Explained with ayahs 42–44
تین افضل ترین عورتیں
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم (علیہما السلام) کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت ان کی دنیا کی بےرغبتی کی شرافت اور شیطانی وسو اس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرمادیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے، صحیح مسلم شریف وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، حضرت مریم بنت عمران اونٹ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
سورة اٰلِ عِمْرٰن 43
یعنی قرعہ اندازی کر رہے تھے۔ اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ حضرت مریم ؑ کی والدہ نے ان کو خدا کے کام کے لیے ہیکل کی نذر کردیا تھا۔ اور وہ چونکہ لڑکی تھیں اس لیے یہ ایک نازک مسئلہ بن گیا تھا کہ ہیکل کے مجاوروں میں سے کس کی سرپرستی میں وہ رہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
یہ قصے (جو اوپر مذکور ہوئے جناب رسول اللہ ﷺ کے اعتبار سے بوجہ اس کے کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی ذریعہ ظاہری ان کے معلوم کرنے کا نہ تھا) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جن کی وحی بھیجتے ہیں ہم آپ ﷺ کے پاس (اس کے ذریعہ سے آپ یہ خبریں معلوم کر کے اوروں کو بتلاتے ہیں) اور (ظاہر ہے کہ جو لوگ حضرت مریم (علیہا السلام) کے رکھنے میں اختلاف کر رہے تھے جس کا فیصلہ اخیر میں قرعہ پر قرار پایا تھا) آپ ان لوگوں کے پاس نہ تو اس وقت موجود تھے جبکہ وہ (قرعہ کے طور پر) اپنے اپنے قلموں کو (پانی میں) ڈالتے تھے (اور صورت قرعہ نکلنے کی یہ قرار پائی تھی کہ جس کا قلم پانی کی حرکت کے خلاف الٹا بہہ جاوے وہ مستحق سمجھا…
Read the full tafseer →ایک التفات : یہ ایک آیت اثنائے کلام میں نبی ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت رکھتی ہے۔ آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ غیب کی باتیں ہیں یعنی تمہارے علم و اطلاع سے باہر کی ہیں اس لیے کہ نہ تو یہ ساری باتیں تورات و انجیل ہی میں موجود ہیں اور نہ تم شخصاً ہی ان واقعات کے پیش آنے کے وقت موجود تھے، پھر اس صحت و صداقت کے ساتھ تمہارا ان واقعات کا پیش کرنا کہ اہل کتاب کی بھی آنکھیں کھل جائیں بغیر اس کے کس طرح ممکن ہوا کہ اللہ نے تم کو منصب رسالت سے نوازا اور شرف وحی سے ممتاز کیا۔ یہ اہل کتاب پر تمہاری نبوت و رسالت کی ایک بہت بڑی حجت ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ انجیلوں میں اہل کتاب کی تاریخ کا یہ حصہ تقریباً غائب ہے، بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
44۔ 1 آجکل کے اہل بدعت نے نبی کریم ﷺ کی شان میں غلو عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرح عالم الغیب اور ہر جگہ حاضر اور ناظر ہونے کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔ اس آیت سے ان دونوں عقیدوں کی واضح تردید ہوتی ہے۔ اگر آپ نبی ﷺ عالم الغیب ہوتے تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ ہم غیب کی خبریں آپ کو بیان کر رہے ہیں کیونکہ جس کو پہلے ہی علم ہو اس کو اس طرح نہیں کہا جاتا اور اس طرح اور ناظر کو یہ نہیں کہا جاتا کہ آپ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے جب لوگ قرعہ اندازی کے لئے قلم ڈال رہے تھے۔ قرعہ اندازی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت کے اور بھی کئی خواہش مند تھے۔ (ذٰلِكَ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
17: جیسا کے اوپر آیت نمبر : 34 میں ذکر کیا گیا، حضرت مریم ؓ کے والد کی وفات کے بعد ان کی کفالت کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہوا تو اس کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا، اس زمانے میں قرعہ قلموں کے ذریعے ڈالا جاتا تھا اس لئے یہاں قلم ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جب ہیکل کے خدام کے درمیان یہ تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ ان میں سے کون اس کا سرپرست ہو ‘ جب اس کی ماں اسے لیکر ہیکل میں آئیں۔ وہ اسی وقت چھوٹی بچی تھی ۔ ماں اس لئے لائی تھی کہ وہ اپنی نذر پوری کرے اور جو عہد اس نے اپنے رب کے ساتھ کیا ہے۔ اسے پورا کرے ۔ اس آیت میں ایسے واقعہ کا ذکر ہے جو عہد قدیم میں مذکور نہیں ہے اور نہ عہد جدید میں مذکور ہے یعنی ان نسخوں میں جو آج کل مروج ہیں ‘ لیکن یہ بات ایسی تھی جو احبار اور رہبان کے درمیان معروف تھی ۔ یعنی خدام کا قلمیں پھینکنے کا واقعہ اس دور میں مشہور واقعہ تھا۔ اور یہ اس لئے تھا کہ کون اس کی کفالت کرے ۔ قرآن کریم نے اس واقعہ…
Read the full tafseer →8 یعنی ظاہری حیثیت سے آپ کچھ پڑھے لکھے نہیں، پہلے سے اہل کتاب کی کوئی معتدبہ صحبت نہیں رہی جن سے واقعات ماضیہ کی ایسی تحقیقی معلومات ہو سکیں۔ اور صحبت رہتی بھی تو کیا تھا، وہ لوگ خود ہی اوہام و خرافات کی اندھیریوں میں پڑے بھٹک رہے تھے کسی نے عداوت میں اور کسی نے حد سے زیادہ محبت میں آکر صحیح واقعات کو مسنح کر رکھا تھا، پھر اندھے کی آنکھ سے روشنی حاصل ہونے کی کیا توقع ہوسکتی تھی۔ اندریں حالات " مدنی " اور " مکی " دونوں قسم کی سورتوں میں ان واقعات کو ایسی صحت اور بسط و تفصیل سے سنانا جو بڑے بڑے مدعیان علم کتاب کی آنکھوں میں چکا چوند کردیں اور کسی کو مجال انکار باقی نہ رہے اسکی کھلی دلیل ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت 44 ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ ط وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلاَمَہُمْ اَیُّہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ
جب حضرت مریم علیہ السلام کو ان کی والدہ نے ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کیا تو ہیکل کے کاہنوں میں سے ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ یہ بچی میری تحویل میں ہو ‘ اس کی تربیت اور پرورش کی سعادت مجھے حاصل ہوجائے جسے اللہ کے نام پر وقف کردیا گیا ہے۔ چناچہ اس کے لیے وہ اپنے قلم پھینک کر کسی طرح قرعہ اندازی کر رہے تھے۔ اس میں اللہ نے حضرت زکریا علیہ السلام کا نام نکال دیا۔ یہاں اثنائے کلام میں نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ تو اس وقت وہاں نہیں تھے جب وہ…
Read the full tafseer →44۔ ا یعنی ایسے واقعات صدیوں پہلے گزر چکے ہیں۔ انہیں بالکل ٹھیک طور پر اپنے مخالفوں کو بتلا دینا آپ کا معجزہ اور آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے۔ کیونکہ آپ نے نہ تو تورات پڑھی تھی نہ انجیل اور نہ ہی کوئی تاریخی کتاب۔ عمر کا اکثر حصہ مکہ مکرمہ میں گزرا جہاں کوئی ذی علم تھا ہی نہیں کہ آپ اس سے سن کر دوسروں کو بتلاسکتے، نہ آپ کا کوئی استاد تھا، نہ کسی کے سامنے آپ نے زانوئے تلمذ تہ کئے تھے۔ پھر ایسے واقعات کو علمائے اہل کتاب کے سامنے صحیح صحیح بیان کردینا آپ کے منجانب اللہ سچا رسول ہونے پر بڑی قوی دلیل ہے۔ پھر بھی جو لوگ آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ محض بغض وعناد اور دوسرے مفادات ہیں اور…
Read the full tafseer →114 ۔ (اے پیغمبر ! ) یعنی یہ واقعات وہ ہیں جو آپ سے کئی سو سال قبل ایک دوسرے ملک میں پیش آئے تھے اور اب دنیا سے ان کی صحیح تاریخ مٹ چکی ہے اور ان کے علم واقعی کا کوئی ذریعہ بھی اب بجز وحی الہی کے باقی نہیں۔ آپ کو بالکل ٹھیک ٹھیک وحی کے ذریعہ سے القاء کئے جارہے ہیں اور یہ بجائے خود ایک دلیل آپ کی صداقت کی ہے۔
115 ۔ (شام کے دریائے یردن میں تفاؤل کے لئے) (آیت) ” اذیلقون “۔ اس فعل کے فاعل کون تھے ؟ یروشلم کے ہیکل مقدس کے خدام اور کاہن (بہ اصطلاح یہود) (آیت) ” اقلامھم “۔ ہیکل سلیمانی کی خدمت ونگہداشت کے لیے خادموں کی ایک بڑی جماعت رہا کرتی تھی جیسے کہ بڑی مسجدوں کی خدمت کے لئے جاروب کشوں، فراشوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
یُبَسِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ حضرت مریم کو بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے وہ بیٹا جس کو بن باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے کلمۃ اللہ کہا گیا ہے مریم اس وقت تک یہودی رسم و رواج کے لحاظ سے ناکت خدا تھیں (غیر شادی شدہ) البتہ آپ کی منگنی آپ کے کفوآل داؤد کے ایک نوجوان یوسف نامی لڑکے سے ہوئی تھی، جن کے یہاں لکڑی کا کام ہوتا تھا، انجیل کا بیان ہے۔
جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرہ تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا جس کی منگنی داؤد کے گھرانے کے ایک شخص یوسف نامی سے ہوئی تھی اور اس کنواری کا نام مریم تھا۔ (لوقاء 28: 27: 1) یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب آپ کی ماں مریم کی منگنی یوسف…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ : یہ مذکورہ قصے غیب کی اطلاعات ہیں۔
نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ : وحی کے ذریعہ سے ہم آپ کے پاس بھیجتے ہیں۔
وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ : اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب وہ قرعہ اندازی کے لیے اپنے قلم دریا میں ڈال رہے تھے یہ وحی ہونے کی تاکید اور منکرین کے ساتھ استہزائیہ کلام ہے کیونکہ علم کے تین ہی ذرائع ہیں : عقل، یا کسی خبر کا کان سے سننا یا مشاہدہ کرنا۔ گذشتہ قصوں کا اپنی عقل سے دریافت کرلینا بداہۃً ممکن نہیں اور نہ سننا بھی تسلیم شدہ چیز ہے کیونکہ رسول اللہ خود لکھنا پڑھنا جانتے نہ تھے کہ کتابوں میں پڑھ کر معلوم کرلیتے اور خبر دینے والا…
Read the full tafseer →(44) اور حضرت مریم ؑ اور زکریا ؑ کے جو واقعات بیان کیے ہیں، یہ غیب کی ان خبروں میں سے ہیں کہ جن کو اے نبی کریم ﷺ ہم آپ پر بواسطہ جبرائیل امین وحی بھیجتے رہتے ہیں ورنہ آپ ان لوگوں کے پاس نہ اس وقت موجود تھے جب کہ وہ حضرت مریم ؑ کی تریبت کے بارے میں قرعہ اندازی کے لیے پانی میں اپنے قلموں کو ڈال رہے تھے اور نہ آپ اس وقت ہی ان کے لوگوں کے پاس موجود تھے جب کہ وہ قرعہ اندازی سے پہلے وہ حضرت مریم ؑ کی تربیت کے بارے میں جھگڑا کررہے تھے، (یعنی کہ یہ سینکڑوں برس پہلے واقعات کی یہ وہ غیب کی خبریں ہیں جو آپ کی صداقت نبوت کی واضح علامت ہیں)۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ۔۔ : اس آیت سے پانچ مسئلے واضح طور پر ثابت ہوئے، پہلا یہ کہ رسول اللہ ﷺ غیب نہیں جانتے تھے، ورنہ انھیں غیب کی یہ خبریں وحی کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہ ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ تو اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا۔ تیسرا یہ کہ اولیاء اور دوسرے انبیاء بھی غیب دان نہیں، ورنہ بیت المقدس کے خدام اور وقت کے پیغمبر زکریا ؑ کو قرعہ ڈالنے کی ضرورت نہ تھی۔ چوتھا یہ کہ جب چیز ایک ہو اور اس کے حق دار کئی ہوں تو اس وقت قرعہ کے ذریعے سے فیصلہ شریعت کا فیصلہ ہے۔ امام بخاری ؓ نے ”کِتَاب الشَّہَادَاتِ“…
Read the full tafseer →آیت نمبر :44
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ذالک من انبآء الغیب “۔ یعنی یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہم السلام) کے واقعات ہم نے ذکر کئے ہیں یہ اخبار غیب میں سے ہیں، (آیت) ” نوحیہ الیک “۔ اس میں حضور نبی رحمت محمد مصفطی (علیہ السلام) کی نبوت پر دلیل ہے اس حیثیت سے کہ آپ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہما السلام) کے واقعیہ کی خبر دی حالانکہ آپ ﷺ نے کتابوں میں نہیں پڑھا تھا : آپ ﷺ نے اسے بیان فرمایا اور اہل کتاب نے اس بارے آپ کی تصدیق کی، پس اسی لئے اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” نوحیہ الیک “۔ میں ضمیر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
(1) ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات حضرت ابن عباس ؓ سے پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا ” المھد “ سے مراد ہے کہ بچے کے لیٹنے کی جگہ دودھ پینے کے زمانہ میں۔
پنگھوڑے میں صرف بچوں نے بات کی
(2) بخاری ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پنگھوڑے میں صرف تین بچوں نے بات کی ہے عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور ایک آدمی جو بنی اسرائیل میں تھا جس کو جریج کہا جاتا تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا اس کی ماں آئی اس نے اس کو پکارا تو کہنے لگا کہ میں اس کو جواب دوں یا نماز پڑھوں ؟ (جب اس نے جواب نہ دیا) تو اس کی ماں نے کہا اے اللہ ! یہ نہ مرے یہاں تک…
Read the full tafseer →[ذٰلِکَ : یہ ] [مِنْ اَنْبَـآئِ الْغَیْبِ : غیب کی خبروں میں سے ہے ] [نُوْحِیْـہِ : ہم وحی کرتے ہیں اس کو ] [اِلَـیْکَ : آپ ﷺ ‘ کی طرف ] [وَمَا کُنْتَ : اور آپ ﷺ ‘ نہیں تھے ] [لَدَیْہِمْ : ان کے پاس ] [اِذْ : جب ] [یُلْقُوْنَ : وہ ڈالتے تھے ] [اَقْلاَمَہُمْ : اپنے قلم ] [اَیُّہُمْ : (کہ) ان میں سے کون ] [یَکْفُلُ : کفالت کرے گا ] [مَرْیَمَ : مریم کی ] [وَمَا کُنْتَ : اور آپ ﷺ ‘ نہیں تھے ] [لَدَیْہِمْ : ان کے پاس ] [اِذْ : جب ] [یَخْتَصِمُوْنَ : وہ لوگ ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے ]
و ح ی
وَحَی (ض) وَحْیًا : پوشیدہ پیغام بھیجنا ‘ الہام کرنا۔
وَحْیٌ (اسم ذات) : پوشیدہ پیغام ‘ الہام ‘ وحی۔ { وَمَا…
Read the full tafseer →نبوت محمدیہ پر واضح دلیل
ابھی حضرت مریم [ سے متعلق بعض چیزوں کا بیان باقی ہے۔ جو اس آیت کے بعد آنے والا ہے۔ درمیان میں ایک اہم بات کی طرف توجہ دلا دی اس میں بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے لیکن مضمون یہودیوں کی یاد دہانی سے متعلق ہے یہودیوں کے سامنے بار بار ایسی چیزیں تھیں جن سے یہ یقین ہوجاتا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول اور نبی آخر الزمان آپ ہی ہیں جن کی خوشخبری ان کی کتاب میں دی گئی تھی لیکن وہ ضد وعناد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے تھے خود ان کے اپنے آباؤ اجداد سے متعلق واقعات جو وہ جانتے تھے قرآن مجید میں وہ بھی بیان کیے گئے اور سب کو یہ بھی معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ امی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
تتمہ قصہ حضرت مریم علیہا السلام۔
قال اللہ تعالی، واذ قالت الملائکۃ یا مریم۔۔۔ الی۔۔۔ صراط مستقیم۔
یہاں تک حق جل شانہ نے آل عمران اور آل ابراہیم کے اصطفاء اور ان پر اپنی توجہات و عنایات کے واقعات ذکر فرمائے اب آگے اور قصہ اسی سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں کہ جو درحقیقت حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ تتمہ ہے اس لیے کہ سلسلہ کلام کا آغاز حضرت مریم کے قصہ سے ہوا تھا درمیان میں مناسبت کی وجہ سے ضمنا حضرت زکریا کا قصہ ذکر فرمایا اب آگے پھر حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ ذکر فرماتے ہیں اور وہ دوسرا قصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں کے ایک گروہ نے بالمشافہ حضرت مریم سے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا کہ اپن…
Read the full tafseer →63 یہ جملہ معترضہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے یہ واقعات جو آپ بیان کر رہے ہیں۔ یہ سب سینکڑوں برس پہلے کے ہیں۔ ان واقعات میں آپ موجود نہیں تھے لیکن اس کے باوجود آپ ان کی صحیح صحیح تفصیلات بیان فرما رہے ہیں۔ لہذا یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ غیب کی خبریں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی بتائی ہیں اور آپ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ فیہ دلالۃ علی نبوۃ محمد ﷺ حیث اخبر عن قصۃ زکریا ومریم ولم یکن قرا الکتب واخبر عن ذالک و صدقہ اھل الکتاب بذالک (قرطبی ج 4 ص 85) حضرت مریم کے والد چونکہ پہلے ہی فوت ہوچکے تھے اس لیے ان کی پرورش کا سوال پیدا ہوا تو ہیکل سلیمانی کے تمام خدام باہم جھگڑنے لگے ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ربط آیات : گذشتہ سے پیوستہ دروس میں حضرت مریم کی ولادت کے متعلق ذکر تھا کہ کس طرح ان کی والدہ نے منت مانی کہ ان کے ہاں لڑکا ہوگا ، تو وہ اسے خدمت دین کے لیے وقف کردیں گی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی منظور تھا۔ کہ لڑکے کی بجائے انہوں نے حضرت مریم کو جنا۔ پھر ان کی کفالت کا ذکر ہوا۔ کہ قرعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ انہوں نے اچھی طرح پر وش شروع کی۔ مگر حضرت مریم کے کمرے میں بےموسم کے پھل دیکھ کر سخت حیران ہوئے۔ پوچھا اے مریم ! یہ کہاں سے آئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ھو من عند اللہ۔ یہ اللہ کے ہاں سے آئے ہیں۔ اس پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو خیال پیدا ہوا۔ کہ جو مالک الملک بےموسم پھل…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْہِ اِلَيْكَ 0 ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْہِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ 0 ۠ وَمَا كُنْتَ لَدَيْہِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ 44
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی
يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ،
( ن ب ء ) النبا ء
کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا…
Read the full tafseer →ترکیب : ذلک مبتداء من انباء الغیب خبر نوحیہ الیک خبر ثانی۔ اذ یلقون اذ ظرف ہے کان کا اور ممکن ہے کہ استقرار کا ظرف ہو کہ جس سے لدیہم متعلق ہے۔ اقلام جمع قلم بمعنی مقلوم مبتداء یکفل مریم خبر جملہ موضع نصب میں ہے ای یقترعون ایہم ‘ عامل اس میں وہ ہے جو یلقون سے سمجھا جاتا ہے۔ اذ یختصمون کا حال اذ یلقون کا سا ہے اذ قالت بدل ہے اذ سابق سے منہ صفت ہے کلمۃ کی اسمہ مبتداء المسیح خبر عیسیٰ بدل یا عطف بیان ہے اس سے ابن مریم خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ھو وجیہًا اور من المقربین اور یکلم
احوال مقدر ہیں معنی کلمۃ سے مایکون سے فی المہد حال ہے ضمیر یکلم سے۔ رسولا کو اگر صفت مانا جاوے تو یہ بھی حال ہے پھر الی…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ مِنْ اَنْـبَآم ئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْـکَ ط وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْیُلْقُوْنَ اَقْلاَ مَہُمْ اَیُّـہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ ص وَمَاکُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْیَخْتَصِمُوْنَ ۔
(یہ غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ اور آپ ان کے پاس موجود نہیں تھے جب وہ (قرعہ اندازی کے لیے) اپنی قلمیں ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی سرپرستی کرے اور آپ اس وقت بھی ان کے پاس نہ تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے) (44)
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے بارے میں اہل کتاب کی تاریخ کا جو حصہ بیان کیا ہے اس کا انجیل میں اولاً تو ذکر ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اب وہ وقت آن پہنچا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ کو پاک، معزز اور اس زمانے کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ چناچہ حضرت مریم [ کے پاس فرشتے حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بیٹے کی خوشخبری کا اشارہ دیتے ہوئے بتلاتے ہیں کہ اس کا لقب مسیح اور نام عیسیٰ بن مریم جو دنیا وآخرت میں نہایت ہی وجیہ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرب بندوں میں ہوگا۔
وَجِیْھاً کا معنیٰ ہے معزز، تروتازہ وہشاش بشاش، نہایت ہی خوبصورت چہرے والا۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول محترم ﷺ معراج سے واپس آکر انبیاء کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں صحابہ کرام ؓ کو تفصیل بتا رہے تھے تو آپ نے…
Read the full tafseer →44: ذٰلِکَ مِنْ اَنْچبَآئِ الْغَیْبِ نُوْ حِیْہِ اِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلاَمَھُمْ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ۔ ذٰلِکَکا مشارالیہ حنہ مریم اور زکریا اور یحییٰ (علیہم السلام) کے واقعات ہیں۔ مِنْ اَنْچبَآئِ الْغَیْبِ نُوْ حِیْہِ اِلَیْکَ ( یہ غیب کی اطلاعات ہیں جو ہم وحی کے ذریعہ آپ کے پاس بھیج رہے ہیں) جو ان غیوبات میں سے ہیں جن کو وحی کے سواء آپ نہ جانتے تھے۔
اقلام کی مراد :
وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلاَمَھُمْ (اور آپ ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے) اقلام سے ازلام یعنی تیر مراد ہیں۔ جبکہ…
Read the full tafseer →44۔ (آیت)” ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک “۔ حضرت محمد ﷺ کو کہا گیا کہ جو باتیں ہم آپ کو بتلاتے ہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ، حضرت مریم (علیہا السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں ” وما کنت “ اے محمد ” لدیھم اذ یلقون اقلامھم “ سمندر میں قلموں کے ذریعے قرعہ اندازی کر رہے تھے ، (آیت)” ایھم یکفل مریم “۔ کون اس کی دیکھ بھال اور تربیت کرے گا (آیت)” وما کنت لدیھم اذ یختصمون “۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
(42 ۔ 44) ۔ صحیح حدیثوں سے قرعہ کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے 1۔ بنی اسرائیل میں قرعہ ڈالنے کا طریقہ یہ تھا کہ کسی کام میں جب یہ بحث آن پڑتی کہ اس کام کو کون کرے تو وہ لوگ نہر اردن پر جاکر تورات کے لکھنے کے اپنے اپنے قلم بہتے پانی میں ڈالتے تھے۔ جس کا قلم بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہے یا بہنے سے رک کر ٹھہر جائے تو وہی شخص اس کام کو کرتا تھا جب حضرت مریم کی ماں اپنی نذر کے موافق حضرت مریم کو بیت المقدس میں لائیں اور بیت المقدس کے مجاوروں سے اپنا خواب بیان کیا تو سب چاہنے لگے کہ مریم کو ہم پالیں آخر رواج کے موافق قرعہ پر فیصلہ قرار پایا اور حضرت زکریا کا قلم پانی کے بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہا۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت 42-44
اللہ عزوجل حضرت مریم کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انہیں براہ راست مخاطب کر کے فرمایا : (یمریم ان اللہ اصطفک) ” اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا “ (وطھرک) ” اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا “ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ (واصطفک علی نسآء العلمین) ” اور سارے جہان کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا “ پہلے (اصطفاء) ” انتخاب اور برگزیدہ کرنے “ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے اور دوسرے (اصطفاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں…
Read the full tafseer →حلال کاموں میں قرعہ اندازی جائز ہے
قول باری ہے (وماکنت لدیھم اذیلقون اقلامھم ایھم یکفل مریم) تم اس وقت وہاں موجودنہ تھے جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سرپرست کون ہو، اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرناق نے، انہیں معمرنے قتادہ سے قول باری (اذیلقون اقلامھم) کی تفسیر میں یہ بیان کیا کہ ہیکل کے مجادروں نے حضرت مریم کی کفالت کے سلسلے میں آپس میں قرعہ اندازی کی۔ حضرت زکریا کے نام قرعہ نکلا۔ ایک قول ہے کہ قلموں سے یہاں وہ تیرمراد ہیں جن کے ذریعے قرعہ اندازی کی جاتی تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
99 نعمتوں سے سرفرازی کا تقاضا شکر خداوندی : سو نعمتوں سے سرفرازی کے نتیجے اور اس کے تقاضے کی تعلیم و تلقین کے طور پر فرشتوں نے حضرت مریم سے مزید کہا پس تم اے مریم اپنے رب کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤو۔ سو رب کے حضور سجدہ قرب خداوندی کا سب سے بڑا ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس کے حضور سجدہ ریزی اس کا قرب حاصل کرنے کا عظیم الشان ذریعہ ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا { وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ } " اور سجدہ کرتے جاؤ اور اسکا قرب حاصل کرتے جاؤ " اور جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ بندہ اپنے رب کے یہاں سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ سجدے میں ہوتا…
Read the full tafseer →حضرت مریم کی کفالت
تشریح : یہ آیت درمیان میں اس لئے آگئی کہ اس میں محمد ﷺ کی نبوت کی تائید میں دلیل دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو اس بات پر دھیان دینا چاہئے کہ محمد ﷺ پڑھے لکھے نہیں تھے کہ جو انہوں نے بی بی مریم کا یہ اتنا پرانا واقعہ کہیں سے پڑھ کر قرآن میں بیان کردیا اور نہ ہی آپ ﷺ اس وقت وہاں موجود تھے جب حضرت مریم کی کفالت کے فیصلہ کے لئے ہیکل کے مجاوروں نے قرعہ اندازی کی یہ تمام واقعات جن کا بیان پچھلی آیات میں ہوچکا یا اگلی آیات میں ہونے والا ہے۔ یہ سب کچھ نبی اکرم ﷺ نے وحی کے ذریعہ سے ہی بتایا ہے۔ یہ سب کچھ جان لینے کے بعد بھی جو لوگ سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–54
آیات 42- 54
اسرارومعارف
واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔
اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔
بعض منازل سلوک :
صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 3 یعنی یہ غیب کی باتیں ہیں جن کا علم آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی وحی کے سوا کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوسکتا تھا لہذا ان باتوں کا صحیح صحیح بیان کرنا آپ ﷺ کو رسول ہونے کے صریح دلیل ہے۔ (ابن کثیر۔ کبیر)4 اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ حضرت مریم ( علیہ السلام) یہودیوں کے بہت بڑے عالم عمراب کی بیٹی تھیں۔ جن ان کی والدہ نے انہیں اپنی عبادت گاہ کی نذر کیا تو عبادت گاہ کے مجاوروں میں جھگڑا ہوا کہ ان کی سرپرستی اور نگرانی کا شرف کون حاصل کرے، آ خر کار انہوں نے قرعہ اندازی کی اور قرعہ حضرت زکریا ( علیہ السلام) کے نام نکلا۔ (ابن کثیر، قرطبی)
Read the full tafseer →(3:44) ابنائ۔ بنا کی جمع ۔ خبریں۔ حقیقتیں۔ جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو اسے بنا کہتے ہیں۔ کوئی خبر بنا نہیں کہلاتی جب تک کہ وہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔
لدیہم۔ لدی مضاف۔ ہم مضاف الیہ ۔ ان کے پاس۔ لدی۔ ظرف مکان غیر متمکن۔ پاس۔ طرف۔ ضمیر کی طرف اضافت کے وقت لذی کی وہی حالت ہوتی ہے جو علیٰ حرف جر کی ہوتی ہے۔ مثلاً لدینا۔ علینا۔ لدیہ۔ علیہ۔
یلقون۔ مضارع جمع مذکر غائب القاء (افعال) مصدر۔ وہ ڈال رہے تھے۔ الالقاء (افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈالنا کہ وہ دوسرے کو سامنے سے نظر آئے۔ پھر عرف میں مطلق کسی چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ قال القھا یاموسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 44
اصطفٰک (اس نے (اے مریم) تجھے چن لیا) طھرک (تجھے پاک باز بنایا) نساء العالمین (جہان بھر کی عورتیں) اقنتی (تو اطاعت کر) انباء الغیب (غیب کی خبریں) نوحیه (ہم اس کو وحی کرتے ہیں) لدیھم (ان کے پاس) یلقون (وہ ڈالتے ہیں) اقدم (قلم) یکفل (کفالت کرے گا، ذمہ دار ہوگا) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 42 تا 44
حضرت مریم پر باطل پرستوں نے جو الزامات لگائے تھے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مریم ایک انتہائی پاک باز، نیک سیرت اور دنیا کی عورتوں میں ایک عظیم خاتون ہیں، اللہ نے ان کو نہ صرف برگزیدہ بنایا تھا بلکہ اللہ کی عبادت و بندگی…
Read the full tafseer →قرعہ ڈالنے کا طریقہ اور اس کا جائز ہونا
صحیح حدیثوں سے قرعہ کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل میں قرعہ ڈالنے کا طریقہ یہ تھا کہ کسی کام میں جب یہ بحث آن کر پڑتی کہ اس کام کون کرے تو وہ لوگ نہروں پر جاکر توریت کے لکھنے کے اپنے اپنے قلم بہتے پانی میں ڈالتے تھے۔ جس کا قلم بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہنے سے رک کر ٹھہر جاوے تو وہی شخص اس کام کو کرتا تھا۔ جب حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی ماں نے اپنی نذر کے موافق حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو بیت المقدس میں لائیں تو بیت المقدس کے مجاوروں سے اپنا خواب بیان کیا تو سب چاہنے لگے کہ مریم سلام اللہ علیہا کو ہم پالیں۔ آخر رواج کے موافق زکریا (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →[18] جب مریم (علیہ السلام) نذر میں قبول کرلی گئیں تو مسجد کے مجاوروں میں جھگڑا ہوا کہ انہیں کس کی پرورش میں رکھا جائے۔ آخر قرعہ اندازی کی نوبت آئی۔ سب نے اپنے اپنے قلم دریا میں چھوڑ دیئے کہ جس کا قلم دریا کے چڑھاؤ کی طرف بہے وہ مریم (علیہ السلام) کا سرپرست ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
قصوں کا مقصد :
(ف 2) (آیت) ” ذلک من انبآء الغیب “۔ کہہ کر قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہ قصے بطور دیل وبرہان کے بیان کئے گئے ہیں غور کرو سینکڑوں برس پہلے واقعات جن پر تصحیف وتحریف کے کئی پردے پڑچکے ہیں کس طریق پر ایک امی کے منہ سے واشگاف طور پر ظاہر ہو رہے ہیں کیا یہ حضور ﷺ کی نبوت پر زبردست دلیل نہیں ؟
Read the full tafseer →ف 3۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب فرشتوں نے حضرت مریم سے کہا کہ اے مریم ! بلا شبہ تجھ کو اللہ تعالیٰ نے منتخب اور مقبول فرمایا اور تجھ کو ہر قسم کے برے افعال و اخلاق کی آلودگی سے پاک کیا اور اس زمانہ کی تمام عورتوں کے مقابلہ میں تجھ کو برگزیدہ اور منتخب کیا ۔
اے مریم ! اپنے رب کی فرمانبردار اور اطاعت گزار رہیو اور سجدہ یعنی نماز ادا کرتی رہیو اور نماز میں رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع بھی کیا کیجئو۔
یہ واقعات مذکورہ اے پیغمبر منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم آپ کے پاس وحی کرتے ہیں اور وحی کے ذریعہ آپ تک پہنچاتے ہیں، حالانکہ آپ ہیکل کے ان احبار کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب وہ مریم کی نگرانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 3۔ شریعت محمدیہ میں حنفیہ کے مسلک پر قرعہ کا یہ حکم ہے کہ جن حقوق کے اسباب شرع میں معلوم و متعین ہیں ان میں قرعہ ناجائز و داخل قمار ہے۔
Read the full tafseer →یہ ساری خبریں ایسی ہیں جو آپ کی طرف وحی کی جارہی ہیں :
105: غیب کیا ہے ؟ غیب کا استعمال ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو حاسہ سے مخفی ہو یا انسان کے علم میں موجود نہ ہو۔ واقعات گزشتہ بھی اس لحاظ سے غیب ہوجاتے ہیں جب ان کا جاننے والا کوئی موجود نہ ہو۔ ہر وہ چیز جو پوشیدہ ہو نہ تو اس کے متعلق علم ہو اور نہ ہی وہ مشاہدہ میں آرہی ہو غیب ہے۔ پھر جب اس کا علم حاصل ہوجائے اور وہ مشاہدہ میں آجائے تو اب وہ غیب نہ رہی۔
تاریخی واقعات کو قرآن کریم نے اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ کہا ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ جب ان کا جاننے والا کوئی نہ رہا اور خصوصاً جب اس علاقہ کی بات بھی نہ ہو تو مزید اس کے لیے مشکل ہے کہ وہ جان جائے۔ جب تک…
Read the full tafseer →Commentary
This verse presents an argument to prove the prophethood of Sayyidna Muhammad ﷺ by referring to happenings in the lives of Sayyidna Zakariyya (علیہ السلام) and Sayyidah Maryam. These took place in the remote past and there is no likelihood of their being seen or heard or read, specially so, by the Holy Prophet ﷺ which by itself proves that his being so informed of the unknown was beyond the ordinary course of learning. He had just no way of finding out such details by any obvious means at his command. Hence, the truth is that this information was revealed to him as part of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
43. They drew lots to decide who should be the guardian of Mary, whose mother had consecrated her to the service of God in the Temple. Since she was a girl, it was a delicate matter as to who from among the priests of the Temple would be the appropriate person to take care of her.
Read the full tafseer →