Explained with ayahs 35–36
مریم بنت عمران
حضرت عمران کی بیوی صاحبہ کا نام حسنہ بنت فاقوذ تھا حضرت مریم (علیہما السلام) کی والدہ تھیں حضرت محمد اسحاق فرماتے ہیں انہیں اولاد نہیں ہوتی تھی ایک دن ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چوغہ دے رہی ہے تو انہیں ولولہ اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی اور خلوص کے ساتھ اللہ کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول فرما لی اور اسی رات انہیں حمل ٹھہر گیا جب حمل کا یقین ہوگیا تو نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جو اولاد دے گا اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے اللہ کے نام پر آزاد کر دوں گی، پھر اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تو میری اس مخلصانہ نذر کو قبول فرما تو میری دعا کو سن رہا ہے…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 32
اگر عمران کی عورت سے مراد ”عمران کی بیوی“ لی جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ عمران نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، بلکہ یہ حضرت مریم کے والد تھے، جن کا نام شاید عمران ہوگا۔ (مسیحی روایات میں حضرت مریم کے والد کا نام یوآخیم Ioachim لکھا ہے) اور اگر عمران کی عورت سے مراد آل عمران لی جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حضرت مریم کی والدہ اس قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ لیکن ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ معلومات نہیں ہے جس سے ہم قطعی طور پر ان دونوں معنوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دے سکیں، کیونکہ تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ حضرت مریم کے والد کون تھے اور ان کی والدہ کس قبیلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
خلاصہ تفسیر
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جبکہ عمران (پدر مریم) کی بی بی نے (حالت حمل میں حق تعالیٰ سے) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں نے نذر (یعنی منت) مانی ہے آپ (کی عبادت) کے لئے اس بچے کی جو میرے شکم میں ہے کہ وہ (خانہ خدا کی خدمت کے واسطے) آزاد (فارغ) رکھا جائے گا (اور میں اس کو اپنے کام میں نہ لگاؤں گی) سو آپ (اس کو) مجھ سے قبول کر لیجیے، بیشک آپ خوب سننے والے خوب جاننے والے ہیں (کہ میری عرض کو سن رہے ہیں اور میری نیت کو جان رہے ہیں) پھر جب (ان بی بی نے) لڑکی جنی (تو ان کو رنج ہوا کہ یہ تو خدمت بیت المقدس کے لائق نہیں، یہ کام تو مردوں کا ہے، اس لئے حسرت سے) کہنے لگیں کہ اے میرے…
Read the full tafseer →حضرت مریم (علیہا السلام) کی ابتدائی سرگزشت : اوپر کی آیت میں آل عمران کا شجرہ نسب واضح کرنے کے بعد اب یہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی ولادت کا ذکر فرمایا کہ جب یہ ابھی ماں کے پیٹ ہی میں تھیں تو ان کی والدہ، عمران کی بیوی نے یہ منت مانی تھی کہ اس پیدا ہونے والے بچے کو اللہ تعالیٰ کے لیے نذر کردوں گی۔ کسی بچے کو اللہ تعالیٰ کے لیے نذر کرنے کا مقصد بنی اسرائیل میں یہ ہوتا تھا کہ اس کو معبد کی خدمت کے لیے خاص کردیا جائے گا۔ ”مُحَرَّرًا“ کے معنی ہیں آزاد کر کے۔ یعنی بڑے ہونے پر اس بچے پر گھر در اور کمانے کھلانے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی، اس کی ساری زندگی صرف بیت المقدس کی خدمت ہی کے لیے وقف ہوگی۔…
Read the full tafseer →35۔ 1 مُحَرّرَا (تیرے نام آزاد) کا مطلب تیری عبادت گاہ کی خدمت کے لئے وقف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
11:: حضرت عمران بیت المقدس کے امام تھے ان کی اہلیہ کا نام حنہ بنت فاقوذا تھا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لئے انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر ان کی کوئی اولاد ہوگی تو وہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کردیں گی۔ جب حضرت مریم کے خالو ہوئے۔ حضرت مریم کی سرپرستی کا مسئلہ پیدا ہوا تو قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا گیا اور قرعہ حضرت زکریا ؑ کے نام نکلا جس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت نمبر 44 میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →اس تمہیدی اعلان احترام کے بعد اب آل عمران کے بارے میں براہ راست بات شروع ہوجاتی ہے ۔
نذر کے اس قصے سے بیگم عمران کا دل کھل کر سامنے آجاتا ہے ۔ یہ مریم کی ماں تھیں۔ ان کا دل ذوق ایمان سے معمور ہے ۔ وہ اپنے عزیز ترین اثاثے کو اللہ کے لئے پیش کرتی ہے ۔ یعنی وہ بچہ جو ابھی تک ان کے پیٹ میں ہے ۔ وہ اسے خالصتاً اللہ کے لئے پیش کرتی ہیں ‘ اس پیش کش کے ساتھ کوئی شرط اور قید نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ کوئی شرکیہ تصور وابستہ نہیں جیسا کہ اکثر نذروں میں ہوتا ہے۔ اس فعل میں اللہ کے سوا کسی کے حق کا تصور نہیں ہے ۔ اور لفظ ” محرر “ سے اس بےقید نذر کی تعبیر نہایت ہی معنی خیز ہے ۔ اس لئے کہ صحیح معنوں میں آزاد وہی…
Read the full tafseer →10 عمران کی عورت کا نام ہے " حنہ بنت فاقوذا " اس نے اپنے زمانہ کے رواج کے موافق منت مانی تھی کہ خدا وندا ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے میں اسے " مُحرر " (تیرے نام پر آزاد کرتی ہوں) اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ تمام دنیاوی مشاغل اور قید نکاح وغیرہ سے آزاد رہ کر ہمیشہ خدا کی عبادت اور کلیسا کی خدمت میں لگا رہے گا۔ اے اللہ تو اپنی مہربانی سے میری نذر قبول فرما۔ تو میری عرض کو سنتا اور میری نیت و اخلاص کو جانتا ہے۔ گویا لطیف طرز میں استدعا ہوئی کہ لڑکا پیدا ہو کیونکہ لڑکیاں اس خدمت کے لئے قبول نہیں کی جاتی تھیں۔
Read the full tafseer →آیت 35 اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا
عمران کی بیوی یعنی حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ بہت ہی نیک ‘ متقی اور زاہدہ تھیں۔ جب ان کو حمل ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کیا کہ پروردگار ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے ‘ جسے تو پیدا فرما رہا ہے ‘ اسے میں تیری ہی نذر کرتی ہوں۔ ہم اس پر دنیوی ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ نہیں ڈالیں گے اور اس کو خالصتاً ہیکل کی خدمت کے لیے ‘ دین کی خدمت کے لیے ‘ تورات کی خدمت کے لیے وقف کردیں گے۔ ہم اپنا بھی کوئی بوجھ اس پر نہیں ڈالیں گے۔ انہیں یہ توقع تھی کہ اللہ تعالیٰ بیٹا عطا فرمائے گا۔ مُحَرَّرًا کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
36 گویا سب انبیاء آدم، پھر نوح، پھر ابراہیم کی اولاد میں تھے اور چونکہ حضرت عیسیٰ بھی حضرت ابراہیم اور پھر آل عمران سے تھے۔ لہذا وہ بھی انسان تھے۔ اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ اور سب انبیاء کو مذکورہ بالا تین انبیا کی اولاد سے مبعوث فرمانا ہی اللہ کی حکمت کا مقتضیٰ تھا اس کے باوجود جو لوگ حضرت عیسیٰ کو اللہ یا اس کا بیٹا قرار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب سن رہا ہے۔ ان دو آیات میں مسیحی عقائد کے رد کی تمہید بیان ہوئی ہے آگے تفصیلی ذکر آرہا ہے۔
Read the full tafseer →88 ۔ یہ (آیت) ” امرات عمرن “۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کی والدہ اور حضرت عیسیٰ کی جدہ مادری تھیں۔ مسیحی نوشتوں میں ان کا نام حنہ (Haunnae,) آیا ہے۔ ہمارے مفسرین نے لکھا ہے کہ شام وغیرہ میں کلیسائے حنہ کے نام سے مشہور ہیں اور ان کی قبر دمشق میں ہے۔ ودیر حنۃ بالشام معروف وثم دیر اخر یعرف بدیرمنہ (بحر) وقبر حنۃ جدۃ عیسیٰ (علیہ السلام) بظاھر دمشق (بحر)
89 ۔ (ہر قسم کے دنیوی کاروبار سے اور تیری ہی خدمت و عبادت کے لیے وقف رہے گا) حضرت مریم (علیہ السلام) کی ولادت سے قبل آپ کی والدہ ماجدہ نے جو نذر نیاز مانی تھی۔ اس کی بابت بہت سی تفصیلات قدیم ترین مسیحی نوشتوں میں درج تھیں، لیکن بزرگان کلیسانے جب کاٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی۔ اس جملہ سے حسرت کا اظہار بھی مقصود ہے اور عذر بھی، حسرت اس وجہ سے کہ میری امید کے برخلاف لڑکی ہوئی ہے اور عذر اس طرح کہ نذر سے مقصود تو تیری رضا کے لیے ایک خدمت گار وقف کرنا تھا یہ کام ایک مرد ہی زیادہ بہتر طریقہ سے انجام دے سکتا ہے اب جو کچھ بھی ہے تو اسے جانتا ہے۔
بچہ کا نام کب رکھا جائے : حافظ ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے احادیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بچہ کا نام ولادت کے پہلے ہی روز رکھنا چاہیے اور ساتویں روز نام رکھنے والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن حافظ ابن قیم نے تمام احادیث پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلے روز تیسرے روز ساتویں روز…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ : اِذ کا تعلق علیمٌ سے ہے یا فعل محذوف سے یعنی یاد کرو جب کہ عمران کی بیوی نے کہا تھا۔
عمران کے باپ کا نام ماثان تھا یا اشہم۔ ماثان کی اولاد ہی بنی اسرائیل کی سردار تھی انہی میں سے علماء اور بادشاہ ہوتے تھے عمران ( علیہ السلام) کی بیوی کا نام حنہ بنت قاقودا تھا، حنہ بانجھ تھیں اور بوڑھی ہوگئی تھیں ایک روز کسی درخت کے نیچے سے انہوں نے دیکھا کہ ایک پرندہ اپنے بچہ کو چونچ سے چوگا دے رہا ہے یہ دیکھ کر انکے دل میں بچہ کیلئے ہوک اٹھی تھیں اللہ کے مقبول گھرانے سے۔ فوراً اللہ سے بچہ کی دعا کی۔ دعاقبول ہوئی اور حاملہ ہوگئیں۔ ابن جریر نے ابن اسحاق کی روایت اسی طرح نقل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35۔ 36) اور اے محمد ﷺ وہ وقت بھی یاد کیجئے کہ جب حضرت مریم ؑ کی والدہ نے کہا کہ جو میرے پیٹ میں ہے میں نے اس کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیا ہے، اور اے رب ! آپ دعاؤں کو سننے والے اور اس کی قبولیت اور جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اس کو بخوبی جاننے والے ہیں چناچہ جب انہوں نے لڑکی جنی تو حضرت مریم ؑ کی والدہ حسرت سے عرض کرنے لگیں پروردگار میں نے تو لڑکی جنی ہے، حالانکہ جو انہوں نے لڑکی جنی تو حضرت مریم ؑ کی والدہ حسرت سے عرض کرنے لگیں پروردگار میں نے تو لڑکی جنی ہے، حالانکہ جو انہوں نے جنا اللہ تعالیٰ اسے زیادہ جانتے تھے اور لڑکا خدمت وغیرہ میں کسی طرح اس لڑکی کے برابر نہیں ہوسکتا اور میں اس…
Read the full tafseer →تفاسیر میں عمران کی بیوی کا نام ”حَنَّہ“ مذکور ہے اور یہ کہ دمشق کے بیرونی حصے میں ان کی قبر ہے، مگر ان دونوں باتوں کی کوئی پختہ دلیل نہیں۔ اس زمانے میں دستور تھا کہ بعض لڑکوں کو ماں باپ اپنے حق سے آزاد کرکے اللہ تعالیٰ کی نذر کردیتے اور عبادت خانے کے سپرد کردیتے۔ عمران کی بیوی حاملہ تھیں، انھوں نے بھی یہی نذر مانی۔ ”مُحَرَّرًا“ کے معنی ہیں کہ وہ صرف مسجد کی خدمت ہی کے لیے وقف رہے گا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت نمبر : 35 تا 36۔
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اذ قالت امرات عمرن “۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : اذ، زائدہ ہے اور محمد بن یزید نے کہا ہے : تقدیر کلام ہے اذکر اذ۔ اور زجاج نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اصطفی آل اذ قالت امرات عمرن “۔ اللہ تعالیٰ نے آل عمران کو چن لیا جب عمران کی بیوی نے عرض کی، اور یہ حنہ بنت فاقود بن قنبل حضرت مریم (علیہا السلام) کی ماں اور حضرت عسی (علیہ السلام) کی داد تھی، یہ عربی نام نہیں ہے اور نہ ہی عربی میں کسی عورت کا نام حنہ معروف ہے۔ عربی میں ابو حنہ البدری ہے۔ اور اس میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ابو حبہ ہے اور یہی اصح ہے اور اس کا نام عامر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
اللہ تعالیٰ نے نذر قبول فرمائی
(1) ابن جریر ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فتقبلھا ربھا بقبول حسن “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اس کی ماں سے جو اس نے گرجا گھر کی خدمت کے لیے ارادہ کیا تھا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” وانبتھا نباتا حسنا “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی غذا میں پرورش پائی۔
(2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وکفلھا زکریا “ سے مراد کہ انہوں نے اس کو حفاظت میں لے لیا۔
(3) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور حاکم نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اس کی کفالت کی جب اس کے پاس محراب میں آئے تو…
Read the full tafseer →[اِذْ : جب ] [قَالَتِ : کہا ] [امْرَاَتُ عِمْرٰنَ : عمران کی بیوی نے ] [رَبِّ : اے میرے ربّ ] [اِنِّیْ : بیشک میں نے ] [نَذَرْتُ : منت مانی ] [لَکَ : تیرے لیے ] [مَا : اس کی جو ] [فِیْ بَطْنِیْ : میرے پیٹ میں ہے ] [مُحَرَّرًا : آزاد کیا ہواہوتے ہوئے ] [فَتَقَبَّلْ : پس تو قبول فرما ] [مِنِّیْ : مجھ سے ] [اِنَّکَ اَنْتَ : بیشک تو ہی ] [السَّمِیْعُ : سننے والا ہے ] [الْعَلِیْمُ : جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
اگر اللہ سے محبت ہے تو رسول اللہ کا اتباع کرو
ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع اور اطاعت کا حکم دیا ہے، اطاعت فرمانبر داری اور حکم ماننے کو کہتے ہیں اور اتباع اپنے مقتدا کے پیچھے چلنے اور اس کی راہ اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ جتنی بھی مذہبی قومیں ہیں وہ اللہ کو مانتی ہیں (اگرچہ ماننے کے طریقے مختلف ہیں) اور انہیں یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء ﷺ سے اپنی کتاب میں یہ اعلان کروا دیا کہ محبت صرف دعویٰ کرنے کی چیز نہیں اس کا ایک معیار ہے اور وہ محبت معتبر ہے جو محبوب کی مرضی کے مطابق ہو اس محبت کا معیار جو اللہ کے نزدیک معتبر ہے یہ ہے کہ حضرت خاتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
قصہ حضرت مریم وحضرت عیسیٰ (علیہما السلام)
قال تعالی، اذ قالت امرات عمران رب۔۔۔ الی۔۔ بغیرحساب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے چند محب اور محبوب بندوں کا اجمالا ذکر تھا اب اس کی تفصیل شروع ہوتی ہے اس سلسلہ میں سب سے پہلے آل عمران کا قصہ ذکر فرمایا جس سے مقصود یہ ہے کہ اہل کتاب کے دو بڑے گروہ یہود اور نصاری دونوں کے خیالات اور مزعومات فاسدہ کا اور ان کی افتراء پردازیوں کا فیصلہ کردیا جائے یہود بےبہبود نے حضرت عیسیٰ کے حق میں غایت درجہ تفریط کی ان کو ان کی شان عالی سے گھٹایا اور ان کو کاہن اور جادوگر بتلایا اور نصاری نے افراط کی یعنی ان کی تعظیم میں غلو اور مبالغہ کیا کہ ان کی ابنیت اور…
Read the full tafseer →46:۔ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ حضرت مریم صدیقہ کو بھی معبود مانتے تھے۔ انہیں شبہ اس لیے ہوا کہ بچپن میں بےموسم کے پھل ان کے پاس موجود ہوتے تھے تو اس سے انہوں نے یہ سمجھا کہ ان کو کچھ مافوق الاسباب اختیار حاصل تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ دیکھو تو سہی حضرت مریم کتنی دعاؤں کے بعد پیدا ہوئیں اور کس طرح ان کی پرورش کی گئی۔ بھلا جو اپنی پیدائش اور پرورش میں دوسروں کی محتاج ہو وہ کس طرح معبود بن سکتی ہے۔ جب حضرت مریم کی والدہ امید سے ہوئیں تو انہوں نے نذر مانی کہ اے اللہ میرے بطن سے جو بچہ پیدا ہوگا۔ وہ تیری عبادت اور تیرے گھر کی خدمت کے لیے وقف ہوگا۔ لَکَ میں لام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
زوجہ عمران کی نذر :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصاری کے غلط عقائد کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے۔ آج کے درس میں حضرت مریم کی ولادت سے موضوع سخن کا آغاز کی اجا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ کہ اس واقعہ کو اپنے ذہن میں لاؤ۔ اذ قالت امرات عمران ، جب عمران کی بیوی نے کہا۔ رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررا۔ اے مولا کریم ! میں نے تیرے لیے یہ نذر مانی ہے کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے ، وہ میں نے محض تیری عبادت کے لیے آزاد کردیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ، محررا ، یعنی آزاد کرنے سے مراد ہے ، مخلصا للعبادۃ ، یعنی ہونے والے بچے کو خالص اللہ کی عبادت کے لیے مختص…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّىْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِيْ بَطْنِىْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّىْ 0 ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 35
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ترکیب : اذا اس کا عامل اذکر ہے محرراً حال ہے ما سے جو بمعنی الذی ہے ‘ انثی حال ہے وضعتہا کی تا سے یابدل نباتا بمعنی انباتا مفعول مطلق ہے فعل مذکور سے ‘ کفل کا فاعل اللہ ہا مفعول اول زکریا مفعول ثانی۔ کلما کلمہ شرط دخل علیہا اس کے متعلق زکریا فاعل المحراب مفعول فیہ دخل کا وحقہ ان یتعدی بفی او بالی لکنہ اتسع فیہ فاوصل بنفسہ الی المفعول یہ جملہ شرط۔ وجد کا فاعل زکریا عندھا ظرف رزقا مفعول تمام جملہ جواب شرط قال یا مریم جملہ مستانفہ۔
تفسیر : چونکہ ابھی خدا کی محبت اور اس کی طاعت کا ذکر تھا اس لئے مناسب ہوا کہ خدا کے محبوبوں اور حقیقی مطیعوں کے واقعات ترغیب کے لئے اجمالی طور پر بیان فرمائے جاویں جس…
Read the full tafseer →اِذْقَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَـکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ ج اِنَّـکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔
(یاد کرو ! جب عمران کی بیوی نے دعا کی کہ اے میرے رب ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے میں نے اس کو ہر چیز سے چھڑا کر تیرے لیے خاص کیا تو اس کو میری طرف سے قبول فرما بیشک تو ہی ہے جو سننے والا جاننے والا ہے) (35)
اس آیت کریمہ پر غور فرمایئے کہ عمران کی بیوی نے جن کا نام اسرائیلی روایات کے مطابق ” حنہ “ ہے۔ عام عورتوں کی طرح اپنے پیٹ میں حمل کی گرانی محسوس کی اور وہ سمجھ گئی کہ اللہ نے مجھے ایک امید سے گراں بار کیا ہے چونکہ وہ اپنے شوہر کی طرح اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
حضرت مریم [ جب بڑی ہوئیں تو انہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں دیا گیا۔ اس زمانے کے مذہبی رواج کے مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف لوگ تارک الدّنیا ہو کر مسجد اقصیٰ میں تعلیم و تربیت اور ذکر و اذکار میں مصروف رہتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا کے معاملات سے الگ کرلیا ہوتا تھا۔ چناچہ حضرت مریم [ انہی ذاکرات میں شامل ہو کر اپنے حجرے میں محو عبادت رہا کرتی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام ان کے خالو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سپر دتھا۔ ایک دن زکریا (علیہ السلام) ان کے ہاں حجرے میں تشریف لائے تو ان کے پاس غیر…
Read the full tafseer →حنّہ کا تذکرہ :
35: اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّ رًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ (جبکہ عمران کی بی بی نے عرض کیا اے میرے پروردگار میں نے نذر مانی ہے آپ کے لئے اس بچہ کی جو میرے شکم میں ہے کہ وہ آزاد رکھا جاویگا سو آپ مجھ سے قبول کرلیجئے) اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیْمُ ۔ (بےشک آپ سننے والے جاننے والے ہیں) ۔
اِذقَالَتِ : نحو : اِذ عَلِیْمٌ کا ظرف ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ یا اذکر محذوف کا ظرف ہے۔ امْرَاتُ عِمْرٰنَ یہ عمران بن ماثان کی بیوی ہے جو حضرت مریم کی والدہ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نانی ہے۔ اس کا نام حنّہ بنت ناقوذا ہے۔ رَبِّ…
Read the full tafseer →35۔ (اذ ۔۔۔۔۔۔ عمران یاد کرو جبکہ عمران کی بیوی نے کہا تھا)
(ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ)
عمران (علیہ السلام) کی بیوی کا نام حنۃ بنت فاقوذا جو حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ محترمہ تھیں اور عمران سے عمران بن ماثان ہیں، عمران بن ابی موسیٰ (علیہ السلام) نہیں تھے کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو سال کا فاصلہ ہے ۔
اور بعض نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے اور ماثان کی اولاد بنی اسرائیل کی سردار اور بادشاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35 ۔ 36) ۔ حضرت مریم کی ماں کا نام حنہ تھا یہ بانجھ تھیں ایک روز انہوں نے ایک پرند جانور کو دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو دانہ بھرا رہا ہے یہ دیکھ کر ان کو اپنے ہاں بھی بچہ پیدا ہونے کی حرص ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے بچہ ہونے کی دعا کی اور نذر مانی کہ بنی اسرائیل کے رواج کے موافق جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کو دنیا کے کاموں سے باز رکھ کر بیت المقدس کا خادم بنایا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی۔ اور لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا۔ اس پر انہوں نے افسوس سے وہ باتیں منہ سے نکالیں جن کا ذکر آیت میں ہے مگر انہوں نے خواب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بجائے لڑکے کے اس لڑکی کو نذر میں قبول کرلیا۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
آیت 33-37
اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء، اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدم کا انتخاب فرمایا۔ انہیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کر کے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، انہیں جنت میں ٹھہرایا۔ انہیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے۔ اس لئے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (ولقد کرمنا بنی ادم وحملنھم فی البروالبحر ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفصیلاً “ (بنی اسرائیل :80/18) ” یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
نذرصرف اللہ کے لیے مانی جائے
قول باری ہے (اذقالت امرا ۃ عمران رب انی نذرت لک مافی بطنی محررافتقبل منی، جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ، میرے پروردگار ! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں وہ نیزے ہی کام کے لئے وقف ہوگا میری اس پیشکش کو قبول فرما) شعبی سے مروی ہے کہ (محورا) سے مراد ہے۔ خالص تیری عبادت کے لیئے۔ مجاہد کا قول ہے۔ تیری عبادت گاہ کی خدمت کے لیے۔ محمد بن جعفربن الزبیرکاقول ہے۔ دنیوی امور سے آزاد صرف اللہ کی اطاعت وعبادت کے لیے۔ تحریر کے دومعنی ہیں اول آزادکرنا یہ حریۃ، سے نکلا ہے۔ دوم تحریر کتاب جس کا مفہوم ہے کتاب کو فساد اوراضطراب سے پاک رکھنا۔ عمران کو بیوی کا قول…
Read the full tafseer →77 عمران کی بیوی کی نذر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی لائق ذکر وبیان ہے کہ جب عمران کی بیوی نے جن کا نام حنہ بنت فاقوذا تھا اس طرح کہا۔ اور انہوں نے اس وقت کے اپنے رواج کے مطابق یہ نذر مانی تھی۔ (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف یہاں سے ان مقدس اور برگزیدہ ہستیوں کے حالات کا تفصیلی ذکر شروع ہوتا ہے تاکہ اس سے ان کی اصلی شان واضح ہوجائے اور ان کے بارے میں بعد کے لوگوں نے افراط وتفریط سے کام لیکر جن طرح طرح کی ہولناک اور تباہ کن گمراہیوں کا ارتکاب کیا تھا ان کی حقیقت واضح ہوجائے، خاص کر حضرت عیسیٰ کے بارے میں، جن کے بارے میں یہود نے تفریط سے کام لیکر اور ان کی جناب میں گستاخی اور توہین کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
عمران کی بیوی کی نذر اور مریم کی پیدائش
تشریح : عمران کی بیوی نے جو نذر مانی اس کے بارے میں ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ عمران حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نانا تھے۔ ان کی بیوی جن کا نام خنہ بنت فاقوذ تھا۔ انہوں نے اپنے زمانہ کے مطابق منت مان رکھی تھی کہ جو بچہ ان کے گھر پیدا ہوگا، اس کو میں ہیکل سلیمانی کی خدمت کے لئے وقف کر دوں گی اور دنیاوی کاموں سے اس کو آزاد رکھوں گی یعنی سوائے اللہ کے کاموں کے اس سے کوئی دوسرا کام نہ لوں گی اور پھر رب العزت سے دعا کی کہا اے اللہ تو اپنی مہربانی سے میری یہ نذرقبول کرلے تو میری عرض کو سنتا ہے اور میری خلوص نیت کو بھی جانتا ہے۔
کیونکہ کلیسا کی خدمت کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
آیات 31- 41
اسرارو معارف
قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔
رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔
محبت ، محب اور محبوب :
اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 5 تفاسیر امئر ۃ عمران کا نام حنتہ مذکور ہے اور ظاہر دمشق میں ان کی قبر ہے۔ (ابن کثیر، بحر) اس زمانہ میں دستور تھا کہ بعض لڑکوں کو ماں باپ اپنے حق سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ کے نذر کردیتے ہیں اور عبادت خانے کے سپرد کردیتے۔ عمرانن کی بیوی حاملہ تھیں انہوں نے بھی یہی نذر مانی۔ اور محررا کے معنی ہیں ہے کہ خالصہ کنیسہ کی خدمت کے لیے وقف رہے گا۔ (قرطبی )
Read the full tafseer →(3:35) امرات عمران۔ عمران حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) اور ان کی ہمشیرہ حضرت مریم کے باپ کا نام تھا۔ امرات عمران۔ میں عمران سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں بلکہ عمران کی عورت سے مراد عمران کی نسل میں سے ایک عورت ہے۔ حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت ہارون کی اولاد سے تھیں۔ اور حضرت مریم کی والدہ اور حضرت یحییٰ کی والدہ آپس میں رشتہ کی بہنیں تھیں۔ لہٰذا حضرت مریم ام عیسیٰ (علیہ السلام) آل عمران میں سے ہوئیں۔ یا یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے باپ کا نام بھی عمران ہی تھا۔
(3:35) نذرت۔ ماضی واحد متکلم نذر مصدر ۔ (باب ضرب۔ نصر) میں نے منت مانی۔ میں نے نذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41
اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
حضرت مریم کی ماں کا نام حنہ تھا، یہ بانجھ تھیں۔ اللہ تعالیٰ سے بچہ پیدا ہونے کی دعا کی اور نذر مانی کہ جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کو بیت المقدس کا خادم بنایا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی اور لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا۔ اس پر انہوں نے افسوس سے وہ باتیں منہ سے نکالیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ مگر انہوں نے خواب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بجائے لڑکے کے اس لڑکی کو نذر میں قبول کرلیا۔ پھر حضرت مریم (علیہا السلام) کو بیت المقدس کے خادموں کے سپرد کرکے اپنا خواب ظاہر کیا جس کو خادموں نے منظور کرلیا۔ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بچہ کی پیدائش کے وقت شیطان بچہ کے پہلو میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
[51] نوح (علیہ السلام) ، آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں اور ابراہیم (علیہ السلام) ان دونوں کی اولاد میں عمران ان تینوں کی اولاد میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
تین قصے :
(ف 1) رسالت مآب حضور ﷺ کی نبوت پر یہودیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ اسرائیل نہیں اور اللہ تعالیٰ نے کیوں بنی اسرئایل اسمعیل سے حضور ﷺ کو نبوت کے عہدہ جلیلہ کے لئے منتخب کیا ، یہودی چونکہ حد درجہ ظاہر پرست تھے ، اس لئے وہ اس خرق عادت کو باور نہ کرسکے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے ذیل میں تین قصے بیان کئے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مصالح کو کوئی نہیں جانتا اور اس قسم ونوع کے خوارق اکثر پیش آتے رہتے ہیں اور یہ کہ خود یہودی ان واقعات کو تسلیم کرتے ہیں ، اس لئے چاہئے کہ وہ حضور ﷺ کا سلسلہ اسماعیلیہ میں ہونا بھی قابل اعتراض نہ سمجھیں ، نبوت اللہ کی دین ہے ، جب تک اسرائیل…
Read the full tafseer →ف 4۔ وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ عمران بن ماثان کی بیوی حنہ بنت فاقوذہ نے اپنے حمل کے متعلق جناب باری میں عرض کیا۔ اے میرے پروردگار ! میں نے بچہ کو جو میرے پیٹ میں ہے آپ کی نذر کردیا کہ وہ آپکی خدمت کے لئے تمام کاموں سے آزاد اور فارغ البال رکھ کر وقف ہوگا ، یعنی میں اس سے کوئی کام نہ لوں گی وہ صرف بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف ہوگا لہٰذا آپ میری جانب سے اس کو جس کی میں نے نذر کی ہے قبول فرما لیجئے ! یقینا آپ بڑے سننے والے اور بڑے جاننے والے ہیں یعنی میری عاجزانہ دعا کو سنتا بھی ہے اور میری نیت کو جانتا بھی ہے۔ ( تیسیر)
مفسرین نے بیان کیا ہے کہ حضرت حنہ کے اولاد نہ ہوتی تھی ۔ ایک دن انہوں نے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 3۔ یہ جو فرمایا کہ عمدہ طور پر ان کو نشوونما دیا تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ابتداء سے عبادت وطاعت میں مشغول رکھا، دوسرے یہ کہ اور بچوں کی معمولی نشوونما سے ان کا ظاہری نشوونما زائد تھا۔
Read the full tafseer →عمران کی بیوی سیدہ حنہ کی دعا بارگاہ قاضی الحاجات :
87: جیسا کہ اوپربیان کیا گیا ہے کہ عمران موسیٰ و ہارون کے والد ماجد کا نام بھی ہے اور اسی عمران سے کچھ مفسرین نے اسی عمران کو مراد لیا ہے اور انہوں نے ” امرة عمران “ کا ترجمہ کیا ہے کہ عمران کے گھرانے کی ایک عورت یعنی حنہ اور بعض بلکہ زیادہ مفسرین نے عمران مریم کے والد ماجد کا نام بتایا ہے اور کہا ہے کہ یہ عمران بن ماثان کا ذکر ہے اور ہم نے بھی یہی مراد لی ہے جو عمران والد مریم ہیں۔ چونکہ مسیحی نوشتوں میں ان کا نام حنہ (Hannaa) آیا ہے بعض مفسرین نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ شام وغیرہ میں کلیسا کلیسائے حنہ کے نام سے مشہور ہیں اور ان کا مقبرہ دمشق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
Commentary:
In the religious code of earlier prophets, there was a method of worship through which a child, out of one's children, could be freed from all worldly services and devoted exclusively for Allah. Following this practice, the mother of Sayyidah Maryam made a vow during her pregnancy that she would let the newborn serve بیت المقدس Baitul-Maqdis in the way of Allah and that she would not put the child on worldly chores. Sayyidah Maryam's mother thought that she will deliver a male child. But, when she delivered a girl, she was full of remorse thinking that a girl would not be able to…
Read the full tafseer →32. If the 'woman of 'Imran' is interpreted as the wife of 'Imran, this 'Imran must be different from the 'Imran just mentioned (see the preceding verse) . In the Christian tradition the name of the father of Mary is mentioned as Joachim. If this expression, however, is interpreted to mean 'a woman of the house of 'Imran', it would mean that the mother of Mary belonged to that tribe. There is, unfortunately, no definite source of information that would lead us to prefer one interpretation to the other, as there is no historical record either about who the parents of Mary were, or to which…
Read the full tafseer →