Aal-i-Imraan 3:41

Aal-i-Imraan · from ayah 41

3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً ؕ— قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا ؕ— وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْكَارِ ۟۠قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّىۡۤ اٰيَةً ‌ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ؕ‌ وَاذۡكُرْ رَّبَّكَ كَثِيۡرًا وَّسَبِّحۡ بِالۡعَشِىِّ وَالۡاِبۡكَارِ

زکریا نے کہا کہ پروردگار (میرے لیے) کوئی نشانی مقرر فرما خدا نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کر سکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح و شام اس کی تسبیح کرنا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "My Lord, make for me a sign." He Said, "Your sign is that you will not [be able to] speak to the people for three days except by gesture. And remember your Lord much and exalt [Him with praise] in the evening and the morning."

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 4 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:41

عرض کیا "مالک! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقرر فرما دے" کہا، "نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرو گے (یا نہ کرسکو گے) اِس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہنا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

زکریا نے کہا کہ پروردگار (میرے لیے) کوئی نشانی مقرر فرما خدا نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کر سکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح و شام اس کی تسبیح کرنا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہنے لگے پروردگار! میرے لئے اس کی کوئی نشانی مقرر کر دے، فرمایا، نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، صرف اشارے سے سمجھائے گا، تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح وشام اسی کی تسبیح بیان کرتا ره!

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردیجیے، اللہ نے کہا : تمہاری نشانی یہ ہوگی کہ تم تین دن تک اشاروں کے سوا کوئی بات نہیں کرسکو گے۔ اور اپنے رب کا کثرت سے ذکر کرتے رہو، اور ڈھلے دن کے وقت بھی اور صبح سویرے بھی اللہ کی تسبیح کیا کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عرض کی اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی کردے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تین دن تو لوگوں سے بات نہ کرے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کی بہت یاد کر اور کچھ دن رہے اور تڑکے اس کی پاکی بول،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما، فرمایا: تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے بات نہیں کر سکو گے، اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرتے رہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا اے میرے رب ! میرے لیے کوئی نشانی بنادے ؟ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بات نہیں کرے گا مگر کچھ اشارے سے اور اپنے رب کو بہت زیادہ یاد کر اور شام اور صبح تسبیح کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

زکریا نے عرض کی : پروردگار ! پھر میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا : نشانی یہ ہے کہ آپ تین دن لوگوں سے اشارہ کے سوا بات چیت نہ کرسکیں گے۔ ان دنوں اپنے پروردگار کو بہت یاد کیا کیجئے اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کیجئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا اے میرے رب تو میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دے۔ فرمایا تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے گا مگر اشارے سے۔ اور اپنے رب کو بہت زیادہ یاد کیجیو اور صبح وشام اس کی تسبیح کیجیو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

عرض کیا تو پھر میرے لیے اے میرے مالک کوئی نشانی مقرر فرما دیجئے، اور ارشاد ہوا کہ تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم (تندرست و صحت مند ہونے کے باوجود) تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا بات نہیں کرسکو گے، (سو اس دوران) تم اپنے رب کو کثرت سے یاد کرتے رہنا اور صبح و شام اس کی تسبیح میں لگے رہنا۔

— مولانا اسحاق مدنی

(زکریا علیہ السلام) بولے اے میرے پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے۔۔ ارشاد ہوا کہ تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو لوگوں سے بات نہ کرسکے گا تین دن تک بجز اشارہ کے۔ اور اپنے پروردگار کو بکثرت یاد کرتے رہو اور تسبیح کرتے رہو دن ڈھلے بھی اور صبح بھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے عرض کیا : پروردگار ! میرے (اطمینان کے) لیے کوئی نشانی مقرر کردیں (اللہ نے) فرمایا : تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ اب تم تین دن تک لوگوں سے گفتگو نہیں کرسکو گے سوائے اشارے کنائے کے اور (اپنے دل میں) اپنے رب کو کثرت سے یاد کرتے رہو اور تسبیح کیا کرو شام کے وقت بھی اور صبح کے وقت بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہا اے میرے رب ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ فرمایا تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کرے گا مگر اشارے سے اپنے رب کو بہت یاد کر اور صبح و شام اس کی تسبیح کر

— محترمہ رفعت اعجاز

Zechariah said: 'O my Lord! Appoint a sign for me.' The angel said: 'The sign for you shall be that you shall not speak to men for three days except by gesture. Remember your Lord and extol His glory by night and by day.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said: :O my Lord, set for me a sign. Said He: :Your sign is that you shall not be able to speak to people for three days except through gestures. Remember your Lord much; and proclaim His purity in the evening and the morning.

— Muhammad Taqi Usmani

He said: :O my Lord, set for me a sign. Said He: :Your sign is that you shall not be able to speak to people for three days except through gestures. Remember your Lord much; and proclaim His purity in the evening and the morning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "O my Lord! Make a sign for me." (Allah) said: "Your sign is that you shall not speak to the people for three days except by signals. And remember your Lord much, and glorify (Him) in the afternoon and in the morning."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: My Lord! Appoint a token for me. (The angel) said: The token unto thee (shall be) that thou shalt not speak unto mankind three days except by signs. Remember thy Lord much, and praise (Him) in the early hours of night and morning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "My Lord, make for me a sign." He Said, "Your sign is that you will not [be able to] speak to the people for three days except by gesture. And remember your Lord much and exalt [Him with praise] in the evening and the morning."

— Saheeh International

Zachariah prayed to God saying, "Lord, show me the evidence (that it is Divine revelation)." The Lord replied, "You must not speak to people for three days except with gestures. Commemorate your Lord often and glorify Him in the early mornings and the evenings."

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord! appoint a sign for me. Said He: Your sign is that you should not speak to men for three days except by signs; and remember your Lord much and glorify Him in the evening and the morning.

— Muhammad Habib Shakir

He said: my Lord! appoint unto me a sign. Allah said: thy sign is that thou shalt not speak unto mankind for three days save by beckoning; and remember thy Lord much and hallow Him in the evening and morning.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "O my Lord! Give me a Sign!" "Thy Sign," was the answer, "Shall be that thou shalt speak to no man for three days but with signals. Then celebrate the praises of thy Lord again and again, and glorify Him in the evening and in the morning."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–41

حاصل دعا یحییٰ ؑ حضرت زکریا ؑ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریم (علیہما السلام) کو بےموسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بےموسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لئے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے نداء خفیا یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 41 یعنی ایسی علامت بتادے کہ جب ایک پیر فرتوت اور ایک بوڑھی بانجھ کے ہاں لڑکے کی ولادت جیسا عجیب غیر معمولی واقعہ پیش آنے والا ہو تو اس کی اطلاع مجھے پہلے سے ہو۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن 42 اس تقریر کا اصل مقصد عیسائیوں پر ان کے اس عقیدے کی غلطی واضح کرنا ہے کہ وہ مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا اور الٰہ سمجھتے ہیں۔ تمہید میں حضرت یحییٰ ؑ کا ذکر اس وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ جس طرح مسیح ؑ کی ولادت معجزانہ طور پر ہوئی تھی اسی طرح ان سے چھ ہی مہینہ پہلے اسی خاندان میں حضرت یحییٰ کی پیدائش بھی ایک دوسری طرح کے معجزے سے ہوچکی تھی۔ اس سے اللہ تعالیٰ عیسائیوں کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ اگر یحیٰی ؑ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(قال ایتک الا تکلم الناس ثلثۃ ایام الا رمزا) حضرت زکریا ؑ کا نشانی معلوم کرنے سے مقصود یہ تھا کہ ہمیں جلدی ہو، اور بچے کے پیدا ہونے سے پہلے ہی شکر میں مشغول ہوں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ نشانی عطا کی کہ آپ تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے کوئی کلام نہیں کرسکیں گے۔ اس نشانی میں لطافت یہ ہے کہ نشانی کی درخواست سے جو ان کا مقصود تھا کہ شکر ادا کریں، نشانی ایسی تجویز کی گئ کہ بجز اس مقصود کے دوسرے کام ہی کے نہ رہیں گے، سو (100) نشانیوں کی ایک نشانی ہوگئی، اور مقصود کا مقصود بدرجہ اتم حاصل ہوگیا۔ (بیان القرآن) (الا رمزا) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کلام کرنا متعذر ہو تو اشارہ قائم مقام کلام کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت زکریا ؑ نے یہ باتیں ایک ہاتف غیبی سے سنی تھیں اور اچھی ساعت اور اچھے حالات میں سنی تھیں اس وجہ سے ان کو گمان تو یہی تھا کہ یہ بشارت من جانب اللہ ہی ہے، لیکن وہ نہایت متواضع، متقی اور محتاط بندے تھے اس وجہ سے دل کے ایک گوشے میں کھٹک یہ بھی تھی کہ ممکن ہے یہ اپنے ہی گنبد دل کی صدائے باز گشت سنائی دی ہو، ممکن ہے اس کے اندر نفس کی مخفی آرزؤوں کو کوئی دخل ہو جن سے شیطان نے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہو، اس وجہ سے انہوں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ اے رب میرے لیے کوئی ایسی نشانی ٹھہرا دے جس سے مجھے یہ اطمینان ہوجائے کہ یہ بشارت تیری ہی طرف سے ہے، اس میں نفس یا شیطان کا کوئی دھوکا نہیں ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–41

41۔ 1 بڑھاپے میں معجزانہ طور پر اولاد کی خوشخبری سن کر اشتیاق میں اضافہ ہوا اور نشانی معلوم کرنی چاہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تین دن تیری زبان بند ہو جائیگی۔ جو ہماری طرف سے بطور نشانی ہوگی لیکن تو اس خاموشی میں کثرت سے صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کیا کر تاکہ اس نعمت الٰہی کا جو تجھے ملنے والی ہے شکر ادا ہو یہ گویا سبق دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری طلب کے مطابق تمہیں مزید نعمتوں سے نوازے تو اسی حساب سے اس کا شکر بھی زیادہ سے زیادہ کرو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

16: حضرت زکریا ؑ کا مقصد یہ تھا کہ کوئی نشانی معلوم ہوجائے جس سے یہ پتہ چل جائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے تاکہ وہ اسی وقت سے شکر ادا کرنے میں لگ جائیں اللہ تعالیٰ نے یہ نشانی بتلائی کہ جب حمل قرار پائے گا تو تم پر ایسی حالت طاری ہوجائے گی کہ تم اللہ کے ذکر اور تسبیح کے سوا کسی سے کوئی بات نہیں کرسکوگے اور بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تواشاروں سے کرنی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لیکن حضرت زکریا کا را ہوار شوق سرپٹ دوڑ رہا تھا ‘ بہرحال وہ بھی انسان تھے اچانک خوشخبری سن کر پریشان ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے اس اعجوبے کے ظہور کے لئے کوئی علامت مقرر فرمادیں تاکہ وہ مطمئن ہوکر انتظار کریں ۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً……………” میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے ۔ “………اب اللہ تعالیٰ ان کے لئے حقیقی اطمینان کا انتظام فرماتے ہیں ۔ خود انہیں ان کی روز مرہ معمولات کے دائرے سے ذرا باہر لایا جاتا ہے ۔ قرار دیا جاتا ہے کہ علامت یہ ہوگی کہ تین دن کے لئے تیری زبان بند ہوجائے گی ‘ وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ بات نہ کرسکیں گے ۔ صرف اپنے رب کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 جس سے معلوم ہوجائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے تاکہ قرب ولادت کے آثار دیکھ کر مسرّت تازہ حاصل ہو، اور شکر نعمت میں بیش از بیش مشغول رہوں۔ 3 یعنی جب تجھ کو یہ حالت پیش آئے کہ تین دن رات لوگوں سے بجُز اشارہ کے کوئی کلام نہ کرسکے اور تیری زبان خالص ذکر الہٰی کے لئے وقف ہوجائے تو سمجھ لینا کہ اب استقرار حمل ہوگیا۔ سبحان اللہ نشانی بھی ایسی مقرر کی کہ نشانی کی نشانی ہو اور اطلاع پانے سے جو غرض تھی (شکر نعمت) وہ علیٰ وجہ الکمال حاصل ہوجائے گویا خدا کے ذکر و شکر کے سوا چاہیں بھی تو زبان سے دوسری بات نہ کرسکیں۔ 4 یعنی اس وقت خدا کو بہت کثرت سے یاد کرنا اور صبح و شام تسبیح و تہلیل میں لگے رہنا معلوم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْ اٰیَۃً ط۔ مجھے معلوم ہوجائے کہ واقعی ایسا ہونا ہے اور یہ کلام جو میں سن رہا ہوں واقعتا تیری طرف سے ہے۔ قَالَ اٰیَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ الاَّ رَمْزًا ط۔ یعنی ان کی قوت گویائی سلب ہوگئی اور اب وہ تین دن کسی سے بات نہیں کرسکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–42

43 چناچہ اللہ تعالیٰ نے زکریا کی دعا قبول فرمائی۔ ایک دفعہ جب محراب میں کھڑے نماز ادا کر رہے تھے تو فرشتوں نے آپ کو بیٹے کی خوشخبری دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیٹے کا نام یحییٰ بھی خود تجویز فرما دیا اور اس کی صفات بھی بیان فرما دیں جو یہ تھیں : (1) اس کا نام اللہ تعالیٰ نے خود یحییٰ رکھا اور بتلایا کہ پہلے آج تک کسی انسان کا یہ نام نہیں رکھا، (2) کلمۃ اللہ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرے گا، (3) وہ بنی اسرائیل کا سردار ہوگا اور اس قوم کی خراب حالت کی اصلاح کرے گا ( ، 4) وہ حصور ہوگا، یعنی اس کی نہ تو عورتوں کی طرف کچھ رغبت ہوگی اور نہ گناہ کے کاموں کی طرف۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ (5) وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

108 ۔ (جس سے مجھے معلوم ہوجائے کہ گھر میں حمل ہے اور زمانہ ولادت قریب ہے اور میں ادائے شکر کا سامان کرسکوں) (آیت) ” ایۃ “۔ ہر ایسی چیز ہے جس سے قدرت الہی نصرت غیبی خاص طور پر ظاہر ہورہا ہے۔ ایسی چیز کو قدرۃ معمول عام سے کی قدر ہٹا ہونا چاہیے اور اس واقعہ میں اعجازی رنگ ضرور ہونا چاہیے۔ 109 ۔ (اور تسبیح و عبادت الہی میں اس حال میں بھی جاری رہے گی) (آیت) ” الاتکلم الناس “۔ انجیل کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی بڑی معصیت حضرت زکریا (علیہ السلام) سے سرزد ہوگئی تھی۔ اور اس کی سزا میں ان کی قوت گویائی چند روز کے لئے سلب کرلی گئی تھی۔” اور دیکھ جس دن تک یہ باتیں واقع نہ ہولیں تو چپکا رہے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّی آیَۃً ، بڑھاپے میں معجزانہ طور پر اولاد کی خوشخبری سن کر اشتیاق میں اضافہ ہوا اور نشانی معلوم کرنی چاہی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تین دن کے لیے تیری زبان بند ہوجائے گی، جو ہماری طرف سے بطور نشانی ہوگی لیکن تم اس خاموشی میں صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرنا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْٓ اٰيَةً : زکریا نے کہا اے رب استقرار حمل کی میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے جس سے میں استقرار حمل کو جان جاؤں اور بطور شکر تیری عبادت زیادہ کروں۔ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰــثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا : یعنی اللہ نے فرمایا استقرار حمل کی تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ باوجود ذکر اللہ پر قدرت رکھنے کے تو لوگوں سے تین دن کوئی بات نہیں کرسکے گا سوائے اشارہ کرنے کے سر سے ہو یا ہاتھ وغیرہ سے۔ رمز کا اصل معنی ہے حرکت دینا استثناء منقطع ہے لیکن اگر کلام سے مراد وہ تمام چیزیں ہوں جو ما فی الضمیر پر دلالت کرتی ہیں (جیسے زبان سے بات آنکھ سے ایماء ہاتھ پاؤں سے یا سر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(41) حضرت زکریا ؑ نے عرض کیا کہ اے میرے رب ! میری بیوی کے حمل ٹھہرجانے پر کوئی ظاہری نشانی مقرر فرما دیجیے، ارشاد باری ہوا کہ تمہاری بیوی کے حاملہ ہونے پر تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے کچھ عرصہ تک بات نہ کرسکو گے اور اس میں گونگے ہونے کا کوئی عیب نہ ہوگا، سوائے ہونٹوں، آنکھوں اور ہاتھوں سے اشارہ کرنے کے یا یہ کہ زمین وغیرہ پر لکھ کر وضاحت کرنے کے۔ سو اپنے رب کو دل اور زبان سے بکثرت یاد کیجیے اور صبح وشام نماز پڑھتے رہنا جیسا کہ پڑھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ۔۔ : زکریا ؑ کا تعجب اس حد تک بڑھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس کی نشانی کی درخواست کردی، فرمایا کہ تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک صحیح سالم ہونے کے باوجود (ہاتھ یا ابرو وغیرہ کے) اشارے کے سوا لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے، لہٰذا اس دوران تم اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر اور تسبیح میں صرف کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 41۔ اس میں تین، مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قال رب اجعل لی ایۃ “۔ یہاں جعل بمعنی صیر ہے کیونکہ یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے، اور لی مفعول ثانی کے محل میں واقع ہے، جب انہیں بچے کی بشارت دی گئی اور ان کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں تو انہوں نے علامت کا مطالبہ کیا جس کے ساتھ وہ اس امر کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کو پہچان لیں تو اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ چونکہ انہوں نے علامت اور نشانی کا مطالبہ کیا ہے لہذا ملائکہ کے ان کے آمنے سامنے ہونے کے بعد لوگوں کے ساتھ کلام کرنے سے سکوت اور خاموشی انہیں آپہنچے گی، (یعنی وہ کلام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

(1) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن المسیب (رح) سے لفظ آیت ” ان اللہ اصطفک وطھرک واصطفک علی نساء العلمین “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے یہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بہترین عورتیں اونٹوں پر سوار کرنے والیاں قریش کی عورتیں ہیں جو اپنے بچوں پر مہربان ہونے والیاں ہیں ان کی چھوٹی عمر میں اور شوہر کے ہاتھ میں جو مال ہے اس پر اچھی طرح نگاہ رکھنے والیاں ہیں ابوہریرہ ؓ سے فرمایا بنت عمران نے کبھی اونٹ پر سواری نہیں کی۔ (2) ابن ابی شیبہ، بخاری ومسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر اور ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (زکریا (علیہ السلام) نے) کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اجْعَلْ : تو بنا ] [لِّیْ : میرے لیے ] [اٰیَۃً : ایک نشانی ] [قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [اٰیَتُکَ : تیری نشانی ہے ] [اَلاَّ تُکَلِّمَ : کہ تو کلام نہیں کرے گا ] [النَّاسَ : لوگوں سے ] [ثَلٰـثَۃَ اَیَّامٍ : تین دن ] [اِلاَّ : مگر ] [رَمْزًا : اشارے سے ] [وَاذْکُرْ : اور تو یاد کر ] [رَّبَّکَ : اپنے رب کو ] [کَثِیْرًا : کثرت سے ] [وَّسَبِّحْ : اور تو تسبیح کر ] [بِالْعَشِیِّ : شاموں کو ] [وَالْاِبْکَارِ : اور صبح سویرے ] ر م ز رَمَزَ (ن۔ ض) رَمْزًا : اشاروں میں بات سمجھانا ‘ اشارہ کرنا۔ رَمْزٌ (اسم ذات بھی ہے) : اشارہ۔ آیت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–41

حضرت زکریا کو استعجاب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب : جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بیٹا ملنے کی خوشخبری مل گئی اور بیٹے کی صفات بھی معلوم ہوگئیں تو بار گاہ خداوندی میں عرض کرنے لگے کہ میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میں تو بوڑھا ہوچکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے تو دعا ہی میں عرض کردیا تھا کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے اور اللہ کی قدرت پر بھروسہ کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی تھی اب جب دعا قبول ہوگئی تو تعجب کیوں کر رہے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں حضرات مفسرین کرام نے کئی باتیں لکھی ہیں اول یہ کہ ان کا سوال حصول ولد کی کیفیت سے تھا کہ مجھے اسی عورت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–41

قصہ دعا زکریا (علیہ السلام) برائے فرزند ارجمند۔ قال اللہ تعالی، ھنالک دعا زکریا ربہ۔۔۔ الی۔۔۔ والابکار۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) بوڑھے ہوچکے تھے اور اولاد سے ناامید ہوچکے تھے جب حضرت مریم کے پاس بےموس پھل دیکھے تو یکایک دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کہ میں بھی اولاد کی دعا کروں اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ مجھ کو بھی بےموسم میوہ مل جائے کیونکہ مرد پیر اور زن عاقر سے اولاد کا پیدا ہونا بھی ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ گرمیوں میں جاڑوں کے پھلوں کا مہیا ہوجاتا اس لیے کہ اللہ کی قدرت اور ارادہ کے لیے کسی سبب کا پایا جانا شرط نہیں پس اس وقت اور موقع کو دیکھ کر حضرت زکریانے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ اے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

59 :۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے گھر میں حمل کی علامت یہ وگی کہ تم متواتر تین دن تک لوگوں سے بات چیت نہیں کرسکو گے۔ تمہاری زبان بند ہوجائے گی اور تین دن صرف اشاروں ہی سے کام چلاؤگے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ انہ تعالیٰ حبس لسانہ ثلثۃ ایام فلم یقدران یکلم الناس الا رمزا (کبیر ج 2 ص 668) 60 زوال آفتاب سے غروب تک کو عشی اور صبح صادق سے چاشت تک کو ابکار کہتے ہیں۔ تسبیح سے بعض مفسرین نے نماز مراد لی ہے اور بعض نے ذکر سے ذکر قلبی اور تسبیح سے ذکر لسانی مراد لیا ہے۔ مطلب یہ کہ ان ایام میں شکر نعمت کے طور پر صبح شام زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔ نتیجہ : حضرت زکریا (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–41

ربط آیات : عمران کی بیوی کا خیال تھا کہ اس کے ہاں لڑکا ہوگا ، تو وہ اسے دین اور بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیگی۔ اور وہ بچہ دنیا کے اشغال سے بالکل آزاد ہوگا۔ اور ہمیشہ عبادت میں مصروف رہیگا۔ مگر جب وضع حمل ہوا۔ تو لڑکی پیدا ہوئی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر اپنے پروردگار سے کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بیٹی کو ہی قبول فرمالیا۔ اور اس کی نشونما کے لیے بہتر سامان پیدا کردیا۔ اس کے لیے غیر معمولی روزی کا بندوبست کیا۔ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) اس بچی یعنی حضرت مریم کے کمرے میں داخل ہوئے۔ تو وہاں انہوں نے بےموسم کے پھل دیکھے۔ عجیب کیفیت تھی۔ انہوں نے مریم سے پوچھا کہ یہ پھل کہاں سے آئے ہیں۔ تو انہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْٓ اٰيَۃً۝ 0 ۭ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰــثَۃَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا۝ 0 ۭ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ۝ 41 ۧ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–41

یہ حال دیکھ کر زکریا (علیہ السلام) کو تنبہ ہوا اور دل میں خیال گذرا کہ خدا تعالیٰ مجھ کو بھی بےموسم پیری میں پھل دے سکتا ہے۔ خدا سے نہایت عاجزی کے ساتھ اولاد کی دعا کی۔ ہیکل میں کھڑے ہوئے عبادت میں مصروف تھے اور یہی ان کی نماز تھی کہ فرشتے نے ان پر ظاہر ہو کر یہ بشارت دی کہ دیکھ خدا نے تیری دعا قبول کی۔ وہ تجھ کو ایک ایسا فرزند دیا چاہتا ہے کہ جس کا ہم نام تیرے خاندان میں کوئی نہیں۔ وہ بنی اسرائیل کا سردار ہوگا اور اس قوم کی خراب حالت کی اصلاح کرے گا اور حصور ہوگا یعنی خدا کی طرف سے نفسانی خواہشوں اور گناہوں سے روکا جاوے گا۔ اس کو ان چیزوں کی طرف از خود رغبت نہ ہوگی اور نبی ہوگا اور پاک باز…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 40–41

قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰـمٌ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْـکِبَرُ وَامْرَأَتِیْ عَاقِرٌط قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَا یَشَآئُ ۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْٓ اٰیَۃً ط قَالَ اٰیَتُـکَ اَلَّا تُـکَلِّمَ النَّاسَ ثلٰـثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا ط وَاذْکُرْ رَّبَّـکَ کَثِیْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ ۔ ع (حضرت زکریا۔ ) نے کہا : اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ؟ اس حال میں کہ مجھے بڑھاپا آچکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے۔ اللہ نے فرمایا : اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس نے کہا : اے میرے رب ! تو میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دے۔ فرمایا : تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو تین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–42

فہم القرآن ربط کلام : خطاب کا رخ حضرت مریم [ کی طرف ہوتا ہے۔ سلسلۂ کلام یہاں تک پہنچا کہ حضرت مریم [ کی والدہ جو حضرت عمران (علیہ السلام) کی بیوی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نانی ہیں انہوں نے نذر مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے بیٹا عطا فرمائے گا تو وہ اس کو اللہ تعالیٰ کی نذر کر دے گی لیکن بیٹے کے بجائے مریم پیدا ہوئی تو اس نے مریم کو ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کردیا جو مسجد اقصیٰ کے متصل ایک حجرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتی تھی۔ جب حضرت مریم [ سن بلوغت کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ نے یہ پیغام دیا کہ اے مریم ! اللہ نے تجھے منتخب فرمالیا ہے گناہوں، حیض ونفاس اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

41: قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْٓ ٰایَۃً قَالَ ٰایَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰـثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًاط وَاذْکُرْ رَّبَّکَ کَثِیْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ ۔ (انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میرے واسطے کوئی نشانی مقرر کر دیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری نشانی یہی ہے کہ تم لوگوں سے تین روز تک باتیں نہ کرسکو گے سوائے اشارہ کے اور اپنے رب کو بکثرت یاد کرنا اور تسبیح کرنا دن ڈھلے بھی اور صبح کو بھی) قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْ ابو عمرو اور مدنی نے لِیَپڑھا۔ ٰایَۃً آیت سے مراد ایسی نشانی ہے جس سے میں حمل کو پہچان لوں اور نعمت کا استقبال شکر یے سے کروں۔ انسانی گفتگو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 41۔: (آیت)” قال رب اجعل لی آیۃ “ یعنی ایک علامت مقرر کیجئے میری بیوی کے حمل کے وقت تاکہ مزیدعبادت کے ذریعے شکر ادا کی جائے ، (آیت)” قال ایتک ان لا تکلم الناس “۔ تو بات کرنے سے رک جائے گا ” ثلاثۃ ایام “ تو قبول کر میری تمام عبادات کو اور میری زبان کو بات کرنے سے نہ روکیں ۔ (کلام نہ کرنے کی مختلف تفاسیر) کلام سے مراد دنیاوی کلام ہے نہ کہ ذکر خداوندی کہ آپ اللہ کی عبادت کر سکوگے ، جیسا کہ سورة مریم میں ہے (آیت)” الا تکلم الناس ثلاث لیال سویا “۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر دلیل ہے (آیت)” وسبح بالعشی والابکار “۔ ذکر اللہ کا حکم دیا گیا اور لوگوں سے کلام کرنے سے روک دیا گیا ” زبان کو تین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–41

(38 ۔ 41) ۔ حضرت زکریا کے قصہ کی پوری تفصیل سورة مریم میں آئے گی۔ مگر اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت زکریا نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا اور حضرت مریم کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانچھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطاء فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اسی خیال سے وہیں حضرت مریم کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ دعا قبول ہوئی اور ان کی بی بی کے حاملہ ہونے کی نشانی یہ قرار پائی کہ باوجود تندرست ہونے کے تین راتوں سوائے تسبیح اور تہلیل کے اور کچھ بات کسی سے نہ کرسکیں سید کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–41

آیت 38-41 زکریا نے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انہیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے۔ یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے اپنے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی (ان اللہ یبشرک بیحیی مصدقا بکلمۃ من اللہ) ” کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ “ (وسیدا) ” اور سردار “ یعنی اللہ آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لئے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ (و حصوراً ) ” اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 40–41

راتوں کے شمار میں دن اور دنوں کے شمار میں راتیں خودبخود آجاتی ہیں۔ قول باری ہے (قال رب اجعل لی ایۃ قال ایتک الاتکلہ الناس ثلثۃ ایام الارمزا، عرض کیا، مالک ! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقررفرمادے، کہا نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرسکوگے) کہاجاتا ہے کہ حضرت زکریاعلیہ السلام نے وقت حمل کے لیئے نشانی طلب کی تاکہ خوشی کے حصول میں عجلت ہوجائے، انہیں یہ نشانی دی گئی کہ ان کی زبان رک گئی۔ اور وہ اشارہ کے سوالوگوں سے گفتگو کرنے کے قابل نہ رہے۔ حسن بصری ربیع اور قتادہ سے یہی مروی ہے۔ اس آیت میں قول باری ہے (ثلثۃ آیام) اور سورئہ مریم میں بعینہ اس واقعہ کے سلسلے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

94 حضرات انبیائے کرام نہ عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ مختار کل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر حضرت زکریا نے عرض کیا کہ اے میرے رب میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے۔ یعنی کوئی ایسی نشانی مقرر فرما دی جائے جس سے معلوم ہوجائے کہ استقرار حمل ہوگیا ہے، اور اس طرح آثار ولادت دیکھ کر تیری طرف سے ملنے والی اس عظیم الشان نعمت کے شکر میں مشغول ہوجاؤں، اور اس طرح شکر نعمت کی بدولت اور اس کے ذریعہ میں تیری مزید نعمتوں سے سرفراز ہو سکوں، کہ تیرا شکر ہی دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ وضامن ہے۔ اللہ توفیق بخشے۔ آمین۔ یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضرات انبیائے کرام نہ عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ مختار کل، ورنہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–41

حضرت یحیٰی (علیہ السلام) کی پیدائش تشریح : ان آیات میں اللہ کا اکمل ہونا اور دعا کی برکتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) بیٹے کی بشارت کا سن کر حیران ہوگئے اور بےاختیار کہہ اٹھے کہ اے رب العزت میرے ہاں بیٹا کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ میں بہت بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ اس پر رب العزت نے جواب دیا کہ میری کبریائی، میری عظمت اور میری قدرت یہی ہے کہ میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں جو چاہوں کرسکتا ہوں۔ اس پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا باری تعالیٰ مجھے بچے کی پیدائش کی کوئی نشانی بتا دیجئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی نشانی یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–41

آیات 31- 41 اسرارو معارف قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔ رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔ محبت ، محب اور محبوب : اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 40–41

ف 1 یعنی تم تین دن تک صحیح سالم ہونے کے باجود ہاتھ یا ابرو کے اشارے کے سوا لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے۔ اس حال میں تم اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر اور تسبیح میں صرف کرو۔ (ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 41–42

(3:41) العشی۔ شام۔ سورج ڈھلے۔ بعد زوال۔ دن کا پچھلا وقت۔ زوال سے لے کر صبح تک کا وقت۔ نماز مغرب سے لے کر عشاء کی نماز تک کا وقت۔ الابکار۔ صبح بروزن افعال اسم ہے۔ فائدہ نمبر 1: آیات نمبر 40 اور 41 میں کلام مابین زکریا اور اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لئے سوال منجانب زکریا (علیہ السلام) ہے اور جواب منجانب اللہ تعالیٰ ہے۔ فائدہ نمبر 2: حضرت یحییٰ کا شجرہ نسب کچھ یوں بنتا ہے۔ (حضرت) داؤد ام مریم حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہمشیرہ مریم مریم (حضرت) حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–41

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41 اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–41

حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا۔ اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانجھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطا فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں۔ اسی خیال سے وہیں حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ قبول ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–43

[17] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرنے والا۔ کلمتہ اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ محض اللہ کے حکم سے خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

روحانی وسائل : (ف 3) حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بشارت کی تحقیق کے لئے پوچھا کہ اس کے وقوع کی علامات کیا ہوں گی ؟ خدا نے فرمایا ، تیری زبان گنگ ہوجائے گی اور تو تین دن تک بجز اشارات کے اظہار مطلب نہ کرسکے گا اور اس اثنا میں تو رب العزت کی صبح وشام تسبیح و تقدیس کر ، ان آیات میں یہ بتایا کہ مرد مومن محض مادی اسباب ووسائل پر بھروسہ نہیں رکھتا ، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے روحانی وسائل کا طالب رہتا ہے ، ایک مادہ پرست انسان تلقین سن کر ہنس دے گا کہ وظیفہ تولید کو عبادت سے کیا تعلق ؟ لیکن جن کے دماغ فلسفہ سے یا بس اور خشک نہیں ہوگئے ، اس بات کو تسلیم کریں گے کہ ہر مادی نتیجہ معلول ہوتا ہے روحانی اسباب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 41–43

ف 2۔ اس بشارت کو سن کر حضرت زکریا نے عرض کیا اے پروردگار ! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا اور اس کے ہونے کی صورت کیا ہوگی کیونکہ میری حالت تو یہ ہے کہ مجھ کو بڑھانے نے آلیا ہے اور میری بیوی بھی بڑھاپے کی وجہ سے بچہ جننے کے قابل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اسی طرح اسی حالت میں کہ تم بوڑھے ہو اور تمہاری بیوی بانجھ ہے تمہارے ہاں لڑکا ہوجائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ اس پر حضرت زکریا نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجئے یعنی کوئی ایسی نشانی جس سے مجھے حمل کا قرار پانا معلوم ہو سکے۔ اس پر ارشاد ہوا ، تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–42

ف 1۔ فرشتوں کا کلام کرنا خواص نبوت سے نہیں۔ 2۔ لفظ نساء سے جو کہ خاص ہے بالغہ کے ساتھ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہنا فرشتوں کا حضرت مریم (علیہا السلام) کے جوان ہونے کے بعد تھا اور اس بنا پر اصطفاء کے مکرر لانے کی یہ توجیہہ ہوسکتی ہے کہ پہلا اصطفاء بچپن کا ہو، اور اصطفاء ثانی جوانی کا ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس خاص موقع پر خاص طرح کا شکریہ ادا کرنے کا شوق : 102: زکریا (علیہ السلام) کا یہ اشراد کہ اے میرے رب ! اس بشارت کے متعلق میرے لیے کوئی بات بطور شکریہ نشانی ٹھہرا دے۔ جس طریقہ سے میں تیرے اس انعام بےپایاں کا شکریہ ادا کرسکوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی خبر میں کوئی شک اور ابہام تو رہ نہیں جاتا اب یہ بات تو نہیں کہی جاسکتی کہ شایدبچہ ہو یا نہ ہو۔ ظاہر ہی ہے کہ بچہ تو ہوگا اور پھر بچہ بھی کوئی معمولی بچہ نہیں ہوگا بلکہ ایک شاندار بچہ ہوگا جس کی عمر کی بھی ایک حد تک وضاحت فرما دی گئی ہے اور پھر یہ بھی ہوا کہ وہ بچہ تیرا نبی بنے گا۔ گویا ” یَرِثُنِىْ وَیَرِثُ اٰلِ یَعْقُوْب “ کی دعا کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

2. With reference to verse 41, Sayyidna Zakariyya's purpose behind requesting a sign (of pregnancy) was to be happy at the prospect and thus be enabled to show their gratitude all along even prior to the actual birth of the child. So, Allah gave him the sign stated above. The sign given was remarkably suitable to its purpose. His request for a sign was prompted by his wish to show his gratefulness. Now, the sign set for him leaves him incapable of doing anything but this. Even a hundred signs would have not done what this one sign did and, of course, the noble purpose he had on his mind was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

41. Here the request is made for some specific sign to be given by means of which Zechariah would come to know in advance when the unusual incident of the birth of a child to a couple, where the male was old and the female both old and barren, would take place. 42. The real purpose of this discourse is to disclose to the Christians the error of their belief in Jesus as God and as the son of God. The subject is introduced by mentioning the birth of John (peace be on him) , anothermiraculous birth which had taken place only six months before the birth of the Messiah (peace be on him) and among…

Read the full tafseer →