Aal-i-Imraan 3:34

Aal-i-Imraan · from ayah 34

3:34

ذُرِّیَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ؕ— وَاللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۟ۚذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۡۢ بَعۡضٍ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‌ۚ

ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Descendants, some of them from others. And Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 4 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:34

یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے، جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں اور اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ایسی نسل تھی جس کے افراد (نیکی اور اخلاص میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے، اور اللہ (ہر ایک کی بات) سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے اور اللہ سنتا جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ ایک ہی نسل ہے ان میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں، اور اﷲ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ایسی نسل جس کا بعض بعض سے ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو ایک دوسرے کی اولاد تھے اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ایک دوسرے کی ذریت ہیں۔ اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

درآنحالیکہ یہ سب ایک دوسرے کی اولاد تھے، اور اللہ (ہر کسی کی) سنتا، (اور سب کچھ) جانتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور اللہ (خوب) سننے والا ہے (خوب) جاننے والا ہے۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ایک دوسرے کی اولاد سے ہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(for His messengership) - a people alike and the seed of one another. Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

– a progeny some of whom resembles the others (in faith) . Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

– a progeny some of whom resembles the others (in faith) . Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Offspring, one of the other, and Allah is All-Hearer, All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They were descendants one of another. Allah is Hearer, Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Descendants, some of them from others. And Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

They were the offspring of one another. God is All-hearing and All-seeing.

— Muhammad Sarwar

Offspring one of the other; and Allah is Hearing, Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

Progeny, one of the other, and Allah is Hearing, Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

Offspring, one of the other: And Allah heareth and knoweth all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–34

سب سے پہلے نبی یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی، حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہر چیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لئے زمین پر اتارا، جب زمین پر بت پرستی قائم ہوگئی تو حضرت نوح ؑ کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، حضرت نوح نے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی تو نوح ؑ کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔ خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 31 مسیحیوں کی گمراہی کا تمام تر سبب یہ ہے کہ وہ مسیح کو بندہ اور رسول ماننے کے بجائے اللہ کا بیٹا اور الوہیت میں اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ اگر ان کی یہ بنیادی غلطی رفع ہوجائے، تو اسلام صحیح و خالص کی طرف ان کا پلٹنا بہت آسان ہوجائے۔ اسی لیے اس خطبے کی تمہید یوں اٹھائی گئی ہے کہ آدم ؑ اور نوح ؑ اور آل ابراہیم ؑ اور آل عمران کے سب پیغمبر انسان تھے، ایک کی نسل سے دوسرا پیدا ہوتا چلا آیا، ان میں سے کوئی بھی خدا نہ تھا، ان کی خصوصیت بس یہ تھی کہ خدا نے اپنے دین کی تبلیغ اور دنیا کی اصلاح کے لیے ان کو منتخب فرمایا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

انبیاء سابقین کا تذکرہ برائے تسلی آنحضرت ﷺ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے اس لئے گریز کرتے تھے کہ ان کو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت ہی میں شبہ تھا، ان کی ہدایت کے لئے ان آیات میں کچھ نظائر انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے بیان فرماتے ہیں، جن سے یہ شبہات رفع ہوجائیں، ان انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے تذکرہ میں حضرت آدم، نوح، آل ابراہیم، آل عمران (علیہم السلام) کا ذکر تو اجمال و اختصار کے ساتھ کردیا گیا ہے، اس کے بعد دراصل ذکر حضرت عیسیٰ ؑ کا کرنا ہے، اس سے پہلے ان کی نانی اور والدہ کا بھی تفصیلی تذکرہ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا نہایت مفصل ذکر کیا گیا ہے جس کی حکمت و مصلحت کا بیان مسئلہ حیات عیسیٰ ؑ کے تحت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–34

تفسیر آیت 33-34:۔ حضرت مسیح ؑ کا خاندان : آدم، نوح، اور ابراہیم (علیہم السلام) یہ سلسلہ نبوت و رسالت کے اساطین و عماید ہیں۔ ان کا ذکر ہوگیا تو گویا نبوت کے پورے مبارک سلسلے کا ذکر ہوگیا۔ حضرت ابراہیم ؑ کے ذکر کے ساتھ ان کے آل کے ذکر نے ان دونوں شاخوں کو جمع کردیا جو ان سے پھوٹی ہیں۔ یعنی حضرت اسحاق کی شاخ کا بھی، جس کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ ؑ ہیں اور حضرت اسماعیل ؑ کی شاخ کا بھی جس میں خاتم الانبیا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی۔ آل ابراہیم کے بعد آل عمران کا ذکر یہاں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اس خاندان مبارک کا ذکر ہے جس میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی ولادت با سعادت ہوئی۔ عمران بن ماتان،…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–34

10: آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 176:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ ؑ کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ آرہا ہے۔ اس لیے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم (علیہا السلام) ہی کے والد مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–34

درس 24 ایک نظر میں بعض وہ روایات ‘ جن میں رسول اکرم ﷺ اور وفد نجران کے درمیان مناظرے کیا بیان آیا ہے۔ یہ کہتی ہیں کہ اس سورت میں جن قصوں کا ذکر ہوا ہے ۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کی ولادت ‘ ان کی والدہ کی ولادت ‘ حضرت یحییٰ اور دوسرے واقعات ‘ ان شبہات کے رد میں نازل ہوئے ۔ جن کو لے کر یہ وفد آیا تھا ۔ اور ان لوگوں کے شبہات کی عمارت قرآن کریم کی اس آیت پر کھڑی کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ کَلِمَۃُ اللّٰہِ …………ہیں جو مریم کی طرف آیا اور وہ ” اس کا روح “ ہیں نیز سورت مریم میں جن امور کا ذکر نہ ہوا تھا انہوں نے اس کے بارے میں رسول ﷺ سے جواب طلب کیا تھا۔ یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے ‘ لیکن اس سورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 خدا کی مخلوقات میں زمین آسمان، چاند، سُورج، ستارے، فرشتے، جِن، شجر، حجر سب ہی شامل تھے۔ مگر اس نے اپنے علم محیط اور حکمت بالغہ سے ملکات روحانیہ اور کمالات جسمانیہ کا جو مجموعہ ابو البشر آدم (علیہ السلام) میں ودیعت کیا وہ مخلوقات میں سے کسی کو نہ دیا۔ بلکہ آدم کو مسجود ملائکہ بنا کر ظاہر فرما دیا کہ آدم کا اعزازو اکرام اسکی بارگاہ میں ہر مخلوق سے زیادہ ہے۔ آدم کا یہ انتخابی اور اصطفائی فضل و شرف جسے ہم " نبوت " سے تعبیر کرتے ہیں کچھ ان کی شخصیت پر محدود و مقصود نہ تھا، بلکہ منتقل ہو کر ان کی اولاد میں نوح (علیہ السلام) کو ملا، پھر منتقل ہوتا ہوا نوح (علیہ السلام) کی اولاد حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34 ذُرِّیَّۃً م بَعْضُہَا مِنْم بَعْضٍ ط حضرت نوح علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ‘ اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پورا خاندان بنی اسماعیل ‘ بنی اسرائیل اور آل عمران ان کی اولاد میں سے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–35

36 گویا سب انبیاء آدم، پھر نوح، پھر ابراہیم کی اولاد میں تھے اور چونکہ حضرت عیسیٰ بھی حضرت ابراہیم اور پھر آل عمران سے تھے۔ لہذا وہ بھی انسان تھے۔ اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ اور سب انبیاء کو مذکورہ بالا تین انبیا کی اولاد سے مبعوث فرمانا ہی اللہ کی حکمت کا مقتضیٰ تھا اس کے باوجود جو لوگ حضرت عیسیٰ کو اللہ یا اس کا بیٹا قرار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب سن رہا ہے۔ ان دو آیات میں مسیحی عقائد کے رد کی تمہید بیان ہوئی ہے آگے تفصیلی ذکر آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

87 ۔ (آیت) ” سمیع “ سننے والا تمام زبان سے نکلے ہوئے الفاظ وکلمات کا۔ (آیت) ’ علیم “۔ جاننے والا تمام دل کے اندر کے جذبات وخیالات کا۔ (آیت) ” ذریۃ بعضھا من بعض “۔ نوح اولاد میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہیں اور حضرت ابراھیم (علیہ السلام) ان دونوں کی اولاد میں۔ اور حضرت عمران ان تینوں کی اولاد میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 34–36

قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی۔ اس جملہ سے حسرت کا اظہار بھی مقصود ہے اور عذر بھی، حسرت اس وجہ سے کہ میری امید کے برخلاف لڑکی ہوئی ہے اور عذر اس طرح کہ نذر سے مقصود تو تیری رضا کے لیے ایک خدمت گار وقف کرنا تھا یہ کام ایک مرد ہی زیادہ بہتر طریقہ سے انجام دے سکتا ہے اب جو کچھ بھی ہے تو اسے جانتا ہے۔ بچہ کا نام کب رکھا جائے : حافظ ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے احادیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بچہ کا نام ولادت کے پہلے ہی روز رکھنا چاہیے اور ساتویں روز نام رکھنے والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن حافظ ابن قیم نے تمام احادیث پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلے روز تیسرے روز ساتویں روز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذُرِّيَّةًۢ : اس لفظ کا وزن فُعِّیْلَۃً ہے یا فُعُّوْلَۃً اوّل شق پر اس کاذَرٌّ مادہ ہوگا ذَرٌّ چھوٹی چیونٹیاں، دوسری شق پر ذُرٌ مادہ ہوگا ذرءٌ کا معنی پیدا کرنا۔ ذُرِیت کا اطلاق اولاد پر بھی ہوتا ہے اور باپ، دادا پر بھی اللہ نے فرمایا : و اٰیَۃٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ اولاد ذُرِّیت اس لیے ہوتی ہے کہ اللہ ان کو باپ سے پیدا کرتا ہے اور آباء کو ذریت اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اولاد کا مبداء تخلیق ہوتے ہیں۔ ذریت کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی۔ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ : یہ جملہ ذریۃً کی صفت ہے یعنی اللہ نے نوح ( علیہ السلام) اور آل ابراہیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–34

(32۔ 33۔ 34) تو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت نازل فرمائی کہ تم فرائض و واجبات میں اطاعت کرو اور اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرتے ہو تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ یہودیوں اور کافروں سے محبت نہیں فرماتے، جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو یہودی بولے کہ ہم تو آدم ؑ کے دین پر ہیں اور مسلمان ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ اور اولاد ابراہیم موسیٰ ؑ و ہارون ؑ کو اسلام کی وجہ سے تمام جہان والوں پر فضیلت عطا کی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران سے حضرت موسیٰ ؑ کے والد مراد نہیں۔ یہ ایک دوسرے کے دین پر ہیں اور بعض ان میں سے بعض کی اولاد ہیں اور اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ ۭ: گویا سب انبیا آدم ؑ ، پھر نوح ؑ ، پھر ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے تھے اور چونکہ عیسیٰ ؑ بھی ابراہیم ؑ اور پھر آل عمران سے تھے، لہٰذا وہ بھی انسان تھے، اللہ یا اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔ یہاں سے اہل نجران اور دوسرے نصرانیوں کے عقیدے کے ابطال کے لیے عیسیٰ ؑ کی ولادت کا قصہ شروع ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 34۔ (آیت) ” ذریۃ کا معنی اور اس کا مادہ اشتقاق سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور یہاں یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے، اخفش نے یہی کہا ہے، ای فی حال کون بعضھم من بعض، یعنی اس حال میں کہ وہ بعض بعض سے ہیں، ای ذریۃ بعضھا من ولد بعض یعنی ایک نسل ہے درآنحالیکہ ان میں سے بعض بعض کی اولاد میں سے ہیں کو فیوں نے کہا ہے : بالیقین یہی ہے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ بدل ہے ای اصطفی ذریۃ بعضھا من بعض (یعنی اللہ تعالیٰ نے چن لیا ایک نسل کو جن میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں) اور (آیت) بعضھا من بعض “۔ کا معنی ہے یعنی دین میں ایک دوسرے کی مدد کرنے میں (باہم معاون ہیں) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–37

اللہ تعالیٰ نے نذر قبول فرمائی (1) ابن جریر ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فتقبلھا ربھا بقبول حسن “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اس کی ماں سے جو اس نے گرجا گھر کی خدمت کے لیے ارادہ کیا تھا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” وانبتھا نباتا حسنا “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی غذا میں پرورش پائی۔ (2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وکفلھا زکریا “ سے مراد کہ انہوں نے اس کو حفاظت میں لے لیا۔ (3) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور حاکم نے اس کو صحیح کہا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اس کی کفالت کی جب اس کے پاس محراب میں آئے تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ذُرِّیَّۃًم : اولاد ہوتے ہوئے ] [بَعْضُہَا مِنْم بَعْضٍ : ان کا کوئی کسی کی ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–35

اگر اللہ سے محبت ہے تو رسول اللہ کا اتباع کرو ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع اور اطاعت کا حکم دیا ہے، اطاعت فرمانبر داری اور حکم ماننے کو کہتے ہیں اور اتباع اپنے مقتدا کے پیچھے چلنے اور اس کی راہ اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ جتنی بھی مذہبی قومیں ہیں وہ اللہ کو مانتی ہیں (اگرچہ ماننے کے طریقے مختلف ہیں) اور انہیں یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء ﷺ سے اپنی کتاب میں یہ اعلان کروا دیا کہ محبت صرف دعویٰ کرنے کی چیز نہیں اس کا ایک معیار ہے اور وہ محبت معتبر ہے جو محبوب کی مرضی کے مطابق ہو اس محبت کا معیار جو اللہ کے نزدیک معتبر ہے یہ ہے کہ حضرت خاتم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

ذکر اصطفا بعض برگزیدگان خداوند نام علیھم الصلوۃ والسلام قال تعالی، ان اللہ اصطفی۔۔۔ الی۔۔۔ سمیع علیم۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے معیار کا بیان تھا اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے چند برگزیدہ بندوں کا ذکر فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی محب اور محبوب تھے تاکہ ان کے حالات اور واقعات سن کر ان کے اتباع اور محبت کا شوق دل میں پیدا ہوا اور یہ سمجھ لیں کہ حق تعالیٰ سے تعلق اور محبت بدون ان حضرات کی اتباع اور پیروی کے ناممکن ہے اور ان چند محبین اور محبوبین خدا کا ذکر خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ کے ذکر مبارک کی تمہید ہے جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا بہرحال مقصود اس تذکرہ سے یہ ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

45 ذکر توحید بار چہارم۔ ذُرِّیَّةً ، اٰلین سے بدل یا حالواقع ہے۔ نصب علی البدلیۃ من الآلین او الحالیۃ منہما (روح ج 3 ص 132) یہود ونصاریٰ اس شبہ میں گرفتار تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو باقی مخلوق سے منتخب کر کے سب سے اونچا مقام اور مرتبہ عطا فرمایا ہے اور انہیں خاص خاص اختیارات بھی عطا کیے ہیں۔ چناچہ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کارساز اور معبود سمجھ کر پکارنا اور پوجنا شروع کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) باوجود علو مرتبت اور رفعت شان کے انسان اور بشر تھے اور باہم ایک دوسرے کی اولاد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–34

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا معیار بیان فرمایا پھر حضور ﷺ کی محبت اور اس کے جواب میں آپ کے اتباع کو معیار قرار دیا۔ گویا اللہ تعالیٰ کی محبوبیت حاصل کرنے کے لیے حضور ﷺ کا اتباع اختیار کرنے کی ترغیب دلائی۔ اتباعِ رسول ہی دین اور مذہب کا بنیادی اصلو ہے۔ سورة بقرہ میں روئے سخن یہود کی طرف تھا ، اور سورة آل عمران میں نصاری کی اصلاح کا پہلو غالب ہے۔ گذشتہ سورة میں یہودیوں کی چالیس خرابیوں کا تذکرہ کرکے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرمائی اور انہیں اصلاح کی طرف متوجہ کیا۔ اب اس سورة میں نصاری کی اصلاح مطلوب ہے۔ تاہم ابتدائے سورة میں توحید کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ بہرحال نصاری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذُرِّيَّۃًۢ بَعْضُہَا مِنْۢ بَعْضٍ۝ 0 ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ 34 ۚ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–34

ترکیب : ان کنتم تحبون اللّٰہ شرط فاتبعونی جواب شرط ‘ یحببکم اور یغفرلکم مجذوم میں اتبعوا امر کے جواب میں آکر ذریۃ منصوب ہے یا اس وجہ سے کہ یہ بدل ہے نوحا وما عطف علیہ سے اور ممکن ہے کہ ان اسماء سے حال بھی ہو اور عامل اس میں اصطفی ہو۔ بعضہا مبتداء من بعض خبر یہ جملہ موضع نصب میں ہے کیونکہ صفت ہے ذریۃ کی۔ تفسیر : جب توحید ثابت کردی گئی تو مشرکین کے پاس بجز اس کے اور کوئی حیلہ نہ رہا کہ ہم ان کو اللہ کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔ مقصود خدا اور اس کی محبت ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر تم کو اللہ سے محبت ہے تو اس کے رسول کے کہنے پر چلو۔ اس نادیدہ خدا کی محبت کے وہی عمدہ طریق بتا سکتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–34

اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ لا ذُرِّیَّۃً م بَّـعْـضُہَا مِنْ م بَـعْـضٍ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ ج (بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور خاندانِ ابراہیم اور خاندانِ عمران کو سارے دنیا جہان پر برگزیدہ کیا ہے، یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور اللہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے) (33، 34) اس سے پہلے کی آیت پر سورة آل عمران کی تمہید ختم ہوگئی جس میں اللہ کی توحید، دین اسلام اور اس کی مبادیات، انسانوں کے لیے وحی الٰہی کی رہنمائی کی ضرورت، اہل کتاب میں پیدا ہونے والے اختلافات کا حل ہے۔ مضامین کو دلائل وبراہین سے ثابت کرنے کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–37

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ حضرت مریم [ جب بڑی ہوئیں تو انہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں دیا گیا۔ اس زمانے کے مذہبی رواج کے مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف لوگ تارک الدّنیا ہو کر مسجد اقصیٰ میں تعلیم و تربیت اور ذکر و اذکار میں مصروف رہتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا کے معاملات سے الگ کرلیا ہوتا تھا۔ چناچہ حضرت مریم [ انہی ذاکرات میں شامل ہو کر اپنے حجرے میں محو عبادت رہا کرتی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام ان کے خالو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سپر دتھا۔ ایک دن زکریا (علیہ السلام) ان کے ہاں حجرے میں تشریف لائے تو ان کے پاس غیر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34: ذُرِّیَّۃًم بَعْضُہَا مِنْ 0 بَعْضٍط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو سننے جاننے والے ہیں) ذُرِّیَّۃً یہ آل ابراہیم اور آل عمران سے بدل ہے۔ بعضھا من بعض۔ یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر موضع نصب میں واقع ہو کر ذریت کی صفت ہے، تقدیر عبارت یہ ہے : ان الآلین ذریۃ واحدۃ متسلسلۃ بعضھا متشعب من بعض۔ یعنی دونوں آل ایک مسلسل لڑی ہیں۔ جو ایک دوسرے سے شاخ در شاخ چلنے والے ہیں۔ جیسے موسیٰ و ہارون عمران سے اور عمران یصہر سے اور وہ قاہث سے اور قاہث لاوی سے اور لاوی یعقوب سے اور یعقوب اسحاق سے اور اسی طرح عیسیٰ بن مریم بنت عمران بن ماثان اور یہ سلسلہ یہود ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

34۔ (ذریۃ اولاد) ذریۃ یہ ذراء سے مشتق ہے اس کا معنی ہے پیدا کرنا اور بعض نے کہا کہ یہ ” ذر “ سے مشتق ہے چیونٹی کو کہتے ہیں کیونکہ اس کو آدم کی پیٹھ سے نکالا گیا ، اس وقت آدم (علیہ السلام) کی ذریت چیونٹیوں کی مانند تھیں ، ذریۃ کا اطلاق اولاد پر بھی ہوتا ہے اور باپ دادا پر بھی ، اباء کو ذریۃ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ان سے اولاد پیدا ہوتی ہے اور اولاد ذریت اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اللہ ان کو باپ سے پیدا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرامن (آیت)” وایۃ لھم ان حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون “۔ ذریۃ منصوب ہے معنا اور ہم نے چن لیا ذریت کو بعض کو بعض سے (بعضھا من بعض بعض کو پیدا کیا ہے بعض سے) بعض نے کہا کہ بعض کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–34

(33 ۔ 34) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ کے رسول کی اطاعت کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے اس آیت میں رسولوں کے انتخاب کا سلسلہ بیان فرمایا پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا۔ اور جن سے سب انبیاء اور امتوں کا سلسلہ چلا۔ لیکن آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے تک کوئی حرام حلال کی شریعت نہیں تھی۔ چناچہ شفاعت کی صحیح حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اول صاحب شریعت نبی فرمایا ہے 1۔ اس لئے سلسلہ انبیاء کے دوسرے اور صاحب شریعت انبیا کے اول منتخب نبی حضرت نوح (علیہ السلام) اور تیسرے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن کی وہ شاخیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–37

آیت 33-37 اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء، اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدم کا انتخاب فرمایا۔ انہیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کر کے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، انہیں جنت میں ٹھہرایا۔ انہیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے۔ اس لئے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (ولقد کرمنا بنی ادم وحملنھم فی البروالبحر ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفصیلاً “ (بنی اسرائیل :80/18) ” یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (ذریۃ بعضھا من بعض) حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ دین میں ایک دوسرے کی ہمنوائی اور مدد کے لحاظ سے یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے۔ جس طرح کہ قول باری ہے (المنافقون والمنافقات بعضھم من بعض) ، منافق مرد اور مفافق عورتیں یہ سب ایک سلسلے کے لوگ ہیں) یعنی گمراہی اور ضلال پر اکھٹے ہونے کے لحاظ سے پھر ارشا ہوا (والمومنون المومنات بعضھم اولیاء بعض، اہل ایمان مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے دینی رفیق ہیں) یعنی ہدایت پر اکھٹے ہوجانے میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بعض کا قو ل ہے کہ (ذریۃ بعضھا من بعض) ایک ہی نسل سے پیدا ہونے کے لحاظ سے اس لیئے کہ یہ سب حضرت آدم پھر حضرت نوح اور پھر حضرت ابراہیم السلام کی نسل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

76 حضرت عیسیٰ کے شجرہ نسب کا بیان شرک کی تردید کے لئے : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب حضرات ایک دوسرے کی اولاد تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کی یہ چنی ہوئی ہستیاں سب ایک دوسرے کی اولاد تھیں۔ ان میں الوہیت کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ اس لئے کہ اپنی اصل فطرت اور اپنے خمیر و طینت کے اعتبار سے یہ سب حضرات باہمدگر مشابہ اور ایک ہی طرح کے تھے۔ اور اصطفاء و اجتباء کے شرف سے سب ہی یکے بعد دیگرے مشرف ہوئے۔ اور ان میں سے کسی میں بھی الوہیت کا کوئی شائبہ تک نہیں تھا، جیسا کہ یہود و نصاری نے ان میں سے بعض ہستیوں کے بارے میں اس طرح کے انتہا پسندانہ اور غلو پر مبنی دعوے کر رکھے تھے۔ اور بےبنیاد عقیدے اپنا رکھے تھے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–34

انبیائے کرام کا سلسلہ تشریح : یہاں سے دوسرا خطبہ شروع ہوتا ہے۔ اس کے نزول کا زمانہ 9 ھ ہے۔ ان آیات میں انبیاء کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ کیونکہ رب العزت بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ ہر بات کو بخوبی سننے والا اور حقیقت حال کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اس لئے اس نے اپنے بہترین بندوں میں سے ان بندوں کا انتخاب کیا کہ جو لوگوں کے حق میں بہترین بن سکتے تھے۔ لہٰذا سب سے پہلے دنیا تخلیق کی اور پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا جو کہ روحانی اور جسمانی خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ ان کو علم و حکمت عطا کیا جس کی وجہ سے ان کو سربلندی عطا کی اور فرشتوں سے ان کو سجدہ کروایا اور پھر آدم (علیہ السلام) کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–41

آیات 31- 41 اسرارو معارف قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔ رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔ محبت ، محب اور محبوب : اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

ف 5 تفاسیر امئر ۃ عمران کا نام حنتہ مذکور ہے اور ظاہر دمشق میں ان کی قبر ہے۔ (ابن کثیر، بحر) اس زمانہ میں دستور تھا کہ بعض لڑکوں کو ماں باپ اپنے حق سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ کے نذر کردیتے ہیں اور عبادت خانے کے سپرد کردیتے۔ عمرانن کی بیوی حاملہ تھیں انہوں نے بھی یہی نذر مانی۔ اور محررا کے معنی ہیں ہے کہ خالصہ کنیسہ کی خدمت کے لیے وقف رہے گا۔ (قرطبی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(3:34) ذریۃ۔ اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو ذریۃ کہتے ہیں۔ مگر عرف عام میں چھوٹی بڑی سب والا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ یا تو (1) ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ اور اس کا ہمزہ متروک ہوگیا ہے۔ جیسے ردیۃ اور بریۃ ۔ یا (2) اس کی اصل ذرویۃ ہے۔ یا (3) ذر سے بمعنی بکھیرنا۔ فعلیۃ کے وزن پر جیسے قمریۃ ہے۔ اس کی جمع ذرای اور ذریات ہے۔ ذریۃ بعضھا من بعض ایک نسل جس کے بعض بعض کی اولاد تھے۔ بعضھا من بعض۔ ذریۃ کی صفت ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–41

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41 اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–34

اس آیت میں رسولوں کے انتخاب کا سلسلہ بیان فرمایا۔ پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے جن سے سب انبیاء اور امتوں کا سلسلہ دنیا میں چلا۔ لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے تک کوئی حرام و حلال کی شریعت نہیں تھی۔ چناچہ شفاعت کی صحیح حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اول صاحب شریعت نبی فرمایا، دوسرے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن دو شاخیں ایک شاخ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی جس میں بنی اسرائیل ہیں اور ان میں آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک رہی اور دوسری شاخ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جس میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور اس آیت میں عمران کے ذکر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–36

[51] نوح (علیہ السلام) ، آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں اور ابراہیم (علیہ السلام) ان دونوں کی اولاد میں عمران ان تینوں کی اولاد میں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–35

تین قصے : (ف 1) رسالت مآب حضور ﷺ کی نبوت پر یہودیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ اسرائیل نہیں اور اللہ تعالیٰ نے کیوں بنی اسرئایل اسمعیل سے حضور ﷺ کو نبوت کے عہدہ جلیلہ کے لئے منتخب کیا ، یہودی چونکہ حد درجہ ظاہر پرست تھے ، اس لئے وہ اس خرق عادت کو باور نہ کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذیل میں تین قصے بیان کئے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مصالح کو کوئی نہیں جانتا اور اس قسم ونوع کے خوارق اکثر پیش آتے رہتے ہیں اور یہ کہ خود یہودی ان واقعات کو تسلیم کرتے ہیں ، اس لئے چاہئے کہ وہ حضور ﷺ کا سلسلہ اسماعیلیہ میں ہونا بھی قابل اعتراض نہ سمجھیں ، نبوت اللہ کی دین ہے ، جب تک اسرائیل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو اور عمران کی اولاد کو اقوام عالم پر برگزیدہ فرمایا تھا۔ یعنی نبوت کے لئے ان کو پسند فرمایا تھا۔ یہ لوگ ایک نسل اور ایک ہی سلسلے کے تھے ، ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے یعنی معترضین کی باتوں کو سنتا ہے اور پسندیدہ اور منتخب حضرات کے احوال کو جانتا ہے۔ ( تیسیر) صفوہ خالص چیز کو کہتے ہیں جو ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہو۔ یہاں اصطفا سے مراد پسند فرمایا ، چن لینا ، منتخب کرلینا مراد ہے مطلب یہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یہ جو فرمایا کہ ایک دوسرے کی اولاد ہے شاید مقصود اس سے ان سب حضرات کا اتحاد یا شرف ذاتی کے ساتھ شرف نسبت کا بیان فرمانا ہو، اور اس امر کا جتلانا ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے آباء و اجداد میں بھی نبوت رہی ہے، اگر آپ کو نبوت مل گئی تو بعید کیا ہے۔ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ سب انبیا کرام ایک نسل اور اصل سے تعلق رکھتے تھے : 86: مذکورہ بالا انبیائ کرام اور اللہ کے برگزیدہ بندے ایک دوسرے کی ذریت ہیں۔ ذریہ اس لفظ کا وزن ” فعلة “ اور ” فعولہ “ ہے صورت اول میں اس کا مادہ وہ ” ذر “ چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کو کہتے ہیں اور دوسری صورت میں ذرئ مادہ ہوگا اور ذر کے معنی پیدا کرنے کے ہیں۔ ذریت کا اطلاق اولاد پر بھی ہوتا ہے اور باپ دادا پر بھی۔ اولاد پر تو عام اور عام بول چال میں بھی لوگ اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں کہ فلاں فلاں کی ذریت یعنی اولاد سے ہے اور دوسری صورت کے لیے بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوا : وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

In these verses a reference has been made to some past prophets to comfort the Holy Prophet ﷺ since disbelievers did not obey him because they doubted his prophethood. It is for their guidance that names of some past prophets have been cited to help remove such doubts. However, these prophets have been referred to very briefly as the main purpose is to mention Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) which follows immediately because he will come again to this world and will work with the followers of the Holy Prophet ﷺ ، therefore, it is necessary for the Muslims to know his identification.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31. The real error of the Christians lies in considering Jesus to be the son of God and a partner in His godhead, rather than His servant and Messenger. If this misunderstanding was removed it would become quite easy for them to advance towards Islam. Hence at the very outset of the discourse it is mentioned that Adam, Noah and the Prophets in the house of Abraham and 'Imran were all human beings. Even though many Prophets were born in the same family, one from the other, none of them was God. Their merit lay in the fact that God had chosen them to preach His religion and reform the world.

Read the full tafseer →