Explained with ayahs 38–41
حاصل دعا یحییٰ ؑ
حضرت زکریا ؑ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریم (علیہما السلام) کو بےموسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بےموسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لئے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے نداء خفیا یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 40
یعنی تیرے بڑھاپے اور تیری بیوی کے بانجھ پن کے باوجود اللہ تجھے بیٹا دے گا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(حضرت) زکریا ؑ نے (جناب باری میں) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ مجھ کو بڑھاپا آپہنچا اور میری بی بی بھی (بڑھاپے کی وجہ سے) بچہ جننے کے قابل نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے (جواب میں) فرمایا کہ ایسی حالت میں ہی لڑکا ہوجاوے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ جو کچھ ارادہ کریں کردیتے ہیں، انہوں نے عرض کیا کہ اے پروردگار (تو پھر) میرے واسطے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے (جس سے مجھے معلوم ہوجائے کہ اب حمل ہوگیا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری نشانی یہی ہے کہ تم لوگوں سے تین روز تک باتیں نہ کرسکو گے بجز (ہاتھ یا سر وغیرہ کے) اشارہ کے (جب یہ نشانی دیکھو تو سمجھ جانا کہ اب گھر میں…
Read the full tafseer →یہ سوال تعجب یا شک یا انکار کی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ یہ نہایت حسین وبلیغ انداز سے طلب تصدیق ہے۔ ان کے سامنے اس بشارت کے ظاہر ہونے میں جو رکاوٹیں تھیں وہ بیان کر کے حضرت زکریا نے چاہا کہ یہ تصریح کرا لیں کہ ان رکاوٹوں کے باوجود یہ بشارت ظاہر ہونے کی شکل یہ ہوگی۔ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ ، یہ بات یوں ہی ہوگی۔ یعنی اللہ کا ارادہ یوں ہی ہے کہ یحییٰ کی ولادت بوڑھے باپ اور بانجھ ماں کے ہاں ہو۔ اصل چیز اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہی ہے۔ اسباب تو محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ اللہ چاہے تو پتھر کے اندر سے پانی چشمے جاری ہوسکتے ہیں اور صحرا کے سینے سے حباب اٹھ سکتے ہیں۔ قرآن میں اس قسم کا سوال و جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
41۔ 1 بڑھاپے میں معجزانہ طور پر اولاد کی خوشخبری سن کر اشتیاق میں اضافہ ہوا اور نشانی معلوم کرنی چاہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تین دن تیری زبان بند ہو جائیگی۔ جو ہماری طرف سے بطور نشانی ہوگی لیکن تو اس خاموشی میں کثرت سے صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کیا کر تاکہ اس نعمت الٰہی کا جو تجھے ملنے والی ہے شکر ادا ہو یہ گویا سبق دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری طلب کے مطابق تمہیں مزید نعمتوں سے نوازے تو اسی حساب سے اس کا شکر بھی زیادہ سے زیادہ کرو۔
Read the full tafseer →15: دعا حضرت زکریا ؑ نے خود مانگی تھی، اس لئے یہ سوال خدانخواستہ کسی بےیقینی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ایک غیر معمولی نعمت کی خبر سن کر تعجب کا اظہار تھا جو درحقیقت شکر کا ایک انداز ہے، نیز سوال کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا بچہ اسی بڑھاپے کی حالت میں پیدا ہوجائے گا یا ہماری جوانی لوٹادی جائے گی، اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا " اسی طرح " یعنی لڑکا اسی بڑھاپے کی حالت میں پیدا ہوگا۔
Read the full tafseer →” زکریا نے کہا پروردگار ‘ بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا۔ میں تو بہت بوڑھا ہوچکا ہوں اور میر بیوی بانجھ ہے ۔ “ اس کا جواب بڑی سادگی اور بڑی آسانی سے دیدیا جاتا ہے بات اپنی جگہ تک آجاتی ہے ۔ اور ایسی حقیقت کو پیش کردیا جاتا ہے جس کے فہم میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ اور جس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی تعجب نہیں ہوتا۔ قَالَ كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ……………” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ “ یہی طریقہ ہے ‘ جو فی الحقیقت روبعمل ہے ۔ رات دن دہرایا جاتا ہے ۔ اللہ کی مشیئت کام کرتی رہتی ہے ۔ اللہ کے کام روز وشب یونہی ہوتے ہیں ۔ لیکن لوگ ان واقعات پر اچھی طرح غور نہیں کرتے ۔ وہ اللہ کی اس کاریگری کا گہرا…
Read the full tafseer →1 یعنی اس کی قدرت و مشیت سلسلہ اسباب کی پابند نہیں۔ گو اس عالم میں اسکی عادت یہ ہے کہ اسباب عادیہ سے مسببات کو پیدا کرے لیکن کبھی کبھی اسباب عادیہ کے خلاف غیر معمولی طریقہ سے کسی چیز کا پیدا کردینا بھی اس کی خاص عادت ہے، اصل یہ ہے کہ مریم صدیقہ کے پاس خارق عادت طریقہ سے رزق کا پہنچنا اور بہت سے غیر معمولی واقعات کا ظہور پذیر ہونا، یہ دیکھ کر مریم کے حجرہ میں بیساختہ حضرت زکریا کا دعا مانگنا پھر انکو اور ان کی بانجھ عورت کو بڑھاپے میں غیر معتاد طور پر اولاد ملنا، ان سب نشانات کو قدرت کی طرف سے اس عظیم الشان آیت الہٰیہ کی تمہید سمجھنا چاہیے جو مریم کے وجود سے بدون قربان زوج مستقبل قریب میں ظاہر…
Read the full tafseer →آیت 40 قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ زکریا علیہ السلام نے
ابھی خود دعا کر رہے تھے ‘ لیکن اللہ کی طرف سے بیٹے کی بشارت ملنے پر غالباً اس کی توثیق اور re-assurance چاہ رہے ہیں کہ میرے ہاں کیسے بیٹا ہوجائے گا ؟
وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ وَامْرَاَتِیْ عَاقِرٌ ط قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ
اسے اسباب کی احتیاج نہیں ہے۔ اسباب اس کے محتاج ہیں ‘ اللہ اسباب کا محتاج نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
42 حضرت زکریا بےاولاد تھے، خود بوڑھے ضعیف اور بیوی بانجھ تھی۔ اولاد کی کوئی توقع نہ تھی۔ کیونکہ ظاہری اسباب منقطع تھے۔ مگر اولاد کی خواہش ضرور تھی۔ حضرت مریم کا یہ جواب سن کر فوراً خیال آیا کہ اللہ تو خرق عادت امور پر بھی قادر ہے کیوں نہ اپنے لیے دعا کر دیکھوں۔ ممکن ہے شرف قبولیت حاصل ہوجائے۔ چناچہ اس خیال کے آتے ہی اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے نیک سیرت اولاد کی دعا فرمائی۔
Read the full tafseer →106 ۔ انجیل میں اس موقع پر ہے۔” زکریا (علیہ السلام) نے فرشتہ سے کہا میں اس بات کو کس طرح جانوں کیونکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بھی عمر رسیدہ ہے “۔ (لوقا۔ 1: 18) ان کے اولاد نہ تھی کیونکہ الیشبع بانجھ تھی اور دونوں عمررسیدہ تھے “۔ (لوقا 1:7) (آیت) ” انی یکون لی غلم “۔ یعنی اس بشارت کے تحقق کی متعین صورت آخر کیا ہوگی ؟ آیا میری جوانی عود کر آئے گی یا اور کوئی خاص انقلاب ہوگا ؟ وعدہ الہی سے بےاعتباری کا یہاں کوئی سوال نہیں۔ حضرت تو محض متعین صورت جاننا چاہتے ہیں۔ لیکن بالفرض عدم اطمینان بھی مراد لی جائے۔ جب بھی خلاف اسباب عاد یہ کسی شے کے غیر وقوع پر حیرت بالکل طبعی ہے اور پیغمبر بھی امور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلَامٌ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ وَامْرَاَتِیْ عَاقِرٌ، حضرت زکریا (علیہ السلام) کا سوال شک کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ کیفیت معلوم کرنے کے لیے تھا۔ آیا ہم دونوں کی جوانی لوٹا دی جائے گی یا بڑھاپا بدستور رہنے کے باوجود اولاد ہوگی یا کیا صورت ہوگی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی حالت میں اولاد ہوگی۔
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ : حضرت زکریا نے جبرائیل ( علیہ السلام) کی طرف توجہ دیئے بغیر مناجات میں کہا اے میرے رب میرے ہاں لڑکاکہاں ہوسکتا ہے ؟ حضرت زکریا سے اس قول کا صدور بلا اختصار بتقاضائے بشریت ہوا تھا آپ کو عادت قدرت کی اس شکست پر تعجب بھی ہوا اور حیرت بھی اور اس بات کو آپ نے بہت بڑا بھی سمجھا مگر یہ سب کچھ طبیعت بشری کے زیر اثر ہوا کبھی طبیعت بشری عقل اور علم پر غالب آجاتی ہے علم اور عقل کا فیصلہ ہے کہ قدرت خدا سے نہ کوئی چیز بعید ہے نہ تعجب انگیز مگر طبیعت بشری معمول قدرت کی شکست کو بعید بھی جانتی ہے اور عجیب بھی۔ جیسے کہ حضرت موسیٰ نے وعدہ کرلینے کے بعد بھی (بتقاضائے…
Read the full tafseer →(40) تب جوابا حضرت زکریا ؑ نے بواسطہ جبرائیل ؑ جناب باری تعالیٰ میں عرض کیا کہ میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بھی بڑھاپے کی وجہ سے بچہ جننے کے قابل نہیں، تب اللہ کی طرف سے غائبانہ آواز آئی کہ اے زکریا ؑ جیسا تم سے کہا گیا ہے اسی طرح ہوگا۔
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ۔۔ : دعا کی فوری قبولیت اور بظاہر ناممکن کام کی بشارت پر انھیں تعجب ہوا۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود ہی دعا کر رہے ہیں اور پھر خود ہی انھیں اتنا تعجب ہو رہا ہے کہ یہ کیسے ہوگا ؟ جو اب ملا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 40۔
کہا گیا ہے : یہاں رب سے مراد جبریل امین (علیہ السلام) ہیں یعنی انہوں نے حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کو کہا : رب اے میرے سردار۔۔۔ کیونکر میرے ہاں لڑکا ہوگا ؟ یہ کلبی کا قول ہے۔
اور بعض نے کہا ہے : رب سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ ” انی “ بمعنی کیف ہے اور یہ ظرف ہونے کی بنا پر محل رفع میں ہے اور اس استفہام کے معنی میں دو وجہیں ہیں ایک یہ ہے کہ انہوں نے سوال کیا کیا اس کے ہاں بچہ ہوگا حالانکہ وہ اور اس کی بیوی اپنے اس حال پر ہیں یا انہیں اس حال پر لوٹا دیا جائے گا جس سے بچہ ہو سکتا ہے ؟ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سوال کیا کیا انہیں اپنی اسی بانجھ بیوی سے بچہ عطا کیا جائے گا یا…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب زکریا (علیہ السلام) نے آواز کو سنا تو ان کے پاس شیطان آیا اور کہنے لگا اے زکریا (علیہ السلام) یہ آواز جو تو نے سنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی وہ تو شیطان کی طرف سے تھی تاکہ تجھ سے مذاق بنائے اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو تیری طرف وحی آتی جیسا کہ وحی آتی ہے تیری طرف اس کے علاوہ دوسرے کام کے لیے تو اس موقعہ پر ان کو شک ہوا تو اس پر فرمایا لفظ آیت ” قال رب انی یکون لی غلم “ یعنی کیسے میرے لئے بچہ ہوگا۔
(2) ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کے پاس شیطان آیا اور اس نے ان پر ارادہ کیا کہ ان کو اپنے رب کی نعمت کو مکدر…
Read the full tafseer →[قَالَ : انہوں نے کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اَنّٰی : کہاں سے ] [یَکُوْنُ : ہوگا ] [ لِیْ : میرے لیے ] [غُلٰـمٌ : کوئی لڑکا ] [وَّ : اس حال میں کہ ] [قَدْ بَلَغَنِیَ : پہنچ چکا ہے مجھ کو ] [الْکِبَرُ : بڑھاپا ] [وَامْرَاَتِیْ : اور میری عورت ] [عَاقِرٌ : بانجھ ہے ] [قَالَ : (فرشتے نے) کہا ] [کَذٰلِکَ : اس طرح (ہی ہے) ] [اللّٰہُ : اللہ ] [یَفْعَلُ : کرتا ہے ] [مَا : وہ جو ] [یَشَآئُ : وہ چاہتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
حضرت زکریا کو استعجاب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب :
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بیٹا ملنے کی خوشخبری مل گئی اور بیٹے کی صفات بھی معلوم ہوگئیں تو بار گاہ خداوندی میں عرض کرنے لگے کہ میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میں تو بوڑھا ہوچکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے تو دعا ہی میں عرض کردیا تھا کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے اور اللہ کی قدرت پر بھروسہ کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی تھی اب جب دعا قبول ہوگئی تو تعجب کیوں کر رہے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں حضرات مفسرین کرام نے کئی باتیں لکھی ہیں اول یہ کہ ان کا سوال حصول ولد کی کیفیت سے تھا کہ مجھے اسی عورت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
قصہ دعا زکریا (علیہ السلام) برائے فرزند ارجمند۔
قال اللہ تعالی، ھنالک دعا زکریا ربہ۔۔۔ الی۔۔۔ والابکار۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) بوڑھے ہوچکے تھے اور اولاد سے ناامید ہوچکے تھے جب حضرت مریم کے پاس بےموس پھل دیکھے تو یکایک دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کہ میں بھی اولاد کی دعا کروں اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ مجھ کو بھی بےموسم میوہ مل جائے کیونکہ مرد پیر اور زن عاقر سے اولاد کا پیدا ہونا بھی ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ گرمیوں میں جاڑوں کے پھلوں کا مہیا ہوجاتا اس لیے کہ اللہ کی قدرت اور ارادہ کے لیے کسی سبب کا پایا جانا شرط نہیں پس اس وقت اور موقع کو دیکھ کر حضرت زکریانے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ اے…
Read the full tafseer →57:۔ اَنّیٰ بمعنی کیف ہے اور وَقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ اور وَامْرَاَتِیْ عَاقِر دونوں جملے حالیہ ہیں اور لِیْ میں یائے متکلم سے حال ہیں۔ خوشخبری سن کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اس پر تعجب ہوا کہ بیٹا پیدا ہونے کے ظاہری اسباب مفقود ہیں۔ میں ہوں تو ننانوے سال کا بوڑھا بیوی ہے تو وہ سرے سے قابل ولادت ہی نہیں۔ اس لیے ان حالات میں ہمارے ہاں بیٹے کا پیدا ہونا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ان الفاظ میں تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔
58 اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ میری قدرت کاملہ کی کوئی انتہا نہیں اسی طرح خلاف عادت بلا اسباب عادیہ میں جو چاہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
ربط آیات : عمران کی بیوی کا خیال تھا کہ اس کے ہاں لڑکا ہوگا ، تو وہ اسے دین اور بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیگی۔ اور وہ بچہ دنیا کے اشغال سے بالکل آزاد ہوگا۔ اور ہمیشہ عبادت میں مصروف رہیگا۔ مگر جب وضع حمل ہوا۔ تو لڑکی پیدا ہوئی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر اپنے پروردگار سے کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بیٹی کو ہی قبول فرمالیا۔ اور اس کی نشونما کے لیے بہتر سامان پیدا کردیا۔ اس کے لیے غیر معمولی روزی کا بندوبست کیا۔ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) اس بچی یعنی حضرت مریم کے کمرے میں داخل ہوئے۔ تو وہاں انہوں نے بےموسم کے پھل دیکھے۔ عجیب کیفیت تھی۔ انہوں نے مریم سے پوچھا کہ یہ پھل کہاں سے آئے ہیں۔ تو انہوں…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ وَّقَدْ بَلَغَنِىَ الْكِبَرُ وَامْرَاَتِيْ عَاقِرٌ 0 ۭ قَالَ كَذٰلِكَ اللہُ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ 40
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
یہ حال دیکھ کر زکریا (علیہ السلام) کو تنبہ ہوا اور دل میں خیال گذرا کہ خدا تعالیٰ مجھ کو بھی بےموسم پیری میں پھل دے سکتا ہے۔ خدا سے نہایت عاجزی کے ساتھ اولاد کی دعا کی۔ ہیکل میں کھڑے ہوئے عبادت میں مصروف تھے اور یہی ان کی نماز تھی کہ فرشتے نے ان پر ظاہر ہو کر یہ بشارت دی کہ دیکھ خدا نے تیری دعا قبول کی۔ وہ تجھ کو ایک ایسا فرزند دیا چاہتا ہے کہ جس کا ہم نام تیرے خاندان میں کوئی نہیں۔ وہ بنی اسرائیل کا سردار ہوگا اور اس قوم کی خراب حالت کی اصلاح کرے گا اور حصور ہوگا یعنی خدا کی طرف سے نفسانی خواہشوں اور گناہوں سے روکا جاوے گا۔ اس کو ان چیزوں کی طرف از خود رغبت نہ ہوگی اور نبی ہوگا اور پاک باز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰـمٌ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْـکِبَرُ وَامْرَأَتِیْ عَاقِرٌط قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَا یَشَآئُ ۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْٓ اٰیَۃً ط قَالَ اٰیَتُـکَ اَلَّا تُـکَلِّمَ النَّاسَ ثلٰـثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا ط وَاذْکُرْ رَّبَّـکَ کَثِیْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ ۔ ع
(حضرت زکریا۔ ) نے کہا : اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ؟ اس حال میں کہ مجھے بڑھاپا آچکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے۔ اللہ نے فرمایا : اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس نے کہا : اے میرے رب ! تو میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دے۔ فرمایا : تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فہم القرآن
ربط کلام : خطاب کا تسلسل جاری ہے۔
قدرت کاملہ کی طرف سے دنیا میں کچھ واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں کہ جن کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے آدمی ان کی توقع نہیں کرسکتا۔ لیکن انسان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ سامنے آجاتے ہیں اور آدمی ان کو دیکھ کر حیرت کی تصویر بن جاتا ہے ایسے واقعات پر تعجب کا اظہار کرنے سے کوئی شخص مستثنیٰ نہیں ہوا کرتا۔ یہاں تک کہ کچھ واقعات پر انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی تعجب میں مبتلا ہوجاتے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور زندگی سے متعلقہ کئی واقعات ایسے ہیں جو زمانے میں پہلی اور ایک ہی دفعہ رونما ہوئے۔ ان واقعات میں ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →40: قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ وَامْرَاَتِیْ عَاقِرٌ قَالَ کَذٰ لِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَایَشَآ ئُ ، قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ (کہا اے میرے رب کیسے ہوگا میرے لئے لڑکا) یہ عادت کے اعتبار سے استبعاد کا اظہار ہے اور قدرت کو عظیم ترقرار دینا ہے۔ شک ظاہر کرنا نہیں۔ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ (پس تحقیق مجھے بڑھاپا پہنچ چکا) جیسا کہتے ہیں ادرکتہ السن العالیۃ یعنی وہ بڑی عمر کا ہوگیا۔ اب مطلب یہ ہوا کہ مجھ میں بڑھاپے کا اثر ہوگیا اور اس نے مجھے ضعیف کردیا۔ اس وقت انکی عمر 99 سال تھی۔ اور بیوی کی عمر 98 سال تھی وَامْرَاَتِیْ عَاقِرٌ (اور میری…
Read the full tafseer →(تفسیر) 40۔:ـ
(آیت)” قال رب “ اصل میں یا سیدی تھا اے میرے سردار ! حضرت زکریا (علیہ السلام) نے جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا یہی قول کلبی (رح) اور ایک جماعت کا ہے (آیت)” انی یکون “ ۔۔۔۔۔۔ ” این یکون “ کے معنی میں ہے ” لی غلام “ کہ میرا غلام کہاں سے آئے گا ۔
(حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی خوشخبری کے وقت حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر)
(آیت)” وقد بلغنی الکبیر “۔ یہ مقلوب کی قسم ہے مطلب یہ ہے کہ میں بوڑھاپے میں پہنچ چکا ہوں جیسا کہ کہا جاتا ہے ” بلغنی الجھد ای انا من الجھد “ کہ مجھے مشقت پہنچی ہے ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ مجھے کبر پہنچ چکا اور بوڑھاپے نے مجھے کمزور کردیا ، کلبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
(38 ۔ 41) ۔ حضرت زکریا کے قصہ کی پوری تفصیل سورة مریم میں آئے گی۔ مگر اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت زکریا نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا اور حضرت مریم کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانچھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطاء فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اسی خیال سے وہیں حضرت مریم کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ دعا قبول ہوئی اور ان کی بی بی کے حاملہ ہونے کی نشانی یہ قرار پائی کہ باوجود تندرست ہونے کے تین راتوں سوائے تسبیح اور تہلیل کے اور کچھ بات کسی سے نہ کرسکیں سید کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
آیت 38-41
زکریا نے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انہیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے۔ یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے اپنے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی (ان اللہ یبشرک بیحیی مصدقا بکلمۃ من اللہ) ” کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ “ (وسیدا) ” اور سردار “ یعنی اللہ آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لئے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ (و حصوراً ) ” اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
راتوں کے شمار میں دن اور دنوں کے شمار میں راتیں خودبخود آجاتی ہیں۔
قول باری ہے (قال رب اجعل لی ایۃ قال ایتک الاتکلہ الناس ثلثۃ ایام الارمزا، عرض کیا، مالک ! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقررفرمادے، کہا نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرسکوگے) کہاجاتا ہے کہ حضرت زکریاعلیہ السلام نے وقت حمل کے لیئے نشانی طلب کی تاکہ خوشی کے حصول میں عجلت ہوجائے، انہیں یہ نشانی دی گئی کہ ان کی زبان رک گئی۔ اور وہ اشارہ کے سوالوگوں سے گفتگو کرنے کے قابل نہ رہے۔ حسن بصری ربیع اور قتادہ سے یہی مروی ہے۔ اس آیت میں قول باری ہے (ثلثۃ آیام) اور سورئہ مریم میں بعینہ اس واقعہ کے سلسلے میں…
Read the full tafseer →91 حضرت زکریا کے تعجب واستعجاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر حضرت زکریا نے عرض کیا کہ اے میرے رب میرے یہاں کوئی لڑکا کس طرح ہوگا جبکہ میں بڑھاپے کی انتہاء کو پہنچ گیا ہوں۔ یعنی ایسے آخری درجے کا بڑھاپا جس میں عادۃً بچہ پیدا ہونے کا امکان باقی نہیں رہتا۔ روایات کے مطابق اس وقت آپ کی عمر مبارک ایک سو بیس برس ہوچکی تھی، اور آپ کی بیوی کی اٹھانوے برس۔ (معارف، صفوۃ، وغیرہ وغیرہ) ۔ اور اس عرض کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ایسی صورت حال میں بچہ پیدا ہونے کی شکل کیا ہوگی، جبکہ بظاہر یہ چیز بہت بعید از امکان نظر آتی ہے۔ سو اس سوال کے جواب سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ایسے انتہا درجے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
حضرت یحیٰی (علیہ السلام) کی پیدائش
تشریح : ان آیات میں اللہ کا اکمل ہونا اور دعا کی برکتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) بیٹے کی بشارت کا سن کر حیران ہوگئے اور بےاختیار کہہ اٹھے کہ اے رب العزت میرے ہاں بیٹا کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ میں بہت بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ اس پر رب العزت نے جواب دیا کہ میری کبریائی، میری عظمت اور میری قدرت یہی ہے کہ میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں جو چاہوں کرسکتا ہوں۔ اس پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا باری تعالیٰ مجھے بچے کی پیدائش کی کوئی نشانی بتا دیجئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی نشانی یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
آیات 31- 41
اسرارو معارف
قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔
رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔
محبت ، محب اور محبوب :
اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 1 یعنی تم تین دن تک صحیح سالم ہونے کے باجود ہاتھ یا ابرو کے اشارے کے سوا لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے۔ اس حال میں تم اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر اور تسبیح میں صرف کرو۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(3:40) الکبیر۔ اسم مصدر۔ بڑھاپا۔ پیرانہ سالی۔
عاقر۔ بانجھ۔ عقارۃ سے جس کے معنی عورت کے بانجھ ہونے کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41
اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا۔ اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانجھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطا فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں۔ اسی خیال سے وہیں حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ قبول ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
[17] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرنے والا۔ کلمتہ اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ محض اللہ کے حکم سے خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تھے۔
Read the full tafseer →(ف 2) حضرت زکریا (علیہ السلام) نبی ہونے کے ساتھ ساتھ چونکہ انسان بھی تھے ، اس لئے بشری نفسیت برابر کام کرتی رہی ، آپ نے از راہ استبعاد اور تعجب پوچھا ، اللہ ! یہ کیسے ممکن ہے جب کہ میں حد سے زیادہ بوڑھا ہوچکا اور میری بیوی بھی جوان نہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کذلک اللہ یفعل ما یشآء “۔ یعنی یہ معتاد قوانین تمہارے لئے ہیں اللہ تعالیٰ کسی قانون کا پابند اور محتاج نہیں وہ کبھی کبھی اپنی قدرت کے اظہار کے لئے ایسے خوارق ضرور پیدا کرتا ہے ، تاکہ بےدین اور ملحد لوگ اس کی جلالت قدر کا صحیح اندازہ کریں ،
جب لوگ اسباب ووسائل کی غیر معمولی اہمیت دے دیتے ہیں اور ہر بات کو مادی ذرائع کے ماتحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 1۔ اس موقع پر حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی اور یوں عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ کو خاص اپنی بارگاہ سے نیک اور اچھی اولاد عنایت کر دیجئے بلاشبہ آپ دعا کے بہت سننے والے ہیں یعنی سنتے اور قبول فرماتے ہیں ۔ اس پر فرشتوں نے ان کو جبکہ وہ مسجد میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے پکار کر کہا کہ اللہ تعالیٰ تم کو یحییٰ نامی لڑکے کی بشارت دیتا ہے جس کی حالت یہ ہوگی کہ وہ کلمۃ اللہ یعنی حضرت عیبیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا اور سردار یعنی دینی پیشوا ہوگا اور اپنی خواہشات نفس پر پوری طرح قابو یافتہ ہوگا اور وہ نیکو کاروں میں سے ایک نبی ہوگا۔ ( تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
ف 1۔ فرشتوں کا کلام کرنا خواص نبوت سے نہیں۔
2۔ لفظ نساء سے جو کہ خاص ہے بالغہ کے ساتھ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہنا فرشتوں کا حضرت مریم (علیہا السلام) کے جوان ہونے کے بعد تھا اور اس بنا پر اصطفاء کے مکرر لانے کی یہ توجیہہ ہوسکتی ہے کہ پہلا اصطفاء بچپن کا ہو، اور اصطفاء ثانی جوانی کا ہو۔
Read the full tafseer →زکریا (علیہ السلام) لڑکے کی بشارت سن کر متعجب کیوں ہوئے ؟ :
100: زکریا (علیہ السلام) نے لڑکے کی بشارت سن کر فرمایا : ” اے اللہ ! اے میرے رب ! میرے ہاں ! لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ؟ “ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب مریم [ کے حجرہ اطہر میں زکریا (علیہ السلام) نے مناجات کی تھیں جس میں لڑکے کے لیے دعا تھی اس میں اور اس بشارت میں کچھ مدت یقینی طور پر گزر چکی تھیں خواہ وہ پانچ سات سال ہو یا آٹھ دس سال۔ تب ہی تو آپ کو تعجب ہوا کہ مدت درازتک تو دعائیں کرتارہا لیکن اب تو ظاہری حالات مایوس کن حد تک پہنچ چکے ہیں۔ پھر سوال تعجب کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Commentary
We have already seen that Sayyidna Zakariyya (علیہ السلام) believed in the absolute power of Allah and had seen its manifestation repeatedly and that he had himself made the prayer and knew of its acceptance as well, what then, did he mean by asking: 'how shall I have a boy?' The truth of the matter is that the question asked by him was not be-cause of any doubt in the absolute power of Allah. Quite contrary to this, the purpose of the question was to find out the state in which this was to happen: whether the present extreme old age of both of them would remain just as it was, or…
Read the full tafseer →40. God granted Zechariah a son despite his old age and despite the barrenness of his wife.
Read the full tafseer →