Explained with ayahs 33–34
سب سے پہلے نبی
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی، حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہر چیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لئے زمین پر اتارا، جب زمین پر بت پرستی قائم ہوگئی تو حضرت نوح ؑ کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، حضرت نوح نے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی تو نوح ؑ کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔ خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 29
یہاں سے دوسرا خطبہ شروع ہوتا ہے۔ اس کے نزول کا زمانہ سن 9 ہجری ہے، جب کہ نجران کی عیسائی جمہوریت کا وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ نجران کا علاقہ حجاز اور یمن کے درمیان ہے۔ اس وقت اس علاقے میں 73 بستیاں شامل تھیں اور کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ 20 ہزار قابل جنگ مرد اس میں سے نکل سکتے تھے۔ آبادی تمام تر عیسائی تھی اور تین سرداروں کے زیر حکم تھی۔ ایک عاقب کہلاتا تھا، جس کی حیثیت امیر قوم کی تھی۔ دوسرا سید کہلاتا تھا، جو ان کے تمدنی و سیاسی امور کی نگرانی کرتا تھا اور تیسرا سقف (بشپ) تھا جس سے مذہبی پیشوائی متعلق تھی۔ جب نبی ﷺ نے مکہ فتح کیا اور تمام اہل عرب کو یقین ہوگیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
انبیاء سابقین کا تذکرہ برائے تسلی آنحضرت ﷺ
جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے اس لئے گریز کرتے تھے کہ ان کو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت ہی میں شبہ تھا، ان کی ہدایت کے لئے ان آیات میں کچھ نظائر انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے بیان فرماتے ہیں، جن سے یہ شبہات رفع ہوجائیں، ان انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے تذکرہ میں حضرت آدم، نوح، آل ابراہیم، آل عمران (علیہم السلام) کا ذکر تو اجمال و اختصار کے ساتھ کردیا گیا ہے، اس کے بعد دراصل ذکر حضرت عیسیٰ ؑ کا کرنا ہے، اس سے پہلے ان کی نانی اور والدہ کا بھی تفصیلی تذکرہ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا نہایت مفصل ذکر کیا گیا ہے جس کی حکمت و مصلحت کا بیان مسئلہ حیات عیسیٰ ؑ کے تحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
تفسیر آیت 33-34:۔ حضرت مسیح ؑ کا خاندان : آدم، نوح، اور ابراہیم (علیہم السلام) یہ سلسلہ نبوت و رسالت کے اساطین و عماید ہیں۔ ان کا ذکر ہوگیا تو گویا نبوت کے پورے مبارک سلسلے کا ذکر ہوگیا۔ حضرت ابراہیم ؑ کے ذکر کے ساتھ ان کے آل کے ذکر نے ان دونوں شاخوں کو جمع کردیا جو ان سے پھوٹی ہیں۔ یعنی حضرت اسحاق کی شاخ کا بھی، جس کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ ؑ ہیں اور حضرت اسماعیل ؑ کی شاخ کا بھی جس میں خاتم الانبیا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی۔ آل ابراہیم کے بعد آل عمران کا ذکر یہاں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اس خاندان مبارک کا ذکر ہے جس میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی ولادت با سعادت ہوئی۔ عمران بن ماتان،…
Read the full tafseer →33۔ 1 انبیاء ؑ کے خاندانوں میں دو عمران ہوئے ہیں ایک حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے والد اور دوسرے حضرت مریم ؑ کے والد۔ اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک یہی دوسرے عمران مراد ہیں اور اس خاندان کو بلند درجہ حضرت مریم ؑ اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ ؑ کی وجہ سے حاصل ہوا اور حضرت مریم ؑ کی والدہ کا نام مفسرین نے حنّہ بنت فاقوذ لکھا ہے (تفسیر قرظبی و ابن کثیر) اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آل عمران کے علاوہ مزید تین خاندانوں کا تذکرہ فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت میں جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی ان میں پہلے حضرت آدم ؑ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس میں اپنی طرف سے روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
10: آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 176:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ ؑ کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ آرہا ہے۔ اس لیے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم (علیہا السلام) ہی کے والد مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
درس 24 ایک نظر میں
بعض وہ روایات ‘ جن میں رسول اکرم ﷺ اور وفد نجران کے درمیان مناظرے کیا بیان آیا ہے۔ یہ کہتی ہیں کہ اس سورت میں جن قصوں کا ذکر ہوا ہے ۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کی ولادت ‘ ان کی والدہ کی ولادت ‘ حضرت یحییٰ اور دوسرے واقعات ‘ ان شبہات کے رد میں نازل ہوئے ۔ جن کو لے کر یہ وفد آیا تھا ۔ اور ان لوگوں کے شبہات کی عمارت قرآن کریم کی اس آیت پر کھڑی کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ کَلِمَۃُ اللّٰہِ …………ہیں جو مریم کی طرف آیا اور وہ ” اس کا روح “ ہیں نیز سورت مریم میں جن امور کا ذکر نہ ہوا تھا انہوں نے اس کے بارے میں رسول ﷺ سے جواب طلب کیا تھا۔
یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے ‘ لیکن اس سورت…
Read the full tafseer →7 " عمران " دو ہیں، ایک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد، دوسرے حضرت مریم کے والد، اکثر سلف و خلف نے یہاں عمران ثانی مراد لیا ہے کیونکہ آگے اذ قالت امراۃ عمران الخ سے اسی دوسرے عمران کے گھرانے کا قصہ بیان ہوا ہے اور غالبا سورة کا نام " آل عمران " اسی بناء پر ہوا کہ اس میں عمران ثانی کے گھرانے (یعنی حضرت مریم و مسیح علیہ السلام) کا واقعہ بہت بسط و تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →سورة آل عمران کے نصف اوّل کا دوسرا حصہ 31 آیات پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں خطاب براہ راست نصاریٰ سے ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ جو تم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معبود بنا لیا ہے اور تثلیث Trinity کا عقیدہ گھڑ لیا ہے یہ سب باطل ہے۔ عیسائیوں کے ہاں دو طرح کی تثلیث رائج رہی ہے۔۔ i خدا ‘ مریم اور عیسیٰ علیہ السلام۔۔ اور ii خدا ‘ روح القدس اور عیسیٰ علیہ السلام۔ یہاں پر واضح کردیا گیا کہ یہ جو تثلیثیں تم نے ایجاد کرلی ہیں ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے ‘ یہ تمہاری کج روی ہے۔ تم نے غلط شکل اختیار کی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہت برگزیدہ پیغمبر تھے۔ ہاں ان کی ولادت معجزانہ طریقے پر ہوئی ہے۔ لیکن ان سے…
Read the full tafseer →35 اس آیت سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی امت نصاریٰ کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا جارہا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انسان ہی تھے اور آدم ہی کی اولاد سے تھے۔ کوئی مافوق البشر ہستی نہیں تھے۔ پھر بعد میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ان کی پیدائش کن حالات میں ہوئی اور کیسے ہوئی۔ بعدہ ان کی زندگی کے مختصر سے حالات اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا اپنے ہاں اٹھا لینے کا ذکر ہے اور ساتھ ہی عیسائیوں کے عقائد باطلہ کی تردید بھی پیش کی جارہی ہے، جس وقت اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اس وقت کی موجودہ کائنات (آسمان و زمین، شمس و قمر، ستارے، جن اور فرشتے وغیرہ) میں فرشتے ہی تمام…
Read the full tafseer →86 ۔ (چنانچہ وہ خود اور ان کے گھرانے والے توحید کے علمبردار رہے ہیں) (آیت) ” اصطفی “۔ یہ برگزیدگی توحید کے علمبردار ہی کی حیثیت سے رہی ہے۔ (آیت) ” ادم “۔ حاشیہ پارہ نمبر 1 رکوع 4 کے ذیل میں گزر چکے۔ (آیت) ” نوح “۔ حضرت نوح بن لامخ (یالمک) عراق میں ایک نہایت قدیم پیغمبر گزرے ہیں۔ حسب روایت توریت حضرت آدم (علیہ السلام) سے دسویں پشت میں تھے۔ عمر 950 سال پائی۔ (آیت) ” ال ابرھیم “۔ آل ابراہیم ہی کے تحت میں اسمعیل (علیہ السلام) اور خاندان اسمعیل (علیہ السلام) بھی آگئے۔ ابراہیم اور اسمعیل (علیہما السلام) دونوں پر حاشیہ پارہ 1 رکوع 15 میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ال عمران “۔ عمران کے نام کی تاریخی شخصیتیں…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ اصْطَفٰی آدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرَاھِیْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ انبیاء (علیہ السلام) کے خاندانوں میں دو عمران ہوئے ہیں ایک حضرت موسیٰ و ہارون (علیہم السلام) کے والد اور دوسرے حضرت مریم کے والد۔ اس آیت میں اکثر مفسرین نے دوسرے عمران مراد لیے ہیں اس خاندان کو حضرت مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے بلند مرتبہ عطا فرمایا۔ حضرت مریم کی والدہ کا نام مفسرین نے حَنّہ بنت فاقوذ لکھا ہے اس خاندان کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے مزید تین خاندانوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اپنے وقت میں جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰٓي : بلاشبہ اللہ نے چن لیا۔ اصطفی (ماضی) اصطفاء (مصدر) باب افتعال۔
صفوۃ سے ماخوذ ہے۔ صفوۃ کا معنی ہے خالص یعنی اللہ نے اپنے لیے اپنی محبت کے لیے اور اپنی رسالت کے لیے چن لیا۔
اٰدَمَ : آدم کو جو سب انسانوں کے باپ تھے یہاں تک کہ ملائکہ سے ان کو سجدہ کرایا جنت میں ان کا مسکن بنایا انہی کی نسل سے تمام انبیاء کو پیدا کیا۔ آپ اوّل ترین نبی تھے۔
وَنُوْحًا : اور نوح کو، پہلے سب لوگ شریعتِ الٰہی اور دین آدم ( علیہ السلام) پر تھے پھر ان میں پھوٹ پڑگئی اور کافر ہوگئے تو اللہ نے سب لوگوں میں سے حضرت نوح ( علیہ السلام) کو نبوت کے لیے چن لیا آپ ( علیہ السلام) کی بد دعا سے تمام کافروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(32۔ 33۔ 34) تو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت نازل فرمائی کہ تم فرائض و واجبات میں اطاعت کرو اور اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرتے ہو تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ یہودیوں اور کافروں سے محبت نہیں فرماتے، جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو یہودی بولے کہ ہم تو آدم ؑ کے دین پر ہیں اور مسلمان ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ اور اولاد ابراہیم موسیٰ ؑ و ہارون ؑ کو اسلام کی وجہ سے تمام جہان والوں پر فضیلت عطا کی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران سے حضرت موسیٰ ؑ کے والد مراد نہیں۔
یہ ایک دوسرے کے دین پر ہیں اور بعض ان میں سے بعض کی اولاد ہیں اور اللہ…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰٓي۔۔ : اوپر کی آیات میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع و اطاعت کا حکم دیا ہے، اب اس آیت میں آپ کی رسالت کے اثبات کے سلسلہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کا تعلق بھی اس خاندان نبوت سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے (کیونکہ آپ آل ابراہیم سے ہیں)۔ (شوکانی) عمران نام کی دو شخصیتیں گزری ہیں، ایک موسیٰ و ہارون ؑ کے والد اور دوسرے مریم [ کے والد۔ اکثر مفسرین نے یہاں دوسرے عمران مراد لیے ہیں، کیونکہ انھی کی آل (مریم و عیسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ (ابن کثیر، رازی) غالباً اس سورت کا نام بھی اسی قصہ کی بنا پر رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 33۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان اللہ اصطفی ادم ونوحا “۔ اصطفی بمعنی اختیار ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے چن لیا، سورة البقرہ میں اس کا ذکر گزر چکا ہے، اسی طرح آدم کا مادہ اشتقاق اور آپ کی کنیت کا تذکرہ بھی ہوچکا ہے اور تقدیر کلام یہ ہے ” ان اللہ اصطفی دینھم “۔ بیشک اللہ تعالیٰنے ان کا دین چن لیا اور وہ دین، دین اسلام ہے، سو مضاف کو حذف کردیا گیا ہے۔
اور زجاج نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے زمانے کے رہنے والوں پر نبوت کے لئے چن لیا اور ” ونوحا “ کے بارے کہا گیا ہے کہ یہ ناح ینوح سے مشتق ہے اور یہ عجمی اسم ہے مگر یہ منصرف ہے کیونکہ یہ سہ حرفی ہے (اور اس کا درمیان والا حرف ساکن ہے) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(1) ابن جریر، ابن المنذر ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وال ابراہیم وال عمران “ سے مراد آل عمران آل یاسین اور آل محمد ﷺ میں سے ایمان والے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو نیک گھر والوں اور دو نیک آدمیوں کا ذکر فرمایا اور ان کو جہان والوں پر فضیلت دی اور محمد ﷺ آل ابراہیم میں سے تھے۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سارے لوگوں پر اور سارے جہاں والوں پر نبوت کے ساتھ فضیلت دی وہ انبیاء اتقیاء اور اپنے رب کی…
Read the full tafseer →[اِنَّ : یقینا ] [اللّٰہَ : اللہ نے ] [اصْطَفٰٓی : چن لیا ] [اٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کو ] [وَنُوْحًا : اور نوح (علیہ السلام) کو ] [وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ : اور ابراہیم (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو ] [وَاٰلَ عِمْرٰنَ : اور عمران کے پیروکاروں کو ] [عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہان (والوں ) پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
اگر اللہ سے محبت ہے تو رسول اللہ کا اتباع کرو
ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع اور اطاعت کا حکم دیا ہے، اطاعت فرمانبر داری اور حکم ماننے کو کہتے ہیں اور اتباع اپنے مقتدا کے پیچھے چلنے اور اس کی راہ اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ جتنی بھی مذہبی قومیں ہیں وہ اللہ کو مانتی ہیں (اگرچہ ماننے کے طریقے مختلف ہیں) اور انہیں یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء ﷺ سے اپنی کتاب میں یہ اعلان کروا دیا کہ محبت صرف دعویٰ کرنے کی چیز نہیں اس کا ایک معیار ہے اور وہ محبت معتبر ہے جو محبوب کی مرضی کے مطابق ہو اس محبت کا معیار جو اللہ کے نزدیک معتبر ہے یہ ہے کہ حضرت خاتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ذکر اصطفا بعض برگزیدگان خداوند نام علیھم الصلوۃ والسلام
قال تعالی، ان اللہ اصطفی۔۔۔ الی۔۔۔ سمیع علیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے معیار کا بیان تھا اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے چند برگزیدہ بندوں کا ذکر فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی محب اور محبوب تھے تاکہ ان کے حالات اور واقعات سن کر ان کے اتباع اور محبت کا شوق دل میں پیدا ہوا اور یہ سمجھ لیں کہ حق تعالیٰ سے تعلق اور محبت بدون ان حضرات کی اتباع اور پیروی کے ناممکن ہے اور ان چند محبین اور محبوبین خدا کا ذکر خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ کے ذکر مبارک کی تمہید ہے جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا بہرحال مقصود اس تذکرہ سے یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
44:۔ یہ فَاِنَّ اللہَ لَایُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ تک تخویف علی سبیل الترقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےحضور ﷺ کو حکم دیا ہے آپ مسلمانوں سے کہہ دیں کہ کافروں سے دوستی مت کرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کو اپنی محبت کا مرکز بناؤ اور اللہ کی محبت کی علامت یہ ہے کہ اللہ کے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کا اتباع کرو اگر پیغمبر کی اطاعت سے روگردانی کروگے تو اسلام سے خارج ہو کر کافروں میں شامل ہوجاؤ گے اور کافروں کا انجام سب سے بد تر ہوگا۔ یُحْبِبْکُمُ اللہُ ۔ یہ امر کا جواب ہے۔ یعنی جب تم میری اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوجائے گا اور تم سے محبت کرے گا۔ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ، یہ یُحْبِبْکُمْ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا معیار بیان فرمایا پھر حضور ﷺ کی محبت اور اس کے جواب میں آپ کے اتباع کو معیار قرار دیا۔ گویا اللہ تعالیٰ کی محبوبیت حاصل کرنے کے لیے حضور ﷺ کا اتباع اختیار کرنے کی ترغیب دلائی۔ اتباعِ رسول ہی دین اور مذہب کا بنیادی اصلو ہے۔ سورة بقرہ میں روئے سخن یہود کی طرف تھا ، اور سورة آل عمران میں نصاری کی اصلاح کا پہلو غالب ہے۔ گذشتہ سورة میں یہودیوں کی چالیس خرابیوں کا تذکرہ کرکے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرمائی اور انہیں اصلاح کی طرف متوجہ کیا۔ اب اس سورة میں نصاری کی اصلاح مطلوب ہے۔ تاہم ابتدائے سورة میں توحید کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ بہرحال نصاری…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ اصْطَفٰٓي اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ 33 ۙ
اصْطِفَاءُ
: تناولُ صَفْوِ الشیءِ ، كما أنّ الاختیار : تناول خيره، والاجتباء : تناول جبایته .
واصْطِفَاءُ اللهِ بعضَ عباده قد يكون بإيجاده تعالیٰ إيّاه صَافِياً عن الشّوب الموجود في غيره، وقد يكون باختیاره وبحکمه وإن لم يتعرّ ذلک من الأوّل، قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ [ الحج/ 75]
الاصطفا ء
کے معنی صاف اور خالص چیز لے لینا کے ہیں جیسا کہ اختیار کے معنی بہتر چیز لے لینا آتے ہیں اور الا جتباء کے معنی جبایتہ یعنی عمدہ چیا منتخب کرلینا آتے ہیں ۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ترکیب : ان کنتم تحبون اللّٰہ شرط فاتبعونی جواب شرط ‘ یحببکم اور یغفرلکم مجذوم میں اتبعوا امر کے جواب میں آکر ذریۃ منصوب ہے یا اس وجہ سے کہ یہ بدل ہے نوحا وما عطف علیہ سے اور ممکن ہے کہ ان اسماء سے حال بھی ہو اور عامل اس میں اصطفی ہو۔ بعضہا مبتداء من بعض خبر یہ جملہ موضع نصب میں ہے کیونکہ صفت ہے ذریۃ کی۔
تفسیر : جب توحید ثابت کردی گئی تو مشرکین کے پاس بجز اس کے اور کوئی حیلہ نہ رہا کہ ہم ان کو اللہ کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔ مقصود خدا اور اس کی محبت ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر تم کو اللہ سے محبت ہے تو اس کے رسول کے کہنے پر چلو۔ اس نادیدہ خدا کی محبت کے وہی عمدہ طریق بتا سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ لا ذُرِّیَّۃً م بَّـعْـضُہَا مِنْ م بَـعْـضٍ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ ج
(بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور خاندانِ ابراہیم اور خاندانِ عمران کو سارے دنیا جہان پر برگزیدہ کیا ہے، یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور اللہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے) (33، 34)
اس سے پہلے کی آیت پر سورة آل عمران کی تمہید ختم ہوگئی جس میں اللہ کی توحید، دین اسلام اور اس کی مبادیات، انسانوں کے لیے وحی الٰہی کی رہنمائی کی ضرورت، اہل کتاب میں پیدا ہونے والے اختلافات کا حل ہے۔ مضامین کو دلائل وبراہین سے ثابت کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
فہم القرآن
ربط کلام : یہاں سے خطاب کا رخ عیسائیوں کی طرف کیا جارہا ہے۔ جس کی ابتدا حضرت آدم، حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی حالات سے کی گئی ہے کہ یہ سب انسان تھے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کس طرح خدا بن گئے ؟
عیسائیوں کے نظریات کی اصلاح، حضرت عیسیٰ اور مریم ( علیہ السلام) کے بارے میں ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے سے پہلے دنیا کی عظیم ترین شخصیات کا اس لیے حوالہ دیا جارہا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے کلمہ اور محبوب پیغمبر ہیں ‘ مگر ان شخصیات سے عظیم تر نہیں بلکہ وہ انہی کے روحانی اور نسبی فرزند ہیں۔ چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا خاندانی پس منظر اس…
Read the full tafseer →33: اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی ٰادَمَ وَنُوْحًا وَّ ٰالَ اِبْرٰھِیْمَ وَ ٰالَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (بےشک اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے آدم کو اور نوح ( علیہ السلام) کو اور ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد کو اور عمران کی اولاد کو تمام جہان والوں پر) بیشک اللہ تعالیٰ نے چنا آدم ( علیہ السلام) کو جو ابوالبشر ہیں اور نوح ( علیہ السلام) جو شیخ المرسلین ہیں۔ اور آل ابراہیم سے مراد اسماعیل و اسحاق (علیہما السلام) اور ان دونوں کی اولاد ہے۔
آل عمران کی مراد :
آل عمران سے موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) جو دونوں عمران بن یصہر کے بیٹے تھے اور دوسرا قول یہ بھی نقل کیا گیا کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) اور…
Read the full tafseer →(شان نزول)
(تفسیر) 33۔:
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں یہود کہتے ہیں کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں اور ہم انہی کے دین پر ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام کے لیے چن لیا اور تم دین اسلام پر نہیں ہو ، اصطفی ، اختار کی طرح ہے باب افتعال سے صفوۃ سے مصدر ہے اس کا معنی ہے خالص ، آدم (علیہ السلام) تمام مخلوقات کے باپ ہیں اور نوح (علیہ السلام) بھی (وال ابراھیم ۔۔۔۔۔۔۔ عمران اور ابراہیم و عمران کی اولاد)
(ال ابراہیم اور ال عمران کی وضاحت)
” الی ابراھیم و عمران “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(33 ۔ 34) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ کے رسول کی اطاعت کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے اس آیت میں رسولوں کے انتخاب کا سلسلہ بیان فرمایا پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا۔ اور جن سے سب انبیاء اور امتوں کا سلسلہ چلا۔ لیکن آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے تک کوئی حرام حلال کی شریعت نہیں تھی۔ چناچہ شفاعت کی صحیح حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اول صاحب شریعت نبی فرمایا ہے 1۔ اس لئے سلسلہ انبیاء کے دوسرے اور صاحب شریعت انبیا کے اول منتخب نبی حضرت نوح (علیہ السلام) اور تیسرے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن کی وہ شاخیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
آیت 33-37
اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ اولیاء، اصفیاء، اور انبیاء کے منتخب افراد ہونے کا ذکر فرماتا ہے کہ اللہ نے آدم کا انتخاب فرمایا۔ انہیں تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا فرمایا۔ انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کر کے ان میں روح ڈالی، فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، انہیں جنت میں ٹھہرایا۔ انہیں ایسا علم، حلم اور شرف عطا فرمایا جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات سے افضل قرار پائے۔ اس لئے ان کی اولاد بھی افضل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (ولقد کرمنا بنی ادم وحملنھم فی البروالبحر ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفصیلاً “ (بنی اسرائیل :80/18) ” یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی، اور انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ال اور اہل ایک ہی چیز ہیں
قول باری ہے (وال ابراھیم وآل عمران آل ابراہیم اور آل عمران کو) حضرت ابن عباس اور حسن بصری سے مروی ہے کہ آل ابراہیم وہ اہل ایمان ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر قائم ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آل عمران سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اس لیئے کہ وہ حضرت مریم کے بیٹے ہیں۔ جو عمران کی بیٹی تھیں۔ ایک قول ہے کہ آل عمران سے مراد آل ابراہیم ہی ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (ذریۃ بعضھا من بعض، یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے جو ایک نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ ) ان سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ہیں جو عمران کے بیٹے تھے۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک لفظ آل اور لفظ اہل بیت دونوں کا مفہوم…
Read the full tafseer →75 اصطفائ خداوندی اور اس کا تقاضا : سو اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی کچھ چنی ہوئی ہستیوں کا ذکر فرمایا گیا اور ان کی عظمت شان کے مقتضیٰ کو واضح فرمایا گیا ہے۔ سو ان حضرات کو اس نے سب جہانوں پر چن لیا۔ یہاں تک کہ فرشتوں پر بھی کہ " عالمین " میں وہ بھی داخل اور شامل ہیں۔ (جامع البیان، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور یہ اس لئے کہ ان حضرات کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے ایسے ایسے خصائص و مزایا سے نوازا تھا، جو اور کسی کے حصے میں نہیں آئے۔ مثلًا حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) کو حق تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے (یعنی خاص اہتمام کے ساتھ) تخلیق فرمایا، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے { خَلَقْتُہٗ بِیَدَیَّ } (صٓ۔ 75) پھر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
انبیائے کرام کا سلسلہ
تشریح : یہاں سے دوسرا خطبہ شروع ہوتا ہے۔ اس کے نزول کا زمانہ 9 ھ ہے۔ ان آیات میں انبیاء کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ کیونکہ رب العزت بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ ہر بات کو بخوبی سننے والا اور حقیقت حال کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اس لئے اس نے اپنے بہترین بندوں میں سے ان بندوں کا انتخاب کیا کہ جو لوگوں کے حق میں بہترین بن سکتے تھے۔ لہٰذا سب سے پہلے دنیا تخلیق کی اور پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا جو کہ روحانی اور جسمانی خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ ان کو علم و حکمت عطا کیا جس کی وجہ سے ان کو سربلندی عطا کی اور فرشتوں سے ان کو سجدہ کروایا اور پھر آدم (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
آیات 31- 41
اسرارو معارف
قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔
رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔
محبت ، محب اور محبوب :
اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…
Read the full tafseer →ف 4 اوپر کی آیات میں آنحضرت ﷺ کی اتباع کا حکم دیا ہے اور اب اس آیت میں آپ کی رسالت کے اثبات کے سلسلہ میں فرمایا رہا ہے کہ آّنحضرت ﷺ کا تعلق بھی اس خاندان نبوت سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے۔ (شوکانی) عمران نام کی دو سخصتیں گذری ہیں ایک موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارو ( علیہ السلام) کے والد اور دسرے حضرت مریم ؓ کے والد اکثر مفسرین (رح) نے یہاں عمران ثانی مراد لیا ہے کیونکہ انہی کی آل۔ حضڑت مریم ( علیہ السلام) و عیسیٰ ( علیہ السلام) ۔ کا قصہ بیان کیا جا ہا ہے۔ (ابن کثیر۔ کثیر) غالبا اس سورة کا نام آل عمران اسی قصہ پر رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(3:33) اصطفی۔ اصطفاء (افتعال) سے ماضی۔ واحد مذکر غائب اس نے چن لیا۔ اس نے پسند کرلیا۔ صفو سے باب افتعال میں ت کو ط سے اور واؤ کو ی سے بدل کر اصطفی ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا کسی بندہ کو چن لینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 41
اصطفی (اس نے چن لیا، منتخب کرلیا) انی نذرت (بےشک میں نے منت مان لی) بطنی (میرا پیٹ) محرر (آزاد) وصعت (اس نے جنم دیا (پیدا کیا) انثیٰ (عورت ، لڑکی) سمیت (میں نے نام رکھ دیا) مریم (پاک باز، نیک) اعیذ (میں نے پناہ میں دے دیا) بقول حسن (بہترین طریقے پر قبول کرنا) انب تھا (اس نے اس کو پروان چڑھایا) کفل (وہ ذمہ دار ہوا) المحراب (عبادت کی جگہ، نماز پڑھنے کی جگہ) انی لک ھٰذا (یہ تیرے پاس کہاں سے آیا) ھنالک (اسی جگہ، اسی موقع پر) دعا (پکارا، دعا کی) ھب لی (مجھے عطا فرمادیجئے) ذریة طیبة (بہترین اولاد) سمیع الدعاء (دعا کا سننے والا) نادت (آواز دی) یصلی (وہ نماز پڑھتا ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
اس آیت میں رسولوں کے انتخاب کا سلسلہ بیان فرمایا۔ پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے جن سے سب انبیاء اور امتوں کا سلسلہ دنیا میں چلا۔ لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے تک کوئی حرام و حلال کی شریعت نہیں تھی۔ چناچہ شفاعت کی صحیح حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اول صاحب شریعت نبی فرمایا، دوسرے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن دو شاخیں ایک شاخ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی جس میں بنی اسرائیل ہیں اور ان میں آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک رہی اور دوسری شاخ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی جس میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور اس آیت میں عمران کے ذکر کے…
Read the full tafseer →[41] عمران نام کی تاریخی شخصیتیں دو گزری ہیں، ایک موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ماجد، دوسرے ان کے کئی صدیوں بعد مریم (علیہ السلام) کے والد ماجد، یہاں بلحاظ سیاق وسباق ترجیح عمران ثانی کو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
تین قصے :
(ف 1) رسالت مآب حضور ﷺ کی نبوت پر یہودیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ اسرائیل نہیں اور اللہ تعالیٰ نے کیوں بنی اسرئایل اسمعیل سے حضور ﷺ کو نبوت کے عہدہ جلیلہ کے لئے منتخب کیا ، یہودی چونکہ حد درجہ ظاہر پرست تھے ، اس لئے وہ اس خرق عادت کو باور نہ کرسکے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے ذیل میں تین قصے بیان کئے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مصالح کو کوئی نہیں جانتا اور اس قسم ونوع کے خوارق اکثر پیش آتے رہتے ہیں اور یہ کہ خود یہودی ان واقعات کو تسلیم کرتے ہیں ، اس لئے چاہئے کہ وہ حضور ﷺ کا سلسلہ اسماعیلیہ میں ہونا بھی قابل اعتراض نہ سمجھیں ، نبوت اللہ کی دین ہے ، جب تک اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 2۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے یہ بھی فرما دیجئے کہ تم اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو پھر اگر یہ لوگ اس سے اعراض کریں اور روگردانی کے مرتکب ہوں تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا اور ایسے منکروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ ( تیسیر)
حدیث میں آتا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی ۔ مگر جس نے انکار کیا ، لوگوں نے دریافت کیا وہ انکار کرنے والے کون لوگ ہیں ۔ آپ نے فرمایا جس نے میرا کہامانا اور میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے نافرمانی کی اس نے انکار کیا ۔ دوسری روایت میں ہے جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ف 1۔ اگر یہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت ومسی (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ہیں اور اگر یہ عمران حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ نے جن لوگوں کو برگزیدگی عطا فرمائی تھی ان کا ذکر
85: سلسلہ انسان کی اور نبوت کی پہلی کڑی سیدنا آدم (علیہ السلام) اور سلسلہ نبوت کی آخری کڑی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کا مفصل تذکرہ سورة البقرہ میں گزر چکا وہاں سے ملاحظہ کرلیاجائے۔ یہ وہی بزرگ ہیں جو ” باوا آدم “ کے نام سے معروف ہیں۔
سیدنا نوح (علیہ السلام) بھی ایک عظیم الشان نبی گزرے ہیں اور آدم (علیہ السلام) کے بعد نبوت سید نوح (علیہ السلام) ہی کی ذریت کے ساتھ خاص کردی گئی تھی جن کی پیدائش بائبل کے بیان کے مطابق تین ہزار سا قبل مسیح بیان کی گئی ہے لیکن نئے مفسرین بائبل اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
In these verses a reference has been made to some past prophets to comfort the Holy Prophet ﷺ since disbelievers did not obey him because they doubted his prophethood. It is for their guidance that names of some past prophets have been cited to help remove such doubts. However, these prophets have been referred to very briefly as the main purpose is to mention Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) which follows immediately because he will come again to this world and will work with the followers of the Holy Prophet ﷺ ، therefore, it is necessary for the Muslims to know his identification.
Read the full tafseer →29. This marks the beginning of the second discourse. The period of its revelation is about 9 A.H., when a delegation from the Christian republic of Najran visited the Prophet. Najran lies between the Hijaz and Yaman, and comprised, at that time, seventy-three towns and villages. Its population can be gauged from the fact that an estimated one hundred and twenty thousand men could bear arms. The entire population was Christian and was under the hegemony of three Christian chiefs. The first of these, 'aqib, was the head of the community. The second, sayyid, looked after the collective and…
Read the full tafseer →