Aal-i-Imraan 3:198

Aal-i-Imraan · from ayah 198

3:198

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ؕ— وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ۟لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکو کاروں کے لیے بہت اچھا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But those who feared their Lord will have gardens beneath which rivers flow, abiding eternally therein, as accommodation from Allah. And that which is with Allah is best for the righteous.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 20 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:198

برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ کی طرف سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لیے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لیے وہی سب سے بہتر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکو کاروں کے لیے بہت اچھا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، ان میں وه ہمیشہ رہیں گے یہ مہمانی ہے اللہ کی طرف سے اور نیک کاروں کے لئے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وه بہت ہی بہتر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہوئے عمل کرتے ہیں، ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اللہ کی طرف سے میزبانی کے طور پر وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ وہ نیک لوگوں کے لیے کہیں بہتر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے بہشتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور (پھر اس کا حریمِ قُرب، جلوۂ حُسن اور نعمتِ وصال، الغرض) جو کچھ بھی اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، ان کے لیے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں، اللہ کے پاس سے مہمانی کے طور پر اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہتر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کے ہاں ان کی مہمانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے ہاں موجود ہے، نیک لوگوں کے لیے وہی سب سے بہتر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

البتہ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمشیہ رہیں گے، یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے پہلی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس اس کے وفادار بندوں کے لیے ہے وہ کہیں بہتر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس کے برعکس جو لوگ (زندگی بھر) ڈرتے رہے اپنے رب سے، ان کے لئے ایسی عظیم الشان جنتیں ہیں (دائمی اور ابدی انعام و بدلہ کے طور پر) جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی (عظیم الشان اور بےمثل) نہریں، جن میں ان (سعادت مندوں) کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا، ایک عظیم الشان (اور بےمثل) مہمانی کے طور پر، اللہ تعالیٰ کے یہاں سے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے (اس کے) نیک بندوں کیلئے وہ (کفار کے اس چند روزہ سامان عیش و عشرت سے) کہیں بڑھ کر بہتر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ (ہمیش) رہیں ٗ گے (یہ تو) مہمانی (ہوگی) اللہ کی طرف سے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے حق میں کہیں بہتر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے باغات ہیں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ ان کے لیے ابتدائی مہمان نوازی ہوگی اللہ کی طرف سے اور مزید جو اللہ کے پاس ہے وہ کہیں بہتر ہے نیکوکاروں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اہل کتاب میں سے بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو ایک مانتے ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس پر بھی ایمان لاتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

But those who fear their Lord: theirs shall be the gardens beneath which rivers flow and in which they will live forever: a hospitality from Allah Himself, And Allah's reward is best for the truly pious.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But those who fear their Lord, for them there are Gardens beneath which rivers flow, where they will live forever – as hospitality from Allah. What is with Allah is best for the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani

But those who fear their Lord, for them there are Gardens beneath which rivers flow, where they will live forever – as hospitality from Allah. What is with Allah is best for the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But, for those who have Taqwa of their Lord, are Gardens under which rivers flow (in Paradise); therein are they to dwell, an entertainment from Allah; and that which is with Allah is the best for Al-Abrar (the most righteous).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But those who keep their duty to their Lord, for them are Gardens underneath which rivers flow, wherein they will be safe for ever. A gift of welcome from their Lord. That which Allah hath in store is better for the righteous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But those who feared their Lord will have gardens beneath which rivers flow, abiding eternally therein, as accommodation from Allah. And that which is with Allah is best for the righteous.

— Saheeh International

For those who have fear of their Lord, there will be gardens wherein streams flow and they will live therein forever as a gift from their Lord. God has the best reward for the virtuous people.

— Muhammad Sarwar

But as to those who are careful of (their duty to) their Lord, they shall have gardens beneath which rivers flow, abiding in them; an entertainment from their Lord, and that which is with Allah is best for the righteous.

— Muhammad Habib Shakir

But as to those who fear their Lord, theirs shall be Gardens whereunder rivers flow; they shall be abiders therein: an entertainment from before their Lord; and that which is with Allah it still better for the pious.

— Abdul Majid Daryabadi

On the other hand, for those who fear their Lord, are Gardens, with rivers flowing beneath; therein are they to dwell (for ever),- a gift from the presence of Allah; and that which is in the presence of Allah is the best (bliss) for the righteous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:198

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 196–198

دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کافروں کی بدمستی کے سامان تعیش ان کی راحت و آرام ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے نبی آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہوجائے گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں مثلاً آیت (مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ) 40۔ غافرب :4) اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے ہیں ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 196–200

سورة اٰلِ عِمْرٰن 141 اصل عربی متن میں صابِرُوْا کا لفظ آیا ہے۔ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ کفار اپنے کفر پر جو مضبوطی دکھا رہے ہیں اور اس کو سربلند رکھنے کے لیے جو زحمتیں اٹھا رہے ہیں تم ان کے مقابلے میں ان سے بڑھ کر پامردی دکھاؤ۔ دوسرے یہ کہ ان کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے بڑھ کر پامردی دکھاؤ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 195–199

ربط آیات سابقہ آیات میں مومنین صالحین کی چند دعاؤں کا ذکر تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان دعاؤں کی قبولیت اور ان کے اعمال صالحہ کے اجر عظیم کا بیان ہے، دوسری تیسری آیتوں میں یہ ہدایت ہے کہ کفار کے ظاہر عیش و عشرت مال و دولت اور دنیا میں چلنے پھرنے سے مسلمانوں کو دھوکہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ چند روزہ ہے اور پھر عذاب دائمی۔ چوتھی آیت میں پھر تقوی شعار مسلمانوں کے لئے جنت کی لازوال نعمتوں کا وعدہ ہے، پانچویں میں خصوصیت سے ان مسلمانوں کے اجر عظیم کا ذکر ہے جو پہلے اہل کتاب میں سے تھے پھر مسلمان ہوگئے۔ خلاصہ تفسیر سو قبول کرلیا ان کی دعاؤں کو ان کے رب نے اس وجہ سے (کہ میری عادت مستمرہ ہے کہ) میں کسی شخص…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نُزُلٌ۔ اس ضیافت و میزبانی کو کہتے ہیں جو کسی مہمان کی آمد پر سب سے پہلے پیش کی جاتی ہے اوپر کی آیات میں کمزور مظلوم مسلمانوں کی جو حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے اسی مضمون کی یہ مزید تائید ہے۔ مسلمانوں کو بالخصوص کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ اس وقت کفار کو ملک جو غلبہ اور زور حاصل ہے اس سے کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ چمک دمک محض چند روزہ ہے۔ اس کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ حقیقی اور ابدی کامیابی انہی لوگوں کے لیے ہے جو تقوی اختیار کریں گے اور تقوی پر قائم رہٰں گے۔ ان کے لیے پہلی پیشکش جو ہوگی وہ جنت کی ہوگی اور ایسے وفادار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

198۔ 1 ان کے برعکس جو تقویٰ اور خداوندی کی زندگی گزار کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونگے۔ گو دنیا میں ان کے پاس خدا فراموشوں کی طرح دولت کے انبار اور رزق کی فروانی نہ رہی ہوگی، مگر وہ اللہ کے مہمان ہونگے جو تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے اور وہاں ان ابرار (نیک لوگوں) کو جو اجر و صلہ ملے گا، وہ اس سے بہتر ہوگا جو دنیا میں کافروں کو عارضی طور پر ملتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 184–200

تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 196–198

” اے نبی ! دنیا کے ملکوں کی اللہ کے نافرمانوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ‘ یہ صرف چند روزہ زندگی کا تھوڑاسا لطف ہے ‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے پاس سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ‘ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لئے وہی سب سے بہتر ہے۔ “ لوگوں کا ممالک میں چلنا پھرنا ‘ سیاحتیں کرنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دولتمند ہیں اور ان کے پاس کچھ ہے ۔ نیز یہ ان کے مرتبے اور سیاسی قوت کی بھی علامت ہے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اب اس عیش و کامیابی کا اس چند روزہ بہار سے مقابلہ کرو کہ یہ بہتر ہے یا وہ ؟ 3 مہمان اس لئے کہا کہ مہمان کو اپنے کھانے پینے کی کچھ فکر کرنی نہیں پڑتی۔ عزت اور آرام سے بیٹھے بٹھائے ہر چیز تیار ملتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 198 لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا نُزُلاً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ جنت کی اصل نعمتیں تو بیان میں آ ہی نہیں سکتیں۔ ان کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رض سے مروی یہ متفق علیہ حدیث یاد رکھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قَال اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ 1 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے جنت میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ تو کسی آنکھ نے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

198 ان دو آیات میں ایک مسلمان اور ایک کافر کی دنیوی اور آخروی زندگیوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ فرض کیجئے کہ ایک کافر کی دنیا کی یہ چند روزہ زندگی عیش و آرام سے گزرتی ہے۔ (حالانکہ عملاً ایسا نہیں ہوتا اسے بھی دنیا میں کئی طرح کے غم اور تکلیفیں برداشت کرنا پڑتی ہیں) لیکن آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ وہ عذاب میں مبتلا رہتا ہے، اور مسلمان کی یہ چند روزہ زندگی، دکھ، مصائب، پریشانی اور تنگدستی میں گزرتی ہے۔ (حالانکہ عملاً ایسا نہیں ہوتا، اسے بھی اس دنیا میں خوشی اور خوشحالی کے لمحات میسر آتے ہی رہتے ہیں) لیکن آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے لیے ہر طرح کی نعمتیں ہی نعمتیں اور عیش و عشرت کی زندگی ہو تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

414 ۔ (ہر دنیوی لذت ونعمت سے، کیفیت میں، کمیت میں، غرض ہر اعتبار وہر جہت سے) (آیت) ” وما عنداللہ “۔ یعنی اخروی نعمتوں کی قسموں میں سے۔ (آیت) ” اتقوا ربھم “۔ اور اس تقوی الہی کی پہلی منزل قبول اسلام ہے۔ (آیت) ” نزلا من عندا للہ “۔ اللہ نے اہل جنت کو اپنا ” مہمان “ ٹھہرا کر ان کا مرتبہ اعزاز واکرام جس حد تک بڑھا دیا ہے الفاظ اس کے ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ النزل مایھیا للضیف (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 197–198

لٰکِنِ الَّذِْٰنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ جنَّاتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ (الآیۃ) ان کے برعکس جو لوگ تقویٰ اور خدا خوفی کی زندگی گزار کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے، گو دنیا میں ان کے پاس خدا فراموشوں کی طرح دولت کے انبار اور رزق کی فراوانی نہ رہی ہوگی، مگر وہ اللہ کے مہمان ہوں گے جو تمام کائنات کا خالق ومالک ہے، اور وہاں کا صلہ اس سے بہت بہتر ہوگا جو دنیا میں کافروں کو ملا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لکن الذین اتقوا ربھم لھم جنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرے انہی کے لیے ہوں گی جنتیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اہل نحو کے نزدیک لٰکن کا استعمال استدراک کے لیے ہوتا ہے یعنی گذشتہ کلام سے جو مقصود کے خلاف وہم پیدا ہوسکتا ہے اس کو دفع کرنے کے لیے لٰکن سے دوسرا کلام شروع کیا جاتا ہے یہاں بھی یہ وہم پیدا ہوتا تھا کہ جب دنیا میں آسائش کے ساتھ رہنے والوں کی متاع قلیل ہے تو اہل تقویٰ کی متاع اس سے بھی قلیل ہوگی کیونکہ وہ تو ویسے ہی لذتوں سے دست کش ہوچکے ہیں اس وہم کو دور کرنے کے لیے اللہ نے فرمایا : کہ جن متقیوں نے دنیا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(198) لیکن جو حضرات کفر سے تائب ہو کر توحید خداوندی کے قائل ہوگئے ان کو اللہ کی طرف بطور انعام ایسے باغات ملیں گے جہاں محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی اور شراب طہور کی نہریں بہتی ہوں گی اور ان کا جنت میں قیام میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہوگا نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے اور اسکے مقابلے میں کفار کو جو کچھ دنیا میں دیا گیا وہ بہت معمولی ہے نیک بندوں کا یہ ثواب اس سے کئی گنا بہتر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 196–198

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِي الْبِلَادِ۔۔ : اوپر کی آیات میں مومنوں کے گناہ بخشنے اور ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا، حالانکہ وہ فقر و فاقہ کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان کے بالمقابل کفار نہایت عیش و نعمت میں تھے، انھیں دیکھ کر بعض اوقات مسلمان غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتے اور مختلف خیالات کی دنیا میں چلے جاتے، لہٰذا ان آیات میں مسلمانوں کا ذہن صاف کرنے کے لیے کفار کا انجام بیان فرمایا اور مسلمانوں کو تسلی دی ہے۔ انس بن مالک ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نیکی کے معاملہ میں مومن کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا، اسے اس نیکی کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 190–200

آیت نمبر : 190 تا 200۔ اس میں پچیس : مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں کئی مقامات پر گزر کئی مقامات پر گزر چکا ہے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کا اختتام ان آیات میں نظر و استدلال کے حکم کے ساتھ کیا، کیونکہ یہ پیدا نہیں ہو سکتے مگر اسی کی جانب سے جو حی وقیوم ہے قدرت والا ہے، پاک ہے، سلامت ومحفوط ہے، (ہر عیب اور کمزوری سے) اور کل جہاں سے بےنیاز اور غنی ہے، تاکہ انکا ایمان یقین کے ساتھ مستند ہوجائے نہ کہ فقط تقلید (پر اس کا انحصار ہو) (آیت) ” لایت لاولی الالباب “۔ یعنی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقلوں کو دلائل میں غوروفکر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 197–199

(1) نسائی وبزار وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا جب نجاشی مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر نماز (جنازہ) پڑھو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم حبشی پر نماز جنازہ پڑھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ وما انزل الیکم “ نازل فرمائی۔ (2) ابن جریر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا باہر نکلو اور اپنے بھائی پر نماز پڑھو آپ نے ہم کو نماز جنازہ پڑھائی اور آپ نے چار تکبیریں پڑھیں پھر آپ نے فرمایا یہ نجاشی اصحمہ ہے منافقوں نے کہا اس کی طرف دیکھو نصرانی آدمی پر نماز پڑھ رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ایسا نہیں دیکھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لٰــکِنِ : لیکن ] [الَّذِیْنَ : وہ لوگ جنہوں نے ] [اتَّـقَوْا : تقویٰ اختیار کیا ] [رَبَّہُمْ : اپنے رب کا ] [لَـہُمْ : ان کے لیے ہی ] [جَنّٰتٌ : ایسے باغات ہیں ] [تَجْرِیْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِہَا : جن کے نیچے سے ] [الْاَنْہٰـرُ : نہریں ] [خٰلِدِیْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہیں ] [فِیْہَا : ان میں ] [نُزُلاً : مہمان نوازی ہوتے ہوئے ] [مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ : اللہ کے پاس سے ] [وَمَا : اور جو ] [عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے پاس ہے ] [خَیْـرٌ : (وہ) بہتر ہے ] [لِّــلْاَبْرَارِ : نیک لوگوں کے لیے ] ر ب ط رَبَطَ (ض) رَبْطًا : کسی چیز کو مضبوطی سے باندھنا ‘ مضبوط کرنا۔ { وَلِـیَرْبِطَ عَلٰی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

متقیوں کا ثواب : پھر فرمایا (لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا) (جو لوگ اپنے رب سے ڈریں ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے) اس میں تسلی ہے اہل ایمان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں کہ تمہیں ہمیشہ کے لیے وہ نعمتیں ملیں گی جو اہل کفر کے تصور میں بھی نہیں۔ ان کی نعمتوں کو ہیچ سمجھو۔ ان کی نعمتیں ان کے لیے باعث عذاب ہیں اور تمہاری نعمتیں واقعی اور حقیقی اور دائمی ہوں گی جو اللہ کی طرف سے بطور مہمانی کے عطاء کی جائیں گی۔ کما قال تعالیٰ (نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 190–200

دلائل الوہیت ووحدانیت و کمال قدرت و حکمت وبیان حال دانشمنداں ودعا ہائے گوناگوں ایشاں۔ قال تعالیٰ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔۔ تفلحون۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں یعنی وللہ ملک السماوات۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ میں اللہ کی بادشاہت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اللہ کی الوہیت اور اس کی واحدانیت اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور اہل عقل اور اہل دانش کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے مخلوقات کو دیکھ کر خالق کا پتہ چلالیا اور مصنوعات کو دیکھ کر صانع کو پہچان لیا اور دن رات اپنے پروردگار کے ذکر اور فکر میں سرشار ہیں اور اسی کی تسبیح اور دعا اور استغفار میں مشغول ہیں قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

297 یہ بشارتِ اخروی ہے ماقبل سے یہ وہم پیدا ہوسکتا تھا کہ تجارت ہر حال میں بری چیز ہے اس لیے اس وہم کا ازالہ کردیا گیا کہ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اپنے ہر کام مثلاً تجارت، زراعت، معیشت، معاشرت وغیرہ میں اللہ کی رضامندی اور اس کے احکام کی پابندی کو مد نظر رکھیں تو ان کے لیے آخرت میں خدا کے یہاں شاندار مہمانی ہے۔ اور آخرت میں ان کے لیے جو ثواب مقدر ہے وہ دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ وَ مَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ۔ مشرکوں کا مال ترویج شرک کے لیے اور مومنین کا مال اشاعت توحید کے لیے خرچ ہوتا ہے اس لیے توحید کی خاطر خرچ کرنے والوں کے لیے اللہ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے۔ اس طرح اس آیت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 196–198

ربط آیات : گذشتہ دروس میں ذکر آ چکا ہے۔ کہ عقلمند وہ لوگ ہیں جو اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرنے کے بعد ایمان قبول کرتے ہیں اور آخرت کی فکر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور آخرت کی رسوائی سے بچنے کے لیے گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ اور کسی عامل کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ عمل کرنے والا خواہ مرد ہو یا عورت۔ ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ ضرور ملے گا۔ خصوصاً جو لوگ مشقت کے کام کرتے ہیں ، اپنے گھر بار کو چھوڑ کر اللہ کے دین کی خاطر ہجرت کرتے ہیں اور جان ہتھیلی پر رکھ کر خدا کی راہ میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللہِ۝ 0 ۭ وَمَا عِنْدَ اللہِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ۝ 198 تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 196–200

ترکیب : متاع قلیل خبر ہے مبتداء محذوف کی اے تقلبہم متاع قلیل لکن مخفف اور مثقل دونوں طرح سے آیا ہے خالدین حال ہے لہم سے اور عامل معنی استقرار ہیں جنت موصوف و صفت مبتدا لہم خبر من اھل الکتاب خبر ان لمن یومن اسم خاشعین حال ہے ضمیر یؤمن سے اور جمع بلحاظ معنی لفظ من ہے۔ تفسیر : ان پرہیزگاروں کے مقابلہ میں ان لوگوں کو دکھایا جاتا ہے کہ جو صرف دنیاوی جاہ و حشمت پر مغرور ہو کر ملک میں اکڑتے پھرتے ہیں جو ایک بہت ہی قلیل پونجی ہے اور نیز مشرکین اپنے دنیاوی عیش و آرام پر نازاں ہو کر فقرائِ مہاجرین و انصار سے جن پر تنگدستی بےامنی محیط تھی طعن کے طور سے کہا کرتے تھے کہ تمہاری خدا پرستی اور پرہیزگاری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 196–199

لَایَغُرَّنَّـکَ تَقَـلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ ۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ قف ثُمَّ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمِھَادُ ۔ لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا نُزُلاً مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ ط وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌ لِّـلْاَبْرَارِ ۔ (تجھے مغالطہ میں نہ ڈالیں ملک میں سرگرمیاں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا۔ یہ لطف اندوزی تھوڑی مدت کے لیے ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ بہت بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ لیکن جن لوگوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ اس میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 197–198

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی شان و شوکت پر فریفتہ ہونے کی بجائے جنت کی نعمتوں پر نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو اسلام کی سربلندی ‘ ذاتی کردار اور اپنی ترقی پر محنت کرنا چاہیے۔ قرآن مجید اپنے اسلوب کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں پھر کفار کی سزا کا ذکر کرنے کے فوراً بعد مومنوں کے صلہ اور انعام کا ذکر کرتا ہے۔ تاکہ کتاب الٰہی کی تلاوت کرنے والا فوری طور پر دو کرداروں اور ان کے انجام کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی اصلاح پر غور کرے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے اجتناب اور دنیا پر فریفتہ ہونے سے بچے رہے۔ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں باغ و بہار ہیں جن میں ہر دم نہریں اور آبشاریں جاری ہیں وہ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

متقین کو خلود والی نعمتیں ملیں گی : 198: لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ۔ (لیکن وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا) یعنی شرک سے بچ گئے۔ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا نُزُلًا (ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں چل رہی ہیں اور وہ ان باغات میں ہمیشہ رہنے والے ہیں بطور مہمان) النُّزُل والنُزْلَ کا معنی مہمان کو پیش کیا جانے والا کھانا۔ تین تراکیب : نزلًا یہ حال ہے۔ جَنّٰتٌ سے۔ اس میں عامل لَھُمْ کا لام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

198۔ (آیت)” لکن الذین اتقوا ربھم لھم جنت تجری میں تحتھا ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ نزلا “۔ بدلہ اور ثواب ہے (آیت)” من عند اللہ “ تفسیر یہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (آیت)” وما عند اللہ خیر للابرار “۔ دنیا کے فائدے سے یہ بہتر ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں بالاخانے میں خدمت گرامی میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ایک کھردری چٹائی پر آرام فرما رہے ہیں سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ ہے جس میں کھجور کے خوشے بھرے ہوئے تھے قدموں کے پاس کچھ پکا چمڑا تہہ کیا رکھا تھا ، سرہانے کچی کھال لٹک رہی تھی ، اور چٹائی کے نشان پہلو پر پڑگئے تھے میں یہ دیکھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 196–198

(196 ۔ 198) ۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ مخالف شریعت لوگوں کی تجارت بڑے ٹوٹے کی تجارت ہے کیونکر دنیاچند روزہ ہے اس میں پھر چل کر ان لوگوں نے کچھ کمال یا توبہ سبب مخالفت شریعت الٰہی کے پھر عقبیٰ کا ابد الابآد عذاب الٰہی ان کو بھگتنا پڑے گا۔ اس مطلب کی فہمائش کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورت کو اس مضمون پر ختم کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں کی دنیا کی آسودگی بہت جلد جانے والی چیز ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے پھر فرمایا جو لوگ پابند شریعت الٰہی ہیں وہ بھی تجارت سے نفع دنیاوی اٹھاتے ہیں۔ لیکن ان میں یہ وصف ہے کہ دنیا کے پیچھے انہوں نے اپنے دین کو نہیں گنوایا۔ اس لئے ان کو عقبیٰ میں بڑی بڑی راحتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 196–198

آیت 196-198 اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اس بارے میں تسلی دینا مقصود ہے کہ کفار کو جو دنیا کی نعمتیں، دنیا کی متاع، شہروں پر ان کا تصرف، مختلف قسم کی تجارتیں، مکاسب، انواع و اقسام کی لذات، اقتدار کی مختلف صورتیں اور بعض اوقات اہل ایمان پر ان کا غلبہ یہ تمام چیزیں (متاع قلیل) ” بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے “ بےثبات ہیں باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ اس متاع قلیل سے بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی وجہ سے بہت ہی طویل عذاب بھگتیں گے۔ یہ کافر کی بلند ترین حالت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا ٹھکانا کیا ہوگا اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں انہیں دنیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 188–200

اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 195–198

418 اللہ کسی کے عمل کو ضائع نہیں فرماتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان سچے اہل ایمان کی دعاؤں کو قبول فرما لیا اور ارشاد فرمایا کہ میں تم میں سے کسی شخص کے عمل کو کبھی ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت۔ بلکہ میں ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا پورا بدلہ دیتا ہوں، بلکہ کئی گنا بڑھا کردیتا ہوں۔ اور اتنا دیتا ہوں اور اس طرح دیتا ہوں کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ بلکہ انسان اپنے عمل کو بھول بھی جائے گا مگر وہ نہیں بھولے گا۔ بلکہ وہ اس کو محفوظ رکھے گا تاکہ ہر کسی کو اس کے کئے کا پورا بدلہ مل سکے۔ جیسا کہ سورة مجادلہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے { اَحْصٰہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ }…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 197–200

کافر اور مومن کے انجام کا مقابلہ تشریح : ان آیات کو غور سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے یہ پوری سورة ٔآل عمران کا خلاصہ ہے۔ کیونکہ اس میں نیک و بد انسان کی تعریف بیان کرنے کے بعد ان کے اجر وثواب، یعنی سزا و جزا کو خوب کھول کر بتا دیا گیا ہے اور آخر میں اللہ رب العزت دوبارہ مومنوں کو خوشخبری دیتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ ہر عمل کرتے ہوئے یہ خیال ضرور رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے بلکہ تمہاری نیتوں کو بھی اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے میں وہ محبت اور شفقت چھپی ہوئی ہے جو بیان سے باہر ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ماں کا پیار اللہ رب العزت کے پیار، مہربانی، شفقت، کرم، محبت، خلوص…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 190–200

آیات 190- 200 اسرارو معارف ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔ عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ ﷺ جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 198–199

ف 1 یہ آیت ان اہل کتاب (یہود اور عیسا ئیوں) کے حق میں نازل ہوئی ہے جو سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے، بعض روایات میں ان کی کل تعدادد 80 مذکور ہے جن میں عبد اللہ بن سلام اور اصجمہ نجاشی بادشاہ حبشہ بھی شامل ہے۔ نجا شی کی موت کی خبر آنے پر آنحضرت ﷺ نے مدینہ اس کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی۔ (لباب النقول، کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 198–199

(3:198) نزلا۔ مہمانی کا کھانا۔ طعام ضیافت۔ الابرار۔ بر۔ بار۔ کی جمع۔ نیک لوگ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 196–200

لغات القرآن آیت نمبر 196 تا 200 لایغرنک (تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے) سریع الحساب (جلد ھساب لینے والا) تقلب (آناجانا، چلت پھرت) اصبروا ( صبر کرو) البلاد (شہر (بلد کی جمع) صابروا (صبر دلاتے رہے) المھاد (ٹھکانا) رابطوا (لگے رہو) نزل (مہمان داری) تفلحون (تم کامیابی حاصل کرو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 196 تا 200 سورة آل عمران کو ان آیات پر ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثاروں کو یہ بتایا ہے کہ کفار کی دنیاوی ترقی ملکوں میں چلت پھرت، بھاگ دوڑ اور نئی سج دھج کہیں کسی دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ یہ ساری چیزیں وقتی بہاریں ہیں موسم بدلتے ہی ساری خوبصورتیاں اور یہ سج دھج ختم ہوکر رہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 196–198

شان نزول : مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا کہ کفار ومشرکین اللہ کے دشمن تو عیش و آرام میں ہیں اور ہم تنگی ومشقت میں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں یہ کہا گیا کہ یہ عیش عارضی ہے اور اس کا انجام خراب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 185–200

[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 197–199

(ف 2) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو قطعا متعصب نہیں ، وہ جب کتاب اللہ کو سنتے اور سمجھتے ہیں تو ایمان لے آنے میں انہیں کوئی تامل نہیں ہوتا اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن آیات میں اہل کتاب کے ایمان لے آنے کا ذکر ہے ‘ اس سے مراد کامل اسلام قبول کرنا ہے نہ کہ صرف ایمان باللہ کیونکہ اس آیت میں (آیت) ” وما انزل علیکم “ کی تصریح موجود ہے ۔ حل لغات : تقلب : چلنا پھرنا ۔ نزل : مہمانی ، جو شے سب سے پہلے مہمان کے سامنے رکھی جائے ، اہل جنت کو مہمان کہنے کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح مہمان کی خاطر ومدارات میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا جاتا ، اسی طرح یہ لوگ مہمانوں کی طرح خدا کے ہاں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 195–198

ف 1 پھر ان لوگوں کے پروردگار نے ان کا دعا قبول فرمالی اور ان کی درخواست منظور فرما لی اور یوں فرمایا کہ میرا دستور یہ ہے کہ میں کسی محنت کرنے والے کی محنت کو جو تم میں سے محنت کرنے والا ہو ضائع نہیں کیا کرتا اور جو شخص تم میں سے نیک عمل کرنے والا ہو اس کے نیک عمل کو اکارت اور ضائع نہیں کیا کرتا خواہ وہ نیک کام کرنے والا مرد ہو یا عورت ہو کیونکہ تم سب آپس میں ایک دوسرے کی مثل اور ایک دوسرے کے جزو ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے ہجرت اختیار کی وہ اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں وہ اور مختلف قسم کی تکلیفیں دیئے گئے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے میری راہ میں جہاد بھی کیا اور بہت سے شہید بھی کئے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 198–200

ف 1۔ قاموس میں مرابطت اور رباط کے دو معنی لکھے ہیں ایک ملازمت ثغر العدو یعنی مابین دار الاسلام و دار الکفر کے سرحد کے موقع پر قیام کرنا تاکہ کفار سے دار الاسلام کی حفاظت رہے، احقر نے یہی معنی لئے ہیں، دوسرے معنی مواظبت علی الامر یعنی مطلق احکام کی پابندی کرنا۔ بیضاوی نے یہ معنی بھی لئے ہیں اور حدیث میں انتظار الصلوۃ بعد الصلوۃ کو رباط فرمایا ہے، اس میں دونوں معنی کا احتمال ہے، یا تو معنی اول کے اعتبار سے تشبیہا اس کو رباط فرما دیا کہ یہ بھی نفس و شیطان کے مقابلہ میں مستعد رہنا ہے یا معنی ثانی کے اعتبار سے حقیقۃ فرمادیا ہے کہ یہ انتظار خود علامت ہے دوام کی جیسا کہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ نیک کردار ہوئے وہ ابدی باغات اور ان کی نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے : 361: اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون سعادت و شقاوت کے مطابق جس کسی کو راہ کامیابی ملنے والی ہے اس کا دل اسلام کے لیے کھل جاتا ہے اور نیک کردار ہوجاتا ہے اور برائی سے دور بھاگتا ہے اور اس کا دل نیکی پر جم جاتا ہے۔ اب جو بات بھی اس کو اچھی معلوم ہوگی وہ اس کی طرف لپک جائے گا اور جو راہ برائی کی ہوئی اس کے قریب بھی نہیں جائے گا۔ ہاں ! اگر ایسا ہوگیا اور اللہ نے اس کو برائیوں سے بچالیا تو وہ یقینا کامیاب و کامران ہوگیا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اللہ کی سیدھی راہ پر قدم اٹھایا ان کے پروردگار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 195–199

Mentioned in verses previous to this were some prayers made by good believers. The first verse (195) appearing above reports that these prayers have been accepted and believers have been given the good news that great rewards have been marked for their good deeds. In the second and third verses (196-197), Muslims have been instructed not to be deceived by the apparent affluence and worldwide maneuvering of disbelievers for this is transitory and the punishment which follows in its wake is eternal. The fourth verse (198) reasserts the promise of the lasting blessings of Paradise for Muslims…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 196–200

141. The original Arabic word is " sabiru". This has two possible meanings. One is that whenever they are in confrontation with unbelievers, the believers should endure even greater hardships for their cause, and display a higher degree of fortitude than the unbelievers. The other is that the believers should try to excel one another in facing the opposition and hostility of unbelievers with courage and fortitude.

Read the full tafseer →