Explained with ayahs 199–200
ایمان والوں اور مجاہدین کے قابل رشک اعزاز
اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے اس فرقے کی تعریف کرتا ہے جو پورے ایمان والا ہے قرآن کریم کو بھی مانتا ہے اور اپنے نبی کی کتاب پر بھی ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھ کر اللہ تعالیٰ فرمانوں کی بجا آوری میں نہایت تندہی کے ساتھ مشغول ہے رب کے سامنے عاجزی اور گریہ وزاری کرتا رہتا ہے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے جو پاک اوصاف اور صاف نشانیاں ان کی کتابوں میں ہیں اسے دنیا کے بدلے چھپاتا نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتا ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کو مان لینے کی رغبت دلاتا ہے۔ ایسی جماعت اللہ تعالیٰ کے پاس اجر پائے گی خواہ وہ یہودیوں کی ہو خواہ نصرانیوں کی، سورة قصص میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–200
سورة اٰلِ عِمْرٰن 141
اصل عربی متن میں صابِرُوْا کا لفظ آیا ہے۔ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ کفار اپنے کفر پر جو مضبوطی دکھا رہے ہیں اور اس کو سربلند رکھنے کے لیے جو زحمتیں اٹھا رہے ہیں تم ان کے مقابلے میں ان سے بڑھ کر پامردی دکھاؤ۔ دوسرے یہ کہ ان کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے بڑھ کر پامردی دکھاؤ۔
Read the full tafseer →ربط آیات
یہ سورة آل عمران کی آخری آیت ہے، مسلمانوں کے لئے چند اہم وصیتوں پر مشتمل ہے، گویا پوری سورت کا خلاصہ ہے۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (تکالیف پر) خود صبر کرو اور (جب کفار سے مقاتلہ ہو تو) مقاتلہ میں صبر کرو اور (احتمال مقاتلہ کے وقت) مقابلہ کے لئے مستعد رہو اور (ہر حال میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (کہ حدود شرعیہ سے نہ نکلو) تاکہ تم پورے کامیاب ہو (آخرت میں لازمی اور ضروری اور بعض اوقات دنیا میں بھی)۔
معارف و مسائل
اس آیت میں تین چیزوں کی وصیت مسلمانوں کو کی گئی ہے، صبر، مصابرہ، مرابطہ اور چوتھی چیز تقوی ہے جو ان تینوں کے ساتھ لازم ہے۔
صبر کے لفظی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں اور…
Read the full tafseer →شریعت کے حقوق ادا کرنے کے لیے بنیادی ہدایات : یہ اس سورة کی آخری آیت ہے جس میں خاتمہ کلام کے طور پر وہ تمام بنیاد ہدایات جمع کردی گئی ہیں جو شریعت کے حقوق ادا کرنے اور ان حالات و مشکلات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری تھیں جن میں مسلمان گھرے ہوئے تھے۔ یہ ہدایات چار چیزیں اختیار کرنے اور ان پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہنے کے لیے ہیں۔
صبر کی حقیقت : پہلی چیز صبر ہے۔ اس لفظ پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم بڑی تفصیل کے ساتھ گفتگو کرچکے ہیں۔ اس لفظ کی اصل روح کسی حق پر اپنے آپ کو مزاحمتوں کے مقابل میں جمائے رکھنا ہے۔ عام اس سے کہ یہ مزاحمتیں خود اپنے اندر سے سر اٹھائیں یا خارج سے حملہ آور ہوں اس خصلت کو…
Read the full tafseer →20۔ 1 صبر کرو یعنی طاعت کے اختیار کرنے اور شہوات اور لذات ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو، جنگ کی شدت میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہنا، یہ صبر کی سخت ترین صورت ہے اس لئے اسے علٰیحدہ بیان فرمایا محاذ جنگ میں مورچہ بند ہو کر ہمہ وقت چوکنا اور جہاد کے لئے تیار رہنا مرابطہ ہے۔ یہ بھی بڑے عزم ولولہ کا کام ہے، اسی لئے حدیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے (رباط یوم فی سبیل اللہ خیر من الدنیا وما علیھا) (صحیح بخاری، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ) اللہ کے راستے (جہاد) میں ایک سن پڑاؤ ڈالنا۔ (یعنی مورچہ بند ہونا) دنیا ومافیہا سے بہتر ہے " علاوہ ازیں حدیث میں مکارہ (یعنی ناگواری کے حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →اب آخری ضرب ہے ۔ اللہ کی جانب سے ان لوگوں کو پکار دی جاتی ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ اس میں اس راہ کی مشکلات کا مختصر ترین نچوڑ اور خلاصہ پیش کیا جاتا ہے اور راستے کی ذمہ داریوں اور شرائط کا ذکر کیا جاتا ہے۔
عالم بالا سے یہ پکار ‘ اہل ایمان کے لئے ہے ۔ اور اس صفتی نام سے یہ پکار ہے جس صفت نے انہیں ذات باری سے مربوط کیا ہے ۔ وہ ذات جوان مومنین پر یہ ذمہ داریاں ڈال رہی ہے ۔ جو انہیں اس پکار کے اہل بناتی اور جو انہیں ذمہ داریاں اٹھانے کی تربیت دیتی ہے ۔ اور انہیں اس زمین پر بھی اسی طرح مکرم بناتی ہے جس طرح انہیں آسمان پر مکرم بنایا گیا ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا……………(اے لوگو جو ایمان لائے…
Read the full tafseer →6 خاتمہ پر مسلمانوں کو ایک نہایت جامع و مانع نصیحت فرما دی، جو گویا ساری سورت کا ماحصل ہے، یعنی اگر کامیاب ہونا اور دنیا و آخرت میں مراد کو پہنچنا چاہتے ہو تو سختیاں اٹھا کر بھی طاعت پر جمے رہو، معصیت سے رکو، دشمن کے مقابلہ میں مضبوطی اور ثابت قدمی دکھلاؤ، اسلام اور حدود اسلام کی حفاظت میں لگے رہو، جہاں سے دشمن کے حملہ آور ہونے کا خطرہ ہو وہاں آہنی دیوار کی طرح سینہ سپرہو کر ڈٹ جاؤ۔ (وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ ) 8 ۔ الانفال :60) اور ہر وقت ہر کام میں خدا سے ڈرتے رہو۔ یہ کرلیا تو سمجھو کہ…
Read the full tafseer →آیت 200 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا
مصابرت باب مفاعلہ سے ہے اور اس میں مقابلہ ہوتا ہے۔ ایک تو ہے صبر کرنا ‘ ثابت قدم رہنا ‘ اور ایک ہے مصابرت یعنی صبر و استقامت میں دشمن سے بڑھ جانا۔ ایک صبر وہ بھی تو کر رہے ہیں۔ تمہیں آج چرکا لگا ہے تو انہیں ایک سال پہلے ایسا ہی چرکا لگا تھا اور 70 مارے گئے تھے۔ وہ ایک سال کے اندر پھر چڑھائی کر کے آگئے ‘ تو تم اپنا دل غمگین کر کے کیوں بیٹھے ہوئے ہو ؟ تمہیں تو ان سے بڑھ کر صبر کرنا ہے ‘ ان سے بڑھ کر قربانیاں دینی ہیں ‘ تبھی تم حقیقت میں اللہ کے وفادار ثابت ہو گے۔
وَرَابِطُوْاقف۔
مرابطہ پہرے کو بھی کہتے ہیں اور نظم و ضبط discipline…
Read the full tafseer →201 (صَابِرُوْا) کے دو معنے ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر صبر کرو اور دوسرے یہ کہ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہو۔ یعنی جو اسلام کی راہ میں مشکلات آنے پر خود بھی ثابت قدم رہیں اور دوسروں کو بھی ایسی ہی تلقین کرتے اور ان کی ڈھارس بندھاتے رہیں۔
202 اسی طرح (رَابِطُوْا) میں جہاد کے لیے تیار رہنا، کسی چوکی پر پہرہ دینا، مورچے پر رہنا اور اپنی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کرنا سب کچھ شامل ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن مورچے پر رہنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور تم میں کسی کو ایک کوڑا رکھنے کے برابر جنت میں جگہ مل جائے تو وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور شام…
Read the full tafseer →417 ۔ (آیت) ” اصبروا “۔ یعنی جو صعوبتیں راہ حق میں از خود پیش آئیں ان پر صبر کیے جاؤ۔ ای علی مشاق الطاعات وما یصیبکم من الشدائد (بیضاوی) ای الصبر بالطاعات وعن الشھوات (قرطبی) قال الحسن وقتادۃ وابن جریج والضحاک اصبروا علی طاعۃ اللہ (جصاص) (آیت) ” صابروا “۔ یعنی جو مصیبتیں مخالفین ومعاندین کے ہاتھوں پیش آئیں انہیں بھی برداشت کرو، ای غالبوا اعداء اللہ، فی الصبر علی شدائد الحرب (بیضاوی) معناہ مصابرۃ الاعداء قالہ زید بن اسلم (قرطبی) صابروا اعداء اللہ (جصاص) (آیت) ” رابطوا “ یعنی خارجی دشمنوں اور اپنے اندرو ونی دشمن (نفس) دونوں سے مقابلہ کے لیے مستعد رہو۔ الرباط حمل النفس علی النیۃ الحسنۃ والجسم…
Read the full tafseer →یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا۔ صبر کرو۔ یعنی طاعات اختیار کرنے اور شہوات و لذات کے ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو۔
Read the full tafseer →یا یھا الذین امنو اصبروا اے ایمان والو جمے رہو یعنی اپنے دین پر، اوامرو نواہی کی تکلیفوں پر، خواہشات نفس کی مخالفت پر۔ اپنے رب کی محبت وطاعت پر۔ رب کی محبت وطاعت کسی وقت نہ چھوڑو نہ دکھ میں نہ سکھ میں نہ سختی میں نہ نرمی میں اور جمے رہو دشمنوں سے جہاد کرنے، پر شدائد و مصائب برداشت کرنے پر۔ جنید نے فرمایا : صبر کا معنی ہے مصائب پر بغیر بےتابی کے نفس کو جمائے رکھنا۔
و صابروا اور شدائد جنگ پر دشمنوں سے زیادہ جمے رہو کیونکہ تمہاری طرح (زخموں کا اور بھوک پیاس تھکان وغیرہ کا) ان کو بھی دکھ ہوتا ہے مگر (نتیجہ میں) ان کو (جزاء آخرت اور جنت کی) کوئی امید نہیں ہوتی اور تم اللہ سے امید رکھتے ہو۔ اصبروا…
Read the full tafseer →(200) اور اپنے نفسوں کو دشمنوں کے مقابلہ کے لیے مستعد و تیار رکھو اور ایک یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے پر جمے رہو، اور خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں اور بدنیتوں کا خاتمہ کردو اور اپنے گھوڑوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تیار رکھو۔
اور جن باتوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان کو بجا لاؤ اور ہرگز ان سے اعراض (بےتوجہی) مت کرو تاکہ عذاب الہی اور غصہ خداوندی سے نجات حاصل کرو۔
Read the full tafseer →”اصْبِرُوْا“ یعنی دین اسلام پر ثابت قدمی سے جمے رہو۔ ”صابروا“ یہ باب مفاعلہ سے ہے جس میں مقابلہ کا معنی پایا جاتا ہے، یعنی کافروں کے مقابلے میں ان سے بڑھ کر پامردی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ ”ورابطوا“ یعنی دشمنوں سے جہاد کے مورچوں پر ڈٹے رہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کے راستے میں ایک دن (سرحدوں پر) پہرا دینا دنیا اور دنیا میں جو کچھ موجود ہے، اس سب سے بہتر ہے۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب فضل رباط یوم فی سبیل اللہ : 2892، عن سہل بن سعد ؓ ]
اور آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کے راستے میں ایک دن اور ایک رات کا پہرا دینا ایک مہینے کے قیام اور صیام سے بہت رہے اور اگر اس حالت میں مجاہد فوت ہوگیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیت نمبر : 190 تا 200۔
اس میں پچیس : مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں کئی مقامات پر گزر کئی مقامات پر گزر چکا ہے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کا اختتام ان آیات میں نظر و استدلال کے حکم کے ساتھ کیا، کیونکہ یہ پیدا نہیں ہو سکتے مگر اسی کی جانب سے جو حی وقیوم ہے قدرت والا ہے، پاک ہے، سلامت ومحفوط ہے، (ہر عیب اور کمزوری سے) اور کل جہاں سے بےنیاز اور غنی ہے، تاکہ انکا ایمان یقین کے ساتھ مستند ہوجائے نہ کہ فقط تقلید (پر اس کا انحصار ہو)
(آیت) ” لایت لاولی الالباب “۔ یعنی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقلوں کو دلائل میں غوروفکر…
Read the full tafseer →(1) ابن المبارک وابن جریر وابن المنذر اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب الایمان میں داؤد ثابت بن صالح کے طریق سے ابو سلمہ عبد الرحمن ؓ سے روایت کیا کیا تم جانتے ہو کس کے بارے میں یہ آیت ” اصبروا وصابروا ورابطو “ نازل ہوئی میں نے عرض کیا نہیں تو انہوں نے فرمایا میں نے ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ کے زمانہ میں کوئی غزوہ نہیں تھا کہ جس میں رابطہ ہوتا لیکن ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی انتظار میں بیٹھنا تھا۔
(2) ابن مردویہ نے وجہ آخر سے ابو سلمہ بن عبد الرحمن ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک ابن ابوہریرہ ؓ میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! کیا تو جانتا ہے…
Read the full tafseer →[یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو ! جو ] [اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [اصْبِرُوْا : تم لوگ ثابت قدم رہو ] [وَصَابِرُوْا : اور مدمقابل سے زیادہ ثابت قدمی دکھائو ] [وَرَابِطُوْا : اور مقابلے میں ہمیشہ مضبوط رہو ] [وَاتَّـقُوا : اور تقویٰ اختیار کرو ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ ] [تُفْلِحُوْنَ : تم لوگ مراد حاصل کرو ]
Read the full tafseer →اہل ایمان کو چند نصیحتیں
یہ سورة آل عمران کی آخری آیت ہے اس میں اہل ایمان کو چار وصیتیں فرمائیں، جن میں جینے کا طریقہ بتایا ہے، عام حالات میں کیسے رہیں اور کافروں سے مقابلہ ہو تو کیسے لڑیں۔ اجمالی طور پر یہ بات بتادی ہے۔ پہلی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا صبر کرو، صبر کے تینوں معنی ذہن میں لے آئیں (یعنی نیک کاموں پر مضبوطی سے قائم رہنا اور گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرتے رہنا اور جو دکھ تکلیف پیش آئے اس کے بارے میں جزع فزع سے باز رہنا) ۔
دوسری نصیحت یہ فرمائی وَ صَابِرُوْا چونکہ یہ بات مفاعلہ ہے اس لیے عربی قواعد کے اعتبار سے دونوں جانب سے اشتراک کو چاہتا ہے، اسی کے پیش نظر حضرات مفسرین نے اس کا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
دلائل الوہیت ووحدانیت و کمال قدرت و حکمت وبیان حال دانشمنداں ودعا ہائے گوناگوں ایشاں۔
قال تعالیٰ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔۔ تفلحون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یعنی وللہ ملک السماوات۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ میں اللہ کی بادشاہت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اللہ کی الوہیت اور اس کی واحدانیت اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور اہل عقل اور اہل دانش کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے مخلوقات کو دیکھ کر خالق کا پتہ چلالیا اور مصنوعات کو دیکھ کر صانع کو پہچان لیا اور دن رات اپنے پروردگار کے ذکر اور فکر میں سرشار ہیں اور اسی کی تسبیح اور دعا اور استغفار میں مشغول ہیں قرآن…
Read the full tafseer →299 اس آخری آیت میں سورت کا اجمالی خلاصہ بیان کردیا گیا ہے۔ اِصْبِرُوْا یعنی توحید کی خاطر جس قدر مصیبتیں آئیں ان پر صبر کرو اور انہیں برداشت کرو۔ وَ صَابِرُوْا اور ثابت قدم رہو یعنی دین اور مقابلہ میں (شاہ عبدالقادر) وَ رَابِطُوْا دروں میں گھوڑے باندھو۔ یعنی جہاد کے لیے تیار رہو (جلالین) اس میں ترغیب علی القتال کا ذکر ہے اور انفاق فی القتال چونکہ قتال کا مبدا اور اس کے لیے موقوف علیہ ہے۔ اس لیے وہ ضمناً اس میں آگیا۔
سورة آل عمران میں آیات توحید مع مختصر خلاصہ جات
1 ۔ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ نفی شرک فی التصرف
2 ۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي…
Read the full tafseer →خلاصہ سورة : پانچ اصول : سورة آل عمران کی یہ آخری آیت ہے۔ یہ لمبی اور عظیم سورتوں میں سے ہے۔ سورة کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے خطاب کرکے اس سورة کے خلاصہ طور پر پانچ اصول بیان فرما دیے ہیں اور اس کے چھٹی بات مومنوں کے لیے فلاح و کامیابی کا مثدہ ہے۔ آج کی یہ آخری آیت پوری سورة کا لب لباب اور ایک جامع نصیحت پر مشتمل ہے۔ دوسرے لفظوں میں پوری سورة آل عمران اس آخری آیت میں مذکورہ پانچ اصولوں کی تشریح ہے۔
ارشاد ہوتا ہے۔ یا ایہا الذین امنوا۔ اے ایمان والو ! اس آیت میں خطاب ہی ایمان والوں سے ہے۔ انسان کے لیے سب سے اہم مطلوبہ چیز ایمان ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایمان والوں سے خطاب بھی ہے اور ایک…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا 0 ۣ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 200 ۧ
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–200
ترکیب : متاع قلیل خبر ہے مبتداء محذوف کی اے تقلبہم متاع قلیل لکن مخفف اور مثقل دونوں طرح سے آیا ہے خالدین حال ہے لہم سے اور عامل معنی استقرار ہیں جنت موصوف و صفت مبتدا لہم خبر من اھل الکتاب خبر ان لمن یومن اسم خاشعین حال ہے ضمیر یؤمن سے اور جمع بلحاظ معنی لفظ من ہے۔
تفسیر : ان پرہیزگاروں کے مقابلہ میں ان لوگوں کو دکھایا جاتا ہے کہ جو صرف دنیاوی جاہ و حشمت پر مغرور ہو کر ملک میں اکڑتے پھرتے ہیں جو ایک بہت ہی قلیل پونجی ہے اور نیز مشرکین اپنے دنیاوی عیش و آرام پر نازاں ہو کر فقرائِ مہاجرین و انصار سے جن پر تنگدستی بےامنی محیط تھی طعن کے طور سے کہا کرتے تھے کہ تمہاری خدا پرستی اور پرہیزگاری…
Read the full tafseer →یٰٓـاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْ وَرَابِطُوْا قف وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ ع
(اے ایمان والو ! صبر کرو، ثابت قدم رہو، مقابلے کے لیے تیار رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ) (200)
یہ اس سورة کی آخری آیت کریمہ ہے جس میں وہ تمام ہدایات دے دی گئی ہیں جو شریعت کے حقوق ادا کرنے اور جن حالات سے مسلمان گزر رہے تھے ان سے عہدہ برآہ ہونے کے لیے ضروری تھیں۔ یہ چارہدایات ہیں۔ جن میں سے تین الگ الگ ہیں اور چوتھی کا ہر ایک سے تعلق ہے۔
پہلی ہدایت
پہلی ہدایت یہ ہے کہ اے مسلمانو ! صبر کرو۔ صبر کے لفطی معنی ” روکنے اور باندھنے “ کے ہیں۔ قرآن وسنت کی اصطلاح…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جنت کی نعمتوں کے حصول اور اسلام کی سربلندی کے لیے مومنوں کو امن ہو یا جنگ ہر حال میں اللہ سے ڈرنا اور ثابت قدم رہنا ہوگا۔
سورۃ کی اختتامی آیات میں کفار کی دنیاوی شان و شوکت کا بیان ہوا اور اس پر مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ ہر مسلمان کو زندگی کے نشیب و فراز اور اسلام دشمنوں کے مقابلہ میں صبر و استقلال اختیار کرنا چاہیے اور اپنے مسلمان بھائی کو اس کی تلقین کرتے ہوئے ایک دوسرے سے بڑھ کر صبر و استقلال کا مظاہرہ اور باہم رابطہ رکھتے ہوئے جہاد کی تیاری کرنا چاہیے۔
مشکلات پر قابو پانے کا یہی مؤثر ذریعہ ہے کہ آدمی ایک دوسرے کی ڈھارس بندھاتے ہوئے آگے بڑھے۔
” رَابِطُوْا “ کا…
Read the full tafseer →صبر وتقویٰ کامیابی کا راز ہے :
200: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (اے ایمان والو ! تم صبر کرو) دین کے سلسلہ میں اور اس کی خاطر آنے والی تکالیف پر حضرت جنید (رح) نے فرمایا۔ صبر۔ نفس کو ناپسند چیز پر روکنا اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کرنا۔ وَصَابِرُوْا ( اور دشمن کے مقابلہ میں جہاد کے شدائد پر صبر کرو) یعنی لڑائی کی تکالیف برداشت کرنے میں ان پر غالب آجائو۔ اور صبر و ثبات میں ان سے پیچھے نہ رہو۔ وَرَابِطُوْا (اور مقابلہ کیلئے تیار رہو) یعنی سرحدات پر پہرے کے ساتھ قائم رہو۔ اور گھوڑے باندھو۔ غزوہ کیلئے ہر وقت…
Read the full tafseer →(نجاشی کے غائبانہ نماز جنازہ کا ذکر)
200۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، جابر ؓ ، انس ؓ ، قتادہ ؓ ، کے نزدیک نجاشی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ، اس کا نام اصمحہ تھا اور عربی میں اس کا نام عطیہ تھا جس روز اس کی وفات ہوئی اس روز جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی ، آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے عرض کیا باہر نکل کر اپنے بھائی نجاشی کی نماز پڑھو ، اس کا انتقال دوسرے ملک میں ہوگیا ، چناچہ وہ بقیع تشریف لے گئے ، آپ کے سامنے سے سرزمین حبشہ تک پڑدہ ہٹادیا اور نجاشی کا جنازہ آپ نے دیکھ کر پڑھایا ، چار تکبریں کہیں اور دعا مغفرت کی ، منافق کہنے لگے ان کو دیکھو ایک حبشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
(199 ۔ 200) ۔ مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن زبیر 1 سے اور نسائی میں حضرت انس ؓ سے اور تفسیر ابن جریر میں حضرت جابر ؓ سے جو روایت اس آیت کی شان نزول میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نجاشی بادشاہ حبشہ کا جب انتقال ہوگیا تو آپ نے صحابہ کو ساتھ لے کر بقیع میں جا کر نجاشی کی صلوٰۃ الغائب پڑھی۔ بعض منافقوں نے یہ چرچا کیا کہ نصرانی غلام حبشہ کی نماز مسلمانوں سے آنحضرت ﷺ نے کیوں پڑھوائی اس چرچے کو غلط ٹھہرانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ سب اہل کتاب ایک سے نہیں ہیں بعض وہ ہیں کہ عہد کے بعد اللہ کے احکام کو بدلتے اور چھپاتے ہیں جن کا ذکر اوپر گذرا۔ اور بعض وہ ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
آیت 199-200
یعنی اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں بھلائی کی توفیق عطا کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی اور یہی وہ ایمان ہے جو نفع پہنچاتا ہے اور اس شخص کے ایمان کی مانند نہیں، جو بعض رسولوں اور کتابوں پر ایمان لاتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں، چونکہ ان کا ایمان عام اور حقیقت پر مبنی ہے اس لئے یہ نفع پہنچانے والا ہے، یہ ایمان ان کے دلوں میں خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی پر عمل کرنے اور اس کی مقرر کردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–200
اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…
Read the full tafseer →429 فلاح کا مفہوم اور اس سے سرفرازی کا طریقہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یہ اور یہ کام کرو تاکہ تم فلاح پا سکو۔ اور فلاح کا حصول اور اس سے سرفرازی اصل مقصود اور گوہر مطلوب ہے جسکے معنیٰ ہیں کہ انسان دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی امن و سکون اور خیرو برکت والی پاکیزہ زندگی یعنی حیات طیبہ سے سرفراز ہوجائے۔ اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی رضائے خداوندی اور نعیم جنان سے فائز المرام ہوجائے۔ اور اس مقصد جلیل کیلئے اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو چار باتوں کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ایک " صبر " یعنی راہ حق پر پکے اور ثابت قدم رہو اور دوسرے " مصابرت " یعنی دشمنوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–200
کافر اور مومن کے انجام کا مقابلہ
تشریح : ان آیات کو غور سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے یہ پوری سورة ٔآل عمران کا خلاصہ ہے۔ کیونکہ اس میں نیک و بد انسان کی تعریف بیان کرنے کے بعد ان کے اجر وثواب، یعنی سزا و جزا کو خوب کھول کر بتا دیا گیا ہے اور آخر میں اللہ رب العزت دوبارہ مومنوں کو خوشخبری دیتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ ہر عمل کرتے ہوئے یہ خیال ضرور رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے بلکہ تمہاری نیتوں کو بھی اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے میں وہ محبت اور شفقت چھپی ہوئی ہے جو بیان سے باہر ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ماں کا پیار اللہ رب العزت کے پیار، مہربانی، شفقت، کرم، محبت، خلوص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیات 190- 200
اسرارو معارف
ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔
عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ ﷺ جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔
یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور…
Read the full tafseer →ف 2 اصبروا یعنی اسلام پر ثابت قدمی سے جم ہے رہو۔ صابر وا یعنی کافر کے مقابلہ میں ان سے بڑھ کر دین اسلام پر پامردی اور ثابت قدمی کا مظاہر کرو رابطوا۔ دشمنوں سے جباو کے لیے ہمیشہ مستعد رہو۔ صحیح بخاری میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط (سرحدوں کی حفاظت) دنیامافیہا سے افضل ہے اور احادیث میں تکلیف کے اوقات میں پوری طرح وضو کرنے مسجد کو چل کر آنے اور پھر ایک نماز بعد دوسری نما کا انتظار کرنے کو بھی آنحضرت ﷺ نے رباط فرمایا ہے ( ابن کثیر )
3 یعنی ان سب عمال کی روح تقویٰ ہے۔ تقویٰ کے باعث ہی یہ اعمال فلاح کا سبب بن سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →(3:200) صابروا۔ صیغہ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ مقابلہ میں مضبوط جمے رہو۔ مصابرۃ سے (مفاعلۃ) جس کے معنی صبر کے ساتھ کسی سے جنگ کرنے کے ہیں۔ صاحب مفردات لکھتے ہیں :۔
الصبر۔ کے معنی عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضے کے مطابق اپنے آپ کو روکے رکھنے کے ہیں۔ صبر ایک عام لفظ ہے جو کہ مختلف مواقع استعمال کے اعتبار سے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ چناچہ کسی مصیبت پر نفس کو روک رکھنے کو صبر کہا جاتا ہے۔ یہ جزع کی ضد ہے اور جنگ میں نفس کو روک رکھنا شجاعت ہے اس کی ضد جبن ہے یہی صبر اگر کسی پریشانی کسی حادثہ کو طرداشت کرنے کی صورت میں ہو تو اسے رحب الصدر کشادہ دلی کہتے ہیں۔ جس کی ضد ضجر ہے۔ اگر کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–200
لغات القرآن آیت نمبر 196 تا 200
لایغرنک (تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے) سریع الحساب (جلد ھساب لینے والا) تقلب (آناجانا، چلت پھرت) اصبروا ( صبر کرو) البلاد (شہر (بلد کی جمع) صابروا (صبر دلاتے رہے) المھاد (ٹھکانا) رابطوا (لگے رہو) نزل (مہمان داری) تفلحون (تم کامیابی حاصل کرو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 196 تا 200
سورة آل عمران کو ان آیات پر ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثاروں کو یہ بتایا ہے کہ کفار کی دنیاوی ترقی ملکوں میں چلت پھرت، بھاگ دوڑ اور نئی سج دھج کہیں کسی دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ یہ ساری چیزیں وقتی بہاریں ہیں موسم بدلتے ہی ساری خوبصورتیاں اور یہ سج دھج ختم ہوکر رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
شان نزول : نجاشی بادشاہ حبشہ کا جب انتقال ہوگیا تو آپ نے صحابہ کرام کو ساتھ لے کر بقیع میں جا کر نجاشی کی نماز غائبانہ پڑھی۔ بعضے منافقوں نے یہ چرچا کیا کہ نصرانی غلام حبشی کی نماز جنازہ مسلمانوں سے حضور ﷺ نے کیوں پڑھوائی۔ اس چرچے کو غلط ٹھہرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت یہ ہیں کہ سب اہل کتاب ایک سے نہیں ہیں۔ بعضے وہ ہیں کہ عہد کے بعد اللہ کے احکام کو بدلتے اور چھپاتے ہیں۔ جن کا ذکر اوپر گزرا اور بعضے وہ ہیں جو اللہ کی کتابوں پر پورا ایمان رکھتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھ اور نجاشی۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اجر دیوے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجاشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں سورة ال عمران کا اختتام ہے اور اس میں تقریبا تمام ان اوصاف کا ذکر کیا ہے جو کامیاب انسان کے لئے ضروری ہے ، صبر ‘ مصابرہ اور رباط ، یہ تین چیزیں ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے صبر کے معنی حسب ذیل ہیں :۔
1۔ توحید ومعرفت میں غور وفکر ۔
2۔ فرائض ومندوبات پر مدامت ۔
3۔ مشتبہات سے احتراز ۔
کیونکہ ان ہر سہ معافی میں مشقت وکوفت ہے جس کا برداشت کرلینا صبر ہے ، وقت نظر کی مشکلات سے کون ناواقف ہے ، فرائض ومندوبات پر مداومت بھی دشوار ہے ، اور منہیات سے احتراض سے احتراز تو بہت ہی مشکل امر ہے ۔
اس کے بعد ” مصابرہ “ کا درجہ ہے ، مصابرہ کہتے ہیں ہر اس تکلیف کے برداشت کرنے کو جس کا تعلق دوسرے…
Read the full tafseer →ف 2 اے ایمان والو ! تم مصائب پر صبر کرو اور تکالیف کو برداشت کرو اور جب جہاد اور میدانِ جنگ میں ہو تو دشمن کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ جمے رہو اور حق کی خدمت کے لئے آمادہ و مستعد اور کمربستہ رہو اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ تم اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب اور فائز المرام ہو۔ (تیسیر)
آیت میں مسلمانوں کو چار باتوں کا حکم دیا گیا ہے پہلی بات کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دین پر قائم رہوجس قسم کی تکلیف پیش آئیں ان کو ہمت کے ساتھ برداشت کرو خواہ وہ تکلیف نفس اور شیطان کے مقابلہ کی وجہ سے پیش آئے یا حضرت حق کی محبت اور عبادت میں پیش آئے یا کفار اور دشمنان دین کی جانب سے پیش آئے یا اور کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–200
ف 1۔ قاموس میں مرابطت اور رباط کے دو معنی لکھے ہیں ایک ملازمت ثغر العدو یعنی مابین دار الاسلام و دار الکفر کے سرحد کے موقع پر قیام کرنا تاکہ کفار سے دار الاسلام کی حفاظت رہے، احقر نے یہی معنی لئے ہیں، دوسرے معنی مواظبت علی الامر یعنی مطلق احکام کی پابندی کرنا۔ بیضاوی نے یہ معنی بھی لئے ہیں اور حدیث میں انتظار الصلوۃ بعد الصلوۃ کو رباط فرمایا ہے، اس میں دونوں معنی کا احتمال ہے، یا تو معنی اول کے اعتبار سے تشبیہا اس کو رباط فرما دیا کہ یہ بھی نفس و شیطان کے مقابلہ میں مستعد رہنا ہے یا معنی ثانی کے اعتبار سے حقیقۃ فرمادیا ہے کہ یہ انتظار خود علامت ہے دوام کی جیسا کہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم
Read the full tafseer →خلاصہ کلام سن لو اور ہدایات پر مضبوطی کے ساتھ جم جاؤ دین و دنیا کی بھلائی اسی میں ہے :
365: یہ سورة آل عمران کی آخری آیت ہے جس میں خاتمہ کلام کے طور پر تمام بنیادی ہدایات جمع کردی گئی ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے اور اس راستہ میں پیش آنے والی ساری مشکلات سے عہدہ برا ہونے کے لیے ضروری ہیں اور ان ہدایات کا ماحصل چار چیزیں ہیں ان کو اختیار کر کے مضبوطی کے ساتھ جمے رہنے میں دین و دنیا کی ساری کامیابیاں ہیں۔
ان چار چیزوں میں پہلے صبر ہے ، دوسری مصابرت ، تیسری مرابطہ اور چوتھی تقویٰ ۔ سورة فاتحہ میں صبر اور تقویٰ دونوں کی تفصیل آ چکی ہے تاہم ان چاروں کا مختصر ذکر یہاں بھی علی الترتیب…
Read the full tafseer →This is the last verse of Surah 'Al-` Imran. The advice given here is quintessential for all Muslims.
Commentary
There are three things in the verse Muslims have been charged with. These are Sabr, Musabirah and Murabitah. The fourth element is Taqwa which is a necessary ingredient of all three. Their meanings are being given below.
Literally, the Arabic word 'Sabr' means 'to hold' or 'to tie'. In the terminology of the Qur'an and Sunnah, Sabr' is the effort made to control and defend one's slippery self against what is temperamentally unpleasing. This 'Sabr' (roughly translated as 'patience'…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–200
141. The original Arabic word is " sabiru". This has two possible meanings. One is that whenever they are in confrontation with unbelievers, the believers should endure even greater hardships for their cause, and display a higher degree of fortitude than the unbelievers. The other is that the believers should try to excel one another in facing the opposition and hostility of unbelievers with courage and fortitude.
Read the full tafseer →