زکریا ؑ کا تعارف
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ حضرت حفصہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ نے بخوشی قبول فرما لیا اور اسے بہترین طور سے نشوونما بخشی، ظاہری خوبی بھی عطا فرمائی اور باطنی خوبی سے بھرپور کردیا اور اپنے نیک بندوں میں ان کی پرورش کرائی تاکہ علم اور خیر اور دین سیکھ لیں، حضرت زکریا کو ان کا کفیل بنادیا ابن اسحاق تو فرماتے ہیں یہ اس لئے کہ حضرت مریم (علیہما السلام) یتیم ہوگئی تھیں، لیکن دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کی وجہ سے ان کی کفالت کا بوجھ حضرت زکریا نے اپنے ذمہ لے لیا تھا، ہوسکتا ہے کہ دونوں وجوہات اتفاقاً آپس میں مل گئی ہوں واللہ اعلم، حضرت ابن اسحاق وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 35
اب اس وقت کا ذکر شروع ہوتا ہے جب حضرت مریم سن رشد کو پہنچ گئیں اور بیت المقدس کی عبادت گاہ (ہیکل) میں داخل کردی گئیں اور ذکر الہٰی میں شب و روز مشغول رہنے لگیں۔ حضرت زکریا جن کی تربیت میں وہ دی گئی تھیں، غالباً رشتے میں ان کے خالو تھے اور ہیکل کے مجاوروں میں سے تھے۔ یہ وہ زکریا نبی نہیں ہیں جن کے قتل کا ذکر بائیبل کے پرانے عہد نامے میں آیا ہے۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 36
لفظ محراب سے لوگوں کا ذہن بالعموم اس محراب کی طرف چلا جاتا ہے جو ہماری مسجدوں میں امام کے کھڑے ہونے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ لیکن یہاں سے محراب سے یہ چیز مراد نہیں ہے۔ صوامع اور کنیسوں میں اصل عبادت گاہ کی عمارت سے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
حاصل یہ کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ ان کو لے کر مسجد بیت المقدس میں پہنچیں اور وہاں کے مجاورین و عابدین سے جن میں حضرت زکریا ؑ بھی تھے، جاکر کہا کہ اس لڑکی کو میں نے خاص خدا کے لئے مانا ہے، اس لئے میں اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سو اس کو لائی ہوں، آپ لوگ رکھئے۔
حضرت عمران ؑ اس مسجد کے امام تھے، اور حالت حمل میں ان کی وفات ہوچکی تھی، ورنہ سب سے زیادہ مستحق ان کے لینے وہ تھے، لڑکی کے باپ بھی تھے اور مسجد بیت المقدس کے امام بھی، اس لئے بیت المقدس کے مجاورین و عابدین میں سے ہر شخص ان کو لینے اور پالنے کی خواہش رکھتا تھا، حضرت زکریا ؑ نے اپنی ترجیح کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ میرے…
Read the full tafseer →حضرت مریم (علیہا السلام) کا روحانی فضل و کمال : فَتَقَبَّلَهَا الایۃ : یعنی والدہ مریم کو ان کے لڑکی ہونے کی بنا پر جو احساس تھا اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اپنے حسن قبولیت سے ان کو نوازا، ان کی تمام عقلی، اخلاقی، روحانی صلاحیتیں خوب پروان چڑھیں۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہو کہ ان کی کفالت و تربیت کی ذمہ داری حضرت زکریا نے اٹھائی جو حضرت مریم کے خالو بھی تھے اور اس دور میں بیت المقدس کے اسرائیلی اصطلاح میں کاہن اعظم بھی۔ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ ۙ وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقًا، محراب سے مراد یا تو معبد کا وہ حصہ ہو جو عورتوں کی عبادت اور اعتکاف کے لیے مخصوص تھا…
Read the full tafseer →37۔ 1 حضرت زکریا ؑ حضرت مریم (علیہا السلام) کے خالو بھی تھے علاوہ ازیں اپنے وقت کے پیغمبر ہونے کے لحاظ سے بھی وہی سب سے بہتر کفیل بن سکتے تھے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کی مادی ضروریات اور علمی و اخلاقی تربیت کے تقاضوں کا صحیح اہتمام کرسکتے تھے۔
37۔ 2 محرابُ سے مراد حجرہ ہے جس میں حضرت مریم (علیہا السلام) رہائش پذیر تھیں رزق سے مراد پھل یہ پھل ایک تو غیر موسمی ہوتے گرمی کے پھل سردی کے موسم میں اور سردی کے گرمی کے موسم میں ان کے کمرے میں موجود ہوتے، دوسرے حضرت زکریا ؑ یا اور کوئی شخص لا کردینے والا نہیں تھا اس لئے حضرت زکریا ؑ نے ازراہ تعجب و حیرت سے پوچھا یہ کہاں سے آئے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
11:: حضرت عمران بیت المقدس کے امام تھے ان کی اہلیہ کا نام حنہ بنت فاقوذا تھا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لئے انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر ان کی کوئی اولاد ہوگی تو وہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کردیں گی۔ جب حضرت مریم کے خالو ہوئے۔ حضرت مریم کی سرپرستی کا مسئلہ پیدا ہوا تو قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا گیا اور قرعہ حضرت زکریا ؑ کے نام نکلا جس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت نمبر 44 میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا……………” آخرکار اللہ نے اس کی لڑکی کو قبول کرلیا اور اسے اچھی لڑکی بناکر اٹھایا۔ “ مال کے دل میں اخلاص اور للّٰہیت کو جذبہ موجزن تھا ‘ یہ اس کا صلہ تھا ‘ یہ ایک خالص نذر تھی جو صرف اللہ کے لئے تھی ‘ اور یہ اسے درحقیقت آنیوالے دور میں نفخ روح کے لئے تیار کرنا تھا ۔ کلمۃ اللہ کے حمل کے لئے اسے تیار کرنا تھا ۔ تاکہ وہ حضرت عیسیٰ کی خارق العادت ولادت کے لئے تیار ہو جس کی کوئی مثال اس سے قبل موجود نہ تھی ۔
وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا……………” ذکریا کو اس کا سرپرست بنادیا گیا۔ “ وہ اس کے ولی اور ذمہ دار قرارپائے ۔ اس دور میں حضرت زکریا…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی گو لڑکی تھی مگر حق تعالیٰ نے لڑکے سے بڑھ کر اسے قبول فرمایا۔ بیت المقدس کے مجاورین کے دلوں میں ڈال دیا کہ عام دستور کے خلاف لڑکی کو قبول کرلیں۔ اور ویسے بھی مریم کو قبول صورت بنایا اور اپنے مقبول بندہ زکریا کی کفالت میں دیا اور اپنی بارگاہ میں حسن قبول سے سرفراز کیا۔ جسمانی، روحانی، علمی، اخلاقی ہر حیثیت سے غیر معمولی طور پر بڑھایا جب مجاورین میں اسکی پرورش کے متعلق اختلاف ہوا تو قرعہ انتخاب حضرت زکریا کے نام نکال دیا۔ تاکہ لڑکی اپنی خالہ کی آغوش شفقت میں تربیت پائے اور زکریا کے علم و دیانت سے مستفید ہو۔ زکریا (علیہ السلام) نے پوری مراعاۃ اور جدوجہد کی۔ جب مریم سیانی ہوئیں تو مسجد کے…
Read the full tafseer →آیت 37 فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ شرف قبول عطا فرمایا بڑے ہی خوبصورت انداز میں۔
وَّاَنْبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًالا وَّکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ط
حضرت زکریا علیہ السلام ان کے سرپرست مقرر ہوئے اور انہوں نے حضرت مریم علیہ السلام کی کفالت و تربیت کی ذمہ داری اٹھائی۔ وہ حضرت مریم علیہ السلام کے خالو تھے۔ آپ علیہ السلام وقت کے نبی تھے اور اسرائیلی اصطلاح میں ہیکل سلیمانی کے کاہن اعظم Chief Priest بھی تھے۔
کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَلا وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا ج
محراب سے مراد وہ گوشہ یا حجرہُ ہے جو حضرت مریم علیہ السلام کے لیے مخصوص کردیا گیا تھا۔ حضرت زکریا علیہ…
Read the full tafseer →40 حضرت مریم کی والدہ کی منت کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور حضرت مریم کی جسمانی اور روحانی تربیت خوب اچھی طرح فرمائی۔ جب وہ سن شعور کو پہنچ گئیں اور مسجد (عبادت خانہ) میں جانے کے قابل ہوگئیں تو سوال یہ پیدا ہوا کہ ان کا کفیل اور نگران کون ہو ؟ کیونکہ ہیکل سلیمانی میں بہت سے کاہن تھے جن میں ایک حضرت زکریا بھی تھے۔ بالآخر یہ سعادت حضرت زکریا (علیہ السلام) کے حصہ میں آئی۔ کیونکہ ان کی بیوی حضرت مریم کی حقیقی خالہ تھیں اور یہ قصہ تفصیل سے آگے بیان ہو رہا ہے۔
41 محراب سے مراد وہ جگہ نہیں جو مساجد میں امام کے کھڑے ہونے کے لیے بنائی جاتی ہے، بلکہ محراب ان بالا خانوں کو کہا جاتا تھا جو مسجد کے…
Read the full tafseer →94 ۔ یعنی والدہ مریم (علیہ السلام) کی نذر کو اس لڑکی کی شکل میں بھی اللہ نے قبول کرلیا۔ جو تاریخ خدمت ہیکل میں ایک نئی بات تھی، مسیحی نوشتوں کے بہ موجب حضرت مریم (علیہ السلام) تین سال کی عمر میں ہیکل کی خادمہ کی حیثیت سے قبول کرلی گئی تھیں اور معبد کے چھوٹے بڑے سب خادم اس کمسن بچی کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔ ملاحظہ ہو ہیسٹنگز (Hastings) کی ڈکشنری آف دی بائبل، جلد 3 ۔ صفحہ 288 نیزبج (Budge) کی حکایات خاتون مریم (علیہ السلام) Legends of Lady Mary۔
95 ۔ یہ اچھا نشوونما ممکن ہے کہ قوائے جسمانی کے اعتبار سے ہو اور ممکن ہے کہ قوائے روحانی واخلاقی کے اعتبار سے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں حیثیتوں سے…
Read the full tafseer →وَکَفّلَھَا زَکَرِیَّا، (الآیۃ) حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم کے خالو ہوتے تھے، اس طرح کہ زکریا (علیہ السلام) کی بیوی حَنَّہ اور عمران کی بیوی اشاع دونوں حقیقی بہنیں تھیں۔ مریم عمران کی بیٹی تھیں اور یحییٰ (علیہ السلام) زکریا (علیہ السلام) کے مریم اور یحییٰ (علیہ السلام) ، خالہ زاد بھائی بہن ہیں اور زکریا (علیہ السلام) مریم کے خالو اور یحییٰ (علیہ السلام) کے عمران خالو تھے۔ اس رشتہ کے علاوہ حضرت زکریا (علیہ السلام) اپنے وقت کے پیغمبر بھی تھے اس لحاظ سے وہ بہتر کفیل ہوسکتے تھے مگر بیت المقدس کے دیگر خدام بھی حضرت مریم کی کفالت کے دعویدار تھے جس کی وجہ سے آپس میں نزاع پیدا ہوا فیصلہ اس پر…
Read the full tafseer →فَتَقَبَّلَهَا : پس اللہ نے حنہ سے مریم ( علیہ السلام) قبول کرلیا یا پیدائش ہوتے ہی لے لیا۔ مؤخر الذکر ترجمہ پر تَقَبَّل اِسْتَقْبَلَ کے معنی میں ہوگا جیسے : تَعَجَّلَ استعجل کے معنی میں آتا ہے۔
رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ : قبول وہ شئے جس کے ساتھ کسی چیز کو قبول کیا جائے (مثلا کشادہ روئی یا روگردانی اظہار مسرت ترش روئی وغیرہ) جیسے : سَعْوَۃٌ اور لدود (ناس جس سے چھینک لی جاتی ہے۔ جھگڑے کی چیز) یعنی اللہ نے اچھے طریقہ سے مریم ( علیہ السلام) کو قبول کیا۔ قبول اس جگہ مصدر نہیں ہے ورنہ قبولاً حَسَناً کہا جاتا اگر مصدری معنی لیا جائے گا تو (تاویل کرنی ہوگی) ۔
تقدیر کلام اس طرح ہوگی : فَتَقَبَّلَھَا…
Read the full tafseer →(37) غرض کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا اور لڑکے کی جگہ مریم ؑ کو قبول فرما لیا اور عبادات کے سالوں، مہینوں، دنوں اور گھڑیوں میں عمدہ طور پر غذاؤں سے ان کی نشوونما فرمائی اور ان کو زکریا ؑ کی تربیت کے لیے سپرد فرمایا۔
اور اس عمدہ مکان میں جب مریم ؑ عبادت خداوندی میں مصروف تھیں تو حضرت زکریا تشریف لائے تو سردیوں کے میوے گرمیوں میں جیسا کہ گنا وغیرہ دیکھے اور گرمیوں کے میوے سردیوں میں جیسا کہ انگوروغیرہ ان کے پاس پاتے، وہ یہ دیکھ کر فرماتے کہ بغیر مشکل کے یہ چیزیں تمہارے پاس کہاں سے آتی ہیں وہ فرماتیں کہ اللہ کی جانب سے بواسطہ جبریل امین آئی ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں وقت بےوقت…
Read the full tafseer →وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ڝ عام قول کے مطابق زکریا ؑ ان کے خالو تھے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ وہ مریم ؑ کے بہنوئی تھے۔ اس کی دلیل حدیث معراج ہے جس میں دوسرے آسمان پر رسول اللہ ﷺ کی یحییٰ اور عیسیٰ ؑ سے ملاقات کا ذکر ہے اور صراحت ہے کہ وہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ [ بخاری، الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (ذکر رحمۃ ربک۔۔) 3430 ]
الْمِحْرَابَ ۙ : اس سے مراد معروف محراب نہیں ہے جو مسجدوں میں امام کے لیے بنایا جاتا ہے، بلکہ اس کا معنی اس کمرہ کے ہیں جو تنہائی کے لیے بنایا جاتا ہے۔ (دیکھیے سبا : 13) یہودو نصاریٰ عبادت خانے سے الگ کچھ بلندی پر یہ محراب بناتے تھے، جس میں مسجد کے عبادت گزار رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت نمبر 37 تا 38۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فتقبلھا بقبول حسن “۔ اس کا معنی ہے : اسے سعداء کے راستے پر چلایا یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے، اور ایک قوم نے کہا ہے : تقبل کا معنی ہے تربیت میں کفیل بنانا اور اس کے معاملات کو ادا کرنا، اور حسن نے کہا ہے تقبل کا معنی ہے کہ اس کے رب نے اسے رات، دن میں سے کبھی ایک ساعت بھی اذیت اور تکلیف نہیں دی اور (آیت) ” وانبتھا نباتا حسنا “۔ سے مراد ہے اس کی خلقت کو بغیر کسی کمی وبیشی کے صحیح بنایا، پس وہ ایک دن میں اتنا بڑھتی تھی جتنا عام بچہ سال میں نشوونما پاتا ہے۔ قبول اور نبات دونوں مصدر ہیں لیکن اپنے فعل کے ہم وزن مصدر نہیں، فی الحقیقت مصدر تقبلا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
اللہ تعالیٰ نے نذر قبول فرمائی
(1) ابن جریر ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فتقبلھا ربھا بقبول حسن “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اس کی ماں سے جو اس نے گرجا گھر کی خدمت کے لیے ارادہ کیا تھا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” وانبتھا نباتا حسنا “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی غذا میں پرورش پائی۔
(2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وکفلھا زکریا “ سے مراد کہ انہوں نے اس کو حفاظت میں لے لیا۔
(3) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور حاکم نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اس کی کفالت کی جب اس کے پاس محراب میں آئے تو…
Read the full tafseer →[فَتَقَبَّـلَہَا : تو قبول کیا اس کو ] [رَبُّہَا : اس کے رب نے ] [بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ : خوبصورت قبول کرنا ] [وَّاَنْبَتَہَا : اور اس نے نشو و نما کی اس کی ] [نَــبَاتًا حَسَنًا : خوبصورت نشو و نما کرنا ] [وَّکَفَّلَہَا : اور اس نے کفیل بنایا ان کا ] [زَکَرِیَّا : زکریا (علیہ السلام) کو ] [کُلَّمَا : جب کبھی ] [دَخَلَ : داخل ہوتے ] [عَلَیْہَا : ان پر ] [زَکَرِیَّا : زکریا (علیہ السلام) ] [الْمِحْرَابَ : محراب میں ] [وَجَدَ : تو وہ پاتے ] [عِنْدَہَا : ان کے پاس ] [رِزْقًا : کچھ رزق ] [قَالَ : تو وہ کہتے ] [یٰمَرْیَمُ : اے مریم ] [اَنّٰی : کہاں سے ] [لَکِ : تیرے لیے ] [ہٰذَا : یہ ہے ] [قَالَتْ :…
Read the full tafseer →حضرت مریم کا نشوونما اور حضرت زکریا کی کفالت :
حضرت مریم کی والدہ کا قول ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَتَقَبَّلَھَا رَبُّھَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْبَتَھَا نَبَاتًا حَسَنًا وَّ کَفَّلَھَا زَکَرِیَّا) کہ اس کے رب نے اس بچی کو قبول فرما لیا، نذر کو ہدیہ سے تشبیہ دی۔ اور ان کی نذر سے راضی ہونے کو قبول کرنے سے تعبیر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور بہت خوبی کے ساتھ قبول فرمایا۔ علماء تفسیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت مریم پیدا ہوگئیں تو ان کی والدہ جن کا نام حنہ تھا ان کو کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس میں لے گئیں اور وہاں جو عبادت میں مشغول رہنے والے حضرات مقیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
قصہ حضرت مریم وحضرت عیسیٰ (علیہما السلام)
قال تعالی، اذ قالت امرات عمران رب۔۔۔ الی۔۔ بغیرحساب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے چند محب اور محبوب بندوں کا اجمالا ذکر تھا اب اس کی تفصیل شروع ہوتی ہے اس سلسلہ میں سب سے پہلے آل عمران کا قصہ ذکر فرمایا جس سے مقصود یہ ہے کہ اہل کتاب کے دو بڑے گروہ یہود اور نصاری دونوں کے خیالات اور مزعومات فاسدہ کا اور ان کی افتراء پردازیوں کا فیصلہ کردیا جائے یہود بےبہبود نے حضرت عیسیٰ کے حق میں غایت درجہ تفریط کی ان کو ان کی شان عالی سے گھٹایا اور ان کو کاہن اور جادوگر بتلایا اور نصاری نے افراط کی یعنی ان کی تعظیم میں غلو اور مبالغہ کیا کہ ان کی ابنیت اور…
Read the full tafseer →50:۔ اسرائیلی شریعت میں اگرچہ خدمت مسجد کے لیے با شعور اور عاقل لڑکے ہی کی نذر قبول ہوسکتی تھی اور لڑکی کی نذر قبول نہیں ہوتی تھی۔ لیکن حضرت مریم کی والدہ کا اخلاص اور ان کی تضرع وزاری اللہ کو پسند آئی۔ اس لیے اس نے حضرت مریم کی مسنی ہی میں نذر قبول فرما لی (کبیر ج 2 ص 658، روح ج 3 ص 138) وَاَنْبَتَھَا نَبَاتاً حَسَناً اور جسمانی روحانی اور اخلاقی اعتبار سے اس بچی کی بہت عمدہ تربیت فرمائی۔ عبارۃ عن حسن النشاۃ والجودۃ فی خلق وخلق فانشاھا علی الطاعۃ والعبادۃ (بحر ج 2 ص 144) ۔
51:۔ محراب کے معنی حجرے اور خلوت گاہ کے ہیں۔ رزق سے کھانے پینے کی چیزیں مراد ہیں اور رِزْقاً کی تنوین تفخیم کے لیے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
زوجہ عمران کی نذر :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصاری کے غلط عقائد کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے۔ آج کے درس میں حضرت مریم کی ولادت سے موضوع سخن کا آغاز کی اجا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ کہ اس واقعہ کو اپنے ذہن میں لاؤ۔ اذ قالت امرات عمران ، جب عمران کی بیوی نے کہا۔ رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررا۔ اے مولا کریم ! میں نے تیرے لیے یہ نذر مانی ہے کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے ، وہ میں نے محض تیری عبادت کے لیے آزاد کردیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ، محررا ، یعنی آزاد کرنے سے مراد ہے ، مخلصا للعبادۃ ، یعنی ہونے والے بچے کو خالص اللہ کی عبادت کے لیے مختص…
Read the full tafseer →فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَـنًا 0 ۙ وَّكَفَّلَہَا زَكَرِيَّا 0 ۚ ۭ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْہَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ 0 ۙ وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقًا 0 ۚ قَالَ يٰمَرْيَـمُ اَنّٰى لَكِ ھٰذَا 0 ۭ قَالَتْ ھُوَمِنْ عِنْدِ اللہِ 0 ۭ اِنَّ اللہَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ 37
قبل ( تقبل)
قَبُولُ الشیء علی وجه يقتضي ثوابا کا لهديّة ونحوها . قال تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ ما عَمِلُوا[ الأحقاف/ 16] ، وقوله : إِنَّما يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ [ المائدة/ 27] ، تنبيه أن ليس كل عبادة مُتَقَبَّلَةً ، بل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ترکیب : اذا اس کا عامل اذکر ہے محرراً حال ہے ما سے جو بمعنی الذی ہے ‘ انثی حال ہے وضعتہا کی تا سے یابدل نباتا بمعنی انباتا مفعول مطلق ہے فعل مذکور سے ‘ کفل کا فاعل اللہ ہا مفعول اول زکریا مفعول ثانی۔ کلما کلمہ شرط دخل علیہا اس کے متعلق زکریا فاعل المحراب مفعول فیہ دخل کا وحقہ ان یتعدی بفی او بالی لکنہ اتسع فیہ فاوصل بنفسہ الی المفعول یہ جملہ شرط۔ وجد کا فاعل زکریا عندھا ظرف رزقا مفعول تمام جملہ جواب شرط قال یا مریم جملہ مستانفہ۔
تفسیر : چونکہ ابھی خدا کی محبت اور اس کی طاعت کا ذکر تھا اس لئے مناسب ہوا کہ خدا کے محبوبوں اور حقیقی مطیعوں کے واقعات ترغیب کے لئے اجمالی طور پر بیان فرمائے جاویں جس…
Read the full tafseer →فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَـبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْبَتَہَام نَبَاتًا حَسَنًا لا وَّکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ط کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ لا وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا ج قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَـکِ ھٰذَا ط قَالَتْ ھُوَمِنْ عِنْدِاللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِحِسَابٍ ۔
(تو اس کے رب نے اس کو اپنی پسندیدگی کی قبولیت سے نوازا اور اسے عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا نگران بنایا۔ جب بھی زکریا محراب میں اس کے پاس جاتے تو پاتے اس کے پاس کھانے کی چیزیں۔ انھوں نے پوچھا : اے مریم ! یہ تمہارے لیے کہاں سے آتا ہے ؟ مریم بولی یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
حضرت مریم [ جب بڑی ہوئیں تو انہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں دیا گیا۔ اس زمانے کے مذہبی رواج کے مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف لوگ تارک الدّنیا ہو کر مسجد اقصیٰ میں تعلیم و تربیت اور ذکر و اذکار میں مصروف رہتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا کے معاملات سے الگ کرلیا ہوتا تھا۔ چناچہ حضرت مریم [ انہی ذاکرات میں شامل ہو کر اپنے حجرے میں محو عبادت رہا کرتی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام ان کے خالو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سپر دتھا۔ ایک دن زکریا (علیہ السلام) ان کے ہاں حجرے میں تشریف لائے تو ان کے پاس غیر…
Read the full tafseer →37: فَتَقَبَّلَھَا رَبُّھَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْچبَتَھَا نَبَاتًا حَسَنًا وَّ کَفَّلَھَا زَکَرِیَّا۔ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْھَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقاً قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذَا، قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَن یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (پس ان کو ان کے رب نے بوجہ احسن قبول فرما لیا اور عمدہ طور پر ان کو نشونما دیا اور زکریا کو ان کا سرپرست بنایا جب کبھی زکریا ان کے پاس عمدہ مکان میں تشریف لاتے تو ان کے پاس کچھ کھانے پینے کی چیزیں پاتے تو یوں فرماتے کہ اے مریم یہ چیزیں تمہارے واسطے کہاں سے آئیں وہ کہتیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 37۔:
(فتقلبھا ۔۔۔۔ حسن پس ان کو ان کے رب نے بوجہ احسن قبول فرما لیا) اللہ تعالیٰ نے حضرت حنہ سے مریم (علیہا السلام) کو قبول کرلیا ” تقبل بمعنی قبول اور رضا مندی کے ہے ، قبول مصدر ہے ” قبل یقبل “ سمع ویسمع سے مثل ولوغ اور وزوغ کے ۔ ان تین مصادر کے علاوہ نہیں آتا، بعض نے کہا کہ قبول تقبل کے معنی میں ہے ان کی تربیت میں کفالت کرنا (وانبتھا نباتا حسنا اور عمدہ طور پر ان کو نشونما دیا) یہ فعل محذوف کا م مفعول مطلق ہے ، عبارت اس طرح ہوگی ، ” وانبتھا فنبتت نباتا حسنا “۔ بعض نے کہا کہ یہ مصدر ایسا ہے کہ اس کا کوئی مصدر نہیں جیسا کہ اللہ کا فرمان (آیت)” فتقبلھا ربھا بقبول حسن “ ، اس کی مثال…
Read the full tafseer →حضرت مریم کی پرورش حضرت زکریا کے سپرد تھی اس کا حال اوپر گذر چکا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ حضرت مریم ایک دن میں اتنا بڑھتی تھیں جتنا اور کوئی بچہ ایک برس میں بڑھتا ہے جب حضرت مریم سیانی ہوگئیں تو حضرت زکریا نے حضرت مریم کے لئے ایک عبادت خانہ بنوایا اس عبادت خانہ میں حضرت زکریا حضرت مریم سے ملنے آیا کرتے تو حضرت مریم کے پاس ان کو بےفصل کا میوہ رکھا ہوا نظر آتا۔ حضرت زکریا پوچھتے۔ مریم یہ میوہ کہاں سے آیا تو حضرت مریم جواب دیا کرتیں۔ میوہ اللہ نے دیا ہے۔ اس آیت میں اولیاء کی کرامت کا ثبوت ہے اور اکثر احادیث سے بھی اس کا ثبوت پایا جاتا ہے۔ 2۔ محراب عبادت خانہ کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
آیت 33-37
اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء، اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدم کا انتخاب فرمایا۔ انہیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کر کے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، انہیں جنت میں ٹھہرایا۔ انہیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے۔ اس لئے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (ولقد کرمنا بنی ادم وحملنھم فی البروالبحر ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفصیلاً “ (بنی اسرائیل :80/18) ” یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انہیں…
Read the full tafseer →قول باری ہے (فتقبلھا ربھا بقبول حسن، اس لڑکی کو اس کے رب نے بہت عمدہ طریقے سے قبول کرلیا ) اس سے مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ عمران کی بیوی نے اس بطی کو بیت المقدس میں عبادت ک لیے مختص کرنے کی اخلاص نیت کے ساتھ جو نذرمانی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی نذرقبول کرتے ہوئے اپنی عبادت کے لیے اسے پسند کرلیا۔ اس سے پہلے اللہ نے کسی مؤنث کو اس معنی میں قبول نہیں قبول باری ہے (وکفلھا زکریا، اور زکریاکواس کا سرپرست بنادیا) اگر لفظ (کفلھا) کی قرأت قول باری ہے (وکفلھا زکریا، اور زکریاکواس کا سرپرست بنادیا) اگر لفظ (کفلھا) کی قرات حرف فاء کی تشدید کے بغیر کی جائے تو اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ حضرت زکریا…
Read the full tafseer →84 حضرت مریم کی عمدہ اٹھان کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت مریم کی نہایت عمدہ اور پاکیزہ اٹھان کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ ان کو ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے ایسی عمدہ تربیت اور بالیدگی نصیب ہوئی کہ کسی طرح کے فساد اور بگاڑ نے ان کی طرف کوئی راہ نہ پائی۔ بلکہ روایات میں یہاں تک وارد ہے کہ وہ ایک دن میں اتنا بڑھتیں جتنا کہ عام لڑکیاں ایک سال میں بڑھتی ہیں (جامع البیان، وغیرہ) ۔ اور ظاہر ہے کہ جس کو رب تعالیٰ نے قبول حسن اور انبات حسن سے نوازا ہو، اس کے لئے ایسی کسی بات میں کیا تعجب ہوسکتا ہے ؟ اور اسی قبول حسن کا ایک پہلو یہ ہے کہ ان کو حضرت زکریا جیسی پاکیزہ اور مقدس ہستی کی کفالت و سرپرستی…
Read the full tafseer →حضرت مریم (علیہا السلام) کی پرورش
تشریح : اس وقت کے دستور کے مطابق ہیکل کی خدمت کے لئے لڑکی قبول نہ کی جاتی تھی مگر حنہ کی دعا کی قبولیت کی وجہ سے کلیسا کے مجاوروں کے دل میں اللہ نے ان کو قبول کرنے کا خیال پیدا کردیا اور پھر اسی طرح ان کی پرورش کے متعلق ہیکل کے درمیان اختلاف ہوا تو یہ مسئلہ قرعہ اندازی کے ذریعہ حل کیا گیا اور اس طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ان کی کفالت کا ذمہ دے دیا گیا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اور رشتہ میں حضرت مریم (علیہ السلام) کے خالو لگتے تھے اور جب عمران جو کہ سردار تھے ان کی وفات کے بعد ان کی جگہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ہی منتخب کیا گیا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
آیات 31- 41
اسرارو معارف
قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔
رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔
محبت ، محب اور محبوب :
اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…
Read the full tafseer →ف 3 ابن اسحاق نے اس کی وجہ حضرت مریم ( علیہ السلام) کی یتیمی بیان کی ہے اور دوسرے مئو رخین نے بنی اسرئیل میں قحط سالی کو سبب کفالت قرار دیا ہے۔ حضرت زکرریا ( علیہ السلام) مریم ( علیہ السلام) کے خالو تھے اور بعض نے بہنوئی بھی لکھا ہے۔ چناچہ حدیث معراج میں آنحضرت ﷺ نے یحییٰ ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کو ابنا خالتہ قرار دیا ہے لیکن شار حین نے اسے مجاز پر محمول کیا ہے۔ (ابن کثیر)4 لفظ محراب سے مرادمعروف محراب نہیں ہے جو مسجدوں میں امام کے لیے بنائی جاتی ہے۔ اس کے معنی تو اس چھوٹے سے کمرہ کے ہیں جو تنہائی کے لیے بنایا جاتا ہے یہود اور نصاریٰ عبادت خانہ سے الگ کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(3:37) انب تھا۔ انبات (افعال) مصدر بمعنی اگانا۔ بڑھانا۔ اس نے اس کو بڑھایا (جاندار کے لئے) اس نے اس کو اگایا۔ (نباتات کے لئے) ای ربھا الرب تربیۃ حسنۃ فی عبادۃ وطاعۃ لربھا (روح المعانی) ۔
کفلہا زکریا۔ اس نے (اللہ نے) اس کو (مریم کو) زکر یا کی کفالت میں دیدیا۔ کفل ماضی واحد مذکر غائب۔ تکفیل (تفعیل) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ کفل کا فاعل اللہ۔ یعنی اللہ نے زکریا کو مریم کا کفیل بنادیا۔ اس صورت میں ھا ضمیر مفعول اول اور زکریا مفعول دوم ہوگا۔ لیکن تکفیل کے معنی کسی کو اپنی کفالت (ذمہ داری) میں لے لینا بھی ہے۔ اس لئے زکریا فاعل بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی زکریا نے مریم کو اپنی ذمہ داری میں لے لیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41
اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے)…
Read the full tafseer →اس آیت میں اولیاء کی کرامت کا ثبوت ہے۔ اکثر احادیث سے بھی اس کا ثبوت پایا جاتا ہے۔ (محراب عبادت خانہ کو کہتے ہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
[16] زکریا (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اور غالباً رشتے میں مریم (علیہ السلام) کے خالو تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
حضرت زکریا کی دعا :
(ف 1) حضرت مریم (علیہا السلام) کی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں اس لئے دیا گیا تاکہ وہ بہترین تربیت حاصل کریں اور آیندہ چل کر اخلاق کے متعلق انہیں مہتم نہ کیا جائے ،
مریم (علیہما السلام) ابھی بچی ہی تھیں کہ ان کا دل معرفت و سلوک کی تمام منزلیں طے کرچکا تھا ، زکریا (علیہ السلام) نے جب ان سے پوچھا کہ بچی ، یہ رزق کہاں سے آیا ہے تو آپ نے جواب دیا ، اللہ کی جانب سے ۔
یہ جواب سن کر حضرت زکریا (علیہ السلام) نہایت محفوظ ہوئے اور دل میں اس خواہش نے چٹکی لی کہ میرے گھر میں بھی ایسی ہی روح آئے ،
چناچہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے مولا ! تو دعاؤں کا سننے والا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ف 2۔ الغرض حضر ت مریم کو ان کے پروردگار نے عمدہ طریقہ کے ساتھ قبول فرمایا اور ان کو اچھے اٹھان اٹھایا یعنی عمدہ طور پر ان کو نشو و نما کیا اور حضرت زکریا کو ان کا سرپرست اور نگراں بنادیا ، پھر جب کبھی حضرت زکریا ان کے مقررہ حجرے میں تشریف لائے تو حضرت مریم کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے کی چیزیں موجود پاتے ۔ حضرت زکریا دریافت کرتے ۔ اے مریم یہ چیزیں تیرے لئے کہاں سے آئیں وہ جواب دیتیں۔ یہ روزی اور کھانے پینے کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے آتی ہیں ، بلا شبہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےسان و گمان اور بلا مشقت و تعب روزی عنایت فرماتا ہے۔
محراب کسی مجلس کے صدر مقام کو کہتے ہیں ۔ مسجد کے محراب کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 3۔ یہ جو فرمایا کہ عمدہ طور پر ان کو نشوونما دیا تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ابتداء سے عبادت وطاعت میں مشغول رکھا، دوسرے یہ کہ اور بچوں کی معمولی نشوونما سے ان کا ظاہری نشوونما زائد تھا۔
Read the full tafseer →مریم کو اللہ نے اس کی والدہ ماجدہ کی دعا کے مطابق قبول فرما لیا :
92: پھر اس کے پروردگار نے اس کی بوجہ احسان قبول کر یا۔ یعنی والدہ مریم کی نذر کو اس لڑکی کی شکل میں بھی اللہ نے قبول کرلیا جو تاریخ خدمت ہیکل میں ایک نئی بات تھی۔ مسیحی نوشتوں کے مطابق سیدہ مریم تین سال کی عمر میں ہیکل کی خادمہ کی حیثیت سے قبول کرلی گئی تھیں اور معبد کے چھوٹے بڑے خادم جن کی تعداد ستائیس کے قریب تھی سب کے سب اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ وہ نہایت ہی کم سن اور پھر وہ بچی ہونے کی صورت میں ہیکل میں رکھی گئی تھیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیدہ مریم جب سن شعورکو پہنچیں تو اس وقت یہ سوال پیدا ہوا کہ مقدس ہیکل…
Read the full tafseer →Commentary
In order to fulfill her vow, Sayyidah Maryam's mother took her to the Mosque of بیت المقدس Baitul-Maqdis and talked to the care-takers and worshippers at the Mosque, Sayyidna Zakariyya (علیہ السلام) being one of them, and. told them that she had vowed to dedicate the child in the service of God and therefore, she could not keep the child with her. She asked them to take her and keep her.
Sayyidna ` Imran (علیہ السلام) was the Imam of this Mosque. He had died during the pregnancy of Maryam's mother, otherwise he would have been the most deserving person to have taken charge of the…
Read the full tafseer →35. This section refers to that period of Mary's life when she attained her majority and was admitted to the Temple of Jerusalem, and devoted all her time to remembering God. Zechariah, into whose care she was given, was perhaps the husband of her maternal aunt, and was one of the guardians of the Temple. This Zechariah is not to be confused with the Prophet Zechariah whose assassination is mentioned in the Old Testament.
36. The word mihrab usually refers to that niche in mosques where the leader of the prayer stands. In this instance, however, the term signifies the apartments usually built…
Read the full tafseer →