Explained with ayahs 199–200
ایمان والوں اور مجاہدین کے قابل رشک اعزاز
اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے اس فرقے کی تعریف کرتا ہے جو پورے ایمان والا ہے قرآن کریم کو بھی مانتا ہے اور اپنے نبی کی کتاب پر بھی ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھ کر اللہ تعالیٰ فرمانوں کی بجا آوری میں نہایت تندہی کے ساتھ مشغول ہے رب کے سامنے عاجزی اور گریہ وزاری کرتا رہتا ہے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے جو پاک اوصاف اور صاف نشانیاں ان کی کتابوں میں ہیں اسے دنیا کے بدلے چھپاتا نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتا ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کو مان لینے کی رغبت دلاتا ہے۔ ایسی جماعت اللہ تعالیٰ کے پاس اجر پائے گی خواہ وہ یہودیوں کی ہو خواہ نصرانیوں کی، سورة قصص میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–200
سورة اٰلِ عِمْرٰن 141
اصل عربی متن میں صابِرُوْا کا لفظ آیا ہے۔ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ کفار اپنے کفر پر جو مضبوطی دکھا رہے ہیں اور اس کو سربلند رکھنے کے لیے جو زحمتیں اٹھا رہے ہیں تم ان کے مقابلے میں ان سے بڑھ کر پامردی دکھاؤ۔ دوسرے یہ کہ ان کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے بڑھ کر پامردی دکھاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–199
ربط آیات
سابقہ آیات میں مومنین صالحین کی چند دعاؤں کا ذکر تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان دعاؤں کی قبولیت اور ان کے اعمال صالحہ کے اجر عظیم کا بیان ہے، دوسری تیسری آیتوں میں یہ ہدایت ہے کہ کفار کے ظاہر عیش و عشرت مال و دولت اور دنیا میں چلنے پھرنے سے مسلمانوں کو دھوکہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ چند روزہ ہے اور پھر عذاب دائمی۔
چوتھی آیت میں پھر تقوی شعار مسلمانوں کے لئے جنت کی لازوال نعمتوں کا وعدہ ہے، پانچویں میں خصوصیت سے ان مسلمانوں کے اجر عظیم کا ذکر ہے جو پہلے اہل کتاب میں سے تھے پھر مسلمان ہوگئے۔
خلاصہ تفسیر
سو قبول کرلیا ان کی دعاؤں کو ان کے رب نے اس وجہ سے (کہ میری عادت مستمرہ ہے کہ) میں کسی شخص…
Read the full tafseer →اچھے اہل کتاب کی تحسین : اوپر کی آیات اور بحیثیت مجموعی اس پوری سورة میں اہل کتاب کے رویے کی چونکہ شدید مذمت ہوئی ہے اس وجہ سے یہ آخر میں ان اہل کتاب کی تحسین فرمائی جو اپنی سابقہ کتب پر بھی قائم رہے اور جو دولت اسلام سے بھی مشرف ہوئے، یہ اس بات کی طرف ایک نہایت لطیف اشارہ ہے کہ اس دودھ میں جتنا مکھن تھا وہ یہ نکل آیا ہے۔ اب جو بچ رہا ہے وہ صرف چھاچھ ہے۔ ان کے بابت فرمایا کہ یہ لوگ اپنا وہ اجر خدا کے ہاں پائیں گے جو ان کے لیے خاص ہے۔ پھر تسلی دی کہ یہ خیال نہ کریں کہ اس اجر کے ملنے میں بہت دیر ہے۔ جب یہ اجر ملے گا تو یہ معلوم ہوگا کہ یہ پسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی مل گیا۔ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ…
Read the full tafseer →199۔ 1 اس آیت میں اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ہے جسے رسول کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز کردیا، جن کا مشن ہی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا، آیات الٰہی میں تحریف و تبدیل کرنا اور دنیا کے عارضی اور فانی مفادات کے لئے کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ مومنین اہل کتاب ایسے نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچنے والے نہیں۔ حافظ ابن کثیرنے لکھا ہے کہ آیت میں جن مومنین اہل کتاب کا ذکر ہے، یہودیوں کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →سورت کے مضامین ختم ہونے سے قبل روئے سخن پھر اہل کتاب کی طرف مڑجاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اہل کتاب میں بعض لوگ ایسے ہیں جو مومنین کی طرح صحیح العقیدہ ہیں ۔ اور یہ لوگ قافلہ ایمان میں شامل ہوگئے ہیں ۔ وہ اسی کے ساتھ جارہے ہیں ۔ اس لئے ان کی جزا بھی وہی ہوگی جو اہل ایمان کی ہوگی ۔
یہ اہل کتاب کے ساتھ اختتامی خطاب ہے ۔ اس سے قبل اہل کتاب کے فرقوں اور ان کے مختلف مواقف کے بارے میں اس سورت کے ایک بڑے حصے میں بات ہوئی تھی ۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان کے اعلیٰ نمونوں کی اس نمائش گاہ اور دعا اور قبولیت دعا کے اس منظر میں اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کے نمونے اس نمائش میں رکھنے کے قابل…
Read the full tafseer →4 اوپر عام متقین کا حال بیان ہوا تھا۔ اب اہل کتاب میں جو متقی ہوں ان کا خصوصیت سے ذکر فرماتے ہیں۔ یعنی جو اہل کتاب اللہ پر ٹھیک ٹھیک ایمان لائے، قرآن کو مانا اور چونکہ خود قرآن تورات و انجیل کی تصدیق کرتا ہے ان کو بھی مانا، مگر اس طرح نہیں، جیسے دنیا پرست احبار مانتے تھے کہ تھوڑے سے دنیاوی فائدہ کی خاطر آیات اللہ کو چھپالیا یا بدل ڈالا، بلکہ خدا کے آگے عاجزی اور اخلاص سے گرے اور جس طرح اس نے کتابیں اتاری تھیں ٹھیک ٹھیک اسی اصلی رنگ میں ان کو تسلیم کیا۔ نہ بشارات کو چھپایا، نہ احکام کو بدلا۔ ایسے پاکباز حق پرست اہل کتاب کے لئے اللہ کے ہاں مخصوص اجر ہے۔ چناچہ قرآن و حدیث کی تصریحات سے ثابت ہے…
Read the full tafseer →آیت 199 وَاِنَّ مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ باللّٰہِ
ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہے ‘ وہ عاجزی اور تواضع اختیار کرتے ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
وہ حساب لینے میں دیر نہیں لگاتا۔ آخری آیت پھر بہت جامع ہے :
Read the full tafseer →200 یہود میں کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو اللہ سے ڈرنے والے، حرام خوری سے بچنے والے دیانتدار اور نیک سرشت تھے۔ اگرچہ ایسے لوگ بہت کم تھے، تاہم تھے اور ان کا ذکر پہلے سورة آل عمران کی آیت 113 تا 115 میں گزر چکا ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور ایسے لوگ دوہرے ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایک اپنے نبی اور کتاب پر ایمان لانے کا دوسرے نبی آخرالزمان اور قرآن پر ایمان لانے کا۔ چناچہ آپ نے فرمایا ہے کہ تین آدمیوں کو دہرا اجر ملے گا، ایک تو اس کو جس کی کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، ادب سکھلائے پھر اس سے نکاح کرلے دوسرے اس یہودی یا عیسائی کو جو اپنے پیغمبر پر ایمان لایا،…
Read the full tafseer →415 ۔ یعنی کسی بھی مصلحت ومنفعت کے خیال سے اپنی آسمانی کتابوں میں تحریف، ترمیم، تصحیف، تلبیس گوارا نہیں کرتے۔ (آیت) ” ثمناقلیلا “۔ پر حاشیہ اوپر گزر چکے۔ ہر دنیوی معاوضہ بڑا ہو یا چھوٹا حقیر ہی قیمت کا کہا جائے گا۔ (آیت) ” یؤمن باللہ “۔ یعنی اللہ کی ذات وصفات پر ایمان پورے تو حیدی رنگ میں ہے اس میں شرک کی آمیزش نہیں۔ (آیت) ” مآانزل الھیم یعنی اپنی اپنی آسمانی کتابوں توریت، انجیل وغیرہ پر ان کی اصلی، غیر محرف صورتوں میں ایمان رکھتے ہیں۔ یہ مدح جیسا کہ ظاہر ہے ان اہل کتاب کی ہو رہی ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اسلام قبول کرلیا۔
416 ۔ (سووہاں کسی کو انتظار کی بھی زحمت نہ اٹھانی پڑے…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللہِ (الآیۃ) اس آیت میں اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ہے جسے رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا، ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز کردیا۔ جن کا مشن ہی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا آیات الٰہی میں تحریف وتلبیس کرنا، اور دنیا کے عارضی مفادات کے لیے کتمان حق کرنا تھا۔ اللہ نے فرمایا یہ مومنین اہل کتاب ایسے نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اللہ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچنے والے نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو علماء و مشائخ دنیوی اغراض کے…
Read the full tafseer →و ان من اھل الکتاب نسائی نے حضرت انس اور ابن جریر نے حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ جب نجاشی کی وفات کی خبر آئی تو رسول اللہ نے فرمایا : اس کی نماز پڑھو کسی نے کہا یا رسول اللہ ہم ایک حبشی غلام کی نماز پڑھیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا : یہ آیت نجاشی کے متعلق نازل ہوئی۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک)
بغوی نے لکھا ہے کہ جس روز نجاشی کی وفات ہوئی اسی روز حضرت جبرائیل نے رسول ﷺ اللہ کو وفات کی اطلاع دیدی آپ ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا : (شہر سے) باہر نکل کر اپنے بھائی نجاشی کی نماز پڑھو اس کا انتقال دوسرے ملک میں ہوگیا ہے چناچہ بقیع کو تشریف لے گئے آپ کے سامنے سے سر زمین حبش…
Read the full tafseer →(199) یعنی قرآن کریم اور توریت پر بھی اعتقاد رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں پوری طرح مستعد ہیں اور اس کے حضور عجز کرتے ہیں، کم حقیقت معاوضہ کے بدلہ توریت میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کو نہیں چھپاتے جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور اس کے دیگر ساتھی ہیں۔
ان حضرات کو جنت میں ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ جب حساب لیں گے تو بہت جلدی یعنی آسانی کے ساتھ حساب کردیں گے، آگے اللہ تعالیٰ جہاد اور تکالیف پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب فرماتے ہیں کہ قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان رکھنے والو ! اپنے نبی کے ساتھ جہاد میں اس قدر ثابت قدم رہو کہ دشمنوں کو مغلوب کردو۔
شان نزول : (آیت) ”وان من اھل الکتب“۔ (الخ)
امام…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ۔۔ : اس آیت میں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے اس گروہ کا ذکر ہے جو سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے، ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے انھیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز فرما دیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، پہلی کتابوں اور قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرنے والے ہیں، اللہ کی آیات کے بدلے دنیاوی مفاد حاصل نہیں کرتے، ان کے لیے اللہ کے ہاں ان کا اجر محفوظ ہے، بلکہ دوہرا اجر ہے، جیسا کہ سورة حدید (28) میں ہے۔ یہ صفات یہود میں بہت کم تھیں۔ علمائے یہود میں سے عبداللہ بن سلام ؓ جیسے ان صفات کے حامل چند لوگ اور تھے، جن کی تعداد دس سے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیت نمبر : 190 تا 200۔
اس میں پچیس : مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں کئی مقامات پر گزر کئی مقامات پر گزر چکا ہے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کا اختتام ان آیات میں نظر و استدلال کے حکم کے ساتھ کیا، کیونکہ یہ پیدا نہیں ہو سکتے مگر اسی کی جانب سے جو حی وقیوم ہے قدرت والا ہے، پاک ہے، سلامت ومحفوط ہے، (ہر عیب اور کمزوری سے) اور کل جہاں سے بےنیاز اور غنی ہے، تاکہ انکا ایمان یقین کے ساتھ مستند ہوجائے نہ کہ فقط تقلید (پر اس کا انحصار ہو)
(آیت) ” لایت لاولی الالباب “۔ یعنی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقلوں کو دلائل میں غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–199
(1) نسائی وبزار وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا جب نجاشی مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر نماز (جنازہ) پڑھو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم حبشی پر نماز جنازہ پڑھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ وما انزل الیکم “ نازل فرمائی۔
(2) ابن جریر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا باہر نکلو اور اپنے بھائی پر نماز پڑھو آپ نے ہم کو نماز جنازہ پڑھائی اور آپ نے چار تکبیریں پڑھیں پھر آپ نے فرمایا یہ نجاشی اصحمہ ہے منافقوں نے کہا اس کی طرف دیکھو نصرانی آدمی پر نماز پڑھ رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ایسا نہیں دیکھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت…
Read the full tafseer →[وَاِنَّ : اور بیشک ] [مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں وہ بھی ہیں ] [لَـمَنْ : یقینا جو ] [یُّؤْمِنُ : ایمان لاتے ہیں ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَمَـآ : اور اس پر جو ] [اُنْزِلَ : نازل کیا گیا ] [اِلَـیْکُمْ : تم لوگوں کی طرف ] [وَمَـآ : اور اس پر جو ] [اُنْزِلَ : نازل کیا گیا ] [اِلَـیْہِمْ : ان لوگوں کی طرف ] [خٰشِعِیْنَ : عاجزی کرنے والے ہوتے ہوئے ] [لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [لاَ یَشْتَرُوْنَ : وہ لوگ نہیں خریدتے (یعنی نہیں حاصل کرتے) ] [بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی آیتوں کے بدلے ] [ثَمَنًا قَلِیْلاً : تھوڑی قیمت ] [اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [لَہُمْ : جن کے لیے ] [اَجْرُہُمْ : ان کا اجر…
Read the full tafseer →مومنین اہل کتاب کا اجر
مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سب ہی ایسے نہیں جو کفر پر جمے رہیں۔ اور اللہ کے آخری نبی اور آخری کتاب کے انکار پر تلے رہیں۔ بلکہ ان میں ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور جو کتاب تم پر یعنی اہل اسلام پر نازل ہوئی ہے اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جو کتاب ان پر اتاری گئی (یعنی ان کے انبیاء (علیہ السلام) کے واسطہ سے ہے) اس پر بھی ایمان لاتے ہیں، ان میں عناد اور تکبر نہیں ہیں۔ وہ اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور اللہ کی آیات کے ذریعہ تھوڑی سی قیمت حاصل نہیں کرتے یعنی یہ لوگ طالب دنیا نہیں ہیں جو پوری کی پوری آخرت کے مقابلہ میں ذرا سی چیز ہے یہ لوگ آخرت کے طالب ہیں اللہ کی رضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
دلائل الوہیت ووحدانیت و کمال قدرت و حکمت وبیان حال دانشمنداں ودعا ہائے گوناگوں ایشاں۔
قال تعالیٰ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔۔ تفلحون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یعنی وللہ ملک السماوات۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ میں اللہ کی بادشاہت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اللہ کی الوہیت اور اس کی واحدانیت اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور اہل عقل اور اہل دانش کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے مخلوقات کو دیکھ کر خالق کا پتہ چلالیا اور مصنوعات کو دیکھ کر صانع کو پہچان لیا اور دن رات اپنے پروردگار کے ذکر اور فکر میں سرشار ہیں اور اسی کی تسبیح اور دعا اور استغفار میں مشغول ہیں قرآن…
Read the full tafseer →298 پہلے وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِینْ اُوْتُوْا لْکِتٰبَ الخ (رکوع 19) میں مسئلہ توحید کو نہ ماننے والے اہل کتاب کو زجر کے مقابلہ میں یہاں ان کے لیے بشارتِ اخروی ہے جو ان میں دعویٰ مذکورہ مان چکے ہیں اور اس میں نہ ماننے والوں کے لیے ترغیب کا پہلو بھی موجود ہے۔ یعنی اکثر اہل کتاب مسئلہ توحید نہیں مانتے۔ حالانکہ ان میں سے بعض مان چکے ہیں۔ اگر یہ مسئلہ حق نہ ہوتا تو وہ کیوں مانتے۔ اس لیے انہیں بھی مسئلہ توحید پر ایمان لے آنا چاہئے۔
Read the full tafseer →ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار کا ذکر فرمایا کہ اے اہل ایمان ! کفار کی خوشحالی وسعت کاروبار ، اعلی ذرائع آمدورفت ، اچھی خوراک اور اچھی رہائش کہیں تمہیں اس مغالطے میں نہ ڈال دے کہ یہ لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ فرمایا یہ تو دنیا میں استعمال کے لیے انہیں تھوڑا سا سامان دیا گیا ہے۔ اور پھر مرنے کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا جو کہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ فرمایا البتہ عام متقین کے لیے ان کے رب کے پاس بدلہ ہے۔ انہیں جنت میں داخل کیا جائیگا ، وہ اللہ رب العزت سے اعلی انعام پائیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کی مہمانداری کریں گے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے خاص متقین کا ذکر فرمایا ہے۔ کہ اہل کتاب…
Read the full tafseer →وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْھِمْ خٰشِعِيْنَ لِلہِ 0 ۙ لَا يَشْتَرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا 0ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ 199
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–200
ترکیب : متاع قلیل خبر ہے مبتداء محذوف کی اے تقلبہم متاع قلیل لکن مخفف اور مثقل دونوں طرح سے آیا ہے خالدین حال ہے لہم سے اور عامل معنی استقرار ہیں جنت موصوف و صفت مبتدا لہم خبر من اھل الکتاب خبر ان لمن یومن اسم خاشعین حال ہے ضمیر یؤمن سے اور جمع بلحاظ معنی لفظ من ہے۔
تفسیر : ان پرہیزگاروں کے مقابلہ میں ان لوگوں کو دکھایا جاتا ہے کہ جو صرف دنیاوی جاہ و حشمت پر مغرور ہو کر ملک میں اکڑتے پھرتے ہیں جو ایک بہت ہی قلیل پونجی ہے اور نیز مشرکین اپنے دنیاوی عیش و آرام پر نازاں ہو کر فقرائِ مہاجرین و انصار سے جن پر تنگدستی بےامنی محیط تھی طعن کے طور سے کہا کرتے تھے کہ تمہاری خدا پرستی اور پرہیزگاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–199
لَایَغُرَّنَّـکَ تَقَـلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ ۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ قف ثُمَّ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمِھَادُ ۔ لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا نُزُلاً مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ ط وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌ لِّـلْاَبْرَارِ ۔
(تجھے مغالطہ میں نہ ڈالیں ملک میں سرگرمیاں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا۔ یہ لطف اندوزی تھوڑی مدت کے لیے ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ بہت بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ لیکن جن لوگوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ اس میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کے بعد اہل کتاب میں سے ایمان والوں کا خصوصی ذکر اور اجر۔
اس سورت میں یہودیوں کے کردار کا ضمناً اور عیسائیوں کے کردار اور عقائد کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔ جس میں ان کے فکر و عمل کی کمزوریوں کی نشان دہی کی گئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وضاحت فرمائی کہ اہل کتاب تمام کے تمام ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے ‘ شب زندہ دار، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والے بھی ہیں۔ اس فرمان سے پہلے مومنوں کی دعاؤں کی قبولیت اور بلا امتیاز ان کو اجر وثواب کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اب اختتام پر ضروری سمجھا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ان لوگوں کو اطمینان دلایا جائے جو،…
Read the full tafseer →199: وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلیْھِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓپکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
: نمبر 1۔ یہ آیات حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے رفقاء ؓ کے متعلق نازل ہوئیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اہل کتاب میں سے اسلام قبول کیا۔
نمبر 2۔ اہل نجران میں چالیس آدمی جو اسلام لائے۔
نمبر 3۔ اور اہل حبشہ میں سے 32 بتیس آدمی اور آٹھ روم سے آئے وہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دین پر تھے وہ اسلام لے آئے۔ وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ…
Read the full tafseer →199۔ (آیت)” وان من اھل الکتاب لمن یؤمن باللہ “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
(199 ۔ 200) ۔ مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن زبیر 1 سے اور نسائی میں حضرت انس ؓ سے اور تفسیر ابن جریر میں حضرت جابر ؓ سے جو روایت اس آیت کی شان نزول میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نجاشی بادشاہ حبشہ کا جب انتقال ہوگیا تو آپ نے صحابہ کو ساتھ لے کر بقیع میں جا کر نجاشی کی صلوٰۃ الغائب پڑھی۔ بعض منافقوں نے یہ چرچا کیا کہ نصرانی غلام حبشہ کی نماز مسلمانوں سے آنحضرت ﷺ نے کیوں پڑھوائی اس چرچے کو غلط ٹھہرانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ سب اہل کتاب ایک سے نہیں ہیں بعض وہ ہیں کہ عہد کے بعد اللہ کے احکام کو بدلتے اور چھپاتے ہیں جن کا ذکر اوپر گذرا۔ اور بعض وہ ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
آیت 199-200
یعنی اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں بھلائی کی توفیق عطا کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی اور یہی وہ ایمان ہے جو نفع پہنچاتا ہے اور اس شخص کے ایمان کی مانند نہیں، جو بعض رسولوں اور کتابوں پر ایمان لاتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں، چونکہ ان کا ایمان عام اور حقیقت پر مبنی ہے اس لئے یہ نفع پہنچانے والا ہے، یہ ایمان ان کے دلوں میں خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی پر عمل کرنے اور اس کی مقرر کردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–200
اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…
Read the full tafseer →428 دوہرے اجر کے مستحقوں کا ذکر : سو اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کیلئے دوہرے اجر کی بشارت ہے جو ان کی امتیازی شان کے لائق ہوگا۔ سو پہلے عام اہل ایمان کے اجرو ثواب کا بیان تھا۔ اب یہ خاص اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے حضرات کے اجر کا بیان ہے کہ ان کو دوہرے اجر سے نوازا جائے گا۔ جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کو دوہرا اجر دیا جائے گا۔ ان میں سے ایک اہل کتاب میں سے وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر وہ محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ اور دوسرا وہ غلام جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے مالک کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ اور تیسرا وہ شخص جسکے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–200
کافر اور مومن کے انجام کا مقابلہ
تشریح : ان آیات کو غور سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے یہ پوری سورة ٔآل عمران کا خلاصہ ہے۔ کیونکہ اس میں نیک و بد انسان کی تعریف بیان کرنے کے بعد ان کے اجر وثواب، یعنی سزا و جزا کو خوب کھول کر بتا دیا گیا ہے اور آخر میں اللہ رب العزت دوبارہ مومنوں کو خوشخبری دیتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ ہر عمل کرتے ہوئے یہ خیال ضرور رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے بلکہ تمہاری نیتوں کو بھی اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے میں وہ محبت اور شفقت چھپی ہوئی ہے جو بیان سے باہر ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ماں کا پیار اللہ رب العزت کے پیار، مہربانی، شفقت، کرم، محبت، خلوص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیات 190- 200
اسرارو معارف
ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔
عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ ﷺ جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔
یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–199
ف 1 یہ آیت ان اہل کتاب (یہود اور عیسا ئیوں) کے حق میں نازل ہوئی ہے جو سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے، بعض روایات میں ان کی کل تعدادد 80 مذکور ہے جن میں عبد اللہ بن سلام اور اصجمہ نجاشی بادشاہ حبشہ بھی شامل ہے۔ نجا شی کی موت کی خبر آنے پر آنحضرت ﷺ نے مدینہ اس کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی۔ (لباب النقول، کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–199
(3:198) نزلا۔ مہمانی کا کھانا۔ طعام ضیافت۔
الابرار۔ بر۔ بار۔ کی جمع۔ نیک لوگ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–200
لغات القرآن آیت نمبر 196 تا 200
لایغرنک (تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے) سریع الحساب (جلد ھساب لینے والا) تقلب (آناجانا، چلت پھرت) اصبروا ( صبر کرو) البلاد (شہر (بلد کی جمع) صابروا (صبر دلاتے رہے) المھاد (ٹھکانا) رابطوا (لگے رہو) نزل (مہمان داری) تفلحون (تم کامیابی حاصل کرو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 196 تا 200
سورة آل عمران کو ان آیات پر ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثاروں کو یہ بتایا ہے کہ کفار کی دنیاوی ترقی ملکوں میں چلت پھرت، بھاگ دوڑ اور نئی سج دھج کہیں کسی دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ یہ ساری چیزیں وقتی بہاریں ہیں موسم بدلتے ہی ساری خوبصورتیاں اور یہ سج دھج ختم ہوکر رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
شان نزول : نجاشی بادشاہ حبشہ کا جب انتقال ہوگیا تو آپ نے صحابہ کرام کو ساتھ لے کر بقیع میں جا کر نجاشی کی نماز غائبانہ پڑھی۔ بعضے منافقوں نے یہ چرچا کیا کہ نصرانی غلام حبشی کی نماز جنازہ مسلمانوں سے حضور ﷺ نے کیوں پڑھوائی۔ اس چرچے کو غلط ٹھہرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت یہ ہیں کہ سب اہل کتاب ایک سے نہیں ہیں۔ بعضے وہ ہیں کہ عہد کے بعد اللہ کے احکام کو بدلتے اور چھپاتے ہیں۔ جن کا ذکر اوپر گزرا اور بعضے وہ ہیں جو اللہ کی کتابوں پر پورا ایمان رکھتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھ اور نجاشی۔ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اجر دیوے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجاشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–199
(ف 2) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو قطعا متعصب نہیں ، وہ جب کتاب اللہ کو سنتے اور سمجھتے ہیں تو ایمان لے آنے میں انہیں کوئی تامل نہیں ہوتا اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن آیات میں اہل کتاب کے ایمان لے آنے کا ذکر ہے ‘ اس سے مراد کامل اسلام قبول کرنا ہے نہ کہ صرف ایمان باللہ کیونکہ اس آیت میں (آیت) ” وما انزل علیکم “ کی تصریح موجود ہے ۔
حل لغات :
تقلب : چلنا پھرنا ۔
نزل : مہمانی ، جو شے سب سے پہلے مہمان کے سامنے رکھی جائے ، اہل جنت کو مہمان کہنے کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح مہمان کی خاطر ومدارات میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا جاتا ، اسی طرح یہ لوگ مہمانوں کی طرح خدا کے ہاں…
Read the full tafseer →ف 1 اے پیغمبر ! آپ کو ان کافروں کا شہر بشہر تجارت اور دنیوی فوائد کے لئے چلنا پھرنا اور آنا جانا کسی غلطی اور دھوکے میں مبتلا نہ کردے یہ بہت تھوڑا سافائدہ ہے جو تھوڑے دنوں کے لئے ہے اور مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں پھر ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور وہ جہنم بہت ہی بری آرام گاہ ہے لیکن برعس اس کے وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے رہنے کیلئے ایسے باغات ہیں جن کے محلات اور سیرگاہ کے نیچے نہریں بہ رہی ہونگی ان باغوں میں وہ ہمیشہ سکونت پذیر ہوں گے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مہمانی اور مہمانی کا سامان ہوگا اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ نیک لوگوں کے لئے کفار کے ان چند روزہ دنیوی سازو سامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–200
ف 1۔ قاموس میں مرابطت اور رباط کے دو معنی لکھے ہیں ایک ملازمت ثغر العدو یعنی مابین دار الاسلام و دار الکفر کے سرحد کے موقع پر قیام کرنا تاکہ کفار سے دار الاسلام کی حفاظت رہے، احقر نے یہی معنی لئے ہیں، دوسرے معنی مواظبت علی الامر یعنی مطلق احکام کی پابندی کرنا۔ بیضاوی نے یہ معنی بھی لئے ہیں اور حدیث میں انتظار الصلوۃ بعد الصلوۃ کو رباط فرمایا ہے، اس میں دونوں معنی کا احتمال ہے، یا تو معنی اول کے اعتبار سے تشبیہا اس کو رباط فرما دیا کہ یہ بھی نفس و شیطان کے مقابلہ میں مستعد رہنا ہے یا معنی ثانی کے اعتبار سے حقیقۃ فرمادیا ہے کہ یہ انتظار خود علامت ہے دوام کی جیسا کہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم
Read the full tafseer →اہل کتاب میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو کتاب الٰہی کو مانتے ہیں وہ تورات ہو یا قرآن کریم :
362: اسلام کے ابتدائی عہد ہی میں جب کہ ابھی دعوت حق کی غربت و بےچارگی کا زمانہ تھا نجاشی یعنی ” نیگوشی “ حبش کا مسیحی فرمانبردار بغیر دیکھے ایمان لے آیا۔ واقعہ یوں ہوا کہ مسلمانوں کی جو جماعت ہجرت کر کے مکہ سے حبش چلی گئی تھی نجاشی نے ان سے خواہش کی کہ اپنے پیغمبر کا کلام سناؤ ۔ انہوں نے سورة مریم کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی۔ ان آیات کی تلاوت کرنے والے جعفر بن ابی طالب حضرت علی ؓ کے بھائی تھے۔ نجاشی کی آنکھوں سے بےاختیار آنسو بہنے لگے اور وہ بول اٹھا ” اس کلام میں وہی روح بول رہی ہے جو مسیح میں گویا ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–199
Mentioned in verses previous to this were some prayers made by good believers.
The first verse (195) appearing above reports that these prayers have been accepted and believers have been given the good news that great rewards have been marked for their good deeds. In the second and third verses (196-197), Muslims have been instructed not to be deceived by the apparent affluence and worldwide maneuvering of disbelievers for this is transitory and the punishment which follows in its wake is eternal.
The fourth verse (198) reasserts the promise of the lasting blessings of Paradise for Muslims…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–200
141. The original Arabic word is " sabiru". This has two possible meanings. One is that whenever they are in confrontation with unbelievers, the believers should endure even greater hardships for their cause, and display a higher degree of fortitude than the unbelievers. The other is that the believers should try to excel one another in facing the opposition and hostility of unbelievers with courage and fortitude.
Read the full tafseer →