس کو جریج کہا جاتا تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا اس کی ماں آئی اس نے اس کو پکارا تو کہنے لگا کہ میں اس کو جواب دوں یا نماز پڑھوں ؟ (جب اس نے جواب نہ دیا) تو اس کی ماں نے کہا اے اللہ ! یہ نہ مرے یہاں تک…
Read the full tafseer →[یٰمَرْیَمُ : اے مریم ] [اقْنُتِیْ : آپ فرماں برداری کریں ] [لِرَبِّکِ : اپنے رب کی ] [وَاسْجُدِیْ : اور آپ سجدہ کریں ] [وَارْکَعِیْ : اور آپ رکوع کریں ] [مَعَ الرّٰکِعِیْنَ : رکوع کرنے والوں کے ساتھ ]
Read the full tafseer →وَ ارْکَعِیْ مَعَ الرّٰکِعِیْنَ کی تفسیر :
حضرت مریم [ کے انتخاب اور اصطفاء کا ذکر فرمانے کے بعد اس بات کا ذکر فرمایا کہ فرشتوں نے ان سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کی فرمانبر داری کرنے اور رکوع کرنے اور رکوع سجدہ کرنے کے لیے کہا اس میں سجدہ کا ذکر رکوع سے پہلے ہے اس کی وجہ سے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ پہلی امتوں میں سجدہ رکوع سے پہلے کیا جاتا تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ واو ترتیب کے لیے نہیں مطلق جمع کے لیے ہے پہلی امتوں میں بھی رکوع سجدہ سے پہلے ہی تھا۔ رکوع کے ذکر کے ساتھ مع الراکعین بھی فرمایا اس کے بارے میں حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہٗ تحریر فرماتے ہیں کہ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ بعض یہود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
تتمہ قصہ حضرت مریم علیہا السلام۔
قال اللہ تعالی، واذ قالت الملائکۃ یا مریم۔۔۔ الی۔۔۔ صراط مستقیم۔
یہاں تک حق جل شانہ نے آل عمران اور آل ابراہیم کے اصطفاء اور ان پر اپنی توجہات و عنایات کے واقعات ذکر فرمائے اب آگے اور قصہ اسی سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں کہ جو درحقیقت حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ تتمہ ہے اس لیے کہ سلسلہ کلام کا آغاز حضرت مریم کے قصہ سے ہوا تھا درمیان میں مناسبت کی وجہ سے ضمنا حضرت زکریا کا قصہ ذکر فرمایا اب آگے پھر حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ ذکر فرماتے ہیں اور وہ دوسرا قصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں کے ایک گروہ نے بالمشافہ حضرت مریم سے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا کہ اپن…
Read the full tafseer →ف 62 اس سے معلوم ہوا کہ حضرت مریم اللہ کی طرف سے اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے آگے رکوع اور سجدہ کرنے پر مامور تھیں لہذا وہ معبود اور الہ نہیں ہوسکتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ربط آیات : گذشتہ سے پیوستہ دروس میں حضرت مریم کی ولادت کے متعلق ذکر تھا کہ کس طرح ان کی والدہ نے منت مانی کہ ان کے ہاں لڑکا ہوگا ، تو وہ اسے خدمت دین کے لیے وقف کردیں گی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی منظور تھا۔ کہ لڑکے کی بجائے انہوں نے حضرت مریم کو جنا۔ پھر ان کی کفالت کا ذکر ہوا۔ کہ قرعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ انہوں نے اچھی طرح پر وش شروع کی۔ مگر حضرت مریم کے کمرے میں بےموسم کے پھل دیکھ کر سخت حیران ہوئے۔ پوچھا اے مریم ! یہ کہاں سے آئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ھو من عند اللہ۔ یہ اللہ کے ہاں سے آئے ہیں۔ اس پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو خیال پیدا ہوا۔ کہ جو مالک الملک بےموسم پھل…
Read the full tafseer →يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ 43
قنت
القُنُوتُ : لزوم الطّاعة مع الخضوع، وفسّر بكلّ واحد منهما في قوله تعالی: وَقُومُوا لِلَّهِ قانِتِينَ
[ البقرة/ 238] ، وقوله تعالی: كُلٌّ لَهُ قانِتُونَ [ الروم/ 26] قيل : خاضعون، وقیل :
طائعون، وقیل : ساکتون ولم يعن به كلّ السّكوت، وإنما عني به ما قال عليه الصلاة والسلام : «إنّ هذه الصّلاة لا يصحّ فيها شيء من کلام الآدميّين، إنّما هي قرآن وتسبیح» «1» ، وعلی هذا قيل : أيّ الصلاة أفضل ؟ فقال : «طول القُنُوتِ» «2» أي : الاشتغال بالعبادة ورفض کلّ ما سواه
( ق ن ت ) القنوت
( ن ) کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
یوسف مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ملک مصر میں لے گیا اور وہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوشیار ہوئے۔ جوان ہو کر (جب ہیرودیس بادشاہ نے یہودیہ کی موت کی خبر سنی) تو ملک شام میں آئے۔ ادھر حضرت یحییٰ زکریا کے بیٹے جو ان سے کئی مہینے پہلے پیدا ہوچکے تھے ٗ جوان ہوگئے تھے۔ لوگوں کو تعلیم دیتے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرتے تھے۔ آخر بادشاہ وقت نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ملک یہود کے جلیل اور یروشلم وغیرہ شہروں میں وعظ فرماتے ٗ معجزات دکھاتے رہے لیکن یہود کو ہر روز ان سے عداوت بڑھتی گئی۔ باوجودیکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰـمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰـکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفٰـکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ یٰـمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّـکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ۔
(یاد کرو ! جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہیں خوب پاک کردیا ہے اور تمہیں ترجیح دی ہے دنیا کی عورتوں پر۔ اے مریم ! خلوص سے اپنے رب کی عبادت کرتی رہو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو) (42 تا 43)
حضرت مریم وقت کے ساتھ ساتھ عمر کا سفر طے کرتی گئیں۔ بچپن گزرا، لڑکپن میں داخل ہوئیں، شعور نے آنکھ کھولی، ایک وقت آیا جب اللہ کی رحمت نے انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اب وہ وقت آن پہنچا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ کو پاک، معزز اور اس زمانے کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ چناچہ حضرت مریم [ کے پاس فرشتے حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بیٹے کی خوشخبری کا اشارہ دیتے ہوئے بتلاتے ہیں کہ اس کا لقب مسیح اور نام عیسیٰ بن مریم جو دنیا وآخرت میں نہایت ہی وجیہ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرب بندوں میں ہوگا۔
وَجِیْھاً کا معنیٰ ہے معزز، تروتازہ وہشاش بشاش، نہایت ہی خوبصورت چہرے والا۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول محترم ﷺ معراج سے واپس آکر انبیاء کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں صحابہ کرام ؓ کو تفصیل بتا رہے تھے تو آپ نے…
Read the full tafseer →43: یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَا سْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرّٰ کِعِیْنَ ۔ یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ (اے مریم تو عاجزی کر اپنے رب کیلئے) یعنی ہمیشہ اطاعت گزاری اختیار کر۔ یا نماز میں طویل قیام کر۔ وَ اسْجُدِیْ ( اور تو سجدہ کر) یہ بھی کہا گیا کہ ان کو قیام و سجود کا حکم دے کر نماز ہی کا حکم دینا مقصود ہے۔ کیونکہ یہ دونوں نماز کے ارکان میں سے ہیں پھر انہیں فرمایا گیا۔
مرتبہ جماعت :
وَارْکَعِیْ مَعَ الرّٰ کِعِیْنَ (پھر رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر) یعنی تمہیں نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے یعنی جماعت کے ساتھ یا دوسری تفسیر یہ ہے کہ من جملہ نمازیوں کے ساتھ تو بھی اپنے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 43۔ـ:
(آیت)” یا مریم اقنتی لربک “۔ فرشتوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) سے کہا کہ آپ اپنے رب کی فرمانبرداری کریں ۔
(قنوت کی مختلف تفاسیر)
امام مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ نماز میں قیام کو طویل کریں اپنے رب کے لیے اور قنوت طاعت اور فرمانبرداری کو کہتے ہیں ، بعض نے کہا کہ قنوت طویل قیام کو کہتے ہیں ، امام اوزاعی (رح) فرماتے ہیں جب ملائکہ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو یہ کہا تو یہ نماز میں اتنا طویل قیام کیا کہ ان کے پاؤں کھڑے کھڑے سوجھ گئے خون اور قئی آنے لگی ، (آیت)” واسجدی وارکعی “ سجدہ کو مقدم ذکر کیا کیونکہ ان کی شریعت میں رکوع سے سجدہ مقدم تھا ، بعض ن ے کہا کہ تمام شریعتوں میں رکوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
(42 ۔ 44) ۔ صحیح حدیثوں سے قرعہ کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے 1۔ بنی اسرائیل میں قرعہ ڈالنے کا طریقہ یہ تھا کہ کسی کام میں جب یہ بحث آن پڑتی کہ اس کام کو کون کرے تو وہ لوگ نہر اردن پر جاکر تورات کے لکھنے کے اپنے اپنے قلم بہتے پانی میں ڈالتے تھے۔ جس کا قلم بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہے یا بہنے سے رک کر ٹھہر جائے تو وہی شخص اس کام کو کرتا تھا جب حضرت مریم کی ماں اپنی نذر کے موافق حضرت مریم کو بیت المقدس میں لائیں اور بیت المقدس کے مجاوروں سے اپنا خواب بیان کیا تو سب چاہنے لگے کہ مریم کو ہم پالیں آخر رواج کے موافق قرعہ پر فیصلہ قرار پایا اور حضرت زکریا کا قلم پانی کے بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہا۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت 42-44
اللہ عزوجل حضرت مریم کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انہیں براہ راست مخاطب کر کے فرمایا : (یمریم ان اللہ اصطفک) ” اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا “ (وطھرک) ” اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا “ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ (واصطفک علی نسآء العلمین) ” اور سارے جہان کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا “ پہلے (اصطفاء) ” انتخاب اور برگزیدہ کرنے “ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے اور دوسرے (اصطفاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں…
Read the full tafseer →طویل قیام والی نماز افضل ہے
قول باری ہے (یامریم اقنتی لربک واسجدی وادکعی مع الراکعین، اے مریم ! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ اس کے سامنے سجدہ ریزہوجا اور جھکنے والوں کے ساتھ جھک جا) سعید کا قول ہے۔ اپنے رب کے لیے مخلص ہوجا۔ قتادہ کا قول ہے۔ ہمیشہ اپنے رب کی اطاعت پر کمربستہ رہ۔ مجاہد کا قول ہے۔ نماز میں طویل قیام کر۔ قنوت کے اصل معنی کسی چیزپردوام کرنا ہیں۔ مذکورہ بالاتمام وجوہ میں حضرت مریم کے حال کی زیادہ مناسب وجہ نماز میں طویل قیام کا حکم ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا (افضل الصلوہ طول القضوت، افضل ترین نماز وہ جس میں طول قنوت ہو اس پر قول باری (واسجدی وارکعی) کا عطف بھی دلالت کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
99 نعمتوں سے سرفرازی کا تقاضا شکر خداوندی : سو نعمتوں سے سرفرازی کے نتیجے اور اس کے تقاضے کی تعلیم و تلقین کے طور پر فرشتوں نے حضرت مریم سے مزید کہا پس تم اے مریم اپنے رب کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤو۔ سو رب کے حضور سجدہ قرب خداوندی کا سب سے بڑا ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس کے حضور سجدہ ریزی اس کا قرب حاصل کرنے کا عظیم الشان ذریعہ ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا { وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ } " اور سجدہ کرتے جاؤ اور اسکا قرب حاصل کرتے جاؤ " اور جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ بندہ اپنے رب کے یہاں سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ سجدے میں ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
حضرت مریم کے بلند رتبے کا بیان
تشریح : حضرت مریم نبی نہ تھیں بلکہ محض ولیہ تھیں مگر اللہ نے ان کو بلند درجات دیئے، جیسا کہ آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ فرشتوں نے اللہ کا پیغام حضرت مریم کو دیا کہ اللہ نے انکو سربلندی تو شروع ہی سے دے رکھی ہے۔ کیونکہ آپ وجود میں آئیں تو اپنی والدہ کی مقبول دعاؤں کے اثر سے ہیکل کی خدمت کا کام لیا گیا جو کہ اب تک صرف لڑکوں اور مردوں کے لئے مخصوص تھا اور آپ کے حجرے میں معجزانہ طریقے سے غذائیں پہنچائی گئیں جس سے حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی حیران رہ گئے یہ سب مثالیں آپ کی مقبولیت ہی کی تو ہیں پھر اللہ نے آپ کو بنی نہ ہونے کے باوجود گناہوں کی آلائشوں سے پاک کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–54
آیات 42- 54
اسرارومعارف
واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔
اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔
بعض منازل سلوک :
صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 3 یعنی یہ غیب کی باتیں ہیں جن کا علم آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی وحی کے سوا کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوسکتا تھا لہذا ان باتوں کا صحیح صحیح بیان کرنا آپ ﷺ کو رسول ہونے کے صریح دلیل ہے۔ (ابن کثیر۔ کبیر)4 اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) یہودیوں کے بہت بڑے عالم عمراب کی بیٹی تھیں۔ جن ان کی والدہ نے انہیں اپنی عبادت گاہ کی نذر کیا تو عبادت گاہ کے مجاوروں میں جھگڑا ہوا کہ ان کی سرپرستی اور نگرانی کا شرف کون حاصل کرے، آ خر کار انہوں نے قرعہ اندازی کی اور قرعہ حضرت زکریا ( علیہ السلام) کے نام نکلا۔ (ابن کثیر، قرطبی)
Read the full tafseer →(3:43) اقنتی۔ تو بندگی کر۔ اطاعت کر۔ قنوت سے جس کے معنی خشوع خضوع کے ساتھ عبادت میں لگے رہنے کے ہیں۔ فعل امر۔ صیغہ واحد مؤنث حاضر۔ ارکعی۔ فعل امر۔ واحد مؤنث حاضر۔ تو رکوع کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 44
اصطفٰک (اس نے (اے مریم) تجھے چن لیا) طھرک (تجھے پاک باز بنایا) نساء العالمین (جہان بھر کی عورتیں) اقنتی (تو اطاعت کر) انباء الغیب (غیب کی خبریں) نوحیه (ہم اس کو وحی کرتے ہیں) لدیھم (ان کے پاس) یلقون (وہ ڈالتے ہیں) اقدم (قلم) یکفل (کفالت کرے گا، ذمہ دار ہوگا) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 42 تا 44
حضرت مریم پر باطل پرستوں نے جو الزامات لگائے تھے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مریم ایک انتہائی پاک باز، نیک سیرت اور دنیا کی عورتوں میں ایک عظیم خاتون ہیں، اللہ نے ان کو نہ صرف برگزیدہ بنایا تھا بلکہ اللہ کی عبادت و بندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
حضرت مریم کو یہ خوشخبری جو دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پسند کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مرتبہ کسی عورت کو نہیں دیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اور عورتوں کی طرح ہمیشہ کے حیض کی عادت نہیں تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے صرف دو دفعہ ان کو عمر بھر میں حیض آیا۔ عبادت کا حکم سن کر حضرت مریم اس قدر عبادت کیا کرتی تھیں کہ ان کے پاؤں سوج جاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
[17] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرنے والا۔ کلمتہ اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ محض اللہ کے حکم سے خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
قصوں کا مقصد :
(ف 2) (آیت) ” ذلک من انبآء الغیب “۔ کہہ کر قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہ قصے بطور دیل وبرہان کے بیان کئے گئے ہیں غور کرو سینکڑوں برس پہلے واقعات جن پر تصحیف وتحریف کے کئی پردے پڑچکے ہیں کس طریق پر ایک امی کے منہ سے واشگاف طور پر ظاہر ہو رہے ہیں کیا یہ حضور ﷺ کی نبوت پر زبردست دلیل نہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ف 2۔ اس بشارت کو سن کر حضرت زکریا نے عرض کیا اے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا اور اس کے ہونے کی صورت کیا ہوگی کیونکہ میری حالت تو یہ ہے کہ مجھ کو بڑھانے نے آلیا ہے اور میری بیوی بھی بڑھاپے کی وجہ سے بچہ جننے کے قابل نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اسی طرح اسی حالت میں کہ تم بوڑھے ہو اور تمہاری بیوی بانجھ ہے تمہارے ہاں لڑکا ہوجائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔
اس پر حضرت زکریا نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجئے یعنی کوئی ایسی نشانی جس سے مجھے حمل کا قرار پانا معلوم ہو سکے۔
اس پر ارشاد ہوا ، تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 3۔ شریعت محمدیہ میں حنفیہ کے مسلک پر قرعہ کا یہ حکم ہے کہ جن حقوق کے اسباب شرع میں معلوم و متعین ہیں ان میں قرعہ ناجائز و داخل قمار ہے۔
Read the full tafseer →سیدہ مریم کو مزید سرگرم عمل رہنے کی ہدایت :
104: سیدہ مریم بھی ان شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے متعلق لوگ مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ یہود مریم کے متعلق ان کے بچپنے کے متعلق تو بہت اچھے خیالات رکھتے تھے لیکن جب مریم جوان ہوئیں تو یہود کے خیالات میں تبدیلی آگئی اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جو تسلیم نہ کی جاسکتی ہو کیونکہ سارے انبیاء کرام کے متعلق ان کی اپنی اپنی اقوام کے لوگ اچھے خیالات رکھتے تھے لیکن نبوت مل جانے کے بعد وہ لوگ جو نہایت اچھے خیالات رکھنے والے ہوتے تھے اتنے ہی مخالفت ہوجاتے تھے۔ خود رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گی۔ آپ ﷺ کی نبوت سے پہلے برادری…
Read the full tafseer →وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ (and bow down with those who bow) while giving an order to bow down, the imperative has been qualified with the words "with those who bow"- but no such qualification appears while giving an order of prostration. This apparently seems to hint that people generally do not observe due concern while making ruk a` (bowing). They tend to bend a little, then resume the standing position (as if in a hurry). This kind of رکوع ruku' (bowing) is closer to standing قیام (qiyam). As said earlier, it apparently seems to suggest that Allah Almighty, by mentioning the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
43. They drew lots to decide who should be the guardian of Mary, whose mother had consecrated her to the service of God in the Temple. Since she was a girl, it was a delicate matter as to who from among the priests of the Temple would be the appropriate person to take care of her.
Read the full tafseer →