Aal-i-Imraan 3:42

Aal-i-Imraan · from ayah 42

3:42

وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىِٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفٰىكِ عَلٰی نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ ۟وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰٮكِ وَطَهَّرَكِ وَاصۡطَفٰٮكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ‏

اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم! خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention] when the angels said, "O Mary, indeed Allah has chosen you and purified you and chosen you above the women of the worlds.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 5 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:42

پھر وہ وقت آیا جب مریمؑ سے فرشتوں نے آکر کہا، "اے مریمؑ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چن لیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم! خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم! اللہ تعالیٰ نے تجھے برگزیده کر لیا اور تجھے پاک کر دیا اور سارے جہان کی عورتوں میں سے تیرا انتخاب کر لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اب اس وقت کا تذکرہ سنو) جب فرشتوں نے کہا تھا کہ : اے مریم ! بیشک اللہ نے تمہیں چن لیا ہے، تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور دنیا جہان کی ساری عورتوں میں تمہیں منتخب کرکے فضیلت بخشی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تجھے چن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! بیشک اللہ نے تجھے چن لیا اور تجھے پاک کردیا اور سب جہانوں کی عورتوں پر تجھے چن لیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب فرشتوں نے مریم سے کہا : اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطاکی اور تجھے پورے جہان کی عورتوں پر (ترجیح دے کر) منتخب کرلیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ نے تم کو برگزیدہ کیا۔ تم کو پاک کیا اور تم کو دنیا کی عورتوں پر ترجیح دی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ اے مریم، بیشک اللہ نے تم کو (اپنے کرم خاص سے) چن لیا، تم کو طہارت (و پاکیزگی) سے نواز دیا، اور تم کو چن لیا دنیا بھر کی عورتوں کے مقابلے میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم بیشک اللہ نے آپ کو برگزیدہ کیا ہے ۔ اور پاک کردیا ہے اور آپ کو دنیا جہان کی بیویوں کے مقابلہ میں برگزیدہ کرلیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جبکہ کہا فرشتوں نے اے مریم یقیناً اللہ نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہیں خوب پاک کردیا ہے اور تمہیں تمام جہان کی خواتین پر ترجیح دی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور (یاد کرو) جب (مریم سے) فرشتوں نے آکر کہا اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں میں سے تجھ کو چن لیا

— محترمہ رفعت اعجاز

Then came the time when the angels said: 'O Mary! Behold, Allah has chosen you, and made you pure, and exalted you above all the women in the world.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when the angels said: :O Maryam, Allah has chosen you and purified you and chosen you over the women of all the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

And when the angels said: :O Maryam, Allah has chosen you and purified you and chosen you over the women of all the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when the angels said: "O Maryam! Verily, Allah has chosen you, purified you, and chosen you above the women of the nations."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the angels said: O Mary! Lo! Allah hath chosen thee and made thee pure, and hath preferred thee above (all) the women of creation.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention] when the angels said, "O Mary, indeed Allah has chosen you and purified you and chosen you above the women of the worlds.

— Saheeh International

"Behold," the angels told Mary, "God had chosen you, purified you, and given you distinction over all women.

— Muhammad Sarwar

And when the angels said: O Marium! surely Allah has chosen you and purified you and chosen you above the women of the world.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time the angels said: O Maryam! verily Allah chose thee and purified thee and chose thee above the women of the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold! the angels said: "O Mary! Allah hath chosen thee and purified thee- chosen thee above the women of all nations.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–44

تین افضل ترین عورتیں یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم (علیہما السلام) کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت ان کی دنیا کی بےرغبتی کی شرافت اور شیطانی وسو اس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرمادیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے، صحیح مسلم شریف وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، حضرت مریم بنت عمران اونٹ پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 42–44

سورة اٰلِ عِمْرٰن 43 یعنی قرعہ اندازی کر رہے تھے۔ اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ حضرت مریم ؑ کی والدہ نے ان کو خدا کے کام کے لیے ہیکل کی نذر کردیا تھا۔ اور وہ چونکہ لڑکی تھیں اس لیے یہ ایک نازک مسئلہ بن گیا تھا کہ ہیکل کے مجاوروں میں سے کس کی سرپرستی میں وہ رہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ فرشتوں نے (حضرت مریم (علیہا السلام) سے) کہا اے مریم بلاشک اللہ تعالیٰ نے تم کو منتخب (یعنی مقبول) فرمایا ہے اور (تمام ناپسند یدہ افعال و اخلاق سے) پاک بنایا ہے اور (مقبول فرمانا کچھ ایک دو عورتوں کے اعتبار سے نہیں، بلکہ اس زمانہ کی) تمام جہان بھر کی بیبیوں کے مقابلہ میں منتخب فرمایا ہے (اور فرشتوں نے یہ بھی کہا کہ) اے مریم اطاعت کرتی رہو اپنے پروردگار کی اور سجدہ (یعنی نماز ادا) کیا کرو اور (نماز میں) رکوع (بھی) کیا کرو ان لوگوں کے ساتھ جو رکوع کرنے والے ہیں۔ معارف و مسائل (واصطفک علی نساء العالمین) سے مراد اس زمانے میں تمام جہان کی عورتیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 42–43

تفسیر آیت 42 -43:۔ ’ اصطفاء ‘ کے معنی چھانٹنے اور انتخاب کرنے کے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں اس کا مفہوم اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی بندے کو کسی کار خاص کے لیے منتخب کرلینا ہے۔ حضرت مریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک عظیم نشانی کے ظہور کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ یہ نشانی ایک بہت بڑی خدائی امانت بھی تھی جو ان کے سپرد ہونے والی تھی اور ساتھی ہی ایک عظیم ابتلا بھی۔ یہ چیز اس بات کی مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اس بار امانت کے اٹھانے کے لیے ان کی خاص تربیت فرمائے تاکہ وہ آنے والے مراحل میں حالات کا مقابلہ کرنے کی اہل بن سکیں۔ اسی تربیت کو یہاں ’ تطہیر ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اس اصطفاء کے متعلق تصریح فرمائی کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 حضرت مریم (علیہا السلام) کا یہ شرف و فضل اپنے زمانے کے اعتبار سے ہے کیونکہ صحیح حدیث میں حضرت مریم (علیہا السلام) کے ساتھ حضرت خدیجہ کو بھی سب عورتوں میں بہتر کہا گیا ہے اور بعض احادیث میں چار عورتوں کو کامل قرار دیا گیا ہے حضرت مریم، حضرت آسیہ (فر عون کی بیوی) حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ ؓ کی بابت کہا گیا ہے کہ ان کی فضیلت دیگر عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فوقیت حاصل ہے۔ (ابن کثیر) اور ترمذی کی روایت میں حضرت فاطمہ ؓ بنت محمد ﷺ کو بھی فضیلت والی عورتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر) اس کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ مذکورہ خواتین ان چند عورتوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–44

17: جیسا کے اوپر آیت نمبر : 34 میں ذکر کیا گیا، حضرت مریم ؓ کے والد کی وفات کے بعد ان کی کفالت کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہوا تو اس کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا، اس زمانے میں قرعہ قلموں کے ذریعے ڈالا جاتا تھا اس لئے یہاں قلم ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ برگزیدگی کیا تھی ؟ وہ یہ کہ اللہ براہ راست اس کے اندر اپنی ایک روح ڈالنے والے تھے ۔ جس طرح اللہ نے حضرت آدم کے جسد خاکی میں سب سے پہلے روح ڈالی تھی ۔ اور پھر یہ خارق العادۃ واقعہ پوری انسانیت کے سامنے پیش کیا گیا اپنے خاص طریقے کے مطابق ‘ فی الواقع یہ تاریخ انسانیت کی ایک منفرد برگزیدگی ہے ۔ اور بلاشبہ ایک عظیم واقعہ ہے ………لیکن آج تک اس عظیم واقعہ کا انسانیت کو صحیح علم نہ تھا ۔ یہاں صفائی کی طرف اشارہ کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بارے میں یہودی جو شبہات پھیلاتے تھے اور جو رکیک حملے کرتے تھے ‘ وہ قابل مذمت ہیں ۔ وہ حضرت مریم کی پاکیزگی میں شکوک و شبہات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 حضرت زکریا و یحییٰ (علیہما السلام) کا قصہ جو ضمنی مناسبات سے درمیان میں آگیا تھا اور جس میں اصطفاء آل عمران کی تاکید اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قصہ کی تمہید تھی، یہاں ختم کر کے پھر مریم و مسیح کے واقعات کی طرف کلام منتقل کیا گیا ہے۔ چناچہ مسیح سے پہلے ان کی والدہ کا فضل و شرف ذکر فرماتے ہیں یعنی فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اللہ نے تجھے پہلے دن سے چھانٹ لیا کہ باوجود لڑکی ہونے کے اپنی نیاز میں قبول کیا، طرح طرح کے احوال رفیعہ اور کرامات سنّیہ عنایت فرمائیں۔ ستھرے اخلاق، پاک طبیعت اور ظاہری و باطنی نزاہت عطا فرما کر اپنی مسجد کی خدمت کے لائق بنایا۔ اور جہان کی عورتوں پر تجھ کو بعض وجوہ سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قصہ بیان ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو شدید ضعیفی کی عمر میں ایک بانجھ اور بوڑھی عورت سے حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسا بیٹا دے دیا۔ تو کیا یہ عام قانون کے مطابق ہے ؟ ظاہر ہے یہ بھی تو معجزہ تھا۔ اسی طرح اس سے ذرا بڑھ کر ایک معجزہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش ہے کہ انہیں بغیر باپ کے پیدا فرمادیا۔ اب اس کا ذکر آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–42

43 چناچہ اللہ تعالیٰ نے زکریا کی دعا قبول فرمائی۔ ایک دفعہ جب محراب میں کھڑے نماز ادا کر رہے تھے تو فرشتوں نے آپ کو بیٹے کی خوشخبری دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیٹے کا نام یحییٰ بھی خود تجویز فرما دیا اور اس کی صفات بھی بیان فرما دیں جو یہ تھیں : (1) اس کا نام اللہ تعالیٰ نے خود یحییٰ رکھا اور بتلایا کہ پہلے آج تک کسی انسان کا یہ نام نہیں رکھا، (2) کلمۃ اللہ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرے گا، (3) وہ بنی اسرائیل کا سردار ہوگا اور اس قوم کی خراب حالت کی اصلاح کرے گا ( ، 4) وہ حصور ہوگا، یعنی اس کی نہ تو عورتوں کی طرف کچھ رغبت ہوگی اور نہ گناہ کے کاموں کی طرف۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ (5) وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1 1 1 ۔ (بعض خصوصیات کے لحاظ سے) (آیت) ” اذ قالت المآئکۃ “۔ یہ قول خواہ بہ طور الہام ہو جس کا تعلق محض قلب و باطن سے ہے خواہ بہ طور نداء ہو جس کا تعلق سماعت اور ظاہر سے ہے ملئکۃ کے صیغہ جمع سے یہ لازم آتا ہے کہ کہنے والے کئی کئی فرشتے ہوں۔ ملئکۃ سے مراد جنس ملائکہ بھی ہوسکتی ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ ملائکہ کا غیر انبیاء کے ساتھ ہم کلام ہونا آیت سے ثابت ہے البتہ ملائکہ کے لائے ہوئے پیام تبلیغ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص ہیں۔ (آیت) ” اصطفک “۔ اس اصطفاء کا تعلق مریم (علیہ السلام) کے بچپن سے ہے یعنی اللہ نے تو شروع ہی سے آپ کو بزرگی دے رکھی ہے، آپ کی والدہ کی دعاؤں کو سن کر آپ کو خلعت وجود بخشا گیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 42 تا 54 ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب فرشتوں یعنی جبرئیل نے کہا اے مریم بیشک اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا ہے اور مردوں کے مس کرنے سے تجھے پاک کردیا ہے، اور تجھ کو دنیا جہان کی عورتوں کے مقابلہ میں یعنی اپنے زمانہ کی عورتوں کے مقابلہ میں برگزیدہ کرلیا ہے۔ اے مریم تو اپنے پروردگار کی اطاعت کرتی رہیے اور سجدہ کرتی رہیے۔ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہیے یعنی نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھتی رہیے۔ یہ مذکورہ واقعات (یعنی) زکریا (علیہ السلام) اور مریم (علیہما السلام) کا واقعہ غیب کی خبروں میں سے ہیں یعنی ان خبروں میں سے جو تم سے پردہ غیب میں ہیں ہم آپ کے اوپر اے محمد ﷺ وحی کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : اس کا عطفاذ قالت امرأۃ عمران پر ہے اور ملائکہ سے مراد جبرائیل ہیں یعنی یاد کرو کہ جب جبرائیل نے رو در رو کہا تھا۔ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ : اے مریم اللہ نے بلاشبہ تجھے اپنے لیے چھانٹ لیا ہے یعنی دوامی تجلیات ذاتیہ کے ساتھ تجھے برگزیدہ کردیا ہے صوفیہ نے تجلیات ذاتیہ کی تعبیر کمالات نبوت سے کی ہے جو انبیاء کو بالذات بلاواسطہ حاصل ہوتے ہیں اور ذیلی طور پر انبیاء کی وساطت سے صدیقین کو ملتے ہیں حضرت مریم صدیقہ تھیں اللہ نے فرمایا ہے : و اُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ (اس لیے آپ کو کمالات نبوت حاصل تھے) وَطَهَّرَكِ : اور اللہ نے تجھے پاک رکھا یعنی گناہوں سے محفوظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(42) جس وقت جبریل امین ؑ (اور فرشتوں نے) فرمایا، اے مریم اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام اور عبادت کے لیے منتخب فرما لیا اور کفر وشرک اور تمام بری باتوں سے اور قتل وغیرہ سے پاک صاف فرما لیا اور تمام جہان بھر کی عورتوں کے مقابلہ میں تمہیں منتخب کرلیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے مریم [ کو چننے کا ذکر دو مرتبہ آیا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محض تاکید کے لیے ہو، یا پہلے چننے سے مراد بچپن میں مریم [ کو شرف قبولیت بخشنا ہو، جو آیت : (فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ) میں مذکور ہے اور دوسرے چننے سے مراد اللہ تعالیٰ کا انھیں عیسیٰ ؑ کی پیدائش کے لیے منتخب فرمانا اور خصوصی فضیلت عطا کرنا ہو۔ عَلٰي نِسَاۗءِ الْعٰلَمِيْنَ : سب جہانوں کی عورتوں سے مراد صرف اس زمانے کی عورتیں ہیں، کیونکہ احادیث میں مریم [ کی طرح خدیجہ، فاطمہ اور عائشہ کی فضیلت میں بھی اسی قسم کے الفاظ مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مردوں میں سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 42۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان اللہ اصطفک “۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں اختیار کرلیا ہے (چن لیا ہے) اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ (آیت) ” وطھرک اور تجھے خوب پاک کردیا ہے کفر سے۔ حضرت مجاہد (رح) اور حسن (رح) سے یہی مروی ہے اور زجاج نے کہا ہے : اور تمہیں پاک کردیا ہے تمام الائشوں سے مثلا حیض، نفاس وغیرہما، اور تمہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینے کے لئے پسند کرلیا ہے۔ (آیت) ” علی نسآء العلمین “۔ یعنی اپنے زمانے کی تمام عورتوں پر حسن اور ابن جریج وغیرہما نے یہی بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” علی نسآء العلمین “۔ قیامت قائم ہونے کے دن تک تمام جہان والی عورتوں کو شامل ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

(1) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن المسیب (رح) سے لفظ آیت ” ان اللہ اصطفک وطھرک واصطفک علی نساء العلمین “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے یہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بہترین عورتیں اونٹوں پر سوار کرنے والیاں قریش کی عورتیں ہیں جو اپنے بچوں پر مہربان ہونے والیاں ہیں ان کی چھوٹی عمر میں اور شوہر کے ہاتھ میں جو مال ہے اس پر اچھی طرح نگاہ رکھنے والیاں ہیں ابوہریرہ ؓ سے فرمایا بنت عمران نے کبھی اونٹ پر سواری نہیں کی۔ (2) ابن ابی شیبہ، بخاری ومسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر اور ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذْ : اور جب ] [قَالَتِ : کہا ] [الْمَلٰٓئِکَۃُ : فرشتوں نے ] [یٰمَرْیَمُ : اے مریم ] [اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ نے ] [اصْطَفٰٹکِ : چن لیا آپ کو ] [وَطَہَّرَکِ : اور اس نے پاک کیا آپ کو ] [وَاصْطَفٰٹکِ : اور اس نے چنا آپ کو ] [عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں کی عورتوں پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

فرشتوں کا حضرت مریم کو بتانا کہ اللہ نے تمہیں چن لیا اس سے پہلے رکوع کی ابتداء میں فرمایا تھا کہ آل عمران کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرما لیا پھر اسی ذیل میں حضرت مریم کی پیدائش اور نشوونما اور حضرت زکریا کی دعا اور حضرت یحییٰ کا پیدا ہونا بیان فرمایا اب اسی سلسلہ کے تتمہ کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ حضرت مریم کا منتخب فرمانا پھر ان کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دینا اور ان کو رسالت سے سر فراز فرمانا اور ان کے بعض معجزات کا ذکر فرمانا۔ یہ باتیں اس رکوع میں مذکور ہیں۔ اصطفک کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں اختارک من اول الامرو لطف بک و میزک علی کل محررو خصلک بالکرامات السنیۃ یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–51

تتمہ قصہ حضرت مریم علیہا السلام۔ قال اللہ تعالی، واذ قالت الملائکۃ یا مریم۔۔۔ الی۔۔۔ صراط مستقیم۔ یہاں تک حق جل شانہ نے آل عمران اور آل ابراہیم کے اصطفاء اور ان پر اپنی توجہات و عنایات کے واقعات ذکر فرمائے اب آگے اور قصہ اسی سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں کہ جو درحقیقت حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ تتمہ ہے اس لیے کہ سلسلہ کلام کا آغاز حضرت مریم کے قصہ سے ہوا تھا درمیان میں مناسبت کی وجہ سے ضمنا حضرت زکریا کا قصہ ذکر فرمایا اب آگے پھر حضرت مریم کے قصہ کا بقیہ ذکر فرماتے ہیں اور وہ دوسرا قصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں کے ایک گروہ نے بالمشافہ حضرت مریم سے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا کہ اپن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

61 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ قدرت خداوندی سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور پھر بچپن میں ہی باتیں بھی کی تھیں اور پھر جب بڑے ہوئے تو ان کے ہاتھوں پر بڑے عجیب و غریب معجزے ظاہر ہوئے مثلاً مٹی کے پرندے میں جان ڈالنا، مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرنا، مردوں کو زندہ کرنا اور لوگون کو ان کی پوشیدہ باتیں بتانا۔ تو ان تمام چیزوں سے یہود ونصاریٰ کے دلوں میں مختلف شبہات پیدا ہوئے۔ یہودیوں نے حضرت مریم صدیقہ کے بارے میں زبان طعن دراز کی اور ان پر بدکاری کی تہمت لگائی۔ دوسری طرف عیسائیوں نے افراط سے کام لے کر حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو مافوق الاسباب قدرت اور تصرف واختیار کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–44

ربط آیات : گذشتہ سے پیوستہ دروس میں حضرت مریم کی ولادت کے متعلق ذکر تھا کہ کس طرح ان کی والدہ نے منت مانی کہ ان کے ہاں لڑکا ہوگا ، تو وہ اسے خدمت دین کے لیے وقف کردیں گی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی منظور تھا۔ کہ لڑکے کی بجائے انہوں نے حضرت مریم کو جنا۔ پھر ان کی کفالت کا ذکر ہوا۔ کہ قرعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ انہوں نے اچھی طرح پر وش شروع کی۔ مگر حضرت مریم کے کمرے میں بےموسم کے پھل دیکھ کر سخت حیران ہوئے۔ پوچھا اے مریم ! یہ کہاں سے آئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ھو من عند اللہ۔ یہ اللہ کے ہاں سے آئے ہیں۔ اس پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو خیال پیدا ہوا۔ کہ جو مالک الملک بےموسم پھل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰىكِ وَطَہَّرَكِ وَاصْطَفٰىكِ عَلٰي نِسَاۗءِ الْعٰلَمِيْنَ۝ 42 ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–43

یوسف مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ملک مصر میں لے گیا اور وہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوشیار ہوئے۔ جوان ہو کر (جب ہیرودیس بادشاہ نے یہودیہ کی موت کی خبر سنی) تو ملک شام میں آئے۔ ادھر حضرت یحییٰ زکریا کے بیٹے جو ان سے کئی مہینے پہلے پیدا ہوچکے تھے ٗ جوان ہوگئے تھے۔ لوگوں کو تعلیم دیتے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرتے تھے۔ آخر بادشاہ وقت نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ملک یہود کے جلیل اور یروشلم وغیرہ شہروں میں وعظ فرماتے ٗ معجزات دکھاتے رہے لیکن یہود کو ہر روز ان سے عداوت بڑھتی گئی۔ باوجودیکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–43

وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰـمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰـکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفٰـکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ یٰـمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّـکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ۔ (یاد کرو ! جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہیں خوب پاک کردیا ہے اور تمہیں ترجیح دی ہے دنیا کی عورتوں پر۔ اے مریم ! خلوص سے اپنے رب کی عبادت کرتی رہو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو) (42 تا 43) حضرت مریم وقت کے ساتھ ساتھ عمر کا سفر طے کرتی گئیں۔ بچپن گزرا، لڑکپن میں داخل ہوئیں، شعور نے آنکھ کھولی، ایک وقت آیا جب اللہ کی رحمت نے انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–42

فہم القرآن ربط کلام : خطاب کا رخ حضرت مریم [ کی طرف ہوتا ہے۔ سلسلۂ کلام یہاں تک پہنچا کہ حضرت مریم [ کی والدہ جو حضرت عمران (علیہ السلام) کی بیوی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نانی ہیں انہوں نے نذر مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے بیٹا عطا فرمائے گا تو وہ اس کو اللہ تعالیٰ کی نذر کر دے گی لیکن بیٹے کے بجائے مریم پیدا ہوئی تو اس نے مریم کو ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کردیا جو مسجد اقصیٰ کے متصل ایک حجرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتی تھی۔ جب حضرت مریم [ سن بلوغت کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ نے یہ پیغام دیا کہ اے مریم ! اللہ نے تجھے منتخب فرمالیا ہے گناہوں، حیض ونفاس اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

42: وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓپکَۃُ یٰمَرْیَمُ (اور جبکہ فرشتوں نے کہا کہ اے مریم) اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰکِ وَطھَّرَ کِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْن۔ اس کا عطف اذ قالت امراۃ عمران پر ہے یا اذ کر محذوف کا یہ ظرف ہے۔ وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓٓپٰکَۃُ یٰمَرْیَمُ (روایت میں کہ انہوں نے رو در رو کہا) اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰکِ (بےشک اللہ تعالیٰ نے تجھے چھانٹ لیا) پہلی مرتبہ اسی وقت جب تمہاری ماں سے تمہیں قبول کرلیا اور تیری تربیت کی اور شاندار کرامات سے تجھے نوازا۔ وَطھَّرَ کِ (اور تجھے پاک رکھا) ناپاک افعال سے۔ منفرد فضیلت : وَاصْطَفٰکِ (اور ثانیاً تجھے چنا) عَلٰی نِسَآ ئِ الْعٰلَمِیْنَ (تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42۔ (آیت)” واذ قالت الملائکۃ “ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے جب کہا (آیت)” یا مریم ان اللہ اصطفاک “ تو اختیار کر ” وطھرک “ پاک وہ مردوں کے چھونے سے ۔ (حضرت مریم (علیہا السلام) کی باقی عورتوں پر فضلیت) بعض کے ہاں حیض ونفاس سے پاک رہ ، سدی (رح) فرماتے ہیں حضرت مریم (علیہا السلام) کو حیض نہیں آتا تھا ، بعض نے گناہوں سے پاک ہونا مراد لیا ہے ، (آیت) ” واصطفاک علی نساء العالمین “۔ اپنے زمانے کی عورتوں سے تجھے چن لیا، بعض نے کہا کہ بیت المقدس کی طرف آزاد کرنے والی یہی عورت ہیں اور کوئی نہیں ۔ عبداللہ بن جعفر سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–44

(42 ۔ 44) ۔ صحیح حدیثوں سے قرعہ کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے 1۔ بنی اسرائیل میں قرعہ ڈالنے کا طریقہ یہ تھا کہ کسی کام میں جب یہ بحث آن پڑتی کہ اس کام کو کون کرے تو وہ لوگ نہر اردن پر جاکر تورات کے لکھنے کے اپنے اپنے قلم بہتے پانی میں ڈالتے تھے۔ جس کا قلم بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہے یا بہنے سے رک کر ٹھہر جائے تو وہی شخص اس کام کو کرتا تھا جب حضرت مریم کی ماں اپنی نذر کے موافق حضرت مریم کو بیت المقدس میں لائیں اور بیت المقدس کے مجاوروں سے اپنا خواب بیان کیا تو سب چاہنے لگے کہ مریم کو ہم پالیں آخر رواج کے موافق قرعہ پر فیصلہ قرار پایا اور حضرت زکریا کا قلم پانی کے بہاؤ کو چھوڑ کر الٹا بہا۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 42–44

آیت 42-44 اللہ عزوجل حضرت مریم کا شرف اور بلند مقام ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فرشتوں نے انہیں براہ راست مخاطب کر کے فرمایا : (یمریم ان اللہ اصطفک) ” اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کرلیا “ (وطھرک) ” اور تجھے (ایسی خرابیوں سے) پاک کردیا “ جو تیری شان میں کمی کا باعث بن سکتی تھیں۔ (واصطفک علی نسآء العلمین) ” اور سارے جہان کی عورتوں میں تیرا انتخاب کرلیا “ پہلے (اصطفاء) ” انتخاب اور برگزیدہ کرنے “ کا تعلق آپ کی اچھی صفات اور نیک اعمال سے ہے اور دوسرے (اصطفاء) سے مراد جہان کی عورتوں سے افضل قرار دینا ہے۔ جہان سے مراد یا تو ان کے زمانے کی ساری دنیا کی عورتوں پر فضیلت ہے یا پروردگار کی تمام عورتوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

طہارت مومن یہ کہ نجاست کفر سے محفوظ ہے قول باری ہے (واذقالت الملئکۃ یا مریم ان اللہ اصطفاک وطھرک واصطفاک علی نساء العالمین، اور جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطاکی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چن لیا) قول باری (واصطفاک) کے معنی یوں بیان کیئے گئے کہ اے مریم ! تجھے اللہ نے دنیا والوں کی تمام عورتوں پر فضیلت دے کر برگزیدہ بنادیا۔ حسن اور ابن جریج سے یہی تفسیر مروی ہے۔ ان دونوں کے علاوہ دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ مریم اللہ تعالیٰ نے دلادتمسیح کی جلیل القدرخصوصیت دے کر دنیا کی تمام عورتوں میں برگزیدہ بنادیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 حضرت مریم کے اصطفاء کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم بیشک تم کو اللہ نے چن لیا ہے کہ تم کو شروع میں قبول حسن اور انبات حسن کے شرف سے نوازا۔ اور آخر میں فرشتوں کے کلام اور خطاب سے عزت بخشی۔ اور تم کو اپنی طرح طرح کی کرامات و عنایات کا مورد بنایا۔ اور یہ ایسی خصوصیات ہیں جو آپ کے سوا اے مریم اور کسی بھی خاتون کو نصیب نہیں ہوئیں۔ پس اپنے رب کی ایسی عظیم الشان عنایات کے بدلے میں تم ہمیشہ اس واہب مطلق کی شکرگزار رہو کہ شکر نعمت کا تقاضا یہی ہے۔ اور اس میں بھلا اور فائدہ بھی شکر ادا کرنے والے ہی کیلئے ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق ۔ پھر اس اصطفاء کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 42–43

حضرت مریم کے بلند رتبے کا بیان تشریح : حضرت مریم نبی نہ تھیں بلکہ محض ولیہ تھیں مگر اللہ نے ان کو بلند درجات دیئے، جیسا کہ آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ فرشتوں نے اللہ کا پیغام حضرت مریم کو دیا کہ اللہ نے انکو سربلندی تو شروع ہی سے دے رکھی ہے۔ کیونکہ آپ وجود میں آئیں تو اپنی والدہ کی مقبول دعاؤں کے اثر سے ہیکل کی خدمت کا کام لیا گیا جو کہ اب تک صرف لڑکوں اور مردوں کے لئے مخصوص تھا اور آپ کے حجرے میں معجزانہ طریقے سے غذائیں پہنچائی گئیں جس سے حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی حیران رہ گئے یہ سب مثالیں آپ کی مقبولیت ہی کی تو ہیں پھر اللہ نے آپ کو بنی نہ ہونے کے باوجود گناہوں کی آلائشوں سے پاک کردیا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–54

آیات 42- 54 اسرارومعارف واذقالت الملئکۃ………………وارکعوامع الراکعین۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو جب فرشتوں نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رو در رو کہا تھا اے مریم ! بیشک اللہ نے آپ کو قبول فرمالیا ہے چھانٹ لیا ہے۔ یعنی دوامی تجلیات ذاتی کے ساتھ برگزیدہ کردیا ہے تجلیات ذاتیہ کمالات نبوت و رسالت میں سے ہے یہ کمال انبیاء کو بالذات اور بلاواسطہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی وساطت سے خاص اور ممتاز اولیا اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور حضرت مریم (علیہا السلام) تو صدیقہ تھیں۔ بعض منازل سلوک : صدیقیت ولایت کی انتہا ہے اور چوٹی کے اولیاء اللہ کہ یہ اعلیٰ مقامات باتباع نبی اس طرح حاصل ہوتے ہیں جیسے شاہی محل میں بادشاہ کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اس آیت میں حضرت مریم ( علیہ السلام) کے بر گزیدہ ہونے کا دو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محض تاکید کے لیے ہو یا پہلی برگیزیدہ گی سے مراد بچپن میں حضرت مریم ( علیہ السلام) کو سرف قبولیت بخشنا ہو جو آیت : فتقبلھا ربھا بقبول حسن میں مذکور ہے اور دوسری برگزیدگی سے مراد اللہ تعالیٰ کا نہیں انہیں حضرت ﷺ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدا ئش کے لیے منتخب فرماتا اور خصوصی فضیلت عطا کرتا ہو۔ نسا العالمین۔ سے صرف اس زمانہ کی عورتیں مراد ہیں کیونکہ احادیث میں حضرت مریم ( علیہ السلام) کی طرح حضرت خدیجہ ؓ ۔ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت میں بھی اسی قسم کے الفاظ مذکور ہیں۔ حضرت علی ؓ سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 41–42

(3:41) العشی۔ شام۔ سورج ڈھلے۔ بعد زوال۔ دن کا پچھلا وقت۔ زوال سے لے کر صبح تک کا وقت۔ نماز مغرب سے لے کر عشاء کی نماز تک کا وقت۔ الابکار۔ صبح بروزن افعال اسم ہے۔ فائدہ نمبر 1: آیات نمبر 40 اور 41 میں کلام مابین زکریا اور اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لئے سوال منجانب زکریا (علیہ السلام) ہے اور جواب منجانب اللہ تعالیٰ ہے۔ فائدہ نمبر 2: حضرت یحییٰ کا شجرہ نسب کچھ یوں بنتا ہے۔ (حضرت) داؤد ام مریم حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہمشیرہ مریم مریم (حضرت) حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–44

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 44 اصطفٰک (اس نے (اے مریم) تجھے چن لیا) طھرک (تجھے پاک باز بنایا) نساء العالمین (جہان بھر کی عورتیں) اقنتی (تو اطاعت کر) انباء الغیب (غیب کی خبریں) نوحیه (ہم اس کو وحی کرتے ہیں) لدیھم (ان کے پاس) یلقون (وہ ڈالتے ہیں) اقدم (قلم) یکفل (کفالت کرے گا، ذمہ دار ہوگا) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 42 تا 44 حضرت مریم پر باطل پرستوں نے جو الزامات لگائے تھے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مریم ایک انتہائی پاک باز، نیک سیرت اور دنیا کی عورتوں میں ایک عظیم خاتون ہیں، اللہ نے ان کو نہ صرف برگزیدہ بنایا تھا بلکہ اللہ کی عبادت و بندگی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 42–43

حضرت مریم کو یہ خوشخبری جو دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پسند کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مرتبہ کسی عورت کو نہیں دیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اور عورتوں کی طرح ہمیشہ کے حیض کی عادت نہیں تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے صرف دو دفعہ ان کو عمر بھر میں حیض آیا۔ عبادت کا حکم سن کر حضرت مریم اس قدر عبادت کیا کرتی تھیں کہ ان کے پاؤں سوج جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–43

[17] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرنے والا۔ کلمتہ اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ محض اللہ کے حکم سے خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

مریم کاملہ (علیہ السلام) : (ف 1) حدیث میں آیا ہے ، ” مکمل من الرجال کثیر ولم مکمل من النسآء الا مریم بنت عمران واسیۃ امرۃ فرعون و افضل عائشۃ علی النسآء کفضل الثرید علی الطعام “۔ (مجتبائی : ص 42) یعنی مردوں میں سے تو بہتیرے درجہ بنوع و کمال تک فائز ہوئے ہیں ، مگر عورتوں میں مریم (علیہا السلام) ، آسیہ ؓ اور عائشہ ؓ کے سوا اور کوئی اس فضیلت کو حاصل نہیں کرسکی ، دوسری حدیث میں حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ کا نام بھی آیا ہے ، مقصد یہ ہے کہ ہر زمانے میں حالات و استعداد کے مطابق عورتیں بھی کمال وفضل سے بہرہ وافر حاصل ہوسکتی ہیں ، اس آیت میں حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر ہے ۔ بالخصوص حضرت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 41–43

ف 2۔ اس بشارت کو سن کر حضرت زکریا نے عرض کیا اے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا اور اس کے ہونے کی صورت کیا ہوگی کیونکہ میری حالت تو یہ ہے کہ مجھ کو بڑھانے نے آلیا ہے اور میری بیوی بھی بڑھاپے کی وجہ سے بچہ جننے کے قابل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اسی طرح اسی حالت میں کہ تم بوڑھے ہو اور تمہاری بیوی بانجھ ہے تمہارے ہاں لڑکا ہوجائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ اس پر حضرت زکریا نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجئے یعنی کوئی ایسی نشانی جس سے مجھے حمل کا قرار پانا معلوم ہو سکے۔ اس پر ارشاد ہوا ، تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–42

ف 1۔ فرشتوں کا کلام کرنا خواص نبوت سے نہیں۔ 2۔ لفظ نساء سے جو کہ خاص ہے بالغہ کے ساتھ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہنا فرشتوں کا حضرت مریم (علیہا السلام) کے جوان ہونے کے بعد تھا اور اس بنا پر اصطفاء کے مکرر لانے کی یہ توجیہہ ہوسکتی ہے کہ پہلا اصطفاء بچپن کا ہو، اور اصطفاء ثانی جوانی کا ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدہ مریم کو اللہ کی طرف سے بزگزیدگی و قبولیت کی بشارت : 103: حضرت مریم جب کہ نہایت مرتاض ، عابد و زاہد اور تقویٰ و طہارت میں ضرب المثل تھیں اور علم الٰہی میں عن قریب ان کو ایک جلیل القدر نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہونے والا تھا تو من جانب اللہ ان کی تقدیس و تطہیر کا یہ اعلان بلاشبہ حق بحق دار رسید کا مصداق ہے۔ تاہم علمی و تاریخی اعتبار سے بلکہ خود قرآن و حدیث کے مفہوم کے لحاظ سے یہ مسئلہ قابل توجہ ہے کہ آیت وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ 0042 کی مراد کیا ہے ؟ اور کیا درحقیقت سیدہ مریمکو بغیر کسی استثناء کے کائنات کی تمام عورتوں پر برتری اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary 1. In verse 42, the sentence: وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ (and has chosen you over women of all the worlds) refers to all women in that period of time. Therefore, the statement سیدۃ نسآءِ اھل الجنۃ فاطمۃ (Fatimah is the foremost among women of the Paradise) appearing in hadith does not contradict it. 2. It will be noticed that, in the last sentence of verse 43:

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–44

43. They drew lots to decide who should be the guardian of Mary, whose mother had consecrated her to the service of God in the Temple. Since she was a girl, it was a delicate matter as to who from among the priests of the Temple would be the appropriate person to take care of her.

Read the full tafseer →