Explained with ayahs 31–32
جھوٹا دعویٰ
اس آیت نے فیصلہ کردیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی ﷺ کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمدیہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے، اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والا بن جائے گا۔ جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔ غرض اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سورة اٰلِ عِمْرٰن 28
یہاں پہلی تقریر ختم ہوتی ہے۔ اس کے مضمون، خصوصاً جنگ بدر کی طرف جو اشارہ اس میں کیا گیا ہے، اس کے انداز پر غور کرنے سے غالب قیاس یہی ہوتا ہے کہ اس تقریر کے نزول کا زمانہ جنگ بدر کے بعد اور جنگ احد سے پہلے کا ہے، یعنی سن 3 ہجری۔ محمد بن اسحاق کی روایت سے عموماً لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ اس سورت کی ابتدائی 80 آیتیں وفد نجران کی آمد کے موقع پر سن 9 ہجری میں نازل ہوئی تھیں۔ لیکن اول تو اس تمہیدی تقریر کا مضمون صاف بتارہا ہے کہ یہ اس سے بہت پہلے نازل ہوئی ہوگی، دوسرے مقاتل بن سلیمان کی روایت میں تصریح ہے کہ وفد نجران کی آمد پر صرف وہ آیات نازل ہوئی ہیں جو حضرت یحییٰ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
خلاصہ تفسیر
ربط آیات
پچھلی آیات میں توحید کا وجود اور کفر کی مذمت مذکور تھی، آگے اعتقاد رسالت اور اتباع رسول کا وجوب بیان فرماتے ہیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس طرح انکار توحید کفر ہے اسی طرح انکار رسالت بھی کفر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے
آپ (لوگوں سے) فرما دیجیے کہ اگر تم (بزعم خود) خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو (اور محبت رکھنے کی وجہ سے یہ بھی چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے) تو تم لوگ (اس مقصد کے حاصل کرنے کے طریقوں میں) میرا اتباع کرو (کیونکہ میں خاص اسی تعلیم کے لئے مبعوث ہوا ہوں جب ایسا کرو گے) خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کردیں گے (کیونکہ میں اس معافی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
تفسیر آیت 31-32 اہل ایمان کے لیے صحیح روش : یہ ان مذبذب قسم کے مسلمانوں کو اس صحیح رویے کی تعلیم دی گئی ہے جو سچے مسلم کی حیثیت سے انہیں اختیار کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ اگر تم اللہ کے ساتھ محبت رکھنے کے مدعی ہو تو اس محبت کے ساتھ ان لوگوں کی محبت جمع نہیں ہوسکتی جو اللہ کے، اس کی کتاب کے اور اس کے دین کے دشمن ہیں بلکہ اس کا راستہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی پیروی کرو۔ اگر تم رسول کی پیروی کرو گے تو یہی راستہ اللہ سے محبت کرنے کا ہے اور اس کا انعام یہ ہے کہ اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور اب تک تم سے جو غلطیاں اور کمزوریاں صادر ہوئی ہیں ان کو معاف فرما دے گا۔ اللہ غفور رحیم ہے۔ اس کے بعد نہایت واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
31۔ 1 یہود اور نصاری دونوں کا دعویٰ تھا کہ ہمیں اللہ سے اور اللہ تعالیٰ کو ہم سے محبت ہے بالخصوص عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ و مریم علہما السلام کی تعظیم و محبت میں اتنا غلو کیا کہ انہیں درجہ الوہیت پر فائز کردیا اس کی بابت بھی ان کا خیال تھا کہ ہم اس طرح اللہ کا قرب اور اس کی رضا و محبت چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے دعو وں اور خود ساختہ طریقوں سے اللہ کی محبت اور اس کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی اس کا تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ میرے آخری پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی پیروی کرو۔ اس آیت نے تمام دعوے داران محبت کے لئے ایک کسوٹی اور معیار مہیا کردیا ہے کہ محبت الہٰی کا طالب اگر اتباع محمد ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
10: آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 176:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ ؑ کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ آرہا ہے۔ اس لیے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم (علیہا السلام) ہی کے والد مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اللہ کی محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے اور نہ کوئی وہ وجدانی امر ہے۔ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اتباع ضروری ہے ۔ آپ کی سیرت اور نقش قدم پر چلنا ضروری ہے ۔ اپنی زندگی میں اسلامی نظام رائج کرنا ضروری ہے ۔ ایمان صرف چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں ہے ۔ نہ یہ شعور اور جذبات سے عبارت ہے ۔ نہ وہ صرف چند شعائر کے قیام کا نام ہے ۔ بلکہ ایمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے ۔ اور اس منہاج پر عمل کا نام جس کے حامل رسول اللہ ہیں ۔
پہلی آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں ” یہ آیت ہر اس شخص کے کیس کا فیصلہ کردیتی ہے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کا سلوک طریقہ محمدیہ پر نہیں ہے ۔ یہ…
Read the full tafseer →5 دشمنان خدا کی موالات و محبت سے منع کرنے کے بعد خدا سے محبت کرنے کا معیار بتلاتے ہیں۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ یا خیال ہو تو لازم ہے کہ اس کو اتباع محمدی ﷺ کی کسوٹی پر کس کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔ جو شخص جس قدر حبیب خدا محمد رسول اللہ ﷺ کی راہ چلتا اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی روشنی کو مشعل راہ بناتا ہے۔ اسی قدر سمجھنا چاہیے کہ خدا کی محبت کے دعوے میں سچا اور کھرا ہے۔ اور جتنا اس دعوے میں سچا ہوگا، اتنا ہی حضور ﷺ کی پیروی میں مضبوط و مستعد پایا جائے گا۔ جس کا پھل یہ ملے گا کہ حق تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگے گا۔ اور اللہ کی محبت اور حضور ﷺ کے…
Read the full tafseer →آیت 31 قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ
یہ آیت بہت معروف ہے اور مسلمانوں کو بہت پسند بھی ہے۔ ہمارے ہاں مواعظ و خطابات میں یہ بہت کثرت سے بیان ہوتی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ اہل ایمان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو ‘ میرا اتباع کرو ! اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ :
یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
Read the full tafseer →33 اس آیت کے مخاطب صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ اہل کتاب، کفار و مشرکین اور عامۃ الناس ہیں کیونکہ تقریباً سب کے سب اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتے اور اس کا دم بھرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو پھر اس کی صورت صرف یہی ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے لگ جاؤ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ چہ جائیکہ تم اللہ سے محبت رکھو۔ اللہ تعالیٰ خود تم سے محبت کرنے لگے گا۔ نیز اس آیت میں مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جس خوبصورت انداز سے اس آیت میں اتباع سنت پر زور دیا گیا ہے۔ شاید اس سے زیادہ ممکن بھی نہ تھا۔ اتباع کے مفہوم میں اطاعت کی نسبت بہت زیادہ وسعت ہے۔ اطاعت صرف…
Read the full tafseer →80 ۔ (جیسا کہ تمہارا دعوی ہے۔ اور اپنے اسی زعم کی بنا پر جو توقع رکھتے ہو، کہ اللہ بھی تم سے محبت کرے گا) خطاب رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے عامۃ الناس سے ہے۔ (آیت) ”۔ تحبون “۔ محبت کے جو معنی عربی میں ہیں اس میں ارادہ کا شمول ضروری ہے۔ قال ابن عرفۃ المحبۃ عند العرب ارادۃ الشئی علی قصدلہ (قرطبی)
81 ۔ (کہ میں جامع کمالات انسانی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میری زندگی ساری کائنات انسانی کے لئے ہر شعبہ میں معیار اور نمونہ کا کام دے گی) محبت الہی کے دعوی کی جانچ کے لیے کیا اچھا معیار بتادیا گیا۔ یعنی اتباع رسول اللہ ﷺ جو جتنا زیادہ متبع رسول اللہ ﷺ ہوگا اسی قدر اس کی محبت الہی مسلم ومعتبر ہوگی، اسی معیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
آیت نمبر 31 تا 41
ترجمہ : جب مشرکین نے کہا ہم (ان بتوں کی) اللہ کی محبت میں پوجا کرتے ہیں تاکہ یہ ہم کو اس کو مقرب بنادیں آیت نازل ہوئی۔ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یعنی تم کو اس کا ثواب دے گا۔ اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ اس شخص کے جس نے میری پیروی کی ان تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے جو اس سے سابق میں ہوچکے ہیں اور اس پر رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو توحید وغیرہ میں جس کا وہ حکم کرتا ہے۔ اس پر بھی اگر وہ گرداں رہیں یعنی طاعت سے اعراض کریں۔ تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ : ابن جریر اور ابن المنذر نے حسن بصری (رح) کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے کہا محمد خدا کی قسم ہم اپنے رب سے محبت رکھتے ہیں اس پر آیت : قل ان کنتم تحبون اللہ۔۔ نازل ہوئی۔
ابن اسحاق اور ابن جریر نے محمد بن جعفر بن زبیر کا قول نقل کیا ہے کہ وفد نجران نے کہا تھا ہم مسیح کی پرستش اللہ کی محبت کی وجہ سے کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(صاحب معالم التنزیل ‘ 12) بغوی نے لکھا ہے کہ آیت کا نزول یہود و نصاریٰ کے حق میں ہوا تھا کیونکہ انہوں نے کہا تھا : نحن ابناء اللہ واحباء ہٗ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔
ضحاک نے حضرت ابن…
Read the full tafseer →(31) محمد ﷺ آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے دین سے محبت رکھتے ہو تو میرے دین سے محبت رکھتے ہو تو میرے دین یعنی اسلام و پیغمبر اسلام کی اتباع کرو اس طرح اللہ تعالیٰ تمہاری محبت میں اضافہ فرمائیں گے، اور تمہاری یہودیت کے گناہوں کو بھی معاف فرمائیں گے۔
کیونکہ جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ اسے بخشنے والے ہیں اور جو توبہ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرما کر اسے مہلت معافی دیتے ہیں، یہ آیت کریمہ یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی کیوں کہ وہ اس بات کے قائل تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔
جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو عبداللہ ابن ابی بولا کہ محمد ﷺ ہمیں اس بات کا…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۔۔ : یہود و نصاریٰ اور مشرکین سبھی اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ رکھتے تھے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو اب اس دعویٰ کے سچا ہونے کی ایک ہی صورت ہے کہ مجھے نبی مان کر میری پیروی اختیار کرو، اس سے نہ صرف تمہاری اللہ سے محبت قبول ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا، تم اللہ کے محبوب بن جاؤ گے اور وہ تمہارے گناہ بھی بخش دے گا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جو کوئی کسی کی محبت کا دعویٰ کرے تو اس طرح محبت کرے جس طرح محبوب چاہے، نہ کہ جس طرح اپنا جی چاہے اور اسی طرح چاہے تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 31۔
الحب کا معنی ہے محبت اور اسی طرح الحب بالکسر بھی ہے اور الحب بمعنی الحبیب بھی ہے جیسا کہ الخدن اور الخدین (دوست) ہے، کہا جاتا ہے، احبہ فھو محب اور حبۃ یحبہ (بالکسر) فھو محبوب (یعنی پہلا محبت کرنے والا اور دوسرا جس سے محبت کی جائے) جوہری نے کہا ہے : یہ شاذ ہے، کیونکہ مصاعف میں یفعل بالکسر نہیں آتا۔
ابو الفتح نے کہا ہے : اس میں حبب ہے جیسا کہ ظرف پھر با کو ساکن کیا گیا اور اسے دوسری با میں مدغم کردیا گیا، ابن الدہان سعید نے کہا ہے : حبب میں دو لغتیں ہیں : حب اور احب اور اس بنا میں حب اصل میں حبب تھا جیسا کہ ظرفہ اس پر ان کا یہ قول دلالت کرتا ہے، : حببت۔ اور فعل سے صفت کا صیغہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(1) ابن جریر نے بکر بن اسوف کے طریق سے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ایک قوم نے کہا اے محمد ﷺ ہم اپنے رب سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم “ یعنی اپنے نبی ﷺ کی اتباع کو اپنی محبت کی نشانی بنا دیا اور عذاب کو مقدر کردیا جو آپ کی مخالفت کرے۔
(2) ابن جریر وابن المنذر نے ابو عبیدہ النافی کے طریق سے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کچھ قوموں نے کہا (اے محمد ! ) اللہ کی قسم ! ہم اپنے رب سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا لفظ آیت ” قل ان کنتم تحبون اللہ…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہیے !] [اِنْ : اگر ] [کُنْتُمْ : تم لوگ ہو کہ ] [تُحِبُّوْنَ : تم محبت کرتے ہو ] [اللّٰہَ : اللہ سے ] [فَاتَّبِعُوْنِیْ : تو پھر پیروی کرو میری ] [یُحْبِبْکُمُ : تو محبت کرے گا تم سے ] [اللّٰہُ : اللہ ] [وَیَغْفِرْ : اور وہ بخش دے گا ] [لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ذُنُوْبَکُمْ : تمہارے گناہوں کو ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [رَّحِیْمٌ : ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
ترکیب : حرف شرط ” اِنْ “ ماضی (کُنْتُمْ ) پر آیا ہے اس لیے اس کا عمل ظاہر نہیں ہوا ‘ لیکن وہ محلاًّ مجزوم ہے۔ جوابِ شرط میں فعل امر ” اِتَّبِعُوْا “ آیا ہے جو کہ از خود مجزوم ہوتا ہے۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
اگر اللہ سے محبت ہے تو رسول اللہ کا اتباع کرو
ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع اور اطاعت کا حکم دیا ہے، اطاعت فرمانبر داری اور حکم ماننے کو کہتے ہیں اور اتباع اپنے مقتدا کے پیچھے چلنے اور اس کی راہ اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ جتنی بھی مذہبی قومیں ہیں وہ اللہ کو مانتی ہیں (اگرچہ ماننے کے طریقے مختلف ہیں) اور انہیں یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء ﷺ سے اپنی کتاب میں یہ اعلان کروا دیا کہ محبت صرف دعویٰ کرنے کی چیز نہیں اس کا ایک معیار ہے اور وہ محبت معتبر ہے جو محبوب کی مرضی کے مطابق ہو اس محبت کا معیار جو اللہ کے نزدیک معتبر ہے یہ ہے کہ حضرت خاتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آغاز مضمون رسالت۔
وبیان آنکہ معیار محبت خداوندی اتباع رسول است۔
قال تعالی، قل ان کنتم تحبون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ الکافرین۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں یہود اور نصاری سے موالات کا حکم مذکور تھا اب ان آیات میں یہود اور نصاری کے اس قول کی طرف تعریض ہے کہ جو یہ کہا کرتے تھے کہ ہم اللہ کے دوست ہیں، نحن ابناء اللہ واحباء ہ۔ ان آیات میں حق جل شانہ نے ان کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا کہ تم اللہ کی محبت اور دوستی کے دعوے دار ہو تو ہمارے نبی کا اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا یعنی اگر تم ہمارے نبی کا اتباع کرو گے تو اس کا صلہ یہ ملے گا کہ اللہ تعالیٰ تم کو محبین کے درجہ سے محبوبین کے درجہ تک پہنچا دے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
42:۔ یوم کا عامل تَرَدُّ جو بعد میں آرہا ہے اور یہ تخویف اخروی ہے۔ تَوَدُّ لَوْ اَن بَیْنَھَا وَبَیْنَهٗ اَمَداً بَعِیْداً ۔ قیامت کے دن جب ہر آدمی کے نیک اور برے اعمال اس کے سامنے کردئیے جائیں گے اور اعمال کا حساب کتاب ہوگا تو ہر آدمی تمنا کرے گا کہ کاش ! اس کے اور اس کے بد اعمال کے درمیان بہت فاصلہ ہوتا اور وہ ان کو نہ دیکھ پاتا۔ فیکون الضمیر فی بینہ عائد اعلی ما عملت من سوء (بحر ج 2 ص 427) ۔
43 اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عین رحمت اور مہربانی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو اپنے عذاب سے ڈراتا ہے تاکہ وہ اس کی نافرمانیوں سے باز رہیں اور اس کی اطاعت کریں اور اسی میں ان کی دینی اور دنیوی بھلائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر کا رد فرمایا اور توحید پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا قانون بتلایا۔ اب ان آیات میں ایمان بالرسالت کا تذکرہ ہے۔ جس طرح اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اور اس سے انکار بمنزلہ کفر ہے۔ اسی طرح رسول کی رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جس طرح اللہ کی اطاعت فرض ہے ، اسی طرح رسول کی تابعداری بھی ضروری ہے۔
دعوی محبت :
نزولِ قرآن کے زمانے میں مشرکین عرب یہود اور نصاری محبت الٰہی کا دعوی کرتے تھے۔ جب مشرکین سے کہا جاتا کہ تم شرک کیوں کرتے ہو ، تو جواب دیتے ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی۔ ہم ان معبودوں کی عبادت…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ 0 ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 31
حب
والمحبَّة :
إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه :
- محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه :
وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] .
- ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه :
وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] .
- ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم .
( ح ب ب ) الحب والحبۃ
المحبۃ
کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں
اور محبت تین قسم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ترکیب : ان کنتم تحبون اللّٰہ شرط فاتبعونی جواب شرط ‘ یحببکم اور یغفرلکم مجذوم میں اتبعوا امر کے جواب میں آکر ذریۃ منصوب ہے یا اس وجہ سے کہ یہ بدل ہے نوحا وما عطف علیہ سے اور ممکن ہے کہ ان اسماء سے حال بھی ہو اور عامل اس میں اصطفی ہو۔ بعضہا مبتداء من بعض خبر یہ جملہ موضع نصب میں ہے کیونکہ صفت ہے ذریۃ کی۔
تفسیر : جب توحید ثابت کردی گئی تو مشرکین کے پاس بجز اس کے اور کوئی حیلہ نہ رہا کہ ہم ان کو اللہ کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔ مقصود خدا اور اس کی محبت ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر تم کو اللہ سے محبت ہے تو اس کے رسول کے کہنے پر چلو۔ اس نادیدہ خدا کی محبت کے وہی عمدہ طریق بتا سکتا…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْـکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَـکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔
(کہہ دیجیے ! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے) (31 )
اس آیت کریمہ میں خطاب یہود سے بھی ہے اور ان مسلمانوں سے بھی جو اسلام کے بارے میں یکسو نہیں ہو رہے تھے۔ یہود کو ہمیشہ اس بات کا دعویٰ رہا کہ ہمارا اللہ سے خاص رشتہ ہے۔ ہم اس کے انبیاء کی اولاد ہیں، اس لیے ہم اللہ کے چہیتے ہیں۔ جب انھیں اسلام کی دعوت دی جاتی اور اللہ کے دین کی طرف آنے کا مطالبہ کیا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کے دشمنوں سے محبت رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور یہ اطاعت رسول کے بغیر ممکن نہ ہوگی۔
دنیا میں ہر مذہب کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قربت و محبت کے حصول کے لیے اپنے اپنے طریقے ایجاد کررکھے ہیں۔ یہودی اپنے آپ کو انبیاء کی اولاد اور خود کو ان کا وارث سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب ہیں۔ مشرکوں نے اپنے بزرگوں، بتوں اور مزارات کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ ٹھہرا لیا ہے کچھ لوگوں نے دنیا سے لاتعلق ہو کر گوشہ نشینی، صحرا نور دی اور چلہ کشی کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ بنایا ہے۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ ان…
Read the full tafseer →31: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آپ فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے)
فائدہ : یہ آیت اس وقت اتری جب یہود نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے محبوب ہیں۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ ۔ بندے کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو دوسری چیزوں پر ترجیح دے۔
محبت کی حقیقت :
اور اللہ تعالیٰ کے بندے سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ بندے پر راضی ہو۔ اور اس کے فعل کی تعریف فرمائے۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں…
Read the full tafseer →(شان نزول)
(تفسیر) 31۔:
اس آیت کا نزول یہود و نصاری کے بارے میں ہوا تھا کیونکہ انہوں نے کہا تھا (آیت)” نحن ابناء اللہ واحبائہ “ کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں ۔ (نعوذ باللہ)
ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ قریش کے پاس آئے جب وہ مسجد حرام میں موجود تھے انہوں نے کعبہ کے اندر بت نصب کیے تھے اور ان پر شترمرغ کے انڈے لٹکائے ہوئے تھے اور ان کے کانوں میں بالیاں پہنائی ہوئی تھیں اور ان بتوں کو سجدے کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا واللہ ! اے قریش کی جماعت تم نے اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے طریقے کی مخالفت کی ، آپ ﷺ کو قریش نے جواب…
Read the full tafseer →تفسیر ابن منذر میں حسن بصری سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مختلف قوموں نے اللہ کی محبت کا دعویٰ کیا مثلًا قریش نے ایک دن اپنے بتوں کو خوب آراستہ کیا آنحضرت ﷺ نے قریش سے جب کہا کہ ملت ابراہیم کے مخالف تم یہ بت پرستی کیوں کرتے ہو تو انہوں نے جواب کہا ہم تو ان کو درگاہ الٰہی کا مقرب جان کر اللہ کی محبت کی وجہ سے ان کو پوجتے ہیں اسی طرح نجران کے نصاریٰ نے کہا کہ ہم تو اللہ کی محبت کے سبب سے حضرت عیسیٰ کی اتنی قدر و منزلت کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے ایسے دعو وں پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ اور فرما دیا کہ اللہ کی محبت کا دنیا میں ایک یہ ہی طریقہ ہے کہ رسول وقت کی پوری تابعداری کی جائے…
Read the full tafseer →آیت 31
اس آیت میں اللہ کی محبت کا وجوب، اس کی علامات، اس کا نتیجہ اور فوائد ذکر کئے گئے ہیں۔ چناچہ فرمایا : (قل ان کنتم تحبون اللہ) ” کہہ دیجیے ! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو “ اگر تم اس اونچے مرتبے کا دعویٰ رکھتے ہو، جس سے بلند کوئی مرتبہ نہیں تو اس کے لئے صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ یہ دعویٰ سچا ہونا چاہیے۔ اس کے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہرحال میں ہو، اقوال میں بھی ہو اور افعال میں بھی، عقاید میں بھی ہو اور اعمال میں بھی، ظاہر میں بھی ہو اور باطن میں بھی۔ پس جو رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرتا ہے، اللہ کی محبت اس کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے، اللہ اس سے محبت رکھتا ہے اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ال اور اہل ایک ہی چیز ہیں
قول باری ہے (وال ابراھیم وآل عمران آل ابراہیم اور آل عمران کو) حضرت ابن عباس اور حسن بصری سے مروی ہے کہ آل ابراہیم وہ اہل ایمان ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر قائم ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آل عمران سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اس لیئے کہ وہ حضرت مریم کے بیٹے ہیں۔ جو عمران کی بیٹی تھیں۔ ایک قول ہے کہ آل عمران سے مراد آل ابراہیم ہی ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (ذریۃ بعضھا من بعض، یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے جو ایک نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ ) ان سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ہیں جو عمران کے بیٹے تھے۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک لفظ آل اور لفظ اہل بیت دونوں کا مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
67 روز جزا میں اہل باطل کی ایک بےفائدہ تمنا : سو اس روز ایسے لوگ رہ رہ کر تمنا کریں گے کہ کاش کہ ان کے اور ان کے برے اعمال کے درمیان بڑے دور کی مسافت حائل ہوجاتی تاکہ مجھے اس کے معائنے کی اور یہ انجام بد دیکھنے کی نوبت نہ آتی، مگر اس وقت اس کے اس چاہنے سے اس کو کچھ فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سو بچنا ہے تو اب دنیا کی اس فرصت میں اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرو کہ آخرت کی فوز و فلاح کے حاصل کرنے کی فرصت اور وہاں کیلئے کمائی کرنے کی جگہ یہ دنیا ہی ہے، جیسا کہ فرمایا گیا " اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ للاٰخِرَۃ " کہ " دنیا آخرت کی کھیتی ہے "۔ اس فرصت کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر کمائی کیلئے کوئی موقع ملنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اطاعت رسول ﷺ کا حکم
تشریح : ان آیات میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ کے فرمان کے مطابق اللہ کے پیارے بندے صرف وہی ہوسکتے ہیں جو اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ﷺ کی پیروی کریں اور جو بھی رسول ﷺ کی پیروی کرے گا۔ اللہ اس سے اس قدر خوش ہوگا کہ اپنی رحمت اور بخشش کے دروازے اس پر کھول دے گا اور اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا پھر تنبیہ کی گئی ہے کہ جو لوگ اس بات سے انکار کریں گے اللہ ہرگز ان کو پسند نہیں کرے گا اور نہ ہی ان سے محبت کرے گا۔ لہٰذا وہ دنیاو آخرت میں ذلیل و خوار ضرور ہوں گے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جس نے محمد ﷺ کی پیروی کی اس نے درحقیقت اللہ کی پیروی کی اور جس نے محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
آیات 31- 41
اسرارو معارف
قل ان کنتم تحبون اللہ………………لا یحب الکفرین۔
رہا مذاہب عالم کا یہ دعویٰ کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ کی محبت اور اس کی طلب میں کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ اہل کتاب سے لے کر مشرکین تک سب میں مشترک ہے۔
محبت ، محب اور محبوب :
اللہ کریم نے اس کا صحیح اور درست طریقہ ارشاد فرمادیا کہ میاں اگر تمہیں اللہ کی ذات بابرکات سے محبت ہے تو محبت ایک کیفیت ، ایک جذبہ ہے ، جو کسی کے بارے دل میں جاگزیں ہو پھر محبت کرنے والے کا دل خیال محبوب میں مستغرق ہوجاتا ہے اور ایسا بےبس کردیتا ہے کہ محبوب کی یاد اور اس کے اشتغال کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے محبت کی اپنی کوئی پسندوناپسند نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 2 یہود نصایٰ اور مشرکین سبھی یہ دعو یٰ کرتے ہیں تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ تم ان سے کہہ دو کہ اب اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کا نبی مان کر میری اتباع اختیار کرلو۔ (وحیدی) اور اس خطاب کا تعلق مسلمانوں سے بھی ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ ہے تو اس کے لیے زبانی اظہار محبت کافی نہیں ہے بلکہ جمع اقوال وافعال میں میری پیروی اختیار کرو۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : شرک غلط محبت کی راہ سے سرایت کرتا ہے۔ اور الدین نام ہے اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی کرنے اور اللہ تعالیٰ کے لیے دشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
(3:30) بینھا و بینہ۔ میں ھا ضمیر نفس کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر کا مرجع یا عمل سور ہے یا یوم ہے۔
تود۔ مضارع واحد مؤنث غائب ود (باب سمع) سے مصدر ۔ وہ چاہے گی۔ آرزو کرے گی۔ دوست رکھے گی۔
امدا۔ مدت مدید۔ رؤف۔ مہربان ۔ شفقت کرنے والا۔ رأفۃ سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 32
تحبون (تم محبت کرتے ہو) اتبعونی (تم میری پیروی کرو، میرے پیچھے چلو (اتبعوا، ن، ی) یغفر (وہ معاف کردے گا) ان تولوا (یہ کہ اگر تم نے منہ پھیرلیا) لایحب (وہ پسند کرتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 32
توحید کے بیان کے بعد آیت 31 سے 32 تک نبوت کے متعلق ارشاد فرمایا جارہا ہے اس میں اہل ایمان کو ایک معیار بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آج دنیا میں جس کسی شخص کو اپنے معبود حقیقی سے محبت کا دعویٰ ہو اس کو اتباع محمدی ﷺ کجی کسوٹی پر رکھ کر دیکھ لینا چاہئے۔ کھرا کھوٹا سامنے آئے گا۔ جو شخص نبی مکرم ﷺ کی راہ پر چلے گا اور آپ کی لائی ہوئی شریعت اور روشنی کو مشعل راہ بنائے گا وہ…
Read the full tafseer →اللہ کی محبت کا دعویٰ کرنے کا ذکر
صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے صاف فرما دیا ہے کہ میری اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے اور میری نافرمانی عین اللہ کی نافرمانی ہے۔ اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوگیا کہ کوئی طریقہ جس میں رسول ﷺ کی اطاعت نہ پائی جائے خواہ کسی قدر محبت الہٰی کے جوش کے دعوے کا ہو ہر گز اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[12] کافروں کے ساتھ حسن سلوک کی تین ہی ممکن صورتیں ہیں : (1) موالات یعنی دوستی، (2) مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی و خاطرداری، (3) مواسات یعنی احسان و نفع رسانی۔ موالات تو کسی حال میں جائز نہیں۔ مدارات تین حالتوں میں درست ہے : ایک دفع شر کے لئے، دوسرے خود اس کافر کی مصلحت دینی یعنی ہدایت کے واسطے، تیسرے جب کافر مہمان ہو تو اس موقع پر۔ مواسات حالت جنگ میں ناجائز اور حالت امن میں جائز ہے۔
[13] اصل میں لفظ '' تقاۃ '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ڈرنا، بچنا، پرہیزگاری، یہی معنی تقیہ کے بھی ہیں۔ '' تقاۃ '' یہاں ڈرنے اور بچنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مومن کسی دشمن اسلام جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
تقرب الہی کا واحد ذریعہ :
(ف 1) انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ قول وفعل سے اللہ کے بندوں میں اللہ کی محبت پیدا کردیں اور گم کردہ راہ لوگوں کو جادہ مستقیم پر ڈال دیں ، وہ انسانوں کو ہدایت و رہنمائی کا پہلا اور آخری وسیلہ ہیں ، اس لئے ان سے قطع نظر کسی طرح جائز و درست نہیں ۔
اس آیت میں محبت الہی کے دعوے داروں کو اطاعت رسول ﷺ اور اتباع سید الابرار ﷺ کی جانب دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے بجز اطاعت رسول ﷺ کے اور کوئی طریق نہیں ، قیامت تک کے لئے محبوبیت ومقبولیت کا تاج فرق اقدس کے سوا اور کسی کے سر پر زیب نہیں دیتا ، وہ جو تقرب وتالف کے مدارج طے کرنا چاہتے…
Read the full tafseer →ف 1۔ اے پیغمبر آپ ان لوگوں سے جو خدا کی محبت اور دوستی کے مدعی ہیں فرما دیجئے کہ اگر تم لوگ واقعی اپنے خیال اور اپنے زعم میں اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو اور تمہاری یہ بھی خواہش ہے کہ تمہاری محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے تو تم لوگ میری پیروی اور میری اتباع کرو جب تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرلے گا اور تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنیوالا بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔ ( تیسیر)
حب ، حب ، الجباب ، الحباب ، محبت یہ سب ہم معنی ہیں ۔ محبت کے معنی ہیں کسی چیز کے کمال کی وجہ سے نفس کا اس چیز کی طرف مائل ہونا۔ یعنی نفس کسی چیز میں کمال کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ف 1۔ اگر یہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت ومسی (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ہیں اور اگر یہ عمران حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کی محبت سچے لوگوں کی پہچان قرآن کریم کی زبان میں :
79: اہل کتاب کی دونوں جماعتوں یعنی یہودونصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ ہم اللہ کے محبوب ہیں اس لیے سب کچھ معاف ہے
کیونکہ ہم انبیاء کرام کی اولاد ہیں۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ :
وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ (المائدہ 5 : 18) ” او دیکھو یہودی اور عیسائی کہتے ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ ہم جو کچھ بھی کریں ہمارے لیے نجات ہی نجات ہے۔ “
ان کو ایک جواب تو یہ دیا گیا کہ تمہارے لیے نجات ہی نجات ہے تو دنیوی زدنگی میں تم کو عذاب دیا جاتا ہے اور خصوصاً جب تم کو دوسری قومیں دبا لیتی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
Sequence
In previous verses, there was affirmation of Allah's Oneness and the condemnation of disbelief in it. Affirmed now is the belief in prophethood as well as the necessity of following the Messenger so that we stand informed that the rejection of prophethood or refusal to obey the Prophet ﷺ is also an act of disbelief (kufr) like the rejection of the Oneness of Allah.
Commentary
Love is something secret. Whether or not a person loves another person, or loves less or more, are questions which cannot be answered precisely. There is no measure or yard-stick to determine the truth of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
28. This marks the conclusion of the first discourse. Reflection upon its contents, particularly the reference to the Battle of Badr, leads one to the conclusion that this section was probably revealed between the battles of Badr and Uhud, i.e. sometime in 3.A.H. The tradition mentioned by Muhammad b. Ishaq has led to the common misunderstanding that the first eighty verses of this surah were revealed on the occasion of the arrival of the deputation from Najran in 9 A.H. (See Ibn Hisham. Sirah, vol. 1, pp. 573 ff., especially p. 576; Ibn Ishaq, Life of Muhammad, tr. A. Guillaume, second…
Read the full tafseer →