Explained with ayahs 35–36
مریم بنت عمران
حضرت عمران کی بیوی صاحبہ کا نام حسنہ بنت فاقوذ تھا حضرت مریم (علیہما السلام) کی والدہ تھیں حضرت محمد اسحاق فرماتے ہیں انہیں اولاد نہیں ہوتی تھی ایک دن ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چوغہ دے رہی ہے تو انہیں ولولہ اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی اور خلوص کے ساتھ اللہ کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول فرما لی اور اسی رات انہیں حمل ٹھہر گیا جب حمل کا یقین ہوگیا تو نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جو اولاد دے گا اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے اللہ کے نام پر آزاد کر دوں گی، پھر اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تو میری اس مخلصانہ نذر کو قبول فرما تو میری دعا کو سن رہا ہے…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 34
یعنی لڑکا ان بہت سی فطری کمزوریوں اور تمدنی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے، جو لڑکی کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہیں، لہٰذا اگر لڑکا ہوتا تو وہ مقصد زیادہ اچھی طرح حاصل ہوسکتا تھا جس کے لیے میں اپنے بچے کو تیری راہ میں نذر کرنا چاہتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
خلاصہ تفسیر
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ عمران (پدر مریم) کی بی بی نے (حالت حمل میں حق تعالیٰ سے) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں نے نذر (یعنی منت) مانی ہے آپ (کی عبادت) کے لئے اس بچے کی جو میرے شکم میں ہے کہ وہ (خانہ خدا کی خدمت کے واسطے) آزاد (فارغ) رکھا جائے گا (اور میں اس کو اپنے کام میں نہ لگاؤں گی) سو آپ (اس کو) مجھ سے قبول کر لیجیے، بیشک آپ خوب سننے والے خوب جاننے والے ہیں (کہ میری عرض کو سن رہے ہیں اور میری نیت کو جان رہے ہیں) پھر جب (ان بی بی نے) لڑکی جنی (تو ان کو رنج ہوا کہ یہ تو خدمت بیت المقدس کے لائق نہیں، یہ کام تو مردوں کا ہے، اس لئے حسرت سے) کہنے لگیں کہ اے میرے…
Read the full tafseer →اِنِّىْ وَضَعْتُهَآ اُنْثٰى، سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ حضرت مریم کی والدہ کو، جیسا کہ اوپر گزرا، توقع فرزند کی ولادت کی تھی اور اسی توقع پر انہوں نے منت مانی تھی لیکن ولادت، توقع کے خلاف، لڑکی کی ہوئی۔ اس پر انہوں نے اپنے رب کے حضور اپنے تردد کا اظہار فرمایا کہ یہ تو میں لڑکی جنی ہوں اور بہرحال وہ بچہ جس کو میں نے تیری نذر گمان کیا تھا، میرے خیال کے مطابق لڑکا تھا، یہ لڑکی اس کا بدل تو نہیں ہوسکتی لیکن اس پر بھی اگر تو یہ نذر حقیر قبول فرمائے تو یہ تیرا فضل ہی فضل ہوگا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ (اور اللہ خوب جانتا تھا اس چیز کو جو وہ جنی تھی) ، یہ حضرت مریم کی والدہ کی بات کے بیچ میں…
Read the full tafseer →36۔ 1 اس جملے میں حسرت کا اظہار بھی ہے اور عذر کا بھی۔ حسرت اس طرح کہ میری امید کے برعکس لڑکی ہوئی ہے اور عذر اس طرح کہ نذر سے مقصود تو تیری رضا کے لئے ایک خدمت گار وقف کرنا تھا اور یہ کام ایک مرد ہی زیادہ بہتر طریقے سے کرسکتا تھا۔ اب جو کچھ بھی ہے تو اسے جانتا ہے (فتح القدیر)
36۔ 2 حافظ ابن کثیر نے اس سے اور حدیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے بچے کا نام ولادت کے پہلے روز رکھنا چاہیے اور ساتویں دن نام رکھنے والی حدیث کو ضعیف قرار دے دیا۔ لیکن حافظ ابن القیم نے تمام احادیث پر بحث کر کے آخر میں لکھا ہے کہ پہلے روز، تیسرے روز یا ساتویں روز نام رکھا جاسکتا ہے، اس مسئلے میں گنجائش ہے۔
36۔ 3…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
11:: حضرت عمران بیت المقدس کے امام تھے ان کی اہلیہ کا نام حنہ بنت فاقوذا تھا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لئے انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر ان کی کوئی اولاد ہوگی تو وہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کردیں گی۔ جب حضرت مریم کے خالو ہوئے۔ حضرت مریم کی سرپرستی کا مسئلہ پیدا ہوا تو قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا گیا اور قرعہ حضرت زکریا ؑ کے نام نکلا جس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت نمبر 44 میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →زوجہ عمران کی یہ خشوع و خضوع کے عطر سے معطر دعا کہ اے رب میری نذر قبول فرما ! وہ نذر جو اس کے دل کا ٹکڑا ہے۔ اس کا جگر گوشہ ہے ۔۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ خالص اللہ کی مسلم اور مطیع فرمان ہیں ۔ وہ کلمۃ اللہ کی جہت کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں ۔ بالکلہ یکسو ہیں ۔ ہر قید سے آزاد ہیں اور ان کے دل میں ماسوائے قبولیت نذر اور رضائے الٰہی کے جذبے کے اور کچھ نہیں ہے۔
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
” پھر جب وہ…
Read the full tafseer →11 یہ حسرت و افسوس سے کہا، کیونکہ خلاف توقع پیش آیا۔ اور لڑکی قبول کرنے کا دستور نہ تھا۔
1 یہ درمیان میں بطور جملہ معترضہ حق تعالیٰ کا کلام ہے یعنی اسے معلوم نہیں کیا چیز جنی۔ اس لڑکی کی قدر و قیمت کو خدا ہی جانتا ہے جس طرح کے بیٹے کی اسے خواہش تھی وہ اس بیٹی کو کہاں پہنچ سکتا تھا۔ یہ بیٹی بذات خود مبارک و مسعود ہے اور اس کے وجود میں ایک عظیم الشان مبارک و مسعود بیٹے کا وجود منطوی ہے۔
2 حق تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی۔ حدیث میں ہے کہ آدمی کے بچہ کو ولادت کے وقت جب ماں سے جدا ہو کر زمین پر آرہتا ہے۔ شیطان مس کرتا ہے۔ مگر عیسیٰ اور مریم مستثنیٰ ہیں۔ اس کا مطلب دوسری احادیث کے ملانے سے یہ ہوا کہ…
Read the full tafseer →آیت 36 فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُہَآ اُنْثٰی ط۔
یعنی میرے ہاں تو بیٹی پیدا ہوگئی ہے۔ میں تو سوچ رہی تھی کہ بیٹا پیدا ہوگا تو میں اس کو وقف کر دوں گی۔ اس وقت تک ہیکل کے خادموں میں کسی لڑکی کو قبول نہیں کیا جاتا تھا۔
وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ط۔
اسے کیا پتا تھا کہ اس نے کیسی بیٹی جنی ہے !
وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی ج !
اس جملے کے دونوں معنی کیے گئے۔ اوّلاً : اگر یہ قول مانا جائے حضرت مر یم علیہ السلام کی والدہ کا تو ترجمہ یوں ہوگا : اور لڑکا لڑکی کی مانند تو نہیں ہوتا۔ اگر لڑکا ہوتا تو میں اسے خدمت کے لیے وقف کردیتی ‘ یہ تو لڑکی ہوگئی ہے۔ ثانیاً : اگر اس…
Read the full tafseer →37 حضرت مریم کی والدہ نے جو منت مانی تھی وہ اس توقع سے مانی تھی کہ ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا۔ کیونکہ اس عہد میں لڑکے تو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کئے جاتے تھے۔ مگر لڑکیوں کو وقف کرنے کا رواج نہ تھا۔ مگر ہوا یہ کہ لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی تو انہیں اس بات پر افسوس ہونا ایک فطری امر تھا۔ اس آیت میں محرر کا لفظ آیا ہے۔ جس کا لغوی معنی آزاد کردہ ہے یعنی ایسا بچہ جسے والدین نے تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا ہو تاکہ وہ یکسو ہو کر اللہ کی عبادت کرسکے۔ یہود میں دستور تھا کہ وہ اس طرح کے منت مانے ہوئے وقف شدہ بچوں کو بیت المقدس یا ہیکل سلیمانی میں چھوڑ جاتے اور انہیں ہیکل سلیمانی یا عبادت خانہ کے…
Read the full tafseer →91 ۔ (اور لڑکی کس طرح تیر معبد میں مجاور بن سکے گی ؟ ) حضرت مریم (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ بہ صد حسرت ویاس بارگاہ الہی میں مناجات کررہی تھیں کہ تمنا تو لڑکے کی اس لیے کی تھی کہ اسے ہیکل کی نذر کردیا جاتا۔ وہ یہیں کی جاروب کشی اور مجاوری میں عمر بسر کرتا۔ اولاد تو ہوئی مگر لڑکی نکلی۔ لڑکی سے کیسے یہ نذر پوری ہوسکتی ہے ؟ اسرائیلی قانون میں لڑکی سے اس خدمت کی کوئی صورت ہی نہ تھی ،
92 ۔ یہ پورا فقرہ والدہ مریم (علیہ السلام) کی تقریر کا حصہ نہیں۔ بہ طور ایک مستقل جملہ معترضہ کے براہ راست ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ اس لڑکی کی عظمت ومنزلت سے تو خدائے تعالیٰ ہی خوب واقف تھا۔ ماں غریب کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی۔ اس جملہ سے حسرت کا اظہار بھی مقصود ہے اور عذر بھی، حسرت اس وجہ سے کہ میری امید کے برخلاف لڑکی ہوئی ہے اور عذر اس طرح کہ نذر سے مقصود تو تیری رضا کے لیے ایک خدمت گار وقف کرنا تھا یہ کام ایک مرد ہی زیادہ بہتر طریقہ سے انجام دے سکتا ہے اب جو کچھ بھی ہے تو اسے جانتا ہے۔
بچہ کا نام کب رکھا جائے : حافظ ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے احادیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بچہ کا نام ولادت کے پہلے ہی روز رکھنا چاہیے اور ساتویں روز نام رکھنے والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن حافظ ابن قیم نے تمام احادیث پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلے روز تیسرے روز ساتویں روز…
Read the full tafseer →فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ وَضَعْتُهَآ اُنْثٰى : ضمیر مؤنث حمل کی طرف راجع ہے کیونکہ واقع میں وہ لڑکی تھی یا نفس وغیرہ کی تاویل کے لحاظ سے مؤنث کی ضمیر راجع کردی گئی۔ (یعنی حمل بھی ایک نفس تھا اور عربی میں نفس مؤنث ہے) مطلب یہ کہ جب حنہ نے لڑکی جنی تو حسرت کے ساتھ کہا کہ اے میرے رب میں نے یہ لڑکی جنی یا اللہ کے سامنے معذرت پیش کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے کیونکہ لڑکی کو ہی بیت المقدس کی خدمت کے لیے حنہ نے وقف کیا ( اور دستور کے خلاف کیا اسلئے اپنی مجبوری ظاہر کی)
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ : یہ کلام بالکل ابتدائی ہے ما قبل سے اس کا تعلق نہیں اس سے پیدا شدہ بچی کی عظمت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35۔ 36) اور اے محمد ﷺ وہ وقت بھی یاد کیجئے کہ جب حضرت مریم ؑ کی والدہ نے کہا کہ جو میرے پیٹ میں ہے میں نے اس کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیا ہے، اور اے رب ! آپ دعاؤں کو سننے والے اور اس کی قبولیت اور جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اس کو بخوبی جاننے والے ہیں چناچہ جب انہوں نے لڑکی جنی تو حضرت مریم ؑ کی والدہ حسرت سے عرض کرنے لگیں پروردگار میں نے تو لڑکی جنی ہے، حالانکہ جو انہوں نے لڑکی جنی تو حضرت مریم ؑ کی والدہ حسرت سے عرض کرنے لگیں پروردگار میں نے تو لڑکی جنی ہے، حالانکہ جو انہوں نے جنا اللہ تعالیٰ اسے زیادہ جانتے تھے اور لڑکا خدمت وغیرہ میں کسی طرح اس لڑکی کے برابر نہیں ہوسکتا اور میں اس…
Read the full tafseer →وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى ۚ: بظاہر تو کہنا چاہیے تھا کہ لڑکی لڑکے جیسی نہیں، مگر الٹ فرمایا، یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ لڑکا جو عمران کی بیوی کے ذہن میں تھا، اس لڑکی جیسا نہیں ہوسکتا جو انھیں عطا کی گئی۔ ”الذَّكَرُ ‘ اور ”كَالْاُنْثٰى“ میں الف لام عہد ذہنی کا ہے۔
وَاِنِّىْ سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ : اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش کے ساتھ ہی نام رکھا جاسکتا ہے، ساتویں دن کا انتظار ضروری نہیں، بلکہ ساتواں دن نام رکھنے کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آج رات میرے گھر بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اپنے باپ (ابراہیم ؑ کے نام پر اس کا نام رکھا ہے۔“ [ مسلم، الفضائل، باب رحمتہ ﷺ الصبیان۔۔ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت نمبر : 35 تا 36۔
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اذ قالت امرات عمرن “۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : اذ، زائدہ ہے اور محمد بن یزید نے کہا ہے : تقدیر کلام ہے اذکر اذ۔ اور زجاج نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اصطفی آل اذ قالت امرات عمرن “۔ اللہ تعالیٰ نے آل عمران کو چن لیا جب عمران کی بیوی نے عرض کی، اور یہ حنہ بنت فاقود بن قنبل حضرت مریم (علیہا السلام) کی ماں اور حضرت عسی (علیہ السلام) کی داد تھی، یہ عربی نام نہیں ہے اور نہ ہی عربی میں کسی عورت کا نام حنہ معروف ہے۔ عربی میں ابو حنہ البدری ہے۔ اور اس میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ابو حبہ ہے اور یہی اصح ہے اور اس کا نام عامر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
اللہ تعالیٰ نے نذر قبول فرمائی
(1) ابن جریر ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فتقبلھا ربھا بقبول حسن “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اس کی ماں سے جو اس نے گرجا گھر کی خدمت کے لیے ارادہ کیا تھا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” وانبتھا نباتا حسنا “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی غذا میں پرورش پائی۔
(2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وکفلھا زکریا “ سے مراد کہ انہوں نے اس کو حفاظت میں لے لیا۔
(3) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور حاکم نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اس کی کفالت کی جب اس کے پاس محراب میں آئے تو…
Read the full tafseer →[فَلَمَّا : پھر جب ] [وَضَعَتْہَا : اس نے جنا اس کو ] [قَالَتْ : تو اس نے کہا ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اِنِّیْ : بیشک میں نے ] [وَضَعْتُہَآ : جنا اس کو ] [اُنْثٰی : مؤنث ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [اَعْلَمُ : زیادہ جانتا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [وَضَعَتْ : اس نے جنا ] [وَلَـیْسَ الذَّکَرُ : اور نہیں ہے مذکر ] [کَالْاُنْثٰی : مؤنث کی مانند ] [وَاِنِّیْ : اور بیشک میں نے ] [سَمَّیْتُہَا : نام رکھا اس کا ] [مَرْیَمَ : مریم ] [وَاِنِّیْ : اور بیشک میں ] [اُعِیْذُہَا : پناہ میں دیتی ہوں اس کو ] [بِکَ : تیری ] [وَذُرِّیَّـتَہَا : اور اس کی اولاد کو ] [مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ : دھتکارے ہوئے…
Read the full tafseer →حضرت مریم کی والدہ کی نذر، اور ان کی ولادت اور کفالت کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کو اور حضرت ابراہیم اور جناب عمران کی آل و اولاد کو سارے جہانوں پر فضیلت دی اور ان کو منتخب فرما لیا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ بعض بعض کی اولاد ہیں آدم (علیہ السلام) تو سب کے باپ ہیں ہی پھر نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل اور عمران اور آل عمران سب ہی نسل در نسل آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو نبوت سے سر فراز فرمایا حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
قصہ حضرت مریم وحضرت عیسیٰ (علیہما السلام)
قال تعالی، اذ قالت امرات عمران رب۔۔۔ الی۔۔ بغیرحساب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے چند محب اور محبوب بندوں کا اجمالا ذکر تھا اب اس کی تفصیل شروع ہوتی ہے اس سلسلہ میں سب سے پہلے آل عمران کا قصہ ذکر فرمایا جس سے مقصود یہ ہے کہ اہل کتاب کے دو بڑے گروہ یہود اور نصاری دونوں کے خیالات اور مزعومات فاسدہ کا اور ان کی افتراء پردازیوں کا فیصلہ کردیا جائے یہود بےبہبود نے حضرت عیسیٰ کے حق میں غایت درجہ تفریط کی ان کو ان کی شان عالی سے گھٹایا اور ان کو کاہن اور جادوگر بتلایا اور نصاری نے افراط کی یعنی ان کی تعظیم میں غلو اور مبالغہ کیا کہ ان کی ابنیت اور…
Read the full tafseer →47 جب لڑکی پیدا ہوئی تو انہیں افسوس ہوا اور اللہ تعالیٰ سے مناجات کرنے لگیں کہ یہ تو لڑکی ہے اب میں اپنی نذر پوری نہیں کرسکتی اگر لڑکا ہوتا تو اسے تو اللہ کے گھر کی خدمت کے لیے وقف کردیا جاتا۔ کیونکہ اسرائیلی شریعت میں لڑکی سے یہ خدمت نہیں لی جاسکتی تھی۔
48 یہ جملہ معترضہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ حضرت مریم کی والدہ کا مقولہ نہیں ہے۔ یعنی اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے لڑکی پیدا ہوئی ہے اور اس لڑکی کی جگہ اگر لڑکا پیدا ہوتا تو وہ اس لڑکی کے برابر نہ ہوتا کیونکہ جو اسرار و رموز اس لڑکی سے وابستہ ہیں۔ وہ اس کے لڑکا ہونے کی صورت میں مفقود ہوتے۔ ولیس الذکر الذی طلبت کالانثی التی وھبت لھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
زوجہ عمران کی نذر :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصاری کے غلط عقائد کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے۔ آج کے درس میں حضرت مریم کی ولادت سے موضوع سخن کا آغاز کی اجا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ کہ اس واقعہ کو اپنے ذہن میں لاؤ۔ اذ قالت امرات عمران ، جب عمران کی بیوی نے کہا۔ رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررا۔ اے مولا کریم ! میں نے تیرے لیے یہ نذر مانی ہے کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے ، وہ میں نے محض تیری عبادت کے لیے آزاد کردیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ، محررا ، یعنی آزاد کرنے سے مراد ہے ، مخلصا للعبادۃ ، یعنی ہونے والے بچے کو خالص اللہ کی عبادت کے لیے مختص…
Read the full tafseer →فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ وَضَعْتُہَآ اُنْثٰى 0 ۭ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ 0 ۭ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى 0 ۚ وَاِنِّىْ سَمَّيْتُہَا مَرْيَمَ وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَا بِكَ وَذُرِّيَّــتَہَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ 36
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ترکیب : اذا اس کا عامل اذکر ہے محرراً حال ہے ما سے جو بمعنی الذی ہے ‘ انثی حال ہے وضعتہا کی تا سے یابدل نباتا بمعنی انباتا مفعول مطلق ہے فعل مذکور سے ‘ کفل کا فاعل اللہ ہا مفعول اول زکریا مفعول ثانی۔ کلما کلمہ شرط دخل علیہا اس کے متعلق زکریا فاعل المحراب مفعول فیہ دخل کا وحقہ ان یتعدی بفی او بالی لکنہ اتسع فیہ فاوصل بنفسہ الی المفعول یہ جملہ شرط۔ وجد کا فاعل زکریا عندھا ظرف رزقا مفعول تمام جملہ جواب شرط قال یا مریم جملہ مستانفہ۔
تفسیر : چونکہ ابھی خدا کی محبت اور اس کی طاعت کا ذکر تھا اس لئے مناسب ہوا کہ خدا کے محبوبوں اور حقیقی مطیعوں کے واقعات ترغیب کے لئے اجمالی طور پر بیان فرمائے جاویں جس…
Read the full tafseer →لیکن :
فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ اِنّیْ وَضَعْتُہَـآ اُنْثٰی ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ط وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی ج وَاِنِّی سَمَّیْتُہَا مَرْیَمَ وَاِنِّیْٓ اُعِیْذُہَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
(تو جب اس نے اسے جنا تو اس نے (حیرت و حسرت سے) کہا : اے رب ! میں نے تو جنم دیا ہے ایک لڑکی کو اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا اور لڑکا لڑکی کی مانند تو نہیں ہوتا اور میں نے اس کا مریم نام رکھا ہے میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں) (36)
پیدائش کے وقت ماں کو معلوم ہوا کہ مجھے تو اللہ نے بیٹے کے بجائے بیٹی دی ہے۔ اب اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
حضرت مریم [ جب بڑی ہوئیں تو انہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں دیا گیا۔ اس زمانے کے مذہبی رواج کے مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف لوگ تارک الدّنیا ہو کر مسجد اقصیٰ میں تعلیم و تربیت اور ذکر و اذکار میں مصروف رہتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا کے معاملات سے الگ کرلیا ہوتا تھا۔ چناچہ حضرت مریم [ انہی ذاکرات میں شامل ہو کر اپنے حجرے میں محو عبادت رہا کرتی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام ان کے خالو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سپر دتھا۔ ایک دن زکریا (علیہ السلام) ان کے ہاں حجرے میں تشریف لائے تو ان کے پاس غیر…
Read the full tafseer →36: فَلَمَّا وَضَعَتْھَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی (پھر جب لڑکی جنی کہنے لگیں کہ اے میرے پروردگار میں نے تو وہ حمل لڑکی جنی) وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَ لَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی وَاِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ وَاِنّیِْٓ اُعِیْذُ ھَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ فَلَمَّا وَضَعَتْھَا، ھا ضمیر مافی بطنی یعنی حمل کی طرف راجع ہے، مؤنث حاملہ یا نفس یا نسمہ کے اعتبار سے لائی گئی۔ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی یہ وَضَعْتُھَاکی ضمیر سے حال ہے۔ یعنی حاملہ یا نفس یا نسمہ نے لڑکی جنی۔ حنہّ نے یہ بات بطور معذرت کہی کیونکہ لڑکیوں کی نذر کا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 36۔:
(فلما وضعتھا پھر جب لڑکی جنی) جب اس لڑکی کو جنا ، ” وضعتھا “ میں ھا ضمیر ماقبل کی طرف لوٹ رہی ہے نہ کہ ما کی طرف ، اسی وجہ سے اس کو مؤنث ذکر کیا (قالت تو کہنے لگی) حضرت حنہ کہنے لگیں اور وہ لڑکے کی امید رکھتی تھیں (رب ۔۔۔۔۔۔ انثی اے میرے رب ! میں نے تو وہ حمل لڑکی جنی) اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا عذر پیش کرنے لگیں (واللہ اعلم بما وضعت اور اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں اس کو جو انہوں نے جنی) اب عامر (رح) ، ابوبکر (رح) ، یعقوب (رح) نے ” وضعت “ پڑھا ہے اور اس کلام کو حضرت مریم (علیہا السلام) کا قرار دیا اور دوسرے قراء نے ” وضعت “ تاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے (ولیس ؛۔۔۔۔۔۔ کالانثی “ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35 ۔ 36) ۔ حضرت مریم کی ماں کا نام حنہ تھا یہ بانجھ تھیں ایک روز انہوں نے ایک پرند جانور کو دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو دانہ بھرا رہا ہے یہ دیکھ کر ان کو اپنے ہاں بھی بچہ پیدا ہونے کی حرص ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے بچہ ہونے کی دعا کی اور نذر مانی کہ بنی اسرائیل کے رواج کے موافق جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کو دنیا کے کاموں سے باز رکھ کر بیت المقدس کا خادم بنایا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی۔ اور لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا۔ اس پر انہوں نے افسوس سے وہ باتیں منہ سے نکالیں جن کا ذکر آیت میں ہے مگر انہوں نے خواب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بجائے لڑکے کے اس لڑکی کو نذر میں قبول کرلیا۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
آیت 33-37
اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء، اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدم کا انتخاب فرمایا۔ انہیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کر کے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، انہیں جنت میں ٹھہرایا۔ انہیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے۔ اس لئے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (ولقد کرمنا بنی ادم وحملنھم فی البروالبحر ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفصیلاً “ (بنی اسرائیل :80/18) ” یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
نذرصرف اللہ کے لیے مانی جائے
قول باری ہے (اذقالت امرا ۃ عمران رب انی نذرت لک مافی بطنی محررافتقبل منی، جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ، میرے پروردگار ! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں وہ نیزے ہی کام کے لئے وقف ہوگا میری اس پیشکش کو قبول فرما) شعبی سے مروی ہے کہ (محورا) سے مراد ہے۔ خالص تیری عبادت کے لیئے۔ مجاہد کا قول ہے۔ تیری عبادت گاہ کی خدمت کے لیے۔ محمد بن جعفربن الزبیرکاقول ہے۔ دنیوی امور سے آزاد صرف اللہ کی اطاعت وعبادت کے لیے۔ تحریر کے دومعنی ہیں اول آزادکرنا یہ حریۃ، سے نکلا ہے۔ دوم تحریر کتاب جس کا مفہوم ہے کتاب کو فساد اوراضطراب سے پاک رکھنا۔ عمران کو بیوی کا قول…
Read the full tafseer →79 حضرت مریم کی والدہ کی حسرت اور اس میں درس عظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کے گھر بچے کی بجائے بچی پیدا ہوئی تو انہوں نے حسرت بھرے انداز میں کہا کہ اے میرے رب میرے یہاں تو بچی نے جنم لیا ہے۔ سو اب میری نذر کا کیا بنے گا، اور میری حسرت کس طرح پوری ہوگی، کیونکہ لڑکی اس غرض کیلئے قبول نہیں کی جاتی۔ جبکہ میری خواہش اور تمنا تھی کہ میرے پیٹ سے جنم لینے والابچہ اللہ کے گھر کا خادم ہو۔ سو اس اظہار سے جہاں ایک طرف حضرت مریم کی والدہ ماجدہ کی دلی حسرت کا پتہ چلتا ہے وہاں اس سے عیسائیوں کی مشرکانہ ذہنیت پر ایک طمانچہ رسید ہوتا ہے کہ جس بچی کی ماں اس کی پیدائش کے موقع پر اس طرح یاس و حسرت کا اظہار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
عمران کی بیوی کی نذر اور مریم کی پیدائش
تشریح : عمران کی بیوی نے جو نذر مانی اس کے بارے میں ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ عمران حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نانا تھے۔ ان کی بیوی جن کا نام خنہ بنت فاقوذ تھا۔ انہوں نے اپنے زمانہ کے مطابق منت مان رکھی تھی کہ جو بچہ ان کے گھر پیدا ہوگا، اس کو میں ہیکل سلیمانی کی خدمت کے لئے وقف کر دوں گی اور دنیاوی کاموں سے اس کو آزاد رکھوں گی یعنی سوائے اللہ کے کاموں کے اس سے کوئی دوسرا کام نہ لوں گی اور پھر رب العزت سے دعا کی کہا اے اللہ تو اپنی مہربانی سے میری یہ نذرقبول کرلے تو میری عرض کو سنتا ہے اور میری خلوص نیت کو بھی جانتا ہے۔
کیونکہ کلیسا کی خدمت کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
آیات 31- 41
اسرارو معارف
قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔
رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔
محبت ، محب اور محبوب :
اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…
Read the full tafseer →ف 1 یہ درمیان میں جملہ معترضہ ہے اور فرمان باری تعالیٰ ہے۔ (قرطبی) چناچہ یہ دعا قبول ہوئی۔ حدیث میں ہے آنحضرت ، ﷺ نے فرمایا ؛ مامن مولود یولد الامسہ الشیطان حین یولد جفستھل صارخامن مسہ ایاہ ال امرکم دانبھا۔ کوئی بچہ ایسا نہیں جس کو ولادت کے وقت شیطان مس نہ کرتا ہو مگر مریم ( علیہ السلام) اور اس کا بیٹا ( علیہ السلام) ۔ ( بخا ری۔ مسلم )
Read the full tafseer →(3:36) اعیذھا۔ میں اس کو پناہ دیتی ہوں۔ اعاذۃ سے اعاذ یعیذ (باب افعال کرم یکرم) سے مضارع واحد متکلم۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ماذ یعوذ۔ ب۔ (باب نصر) کسی کی پناہ طلب کرنا۔ یا پناہ لینا۔
” واللہ سے تا کالانثی “ جملہ معترضہ ہے۔ وانی سمیتھا مریم سے پھر عمران کی عورت کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔
الرحیم۔ ملعون ۔ مردود۔ راندہ ہوا۔ رحیم سے بروزن فعیل بمعنی مفعول۔ قرآن میں جہاں یہ لفظ آیا ہے شیطان کے لئے آیا ہے۔ کہ راندہ درگاہ الٰہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41
اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
حضرت مریم کی ماں کا نام حنہ تھا، یہ بانجھ تھیں۔ اللہ تعالیٰ سے بچہ پیدا ہونے کی دعا کی اور نذر مانی کہ جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کو بیت المقدس کا خادم بنایا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی اور لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا۔ اس پر انہوں نے افسوس سے وہ باتیں منہ سے نکالیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ مگر انہوں نے خواب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بجائے لڑکے کے اس لڑکی کو نذر میں قبول کرلیا۔ پھر حضرت مریم (علیہا السلام) کو بیت المقدس کے خادموں کے سپرد کرکے اپنا خواب ظاہر کیا جس کو خادموں نے منظور کرلیا۔ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بچہ کی پیدائش کے وقت شیطان بچہ کے پہلو میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
[51] نوح (علیہ السلام) ، آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں اور ابراہیم (علیہ السلام) ان دونوں کی اولاد میں عمران ان تینوں کی اولاد میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
حضرت زکریا کی دعا :
(ف 1) حضرت مریم (علیہا السلام) کی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں اس لئے دیا گیا تاکہ وہ بہترین تربیت حاصل کریں اور آیندہ چل کر اخلاق کے متعلق انہیں مہتم نہ کیا جائے ،
مریم (علیہما السلام) ابھی بچی ہی تھیں کہ ان کا دل معرفت و سلوک کی تمام منزلیں طے کرچکا تھا ، زکریا (علیہ السلام) نے جب ان سے پوچھا کہ بچی ، یہ رزق کہاں سے آیا ہے تو آپ نے جواب دیا ، اللہ کی جانب سے ۔
یہ جواب سن کر حضرت زکریا (علیہ السلام) نہایت محفوظ ہوئے اور دل میں اس خواہش نے چٹکی لی کہ میرے گھر میں بھی ایسی ہی روح آئے ،
چناچہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے مولا ! تو دعاؤں کا سننے والا اور…
Read the full tafseer →ف 1۔ پھر جب عمران کی عورت نے اس ما فی بطنی یعنی حمل کو جنا تو حسرت دیا اس کے لہجے میں بولی اے میرے پروردگار میں نے تو اس مانی بطنی کو لڑکی جنی حالانکہ جو کچھ اس نے جنا اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور لڑکا اس شان کا نہیں ہوسکتا جس شان کی وہ لڑکی ہے اور اے میرے رب میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس لڑکی کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردو سے آپ کی پناہ اور آپکی حفاظت و صیانت میں دیتی ہوں۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب حنہ کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی تو اس نے حسرت و افسوس کے ساتھ عرض کیا کہ اے بار الٰہ میں نے لڑکی جنی آگے جملہ معترضہ کے طور پر حضرت حق کا فرمان ہے کہ جو کچھ ۔۔۔ اس نے جنا اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 3۔ یہ جو فرمایا کہ عمدہ طور پر ان کو نشوونما دیا تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ابتداء سے عبادت وطاعت میں مشغول رکھا، دوسرے یہ کہ اور بچوں کی معمولی نشوونما سے ان کا ظاہری نشوونما زائد تھا۔
Read the full tafseer →سیدہ حنہ کے ہاں لڑکے کی بجائے لڑکی کی پیدائش ہوئی :
89: سیدہ حنہ نے اپنے پیٹ کے حمل کو بارگاہ ایزدی میں وقف کرنے کی نذر مانی تھی یقینا ان کو خیال ہوگیا کہ میرے پیٹ سے لڑکا پیدا ہوگا کیونکہ بچہ ہی اس خدمت کو زیادہ مناسب طریقے سے سر انجام دے سکتا تھا۔ پس جب حنہ کا حمل وضع ہوا تو معلوم ہوا کہ اس حمل میں لڑکا نہیں لڑکی تھی۔ ظاہر ہے کہ خیال میں یہ بات ضرور آئی ہوگی کہ اگر یہ لڑکا ہوتا تو اس خدمت کے لیے موزوں تھا جو خدمت اس سے لیے لینے کا میرا خیال تھا اب معلوم نہیں مشیت ایزدی کا یہ فیصلہ کس رنگ میں پورا ہوگا ؟ اس نے فطرةً یہ کہا کہ اے میرے اللہ ! مجھے تعجب ہے کہ میرے ہاں ! تو لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
Commentary:
In the religious code of earlier prophets, there was a method of worship through which a child, out of one's children, could be freed from all worldly services and devoted exclusively for Allah. Following this practice, the mother of Sayyidah Maryam made a vow during her pregnancy that she would let the newborn serve بیت المقدس Baitul-Maqdis in the way of Allah and that she would not put the child on worldly chores. Sayyidah Maryam's mother thought that she will deliver a male child. But, when she delivered a girl, she was full of remorse thinking that a girl would not be able to…
Read the full tafseer →34. Since a boy is free from some of the physical shortcomings and social disabilities associated with a girl, the mother of Mary thought that had the child been a boy he would have been more able to achieve the purpose for which she had consecrated the child.
Read the full tafseer →