Explained with ayahs 38–41
حاصل دعا یحییٰ ؑ
حضرت زکریا ؑ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریم (علیہما السلام) کو بےموسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بےموسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لئے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے نداء خفیا یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 38
بائیبل میں ان کا نام ”یوحنا بپتسمہ دینے والا“ (John theBaptist) لکھا ہے۔ ان کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو متی باب 3 و 11 و 14۔ مرقس باب 1 و 6۔ لوقاباب 1 و 3۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 39
اللہ کے ”فرمان“ سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔ چونکہ ان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کے ایک غیر معمولی فرمان سے خرق عادت کے طور پر ہوئی تھی اس لیے ان کو قرآن مجید میں ”کَلِمَةٌ مِّنَ اللہ“ کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →پس پکار کر کہا اس سے فرشتوں نے جب کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے محراب میں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بشارت دیتے ہیں یحییٰ (نام بیٹا عطا ہونے) کی جن کے احوال یہ ہوں گے کہ وہ کلمۃ (یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے اور (دوسرے) مقتدائے (دین ہوں گے اور (تیسرے) اپنے نفس کو (لذات سے) بہت روکنے والے ہوں گے اور (چوتھے) نبی بھی ہوں گے اور (پانچویں اعلی درجہ کے شائستہ ہوں گے۔
معارف و مسائل
(کلمۃ اللہ) حضرت یحییٰ ؑ کو کلمۃ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے حکم سے خلاف عادت بلا واسطہ باپ کے پیدا کئے گئے۔ (حصورا) حضرت یحییٰ ؑ کی یہ تیسری صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنے نفس کو لذات سے بہت…
Read the full tafseer →مَلٰئِکَۃ کا لفظ یہاں اور خاص اس سیاق میں جہاں جہاں بھی آیا ہے جمع کی صورت میں آیا ہے۔ اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ حضرت زکریا نے ہاتف غیبی کی ندا سنی، تعین کے ساتھ انہوں نے فرشتے کو نہیں پہچانا، اس ابہام کے سبب سے قرآن نے کسی خاص فرشتہ کے بجائے فرشتوں کا ذکر فرمایا ہے جس سے یہ بات تو نکلتی ہے کہ زکریا کو جو آواز سنائی دی وہ ملکوتی تھی لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی اظہار ہو رہا ہے کہ یہ محض ایک غیبی آواز تھی جو ان کے کانوں میں پڑی۔ وَھُوَ قَاۗىِٕمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ ، یعنی ہاتف غیبی کی یہ آواز انہیں اس وقت سنائی دی جب وہ حجرے کے اندر نماز میں کھڑے تھے، یہ ایک قرینہ تھا اس بات کا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
39۔ 1 بےموسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا ؑ کے دل میں بھی (بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود) یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش اللہ تعالیٰ انہیں بھی اسی طرح اولاد سے نواز دے۔ چناچہ بےاختیار دعا کے لئے ہاتھ بارگاہ الٰہی میں اٹھ گئے جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔
39۔ 2 اللہ کے کلمے کی تصدیق سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کی تصدیق ہے گویا حضرت یحییٰ ؑ حضرت عیسیٰ ؑ سے بڑے ہوئے دونوں آپس میں خالہ زاد تھے دونوں نے ایک دوسرے کی تائید کی۔ حصوراً کے معنی ہیں گناہوں سے پاک یعنی گناہوں کے قریب نہیں پھٹکے بعض نے اس کے معنی نامرد کے کئے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ ایک عیب ہے جب کہ یہاں ان کا ذکر مدح اور فضیلت…
Read the full tafseer →13: اللہ کے کلمے سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ ہیں جیسا کہ اس سورت کے شروع میں اوپر واضح کیا گیا ہے انہیں کلمۃ اللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ باپ کے بغیر اللہ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے تھے، حضرت یحییٰ ؑ ان سے پہلے پیدا ہوئے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد کی تصدیق فرمائی۔
14: یہاں حضرت یحییٰ ؑ کی ایک خاص صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات پر قابو رکھنے والے ہوں گے، یہ صفت اگرچہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں پائی جاتی ہے ؛ لیکن ان کا خاص طور سے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس درجہ مشغول رہتے تھے کہ ان کو نکاح کرنے کی طرف رغبت نہیں ہوئی، اگرچہ عام حالات میں نکاح سنت ہے…
Read the full tafseer →وہ دعا جو دل سے نکلی اور پاک دل سے نکلی وہ قبول ہوگئی ۔ اس لیے کہ اس دعا میں امید صرف اس ذات سے تھی جو دعا سنتا ہے۔ اور جس وقت چاہے اسے قبولیت کا جامہ پہناسکتا ہے ۔ فرشتوں نے زکریا کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیدی ۔ اس کا نام بھی ولادت سے پہلے یحییٰ رکھ دیا گیا۔ اور صفت واخلاق بھی قبل از وقت بتادئیے گئے ۔ وہ اچھا سردار ہوگا ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کو اچھی طرح قابو میں رکھنے والا ہوگا ۔ اور اس نے اپنے رجحانات اور میلانات کی لگام اچھی طرح تھام لی ہوگی ۔ وہ مومن ومصدق ہوگا اور اس کے پاس اللہ کا جو فرمان آئے گا اس کی تائید کرنے والا ہوگا۔ نبی صالح ہوگا اور قافلہ صلحاء کا رکن ہوگا۔
بہرحال یہ دعا قبول…
Read the full tafseer →7 دعاء قبول ہوئی، بشارت ملی کہ لڑکا ہوگا، جس کا نام یحییٰ رکھا گیا۔
8 ایک حکم سے یہاں حضرت مسیح (علیہ السلام) مراد ہیں جو خدا کے حکم سے بدون باپ کے پیدا ہوئے۔ حضرت یحییٰ لوگوں کو پہلے سے خبر دیتے تھے کہ مسیح پیدا ہونے والے ہیں۔
9 یعنی لذات و شہوات سے بہت زیادہ رکنے والا ہوگا، اللہ کی عبادت میں اس قدر مشغول رہے گا کہ عورت کی طرف التفات کرنے کی نوبت نہ آئے گی، یہ حضرت یحییٰ کا مخصوص حال تھا، جس سے امت محمدیہ ﷺ کے لئے کوئی ضابطہ نہیں بن سکتا۔ ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کا اعلیٰ امتیاز یہ ہے کہ کمال معاشرت کے ساتھ کمال عبادت کو جمع فرمایا۔
10 یعنی صلاح ورشد کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہوگا جسے نبوت…
Read the full tafseer →آیت 39 فَنَادَتْہُ الْمَلآءِکَۃُ وَہُوَ قَآءِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْْمِحْرَابِلا اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیٰی مُصَدِّقًا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ
اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ‘ جن کے لیے آیت 44 میں بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُکا لفظ آرہا ہے۔
وَسَیِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ
یہاں نوٹ کر لیجیے کہ آخری لفظ جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی مدح کے لیے آیا ہے وہ نبی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
42 حضرت زکریا بےاولاد تھے، خود بوڑھے ضعیف اور بیوی بانجھ تھی۔ اولاد کی کوئی توقع نہ تھی۔ کیونکہ ظاہری اسباب منقطع تھے۔ مگر اولاد کی خواہش ضرور تھی۔ حضرت مریم کا یہ جواب سن کر فوراً خیال آیا کہ اللہ تو خرق عادت امور پر بھی قادر ہے کیوں نہ اپنے لیے دعا کر دیکھوں۔ ممکن ہے شرف قبولیت حاصل ہوجائے۔ چناچہ اس خیال کے آتے ہی اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے نیک سیرت اولاد کی دعا فرمائی۔
Read the full tafseer →104 ۔ (دعا معا قبول ہوگئی۔ اور آپ کی حالت نماز ہی میں فرزند کی بشارت مل گئی) (آیت) ” المآئکۃ “۔ صیغہ جمع ہے لیکن لازمی نہیں کہ آواز دینے والے کئی ہوں، صیغہ جمع اسم جنس کا بھی کام دیتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ آواز دینے والاایک ہی فرشتہ ہو۔ و جائز فی العربیۃ ان یخبر عن لفظ الجمع (قرطبی) قال الزجاج ای اتاہ النداء من ھذا الجنس الذین ھم الملئکۃ (ابوسعود) ذلک جائز فی کلام العرب بان تخبر عن الواحد بمذھب الجمع (ابن جریر) (آیت) ” یحی “۔ عہد جدید کے صحیفوں میں ان کا نام یوحنا آتا ہے۔ انجیل میں اس موقع پر آتا ہے۔” فرشتہ نے اس سے کہا۔ اے زکریا خوف نہ کر کیونکہ تیری دعا سنی گئی اور تیری بیوی الیشبع تیرے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلَامٌ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ وَامْرَاَتِیْ عَاقِرٌ، حضرت زکریا (علیہ السلام) کا سوال شک کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ کیفیت معلوم کرنے کے لیے تھا۔ آیا ہم دونوں کی جوانی لوٹا دی جائے گی یا بڑھاپا بدستور رہنے کے باوجود اولاد ہوگی یا کیا صورت ہوگی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی حالت میں اولاد ہوگی۔
Read the full tafseer →فَنَادَتْهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : پس ملائکہ نے زکریا کو پکارا، پکارنے والے تنہا جبرائیل تھے یہ قول حضرت ابن مسعود ؓ کا ہے جس کو ابن جریر نے نقل کیا ہے۔ اس صورت میں ملائکہ کو بصیغہ جمع ذکر کرنے کے وجہ برقول مفضل بن مسلمہ یہ ہے کہ جب کسی قول کا قائل جماعت کا سردار ہوتا ہے تو جماعت کی طرف اس قول کی نسبت صحیح ہوتی ہے کیونکہ سب اپنے سردار کے قول پر متفق ہوتے ہیں جبرائیل بھی سید الملائکہ تھے عموماً ان کے ساتھ فرشتوں کی جماعت رہتی تھی بعض نے یہ معنی بیان کیا کہ الملائکہ سے جنس مراد ہے یعنی فرشتوں کی جنس میں سے کسی نے پکارا جیسے کہا جاتا ہے : زید یرکب الخیل زید گھوڑوں پر یعنی کسی نہ کسی گھوڑے پر سوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(38۔ 39) اسی موقع پر حضرت زکریا ؑ نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں خاص اپنے پاس سے کوئی نیک اولاد عطا فرمائے، بیشک آپ (اللہ ہی) دعا کے قبول فرمانے والے ہیں، سو ان (حضرت زکریاعلیہ السلام) سے پکار کر جبرائیل ؑ نے کہا اور جبکہ وہ بحالت نماز مسجد میں تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا جن کی شان یہ ہوگی کہ وہ کلمۃ اللہ (اللہ کی نشانی ہوں گے اور) یعنی عیسیٰ بن مریم ؑ کی جو کہ بغیر باپ کے پیدا کیے گئے ہیں تصدیق کرنے والے ہوں گے، دوسرے بردبار ہوں گے، تیسرے اپنے آپ کو دنیاوی لذات سے روکنے والے ہوں گے اور چوتھے اعلی درجہ کے نبی ہوں گے۔
Read the full tafseer →فَنَادَتْهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ۔۔ : عبادت خانے میں نماز پڑھنے کے دوران ہی فرشتوں نے انھیں یحییٰ نامی بیٹے کی خوش خبری دی۔ معلوم ہوا پیدائش سے پہلے بھی اولاد کا نام رکھا جاسکتا ہے۔
بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ : یہ عیسیٰ ؑ کا لقب ہے، اگرچہ ہر شخص ہی اللہ تعالیٰ کے کلمۂ کن سے پیدا ہوا ہے، مگر عیسیٰ ؑ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے پر انھیں بطور شرف یہ لقب دیا گیا، جیسے بیت اللہ، ناقۃ اللہ، اگرچہ ہر مسجد اور ہر اونٹنی اللہ ہی کی ہے۔ یحییٰ ؑ عیسیٰ ؑ سے بڑے تھے، تبھی انھوں نے عیسیٰ ؑ کی تصدیق کی۔
”َّحَصُوْرًا“ سے مراد ایسا شخص ہے جسے اپنی جنسی خواہشوں پر پوری طرح قابو حاصل ہو۔ (فتح البیان) بعض لوگوں نے معنی کیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 39۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فنادتہ الملئکۃ “۔ حمزہ اور کسائی نے فنادہ مذکر ہونے کی بنا پر الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں اس میں امالہ کرتے ہیں کیونکہ یہ (الف) اصل میں یا ہے۔ اور یہ بھی کہ یہ چوتھی جگہ ہے اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی قرات الف کے ساتھ ہی ہے اور یہی ابو عبیدہ کی پسند ہے۔
اور جریر نے مغیرہ کے واسطہ سے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت عبداللہ ؓ پورے قرآن میں ملائکہ کو مذکر قرار دیتے ہیں۔ ابو عبید نے کہا ہے : ہم انہیں جانتے ہیں کہ انہوں نے اسے مشرکین کے خلاف اختیار کیا ہے کیونکہ مشرکین نے کہا : ملائکہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فنادتہ الملئکۃ “ سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔
(2) ابن جریر نے عبد الرحمن بن ابی حماد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ کی قرات میں یوں تھا لفظ آیت ” فنادتہ الملئکۃ وھو قائم یصلی فی المحراب “۔
(3) ابن المنذر اور ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرشتوں کو مذکر ذکر کرو تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ لیسمون الملئکۃ تسمیۃ الانثی “ اور وہ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” فنادتہ الملئکۃ “۔
(4) خطیب نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یوں پڑھا ” فنادتہ…
Read the full tafseer →[فَنَادَتْہُ : تو آواز دی ان (علیہ السلام) کو ] [الْمَلٰٓئِکَۃُ : فرشتوں نے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ہُوَ : وہ ] [قَــآئِمٌ : کھڑے تھے ] [یُّصَلِّیْ : نماز پڑھتے ہوئے ] [فِی الْْمِحْرَابِ : محراب میں ] [اَنَّ : کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [یُـبَشِّرُکَ : بشارت دیتا ہے آپ (علیہ السلام) کو ] [بِیَحْیٰی : یحییٰ (علیہ السلام) کی ] [مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [بِکَلِمَۃٍ : ایک فرمان کی ] [مِّنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَسَیِّدًا : اور سردار ہوتے ہوئے ] [وَّحَصُوْرًا : اور عورتوں سے الگ ہوتے ہوئے ] [وَّنَبِیًّا : اور نبی ہوتے ہوئے ] [مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ : صالحین میں سے ]
ع ق…
Read the full tafseer →حضرت یحییٰ کی پیدائش کی خوشخبری :
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور فرشتوں کے ذریعے ان کو خوشخبری بھیجی کہ تمہارے لڑکا پیدا ہوگا جس کا نام یحییٰ ہوگا یہ لڑکا اللہ کے کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ اور یہ لڑکا سردار ہوگا (صاحب روح المعانی نے متعدد علماء کرام سے سیداً کے متعدد معانی نقل کیے ہیں، الکریم، الحلیم، الحسن، الخلق، الشریف، الفقیہ العالم، الراضی بقضاء اللّٰہ تعالیٰ ، الخلیل، المتوکل العظیم الھمۃ، الذی لا یحسد، الذی یفوق بالخیر قومہ، اس کے بعد لکھتے ہیں کہ سب معانی یحییٰ (علیہ السلام) کی شان کے لائق ہیں مگر تحقیقی بات یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
قصہ دعا زکریا (علیہ السلام) برائے فرزند ارجمند۔
قال اللہ تعالی، ھنالک دعا زکریا ربہ۔۔۔ الی۔۔۔ والابکار۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) بوڑھے ہوچکے تھے اور اولاد سے ناامید ہوچکے تھے جب حضرت مریم کے پاس بےموس پھل دیکھے تو یکایک دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کہ میں بھی اولاد کی دعا کروں اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ مجھ کو بھی بےموسم میوہ مل جائے کیونکہ مرد پیر اور زن عاقر سے اولاد کا پیدا ہونا بھی ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ گرمیوں میں جاڑوں کے پھلوں کا مہیا ہوجاتا اس لیے کہ اللہ کی قدرت اور ارادہ کے لیے کسی سبب کا پایا جانا شرط نہیں پس اس وقت اور موقع کو دیکھ کر حضرت زکریانے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ اے…
Read the full tafseer →55 فَا تعقیب کیلئے ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کا ما بعد اس کے ماقبل پر مرتب ہے یعنی جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی دعا کی تو اس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور بیٹے کی خوشخبری سنانے کے لیے فرشتے ان کے پاس بھیجے۔ چناچہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) اپنے حجرہ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اس وقت فرشتوں نے آپ کو خوشخبری دی۔
56:۔ مُصَدِّقاً مع معطوفات یحییٰ سے حال ہے اور کلمہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں۔ چناچہ یہی حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور اجلہ مفسرین سے منقول ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمہ اس لیے کہا گیا کہ ان کی پیدائش اسباب عادیہ کے بغیر محض لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
ربط آیات : عمران کی بیوی کا خیال تھا کہ اس کے ہاں لڑکا ہوگا ، تو وہ اسے دین اور بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیگی۔ اور وہ بچہ دنیا کے اشغال سے بالکل آزاد ہوگا۔ اور ہمیشہ عبادت میں مصروف رہیگا۔ مگر جب وضع حمل ہوا۔ تو لڑکی پیدا ہوئی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر اپنے پروردگار سے کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بیٹی کو ہی قبول فرمالیا۔ اور اس کی نشونما کے لیے بہتر سامان پیدا کردیا۔ اس کے لیے غیر معمولی روزی کا بندوبست کیا۔ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) اس بچی یعنی حضرت مریم کے کمرے میں داخل ہوئے۔ تو وہاں انہوں نے بےموسم کے پھل دیکھے۔ عجیب کیفیت تھی۔ انہوں نے مریم سے پوچھا کہ یہ پھل کہاں سے آئے ہیں۔ تو انہوں…
Read the full tafseer →فَنَادَتْہُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ وَھُوَقَاۗىِٕمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ 0 ۙ اَنَّ اللہَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰي مُصَدِّقًۢـا بِكَلِمَۃٍ مِّنَ اللہِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ 39
ندا
النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
یہ حال دیکھ کر زکریا (علیہ السلام) کو تنبہ ہوا اور دل میں خیال گذرا کہ خدا تعالیٰ مجھ کو بھی بےموسم پیری میں پھل دے سکتا ہے۔ خدا سے نہایت عاجزی کے ساتھ اولاد کی دعا کی۔ ہیکل میں کھڑے ہوئے عبادت میں مصروف تھے اور یہی ان کی نماز تھی کہ فرشتے نے ان پر ظاہر ہو کر یہ بشارت دی کہ دیکھ خدا نے تیری دعا قبول کی۔ وہ تجھ کو ایک ایسا فرزند دیا چاہتا ہے کہ جس کا ہم نام تیرے خاندان میں کوئی نہیں۔ وہ بنی اسرائیل کا سردار ہوگا اور اس قوم کی خراب حالت کی اصلاح کرے گا اور حصور ہوگا یعنی خدا کی طرف سے نفسانی خواہشوں اور گناہوں سے روکا جاوے گا۔ اس کو ان چیزوں کی طرف از خود رغبت نہ ہوگی اور نبی ہوگا اور پاک باز…
Read the full tafseer →فَنَادَتْہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَہُوَ قَـآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ لا اَنَّ اللّٰہَ یُـبَشِّرُکَ بِیَحْيٰ مُصَدِّقًا م بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَسَیِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔
(تو فرشتوں نے اس کو ندا دی جب کہ وہ محراب میں نماز میں کھڑا تھا کہ اللہ تم کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے، جو اللہ کے کلمے کی تصدیق کرنے والا ہوگا، سردار ہوگا، لذات دنیا سے کنارہ کش ہوگا اور زمرہ صالحین میں سے نبی ہوگا) (39)
فرشتوں نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت اس وقت دی جب وہ محراب میں نماز اد اکر رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم کے محراب میں حضرت زکریا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فہم القرآن
ربط کلام : خطاب کا تسلسل جاری ہے۔
قدرت کاملہ کی طرف سے دنیا میں کچھ واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں کہ جن کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے آدمی ان کی توقع نہیں کرسکتا۔ لیکن انسان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ سامنے آجاتے ہیں اور آدمی ان کو دیکھ کر حیرت کی تصویر بن جاتا ہے ایسے واقعات پر تعجب کا اظہار کرنے سے کوئی شخص مستثنیٰ نہیں ہوا کرتا۔ یہاں تک کہ کچھ واقعات پر انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی تعجب میں مبتلا ہوجاتے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور زندگی سے متعلقہ کئی واقعات ایسے ہیں جو زمانے میں پہلی اور ایک ہی دفعہ رونما ہوئے۔ ان واقعات میں ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →39: فَنَادَتْہُ الْمَلٰٓپکَۃُ وَھُوَ قَآپمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیٰی مُصَدِّقاً م بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَسَیِّداً وَّ حَصُوْرًا وَّنَبِیّاً مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ، (کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بشارت دیتے ہیں یحییٰ کی جن کے احوال یہ ہوں گے کہ وہ کلمۃ اللّٰہکی تصدیق کرنے والے ہونگے اور مقتداء ہونگے اور اپنے نفس کو بہت روکنے والے ہونگے اور نبی بھی ہوں گے اور اعلیٰ درجہ کے شائستہ ہونگے) فَنَادَتْہُ الْمَلٰٓپکَۃُ ، (پس پکار کے کہا ان سے فرشتوں نے)
قول اول : جبرئیل ( علیہ السلام) نے ان کو آواز دی۔ الْمَلٰٓپکَۃُ کا لفظ لایا گیا کیونکہ معنی یہ ہے کہ ان کو اسی جنس کی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 39۔:
(آیت)” فنادتہ الملائکۃ “۔ حمزہ (رح) کسائی (رح) وغیرہ نے ” فنادتہ “ تاء کی جگہ یاء پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ، لفظ ملائکہ جمع ذکر کیا اور اس کے آخر میں تاء تانیث ذکر کی کیونکہ اصول یہ ہے کہ جب اس سے پہلے فعل آجائے تو تاء کے ساتھ ذکر کرتے ہیں ، یہ جماعت کا نام ہے اور ان کو تانیث کیساتھ ذکر کرنا احسن ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” قالت الاعراب “ ابراہیم (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ قرآن میں ملائکہ جمع کے ساتھ زکر کرتے ہیں ، ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ اس وجہ سے اس کو اختیار کرتے تھے مشرکین کی مخالفت کی وجہ سے کیونکہ مشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
(38 ۔ 41) ۔ حضرت زکریا کے قصہ کی پوری تفصیل سورة مریم میں آئے گی۔ مگر اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت زکریا نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا اور حضرت مریم کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانچھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطاء فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اسی خیال سے وہیں حضرت مریم کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ دعا قبول ہوئی اور ان کی بی بی کے حاملہ ہونے کی نشانی یہ قرار پائی کہ باوجود تندرست ہونے کے تین راتوں سوائے تسبیح اور تہلیل کے اور کچھ بات کسی سے نہ کرسکیں سید کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
آیت 38-41
زکریا نے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انہیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے۔ یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے اپنے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی (ان اللہ یبشرک بیحیی مصدقا بکلمۃ من اللہ) ” کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ “ (وسیدا) ” اور سردار “ یعنی اللہ آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لئے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ (و حصوراً ) ” اور…
Read the full tafseer →سیدوہ ہوتا ہے جس کی اطاعت کی جائے اور غیر اللہ کو بھی سیدکہہ سکتے ہیں
قول باری ہے (وسیداوحصورانبیا من الصالحین، اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہوگی، کمال درجے کا ضابطہ ہوگا، نبوت سے سرفرازہوگا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا آیت اس پر دلالت کررہی ہے کہ غیر اللہ کو سید کے نام سے موسم کرنا جائز ہے۔ اس لیئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو سید کے نام سے موسوم کیا اور سیدوہ ہوتاجس کی طاعت واجب ہوتی ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ جب حضرت سعدبن معاذ آپ کے اور بنی قریظہ کے درمیان حکم یعنی ثالث تسلیم کرلیے گئے تو آپ نے ان کی آمدپرانصارکوحکم دیا کہ (قوموا الی سیدکم، اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجاؤ) اسی…
Read the full tafseer →89 حضرت یحییٰ کی بعض خاص صفات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر فرشتوں نے حضرت زکریا کو پکارا جبکہ وہ اپنے حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور ان سے کہا کہ بیشک اللہ آپ کو خوشخبری دیتا ہی یحیٰی جیسے بیٹے کی جو کہ تصدیق کرنے والا ہوگا اللہ کی طرف سے صادر ہونے والے ایک عظیم الشان فرمان کی اور جو کہ ایک عظیم الشان سردار ہوگا۔ یعنی اپنی قوم کے اندر، اپنے علم و حلم، تقویٰ و طہارت، اور بندگی و عبادت وغیرہ اوصاف عالیہ اور خصال حمیدہ کی بنا پر۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ آپ کے یہاں ایک بچہ پیداہو گا اور بس۔ نہیں بلکہ وہ بچہ ان اور ان صفات و خصال والا، اور ایسا عظیم الشان بچہ پیدا ہوگا۔ سو اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا
تشریح : ان آیت کا سلسلہ پچھلی آیات سے ملتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مزید نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے جب حضرت مریم کی طہارت، عبادت اور ان پر اللہ کی عنایات کو دیکھا تو بےاختیار دعا کرنے لگے کہ ” اے اللہ مجھے بھی اولاد عطا کر دے اور وہ نیک صالح اور متقی اولاد ہو “ پھر ان کو یہ معلوم تھا کہ وہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور ان کی بیوی بانجھ ہے (اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں) یعنی ان حالات میں ان کو اولاد کا ملنا بالکل ناممکن سا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے رب عظیم پر اس قدراعتماد رکھتے تھے کہ انہوں نے بڑے یقین سے دعا مانگی اور یہ بھی کہا کہ ” بیشک تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
آیات 31- 41
اسرارو معارف
قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔
رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔
محبت ، محب اور محبوب :
اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…
Read the full tafseer →ف 7 کلمتہ اللہ یہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا لقب ہے جیسے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کا لقب روح القدس ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) بغیر باپ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے۔ جمہور مفسرین نے یہی منعی کیے ہیں، ّ (کبیر شوکانی) حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے اور سب سے پہلے انہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تصدیق کی تھی۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)8 حصو رسے مراد ایسا شخص ہے جسے اپنی جنسی خواہش پر پوری طرح حاصل ہو۔ (فتح البیان )
Read the full tafseer →(3:39) بکلمۃ من اللہ۔ اللہ کی طرف سے ایک فرمان۔ اس فرمان سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں چونکہ ان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کے ایک غیر معمولی فرمان سے خزق عادت کے طور پر ہوئی تھی۔ اس لئے ان کو قرآن میں کلمۃ من اللہ کہا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
حصورا۔ عورت کے پاس نہ جانے وال۔ عورتوں سے بےرغبت ۔ جو عورت کے پاس نہ جائے خواہ نامردی کے باعث یا پاکبازی اور عفت کی خاطر۔ اس کو حصور کہتے ہیں۔ حصر سے بروزن فعول مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41
اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا۔ اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانجھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطا فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں۔ اسی خیال سے وہیں حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ قبول ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
[17] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرنے والا۔ کلمتہ اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ محض اللہ کے حکم سے خلاف عادت بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تھے۔
Read the full tafseer →(ف 1) دعا چونکہ دل سے نکلی تھی اور بلند خواہشات کے ماتحت کی گئی تھی ، اس لئے فورا شرف قبولیت سے نوازی گئی ، فرشتے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا کہ خدا تمہیں حضرت یحی کے تولد کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے کلام کی تصدیق کرے گا قوم میں اس کی سیادت و قیادت مسلم ہوگی ، پاکباز اور نبی ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 1۔ اس موقع پر حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی اور یوں عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ کو خاص اپنی بارگاہ سے نیک اور اچھی اولاد عنایت کر دیجئے بلاشبہ آپ دعا کے بہت سننے والے ہیں یعنی سنتے اور قبول فرماتے ہیں ۔ اس پر فرشتوں نے ان کو جبکہ وہ مسجد میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے پکار کر کہا کہ اللہ تعالیٰ تم کو یحییٰ نامی لڑکے کی بشارت دیتا ہے جس کی حالت یہ ہوگی کہ وہ کلمۃ اللہ یعنی حضرت عیبیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا اور سردار یعنی دینی پیشوا ہوگا اور اپنی خواہشات نفس پر پوری طرح قابو یافتہ ہوگا اور وہ نیکو کاروں میں سے ایک نبی ہوگا۔ ( تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 4۔ محراب سے مراد یا تو مسجد بیت المقدس کی محراب ہے یا مراد اس سے وہ مکان ہے جس میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو رکھا کرتے تھے کیونکہ اس جگہ محراب کے معنی عمدہ مکان کے ہیں۔
5۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرنے والے ہوں گے، کلمة اللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ محض خدا تعالیٰ کے حکم سے خلاف عادت بلا واسطہ باپ کے پیدا کئے گئے۔
6۔ لذات سے روکنے میں سب مباح خواہشوں سے بچنا داخل ہوگیا، اچھا کھانا، اچھا پہننا، نکاح کرنا وغیرہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →قبولیت کا وقت ہو تودیر کب ہوتی ہے ؟ ہاں ! اس وقت کو بھی تو کوئی نہیں جانتا :
97: زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوگئی اور ان کو فرشتوں نے آواز دی اس حال میں کہ وہ حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ ” فَنَادَتْہُ الْمَلَائِكَةُ “ بعض مفسرین نے اس سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) فرشتہ کو لیا ہے اور بعض کے نزدیک ایک جماعت ملائکہ نے پیغام بشارت سنایا تھا۔ بہرحال اگر وہ پوری جماعت فرشتوں کی ہو تو بھی ظاہر ہے کہ ان کے قائد نے پیغام الٰہی پہنچایا ہوگا۔ مقصد اصلی پیغام بشارت پہنچانا ہے اس کی جو صورت بھی تھی پھر زکریا (علیہ السلام) صرف کاہن ہیکل ہی نہ تھے بلکہ اللہ کے نبی بھی تھے انبیا کو وحی کا پیغام پہنچانے…
Read the full tafseer →Commentary
1. The expression, کَلِمَۃ اللہ 'a word of Allah' refers to Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) . This term is used for him because he was created, in an unusual manner, simply by the will and command of Allah - without a paternal linkage.
2. The second quality of Sayyidna Yahya (علیہ السلام) has been described by the word, حَصُورً 'hasur' translated here as 'abstinent'. It means that he was very particular about keeping himself shielded from temptations, that is, from things one habitually enjoys. When we say one abstains from enjoyments of life, the statement includes abstinence even…
Read the full tafseer →38. In the Bible his name is mentioned as John the Baptist. For information about him see Matthew 3, 9 and 14: Mark 1 and 6; Luke 1 and 3.
39. The 'command from Allah' signifies Jesus (peace be on him) . His birth took place as the result of an extraordinary command from God and in an unusual manner, hence he is designated as 'the command' or 'word' from Allah.
Read the full tafseer →