ترک موالات کی وضاحت
یہاں اللہ تعالیٰ ترک موالات کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے مسلمانوں کو کفار سے دوستی اور محض محبت کرنا مناسب نہیں بلکہ انہیں آپس میں ایمان داروں سے میل ملاپ اور محبت رکھنی چاہیے، پھر انہیں حکم سناتا ہے کہ جو ایسا کرے گا اس سے اللہ بالکل بیزار ہوجائے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَاۗءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ ۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ) 60۔ الممتحنہ :1) یعنی مسلمانو میرے اور اپنے دشمنوں سے دوستی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 25
یعنی اگر کوئی مومن کسی دشمن اسلام جماعت کے چنگل میں پھنس گیا ہو اور اسے ان کے ظلم و ستم کا خوف ہو، تو اس کو اجازت ہے کہ اپنے ایمان کو چھپائے رکھے اور کفار کے ساتھ بظاہر اس طرح رہے کہ گویا انہی میں سے ایک آدمی ہے۔ یا اگر اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہوگیا ہو تو اپنی جان بچانے کے لیے وہ کفار کے ساتھ دوستانہ رویہ کا اظہار کرسکتا ہے، حتٰی کہ شدید خوف کی حالت میں جو شخص برداشت کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کو کلمہ کفر تک کہہ جانے کی رخصت ہے۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 26
یعنی کہیں انسانوں کا خوف تم پر اتنا نہ چھا جائے کہ خدا کا خوف دل سے نکل جائے۔ انسان حد سے حد تمہاری دنیا بگاڑ سکتے ہیں مگر خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
خلاصہ تفسیر
ربط آیاتمذکور الصدر آیات میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کافروں کو دوست نہ بنائیں اور اس ہدایت کی مخالفت کرنے والوں کے لئے سخت وعید ہے کہ جو ان کو دوست بنائے گا، اس کا اللہ تعالیٰ سے دوستی و محبت کا علاقہ قطع ہوجائے گا، کافروں سے باطنی اور دلی دوستی تو مطلقا حرام ہے، اور ظاہری دوستی معاملات کے درجہ میں اگرچہ جائز ہے، مگر بلا ضرورت وہ بھی پسند نہیں۔
مختصر تفسیر ان آیات کی یہ ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ (ظاہرا یا باطنا) کفار کو دوست نہ بنائیں مسلمانوں (کی دوستی) سے تجاوز کر کے (یہ تجاوز دو صورت سے ہوتا ہے، ایک یہ کہ مسلمانوں سے بالکل دوستی نہ رکھیں، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی…
Read the full tafseer →اس آیت میں ”مومنین“ سے مراد مذبذب مسلمان اور ”کافرین“ سے مراد یہود ہیں۔ ”مومنون“ کا لفظ اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن مراد اس سے خاص طور پر وہ مسلمان ہیں جو ابھی پوری طرح یکسو نہیں ہوئے تھے بلکہ کچھ اپنے ذاتی مصالح کی وجہ سے اور کچھ اسلام کے مستقبل کے بارے میں، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، غیر مطمئن ہونے کے باعث، یہود کی طرف میلان رکھتے تھے، اور یہود اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں کرتے تھے اس میں وہ ان کو آلہ کار بنا لیتے تھے اور یہ ان کے آلہ کار بن جاتے تھے۔ ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اب یہود کے ساتھ موالات اور دوستی اجڑے گھر کی دربانی بھی ہے اور یہ حرکت ایمان و اسلام کے دعوے کے منافی بھی ہے۔…
Read the full tafseer →28۔ 1 اولیاء ولی کی جمع ہے ولی ایسے دوست کو کہتے ہیں جس سے دلی محبت اور خصوصی تعلق ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اہل ایمان کا ولی قرار دیا ہے۔ (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ) 2:257 یعنی اللہ اہل ایمان کا ولی ہے مطلب یہ ہوا کہ اہل ایمان کو ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے کیساتھ خصوصی تعلق ہے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی (دوست) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اہل ایمان کو اس بات سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں کیونکہ کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور اہل ایمان کے بھی دشمن ہیں۔ تو پھر ان کو دوست بنانے کا جواز…
Read the full tafseer →9:”یار و مددگارـ“ عربی لفظ ”ولی“ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ”ولی“ بنانے کو ”موالات“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسی دوستی اور قلبی محبت کا تعلق ہے جس کے نتیجے میں دو آدمیوں کا مقصد زندگی اور ان کا نفع و نقصان ایک ہوجائے۔ اس قسم کا تعلق مسلمان کا صرف مسلمان ہی سے ہوسکتا ہے اور کسی غیر مسلم سے ایسا تعلق رکھنا سخت گناہ ہے اور اس آیت میں اسے سختی سے منع کیا گیا ہے، یہی حکم سورة نساء (4: 139) سورة مائدہ (5: 51) سورة توبہ (9: 23) سورة مجادلہ (28: 22) اور سورة ممتحنہ (۶۰: 1) میں بھی دیا گیا ہے، البتہ جو غیر مسلم جنگ کی حالت میں نہ ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک، رواداری اور خیر خواہی کا معاملہ نہ صرف جائز بلکہ…
Read the full tafseer →اس سے پہلے ‘ اہل کتاب کے موقف پر استنکار اور تنبیہ کی گئی تھی ‘ یہ آخری تبصرہ بھی اس کی مزید تائید ہے ۔ پہلے اہل کتاب کے اس رویے کی مذمت کی گئی تھی ۔ کہ انہیں جب اس بات کی طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ اپنے فیصلے کتاب اللہ کے مطابق کریں تو وہ اس بات سے بھی اعراض کرتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں سمجھایا گیا تھا کہ کتاب اللہ اسی نظام زندگی پر مشتمل ہے ۔ جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے اتارا اور یہ پوری کائنات بھی منہاج الٰہی کے مطابق رواں دواں ہے ۔ جس میں خود انسان بھی شامل ہے ۔ یہ اس بات کی تمہید تھی جو آگے آرہی ہے کہ مومنین کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان کے مقابلے میں کافروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات…
Read the full tafseer →8 یعنی جب حکومت و سلطنت، جاہ و عزت، اور ہر قسم کے تقلبات و تصّرفات کی زمام اکیلے خداوند قدوس کے ہاتھ میں ہوئی تو مسلمانوں کو جو صحیح معنی میں اس پر یقین رکھتے ہیں، شایان نہیں کہ اپنے اسلامی بھائیوں کی اخوۃ و دوستی پر اکتفاء نہ کرکے خواہ مخواہ دشمنان خدا کی موالاۃ و مدارات کی طرف قدم بڑھائیں، خدا و رسول کے دشمن ان کے دوست کبھی نہیں بن سکتے۔ جو اس خبط میں پڑے گا سمجھ لو کہ خدا کی محبت و موالات سے اسے کچھ سروکار نہیں۔ ایک مسلمان کی سب امیدیں اور خوف صرف خداوند رب العزّت سے وابستہ ہونے چاہئیں۔ اور اس کے اعتماد وثوق اور محبت و مناصرت کے مستحق وہ ہی لوگ ہیں جو حق تعالیٰ سے اسی قسم کا تعلق رکھتے…
Read the full tafseer →آیت 28 لاَ یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ج
اولیاء ایسے قلبی دوست ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے رازدار بھی بن جائیں اور ایک دوسرے کے پشت پناہ بھی ہوں۔ یہ تعلق کفار کے ساتھ اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ ‘ ظاہری مدارات اور تہذیب و شائستگی سے بات چیت تو اور بات ہے ‘ لیکن دلی محبت ‘ قلبی رشتہ ‘ جذباتی تعلق ‘ باہمی نصرت و تعاون اور ایک دوسرے کے پشت پناہ ہونے کا رشتہ قائم کرلینے کی اجازت نہیں ہے۔ کفار کے ساتھ اس طرح کے تعلقات اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں ہیں۔
وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْءٍ
اگر اللہ کے…
Read the full tafseer →31 اس آیت میں مومنوں کو انفرادی اور اجتماعی دونوں لحاظ سے خطاب ہے۔ یعنی کوئی مومن کسی کافر کو دوست نہ بنائے۔ مومنوں کی جماعت کافروں کی جماعت کو دوست نہ بنائے اور نہ ہی مومنوں کی حکومت کافروں کی حکومت کو اپنا دوست بنائے۔ وجہ یہ ہے کہ کافر کبھی مومن کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔ جب بھی اسے موقع ملے گا وہ نقصان ہی پہنچائے گا۔ اس سے خیر کی توقع نہیں اور اس میں استثناء یہ ہے کہ اگر تمہیں محض بےتعلق رہنے کی وجہ سے کسی کافر سے کچھ خطرہ ہو تو ظاہرداری اور مدارات کے طور پر اس سے دوستی رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب اس میں بیشمار باتیں ایسی آجاتی ہیں جو محض مومن کی صوابدید پر چھوڑ دی گئی ہیں۔ مثلاً یہ خطرہ…
Read the full tafseer →68 ۔ (کیا ظاہر میں اور کیا باطن میں) جسے دوستی کا علاقہ کہتے ہیں وہ ایک کیفیت قلب اور پھر عملی برتاوے کا نام ہے۔ مسلمانوں کو، کافروں، منکروں، اللہ کے باغیوں کے ساتھ یہ تعلق قائم کرنے کی قطعی ممانعت ہے اور عقلا بھی یہ ملی خود داری اور قومی تشخص کے بالکل منافی ہے۔ (آیت) ” من دون ال مومنین “۔ یعنی نہ مومنین کو چھوڑ کر اور نہ مومنین کے شمول میں۔ ای من غیر المومنین (کبیر) ای متجاوزین المومنین الی الکافرین استقلا اواشتراکا (روح) بعض اہل حق نے یہیں سے تمسک کرکے اپنے مریدوں، معتقدوں، شاگردوں کو منکروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کردیا ہے۔
69 ۔ یعنی دشمنان خدا کے ساتھ دوستی رکھنے والے کی دوستی اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیآءَ (الآیۃ) اولیاء ولی کی جمع ہے ولی ایسے دوست کو کہتے ہیں جس سے دلی محبت اور خصوصی تعلق ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو آپس میں ایک دوسرے سے خصوصی تعلق اور قلبی لگاؤ ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں اہل ایمان کو اس بات سے سختی سے منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دلی دوست بنائیں، کیونکہ کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور اہل ایمان کے بھی، تو پھر ان کو دوست بنانے کا جواز کس طرح ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ تاکہ اہل ایمان کافروں کی موالات اور ان سے خصوصی دوستی اور خصوصی تعلق سے گریز کریں۔ البتہ حسب…
Read the full tafseer →لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی نہ بنائیں مؤمن کافروں کو دوست اہل ایمان کو چھوڑ کر۔ مؤمنوں کو کافروں سے موالات کی ممانعت فرما دی خواہ رشتہ داری کی صورت میں ہو یا دوستی کی شکل میں یا جہاد اور دینی امور میں طلب امداد کے طور پر ہو (سب کی ممانعت فرما دی) من دون المؤمنین کہنے میں) اس طرف اشارہ ہے کہ کافروں کی دوستی مؤمنوں کی دوستی کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔ دو دشمنوں سے بیک وقت دوستی ممکن نہیں کفار کی دوستی بجائے خود بھی بری ہے اور اس لیے بھی بری ہے کہ مسلمانوں کی دوستی سے محروم ہوجانے کا سبب ہے۔
بغوی (رح) نے مقاتل کا قول نقل کیا ہے کہ آیت…
Read the full tafseer →(28) مسلمانوں کے لیے یہ چیز مناسب نہیں کہ وہ عبداللہ بن ابی یہودی اور اس کے ساتھیوں کو خالص ایمان والوں سے تجاوز کرکے دوست بنائیں، (کیونکہ حقیقی دوستی نظریات کی ہم آہنگی سے جنم لیتی ہے)
اور جو کفار سے ایسی دوستی رکھے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور دوستی کے کسی درجے میں شمار نہیں ہوگا مگر یہ کہ کوئی مومن صرف زبانی دوستی کرکے ان کے شر سے نجات حاصل کرنا چاہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ناحق قتل کرنے اور احرام کاری اور مال حرام اور شراب پینے اور جھوٹی گواہی دینے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے ڈراتا ہے اور تمہیں بالآخر مرنے کے بعد اسی کے طرف لوٹ کر جانا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”لا یتخذ ال مومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔۔ : جب اکیلا اللہ تعالیٰ ہی بادشاہی کا مالک، عزت و ذلت دینے والا اور ہر خیر والا ہے تو ایمان والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھیں، کسی فائدے کی امید پر اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ رکھیں اور جو شخص ایسا کرے گا اس کے لیے اللہ کی دوستی میں سے ذرہ برابر حصہ بھی نہیں ہوگا۔ ہاں، ان کے شر سے کسی طرح بچنے کے لیے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار جائز ہے، جب کہ دل میں ان کے کفر کی وجہ سے نفرت ہو۔ اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے خلاف نہ لڑتے ہوں اور نہ کسی لڑنے والے کی مدد کرتے ہوں تو ان سے حسن سلوک اور مدارات جائز ہے۔ دیکھیے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 28۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مومنین کو منع فرمایا ہے کہ وہ کفار کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں اور انہیں دوست بنائیں، اور اسی کی مثل یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ (2) (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 9) اور وہاں اس معنی کا بیان آ رہا ہے۔ اور (آیت) ” فلیس من اللہ فی شیئ “۔ کا معنی ہے پس وہ اللہ کے گروہ میں سے نہیں ہے اور نہ ہی اس کے دوستوں میں سے ہے۔ (یعنی فلیس من حزب اللہ ولا من اولیاہ فی شیء) اور یہ واسأل القریۃ کی مثل ہے، سیبویہ نے بیان کیا ہے ھو فی فرسخین، یعنی وہ میرے اور میرے ساتھیوں سے دو فرسخ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
کافروں کی دوستی سے ممانعت
(1) ابن اسحق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے فرمایا حجاج بن عمر : کعب بن اشرف ابن ابی الحفیض قیس بن زید کا حلیف تھا اور ان لوگون نے انصار کی ایک جماعت سے خفیہ طور پر دوستیاں لگائی ہوتی تھیں تاکہ ان کو ان کے دین سے برگشتہ کردیں (چند صحابہ) رفاعہ بن منذر عبد بن جبیر سعد بن خثیمہ نے اس انصار کی جماعت کو منع کیا کہ ان یہودیوں کی جماعت کی دوستی سے بچو ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو تمہارے دین سے برگشتہ کریں تو ان لوگوں نے انکار کردیا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لا یتخذ المؤمنون الکفرین “ سے لے کر ” واللہ علی کل شیء قدیر “ تک۔
(2) ابن…
Read the full tafseer →[لاَ یَتَّخِذِ : چاہیے کہ مت بنائیں ] [الْمُؤْمِنُوْنَ : مومن لوگ ] [الْکٰفِرِیْنَ : کافروں کو ] [اَوْلِیَـآئَ : کارساز ] [مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ : مؤمنوں کے علاوہ ] [وَمَنْ یَّفْعَلْ : اور جو کرے گا ] [ذٰلِکَ : یہ ] [فَلَیْسَ : تو وہ نہیں ہے ] [مِنَ اللّٰہِ : اللہ (کے دین) سے ] [فِیْ شَیْئٍ : کسی چیز میں ] [اِلاَّ : سوائے اس کے ] [اَنْ : کہ ] [تَـتَّقُوْا : تم لوگ بچو ] [مِنْہُمْ : ان سے تُقٰٹۃً : جیسے بچنا چاہیے ] [وَیُحَذِّرُ : اور محتاط رہنے کی تلقین کرتا ہے ] [کُمُ : تم لوگوں کو ] [اللّٰہُ : اللہ ] [نَفْسَہٗ : اس کے نفس (یعنی غضب) سے ] [وَاِلَی اللّٰہِ : اور اللہ کی طرف ہی ]…
Read the full tafseer →اہل ایمان کو حکم کہ کافروں سے دوستی نہ کریں
اس آیت شریفہ میں اہل ایمان کو اس بات سے منع فرمایا کہ مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائیں اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی شخص ایسا کرے گا یعنی مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائے گا اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ معالم التنزیل صفحہ 291: ج 1 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مذکورہ بالا آیت عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی، یہ لوگ ظاہر میں مومن ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور دل سے کافر تھے۔ یہودیوں سے اور مشرکوں سے دوستی رکھتے تھے اور ان کو مسلمانوں کی خبریں پہنچاتے تھے اور یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ممانعت دوستان از دوستی دشمنان۔
قال تعالی، لایتخذالمومنون الکافرین اولیاء۔۔۔۔ الی۔۔۔ بالعباد۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بتلایا گیا کہ عزت اور ذلت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں یعنی اہل اسلام کو حکم دیتا ہے کہ تم مسلمانوں کو چھوڑ کر دشمنان خدا کی موالات اور دوستی کی طرف کوئی قدم نہ اٹھانا اور کافروں کی ظاہری اور وقتی شان و شوکت کو دیکھ کر یہ گمان نہ کرنا کہ شاید ان سے دوستانہ تعلقات رکھنے سے کوئی دنیوی عزت وجاہت مل جائے گی، حاشا وکلا۔ ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا۔ کافروں کے پاس جو عزت نظر آتی ہے وہ حقیقی عزت اللہ کے پاس سے ملتی ہے البتہ اگر کسی وقت بحالت…
Read the full tafseer →38:۔ اس آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے قطع تعلقی کا حکم دیا جارہا ہے۔ پہلے بیان فرمایا کہ مالک الملک، معزو مذل اور قادر مطلق صرف اللہ ہی ہے اس لیے اسی پر بھروسہ رکھو اور ان کافروں کی پرواہ نہ کرو۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ جو محض ضدوعناد کی وجہ سے توحید کو نہیں مانتے اور اسلام قبول نہیں کرتے۔ چناچہ وفد نجران باوجود بےدلیل ہونے کے شرک پر اڑا رہا اور یہودیوں کو کتاب اللہ (تورات) کے فیصلہ کی طرف بلایا گیا۔ مگر وہ محض ضد کی وجہ سے تورات کا فیصلہ ماننے سے بھی انکاری ہوگئے اس لیے مسلمانوں حکم دیا کہ ان سے ہر قسم کے دوستانہ تعلقات منقطع کرلیں۔
39:۔ یہ مومنوں کے لیے زجر ہے۔ یعنی جو مسلمان ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ربط آیات :
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعا کے رنگ میں فرمایا کہ تمام چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ سلطنت کا قبضہ اور اختیار بھی اسی کے پاس ہے۔ عزت اور ذلت اسی کے اختیار میں ہے۔ قدرتِ کاملہ کا مالک بھی وہی ہے۔ وہ جس کو چاہے دے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ اختیارات ، و تصرفات اور تقلبات سب اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت کی دعوت یہ ہو ، انسان کو اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ اور اسی گروہ میں شامل رہنا چاہئے۔ اور وہ گروہ ہے حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والوں کا۔ یہ جماعت دینی بھی ہے اور سیاسی بھی۔ ان کا عقیدہ وہ ہے جو بیان ہوچکا۔ اب جو لوگ اس عقیدے کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ رکھتے…
Read the full tafseer →لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ 0 ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللہِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىۃً 0 ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللہُ نَفْسَہٗ 0 ۭ وَاِلَى اللہِ الْمَصِيْرُ 28
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ترکیب : اللہم میم مشددہ قائم مقام یا کے ہے مالک الملک ندا ثانی ہے ای مالک الملک تؤتی الملک اور اس کے بعد کے جملہ جو اس پر معطوف ہیں ‘ خبر ہیں مبتداء محذوف کی اے انت۔ بیدک الخیر جملہ مستانفہ ہے بعض کہتے ہیں اس کا حکم پہلے جملوں کا سا ہے۔ بغیر حساب صفت ہے مصدر محذوف کی ای رزقا غیر قلیل ‘ لایتخذ نفی ہے بمعنی نہی ‘ من دون اللّٰہ موضع نصب میں ہے صفت ہے اولیاء کی لیس کا اسم ضمیر ہے فی شیء خبر ‘ من اللّٰہ حال ہے فی شیء سے اے لیس فی ولایۃ اللہ فی شیء۔
تفسیر : منجملہ ان کے خصائلِ بد کے یہ بات بھی ان میں تھی کہ وہ دنیا اور اس کے اسباب پر مغرور تھے۔ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو بسبب ان کے فقرو افلاس کے بچشم…
Read the full tafseer →لاَ یَتَّخِذِالْمُؤْمِنُوْنَ الْـکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَـآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ج وَمَنْ یَّـفْـعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ اِلَّآ اَنْ تَـتَّـقُـوْا مِنْہُمْ تُقٰـۃً ط وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط وَ اِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔
(نہ بنائیں مسلمان کافروں کو دوست مسلمانوں کے خلاف اور جو ایسا کریں گے تو اللہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں، مگر یہ کہ تم ان سے بچو، جیسا کہ بچنے کا حق ہے، اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) (28)
پس منظر
گزشتہ آیات کریمہ میں یہود کے مذہبی عقائد پر تنقید اور ان کے کردار کے گھنائونے پن کے اظہار کے ساتھ ان کی اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : جب عزت وذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو ذاتی مفاد اور دنیوی عزت کی خاطر اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ قلبی محبت اور تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ دنیا میں جو لوگ جان بوجھ کر گناہوں سے نہیں بچتے قیامت کے دن خواہش کرنے کے باوجود عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔
مدینہ طیبہ میں ہجرت کے ابتدائی ایّام تک کئی مسلمان کافروں کو اپنا دوست اور خیر خواہ سمجھتے تھے۔ یہاں مسلمانوں کو کفار کے ساتھ رہنے کے بنیادی اصول سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کفار کو اپنا دلی دوست بنائے اور اسے مومن بھائی سے مقدّم سمجھنے کی کوشش کرے۔ جو ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ پر اس کی کوئی ذمّہ داری نہ…
Read the full tafseer →28: لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُم تُقٰۃً وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ، وَ اِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔ (مؤمن کافروں کو دوست نہ بنائیں، اہل ایمان کو چھوڑ کر جو ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس کا کچھ تعلق نہیں مگر یہ کہ (کافروں کی طرف سے تم کو کچھ شرکا اندیشہ ہو تو) تم ان سے بچنا اور اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے) موالات کفار کی ممانعت :
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مسلمانوں…
Read the full tafseer →(تفسیر) 28۔:
(لایتخذ ۔۔۔۔۔ المؤمنین نہ بنائیں مؤمنین کا فروں کو دوست اہل ایمان کو چھوڑ کر)
(شان نزول)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ حجاج بن عمرو ابن ابی الحقیق اور قیس بن زید ان تینوں نے انصار کے چند آدمیوں سے اندرونی دوستی لگائی تاکہ دین سے ان کو دور کریں اور بہکا دیں ۔
رفاعہ بن منذر اور عبداللہ بن جبیر ؓ اور سعید بن حثمہ نے انصار سے کہا کہ آپ لوگ ان یہودیوں سے بچتے رہیں کہیں دین کی طرف سے آپ کو بہکا نہ دیں ، انصار نے اندرونی دوستی ترک کرنے سے انکار کردیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، مقاتل نے کہا کہ اس آیت کا نزول حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ وغیرہ کے متعلق نازل ہوا جو کفار مکہ سے…
Read the full tafseer →تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انصار میں بعض لوگوں کی کعب سے دوستی تھی اس نے انصار سے کہا کہ وہ اپنے دوست مسلمانوں کو دھوکا دیں ان مسلمان انصار کے چند دوستوں نے یہود کے اس ارادہ کا تذکرہ ان انصار مسلمانوں سے کیا اور یہود کے دوستی چھوڑنے کی نصیحت کی۔ مگر ان مسلمان انصار نے ان یہود کی دوستی چھوڑنے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ اور فرما دیا کہ مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ کیوں کہ اللہ کی محبت اور کافروں کی محبت ایک جگہ ایک دل میں نہیں جمع ہوسکتی ہاں اگر ایسا ہی کہیں جان کا خوف ہو تو ظاہر میں ان سے دفع ضرر کے لئے میٹھی بات کرلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت 28-30
اللہ تعالیٰ مومنوں کو کافروں سے دوستی لگانے سے منع فرماتا ہے کہ ان سے محبت نہ رکھیں، ان کی مدد نہ کریں، مسلمانوں کے کسی کام میں ان سے مدد نہ لیں اور جو کوئی ایسی حرکت کرے اسے تنبیہ فرماتا ہے کہ (ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء ) ” جو ایسا کرے گا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں “ یعنی وہ اللہ سے کٹ گیا ہے، اس کا اللہ کے دین میں کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ کافروں سے دوستی اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے۔ ایمان تو اللہ سے محبت اور اس کے دوستوں یعنی مومنوں سے تعاون کر کے اللہ کے دین کو قائم کرنے اور اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (والمومنون والمومنت بعضھم اولیآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
قول باری ہے (لایت خدا لمومنون الکافریناولیاء من دون المؤمنین، اہل ایمان مسلمانوں کو چھوڑکر کافروں کو اپنا اپناہمدرد نہ بنائیں) تاآکر آیت۔ اس میں کافروں کو دوست بنانے کی نہی ہے۔ اس لیئے کہ آیت میں داردفعل (لایتخذ) مجزوم ہے اس لیئے اس میں نہی کے معنی ہیں خبر کے معنی نہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے نرمی برتنے سے روک دیا ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے۔ (لاتخذوایطانتۃ من دونکم لایألوتکم خیالا اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدارنہ بناؤوہ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے) نیز قول باری ہے (لاتجد قوما یومنون یا اللہ…
Read the full tafseer →61 اہل کفر و باطل کو دوست بنانے کی ممانعت : پس اہل کفر و باطل کو دوست بنانا ایک سنگین جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی رکھنا ایک سنگین جرم ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ کفار اللہ کے دشمن ہیں۔ اور دشمن و دوست دونوں کی محبتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ پس کفار سے دلی دوستی ممنوع و حرام ہے۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ اور ایسی دوستی کا نتیجہ و انجام بہت برا ہے کہ ایسا شخص اللہ کی دوستی اور اس کی نصرت و عنایت کے شرف سے محروم ہوگیا جو کہ خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑا نقصان ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ " اولیاء " جمع ہے " ولی " کی جس کے معنی دوست، ساتھی، کار…
Read the full tafseer →کافروں سے دوستی
تشریح : اس آیت میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی مت بڑھاؤ، کیونکہ کافر قول و فعل میں تضاد رکھتا ہے اور اس کے مخلص ہونے میں بھی شک و شبہ ہوسکتا ہے۔ اس لئے کوشش کرو کہ اپنے مسلمان بھائیوں سے ہی دوستی کی جائے۔ ورنہ وہ پھر سوچ لے کہ ایسے میں اللہ کی محبت سے اس کو کوئی سروکار نہ ہوگا۔ مسلمان کی شان یہی ہے کہ وہ اپنی تمام امیدیں رب العزت سے وابستہ رکھے، ہاں البتہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی نہ کسی سے محبت، خلوص اور دوستی کا رابطہ ضرور رکھے اور اس کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں۔ بعض صرف دوستی کے لئے دوست بناتے ہیں، بعض صرف خوش خلقی کے اظہار کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21- 30
اسرارو معارف
ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔
بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔
تو اے نبی ! ﷺ ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب…
Read the full tafseer →ف 1 اس آیت میں کفار کے ساتھ موالات اور دستی رکھنے سے منع فرمایا ہے اس پر سخت وعید سنائی ہے۔ صرف بچاو اور تدبیر سلطنت کی حد تک ظاہری طور پر موالاۃ کی اجا زت دی ہے بشر طی کہ یہ اظہار رول میں نفرت کے ساتھ ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں لقیہ صرف زبان سے اظہار کی حد تک جائز ہے نہ کہ عمل سے۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بعض یہودی روسا نے انصار کے ایک گروہ سے تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کسی موقع پر ہم ان کو دین اسلام سے پھیر نے میں کا میاب ہوجائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) دراصل یہ اور اس مفہوم کی دوسری آیات اسلامی حکومت کی خارجہ پالیسی وضع کرنے میں اصل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(3:28) فلیس من اللہ فی شیئ۔ اس فقرہ کی ترتیب کچھ یوں ہوسکتی ہے۔
(1) فلیس من اللہ فی شیء (الخازن) تو اس کے لئے اللہ کی طرف سے کوئی دوستی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ تو اللہ کے دشمنوں کے دوست ہیں تو اللہ ان کو کیسے دوست رکھے گا۔ کیونکہ موالاۃ اللہ وموالاۃ الکفار ضدان لا یجتمعان۔ کہ خدا کی دوستی اور کفار کی دوستی باہم ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جو کبھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔
(2) فلیس لہ نصر او ولایۃ من اللہ فی ای امر۔ تو کسی امر میں بھی اس کو اللہ کی دوستی یا مدد نصیب نہ ہوگی۔ (عبد اللہ یوسف علی)
الا ان تتقوا منھم تقۃ۔ تتقوا۔ مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تتقون تھا۔ نون اعرابی بوجہ عامل ان کے گرگیا۔
تقۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 30
لایتخذ (نہ بنائیں) اولیاء (دوست (ولی کی جمع ہے) دون المومنین (مومنوں کو چھوڑ کر) من یفعل (جوکرے گا) تتقوا (تم بچو) تقٰه (بچاؤ) یحذر (وہ ڈراتا ہے) نفسه (اپنی ذات) ان تخفوا (اگر تم چھپاؤگے) صدور (دل، سینے (صدر، کی جمع ہے) محضر (حاضر ، سامنے) تود (پسند کرے گا) امدًا بعیدًا (دور کا فاصلہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 28 تا 30
28 سے 30 تک آیات کی تشریح یہ ہے کہ اس سے پہلے آیات میں بتایا گیا تھا کہ کسی شخص یا حکومت وسلطنت کا عروج وزوال اور کسی کو عزت وذلت دینا سب اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ ان آیات میں اہل ایمان سے کہا جارہا ہے کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
کافروں سے دوستی کا حال : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی محبت اور کافروں کی محبت ایک جگہ ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔ ہاں اگر ایسا ہی کہیں جان کا خوف ہو تو ظاہر میں ان سے دفع ضرر کے لئے میٹھی بات کرلی جاوے مگر دلی دوستی ان سے نہ رکھی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[12] کافروں کے ساتھ حسن سلوک کی تین ہی ممکن صورتیں ہیں : (1) موالات یعنی دوستی، (2) مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی و خاطرداری، (3) مواسات یعنی احسان و نفع رسانی۔ موالات تو کسی حال میں جائز نہیں۔ مدارات تین حالتوں میں درست ہے : ایک دفع شر کے لئے، دوسرے خود اس کافر کی مصلحت دینی یعنی ہدایت کے واسطے، تیسرے جب کافر مہمان ہو تو اس موقع پر۔ مواسات حالت جنگ میں ناجائز اور حالت امن میں جائز ہے۔
[13] اصل میں لفظ '' تقاۃ '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ڈرنا، بچنا، پرہیزگاری، یہی معنی تقیہ کے بھی ہیں۔ '' تقاۃ '' یہاں ڈرنے اور بچنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مومن کسی دشمن اسلام جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
کفار سے موالات :
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمان کافروں سے موالات نہ کریں اور ہرگز کسی غیر کو لائق محبت نہ سمجھیں ، اس مضمون کو متعدد آیات میں واضح کیا گیا ہے ، (آیت) ” لایتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ پھر یہ بھی فرمایا (آیت) ” ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ اس آیت میں ارشاد ہے کہ (آیت) ” ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیئ “۔ یعنی کفر سے دوستی ایمان سے ’ دشمنی کے مترادف ہے ، وہ جو اسلامی مفاد کو چھوڑ کر اور مسلمانوں سے رشتہ اخوت توڑ کر کفار سے تعلقات محبت استوار کرتا ہے ‘ وہ اسلام اور مسلمانوں کا غدار ہے اور ہرگز قابل اعتماد نہیں اور اس موالات میں کسی قوم وفرقہ کی تخصیص نہیں ، سارے کافر اسلام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 2۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائیں اور جو شخص ایسا کرے گا یعنی مسلمانوں کو نظر انداز کر کے کافروں سے دوستی بڑھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس کی دوستی کا کوئی واسطہ اور کوئی تعلق نہیں مگر ہاں وہ حالت ستثنا ہے کہ تم کو کافروں کے شر سے بچنے کیلئے ایسا کرنا پڑے اور تم کو ان سے کوئی سخت اندیشہ ہو اور تم بظاہر ان سے دوستانہ طرز عمل اختیار کرلو اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنے سے ڈراتا اور خوف دلاتا ہے اور تم کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے یعنی بہر حال آخری مرجمع اسی کی ذات ہے۔ ( تیسیر)
مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ اوپر کفار کی مذمت مذکور تھی اس آیت میں ان کے ساتھ دوستی کرنے کی ممانعت فرماتے ہیں۔
3۔ تجاوز دو صورت سے وہتا ہے، ایک یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بالکل دوستی نہ رکھیں، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ کفار سے بھی دوستی رکھیں، دونوں صورتیں ممانعت میں داخل ہیں۔
4۔ کفار کے ساتھ تین قسم کے معاملے ہوتے ہیں۔ موالات یعنی دوستی۔ مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی۔ مواساة یعنی احسان و نفع رسانی، موالات تو کسی حال میں جائز نہیں، اور مدرات تین حالتوں میں درست ہے۔ ایک دفع ضرر کے واسطے دوسرے اس کافر کی مصلحت دینی یعنی توقع ہدایت کے واسطے، تیسرے اکرام ضیف کے لئے، اور اپنی مصلحت و منفعت مال و جان کے لئے درست نہیں، اور…
Read the full tafseer →ایمان والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ منکرین حق کو رفیق و مددگار نہ بنائیں :
71: مؤمنوں کو چاہیے کہ وہ مؤمنوں کے ہوتے ہوئے کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر۔ کیونکہ جسے دوستی کا علاقہ کہتے ہیں وہ ایک کیفیت قلب و دماغ اور پھر عملی برتاوا ہے۔ مسلمانوں کو کافروں ، منکروں اور اللہ کے باغیوں کے ساتھ یہ تعلق قائم کرنے کی قطعی ممانعت ہے اور عقلاً بھی یہ ملی خودداری اور قومی تشخص کے بالکل منافی ہے۔
لیکن افسوس کہ آج کل یہ نفرت مختلف مکاتب فکر نے اسلام کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے سے کرنا شروع کردی ہے اور پھر وہ اس کو اپنی اپنی جماعت اور گروہ بندی کے لیے اتنا ہی ضروری قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
Commentary
In these verses, Muslims have been instructed not to take disbelievers as their friends. Those who act against this instruction have been sternly warned: Those who take them as friends will find that their bond of love and friendship with Allah has been cut off. Any emotionally involved friendship that comes from the heart is absolutely forbidden (Haram). However, a formal friendship at the level of mutual dealings is, no doubt, permissible; but, that too is not favoured if unnecessary.
Verses dealing with this subject have appeared at many places in the Holy Qur'an with varying…
Read the full tafseer →25. This means that it is lawful for a believer, helpless in the grip of the enemies of Islam and in imminent danger of severe wrong and persecution, to keep his faith concealed and to behave in such a manner as to create the impression that he is on the same side as his enemies. A person whose Muslim identity is discovered is permitted to adopt a friendly attitude owards the unbelievers in order to save his life. If he considers himself incapable of enduring the excesses to which he may be subjected, he may even state that he is not a believer.
26. One should not be overwhelmed by the fear…
Read the full tafseer →