Explained with ayahs 38–41
حاصل دعا یحییٰ ؑ
حضرت زکریا ؑ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریم (علیہما السلام) کو بےموسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بےموسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لئے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے نداء خفیا یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 37
حضرت زکریا اس وقت تک بےاولاد تھے۔ اس نوجوان صالحہ لڑکی کو دیکھ کر فطرةً ان کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش، اللہ انہیں بھی ایسی ہی نیک اولاد عطا کرے، اور یہ دیکھ کر کہ اللہ کس طرح اپنی قدرت سے اس گوشہ نشین لڑکی کو رزق پہنچا رہا ہے، انہیں یہ امید ہوئی کہ اللہ چاہے، تو اس بڑھاپے میں بھی ان کو اولاد دے سکتا ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(حضرت زکریا ؑ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی تربیت میں غیر معمولی نشانات قدرت دیکھ کر اپنے لئے بھی دعا فرمائی، جن کا بیان یہ ہے)
اس موقع پر دعا کی (حضرت) زکریا ؑ نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے میرے رب عنایت کیجیے مجھ کو خاص اپنے سے کوئی اچھی اولاد بیشک آپ بہت سننے والے ہیں دعا کے۔
معارف و مسائل
(ھنالک دعا زکریا) حضرت زکریا ؑ کے اس وقت تک اولاد نہ تھی، اور زمانہ بڑھاپے کا آگیا تھا، جس میں عادۃ اولاد نہیں ہوسکتی، اگرچہ خرق عادت کے طور پر قدرت خداوندی کا ان کو پورا اعتقاد تھا کہ وہ ذات اس بڑھاپے کے موقع میں بھی اولاد دے سکتی ہے، لیکن چونکہ اللہ کی ایسی عادت آپ نے مشاہدہ نہیں کی تھی کہ…
Read the full tafseer →ھُنَالِكَ ، سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ حضرت مریم کی حیرت انگیز حکمت و معرفت سے حضرت زکریا اس درجہ متاثر ہوئے کہ اولاد کی آرزو جو ان کے اندر دبی ہوئی تھی وہ دفعۃً بھڑک اٹھی کہ کاش حکمت و معفرت کا کوئی ایسا ہی وارث اللہ تعالیٰ ان کو بھی بخشے۔ چناچہ اس کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ مِنْ لَّدُنْكَ کے الفاظ سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اپنے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کی وجہ سے ظاہری حالات کو تو وہ غیر مساعد پا رہے تھے لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھتے تھے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے فضل وقدرت سے ایک بوڑھے کی تمنا بھی بر آسکتی ہے اور ایک بڑھیا بانجھ کی گود بھی ہری ہوسکتی ہے۔ اسباب تو محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
39۔ 1 بےموسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا ؑ کے دل میں بھی (بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود) یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش اللہ تعالیٰ انہیں بھی اسی طرح اولاد سے نواز دے۔ چناچہ بےاختیار دعا کے لئے ہاتھ بارگاہ الٰہی میں اٹھ گئے جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔
39۔ 2 اللہ کے کلمے کی تصدیق سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کی تصدیق ہے گویا حضرت یحییٰ ؑ حضرت عیسیٰ ؑ سے بڑے ہوئے دونوں آپس میں خالہ زاد تھے دونوں نے ایک دوسرے کی تائید کی۔ حصوراً کے معنی ہیں گناہوں سے پاک یعنی گناہوں کے قریب نہیں پھٹکے بعض نے اس کے معنی نامرد کے کئے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ ایک عیب ہے جب کہ یہاں ان کا ذکر مدح اور فضیلت…
Read the full tafseer →12: حضرت مریم کے پاس بےموسم کے پھل آیا کرتے تھے، حضرت زکریا ؑ نے یہ دیکھا تو انہیں توجہ ہوئی کہ خدا ان کو بےموسم پھل دیتا ہے وہ مجھے اس بڑھاپے میں اولاد بھی دے سکتا ہے چنانچہ انہوں نے یہ دعا مانگی۔
Read the full tafseer →یوں ہم اپنے آپ کو ایک غیر معمولی واقعہ کے سامنے پاتے ہیں ۔ یہ واقعہ اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ کی مشیئت بےقید ہے ۔ اور وہ ان سلسلہ اسباب ومسببات کی قید وبند سے آزاد ہے ۔ جنہیں آگے پیچھے دیکھنے کا انسان عادی ہے ۔ اور جن کے بارے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس سلسلے میں تخلف ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو واقعات وحادثات اس قانون کے حدود وقیود کے اندر نہیں ہوتے یہ انسان ان کے بارے میں شاکی رہتا ہے ۔ اور جب وہ اس بات سے عاجز ہوں کہ اس کی تکذیب کردیں جب ان کے لئے ایسے واقعات کو جھٹلاناممکن نہ رہے کیونکہ وہ واقعات ہوتے ہیں تو وہ ان واقعات کے اوپر قصے اور کہانیوں کے خول چڑھادیتے ہیں ۔
دیکھئے زکریا…
Read the full tafseer →6 حضرت زکریا (علیہ السلام) بالکل بوڑھے ہوچکے تھے، ان کی بیوی بانجھ تھی، اولاد کی کوئی ظاہری امید نہ تھی۔ مریم کی نیکی و برکت اور یہ غیر معمولی خوراک دیکھ کر دفعۃَ قلب میں ایک جوش اٹھا اور فوری تحریک ہوئی کہ میں بھی اولاد کی دعا کروں۔ امید ہے مجھے بھی بےموسم میوہ مل جائے۔ یعنی بڑھاپے میں اولاد مرحمت ہو۔
Read the full tafseer →آیت 38 ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ج قَالَ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ج
حضرت زکریا علیہ السلام بہت بوڑھے ہوچکے تھے ‘ ان کی اہلیہ بھی بہت بوڑھی ہوچکی تھیں اور ساری عمر بانجھ رہی تھیں اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ یہ مضامین سورة مریم میں زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ مکی دور میں جبکہ مسلمان ہجرت حبشہ کے لیے گئے تھے ‘ تو وہاں جا کر نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر رض بن ابی طالب نے سورة مریم کی آیات پڑھ کر سنائی تھیں۔ اس مناسبت سے یہ مضامین سورة مریم میں بھی ملتے ہیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام ساری عمر بےاولاد رہے تھے ‘ لیکن حضرت مریم علیہ السلام کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
42 حضرت زکریا بےاولاد تھے، خود بوڑھے ضعیف اور بیوی بانجھ تھی۔ اولاد کی کوئی توقع نہ تھی۔ کیونکہ ظاہری اسباب منقطع تھے۔ مگر اولاد کی خواہش ضرور تھی۔ حضرت مریم کا یہ جواب سن کر فوراً خیال آیا کہ اللہ تو خرق عادت امور پر بھی قادر ہے کیوں نہ اپنے لیے دعا کر دیکھوں۔ ممکن ہے شرف قبولیت حاصل ہوجائے۔ چناچہ اس خیال کے آتے ہی اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے نیک سیرت اولاد کی دعا فرمائی۔
Read the full tafseer →101 ۔ (قدرت الہی کے تازہ مشاہدہ سے متاثر ہوکر) (آیت) ” ھنا “۔ کا دوسرا ترجمہ (وہیں) کے علاوہ (معا) بھی ہوسکتا ہے۔ ہنا ظرفیہ کے لیے ہے۔ اور اس میں ظرف مکان اور ظرف زمان دونوں شامل ہیں۔ یعنی اسی جگہ بھی اور اسی وقت بھی۔
اسم یشاربہ للمکان القریب وقد یشاربہ للزمان اتساعا (جمل) گو اصلی مفہوم ظرف مکان ہی کا ہے۔ یستعمل للزمان والمکان واصلہ للمکان (قرطبی) ای فی ذلک المکان اوفی ذلک الوقت فقد یستعارھنا وثم وحیث للزمان (کشاف) ھنا ظرف مکان وجوزان یراد بھا الزمان مجازا (روح) (آیت) ” ھنالک دعا “۔ آیت سے استدلال مکان مبارک میں دعا کی مقبولیت پر کیا گیا ہے۔ علی ھذا وقت مبارک میں بھی دعا کی مقبولیت پر حضرت…
Read the full tafseer →ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا، بےموسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کے دل میں بھی (بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود) یہ آرزو پیدا ہوئی کاش اللہ تعالیٰ انھیں بھی اسی طرح اولاد سے نواز دے اور وہ اس پر پوری طرح قادر ہے جو ذات بےموسم پھل دے سکتی ہے وہ بےوقت اولاد بھی دے سکتی ہے چناچہ بےاختیار بارگاہ الہیٰ میں دعاء کے لیے ہاتھ اٹھ گئے جس کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ چناچہ فرشتے نے پکار کر کہا اللہ تجھے یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے جو کلمۃ اللہ (عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا سردار اور ضابط النفس اور نبی ہے اور نیک لوگوں میں سے ہے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی صفت ” حصور “…
Read the full tafseer →ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ : جب حضرت زکریا نے مریم کی کرامت اور رحمت خدا کی وسعت دیکھی اور محسوس کیا کہ خاندان والے سب ختم ہوگئے اور میرا کوئی ایسا بچہ نہیں جو علم و نبوت کا وارث بنے اور آپ کو اندیشہ ہوا کہ چچا کی اولاد میرے بعد دین کو کھو بیٹھے گی تو ایسے وقت میں یا اس جگہ دروازے بند کرکے اپنے مالک سے دعا کی اور۔
قَالَ رَبِّ ھَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً : عرض کیا : پروردگار مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ چونکہ حضرت زکریا کی بیوی بانجھ تھی اور آپ بہت بوڑھے ہوگئے تھے اس لیے عرض کیا کہ اپنی طرف سے یعنی معمول کے خلاف مجھے اولاد عطا فرما۔ جیسے دستور اسباب کے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(38۔ 39) اسی موقع پر حضرت زکریا ؑ نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں خاص اپنے پاس سے کوئی نیک اولاد عطا فرمائے، بیشک آپ (اللہ ہی) دعا کے قبول فرمانے والے ہیں، سو ان (حضرت زکریاعلیہ السلام) سے پکار کر جبرائیل ؑ نے کہا اور جبکہ وہ بحالت نماز مسجد میں تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا جن کی شان یہ ہوگی کہ وہ کلمۃ اللہ (اللہ کی نشانی ہوں گے اور) یعنی عیسیٰ بن مریم ؑ کی جو کہ بغیر باپ کے پیدا کیے گئے ہیں تصدیق کرنے والے ہوں گے، دوسرے بردبار ہوں گے، تیسرے اپنے آپ کو دنیاوی لذات سے روکنے والے ہوں گے اور چوتھے اعلی درجہ کے نبی ہوں گے۔
Read the full tafseer →ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ ۚ۔۔ : زکریا ؑ بوڑھے ہوچکے تھے اور ابھی تک بےاولاد تھے، بیوی بانجھ تھی، بظاہر انھیں اولاد کی کوئی امید نہ تھی، لیکن یہ دیکھ کر کہ کس طرح مریم [ کو خرق عادت کے طور پر بےموسم کا رزق پہنچ رہا ہے، ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ بےموسم کا رزق پہنچانے والا مایوسی کے عالم میں اولاد بھی عطا فرما سکتا ہے، چناچہ اسی جگہ اور اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور نیک اولاد کی دعا کی۔ بعض علماء نے مریم [ کو خرق عادت میوے پہنچنے کا انکار کیا اور کہا ہے کہ یہ محاورہ ہے کہ خدا رسیدہ لوگ ہر نعمت کو (من عند اللہ) اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے ہیں، مگر زکریا ؑ کا اس حالت کو دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت نمبر 37 تا 38۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فتقبلھا بقبول حسن “۔ اس کا معنی ہے : اسے سعداء کے راستے پر چلایا یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے، اور ایک قوم نے کہا ہے : تقبل کا معنی ہے تربیت میں کفیل بنانا اور اس کے معاملات کو ادا کرنا، اور حسن نے کہا ہے تقبل کا معنی ہے کہ اس کے رب نے اسے رات، دن میں سے کبھی ایک ساعت بھی اذیت اور تکلیف نہیں دی اور (آیت) ” وانبتھا نباتا حسنا “۔ سے مراد ہے اس کی خلقت کو بغیر کسی کمی وبیشی کے صحیح بنایا، پس وہ ایک دن میں اتنا بڑھتی تھی جتنا عام بچہ سال میں نشوونما پاتا ہے۔ قبول اور نبات دونوں مصدر ہیں لیکن اپنے فعل کے ہم وزن مصدر نہیں، فی الحقیقت مصدر تقبلا اور…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ بات زکریا (علیہ السلام) نے دیکھی کی گرمی کے پھل سردی کے پھل گرمی میں مریم (علیہا السلام) کے پاس آتے ہیں تو فرمایا وہ ذات جو مریم (علیہا السلام) کے پاس غیر موسم میں پھل لاتی ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ مجھ کو لڑکا عطا فرمادے تو اسی وجہ سے انہوں نے وہاں اپنے رب سے دعا مانگی۔
(2) اسحاق بن بشیر اور ابن عساکر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب زکریا (علیہ السلام) نے مریم (علیہا السلام) کے پاس سردی کے پھل گرمی میں اور گرمی کے پھل سردی میں پائے جو جبرئیل (علیہ السلام) ان کے پاس لاتے تھے تو ان سے پوچھا یہ پھل تیرے پاس کہاں سے آتے ہیں غیر…
Read the full tafseer →[ھُنَالِكَ : وہیں ] [دَعَا : پکارا ] [زَکَرِیَّا : زکریا (علیہ السلام) نے ] [رَبَّہٗ : اپنے رب کو ] [قَالَ : انہوں نے کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ
ھَبْ : تو عطا کر ] [لِیْ : میرے لیے ] [مِنْ لَّدُنْکَ : اپنے خزانے سے ] [ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً : ایک پاکیزہ اولاد ] [اِنَّکَ : بیشک تو ] [سَمِیْعُ الدُّعَآئِ : دعا کا سننے والا ہے ]
Read the full tafseer →اولاد کے لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعاء
حضرت زکریا (علیہ السلام) خوب زیادہ بوڑھے ہوچکے تھے اور ان کے کوئی اولاد نہ تھی جو دینی علوم اور اعمال میں ان کی وارث بنے جیسا کہ سورة مریم میں ذکر فرمایا :
(قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَکُنْ بِدُعَآءِکَ رَبِّ شَقِیًّا وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ کَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ وَ اجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا)
” عرض کیا اے میرے پروردگار میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
قصہ دعا زکریا (علیہ السلام) برائے فرزند ارجمند۔
قال اللہ تعالی، ھنالک دعا زکریا ربہ۔۔۔ الی۔۔۔ والابکار۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) بوڑھے ہوچکے تھے اور اولاد سے ناامید ہوچکے تھے جب حضرت مریم کے پاس بےموس پھل دیکھے تو یکایک دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کہ میں بھی اولاد کی دعا کروں اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ مجھ کو بھی بےموسم میوہ مل جائے کیونکہ مرد پیر اور زن عاقر سے اولاد کا پیدا ہونا بھی ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ گرمیوں میں جاڑوں کے پھلوں کا مہیا ہوجاتا اس لیے کہ اللہ کی قدرت اور ارادہ کے لیے کسی سبب کا پایا جانا شرط نہیں پس اس وقت اور موقع کو دیکھ کر حضرت زکریانے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ اے…
Read the full tafseer →54:۔ ایک شبہ کا جواب :۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے یہاں ایسی عمر میں بچے کے پیدا ہونے سے جس میں عادۃ بچہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ عیسائی اس شبہ میں پڑگئے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو کچھ تصرف اور اختیار حاصل تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے یہاں بڑھاپے میں بیٹا پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی۔ ھُنَالِکَ ظرف ہے زمان اور مکان دونوں کے لیے یہاں مکان کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے پاس بےموسم کے میوے دیکھے تو وہیں اللہ سے دعا کی اور خیال کیا کہ جو اللہ مریم کو بےموسم کا پھل دے سکتا ہے وہ مجھے بھی اس بڑھاپے میں فرزند عطا کرسکتا ہے (روح ج 3 ص 144) اس سے معلوم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
ربط آیات : عمران کی بیوی کا خیال تھا کہ اس کے ہاں لڑکا ہوگا ، تو وہ اسے دین اور بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیگی۔ اور وہ بچہ دنیا کے اشغال سے بالکل آزاد ہوگا۔ اور ہمیشہ عبادت میں مصروف رہیگا۔ مگر جب وضع حمل ہوا۔ تو لڑکی پیدا ہوئی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر اپنے پروردگار سے کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بیٹی کو ہی قبول فرمالیا۔ اور اس کی نشونما کے لیے بہتر سامان پیدا کردیا۔ اس کے لیے غیر معمولی روزی کا بندوبست کیا۔ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) اس بچی یعنی حضرت مریم کے کمرے میں داخل ہوئے۔ تو وہاں انہوں نے بےموسم کے پھل دیکھے۔ عجیب کیفیت تھی۔ انہوں نے مریم سے پوچھا کہ یہ پھل کہاں سے آئے ہیں۔ تو انہوں…
Read the full tafseer →ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّہٗ 0 ۚ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّۃً طَيِّبَۃً 0ۚ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ 38
هنالک
هُنَا يقع إشارة إلى الزمان، والمکان القریب، والمکان أملک به، يقال : هُنَا، وهُنَاكَ ، وهُنَالِكَ ، کقولک : ذا، وذاک، وذلک . قال اللہ تعالی: جُنْدٌ ما هُنالِكَ [ ص/ 11] ، إِنَّا هاهُنا قاعِدُونَ
[ المائدة/ 24] ، هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، هُنالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ [ الأحزاب/ 11] ، هُنالِكَ الْوَلايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ [ الكهف/ 44] ، فَغُلِبُوا هُنالِكَ [ الأعراف/ 119]
( ھنا ) ھنا یہاں یہ زمانہ اور جگہ قریب کی طرف…
Read the full tafseer →ترکیب : ھنا دراصل ظرف مکان کے لئے ہے مگر یہاں ظرف زمان مراد ہے۔ لک سے اس میں بعد ہوگیا۔ یہ دعا سے متعلق ہے من لدنک ھب لی متعلق ہے۔ پس من ابتداء غایۃ ہبہ کے لئے ہے نادت فعل الملئکۃ فاعل بہ ضمیر مفعول ذی الحال وھو قائم جملہ حال یصلی ضمیر قائم سے حال ہے۔ ان اللّٰہ جملہ بیان ندا ہے مصدقا اور سیدا اور حصورا اور نبیاً یحییٰ سے حال ہے لی خبر یکون کو غلام اسم وانی بمعنی کیف اٰیتک مبتداء ان لاتکلم الخ جملہ خبر۔ عشی مفرد ہے بعض کہتے ہیں عشیہ کی جمع اور ابکار بروزن افعال مصدر ہے اے وقت لابکار۔
بنی اسرائیل میں دستور تھا کہ وہ اپنے لڑکے کو خدا کی نذر مانا کرتے تھے جب اس کا دودھ بڑھ جاتا تو اس کو ہیکل یعنی…
Read the full tafseer →ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّـہٗ ج قَالَ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْـکَ ذُرِّیَّـۃً طَـیِّـبَـۃًج اِنَّـکَ سَمِیْعُ الدُّعَآئِ ۔
(اس وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا۔ عرض کی کہ اے میرے رب ! عطا فرما مجھ کو اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد۔ بیشک تو ہی سننے والا ہے دعا کو) (38)
ھُنَالِکَ کا مفہوم
ہُنَالِکَظرفِ مکاں بھی ہے اور ظرف زماں بھی۔ یہ بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ ” اسی وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا “ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ” وہیں زکریا نے اپنے رب کو پکارا “ دونوں صورتوں میں توجہ دلانا یہ مقصود ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) جو اللہ کے مقبول بندے اور اسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے والے تھے انھوں نے جب دیکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فہم القرآن
ربط کلام : خطاب کا تسلسل جاری ہے۔
قدرت کاملہ کی طرف سے دنیا میں کچھ واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں کہ جن کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے آدمی ان کی توقع نہیں کرسکتا۔ لیکن انسان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ سامنے آجاتے ہیں اور آدمی ان کو دیکھ کر حیرت کی تصویر بن جاتا ہے ایسے واقعات پر تعجب کا اظہار کرنے سے کوئی شخص مستثنیٰ نہیں ہوا کرتا۔ یہاں تک کہ کچھ واقعات پر انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی تعجب میں مبتلا ہوجاتے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور زندگی سے متعلقہ کئی واقعات ایسے ہیں جو زمانے میں پہلی اور ایک ہی دفعہ رونما ہوئے۔ ان واقعات میں ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →بےوقت پھل کی تمنا :
38: ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآئِ (اس موقعہ پر زکریا نے اپنے رب سے دعا کی ‘ عرض کیا اے میرے ربّ مجھے آپ اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما دیجئے بلاشبہ آپ دعا سننے والے ہیں۔ ) ھُنَالِکَ یعنی اسی جگہ جہاں وہ مریم کے پاس حجرہ میں تشریف فرما تھے یا اسی وقت جب وہ حجرہ میں تشریف فرما تھے۔ ھُنَایہاں استعارۃً لایا گیا حیث اور ثم زمان کیلئے آتے ہیں۔
جب حضرت زکریا ( علیہ السلام) نے مریم ( علیہ السلام) کا مرتبہ اور انکی کرامت دیکھی تو اس بات کی طرف رغبت پیدا ہوئی کہ انکی بیوی ایشاع سے اللہ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 38۔:
” ھنالک “ اسی وقت (جب انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بےموسمی پھل اور رحمت خدا کی وسعت دیکھی) (آیت)” دعا زکریا ربہ “ حضرت زکریا (علیہ السلام) محراب میں داخل ہوئے دروازے بند کردیئے اور اپنے رب سے مناجات کی (آیت)” قال رب “ رب اصل میں ” یارب “ تھا ۔ ” ھب لی “ مجھے عطا کر ” من لدنک “ اپنی طرف سے ” ذریۃ طیبۃ “ ایسا مبارک بیٹا جو متقی نیک گناہوں سے پاک ، ” ذریۃ “ کا اطلاق واحد ، جمع ، مذکر ، مؤنث سب پر ہوتا ہے یہاں پر واحد استعمال ہوا ہے دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” فھب لی من لدنک ولیا۔۔۔۔۔۔ طیبۃ “۔ مؤنث ذکر کیا ، ” ذریۃ کی تانیث کی وجہ سے (آیت)” انک سمیع الدعا “۔ تو دعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
(38 ۔ 41) ۔ حضرت زکریا کے قصہ کی پوری تفصیل سورة مریم میں آئے گی۔ مگر اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت زکریا نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا اور حضرت مریم کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانچھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطاء فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اسی خیال سے وہیں حضرت مریم کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ دعا قبول ہوئی اور ان کی بی بی کے حاملہ ہونے کی نشانی یہ قرار پائی کہ باوجود تندرست ہونے کے تین راتوں سوائے تسبیح اور تہلیل کے اور کچھ بات کسی سے نہ کرسکیں سید کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
آیت 38-41
زکریا نے وہیں رب سے دعا کی کہ وہ انہیں پاکیزہ اولاد عطا فرمائے۔ یعنی خوش اخلاق اور خوش اطوار اولاد دے، تاکہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی نعمتوں کی تکمیل ہوجائے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔ جب آپ حجرے میں کھڑے اپنے رب کی عبادت اور مناجات میں مشغول تھے، فرشتوں نے آواز دی (ان اللہ یبشرک بیحیی مصدقا بکلمۃ من اللہ) ” کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے کلمہ (یعنی عیسیٰ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ “ (وسیدا) ” اور سردار “ یعنی اللہ آپ کو ایسی اچھی صفات عطا فرمائے گا کہ آپ سردار بن جائیں گے اور لوگ اپنے معاملات میں رہنمائی کے لئے آپ کی طرف رجوع کریں گے۔ (و حصوراً ) ” اور…
Read the full tafseer →قول باری ہے (قال رب ھب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ، زکریا نے کہا پروردگار ! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولادعطاکر) کسی چیز کو اس کی قیمت لیے بغیر کسی کی ملکیت میں دے دیناہبہ کہلاتا ہے۔ عرب کہتے ہیں، قدتواھبوا !ؒلامربینھم، (لوگوں نے اس معاملے کو آپس میں ایک دوسرے کو ہبہ کردیا ہے) اللہ تعالیٰ نے اسے بطورمجازہبہ کا نام دیا ہے۔ اس لیے کہ اس میں ہبہ کا حقیقی معنی نہیں ہے کیونکہ اس میں کسی چیز کی تملیک موجود نہیں ہے۔ پیدا ہونے والا بچہ آزاد ہوتا ہے۔ اس پر کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا کو خاص طوپرایسا بیٹادینے کا ارادہ فرمایا جوان کی تمنا اور خواہش کے مطابق ہو۔ یعنی وہ اللہ کی عبادت…
Read the full tafseer →88 حضرت زکریا کی اپنے رب کے حضور اولاد کی دعائ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت زکریا نے اپنے رب کے حضور دعا و درخواست پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے بھی اپنی طرف سے پاکیزہ اولاد عطا فرما دے۔ یعنی جب تو اے میرے خالق ومالک ! اس بچی کو ظاہری اسباب کے بغیر اس طرح یہ نعمتیں دے سکتا ہے، اور اس کو علم و حکمت اور نور معرفت کے ایسے خزانوں سے اسقدر چھوٹی عمر اور صغرسنی میں بھی اس طرح نواز سکتا ہے، تو مجھے بھی اولاد کی نعمت سے بہرہ ور و سرفراز فرما دے۔ سبحان اللہ ۔ کس قدر واضح اور صریح ہدایت ہے کہ حضرات انبیائے کرام عل ۔ یھم الصلوۃ والسلام ۔ بھی اللہ ہی کے محتاج ہیں اور وہ بھی اسی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا
تشریح : ان آیت کا سلسلہ پچھلی آیات سے ملتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مزید نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے جب حضرت مریم کی طہارت، عبادت اور ان پر اللہ کی عنایات کو دیکھا تو بےاختیار دعا کرنے لگے کہ ” اے اللہ مجھے بھی اولاد عطا کر دے اور وہ نیک صالح اور متقی اولاد ہو “ پھر ان کو یہ معلوم تھا کہ وہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور ان کی بیوی بانجھ ہے (اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں) یعنی ان حالات میں ان کو اولاد کا ملنا بالکل ناممکن سا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے رب عظیم پر اس قدراعتماد رکھتے تھے کہ انہوں نے بڑے یقین سے دعا مانگی اور یہ بھی کہا کہ ” بیشک تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
آیات 31- 41
اسرارو معارف
قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔
رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔
محبت ، محب اور محبوب :
اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…
Read the full tafseer →ف 6 حضرت زکریا ( علیہ السلام) بوڑھے ہوچکے تھے اور ابھی تک بےاولاد تھے۔ بظاہر انہیں اولاد کی کوئی امید نہ تھی لیکن یہ دیکھ کر کہ کس طرح حضرت مریم ( علیہ السلام) کو خرق عادت کے طور بےموسم کا رزق پہنچ رہا ہے ان کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بےموسم کا رزق پہنچا نے ولا مایوسی کے عالم میں اولاد بھی فرما سکتا ہے۔ چناچہ اسی جگہ اور اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور نیک اولاد کی دعا کی بعض علما نے حضرت مریم ( علیہ السلام) کو خرق عادت میوے پہنچنے کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ محاورہ ہے کہ خدا رسیدہ لوگ ہر نعمت کو (من عند اللہ) اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے ہیں مگر حضرت زکریا ( علیہ السلام) کا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(3:37) انب تھا۔ انبات (افعال) مصدر بمعنی اگانا۔ بڑھانا۔ اس نے اس کو بڑھایا (جاندار کے لئے) اس نے اس کو اگایا۔ (نباتات کے لئے) ای ربھا الرب تربیۃ حسنۃ فی عبادۃ وطاعۃ لربھا (روح المعانی) ۔
کفلہا زکریا۔ اس نے (اللہ نے) اس کو (مریم کو) زکر یا کی کفالت میں دیدیا۔ کفل ماضی واحد مذکر غائب۔ تکفیل (تفعیل) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ کفل کا فاعل اللہ۔ یعنی اللہ نے زکریا کو مریم کا کفیل بنادیا۔ اس صورت میں ھا ضمیر مفعول اول اور زکریا مفعول دوم ہوگا۔ لیکن تکفیل کے معنی کسی کو اپنی کفالت (ذمہ داری) میں لے لینا بھی ہے۔ اس لئے زکریا فاعل بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی زکریا نے مریم کو اپنی ذمہ داری میں لے لیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41
اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود بانجھ ہونے کے حضرت مریم کی ماں کو صاحب اولاد کیا۔ اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو خلاف عادت بےفصل کا میوہ عنایت فرمایا تو مجھ کو بڑھاپے میں اور میری بیوی کو بانجھ پن میں اگر وہ صاحب قدرت اولاد عطا فرمائے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں۔ اسی خیال سے وہیں حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے عبادت خانہ میں انہوں نے اولاد کی دعا کی اور وہ قبول ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
[16] زکریا (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اور غالباً رشتے میں مریم (علیہ السلام) کے خالو تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
حضرت زکریا کی دعا :
(ف 1) حضرت مریم (علیہا السلام) کی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں اس لئے دیا گیا تاکہ وہ بہترین تربیت حاصل کریں اور آیندہ چل کر اخلاق کے متعلق انہیں مہتم نہ کیا جائے ،
مریم (علیہما السلام) ابھی بچی ہی تھیں کہ ان کا دل معرفت و سلوک کی تمام منزلیں طے کرچکا تھا ، زکریا (علیہ السلام) نے جب ان سے پوچھا کہ بچی ، یہ رزق کہاں سے آیا ہے تو آپ نے جواب دیا ، اللہ کی جانب سے ۔
یہ جواب سن کر حضرت زکریا (علیہ السلام) نہایت محفوظ ہوئے اور دل میں اس خواہش نے چٹکی لی کہ میرے گھر میں بھی ایسی ہی روح آئے ،
چناچہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے مولا ! تو دعاؤں کا سننے والا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ف 2۔ الغرض حضر ت مریم کو ان کے پروردگار نے عمدہ طریقہ کے ساتھ قبول فرمایا اور ان کو اچھے اٹھان اٹھایا یعنی عمدہ طور پر ان کو نشو و نما کیا اور حضرت زکریا کو ان کا سرپرست اور نگراں بنادیا ، پھر جب کبھی حضرت زکریا ان کے مقررہ حجرے میں تشریف لائے تو حضرت مریم کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے کی چیزیں موجود پاتے ۔ حضرت زکریا دریافت کرتے ۔ اے مریم یہ چیزیں تیرے لئے کہاں سے آئیں وہ جواب دیتیں۔ یہ روزی اور کھانے پینے کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے آتی ہیں ، بلا شبہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےسان و گمان اور بلا مشقت و تعب روزی عنایت فرماتا ہے۔
محراب کسی مجلس کے صدر مقام کو کہتے ہیں ۔ مسجد کے محراب کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 4۔ محراب سے مراد یا تو مسجد بیت المقدس کی محراب ہے یا مراد اس سے وہ مکان ہے جس میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو رکھا کرتے تھے کیونکہ اس جگہ محراب کے معنی عمدہ مکان کے ہیں۔
5۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرنے والے ہوں گے، کلمة اللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ محض خدا تعالیٰ کے حکم سے خلاف عادت بلا واسطہ باپ کے پیدا کئے گئے۔
6۔ لذات سے روکنے میں سب مباح خواہشوں سے بچنا داخل ہوگیا، اچھا کھانا، اچھا پہننا، نکاح کرنا وغیرہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →زکریا (علیہ السلام) کے دل سے ایک آہ اٹھی اور سیدھی قبول کرنے والے کے ہاں پہنچ گئی :
96: مریم جو مجسمہ نیکی تھیں اور وہ بھی اس دور شباب میں۔ ان کی زبان سے نکلے ہوئے جملے نے زکریا (علیہ السلام) جیسے نبی کے دل کو بلا کر رکھ دیا اور قدرت الٰہی کے اس تازہ مشاہدہ سے جو وہ اپنی آنکھوں دیکھ رہے تھے متاثر ہو کر ایک آہ کھینچی کہ اللہ ! اولاد اور پھر وہ بھی نیک اور صالح۔ عرض کی مولا ! اے میرے رب ! اے میرے خالق ومالک ! مجھے بھی اپنے پاس سے ایسی پاکیزہ اور ایسی ستھری اولاد عطا فرما جیسی تو نے عمران کو عطا فرمائی۔
سبحان اللہ ! مریم بھی کیا ہی مریم تھیں ؟ کہ نبوت کی زباان سے ضرب المثل بن گئیں۔ آپ کی مثل طلب…
Read the full tafseer →Commentary
1. While looking at the first sentence of this verse هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ (Thereupon, Zakariyya (علیہ السلام) prayed to his Lord) - we should bear in mind that Sayyidna Zakariyya (علیہ السلام) had no offspring upto that time. He had grown old and one usually does not have children in that age, although he firmly believed that Allah, in His ultimate power, could change the usual phenomenon and bless him with an offspring even at his advanced age. But he had not personally witnessed the unusual divine acts - such as he did when he saw unusual and out-of-season…
Read the full tafseer →37. Until then Zechariah had no issue. The sight of this pious young girl made him yearn for a child just as virtuous and devout. When he saw that God sent food to her, by dint of His limitless power, he felt hopeful that God might also bless him with issue, despite his old age.
Read the full tafseer →