Explained with ayahs 26–27
مالک الملک کی حمد وثناء اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ اپنے رب کی تعظیم کرنے اور اس کا شکریہ بجا لانے اور اسے اپنے تمام کام سونپنے اور اس کی ذات پاک پر پورے بھروسہ کا اظہار کرنے کے لئے ان الفاظ میں اس کی اعلیٰ صفات بیان کیجئے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ یعنی اے اللہ تو مالک الملک ہے، تیری ملکیت میں تمام ملک ہے، جسے تو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے اپنا دیا ہوا واپس لے لے، تو ہی دینے اور لینے والا ہے تو جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا، اس آیت میں اس بات کی بھی تنبیہہ اور اس نعمت کے شکر کا بھی حکم ہے جو آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کو مرحمت فرمائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ہٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة اٰلِ عِمْرٰن 24
جب انسان ایک طرف کافروں اور نافرمانوں کے کرتوت دیکھتا ہے اور پھر یہ دیکھتا ہے کہ وہ دنیا میں کس طرح پھل پھول رہے ہیں، دوسری طرف اہل ایمان کی اطاعت شعاریاں دیکھتا ہے اور پھر ان کو اس فقر و فاقہ اور ان مصائب و آلام کا شکار دیکھتا ہے، جن میں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام سن 3 ہجری اور اس کے لگ بھگ زمانے میں مبتلا تھے، تو قدرتی طور پر اس کے دل میں ایک عجیب حسرت آمیز استفہام گردش کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اس استفہام کا جواب دیا ہے اور ایسے لطیف پیرائے میں دیا ہے کہ اس سے زیادہ لطافت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں آسمانی طاقتوں اور فلکیات پر حق جل وعلا شانہ کی قدرت کاملہ کا احاطہ اس طرح بیان فرمایا ہے (تولج اللیل فی النھار وتولج النھار فی اللیل) " یعنی آپ جب چاہتے ہیں رات کے اجزاء دن میں داخل فرما کر دن کو بڑا کردیتے ہیں، اور جب چاہتے ہیں دن کے اجزاء رات میں داخل کر کے رات بڑی کردیتے ہیں "۔
اور یہ ظاہر ہے کہ رات اور دن کے بڑے چھوٹے ہونے کا مدار آفتاب کے طلوع و غروب اور اس کی حرکات پر ہے، اس لئے اس کا حاصل یہ ہوا کہ آسمان اور اس کے متعلق سب سے بڑا سیارہ شمس اور سب سے معروف سیارہ قمر سب آپ کے احاطہ قدرت میں ہیں، پھر عالم عناصر اور دنیا کی باقی طاقتوں میں کسی شک و شبہ کی کیا گنجائش ہوسکتی…
Read the full tafseer →نظامِ تکوینی کی شہادت : تُوْلِجُ الَّيْلَ الایۃ میں اسی بات پر جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوئی اس کائنات کے نظام تکوینی کی شہادت کا حوالہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور رات کے بعد دن کو نمودار کرتا ہے، جو مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو ظاہر کرتا ہے اس کے سوا دنیا میں عزل و نصب اور عزت وذلت کا اختیار ہو بھی کسے سکتا ہے۔ یہ دن کو رات میں داخل کرنا اور رات کو دن میں داخل کرنا رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کے آمد و شد کی نہایت خوب صورت تشبیہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے دونوں ایک دوسرے کا پوری سرگرمی سے تعاقب کر رہے ہیں، کبھی رات دن کے اندر گھس جاتی ہے، کبھی دن رات کے اندر…
Read the full tafseer →27۔ 1 رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کا مطلب موسمی تغیرات ہیں رات لمبی ہوتی ہے تو دن چھوٹا ہوجاتا ہے اور دوسرے موسم میں اس کے برعکس دن لمبا اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے یعنی کبھی رات کا حصہ دن میں اور کبھی دن کا حصہ رات میں داخل کردیتا ہے جس سے رات اور دن چھوٹے بڑے ہوجاتے ہیں۔
27۔ 2 جیسے نطفہ (مردہ) پہلے زندہ انسان سے نکلتا ہے۔ پھر اس مردہ (نطفہ) سے انسان اسی طرح مردہ انڈے سے پہلے مرغی پھر زندہ مرغی سے انڈہ (مردہ) یا کافر سے مومن اور مومن سے سے کافر پیدا فرماتا ہے بعض روایات میں ہے کہ معاذ ؓ نے نبی ﷺ سے اپنے اوپر قرض کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم آیت (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ…
Read the full tafseer →7: سردیوں میں دن چھوٹا ہوتا ہے تو گرمیوں کے دن کا کچھ حصہ رات بن جاتا ہے، اور گرمیوں میں دن بڑا ہوتا ہے تو سردیوں کی رات کا کچھ حصہ دن میں داخل ہوجاتا ہے۔
8: مثلاً بےجان انڈے سے جاندار چوزہ نکل آتا ہے اور جاندار پرندے سے بےجان انڈا۔
Read the full tafseer →انسانی امور کی نگہبانی اور انسانی معاملات کا بھلائی کے ساتھ یہ انتظام یہ سب کے سب اس کے اس عظیم اور عظیم ترکائنات کی تدبیر کا ایک حصہ ہے ۔ اور اس وسیع اور عریض نظام حیات کا ایک پرتو وہ فرماتا ہے۔
تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
” تو رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں ‘ جاندار میں سے بےجان کو نکالتا ہے اور بےجان میں سے جاندار کو ‘ اور جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے۔ “
اس عظیم حقیقت کو ایک تصویر کشی کے انداز میں بیان کیا گیا ہے ‘…
Read the full tafseer →5 یعنی کبھی رات کو گھٹا کر دن کو بڑھا دیتا ہے، کبھی اس کا عکس کرتا ہے۔ مثلا ایک موسم میں 14 گھنٹہ کی رات اور دس گھنٹہ کا دن ہے۔ چند ماہ بعد رات کے چار گھنٹہ کاٹ کر دن میں داخل کردیئے۔ اب رات دس گھنٹہ کی رہ گئی اور دن 14 گھنٹہ کا ہوگیا۔ یہ سب الٹ پھیر تیرے ہاتھ میں ہیں۔ کیونکہ شمس و قمر وغیرہ تمام سیارات بدون تیرے ارادہ کے ذرا حرکت نہیں کرسکتے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی رات۔
7 یعنی بیضہ کو مرغی سے، مرغی کو بیضہ سے آدمی کو نطفہ سے نطفہ کو آدمی سے، جاہل کو عالم سے، عالم کو جاہل سے، کامل کو ناقص سے، ناقص کو کامل سے نکالنا تیری ہی قدرت کا کام ہے۔
8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یہود…
Read the full tafseer →آیت 27 تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَتُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِز وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّز
اس کی بہترین مثال مرغی اور انڈا ہے۔ انڈے میں جان نہیں ہے لیکن اسی میں سے زندہ چوزہ برآمد ہوتا ہے اور مرغی سے انڈا برآمد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
30 اس آیت میں اگرچہ خطاب عام ہے، جس میں اہل کتاب، مشرکین عرب اور مسلمان سب شامل ہیں۔ تاہم ربط موضوع کے لحاظ سے بالخصوص یہ خطاب یہود اور کفار سے ہے جو جنگ خندق کے موقعہ پر یوں کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ اپنے بچاؤ کی خاطر خندق کھود رہے ہیں، نہ کچھ کھانے کو پاس موجود ہے اور نہ ہی کوئی اسلحہ جنگ ہے لیکن قیصر و کسریٰ کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، یہ دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہود اور کفار کی اسی پھبتی کا جواب اس جامع قسم کی دعا میں دیا گیا ہے کہ عزت و ذلت اور اقتدار وغیرہ سب کچھ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ آج جو حاکم ہیں کل محکوم بن جائیں اور جو…
Read the full tafseer →67 ۔ (غرض یہ کہ تقلبات وتصرفات کائنات کا ہر ہر جزئیہ تیری ہی مشیت وقدرت کے تابع و محکوم ہے) (آیت) ” تولج الیل۔ تولج النھار۔ یہ سارے تصرفات وتقلبات بغیر کسی کی شرکت واعانت کے محض ارادۂ الہی سے رات دن ہوتے رہتے ہیں۔ جاہلی قوموں نے لیل (رات) اور نہار (دن) دونوں کو دیوی دیوتاؤں کی حیثیت دے رکھی ہے۔ آیت میں ضمنا ان خرافات کا بھی رد آگیا۔ (آیت) ” تخرج الحی من المیت “۔ اس کی ایک نمایاں مثال پرندے کو انڈے سے نکالنا ہے۔ (آیت) ” تخرج المیت من الحی “۔ اس کی ایک نمایاں مثال پرندے سے انڈے کی پیدائش ہے۔ (آیت) ” ترزق من تشآء بغیر حساب “۔ سو ایسا قادر مطلق اگر ضعیفوں، عاجزوں کو بڑی بڑی سلطنتوں کا بھی مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیآءَ (الآیۃ) اولیاء ولی کی جمع ہے ولی ایسے دوست کو کہتے ہیں جس سے دلی محبت اور خصوصی تعلق ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو آپس میں ایک دوسرے سے خصوصی تعلق اور قلبی لگاؤ ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں اہل ایمان کو اس بات سے سختی سے منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دلی دوست بنائیں، کیونکہ کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور اہل ایمان کے بھی، تو پھر ان کو دوست بنانے کا جواز کس طرح ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ تاکہ اہل ایمان کافروں کی موالات اور ان سے خصوصی دوستی اور خصوصی تعلق سے گریز کریں۔ البتہ حسب…
Read the full tafseer →تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ : یعنی توُ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اس طور پر کہ ایک کے پیچھے دوسرا آتا ہے یا اس طور پر کہ ایک گھٹتا اور دوسرا بڑھتا ہے۔
وَتُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْـحَيِّ : اور تو جاندار کو بےجان سے اور بےجان کو جاندار سے نکالتا ہے۔
بعض علماء نے تفسیر مطلب اس طرح کی ہے کہ اللہ جانور کو نطفہ اور انڈے سے اور نطفہ و انڈے کو جانور سے اور سبزہ کو خشک بیج سے اور خشک بیج کو سبزہ سے پیدا کرتا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سعید بن جبیر، مجاہد، قتادہ، عکرمہ، کلبی اور زجاج نے یہی تشریح کی ہے لیکن حسن…
Read the full tafseer →(27) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا نظارہ کراتے ہیں کہ وہ کبھی دن کو رات سے زیادہ بڑا اور کبھی رات کو دن سے بڑا کردیتے ہیں اور اس طرح اس رب علیم کا ایک کمال یہ ہے یہ وہ ذات نطفہ سے بچہ کو پیدا کردیتی ہے اور نطفہ کو انسان سے نکالتی ہے اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ وہ ذات انڈے سے مرغی کو اور مرغی سے انڈے کو نکال دیتی ہے (یاد رہے کہ مرغی سے مراد محض مرغی نہیں بلکہ تمام انڈہ دینے والے جانور اس میں شامل ہیں) اور گیہوں کے دانے سے بالی کو اور بالی سے دانوں کو نکال دیتی ہے اور جس کو چاہتا ہے، بغیر محنت ومشقت کے (بطور وراثت وغیرہ) رزق دیتا ہے یا یہ کہ جس پر چاہتا ہے بغیر کسی تنگی اور سختی کے…
Read the full tafseer →تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۡ: اس سے موسموں کے اعتبار سے رات اور دن کے بڑھنے اور گھٹنے کی طرف اشارہ ہے، ایک ہی وقت کبھی رات کا حصہ بن جاتا ہے اور کبھی دن کا۔ اس طرح رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور دن رات میں۔
وَتُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ۔۔ : مردہ سے زندہ، یعنی کافر سے مسلمان، جیسے آزر سے ابراہیم ؑ ، نطفہ سے حیوان، انڈے سے پرندہ اور زندہ سے مردہ جیسے نوح ؑ سے کنعان اور حیوان اور پرندے سے نطفہ اور انڈا۔
طبرانی کی ایک روایت میں اس آیت کے اندر اسم اعظم ہونے کا ذکر ہے۔ ”ہدایۃ المستنیر“ میں اس روایت کو ایک راوی محمد بن زکریا غلابی کی وجہ سے موضوع کہا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 27۔
حضرت ابن عباس، مجاہد، حسن، قتادہ، اور سدی رحمۃ اللہ علہیم نے ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” تولج الیل فی النھار “۔ کے معنی میں بیان کیا ہے کہ تو دونوں (رات اور دن) میں سے ایک کی کمی کو دوسرے میں داخل کردیتا ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ) یہاں تک کہ دن پندرہ ساعت کا ہوجاتا ہے اور وہ طویل ترین دن ہوتا ہے اور رات نو ساعت کی ہوجاتی ہے اور وہ چھوٹی ترین رات ہوتی ہے، اور اسی طرح (آیت) ” تولج الیل فی النھار “۔ کا معنی بھی ہے۔ اور یہ کلبی کا قول ہے اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے اور آیت کے الفاظ یہ احتمال بھی رکھتے ہیں کہ اس میں رات اور دن کا ایک دوسرے کے پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
کافروں کی دوستی سے ممانعت
(1) ابن اسحق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے فرمایا حجاج بن عمر : کعب بن اشرف ابن ابی الحفیض قیس بن زید کا حلیف تھا اور ان لوگون نے انصار کی ایک جماعت سے خفیہ طور پر دوستیاں لگائی ہوتی تھیں تاکہ ان کو ان کے دین سے برگشتہ کردیں (چند صحابہ) رفاعہ بن منذر عبد بن جبیر سعد بن خثیمہ نے اس انصار کی جماعت کو منع کیا کہ ان یہودیوں کی جماعت کی دوستی سے بچو ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو تمہارے دین سے برگشتہ کریں تو ان لوگوں نے انکار کردیا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لا یتخذ المؤمنون الکفرین “ سے لے کر ” واللہ علی کل شیء قدیر “ تک۔
(2) ابن…
Read the full tafseer →[تُوْلِـجُ : تو گھساتا ہے ] [الَّـیْلَ : رات کو ] [فِی النَّہَارِ : دن میں ] [وَتُوْلِـجُ : اور تو گھساتا ہے ] [النَّہَارَ : دن کو ] [فِی الَّـیْلِ : رات میں ] [وَتُخْرِجُ : اور تو نکالتا ہے ] [الْحَیَّ : زندہ کو ] [مِنَ الْمَیِّتِ : مردہ سے ] [وَتُخْرِجُ : اور تو نکالتا ہے ] [الْمَیِّتَ : مردہ کو ] [مِنَ الْحَیِّ : زندہ سے ] [وَتَرْزُقُ : اور تو عطا کرتا ہے ] [مَنْ : اس کو جسے ] [تَشَآئُ : تو چاہتا ہے ] [بِغَیْرِ حِسَابٍ : کسی حساب کے بغیر ]
Read the full tafseer →قدرت خداوندی کے بعض مظاہرے :
پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بعض مظاہرے جو نظروں کے سامنے ہیں ان کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے کبھی رات بڑی کبھی دن بڑا پورے عالم میں اس کے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ کہیں رات دن کے اوقات میں چار پانچ ہی گھنٹے کا فرق ہوتا ہے اور کہیں پندرہ سولہ گھنٹے یا اس سے زیادہ کا بھی فرق ہوجاتا ہے یہ نظام جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے کسی بھی مخلوق کو قدرت نہیں ہے کہ اس کے خلاف کرسکے، نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ مفسرین نے اس کی شرح میں فرمایا ہے کہ نطفہ جو بےجان ہے اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
بشارت غلبہ مومنین براعداء بعنوان مناجات ودعا۔
قال تعالی، قل اللھم مالک الملک۔۔۔ الی۔۔۔ وترزق من تشاء بغیرحساب۔
ربط) ۔ کفار، دنیا اور سامان دنیا پر مغرور تھے اور نبی ﷺ کو اور آپ کے اصحاب اور احباب کو فقر وفاقہ کی وجہ سے بنظر حقارت دیکھتے تھے اس آیت میں اسی کے جواب کی طرف اشارہ ہے کہ سلطنت اور دولت کا عروج اور نزول اور عزت اور ذلت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اور مسلمانوں کو حکم ہوا کہ اس طرح دعا مانگو ہم تم کو بےمثال سلطنت عطا کریں گے جس کو یہ مذاق اڑانے والے بھی دیکھ کر حیران اور دنگ رہ جائیں گے گویا کہ یہ دعا ایک طرح کی پیشن گوئی تھی عنقریب دنیا کی کایا پلٹ ہونے والی ہے اور یہ بےسروسامان مسلمان…
Read the full tafseer →37 :۔ یہ بھی مع معطوفات منادی سے حال یا اس کی صفت ہے۔ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے سے دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا مراد ہے۔ مثلاً اگر رات کا کچھ حصہ دن میں داخل ہوجائے جیسا کہ موسم گرما میں ہوتا ہے تو دن بڑا ہوجاتا ہے اور اگر دن کا کچھ حصہ رات میں شامل ہوجائے تو رات بڑی ہوجاتی ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ اور حسن وغیرھم سے منقول ہے ای تدخل ما نقص من احدھما فی الآخر (قرطبی ج 4 ص 54) اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے لیل ونہار کا اختلاف اور رات دن کا ایک دوسرے کے بعد آنا مراد ہے۔ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ۔ حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ زندہ سے مراد مومن اور مردہ سے مراد کافر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ربط آیات :
آج کی آیت کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیات نجران کے وفد کے باطل زعم کے جواب میں نازل ہوئیں۔ نجران کے عیسائی خوب جانتے تھے کہ آپ وہی پیغمبر آخر الزماں ہیں۔ جن کی آمد کی پیش گوئیاں اور جن کی نشانیاں ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ مگر وہ محض اس لیے آپ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تھے کہ شاہ روم کی طرف سے ان کے جو وظیفے مقرر تھے ، وہ چھن جاتے تھے۔ مدینہ کی طرف سفر کے دوران ان کے لاٹ پادری ابو حارثہ بن علقمہ نے تسلیم کیا تھا۔ کہ آپ ہی وہ نبی ہیں۔ جن کی بعثت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اور پھر اسی اقرار کی بناء پر اس کے بھائی کرز بن علقمہ ایمان کی دولت سے مشرف…
Read the full tafseer →تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَتُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ 0 ۡوَتُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ 0 ۡوَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ 27
ولج
الوُلُوجُ : الدّخول في مضیق . قال تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ
[ الأعراف/ 40] ، وقوله : يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ
[ الحج/ 61] فتنبيه علی ما ركّب اللہ عزّ وجلّ عليه العالم من زيادة اللیل في النهار، وزیادة النهار في اللیل، وذلک بحسب مطالع الشمس ومغاربها .
( و ل ج ) الولوج ( ض ) کے معنی کسی تنک جگہ میں داخل ہونے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ترکیب : اللہم میم مشددہ قائم مقام یا کے ہے مالک الملک ندا ثانی ہے ای مالک الملک تؤتی الملک اور اس کے بعد کے جملہ جو اس پر معطوف ہیں ‘ خبر ہیں مبتداء محذوف کی اے انت۔ بیدک الخیر جملہ مستانفہ ہے بعض کہتے ہیں اس کا حکم پہلے جملوں کا سا ہے۔ بغیر حساب صفت ہے مصدر محذوف کی ای رزقا غیر قلیل ‘ لایتخذ نفی ہے بمعنی نہی ‘ من دون اللّٰہ موضع نصب میں ہے صفت ہے اولیاء کی لیس کا اسم ضمیر ہے فی شیء خبر ‘ من اللّٰہ حال ہے فی شیء سے اے لیس فی ولایۃ اللہ فی شیء۔
تفسیر : منجملہ ان کے خصائلِ بد کے یہ بات بھی ان میں تھی کہ وہ دنیا اور اس کے اسباب پر مغرور تھے۔ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو بسبب ان کے فقرو افلاس کے بچشم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْـکِ تُؤْتِی الْمُلْـکَ مَنْ تَشَآئُ وَتُنْزِعُ الْمُلْـکَ مِمَّنْ تَشَآئُ ز وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط اِنَّـکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ ۔ تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَتُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ز وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ز وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآئُ بِغَیْرِحِسَابٍ ۔
(اے پیغمبر ! دعا کیجیے، اے اللہ ! بادشاہی کے مالک ! تو ہی جس کو چاہے بادشاہی دے، جس سے چاہے بادشاہی چھینے۔ تو جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلت دے۔ تیرے ہی ہاتھ میں ساری بھلائی ہے، بیشک تو ہر چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : جب عزت وذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو ذاتی مفاد اور دنیوی عزت کی خاطر اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ قلبی محبت اور تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ دنیا میں جو لوگ جان بوجھ کر گناہوں سے نہیں بچتے قیامت کے دن خواہش کرنے کے باوجود عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔
مدینہ طیبہ میں ہجرت کے ابتدائی ایّام تک کئی مسلمان کافروں کو اپنا دوست اور خیر خواہ سمجھتے تھے۔ یہاں مسلمانوں کو کفار کے ساتھ رہنے کے بنیادی اصول سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کفار کو اپنا دلی دوست بنائے اور اسے مومن بھائی سے مقدّم سمجھنے کی کوشش کرے۔ جو ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ پر اس کی کوئی ذمّہ داری نہ…
Read the full tafseer →دلائلِ قدرت :
27: تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِوَتُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَتَرْ زُقُ مَنْ تَشَآ ئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ ( تورات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جس کو تو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے) ۔ تُوْلِجُ ایلاج ایک چیز کو دوسری میں داخل کرنے کو کہتے ہیں اور یہاں وہ مجاز ہے مطلب یہ ہے کہ تورات کے اوقات کو کم کر کے دن میں بڑھا دیتا ہے اور دن کے اوقات گھٹا کر رات میں اضافہ کردیتا ہے۔ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ (زندہ سے مردہ) جیسے حیوان سے نطفہ اور…
Read the full tafseer →(تفسیر) 27۔:
(تولج اللیل فی النھار “۔ یعنی تو رات کو دن میں) رات کو دن میں داخل کرنے والا کبھی دن کو پندرہ ساعات کا ہوتا ہے اور رات نوساعات کی (وتولج النھار فی اللیل اور تو داخل کرتا ہے دن کو رات میں) اور رات پندرہ ساعات کی اور دن نوساعات کا تو اس صورت میں دن کو رات میں اور رات کو دن میں داخل کرتا ہے ۔
(وتخرج ۔۔۔۔ الحیی اور تو نکالتا ہے جاندار کو بےجان سے اور بےجان کو جاندار سے) قراء اہل مدینہ حمزہ (رح) کسائی (رح) حفص بن عاصم (رح) نے ” المیت “ میں یاء کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ۔
سورۃ انعام ، سورة یونس ، سورة روم میں بھی اسی طرح ہے، اعراف میں ” لبلد میت “ اور فاطر میں ” الی بلد میت “ نافع نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26 ۔ 27) ۔ قتادہ سے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے ملک روم وفارس اپنی امت کے قبضہ میں آجانے کی ایک روز دعا کی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ اور اپنے نبی کی تسکین فرمائی کہ ملک روم وفارس کیا چیز ہے اس پاک ذات کے دست قدرت میں بڑے بڑے تصرفات ہیں کبھی راتیں بڑی ہیں کبھی کے دن کبھی نبوت بنی اسرائیل میں تھی آج بنی اسماعیل میں ہے وہ صاحب تصرف جو چاہے کرسکتا ہے۔ چناچہ پھر ایسا ہی ہوا کہ بڑے بڑے ملک آپ کے اور آپ کی امت کے قبضہ میں آگئے طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسم اعظم اسی آیت میں 1۔ طبرانی میں حضرت انس ؓ سے بسند صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت 26-27
اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ کہہ دیجیے (اللھم ملک الملک) ” اے اللہ ! بادشاہی کے مالک “ یعنی تو بادشاہ ہے جو تمام ملکوں کا مالک ہے۔ بادشاہ کی صفت علی الاطلاق تیرے لئے ہے اور آسمان کی اور زمین کی تمام سلطنت تیری ہی ہے۔ اس میں تبدیلیاں لانا اور انتظام کرنا سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ پھر چند تبدیلیاں ذکر کی ہیں جو اکیلے باری تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ فرمایا : (توتی الملک من تشآء وتنزع الملک ممن تشآء) ” تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے “ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران کے کسریٰ بادشاہوں سے، اور روم کے قیصر بادشاہوں سے اور ان کے پیرو کاروں سے حکومت چھین کر محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
قول باری ہے (لایت خدا لمومنون الکافریناولیاء من دون المؤمنین، اہل ایمان مسلمانوں کو چھوڑکر کافروں کو اپنا اپناہمدرد نہ بنائیں) تاآکر آیت۔ اس میں کافروں کو دوست بنانے کی نہی ہے۔ اس لیئے کہ آیت میں داردفعل (لایتخذ) مجزوم ہے اس لیئے اس میں نہی کے معنی ہیں خبر کے معنی نہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے نرمی برتنے سے روک دیا ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے۔ (لاتخذوایطانتۃ من دونکم لایألوتکم خیالا اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدارنہ بناؤوہ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے) نیز قول باری ہے (لاتجد قوما یومنون یا اللہ…
Read the full tafseer →58 دن رات کا ادلنا بدلنا قدرت کا عظیم الشان مظہر : سو دن کا رات میں اور رات کا دن میں داخل کرنا قدرت کی کارفرمائی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے جس سے کبھی رات بڑی اور کبھی دن۔ اور یہ نہایت ہی حکمت اور بڑی باریکیوں پر مشتمل ایک ایسا حیرت انگیز نظام ہے جس سے مخلوق کے طرح طرح کے فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ اور کسی کے بس اور اختیار میں نہیں کہ وہ اس میں کوئی رکاوٹ ڈال سکے۔ اور دن رات کے ادلنے بدلنے کا یہ سلسلہ چونکہ نہایت باریکی اور انتہائی پابندی کے ساتھ ہر لمحہ و لحظہ اور ہر حال میں جاری وساری رہتا ہے، اس لئے اس سے یہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا حکم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
قدرت الٰہی اور اس کا اختیار
تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرت کاملہ اور انسان کی بےبسی اور عاجزی کا ذکر بڑے اچھے انداز میں کیا گیا ہے اور یہ ایک بہترین دعا بھی ہے اور اس میں امت محمدی ﷺ کے لئے بہترین فتوحات یعنی روم وفارس کو فتح کرنے کی پشین گوئی بھی کی گئی ہے۔ جس پر کفار نے بڑا مذاق اڑایا تو رب العزت فرماتے ہیں کہ ان کو سمجھا دو کہ تمام بادشاہت اللہ ہی کی ہے وہ جسے چاہے حکومت دے جس سے چاہے چھین لے جسے چاہے عزت دے جیسا کہ مسلمانوں کی چھوٹی سی جماعت کو غزوہ بدر میں فتح عطا کی اور کفار کو اتنی بڑی طاقت ہونے پر بھی شکست کی ذلت اٹھانا پڑی۔ عزت دینا، ذلت دینا، حکومت دینا اور حکومت چھین لینا سب کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21- 30
اسرارو معارف
ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔
بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔
تو اے نبی ! ﷺ ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب…
Read the full tafseer →ف 5 اس سے موسموں کے اعتبار سے رات اور دن کے بڑھنے اور گھٹنے کی طرف اشارہ ہے۔6 حاٖفظ طبرانی (رح) نے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ قل اللھم تابغیر حساب میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے جس کی تلاوت کر کے دعا کی جائے تو اسے قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ حضرت معاز ؓ نے اپنے اوپر قرض بڑھ جانے کی شکایت کی تو آنحضرت ﷺ نے انہیں اس آیت کے تلاوت کرنے اور اس کے ساتھ یہ دعا پڑ ھنے کی ہدایت فرمائی : رحمان الدنیا والا خرۃ رحیمھما تعطی متشا منھماوتمنع من تشا ارحمنی رحمۃ تغنینی مھا رحمۃ من سواک اللھم اغنی من الفقرواقض عنی الدنیا : اے دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے تو جسے چاہتا ہے عنایت کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے…
Read the full tafseer →(3:27) تولج۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ ایلاج (افعال) مصدر۔ تو داخل کرتا ہے۔ و ل ج مادہ۔ کسی تنگ جگہ میں داخل کرنا۔ جیسے باب ضرب سے ولج یلج (حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 27
اللھم (میرے اللہ) مٰلک الملک (سلطنت کے مالک) توتی (تودیتا ہے) تشاء (توچاہتا ہے) تنزع (تو کھینچ لیتا ہے) تعز (تو عزت دیتا ہے) تذل (توذلت دیتا ہے) بیدک الخیر (تیرے ہاتھ میں خیر ہے) تولج (تو داخل کرتا ہے) تخرج (تونکالتا ہے) المیت (مراد، بےجان) الحی (زندہ) ترزق (تودیتا ہے تو رزق دیتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 27
سورة ال عمران کی آیت 26 اور 27 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت صرف اللہ ہی کی ہے۔ عزت ، ذلت، موت، حیات اور حکومت واقتدار وہ جسکو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے چھین لیتا ہے۔ وہ جس کو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
اسم اعظم کی آیت : قتادہ سے ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے ملک روم وفارس اپنی امت کے قبضہ میں آجانے کی ایک روز دیا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے نبی کی تسکین فرمائی کہ روم وفارس کیا چیز ہے، اس پاک ذات کے دست قدرت میں بڑے بڑے متصرفات ہیں۔ کبھی راتیں بڑی ہیں کبھی دن۔ کبھی نبوت بنی اسرائیل میں تھی آج بنی اسماعیل میں ہے۔ وہ صاحب تصرف جو چاہے کرسکتا ہے۔ چناچہ پھر ایسا ہی ہوا کہ بڑے بڑے ملک آپ کے اور آپ کی امت کے قبضہ میں آگئے۔ طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسم اعظم اسی آیت میں ہے جو کوئی شخص اس آیت کو پڑھے گا اس…
Read the full tafseer →[10] اس کی ایک نمایاں مثال پرندے کو انڈے سے نکالنا ہے۔
[11] اس کی ایک نمایاں مثال پرندے سے انڈے کی پیدائش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
کفار سے موالات :
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمان کافروں سے موالات نہ کریں اور ہرگز کسی غیر کو لائق محبت نہ سمجھیں ، اس مضمون کو متعدد آیات میں واضح کیا گیا ہے ، (آیت) ” لایتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ پھر یہ بھی فرمایا (آیت) ” ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ اس آیت میں ارشاد ہے کہ (آیت) ” ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیئ “۔ یعنی کفر سے دوستی ایمان سے ’ دشمنی کے مترادف ہے ، وہ جو اسلامی مفاد کو چھوڑ کر اور مسلمانوں سے رشتہ اخوت توڑ کر کفار سے تعلقات محبت استوار کرتا ہے ‘ وہ اسلام اور مسلمانوں کا غدار ہے اور ہرگز قابل اعتماد نہیں اور اس موالات میں کسی قوم وفرقہ کی تخصیص نہیں ، سارے کافر اسلام سے…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ اے مالک الملک تورات کے کچھ حصہ کو دن میں داخل کردیتا ہے اور تو دن کے بعض حصے کو رات میں داخل کردیتا ہے یعنی کبھی کے دن بڑے کبھی کی رات اور اے مالک تو ہی جاندارچیز کو بےجان سے نکالتا ہے اور بےجان چیز کو جان دار سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے بیشمار روزی عطا فرماتا ہے۔ ( تیسیر)
ملکی انقلاب اور چھوٹی اقوام کو عروج ترقی عطا کرنے پر رات اور دن کے چھوٹے۔۔۔۔ بڑے ہونے سے استدلال کرنا اور مردوں سے زندہ اور زندوں سے مردوں کے نکالنے کا ذکر کرنا یہ استدلال حضرت حق تعالیٰ ہی کے کلام میں مل سکتا ہے نہ کسی اور کو نظام کائنات پر یہ دسترس حاصل ہے اور نہ کوئی اس قسم کا استدلال کرسکتا ہے ۔ سردی کے موسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 1۔ یعنی ہر طرح کی قدرت حاصل ہے، سو ضعفاء کو قوت و سلطنت دے دنیا کیا مشکل ہے، اس دعا میں ایک قسم کا استدلال ہے اس کے امکان پر اور دفع ہے استبعاد کفار کا، اور خیر کی تخصیص اس لئے مناسب ہوئی کہ یہاں مقصود خیر کا مانگنا ہے، جیسے کوئی کہے کہ نوکر رکھنا آپ کے اختیار میں ہوتا ہے، اگرچہ نوکر کا موقوف کردینا بھی اختیار میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →تصرفات الٰہی کی ایک مثال پیش کی جارہی ہے :
69: پیچھے تصرفات الٰہی کا ذکر کیا تھا اب اس کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے تاکہ بات کی وضاحت ہوجائے اور اچھی طرح انسان کے ذہن میں بیٹھ جائے کہ جو کچھ ہے سب قبضہ قدرت الٰہی میں ہے اس سے باہر کچھ نہیں۔ ” تورات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ “ غور طلب بات یہ ہے کہ جب رات دن میں داخل ہوتی ہے تو کیا رات رات بھی رہتی ہے اور دن میں بھی داخل ہوجاتی ہے ؟ نہیں جتنی رات دن میں داخل ہوتی ہے وہ دن ہوجاتا ہے اور رات نہیں رہتی۔ اسی طرح جب دن رات میں داخل ہونا شروع ہوتا ہے تو جتنا دن رات میں داخل ہوجاتا ہے وہ دن دن نہیں رہتا بلکہ رات ہوجاتا ہے۔…
Read the full tafseer →The second verse (27) demonstrates that Allah controls all spaces and heavenly bodies and employs the sun and the moon to make the days longer than nights and the nights longer than the days at His will and command.
Mentioned after that is His unrivalled power of 'bringing the living out from the dead' such as, a chick from an egg, or a human infant from the sperm, or a tree from a seed and of 'bringing the dead out from the living' such as eggs from birds and beasts, sperm from humans or fruit from trees and dried grain from plants.
If we were to take 'the living' and the dead' in a broad…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
24. Those who disbelieved and disobeyed were seen to be prosperous, whereas the believers, with their devotion and loyalty to God, suffered all the deprivation, persecution and torment to which the Prophet and his followers were subjected around the year 3 A.H. The contrasting states of the two groups of men were the reverse of what would naturally be expected. This raised disturbing questions in people's minds about the underlying wisdom of this phenomenon. The verse conveys God's answer.
Read the full tafseer →