Explained with ayahs 29–30
اللہ تعالیٰ سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔ زمین کے گوشوں میں پہاڑوں کے سمندروں میں آسمانوں میں ہواؤں میں سوراخوں میں غرض جو کچھ جہاں کہیں ہے سب اس کے علم میں ہے پھر ان سب پر اس کی قدرت ہے جس طرح چاہے رکھے جو چاہے جزا سزا دے، پس اتنے بڑے وسیع علم والے اتنی بڑی زبردست قدرت والے سے ہر شخص کو ڈرتے ہوئے رہنا چاہیے۔ اس کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہیے اور اس کی نافرمانیوں سے علیحدہ رہنا چاہیے، وہ عالم بھی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة اٰلِ عِمْرٰن 27
یعنی یہ اس کی انتہائی خیر خواہی ہے کہ وہ تمہیں قبل از وقت ایسے اعمال پر متنبہ کر رہا ہے جو تمہارے انجام کی خرابی کے موجب ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
خلاصہ تفسیر
ربط آیاتمذکور الصدر آیات میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کافروں کو دوست نہ بنائیں اور اس ہدایت کی مخالفت کرنے والوں کے لئے سخت وعید ہے کہ جو ان کو دوست بنائے گا، اس کا اللہ تعالیٰ سے دوستی و محبت کا علاقہ قطع ہوجائے گا، کافروں سے باطنی اور دلی دوستی تو مطلقا حرام ہے، اور ظاہری دوستی معاملات کے درجہ میں اگرچہ جائز ہے، مگر بلا ضرورت وہ بھی پسند نہیں۔
مختصر تفسیر ان آیات کی یہ ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ (ظاہرا یا باطنا) کفار کو دوست نہ بنائیں مسلمانوں (کی دوستی) سے تجاوز کر کے (یہ تجاوز دو صورت سے ہوتا ہے، ایک یہ کہ مسلمانوں سے بالکل دوستی نہ رکھیں، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی…
Read the full tafseer →”مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ“ میں اشارہ ہے اس نفاق اور اہل کفر کی دوستی کی طرف جو یہ لوگ اپنے دلوں میں رکھتے تھے۔ فرمایا کہ اس کو چھپاؤ یا ظاہر کرو خدا سے کوئی چیز بھی چھپی نہیں ہے۔ وہ صرف تمہارے دلوں کے راوں ہی سے نہیں بلکہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے، سب سے باخبر بھی ہے اور ہر چیز پر قادر بھی ہے۔ اس علم وقدرت کے باوجود اگر وہ ڈھیل دے رہا ہے تو اس لیے کہ اس نے جزا اور سزا کے لیے ایک خاص دن مقرر کر رکھا ہے جس میں ہر ایک کے سامنے اس کی نیکی اور بدی سب آجائے اور ایسے نتائج کے ساتھ سامنے آئے گی کہ جو لوگ اس ڈھیل سے دھوکے میں پڑ کر اس دن کو اتنا بعدی سمجھ بیٹھے کہ اس کے لیے کسی فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
31۔ 1 یہود اور نصاری دونوں کا دعویٰ تھا کہ ہمیں اللہ سے اور اللہ تعالیٰ کو ہم سے محبت ہے بالخصوص عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ و مریم علہما السلام کی تعظیم و محبت میں اتنا غلو کیا کہ انہیں درجہ الوہیت پر فائز کردیا اس کی بابت بھی ان کا خیال تھا کہ ہم اس طرح اللہ کا قرب اور اس کی رضا و محبت چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے دعو وں اور خود ساختہ طریقوں سے اللہ کی محبت اور اس کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی اس کا تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ میرے آخری پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی پیروی کرو۔ اس آیت نے تمام دعوے داران محبت کے لئے ایک کسوٹی اور معیار مہیا کردیا ہے کہ محبت الہٰی کا طالب اگر اتباع محمد ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
10: آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 176:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ ؑ کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ آرہا ہے۔ اس لیے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم (علیہا السلام) ہی کے والد مراد ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ إِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
” اے نبی لوگوں کو خبردار کردو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے خواہ تم چھپاؤ ‘ یا ظاہر کرو ‘ اللہ بہرحال اسے جانتا ہے ۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اس کا اقتدار ہر چیز پر حاوی ہے ۔ “
تہدید اور ڈراوے کی یہ انتہاء ہے ۔ اللہ خوفی کو جوش میں لایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے انتقام سے اپنے آپ کو بچاؤ ‘ اللہ کے پاس علم وقدرت کے دوررس وسائل ہیں ۔ اس سے بچ نکلنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی…
Read the full tafseer →1 یعنی ممکن ہے آدمی اپنی نیت اور دل کی بات آدمیوں سے چھپالے لیکن وہ اس طرح خدا کو فریب نہیں دے سکتا۔ (وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ) 2 ۔ البقرۃ :220)
2 جب علم اس قدر محیط اور قدرت ایسی عام و تام ہے تو مجرم کے لئے اخفاء جرم یا سزا سے بچ کر بھاگ جانے کی کوئی صورت نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 29 قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ ط۔
تم اپنے سینوں میں مخفی باتیں ایک دوسرے سے تو چھپا سکتے ہو ‘ اللہ تعالیٰ سے نہیں۔ سورة البقرۃ میں ہم پڑھ چکے ہیں : وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ ط اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے ظاہر کرو خواہ چھپاؤ اللہ تم سے اس کا محاسبہ کرلے گا۔
Read the full tafseer →31۔ 1 یہ آیت دراصل پچھلی آیت ہی کی تفسیر ہے۔ یعنی اے مسلمانو ! اگر تم کفر کی محبت کو دل میں جگہ دو گے یا کافروں سے محبت کا برتاؤ رکھو گے تو تمہارے یہ باطنی اور ظاہری اعمال اللہ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔ لہذا تم اللہ کی دی ہوئی رعایت سے اسی قدر فائدہ اٹھاؤ جس کے بغیر کوئی چارہ کار نظر نہ آرہا ہو۔ ورنہ یاد رکھو کہ اللہ بڑی قدرت والا ہے۔ وہ تمہیں دنیا میں بھی سزا دے سکتا ہے اور ذلیل و رسوا کرسکتا ہے اور آخرت کے عذاب سے بھی بچ نہ سکو گے۔
Read the full tafseer →73 ۔ یعنی اس کا علم ہر طرح کامل جزئیات وکلیات سب پر حاوی، حاضر و غائب سب پر شامل ہے۔ اس میں رد آگیا یونان اور دوسری قوموں کے ان جاہل فلسفیوں کا جنہوں نے خدا کی صفت علم کو ناقص و محدود مانا ہے۔
74 ۔ (آیت) ” السموت والارض “۔ کی تصریح صرف محاورۂ زبان کے مطابق ہے۔ مراد صفت علم کی کاملیت و جامعیت کا اظہار ہے۔
75 ۔ اور جب علم کے ساتھ اس کی قدرت بھی کامل ہے تو وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی سزا سے ڈرا جائے) مشرک قوموں کو اصلی ٹھوکر صفت علم کے ساتھ صفت قدرت میں بھی لگی ہے۔ اسی لئے بار بار زور انہی صفات پر دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
آیت نمبر 31 تا 41
ترجمہ : جب مشرکین نے کہا ہم (ان بتوں کی) اللہ کی محبت میں پوجا کرتے ہیں تاکہ یہ ہم کو اس کو مقرب بنادیں آیت نازل ہوئی۔ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یعنی تم کو اس کا ثواب دے گا۔ اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ اس شخص کے جس نے میری پیروی کی ان تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے جو اس سے سابق میں ہوچکے ہیں اور اس پر رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو توحید وغیرہ میں جس کا وہ حکم کرتا ہے۔ اس پر بھی اگر وہ گرداں رہیں یعنی طاعت سے اعراض کریں۔ تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ يَعْلَمْهُ اللّٰهُ : اے محمد ﷺ کہہ دو کہ کافروں کی موالات وغیرہ خواہ تم اپنے دلوں میں چھپائے رکھو یا قول و عمل سے اس کا اظہار کردو بہر حال اللہ اس کو جانتا ہے یعنی چھپانا اور ظاہر کرنا دونوں برابر ہیں خدا کو بہر حال علم ہوتا ہے۔
وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ: یہ جملہ از سر نو مستقل ہے جزاء پر اس کا عطف نہیں ہے اور کلام سابق کی گویا علت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کی جب کوئی چیز اللہ سے مخفی نہیں اور وہ سب پر قابو رکھتا ہے تو تمہارے دلوں کی حالت اس سے کیسے چھپی رہ سکتی…
Read the full tafseer →(29) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر تم رسول اللہ ﷺ سے عداوت ودشمنی دل میں پوشیدہ رکھو یا آپ کی شان میں گستاخیاں کرکے زبان سے ظاہر کرو، وہ رب سب کچھ جانتا ہے اور سب پر بدلا دے گا اور صرف اتنا نہیں وہ تو تمام خیر و شر اور ایک ظاہر وچھپی ہوئی باتوں کو جانتے ہیں، وہ تمام آسمانوں اور زمینوں کے رازوں سے آگاہ اور آدمیوں کو جزا اور سزا دینے پر قادر ہیں، یہ آیت منافقین اور یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔۔ : جب اکیلا اللہ تعالیٰ ہی بادشاہی کا مالک، عزت و ذلت دینے والا اور ہر خیر والا ہے تو ایمان والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھیں، کسی فائدے کی امید پر اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ رکھیں اور جو شخص ایسا کرے گا اس کے لیے اللہ کی دوستی میں سے ذرہ برابر حصہ بھی نہیں ہوگا۔ ہاں، ان کے شر سے کسی طرح بچنے کے لیے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار جائز ہے، جب کہ دل میں ان کے کفر کی وجہ سے نفرت ہو۔ اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے خلاف نہ لڑتے ہوں اور نہ کسی لڑنے والے کی مدد کرتے ہوں تو ان سے حسن سلوک اور مدارات جائز ہے۔ دیکھیے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 29۔
پس وہ سینوں میں مخفی اور چھپی چیزوں کو اور ان تمام کو جن پر وہ مشتمل ہیں جاننے والا ہے اور ان تمام کے بارے جاننے والا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور انہیں جاننے والا ہے جنہیں یہ گھیرے ہوئے ہیں، وہ اعلام الغیوب ہے اس سے ذرہ برابر کوئی شے پوشیدہ نہیں اور نہ اس سے کوئی شے غائب ہے اس کی ذات پاک ہے۔ (آیت) ’ لا الہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ “۔
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ سدی (رح) نے فرمایا کہ (اس آیت میں) ان کو خبر دی گئی کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو کچھ انہوں نے چھپ کر عمل کئے اور جو کچھ انہوں نے اعلانیہ کئے اسی کو فرمایا۔ لفظ آیت ” ان تخفوا ما فی صدورکم او تبدوہ یعلمہ اللہ “۔
(2) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ قتادہ (رح) نے فرمایا کہ لفظ آیت ” یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضرا “ (یعنی اس دن ہر انسان پائے گا جو کچھ اس نے عمل کیا خیر میں سے حاضر کیا ہوا) اس سے مراد ہے ” موفرا “ یعنی وافر۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ حسن ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” وما عملت من سوء تود لو ان بینھا وبینہ…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہیے !] [اِنْ : اگر ] [تُخْفُوْا : تم لوگ چھپائو ] [مَا : اس کو جو ] [فِیْ صُدُوْرِکُمْ : تمہارے سینوں میں ہے ] [اَوْ : یا ] [تُبْدُوْہُ : تم لوگ ظاہر کرو اس کو ] [یَعْلَمْہُ : جانتا ہے اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ ] [وَیَعْلَمُ : اور وہ جانتا ہے ] [مَا : اس کو جو ] [فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [وَمَا : اور اس کو جو ] [فِی الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [قَدِیْرٌ : قادر ہے ]
Read the full tafseer →اللہ سب جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
پہلے تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کو سب کچھ معلوم ہے دلوں کا حال چھپاؤ یا ظاہر کرو وہ سب کو جانتا ہے، جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ اسے وہ سب معلوم ہے اور اسے ہر چیز پر قدرت بھی ہے۔ جس ذات پاک کے علم وقدرت سے کچھ بھی باہر نہیں اس سے ڈرنا اور اس کے احکام کی پابندی کرنا لازم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ممانعت دوستان از دوستی دشمنان۔
قال تعالی، لایتخذالمومنون الکافرین اولیاء۔۔۔۔ الی۔۔۔ بالعباد۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بتلایا گیا کہ عزت اور ذلت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں یعنی اہل اسلام کو حکم دیتا ہے کہ تم مسلمانوں کو چھوڑ کر دشمنان خدا کی موالات اور دوستی کی طرف کوئی قدم نہ اٹھانا اور کافروں کی ظاہری اور وقتی شان و شوکت کو دیکھ کر یہ گمان نہ کرنا کہ شاید ان سے دوستانہ تعلقات رکھنے سے کوئی دنیوی عزت وجاہت مل جائے گی، حاشا وکلا۔ ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا۔ کافروں کے پاس جو عزت نظر آتی ہے وہ حقیقی عزت اللہ کے پاس سے ملتی ہے البتہ اگر کسی وقت بحالت…
Read the full tafseer →41:۔ یہ تخویف دنیوی ہے یعنی اللہ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اگر تم خفیہ طور پر ان کافروں سے تعلقات رکھو گے تو یہ بھی اس کے علم میں ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ہی تمہیں اس کی سزا دے دے۔ وَیَعْلَمُ مَافِیْ السَّمٰوَاتِ وَمَافِیْ الْاَرْضِ یہ ماقبل کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے تمام معلومات اور حقائق پر حاوی اور ہر چیز پر قادر بھی ہے اس لیے وہ کافروں سے تمہاری پوشیدہ دوستی کو جانتا اور اس پر سزا بھی دے سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ربط آیات :
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعا کے رنگ میں فرمایا کہ تمام چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ سلطنت کا قبضہ اور اختیار بھی اسی کے پاس ہے۔ عزت اور ذلت اسی کے اختیار میں ہے۔ قدرتِ کاملہ کا مالک بھی وہی ہے۔ وہ جس کو چاہے دے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ اختیارات ، و تصرفات اور تقلبات سب اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت کی دعوت یہ ہو ، انسان کو اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ اور اسی گروہ میں شامل رہنا چاہئے۔ اور وہ گروہ ہے حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والوں کا۔ یہ جماعت دینی بھی ہے اور سیاسی بھی۔ ان کا عقیدہ وہ ہے جو بیان ہوچکا۔ اب جو لوگ اس عقیدے کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ رکھتے…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ يَعْلَمْہُ اللہُ 0 ۭ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0 ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 29
خفی
خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ،
( خی ) خفی ( س )
خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔
صدر
الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10]
( ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ترکیب : ان تخفوا شرط یعلمہ اللّٰہ جزا اور اس کا ترتب بااعتبار علم تفصیلی کے ہے۔ یوم ظرف منصوب اس کے ناصب میں مختلف اقوال ہیں۔ ابن انباری کہتے ہیں المصیر سے متعلق ہے۔ بعض کہتے ہیں اذکر محذوف ہے۔ بعض کہتے ہیں تود سے۔ وماعملت مابمعنی الذی اور عملت اس کا صلہ اور یہ معطوف ہے۔ ما اول پر ‘ لو ان الخ یہ جملہ ممکن ہے کہ تود کی صفت ہو تقدیرہ وما عملت من سوء الذی تودلوان بینہا وبینہ امدا بعیدا (کبیر) اور ممکن ہے کہ حال ہو امدا اسم ہے ان کا۔
تفسیر : جبکہ مومنوں کو کفار سے محبت کرنے کی ممانعت کردی اور بشرط ضرورت ظاہرداری کی اجازت دی تو ان آیات میں اس بات پر تنبیہ کردی کہ دیکھو دل کا حال کوئی مخفی نہیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ ط وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا صلے ج وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓئٍ ج تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَہَا وَبَیْنَـہٗٓ اَمَدًا م بَعِیْدًا ط وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌ م بِالْعِبَادِ ۔ ع
(کہہ دیجیے کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو چھپائو یا ظاہر کرواللہ اسے جانتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس دن موجود پائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کے دشمنوں سے محبت رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور یہ اطاعت رسول کے بغیر ممکن نہ ہوگی۔
دنیا میں ہر مذہب کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قربت و محبت کے حصول کے لیے اپنے اپنے طریقے ایجاد کررکھے ہیں۔ یہودی اپنے آپ کو انبیاء کی اولاد اور خود کو ان کا وارث سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقرب ہیں۔ مشرکوں نے اپنے بزرگوں، بتوں اور مزارات کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ ٹھہرا لیا ہے کچھ لوگوں نے دنیا سے لاتعلق ہو کر گوشہ نشینی، صحرا نور دی اور چلہ کشی کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ بنایا ہے۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ ان…
Read the full tafseer →29: قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَافِیْ صُدُوْرِکُم اَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ وَیَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ ، وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قََدِیْرٌ۔ (اے محمد ﷺ کہہ دیں اگر تم چھپائو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو ظاہر کرو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت والے ہیں) قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَافِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ یعنی کفار کی ولایت وغیرہ اور جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں یَعْلَمْہُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ پر مخفی نہیں) یہ انتہائی بلیغ وعید ہے۔
وَیَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 29۔:
(قل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدورکم اے محمد ! ﷺ کہہ دو کہ اگر تم چھپائے رکھو اپنے دلوں میں) تمہارے دلوں میں کفار کی دوستی جو چھپائے رکھے ہو (اوتبدوہ یا اس کا اظہار کرو) ان کی دوستی کا اظہار کرو قول وعمل سے (یعلمہ اللہ اللہ اس کو خوب جانتا ہے) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کو چھپاؤ یعنی آپ ﷺ کے سامنے جھوٹ بول کر اس کا اظہار نہ کرو یا کفار کے سامنے جا کر آپ ﷺ کی جنگ کے متعلق گفتگو اور قتال کے متعلق ان کو بتلائیں ، اللہ ان سب باتوں کو جانتا ہے اور ان کو محفوظ کرکے رکھتا ہے اور تمہیں اس کا بدلہ بھی دیا جائے گا (ویعلم ۔۔۔۔۔ والارض اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(29 ۔ 30) ۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ خواہ تم کفار کی دوستی کو دل میں پوشیدہ رکھو خواہ قول و فعل سے اس کا اظہار کرو جب اس سے آسمان و زمین کی چیزیں پوشیدہ نہیں ہیں تو تمہارا حال پوشیدہ رہ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا برے کاموں کے انجام سے بندہ کو ڈرا دینا بڑی شفقت ہے تاکہ وہ توبہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت 28-30
اللہ تعالیٰ مومنوں کو کافروں سے دوستی لگانے سے منع فرماتا ہے کہ ان سے محبت نہ رکھیں، ان کی مدد نہ کریں، مسلمانوں کے کسی کام میں ان سے مدد نہ لیں اور جو کوئی ایسی حرکت کرے اسے تنبیہ فرماتا ہے کہ (ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء ) ” جو ایسا کرے گا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں “ یعنی وہ اللہ سے کٹ گیا ہے، اس کا اللہ کے دین میں کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ کافروں سے دوستی اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے۔ ایمان تو اللہ سے محبت اور اس کے دوستوں یعنی مومنوں سے تعاون کر کے اللہ کے دین کو قائم کرنے اور اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (والمومنون والمومنت بعضھم اولیآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ال اور اہل ایک ہی چیز ہیں
قول باری ہے (وال ابراھیم وآل عمران آل ابراہیم اور آل عمران کو) حضرت ابن عباس اور حسن بصری سے مروی ہے کہ آل ابراہیم وہ اہل ایمان ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر قائم ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آل عمران سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اس لیئے کہ وہ حضرت مریم کے بیٹے ہیں۔ جو عمران کی بیٹی تھیں۔ ایک قول ہے کہ آل عمران سے مراد آل ابراہیم ہی ہیں جس طرح کہ قول باری ہے (ذریۃ بعضھا من بعض، یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے جو ایک نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ ) ان سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ہیں جو عمران کے بیٹے تھے۔ ہمارے اصحاب کے نزدیک لفظ آل اور لفظ اہل بیت دونوں کا مفہوم…
Read the full tafseer →65 اللہ کے کمال علم کا ذکر : سو اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کو ایک برابر جانتا ہے : کہ اس سے کوئی چیز یا کسی چیز کا کوئی پہلو پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ سو دنیا والوں سے تو تم لوگ بہت کچھ چھپا سکتے ہو مگر اس سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے۔ اس لئے اس وحدہ لاشریک سے اپنے دلوں کا معاملہ بھی ہمیشہ درست رکھا کرو اور یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیش نظر رکھا کرو کہ اس کے یہاں ظاہر و باطن سب ایک برابر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس سے کسی کی کوئی بھی حرکت مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ سو وہ تمہارے دلوں میں چھپے ہوئے رازوں کو بھی جانتا ہے اور آسمان اور زمین کی اس پوری کائنات میں جو کچھ ہے اس سے بھی پوری طرح آگاہ ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
کافروں کی پشیمانی
تشریح : اس آیت میں خاص طور سے یہ بتایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ان لوگوں کو خوب اچھی طرح سمجھا دو کہ ان کے دلوں کی باتیں اور ان کے ظاہری اعمال کچھ بھی اللہ سے چھپا ہوا نہیں۔ کیونکہ رب العزت تو ہر اس چیز سے باخبر ہے جو اس کائنات میں موجود ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حساب کا دن ضرور آئے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں سے محبت کرتا ہے اسی لئے بار بار حساب کا دن یاد کروایا جارہا ہے وہ دن اتنا سخت ہوگا کہ اس دن کفار اپنے کئے ہوئے اعمال سے سخت شرمندہ ہوں گے اور گھبرا گھبرا کر کہیں گے کاش یہ دن ابھی نہ آتا یا یہ کہ کاش ہم دوبارہ عمل کی زندگی میں چلے جائیں یہ دونوں ناممکن ہوں گے۔ یہ جو باربار حساب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21- 30
اسرارو معارف
ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔
بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔
تو اے نبی ! ﷺ ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 2 یہود نصایٰ اور مشرکین سبھی یہ دعو یٰ کرتے ہیں تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ تم ان سے کہہ دو کہ اب اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم مجھے اللہ تعالیٰ کا نبی مان کر میری اتباع اختیار کرلو۔ (وحیدی) اور اس خطاب کا تعلق مسلمانوں سے بھی ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ ہے تو اس کے لیے زبانی اظہار محبت کافی نہیں ہے بلکہ جمع اقوال وافعال میں میری پیروی اختیار کرو۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : شرک غلط محبت کی راہ سے سرایت کرتا ہے۔ اور الدین نام ہے اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی کرنے اور اللہ تعالیٰ کے لیے دشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(3:28) فلیس من اللہ فی شیئ۔ اس فقرہ کی ترتیب کچھ یوں ہوسکتی ہے۔
(1) فلیس من اللہ فی شیء (الخازن) تو اس کے لئے اللہ کی طرف سے کوئی دوستی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ تو اللہ کے دشمنوں کے دوست ہیں تو اللہ ان کو کیسے دوست رکھے گا۔ کیونکہ موالاۃ اللہ وموالاۃ الکفار ضدان لا یجتمعان۔ کہ خدا کی دوستی اور کفار کی دوستی باہم ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جو کبھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔
(2) فلیس لہ نصر او ولایۃ من اللہ فی ای امر۔ تو کسی امر میں بھی اس کو اللہ کی دوستی یا مدد نصیب نہ ہوگی۔ (عبد اللہ یوسف علی)
الا ان تتقوا منھم تقۃ۔ تتقوا۔ مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تتقون تھا۔ نون اعرابی بوجہ عامل ان کے گرگیا۔
تقۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 30
لایتخذ (نہ بنائیں) اولیاء (دوست (ولی کی جمع ہے) دون المومنین (مومنوں کو چھوڑ کر) من یفعل (جوکرے گا) تتقوا (تم بچو) تقٰه (بچاؤ) یحذر (وہ ڈراتا ہے) نفسه (اپنی ذات) ان تخفوا (اگر تم چھپاؤگے) صدور (دل، سینے (صدر، کی جمع ہے) محضر (حاضر ، سامنے) تود (پسند کرے گا) امدًا بعیدًا (دور کا فاصلہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 28 تا 30
28 سے 30 تک آیات کی تشریح یہ ہے کہ اس سے پہلے آیات میں بتایا گیا تھا کہ کسی شخص یا حکومت وسلطنت کا عروج وزوال اور کسی کو عزت وذلت دینا سب اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ ان آیات میں اہل ایمان سے کہا جارہا ہے کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
کافروں سے دوستی کا حال : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی محبت اور کافروں کی محبت ایک جگہ ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔ ہاں اگر ایسا ہی کہیں جان کا خوف ہو تو ظاہر میں ان سے دفع ضرر کے لئے میٹھی بات کرلی جاوے مگر دلی دوستی ان سے نہ رکھی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[12] کافروں کے ساتھ حسن سلوک کی تین ہی ممکن صورتیں ہیں : (1) موالات یعنی دوستی، (2) مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی و خاطرداری، (3) مواسات یعنی احسان و نفع رسانی۔ موالات تو کسی حال میں جائز نہیں۔ مدارات تین حالتوں میں درست ہے : ایک دفع شر کے لئے، دوسرے خود اس کافر کی مصلحت دینی یعنی ہدایت کے واسطے، تیسرے جب کافر مہمان ہو تو اس موقع پر۔ مواسات حالت جنگ میں ناجائز اور حالت امن میں جائز ہے۔
[13] اصل میں لفظ '' تقاۃ '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ڈرنا، بچنا، پرہیزگاری، یہی معنی تقیہ کے بھی ہیں۔ '' تقاۃ '' یہاں ڈرنے اور بچنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مومن کسی دشمن اسلام جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
تقرب الہی کا واحد ذریعہ :
(ف 1) انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ قول وفعل سے اللہ کے بندوں میں اللہ کی محبت پیدا کردیں اور گم کردہ راہ لوگوں کو جادہ مستقیم پر ڈال دیں ، وہ انسانوں کو ہدایت و رہنمائی کا پہلا اور آخری وسیلہ ہیں ، اس لئے ان سے قطع نظر کسی طرح جائز و درست نہیں ۔
اس آیت میں محبت الہی کے دعوے داروں کو اطاعت رسول ﷺ اور اتباع سید الابرار ﷺ کی جانب دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے بجز اطاعت رسول ﷺ کے اور کوئی طریق نہیں ، قیامت تک کے لئے محبوبیت ومقبولیت کا تاج فرق اقدس کے سوا اور کسی کے سر پر زیب نہیں دیتا ، وہ جو تقرب وتالف کے مدارج طے کرنا چاہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 2۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائیں اور جو شخص ایسا کرے گا یعنی مسلمانوں کو نظر انداز کر کے کافروں سے دوستی بڑھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس کی دوستی کا کوئی واسطہ اور کوئی تعلق نہیں مگر ہاں وہ حالت ستثنا ہے کہ تم کو کافروں کے شر سے بچنے کیلئے ایسا کرنا پڑے اور تم کو ان سے کوئی سخت اندیشہ ہو اور تم بظاہر ان سے دوستانہ طرز عمل اختیار کرلو اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنے سے ڈراتا اور خوف دلاتا ہے اور تم کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے یعنی بہر حال آخری مرجمع اسی کی ذات ہے۔ ( تیسیر)
مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
ف 1۔ اگر یہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت ومسی (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ہیں اور اگر یہ عمران حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →انجام کار انسان کو اپنے کیے کا جواب دہ ہونا ہے وہ بھی علم وخبیر کے سامنے :
74: یہ بات ہر وقت اور ہر آن یاد رہنی چاہیے کہ اس دنیا کی زندگی بالکل عارضی ہے اور ہر ایک انسان کو اپنے کیے ہوئے کاموں کا اپنے مالک حقیقی کے سامنے جوابدہ ہونا ہے لہٰذا اس کے احکام کی ظاہری اور باطنی ہر مخالفت سے باز رہنا چاہیے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جو بذات الصدور ہے اور وہ سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
مَنْ کَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ 1ۚ وَ لَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
Commentary
In these verses, Muslims have been instructed not to take disbelievers as their friends. Those who act against this instruction have been sternly warned: Those who take them as friends will find that their bond of love and friendship with Allah has been cut off. Any emotionally involved friendship that comes from the heart is absolutely forbidden (Haram). However, a formal friendship at the level of mutual dealings is, no doubt, permissible; but, that too is not favoured if unnecessary.
Verses dealing with this subject have appeared at many places in the Holy Qur'an with varying…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
27. It is out of sheer goodwill that God warns people against deeds likelyto have devastating consequences for them.
Read the full tafseer →