Explained with ayahs 31–32
جھوٹا دعویٰ
اس آیت نے فیصلہ کردیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی ﷺ کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمدیہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے، اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والا بن جائے گا۔ جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔ غرض اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سورة اٰلِ عِمْرٰن 28
یہاں پہلی تقریر ختم ہوتی ہے۔ اس کے مضمون، خصوصاً جنگ بدر کی طرف جو اشارہ اس میں کیا گیا ہے، اس کے انداز پر غور کرنے سے غالب قیاس یہی ہوتا ہے کہ اس تقریر کے نزول کا زمانہ جنگ بدر کے بعد اور جنگ احد سے پہلے کا ہے، یعنی سن 3 ہجری۔ محمد بن اسحاق کی روایت سے عموماً لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ اس سورت کی ابتدائی 80 آیتیں وفد نجران کی آمد کے موقع پر سن 9 ہجری میں نازل ہوئی تھیں۔ لیکن اول تو اس تمہیدی تقریر کا مضمون صاف بتارہا ہے کہ یہ اس سے بہت پہلے نازل ہوئی ہوگی، دوسرے مقاتل بن سلیمان کی روایت میں تصریح ہے کہ وفد نجران کی آمد پر صرف وہ آیات نازل ہوئی ہیں جو حضرت یحییٰ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
خلاصہ تفسیر
ربط آیات
پچھلی آیات میں توحید کا وجود اور کفر کی مذمت مذکور تھی، آگے اعتقاد رسالت اور اتباع رسول کا وجوب بیان فرماتے ہیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس طرح انکار توحید کفر ہے اسی طرح انکار رسالت بھی کفر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے
آپ (لوگوں سے) فرما دیجیے کہ اگر تم (بزعم خود) خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو (اور محبت رکھنے کی وجہ سے یہ بھی چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے) تو تم لوگ (اس مقصد کے حاصل کرنے کے طریقوں میں) میرا اتباع کرو (کیونکہ میں خاص اسی تعلیم کے لئے مبعوث ہوا ہوں جب ایسا کرو گے) خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کردیں گے (کیونکہ میں اس معافی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
تفسیر آیت 31-32 اہل ایمان کے لیے صحیح روش : یہ ان مذبذب قسم کے مسلمانوں کو اس صحیح رویے کی تعلیم دی گئی ہے جو سچے مسلم کی حیثیت سے انہیں اختیار کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ اگر تم اللہ کے ساتھ محبت رکھنے کے مدعی ہو تو اس محبت کے ساتھ ان لوگوں کی محبت جمع نہیں ہوسکتی جو اللہ کے، اس کی کتاب کے اور اس کے دین کے دشمن ہیں بلکہ اس کا راستہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی پیروی کرو۔ اگر تم رسول کی پیروی کرو گے تو یہی راستہ اللہ سے محبت کرنے کا ہے اور اس کا انعام یہ ہے کہ اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور اب تک تم سے جو غلطیاں اور کمزوریاں صادر ہوئی ہیں ان کو معاف فرما دے گا۔ اللہ غفور رحیم ہے۔ اس کے بعد نہایت واضح…
Read the full tafseer →32۔ 1 اس آیت میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول ﷺ کی پھر تاکید کر کے واضح کردیا کہ اب نجات اگر ہے تو صرف اطاعت محمدی میں ہے اور اس سے انحراف کفر ہے اور ایسے کافروں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا چاہے وہ اللہ کی محبت اور قرب کے کتنے ہی دعوے دار ہوں۔ اس آیت میں پیروی رسول ﷺ سے گریز کرنے والوں کے لئے سخت وعید ہے کیونکہ دونوں ہی اپنے اپنے انداز سے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جسے یہاں کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
10: آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 176:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ ؑ کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ آرہا ہے۔ اس لیے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم (علیہا السلام) ہی کے والد مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اللہ کی محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے اور نہ کوئی وہ وجدانی امر ہے۔ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اتباع ضروری ہے ۔ آپ کی سیرت اور نقش قدم پر چلنا ضروری ہے ۔ اپنی زندگی میں اسلامی نظام رائج کرنا ضروری ہے ۔ ایمان صرف چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں ہے ۔ نہ یہ شعور اور جذبات سے عبارت ہے ۔ نہ وہ صرف چند شعائر کے قیام کا نام ہے ۔ بلکہ ایمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے ۔ اور اس منہاج پر عمل کا نام جس کے حامل رسول اللہ ہیں ۔
پہلی آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں ” یہ آیت ہر اس شخص کے کیس کا فیصلہ کردیتی ہے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کا سلوک طریقہ محمدیہ پر نہیں ہے ۔ یہ…
Read the full tafseer →6 یہود و نصاریٰ کہتے تھے (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ) 5 ۔ المائدہ :18) ، (ہم خدا کے بیٹے اور محبوب ہیں) یہاں بتلا دیا گیا کہ کافر کبھی خدا کا محبوب نہیں ہوسکتا۔ اگر واقعی محبوب بننا چاہتے ہو تو اسکے احکام کی تعمیل کرو، پیغمبر ﷺ کا کہا مانو اور خدا کے سب سے بڑے محبوب کے نقش قدم پر چلے آؤ۔ وفد نجران نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم مسیح کی تعظیم و عبادت اللہ کی محبت و تعظیم کے لئے کرتے ہیں، اس کا بھی جواب ہوگیا۔ آگے خدا تعالیٰ کے چند محب و محبوب بندوں کا حال سنایا گیا اور وفد نجران کی رعایت سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی سوانح زیادہ شرح و بسط کے ساتھ بیان کی گئی ہے، جو تمہید ہے خاتم…
Read the full tafseer →آیت 32 قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ ج فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ
یہ دو آیتیں اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ ان میں رسول اللہ ﷺ کے لیے دو الفاظ آئے ہیں اطاعت اور اتباع۔ اطاعت اگر نہیں ہے تو یہ کفر ہے۔ چناچہ اطاعت تو لازم ہے اور وہ بھی دلی آمادگی سے ‘ مارے باندھے کی اطاعت نہیں۔ لیکن اطاعت کس چیز میں ہوتی ہے ؟ جو حکم دیا گیا ہے کہ یہ کرو وہ آپ کو کرنا ہے۔ اتباع اس سے بلند تر شے ہے۔ انسان خود تلاش کرے کہ آنحضور ﷺ کے اعمال کیا تھے اور ان پر عمل پیرا ہوجائے ‘ خواہ آپ ﷺ نے ان کا حکم نہ دیا ہو۔ گویا اتباع کا دائرہ اطاعت سے وسیع تر ہے۔ انسان کو جس کسی سے محبت…
Read the full tafseer →34 اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ کی محبت کا دم بھرتے ہیں مگر اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتے وہ سب کافر ہیں۔ اس آیت کے مخاطب اہل کتاب اور کفار و مشرکین ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی ہیں کیونکہ مسلمانوں میں بھی ایک فرقہ ایسا پیدا ہوچکا ہے جو صرف قرآن ہی کو ہدایت کے لیے کافی سمجھتا ہے۔ رہا قرآن پر عمل کرکے دکھانے کا وہ طریقہ جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو دکھلایا تھا۔ یہ لوگ اس سے مستغنی ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن پر ہر دور کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جانا چاہئے اور کیا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ بھی اس آیت کی رو سے کافر ہیں۔ خواہ وہ خود کو مسلمان کہلوانے پر کتنے ہی مصر ہوں۔ اسی طرح جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی…
Read the full tafseer →84 ۔ خطاب عامہ ناس سے پیغمبر کے واسطہ سے ہے۔ (آیت) ” اطیعوا اللہ “۔ اللہ کی اطاعت اصالۃ اور بہ طور مقصود کے ہے (آیت) ” والرسول “۔ رسول کی اطاعت تبعا ونیابۃ ہے بہ طور آلہ وواسطہ کے۔ یعنی اس حیثیت سے کہ پیغمبر اللہ ہی کا پیغام لے کر آتا ہے۔
85 ۔ (اور یہ لوگ کافر ہی تو ہیں جو اطاعت رسول سے منہ موڑے ہوئے ہیں خواہ محبت الہی کے جیسے ہی دعوے ان کی زبانوں پر ہوں) (آیت) ” فان تولوا “ یعنی ایسے صاف وصریح حکم کے ماننے سے انکار کریں۔
Read the full tafseer →قُلْ اَطِیْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ ، (الآیۃ) اس آیت میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اطاعت رسول کی بھی تاکید کرکے واضح کردیا کہ اب نجات اگر ہے تو صرف اطاعت محمدی میں ہے اور اس سے انحراف کفر ہے اور ایسے کافروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا چاہے وہ اللہ کی محبت اور قرب کے کتنے ہی دعویدار کیوں نہ ہوں۔
Read the full tafseer →قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ : آپ کہہ دیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ یعنی اللہ اور رسول کی اطاعت ایک ہی ہے رسول کی حیثیت سے رسول کی اطاعت بعینہٖ اللہ کی اطاعت ہے اسی لیے رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ میری سب امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ (امت میں ہوتے ہوئے) انکار کون کرسکتا ہے۔ فرمایا : جس نے میرا کہا مانا وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو اس نے انکار کیا۔ (متفق علیہ) دیکھو اس حدیث میں رسول اللہ نے جنت کے داخلہ کو اپنی اطاعت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ دوسری حدیث میں فرمایا : جس نے محمد کی اطاعت کی اس نے اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(32۔ 33۔ 34) تو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت نازل فرمائی کہ تم فرائض و واجبات میں اطاعت کرو اور اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرتے ہو تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ یہودیوں اور کافروں سے محبت نہیں فرماتے، جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو یہودی بولے کہ ہم تو آدم ؑ کے دین پر ہیں اور مسلمان ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ اور اولاد ابراہیم موسیٰ ؑ و ہارون ؑ کو اسلام کی وجہ سے تمام جہان والوں پر فضیلت عطا کی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران سے حضرت موسیٰ ؑ کے والد مراد نہیں۔
یہ ایک دوسرے کے دین پر ہیں اور بعض ان میں سے بعض کی اولاد ہیں اور اللہ…
Read the full tafseer →قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۚ: پچھلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع کا حکم تھا جس کا معنی آپ کے نقش قدم پر چلنا، آپ کی پیروی کرنا ہے، اگرچہ اتباع میں حکم ماننا بھی آجاتا ہے مگر اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا خاص طور پر الگ ذکر فرمایا، جس کا معنی حکم ماننا ہے۔ آگے فرمایا کہ اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ ایسے کافروں سے محبت نہیں رکھتا۔ یہاں بات صاف سمجھ میں آرہی ہے کہ بات مختصر کردی گئی ہے، جو اس طرح تھی کہ اگر وہ منہ پھیر لیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ایسے کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ ”ُ الْكٰفِرِيْنَ“ میں الف لام عہد کا ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”ایسے کافروں“ کیا گیا ہے۔
اس آیت میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 32۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” قل اطیعوا اللہ والرسول “۔ اس کا بیان سورة النساء میں آئے گا۔
(آیت) ’ فان تولوا “۔ یہ شرط ہے، مگر چونکہ یہ ماضی ہے اسے اعراب نہیں دیا جاسکتا (یعنی یہ معرب نہیں ہے) اور تقدیر کلام یہ ہے فان تولوا علی کفرھم واعرضوا عن طاعۃ اللہ ورسولہ “۔ (اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول معظم ﷺ کی اطاعت سے اعراض کرلیں) (آیت) ” فان اللہ لا یحب الکفرین “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے فعل کو پسند نہیں کرتا اور وہ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، اور فرمایا : فان اللہ “ یہ نہیں کہا : فانہ کیونکہ عرب جب کسی شے کی عظمت بیان کرتے تو اس کے ذکر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(1) ابن جریر، ابن المنذر ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وال ابراہیم وال عمران “ سے مراد آل عمران آل یاسین اور آل محمد ﷺ میں سے ایمان والے۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو نیک گھر والوں اور دو نیک آدمیوں کا ذکر فرمایا اور ان کو جہان والوں پر فضیلت دی اور محمد ﷺ آل ابراہیم میں سے تھے۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سارے لوگوں پر اور سارے جہاں والوں پر نبوت کے ساتھ فضیلت دی وہ انبیاء اتقیاء اور اپنے رب کی…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہیے ] [اَطِیْعُوا : تم لوگ اطاعت کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کی ] [وَالرَّسُوْلَ : اور رسول ﷺ ‘ کی ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [تَوَلَّوْا : تم لوگ روگردانی کرو گے ] [فَاِنَّ : تو یقینا ] [اللّٰہَ : اللہ ] [لاَ یُحِبُّ : محبت نہیں کرتا ] [الْکٰفِرِیْنَ : انکار کرنے والوں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
اگر اللہ سے محبت ہے تو رسول اللہ کا اتباع کرو
ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع اور اطاعت کا حکم دیا ہے، اطاعت فرمانبر داری اور حکم ماننے کو کہتے ہیں اور اتباع اپنے مقتدا کے پیچھے چلنے اور اس کی راہ اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ جتنی بھی مذہبی قومیں ہیں وہ اللہ کو مانتی ہیں (اگرچہ ماننے کے طریقے مختلف ہیں) اور انہیں یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء ﷺ سے اپنی کتاب میں یہ اعلان کروا دیا کہ محبت صرف دعویٰ کرنے کی چیز نہیں اس کا ایک معیار ہے اور وہ محبت معتبر ہے جو محبوب کی مرضی کے مطابق ہو اس محبت کا معیار جو اللہ کے نزدیک معتبر ہے یہ ہے کہ حضرت خاتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آغاز مضمون رسالت۔
وبیان آنکہ معیار محبت خداوندی اتباع رسول است۔
قال تعالی، قل ان کنتم تحبون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ الکافرین۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں یہود اور نصاری سے موالات کا حکم مذکور تھا اب ان آیات میں یہود اور نصاری کے اس قول کی طرف تعریض ہے کہ جو یہ کہا کرتے تھے کہ ہم اللہ کے دوست ہیں، نحن ابناء اللہ واحباء ہ۔ ان آیات میں حق جل شانہ نے ان کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا کہ تم اللہ کی محبت اور دوستی کے دعوے دار ہو تو ہمارے نبی کا اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا یعنی اگر تم ہمارے نبی کا اتباع کرو گے تو اس کا صلہ یہ ملے گا کہ اللہ تعالیٰ تم کو محبین کے درجہ سے محبوبین کے درجہ تک پہنچا دے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
44:۔ یہ فَاِنَّ اللہَ لَایُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ تک تخویف علی سبیل الترقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نےحضور ﷺ کو حکم دیا ہے آپ مسلمانوں سے کہہ دیں کہ کافروں سے دوستی مت کرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کو اپنی محبت کا مرکز بناؤ اور اللہ کی محبت کی علامت یہ ہے کہ اللہ کے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کا اتباع کرو اگر پیغمبر کی اطاعت سے روگردانی کروگے تو اسلام سے خارج ہو کر کافروں میں شامل ہوجاؤ گے اور کافروں کا انجام سب سے بد تر ہوگا۔ یُحْبِبْکُمُ اللہُ ۔ یہ امر کا جواب ہے۔ یعنی جب تم میری اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوجائے گا اور تم سے محبت کرے گا۔ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ، یہ یُحْبِبْکُمْ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر کا رد فرمایا اور توحید پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا قانون بتلایا۔ اب ان آیات میں ایمان بالرسالت کا تذکرہ ہے۔ جس طرح اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اور اس سے انکار بمنزلہ کفر ہے۔ اسی طرح رسول کی رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جس طرح اللہ کی اطاعت فرض ہے ، اسی طرح رسول کی تابعداری بھی ضروری ہے۔
دعوی محبت :
نزولِ قرآن کے زمانے میں مشرکین عرب یہود اور نصاری محبت الٰہی کا دعوی کرتے تھے۔ جب مشرکین سے کہا جاتا کہ تم شرک کیوں کرتے ہو ، تو جواب دیتے ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی۔ ہم ان معبودوں کی عبادت…
Read the full tafseer →قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ 0 ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ 32
طوع
الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ
قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ترکیب : ان کنتم تحبون اللّٰہ شرط فاتبعونی جواب شرط ‘ یحببکم اور یغفرلکم مجذوم میں اتبعوا امر کے جواب میں آکر ذریۃ منصوب ہے یا اس وجہ سے کہ یہ بدل ہے نوحا وما عطف علیہ سے اور ممکن ہے کہ ان اسماء سے حال بھی ہو اور عامل اس میں اصطفی ہو۔ بعضہا مبتداء من بعض خبر یہ جملہ موضع نصب میں ہے کیونکہ صفت ہے ذریۃ کی۔
تفسیر : جب توحید ثابت کردی گئی تو مشرکین کے پاس بجز اس کے اور کوئی حیلہ نہ رہا کہ ہم ان کو اللہ کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔ مقصود خدا اور اس کی محبت ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر تم کو اللہ سے محبت ہے تو اس کے رسول کے کہنے پر چلو۔ اس نادیدہ خدا کی محبت کے وہی عمدہ طریق بتا سکتا…
Read the full tafseer →قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ ج فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْـکٰفِرِیْنَ ۔
(کہہ دیجیے کہ اللہ کی اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ اعراض کریں (تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا) (32)
اطاعت احکام کی ہوتی ہے اور اتباع احکام سے لے کر ادائوں تک کا ہوتا ہے۔ مآل کا ردونوں ایک ہوجاتے ہیں۔ پہلی آیت کریمہ میں نہایت نرم روی بلکہ ازراہِ تلطف اتباع کی دعوت دی گئی اور ساتھ ہی نوازشات کی خبر بھی دے دی گئی۔ لیکن اس آیت کریمہ میں لہجہ بدل کر حاکمانہ اسلوب میں حکم دیاجا رہا ہے کہ تمہیں بہرصورت اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرنا ہے۔ یہاں سے اسلام کا آغاز ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
فہم القرآن
ربط کلام : یہاں سے خطاب کا رخ عیسائیوں کی طرف کیا جارہا ہے۔ جس کی ابتدا حضرت آدم، حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی حالات سے کی گئی ہے کہ یہ سب انسان تھے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کس طرح خدا بن گئے ؟
عیسائیوں کے نظریات کی اصلاح، حضرت عیسیٰ اور مریم ( علیہ السلام) کے بارے میں ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے سے پہلے دنیا کی عظیم ترین شخصیات کا اس لیے حوالہ دیا جارہا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے کلمہ اور محبوب پیغمبر ہیں ‘ مگر ان شخصیات سے عظیم تر نہیں بلکہ وہ انہی کے روحانی اور نسبی فرزند ہیں۔ چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا خاندانی پس منظر اس…
Read the full tafseer →32: قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (اے محمد ﷺ کہہ دیں تم اطاعت کرو اللہ تعالیٰ اور رسول کی۔ پس اگر منہ موڑ لیں یعنی اطاعت قبول کرنے سے اعراض کریں) تَوَلَّوْا میں مضارع کے صیغہ بننے کا احتمال بھی ہے یعنی اِنْ تتولوا۔ ( اگر تم منہ موڑ لو) ۔ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْکَافِرِیْنَ ۔ ( پس اللہ ناشکروں کو پسند نہیں کرتے ) ۔ یعنی ان سے محبت نہیں کرتے) ۔
Read the full tafseer →32۔ (قل ان کنتم) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا ہر امتی جنت میں جائے گا سوائے اس کے جس نے انکار کیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے فرمایا کہ کون انکار کرے گا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا ،
(من اطاعنی فقد اطاع اللہ)
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس فرشتے آئے ، جب آپ ﷺ سو رہے تھے ، بعض فرشتوں نے بعض سے کہا کہ آپ ﷺ سو رہے ہیں بعض نے کہا کہ آپ ﷺ کی آنکھ سوتی ہے دل نہیں سوتا ، فرشتے کہنے لگے کہ ان کی مثال بیان کرو تو انہوں نے مثال بیان کی…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت جب نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے اس کا حکم لوگوں کو سنا دیا کہ اللہ کی محبت بدوں فرماں برداری رسول کے حاصل نہیں ہوسکتی تو عبد اللہ بن ابی منافق نے لوگوں کو بہکانا شروع کیا کہ جس طرح نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے ہیں اسی طرح محمد ﷺ بھی تم لوگوں سے اپنے آپ کو منوانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان سے وہ محبت کریں جو نصاریٰ حضرت عیسیٰ سے کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ ٹکڑا آیت کا نازل فرمایا 2۔ اور فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو دنیا میں اسی واسطے بھیجا ہے کہ وہ تم کو اللہ کی مرضی اور نامرضی کی باتیں بتلائیں اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم تم پر جو ْآتے ہیں وہ تم…
Read the full tafseer →آیت 32
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سب سے جامع حکم صادر فرمایا ہے۔ وہ ہے اس کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت۔ اس میں ایمان اور توحید بھی شامل ہے اور اس کی شاخیں یعنی ظاہری اور باطنی اقوال و افعال بھی بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے پرہیز بھی شامل ہے۔ کیونکہ گناہ سے پرہیز اللہ کے حکم کی تعمیل ہے، یعنی اس کی اطاعت میں شامل ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرنے والے ہی کامیاب ہیں۔ (فان تولوا) ” پس اگر یہ منہ پھیر لیں “ یعنی اللہ کی، اور اس کے رسول کی فرماں برداری سے اعراض کریں، تو دوسرا راستہ صرف کفر کا اور شیطان کی فرماں برداری کا ہے۔ (کتب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ال اور اہل ایک ہی چیز ہیں
قول باری ہے (وال ابراھیم وآل عمران آل ابراہیم اور آل عمران کو) حضرت ابن عباس اور حسن بصری سے مروی ہے کہ آل ابراہیم وہ اہل ایمان ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر قائم ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آل عمران سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اس لیئے کہ وہ حضرت مریم کے بیٹے ہیں۔ جو عمران کی بیٹی تھیں۔ ایک قول ہے کہ آل عمران سے مراد آل ابراہیم ہی ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (ذریۃ بعضھا من بعض، یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے جو ایک نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ ) ان سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ہیں جو عمران کے بیٹے تھے۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک لفظ آل اور لفظ اہل بیت دونوں کا مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
67 روز جزا میں اہل باطل کی ایک بےفائدہ تمنا : سو اس روز ایسے لوگ رہ رہ کر تمنا کریں گے کہ کاش کہ ان کے اور ان کے برے اعمال کے درمیان بڑے دور کی مسافت حائل ہوجاتی تاکہ مجھے اس کے معائنے کی اور یہ انجام بد دیکھنے کی نوبت نہ آتی، مگر اس وقت اس کے اس چاہنے سے اس کو کچھ فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سو بچنا ہے تو اب دنیا کی اس فرصت میں اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرو کہ آخرت کی فوز و فلاح کے حاصل کرنے کی فرصت اور وہاں کیلئے کمائی کرنے کی جگہ یہ دنیا ہی ہے، جیسا کہ فرمایا گیا " اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ للاٰخِرَۃ " کہ " دنیا آخرت کی کھیتی ہے "۔ اس فرصت کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر کمائی کیلئے کوئی موقع ملنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اطاعت رسول ﷺ کا حکم
تشریح : ان آیات میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ کے فرمان کے مطابق اللہ کے پیارے بندے صرف وہی ہوسکتے ہیں جو اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ﷺ کی پیروی کریں اور جو بھی رسول ﷺ کی پیروی کرے گا۔ اللہ اس سے اس قدر خوش ہوگا کہ اپنی رحمت اور بخشش کے دروازے اس پر کھول دے گا اور اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا پھر تنبیہ کی گئی ہے کہ جو لوگ اس بات سے انکار کریں گے اللہ ہرگز ان کو پسند نہیں کرے گا اور نہ ہی ان سے محبت کرے گا۔ لہٰذا وہ دنیاو آخرت میں ذلیل و خوار ضرور ہوں گے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے محمد ﷺ کی پیروی کی اس نے درحقیقت اللہ کی پیروی کی اور جس نے محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
آیات 31- 41
اسرارو معارف
قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔
رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔
محبت ، محب اور محبوب :
اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…
Read the full tafseer →ف 3 اس آیت میں اطاعت الہیٰ کے ساتھ الر سول محمد ﷺ ۔ کی اطاعت کا مستقبل حثیت سے حکم دیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد الرسول۔ ﷺ ۔ کی اطاعت سنت کی پیروی سے ہی ہوسکتی ہے۔ بعض لوگ غلط فہمی کی بنا پر کہہ دیتے ہیں کہ حدیث وہی حجت ہوگی جو قرآن کے مطابق ہو حالا ن کہ قرآن نے متعدد موقعوں پر حدیث کو مستقل دلیل اور ما خذ شریعت کی حثیت دی ہے۔ لہذا قانون کا ماخذ قرآن سے زائد حکم تو ہوسکتے ہیں مگر کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے تو یہ اس کے عقل وفہم کا قصور ہے یا اس کی نیت کا فتور۔ (سلسلہ کلام کے لیے دیکھئے سورت النجم 4)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
(3:30) بینھا و بینہ۔ میں ھا ضمیر نفس کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر کا مرجع یا عمل سور ہے یا یوم ہے۔
تود۔ مضارع واحد مؤنث غائب ود (باب سمع) سے مصدر ۔ وہ چاہے گی۔ آرزو کرے گی۔ دوست رکھے گی۔
امدا۔ مدت مدید۔ رؤف۔ مہربان ۔ شفقت کرنے والا۔ رأفۃ سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 32
تحبون (تم محبت کرتے ہو) اتبعونی (تم میری پیروی کرو، میرے پیچھے چلو (اتبعوا، ن، ی) یغفر (وہ معاف کردے گا) ان تولوا (یہ کہ اگر تم نے منہ پھیرلیا) لایحب (وہ پسند کرتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 32
توحید کے بیان کے بعد آیت 31 سے 32 تک نبوت کے متعلق ارشاد فرمایا جارہا ہے اس میں اہل ایمان کو ایک معیار بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آج دنیا میں جس کسی شخص کو اپنے معبود حقیقی سے محبت کا دعویٰ ہو اس کو اتباع محمدی ﷺ کجی کسوٹی پر رکھ کر دیکھ لینا چاہئے۔ کھرا کھوٹا سامنے آئے گا۔ جو شخص نبی مکرم ﷺ کی راہ پر چلے گا اور آپ کی لائی ہوئی شریعت اور روشنی کو مشعل راہ بنائے گا وہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے رسولوں (علیہم السلام) کو دنیا میں اسی واسطے بھیجا ہے کہ وہ تم کو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور نامرضی کی باتیں بتلا دیں اور ان کے ذریعہ سے اللہ کے حکم جو تم پر آتے ہیں وہ تم کو سنا دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[12] کافروں کے ساتھ حسن سلوک کی تین ہی ممکن صورتیں ہیں : (1) موالات یعنی دوستی، (2) مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی و خاطرداری، (3) مواسات یعنی احسان و نفع رسانی۔ موالات تو کسی حال میں جائز نہیں۔ مدارات تین حالتوں میں درست ہے : ایک دفع شر کے لئے، دوسرے خود اس کافر کی مصلحت دینی یعنی ہدایت کے واسطے، تیسرے جب کافر مہمان ہو تو اس موقع پر۔ مواسات حالت جنگ میں ناجائز اور حالت امن میں جائز ہے۔
[13] اصل میں لفظ '' تقاۃ '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ڈرنا، بچنا، پرہیزگاری، یہی معنی تقیہ کے بھی ہیں۔ '' تقاۃ '' یہاں ڈرنے اور بچنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مومن کسی دشمن اسلام جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
تین قصے :
(ف 1) رسالت مآب حضور ﷺ کی نبوت پر یہودیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ اسرائیل نہیں اور اللہ تعالیٰ نے کیوں بنی اسرئایل اسمعیل سے حضور ﷺ کو نبوت کے عہدہ جلیلہ کے لئے منتخب کیا ، یہودی چونکہ حد درجہ ظاہر پرست تھے ، اس لئے وہ اس خرق عادت کو باور نہ کرسکے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے ذیل میں تین قصے بیان کئے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مصالح کو کوئی نہیں جانتا اور اس قسم ونوع کے خوارق اکثر پیش آتے رہتے ہیں اور یہ کہ خود یہودی ان واقعات کو تسلیم کرتے ہیں ، اس لئے چاہئے کہ وہ حضور ﷺ کا سلسلہ اسماعیلیہ میں ہونا بھی قابل اعتراض نہ سمجھیں ، نبوت اللہ کی دین ہے ، جب تک اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 2۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے یہ بھی فرما دیجئے کہ تم اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو پھر اگر یہ لوگ اس سے اعراض کریں اور روگردانی کے مرتکب ہوں تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا اور ایسے منکروں کو پسند نہیں فرماتا ۔ ( تیسیر)
حدیث میں آتا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی ۔ مگر جس نے انکار کیا ، لوگوں نے دریافت کیا وہ انکار کرنے والے کون لوگ ہیں ۔ آپ نے فرمایا جس نے میرا کہامانا اور میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے نافرمانی کی اس نے انکار کیا ۔ دوسری روایت میں ہے جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ف 1۔ اگر یہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت ومسی (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ہیں اور اگر یہ عمران حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →نبی اعظم و آخر ﷺ کی اہمیت :
83: رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے عامة الناس کو مخاطب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ ہی کی اطاعت اصامة اور بطور مقصود ہے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو جو تبعاً ” ونیابتہ “ بطورآلہ و واسطہ کے ہے۔ یعنی اس حیثیت سے کہ پیغمبر ﷺ اللہ ہی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔
اس سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہو گئی کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی شخصیت کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے کہ اللہ نے اپنی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو ” مقرون “ کردیا ہے یعنی خدا کی اطاعت اور رسول کریم ﷺ کی اطاعت کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اہمیت کو بڑھانے کی غرض سے ہے۔ کیا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
Sequence
In previous verses, there was affirmation of Allah's Oneness and the condemnation of disbelief in it. Affirmed now is the belief in prophethood as well as the necessity of following the Messenger so that we stand informed that the rejection of prophethood or refusal to obey the Prophet ﷺ is also an act of disbelief (kufr) like the rejection of the Oneness of Allah.
Commentary
Love is something secret. Whether or not a person loves another person, or loves less or more, are questions which cannot be answered precisely. There is no measure or yard-stick to determine the truth of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
28. This marks the conclusion of the first discourse. Reflection upon its contents, particularly the reference to the Battle of Badr, leads one to the conclusion that this section was probably revealed between the battles of Badr and Uhud, i.e. sometime in 3.A.H. The tradition mentioned by Muhammad b. Ishaq has led to the common misunderstanding that the first eighty verses of this surah were revealed on the occasion of the arrival of the deputation from Najran in 9 A.H. (See Ibn Hisham. Sirah, vol. 1, pp. 573 ff., especially p. 576; Ibn Ishaq, Life of Muhammad, tr. A. Guillaume, second…
Read the full tafseer →