Explained with ayahs 29–30
اللہ تعالیٰ سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔ زمین کے گوشوں میں پہاڑوں کے سمندروں میں آسمانوں میں ہواؤں میں سوراخوں میں غرض جو کچھ جہاں کہیں ہے سب اس کے علم میں ہے پھر ان سب پر اس کی قدرت ہے جس طرح چاہے رکھے جو چاہے جزا سزا دے، پس اتنے بڑے وسیع علم والے اتنی بڑی زبردست قدرت والے سے ہر شخص کو ڈرتے ہوئے رہنا چاہیے۔ اس کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہیے اور اس کی نافرمانیوں سے علیحدہ رہنا چاہیے، وہ عالم بھی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة اٰلِ عِمْرٰن 27
یعنی یہ اس کی انتہائی خیر خواہی ہے کہ وہ تمہیں قبل از وقت ایسے اعمال پر متنبہ کر رہا ہے جو تمہارے انجام کی خرابی کے موجب ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
خلاصہ تفسیر
ربط آیاتمذکور الصدر آیات میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کافروں کو دوست نہ بنائیں اور اس ہدایت کی مخالفت کرنے والوں کے لئے سخت وعید ہے کہ جو ان کو دوست بنائے گا، اس کا اللہ تعالیٰ سے دوستی و محبت کا علاقہ قطع ہوجائے گا، کافروں سے باطنی اور دلی دوستی تو مطلقا حرام ہے، اور ظاہری دوستی معاملات کے درجہ میں اگرچہ جائز ہے، مگر بلا ضرورت وہ بھی پسند نہیں۔
مختصر تفسیر ان آیات کی یہ ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ (ظاہرا یا باطنا) کفار کو دوست نہ بنائیں مسلمانوں (کی دوستی) سے تجاوز کر کے (یہ تجاوز دو صورت سے ہوتا ہے، ایک یہ کہ مسلمانوں سے بالکل دوستی نہ رکھیں، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی…
Read the full tafseer →مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْۗءٍ ، کے بعد مُّحْضَرًا کا لفظ محذوف ہے، چونکہ پہلے ٹکڑے میں اس کا اظہار ہوچکا ہے اس وجہ سے دوسرے میں تکرار سے بچنے کے لیے اس کو حذف کردیا۔ بَيْنَهَا وَبَيْنَهٗٓ میں پہلی ضمیر کا مرجع نفس، دوسری کا، سوء محضر ہے۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ : رَءُوْفٌ کے لفظ پر ہم کہیں بحث کر آئے ہیں کہ اس میں دفع شر کا پہلو غالب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ چونکہ اپنے بندوں پر غایت درجہ مہربان ہے، وہ ان کو ان کے اعمال کے نتائج بد سے بچانا چاہتا ہے اس وجہ سے وہ ان کو اپنی ذات سے بار بار ہوشیار رہا ہے کہ وہ اس کی ڈھیل سے کسی غلط فہمی میں نہ پڑیں، وہ ڈھیل تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
31۔ 1 یہود اور نصاری دونوں کا دعویٰ تھا کہ ہمیں اللہ سے اور اللہ تعالیٰ کو ہم سے محبت ہے بالخصوص عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ و مریم علہما السلام کی تعظیم و محبت میں اتنا غلو کیا کہ انہیں درجہ الوہیت پر فائز کردیا اس کی بابت بھی ان کا خیال تھا کہ ہم اس طرح اللہ کا قرب اور اس کی رضا و محبت چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے دعو وں اور خود ساختہ طریقوں سے اللہ کی محبت اور اس کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی اس کا تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ میرے آخری پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی پیروی کرو۔ اس آیت نے تمام دعوے داران محبت کے لئے ایک کسوٹی اور معیار مہیا کردیا ہے کہ محبت الہٰی کا طالب اگر اتباع محمد ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
10: آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 176:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ ؑ کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ آرہا ہے۔ اس لیے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم (علیہا السلام) ہی کے والد مراد ہیں۔
Read the full tafseer →يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا
” وہ دن آنے والا ہے جب ہر نفس اپنے کئے کا پھل حاضر پائے گا ۔ خواہ اس نے بھلائی کی ہو یا برائی ‘ اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے دور ہوتا۔ “
یہ ایک ایسا خطاب ہے ‘ جو قلب انسانی کی گہرائیوں تک اترتا چلا جاتا ہے ‘ انسان کا کل سرمایہ اس کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے اور اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک دن وہ بذات خود اپنے اس سرمائے کے سامنے کھڑا ہوگا اور وہ پسند کرے گا اس کا یہ سرمایہ اس سے دور ہوتا لیکن افسوس کہ اس کی یہ خواہش ہرگز پوری نہ…
Read the full tafseer →3 یعنی قیامت کے دن ہر نیکی بدی آدمی کے سامنے حاضر ہوگی۔ عمر بھر کا اعمال نامہ ہاتھ میں پکڑا دیا جائے گا۔ اس وقت مجرمین آرزو کریں گے کہ کاش یہ دن ہم سے دور ہی رہتا یا ہم میں اور ان برے اعمال میں بڑی دور کا فاصلہ ہوتا کہ ان کے قریب بھی نہ جاتے۔
4 یہ بھی اس کی مہربانی ہے کہ تم کو اس خوفناک دن کے آنے سے پہلے ڈراتا اور آگاہ کرتا ہے۔ تاکہ برائی کے طریقے خصوصا موالات کفار ترک کر کے اور بھلائی کے راستہ پر چل کر اپنے خداوند قہار کے غصہ سے بچا لینے کا قبل از وقت انتظام کر رکھو۔ قرآن کریم کا یہ خاص طرز ہے کہ عموما خوف کے ساتھ رجاء اور رجاء کے ساتھ خوف کا مضمون سناتا ہے۔ یہاں بھی مضامین ترہیب کو معتدل…
Read the full tafseer →آیت 30 یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ج وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْءٍ ج
اس کا نقشہ سورة الزلزال میں بایں الفاظ کھینچا گیا ہے : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ تو جس نے ایک ذرے کے ہم وزن نیکی کی ہوگی وہ اس کو بچشم خود دیکھ لے گا۔ اور جس نے ایک ذرے کے ہم وزن برائی کی ہوگی وہ اس کو بچشم خود دیکھ لے گا۔
تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَہَا وَبَیْنَہٗ اَمَدًام بَعِیْدًا ط۔
اس وقت ہر انسان یہ چاہے گا کہ کاش میرے اور میرے اعمال نامے کے درمیان بڑا فاصلہ آجائے اور میری نگاہ بھی اس پر نہ پڑے۔
وَیُحَذِّرُکُمُ…
Read the full tafseer →32 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ابتداء ایک نیکو کار اور ایک بدکردار کا ذکر فرمایا۔ بعد میں صرف بدکردار کی تمنا کا ذکر کیا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کی سختیوں اور دوزخ کے عذاب سے بچ جانا ہی اصل کامیابی ہے اور جنت میں داخلہ تو اللہ کا فضل اور انعام ہے جتنا وہ چاہے کسی پر کردے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں جس کام سے تمہیں روکوں اس سے رک جاؤ اور جس بات کا حکم دوں اس کو اپنی حسب استطاعت بجا لاؤ (تفسیر آیت ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ 16) 64 ۔ التغابن :16) یعنی جب آپ نے برے کام کا ذکر کیا تو یہ نہیں فرمایا کہ جہاں تک ہوسکے برے کاموں سے بچو بلکہ فرمایا ان سے پوری طرح رک…
Read the full tafseer →76 ۔ (جزاء اعمال کے لیے) (آیت) ” یوم “۔ یعنی قیامت کے دن۔ (آیت) ’ محضرا “۔ اپنے مواجہہ میں اور اللہ کے حضور میں۔ لدیھا مشاھدا (روح) (آیت) ” ماعملت “۔ یعنی اس عمل کو نامہ اعمال میں لکھا ہوا۔ یا ان اعمال کی جزاء کو۔ فی الصحف (روح) وقیل تجد جزاء اعمالھا محضرا (روح) تقدیرہ یوم تجد کل نفس جزاء ما عملت محضرا (قرطبی) صحائف اعمالھا اوجزاء اعمالھا (بیضاوی) بعض صوفیہ عارفین نے یہ معنی کئے ہیں کہ انسان بجنسہ اس عمل کو کرتے ہوئے اپنے کو پائے گا۔ قیل ظاہرا فی صور (روح) حضرت اکبر الہ آبادی (رح) اردو کے مشہور شاعر ہونے کے ساتھ ہی حکیم وعارف بھی تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ یہ جو ہر وقت ہم بولا کرتے ہیں کہ ” وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
آیت نمبر 31 تا 41
ترجمہ : جب مشرکین نے کہا ہم (ان بتوں کی) اللہ کی محبت میں پوجا کرتے ہیں تاکہ یہ ہم کو اس کو مقرب بنادیں آیت نازل ہوئی۔ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یعنی تم کو اس کا ثواب دے گا۔ اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ اس شخص کے جس نے میری پیروی کی ان تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے جو اس سے سابق میں ہوچکے ہیں اور اس پر رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو توحید وغیرہ میں جس کا وہ حکم کرتا ہے۔ اس پر بھی اگر وہ گرداں رہیں یعنی طاعت سے اعراض کریں۔ تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا…
Read the full tafseer →يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا ٻ وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْۗءٍ ڔ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهٗٓ اَمَدًۢا بَعِيْدًا : جس روز کہ ہر شخص اپنی کی ہوئی ہر نیکی (یا نیکی کے ثواب) کو اپنے سامنے موجود پائے گا اور جو بدی کی ہوگی اس کو بھی سامنے موجود پائے گا تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے عمل بد کے درمیان طویل مسافت ہوتی (کہ عمل بد کی شکل ہی سامنے نہ آتی) یَوْمَ ظرفی کا تعلق تودُّ سے ہے ما موصولہ ہے شرطیہ نہیں ہے اس لیے تودُّ مرفوع ہے۔ تَجِدُ کا معنی ہے تُصِیْبُ (پائے گا) اور محضرًا حال ہے دوسرا مفعول نہیں ہے کیونکہ جو تجد بمعنی تصیب ہو اس کو دوسرے مفعول…
Read the full tafseer →(30) اور قیامت کا دن تو ایسا ہوگا جس دن ہر ایک انسان اپنے اچھے اور برے کاموں کو اپنے نامہ اعمال میں لکھا ہوا پائے گا اور یہ تمنا کرے گا کہ کیا اچھا ہوتا اس نفس اور اس برے عمل کے درمیان ایک بہت لمبی مسافت حائل ہوجائے اور اسی سبب اے مسلمانو ! تمہیں اللہ تعالیٰ گناہ کرنے سے ڈراتے ہیں کیوں کہ وہ مسلمانوں پر بہت ہی مہربان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔۔ : جب اکیلا اللہ تعالیٰ ہی بادشاہی کا مالک، عزت و ذلت دینے والا اور ہر خیر والا ہے تو ایمان والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھیں، کسی فائدے کی امید پر اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ رکھیں اور جو شخص ایسا کرے گا اس کے لیے اللہ کی دوستی میں سے ذرہ برابر حصہ بھی نہیں ہوگا۔ ہاں، ان کے شر سے کسی طرح بچنے کے لیے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار جائز ہے، جب کہ دل میں ان کے کفر کی وجہ سے نفرت ہو۔ اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے خلاف نہ لڑتے ہوں اور نہ کسی لڑنے والے کی مدد کرتے ہوں تو ان سے حسن سلوک اور مدارات جائز ہے۔ دیکھیے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 30۔
یوم منصوب ہے اور اس ارشاد کے ساتھ متصل ہے : (آیت) ” ویحذرکم اللہ نفسہ “۔ یوم تجد اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس قول کے ساتھ متصل ہے : (آیت) ” والی اللہ المصیر “ (آیت) ” یوم تجد “۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ اس قول کے ساتھ متصل ہے (آیت) ” واللہ علی کل شیء قدیر “۔ (آیت) ” یوم تجد “۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ منقطع ہو (یعنی مذکورہ ارشادات میں سے کسی کے ساتھ یہ متصل نہ ہو) اس بنا پر کہ اس سے پہلے اذکر فعل مضمر ہو اور اسی کی مثل یہ ارشاد بھی ہے : ان اللہ عزیز ذوا نتقام، یوم تبدل الارض “۔
اور محضرا ما کے صلہ میں ضمیر محذوف سے حال ہے، تقدیر کلام یہ ہے ” یوم تجد کل نفس ما عملتہ من خیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(1) ابن جریر نے بکر بن اسوف کے طریق سے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ایک قوم نے کہا اے محمد ﷺ ہم اپنے رب سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم “ یعنی اپنے نبی ﷺ کی اتباع کو اپنی محبت کی نشانی بنا دیا اور عذاب کو مقدر کردیا جو آپ کی مخالفت کرے۔
(2) ابن جریر وابن المنذر نے ابو عبیدہ النافی کے طریق سے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کچھ قوموں نے کہا (اے محمد ! ) اللہ کی قسم ! ہم اپنے رب سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا لفظ آیت ” قل ان کنتم تحبون اللہ…
Read the full tafseer →[یَوْمَ : جس دن ] [تَجِدُ : پائے گی ] [کُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان ] [مَّا : اس کو جو ] [عَمِلَتْ : اس نے عمل کیا ] [مِنْ خَیْرٍ : کسی بھی بھلائی میں سے ] [مُّحْضَرًا : حاضر کیا ہوا ] [وَّمَا : اور اس کو جو ] [عَمِلَتْ : اس نے عمل کیا ] [مِنْ سُوْئٍ : کسی بھی برائی میں سے ] [تَوَدُّ : وہ چاہے گی ] [لَوْ : کاش ] [اَنَّ : کہ ] [بَیْنَہَا وَبَیْنَہٗ : اس (نفس) کے اور اس (برائی) کے مابین ] [اَمَدًام بَعِیْدًا : انتہائی دوری ہوتی ] [وَیُحَذِّرُ : اور محتاط رہنے کی تلقین کرتا ہے ] [کُمُ : تم لوگوں کو ] [اللّٰہُ : اللہ ] [نَفْسَہٗ : اپنے نفس (یعنی غضب) سے ] [وَاللّٰـہُ : اور اللہ ] [رَؤُوْفٌ : بہت…
Read the full tafseer →قیامت کے دن کی پریشانی :
پھر قیامت کے دن کا ایک منظر بتایا اور وہ یہ کہ دنیا میں جس شخص نے جو بھی عمل کیا ہوگا خیر ہو یا شر وہ اسے وہاں اپنے سامنے حاضر کیا ہوا پالے گا انسان کی یہ تمنا ہوگی کہ کاش یہ دن نہ ہوتا جس میں اعمال پیش ہوئے، میرے اور اس دن کے درمیان بہت بڑی مسافت حائل ہوتی، لہٰذا اس دن سے پہلے ہی ہر شخص کو اپنے اعمال درست کرلینا اور اعمال صالحہ کی فکر کرلینا لازم ہے۔ برے عمل کا برا انجام ہے پہلی آیت میں (وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ) فرمایا پھر اس آیت میں بھی اس کا اعادہ فرما کر مکرر نصیحت فرما دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ممانعت دوستان از دوستی دشمنان۔
قال تعالی، لایتخذالمومنون الکافرین اولیاء۔۔۔۔ الی۔۔۔ بالعباد۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بتلایا گیا کہ عزت اور ذلت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں یعنی اہل اسلام کو حکم دیتا ہے کہ تم مسلمانوں کو چھوڑ کر دشمنان خدا کی موالات اور دوستی کی طرف کوئی قدم نہ اٹھانا اور کافروں کی ظاہری اور وقتی شان و شوکت کو دیکھ کر یہ گمان نہ کرنا کہ شاید ان سے دوستانہ تعلقات رکھنے سے کوئی دنیوی عزت وجاہت مل جائے گی، حاشا وکلا۔ ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا۔ کافروں کے پاس جو عزت نظر آتی ہے وہ حقیقی عزت اللہ کے پاس سے ملتی ہے البتہ اگر کسی وقت بحالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
42:۔ یوم کا عامل تَرَدُّ جو بعد میں آرہا ہے اور یہ تخویف اخروی ہے۔ تَوَدُّ لَوْ اَن بَیْنَھَا وَبَیْنَهٗ اَمَداً بَعِیْداً ۔ قیامت کے دن جب ہر آدمی کے نیک اور برے اعمال اس کے سامنے کردئیے جائیں گے اور اعمال کا حساب کتاب ہوگا تو ہر آدمی تمنا کرے گا کہ کاش ! اس کے اور اس کے بد اعمال کے درمیان بہت فاصلہ ہوتا اور وہ ان کو نہ دیکھ پاتا۔ فیکون الضمیر فی بینہ عائد اعلی ما عملت من سوء (بحر ج 2 ص 427) ۔
43 اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی عین رحمت اور مہربانی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو اپنے عذاب سے ڈراتا ہے تاکہ وہ اس کی نافرمانیوں سے باز رہیں اور اس کی اطاعت کریں اور اسی میں ان کی دینی اور دنیوی بھلائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ربط آیات :
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعا کے رنگ میں فرمایا کہ تمام چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ سلطنت کا قبضہ اور اختیار بھی اسی کے پاس ہے۔ عزت اور ذلت اسی کے اختیار میں ہے۔ قدرتِ کاملہ کا مالک بھی وہی ہے۔ وہ جس کو چاہے دے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ اختیارات ، و تصرفات اور تقلبات سب اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت کی دعوت یہ ہو ، انسان کو اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ اور اسی گروہ میں شامل رہنا چاہئے۔ اور وہ گروہ ہے حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والوں کا۔ یہ جماعت دینی بھی ہے اور سیاسی بھی۔ ان کا عقیدہ وہ ہے جو بیان ہوچکا۔ اب جو لوگ اس عقیدے کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ رکھتے…
Read the full tafseer →يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا 0 ۚۖۛ وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْۗءٍ 0 ۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَيْنَہَا وَبَيْنَہٗٓ اَمَدًۢا بَعِيْدًا 0 ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللہُ نَفْسَہٗ 0 ۭ وَاللہُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ 30 ۧ
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ترکیب : ان تخفوا شرط یعلمہ اللّٰہ جزا اور اس کا ترتب بااعتبار علم تفصیلی کے ہے۔ یوم ظرف منصوب اس کے ناصب میں مختلف اقوال ہیں۔ ابن انباری کہتے ہیں المصیر سے متعلق ہے۔ بعض کہتے ہیں اذکر محذوف ہے۔ بعض کہتے ہیں تود سے۔ وماعملت مابمعنی الذی اور عملت اس کا صلہ اور یہ معطوف ہے۔ ما اول پر ‘ لو ان الخ یہ جملہ ممکن ہے کہ تود کی صفت ہو تقدیرہ وما عملت من سوء الذی تودلوان بینہا وبینہ امدا بعیدا (کبیر) اور ممکن ہے کہ حال ہو امدا اسم ہے ان کا۔
تفسیر : جبکہ مومنوں کو کفار سے محبت کرنے کی ممانعت کردی اور بشرط ضرورت ظاہرداری کی اجازت دی تو ان آیات میں اس بات پر تنبیہ کردی کہ دیکھو دل کا حال کوئی مخفی نہیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ ط وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا صلے ج وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓئٍ ج تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَہَا وَبَیْنَـہٗٓ اَمَدًا م بَعِیْدًا ط وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌ م بِالْعِبَادِ ۔ ع
(کہہ دیجیے کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو چھپائو یا ظاہر کرواللہ اسے جانتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس دن موجود پائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کے دشمنوں سے محبت رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور یہ اطاعت رسول کے بغیر ممکن نہ ہوگی۔
دنیا میں ہر مذہب کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قربت و محبت کے حصول کے لیے اپنے اپنے طریقے ایجاد کررکھے ہیں۔ یہودی اپنے آپ کو انبیاء کی اولاد اور خود کو ان کا وارث سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب ہیں۔ مشرکوں نے اپنے بزرگوں، بتوں اور مزارات کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ ٹھہرا لیا ہے کچھ لوگوں نے دنیا سے لاتعلق ہو کر گوشہ نشینی، صحرا نور دی اور چلہ کشی کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ بنایا ہے۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ ان…
Read the full tafseer →30: یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓ ئٍ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَھَا وَبَیْنَہٗٓ اَمَدًا 7 بَعِیْدًاوَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ، وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌمبِالْعِبَادِ ۔ (جس روز ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکی کو اپنے سامنے موجود پائے گا اور جو بدی کی ہوگی اس کو بھی سامنے موجود پائے گا۔ تمنا کریگا کاش اس کے اور اس کے برے عمل کے درمیان لمبی مسافت ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ مومن بندوں پر بڑا مہربان ہے)
یوم کا فائدہ :
یَوْمَ تَجِدُ تا بعیدا : : نمبر 1: یوم ظرف ہے اس کا تعلق تودّ سے ہے اور بینہ کی ضمیر یوم کی…
Read the full tafseer →30۔ (یوم تجد کل نفس جس دن پائے گا ہر نفس) ” یوم منصوب بنزع الخافض “ ہے۔ یعنی حرف جارہ فی محذوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، ” فی یوم “ تھا یا فعل محذوف ” اذکروا، اتقوا فعل کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (ما۔۔۔۔۔۔ محضرا اپنی کی ہوئی نیکی اپنے سامنے) اس سے کچھ بھی کم نہیں کیا جائے گا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” ووجدوا ماعملوا حاضرا “ انہوں نے جو عمل کیا وہ انہوں نے اپنے سامنے حاضر پایا (وما عملت من سوء اور جو اس نے برائی کی ہوگی) بعض حضرات نے ” خیرا “ کو منصوب پڑھا ہے جو اعمال اس نے کئے خواہ وہ خیر ہوں یا شر ، بعض نے کہا کہ وہ اپنے نیک اعمال کو چھپائے گا ۔
بعض حضرات نے خیرا کو جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(29 ۔ 30) ۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ خواہ تم کفار کی دوستی کو دل میں پوشیدہ رکھو خواہ قول و فعل سے اس کا اظہار کرو جب اس سے آسمان و زمین کی چیزیں پوشیدہ نہیں ہیں تو تمہارا حال پوشیدہ رہ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا برے کاموں کے انجام سے بندہ کو ڈرا دینا بڑی شفقت ہے تاکہ وہ توبہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت 28-30
اللہ تعالیٰ مومنوں کو کافروں سے دوستی لگانے سے منع فرماتا ہے کہ ان سے محبت نہ رکھیں، ان کی مدد نہ کریں، مسلمانوں کے کسی کام میں ان سے مدد نہ لیں اور جو کوئی ایسی حرکت کرے اسے تنبیہ فرماتا ہے کہ (ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء ) ” جو ایسا کرے گا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں “ یعنی وہ اللہ سے کٹ گیا ہے، اس کا اللہ کے دین میں کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ کافروں سے دوستی اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے۔ ایمان تو اللہ سے محبت اور اس کے دوستوں یعنی مومنوں سے تعاون کر کے اللہ کے دین کو قائم کرنے اور اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (والمومنون والمومنت بعضھم اولیآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ال اور اہل ایک ہی چیز ہیں
قول باری ہے (وال ابراھیم وآل عمران آل ابراہیم اور آل عمران کو) حضرت ابن عباس اور حسن بصری سے مروی ہے کہ آل ابراہیم وہ اہل ایمان ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر قائم ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آل عمران سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اس لیئے کہ وہ حضرت مریم کے بیٹے ہیں۔ جو عمران کی بیٹی تھیں۔ ایک قول ہے کہ آل عمران سے مراد آل ابراہیم ہی ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (ذریۃ بعضھا من بعض، یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے جو ایک نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ ) ان سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ہیں جو عمران کے بیٹے تھے۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک لفظ آل اور لفظ اہل بیت دونوں کا مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
67 روز جزا میں اہل باطل کی ایک بےفائدہ تمنا : سو اس روز ایسے لوگ رہ رہ کر تمنا کریں گے کہ کاش کہ ان کے اور ان کے برے اعمال کے درمیان بڑے دور کی مسافت حائل ہوجاتی تاکہ مجھے اس کے معائنے کی اور یہ انجام بد دیکھنے کی نوبت نہ آتی، مگر اس وقت اس کے اس چاہنے سے اس کو کچھ فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سو بچنا ہے تو اب دنیا کی اس فرصت میں اس سے بچنے کی فکر و کوشش کرو کہ آخرت کی فوز و فلاح کے حاصل کرنے کی فرصت اور وہاں کیلئے کمائی کرنے کی جگہ یہ دنیا ہی ہے، جیسا کہ فرمایا گیا " اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ للاٰخِرَۃ " کہ " دنیا آخرت کی کھیتی ہے "۔ اس فرصت کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر کمائی کیلئے کوئی موقع ملنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
کافروں کی پشیمانی
تشریح : اس آیت میں خاص طور سے یہ بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ان لوگوں کو خوب اچھی طرح سمجھا دو کہ ان کے دلوں کی باتیں اور ان کے ظاہری اعمال کچھ بھی اللہ سے چھپا ہوا نہیں۔ کیونکہ رب العزت تو ہر اس چیز سے باخبر ہے جو اس کائنات میں موجود ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حساب کا دن ضرور آئے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں سے محبت کرتا ہے اسی لئے بار بار حساب کا دن یاد کروایا جارہا ہے وہ دن اتنا سخت ہوگا کہ اس دن کفار اپنے کئے ہوئے اعمال سے سخت شرمندہ ہوں گے اور گھبرا گھبرا کر کہیں گے کاش یہ دن ابھی نہ آتا یا یہ کہ کاش ہم دوبارہ عمل کی زندگی میں چلے جائیں یہ دونوں ناممکن ہوں گے۔ یہ جو باربار حساب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21- 30
اسرارو معارف
ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔
بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔
تو اے نبی ! ﷺ ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 2 یہود نصایٰ اور مشرکین سبھی یہ دعو یٰ کرتے ہیں تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ تم ان سے کہہ دو کہ اب اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کا نبی مان کر میری اتباع اختیار کرلو۔ (وحیدی) اور اس خطاب کا تعلق مسلمانوں سے بھی ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ ہے تو اس کے لیے زبانی اظہار محبت کافی نہیں ہے بلکہ جمع اقوال وافعال میں میری پیروی اختیار کرو۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : شرک غلط محبت کی راہ سے سرایت کرتا ہے۔ اور الدین نام ہے اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی کرنے اور اللہ تعالیٰ کے لیے دشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
(3:30) بینھا و بینہ۔ میں ھا ضمیر نفس کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر کا مرجع یا عمل سور ہے یا یوم ہے۔
تود۔ مضارع واحد مؤنث غائب ود (باب سمع) سے مصدر ۔ وہ چاہے گی۔ آرزو کرے گی۔ دوست رکھے گی۔
امدا۔ مدت مدید۔ رؤف۔ مہربان ۔ شفقت کرنے والا۔ رأفۃ سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 30
لایتخذ (نہ بنائیں) اولیاء (دوست (ولی کی جمع ہے) دون المومنین (مومنوں کو چھوڑ کر) من یفعل (جوکرے گا) تتقوا (تم بچو) تقٰه (بچاؤ) یحذر (وہ ڈراتا ہے) نفسه (اپنی ذات) ان تخفوا (اگر تم چھپاؤگے) صدور (دل، سینے (صدر، کی جمع ہے) محضر (حاضر ، سامنے) تود (پسند کرے گا) امدًا بعیدًا (دور کا فاصلہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 28 تا 30
28 سے 30 تک آیات کی تشریح یہ ہے کہ اس سے پہلے آیات میں بتایا گیا تھا کہ کسی شخص یا حکومت وسلطنت کا عروج وزوال اور کسی کو عزت وذلت دینا سب اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ ان آیات میں اہل ایمان سے کہا جارہا ہے کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
کافروں سے دوستی کا حال : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی محبت اور کافروں کی محبت ایک جگہ ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔ ہاں اگر ایسا ہی کہیں جان کا خوف ہو تو ظاہر میں ان سے دفع ضرر کے لئے میٹھی بات کرلی جاوے مگر دلی دوستی ان سے نہ رکھی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[12] کافروں کے ساتھ حسن سلوک کی تین ہی ممکن صورتیں ہیں : (1) موالات یعنی دوستی، (2) مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی و خاطرداری، (3) مواسات یعنی احسان و نفع رسانی۔ موالات تو کسی حال میں جائز نہیں۔ مدارات تین حالتوں میں درست ہے : ایک دفع شر کے لئے، دوسرے خود اس کافر کی مصلحت دینی یعنی ہدایت کے واسطے، تیسرے جب کافر مہمان ہو تو اس موقع پر۔ مواسات حالت جنگ میں ناجائز اور حالت امن میں جائز ہے۔
[13] اصل میں لفظ '' تقاۃ '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ڈرنا، بچنا، پرہیزگاری، یہی معنی تقیہ کے بھی ہیں۔ '' تقاۃ '' یہاں ڈرنے اور بچنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مومن کسی دشمن اسلام جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
تقرب الہی کا واحد ذریعہ :
(ف 1) انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ قول وفعل سے اللہ کے بندوں میں اللہ کی محبت پیدا کردیں اور گم کردہ راہ لوگوں کو جادہ مستقیم پر ڈال دیں ، وہ انسانوں کو ہدایت و رہنمائی کا پہلا اور آخری وسیلہ ہیں ، اس لئے ان سے قطع نظر کسی طرح جائز و درست نہیں ۔
اس آیت میں محبت الہی کے دعوے داروں کو اطاعت رسول ﷺ اور اتباع سید الابرار ﷺ کی جانب دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے بجز اطاعت رسول ﷺ کے اور کوئی طریق نہیں ، قیامت تک کے لئے محبوبیت ومقبولیت کا تاج فرق اقدس کے سوا اور کسی کے سر پر زیب نہیں دیتا ، وہ جو تقرب وتالف کے مدارج طے کرنا چاہتے…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ اے پیغمبر ! آپ ان نے کہہ دیجئے جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اگر تم اپنے اس مانی الضمیر کو چھپائے رکھو تب اور اگر تم اپنے کسی عمل سے اس کو ظاہر کردو تب ہر حال میں اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اور ایک تمہارے ما فی الضمیر پر کیا منحصر ہے اللہ تعالیٰ تو جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس سب کو بھی جانتا ہے ۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔
لہٰذا مجرموں کو سزا دینے پر اسے قدرت حاصل ہے اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی بھلائی کو اور اپنی کی ہوئی برائی کو اپنے سامنے دھرا پائے گا یعنی برائی اور بھلائی کا پھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ف 1۔ اگر یہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت ومسی (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ہیں اور اگر یہ عمران حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →عمل نیک ہو یا بد اس کا نتیجہ عمل کرنے والے کے سامنے حاضر کردیا جائے گا :
76: گویا یہ وعدہ خداوندی ہے جو قرآن کریم کے صفحات میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ اعمال اور ان کے نتائی لازم و ملزوم ہیں اگر عمل ہے تو نتیجہ ہے اور پھر اس کی وضاحت بھی فرما دی کہ یاد رکھو کہ نتیجہ عمل کے مطابق ہوگا۔ اگر عمل درست ہے تو نتیجہ خراب نہیں ہو سکتا اور اگر عمل خرام ہے تو نتیجہ درست ممکن ہی نہیں ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے۔ کہ جب دنیا میں ان کو کہا جاتا تھا کہ
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ005 وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ006 (الذاریات 51 : 5۔ 6) ” كه جس چیز کا تمہیں وعدہ دیاجارہا ہے یا جس چیز سے تمہیں خوف دلایاجارہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
Commentary
In these verses, Muslims have been instructed not to take disbelievers as their friends. Those who act against this instruction have been sternly warned: Those who take them as friends will find that their bond of love and friendship with Allah has been cut off. Any emotionally involved friendship that comes from the heart is absolutely forbidden (Haram). However, a formal friendship at the level of mutual dealings is, no doubt, permissible; but, that too is not favoured if unnecessary.
Verses dealing with this subject have appeared at many places in the Holy Qur'an with varying…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
27. It is out of sheer goodwill that God warns people against deeds likelyto have devastating consequences for them.
Read the full tafseer →