محبت و مودت کا آفاقی اصول
اللہ تعالیٰ اپنے تقوے کا حکم دیتا ہے کہ جسم سے اسی ایک ہی کی عبادتیں کی جائیں اور دل میں صرف اسی کا خوف رکھا جائے، پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی حضرت آدم ؑ سے پیدا کیا ہے، ان کی بیوی یعنی حضرت حوا (علیہما السلام) کو بھی انہی سے پیدا کیا، آپ سوئے ہوئے تھے کہ بائیں طرف کی پسلی کی پچھلی طرف سے حضرت حوا کو پیدا کیا، آپ نے بیدار ہو کر انہیں دیکھا اور اپنی طبیعت کو ان کی طرف راغب پایا اور انہیں بھی ان سے انس پیدا ہوا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں عورت مرد سے پیدا کی گئی ہے اس لئے اس کی حاجت و شہوت مرد میں رکھی گئی ہے اور مرد زمین سے…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 1
چونکہ آگے چل کر انسانوں کے باہمی حقوق بیان کرنے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ خاندانی نظام کی بہتری و استواری کے لیے ضروری قوانین ارشاد فرمائے جانے والے ہیں، اس لیے تمہید اس طرح اٹھائی گئی کہ ایک طرف اللہ سے ڈرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے کی تاکید کی اور دوسری طرف یہ بات ذہن نشین کرائی کہ تمام انسان ایک اصل سے ہیں اور ایک دوسرے کا خون اور گوشت پوست ہیں۔
”تم کو ایک جان سے پیدا کیا“ یعنی نوع انسانی کی تخلیق ابتداءً ایک فرد سے کی۔ دوسری جگہ قرآن خود اس کی تشریح کرتا ہے کہ وہ پہلا انسان آدم تھا جس سے دنیا میں نسل انسانی پھیلی۔
”اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا“ ، اس کی تفصیلی کیفیت ہمارے علم…
Read the full tafseer →ربط آیات و سورت
سورة آل عمران کی آخری آیت تقوی پر ختم ہوئی ہے اور یہ سورت بھی حکم تقوی سے شروع ہو رہی ہے، پہلی سورت میں بعض غزوات اور مخالفین کے ساتھ برتاؤ کرنے اور غزوات کے سلسلہ میں مال غنیمت حاصل ہونے پر خیانت کی مذمت اور بعض دیگر امور کا ذکر تھا، اس سورت کے شروع میں اپنوں سے میل جول یعنی حقوق العباد سے متعلق احکام ہیں، مثلاً یتیموں کے حقوق، رشتہ داروں اور بیویوں کے حقوق وغیرہ، لیکن حقوق کچھ تو ایسے ہیں جو قانون انضباط میں آسکتے ہیں اور ان کی ادائیگی بزور قانون کرائی جاسکتی ہے، جیسے عام معاملات بیع و شراء اجارہ و مزدوری کے ذریعہ پیدا ہونے والے حقوق، جو باہمی معاہدات اور صلح کے ذریعہ طے ہو…
Read the full tafseer →خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا، کے معنی ہیں اس کی جنس سے۔ اگرچہ اس کے معنی لوگوں نے اور بھی لیے ہیں لیکن جس بنیاد پر لیے ہیں وہ نہایت کمزور ہے۔ ہم نے جو معنی لیے ہیں اس کی تائید خود قرآن میں موجود ہے سورة نحل میں فرمایا ہے واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا (72)۔ ظاہر ہے کہ اس کے معنی یہی ہوسکتے ہیں کہ اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں۔ اس کے یہ معنی کوئی بھی نہیں لے سکتا کہ یہ بیویاں ہر ایک کے اندر سے پیدا ہوئیں۔
تساء ل کا مفہوم : تساء ل کے معنی باہمدگر ایک دوسرے پوچھنے، سوال کرنے اور مانگنے کے ہیں۔ اسی سے ترقی کر کے ایک دوسرے سے طالب مدد ہونے کے معنی میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ سورة…
Read the full tafseer →1۔ 1 ' ایک جان ' سے مراد ابو البشر حضرت آدم ؑ ہیں اور خَلَقَ مِنْہَا وَ زَوْجَھَا میں مِنْھَا سے وہی ' جان ' یعنی آدم ؑ مراد ہیں اور آدم ؑ سے ان کی زوجہ (بیوی) حضرت حوا کو پیدا کیا۔ حضرت حوا حضرت آدم ؑ سے کس طرح پیدا ہوئیں ؟ اس میں اختلاف ہے حضرت ابن عباس ؓ سے قول مروی ہے کہ حضرت حوا مرد (یعنی آدم ؑ سے پیدا ہوئیں۔ یعنی ان کی بائیں پسلی سے۔ ایک حدیث میں کہا گیا ہے، عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ، اس کا بالائی حصہ ہے۔ اگر تو اسے سیدھا کرنا چاہے تو توڑ بیٹھے گا اگر تو اس سے فائدہ آٹھانا چاہے تو کجی کے ساتھ ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بعض علماء نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →1: جب دنیا میں لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو بکثرت یہ کہتے ہیں کہ خدا کے واسطے مجھے میرا حق دے دو ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے حقوق کے لئے اللہ کا واسطہ دیتے ہو تو دوسروں کا حق ادا کرنے میں بھی اللہ سے ڈرو اور لوگوں کے حقوق پورے پورے ادا کرو۔
Read the full tafseer →درس 03 ایک نظر میں :
سورت کا یہ پہلا پیراگراف اپنی افتتاحی آیت کے ساتھ ‘ لوگوں کو صرف رب واحد اور خالق واحد کی طرف رجوع کرنے کی دعوت سے شروع ہوتا ہے ۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ تمام لوگوں کو ایک ہی ماں باپ سے پیدا کیا گیا ہے ۔ وہ ایک ہی خاندان سے بکھرے ہیں ‘ انسانی نفس ہی دراصل اصل انسانیت ہے ۔ اور انسانی خاندان ہی دراصل انسانی معاشرے کی اکائی ہے ۔ اس لئے نفس انسانی کے اندر خدا خوفی کے جذبات کو جوش میں لایا جاتا ہے اور خاندانی نظام کو جذبہ صلہ رحمی سے مستحکم کیا جاتا ہے تاکہ اس مستحکم اساس پر ایک خاندان کے اندر باہم تکافل (Social Security) اور باہم محبت کے فرائض پر وان چڑھیں ۔ اس کے بعد پوری…
Read the full tafseer →7 یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے اول تو حضرت حوا کو ان کی بائیں پسلی سے نکالا، پھر ان دونوں سے تمام مرد اور عورتوں کو پیدا کیا، اور دنیا میں پھیلایا تو حقیقت میں تمام آدمی ایک جان اور ایک شخص سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے، مطلب یہ ہے کہ جب تم سب کو عدم سے وجود میں لانے والا اور پھر تم کو باقی اور قائم رکھنے والا وہی ہے تو اس سے ڈرنا اور اس کی فرمانبرداری ضروری بات ہے، اس سے اشارہ ہوگیا دو مضمونوں کی طرف اول یہ کہ اللہ تعالیٰ تم سب کا خالق اور موجد ہے، دوسرے یہ کہ تمام آدمیوں کے لئے سبب وجود کہ جس سے اللہ تعالیٰ نے سب کو پیدا فرمایا، ایک ہی جان یعنی ابو البشر آدم (علیہ السلام) ہے جس سے معلوم…
Read the full tafseer →آیت 1 یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ
دیکھئے معاشرتی مسائل کے ضمن میں گفتگو اس بنیادی بات سے شروع کی گئی ہے کہ اپنے خالق ومالک کا تقویٰ اختیار کرو۔
وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا
نوٹ کیجیے کہ یہاں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ اس نے تمہیں ایک آدم سے پیدا کیا اور اسی آدم سے اس کا جوڑا بنایا ‘ بلکہ نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ایک جان کا لفظ ہے۔ گویا اس سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ عین آدم علیہ السلام ہی سے ان کا جوڑا بنایا گیا ہو ‘ جیسا کہ بعض روایات سے بھی اشارہ ملتا ہے ‘ اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ آدم کی نوع سے ان کا جوڑا بنایا گیا ‘ جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال…
Read the full tafseer →1 ایک جان سے مراد ابو البشر آدم ہیں۔ انہی سے آپ کی بیوی سیدہ حوا کو پیدا کیا گیا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میری وصیت مانو اور عورتوں سے بھلائی کرتے رہنا۔ کیونکہ عورت کی خلقت پسلی سے ہوئی ہے اور پسلی کے اوپر کا حصہ ٹیڑھا ہوتا ہے۔ اگر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو ٹوٹ جائے گی اور اگر یوں ہی چھوڑ دو ۔ تو ٹیڑھی ہی رہے گی۔ لہذا میری وصیت مانو اور ان سے اچھا سلوک کرو (بخاری : کتاب بدء الخلق، باب وإذ قال ربک للملائکۃ)
2 اس سورة کا آغاز اس آیت سے غالباً اس لئے کیا جارہا ہے کہ اس سورة کا بیشتر حصہ عائلی اور معاشرتی قوانین پر مشتمل ہے۔ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →1 ۔ یعنی ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) سے، وحدت نوع انسانی کا یہ سبق اپنے عملی اور دور رس نتائج کے لحاظ سے کتنا اہم ہے ! آخری جد اعلی ہر گورے اور ہر کالے کے، ہر وحشی اور ہر مہذب کے، ہر ہندی اور ہر چینی کے، ہر حبشی اور ہر فرنگی کے ایک ہی ہیں اور وہ آدم (علیہ السلام) ہیں، یہ نہیں کہ فلاں کے مورث اعلی کوئی اور تھے اور فلاں نسل کے کوئی اور، اور نہ یہ کہ برہمن ذات والے برہما جی کے منہ سے پیدا ہوئے اور کھشتری نسل والے ان کے سینہ سے اور ویش جاتی والے ان کے پیٹ سے اور شدر ذات والے ان کی ٹانگوں سے، اصلا انسان انسان سب ایک ہیں۔ (آیت) ” خلقکم مسئلہ ارتقاء کسی حد تک کسی معنی میں صحیح ہے یا نہیں، قرآن…
Read the full tafseer →آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اے لوگو، یعنی اے مکہ والو ! تم اپنے رب کے عذاب سے
ڈرو اس طریقہ پر کہ اس کی اطاعت کرو۔ جس نے تم کو ایک جان آدم سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا حوآء کو اس کی بائیں پسلیوں میں سے ایک پسلی سے پیدا کیا (حوآء) مد کے ساتھ ہے، اور ان دونوں یعنی آدم و حواء سے بہت سے مرد اور عورت پھیلا دئیے اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ اس طریقہ پر کہ ایک دوسرے سے کہتے ہو کہ میں تجھ سے اللہ کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں یا تجھ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ اس میں تاء اصل میں سین میں مدغم ہے اور ایک قرائت میں…
Read the full tafseer →یایھا الناس اے لوگو ! جو لوگ نزول آیت کے وقت موجود تھے ان کو براہ راست خطاب ہے اور آئندہ تمام آنے والے ان کے ذیل میں مخاطب ہیں۔
اتقوا ربکم اپنے رب سے ڈرو یعنی اسکے عذاب سے ڈرو جس کی (ظاہر) صورت یہ ہے کہ اسکے احکام پر چلو۔
الذی خلقکم جس نے تم کو پیدا کیا یعنی آغاز تخلیق کے زمانہ میں۔
من نفس واحدۃ ایک شخص سے یعنی حضرت آدم ( علیہ السلام) سے۔
و خلق منھا زوجھا اور اسی سے پیدا کیا اس کے جوڑے کو یعنی حضرت حوا کو بائیں پسلی سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : عورتیں آدم کی پسلی سے پیدا کی گئی ہیں۔ (الحدیث صحیحین)
ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حوا کو آدم کی سب سے…
Read the full tafseer →(1) اس مقام پر حکم عام ہے اور کبھی خاص بھی ہوتا ہے، اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں صرف نفس آدم ؑ سے توالد وتناسل کے ذریعہ پیدا کیا اور حضرت حوا کو بھی ان سے پیدا کیا پھر ان دونوں سے بذریعہ توالد بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں پیدا کیں۔
اسی کی اطاعت کرو جس کا نام لے کر ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا کرتے ہو، اور حقوق قرابت کے ضائع کرنے سے بھی ڈرو، اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت وفرمانبرداری کرو اور جن باتوں کا تمہیں کو حکم دیا گیا جیسا کہ اطاعت خداوندی اور صلہ رحمی وغیرہ ان سب کے متعلق تم سے پوچھ گچھ ہوگی۔
Read the full tafseer →خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ : یعنی پوری نوع انسانی آدم ؑ کی نسل سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”(قیامت کے دن) لوگ آدم ؑ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے، اے آدم ! آپ انسانوں کے باپ ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (لقد أرسلنا۔۔) : 3340، عن أبی ہریرہ ؓ ] ایک جان سے پیدا کرنے سے یہ توجہ دلانا بھی مقصود ہے کہ تم تمام انسان ایک شخص کی اولاد ہو، کوئی اور رشتہ داری نہ ہو تو یہ رشتہ داری کیا کم ہے، اس کا خیال ہی رکھو اور اپنے کمزوروں کی مدد کرتے رہو۔
2 وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”عورت کو پسلی سے پیدا کیا…
Read the full tafseer →بسم اللہ الرحمن الرحیم :
اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
آیت نمبر 1۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” یایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم “۔ سورة بقرہ میں الناس کا اشتقاق، التقوی، الرب، الخلق، الزوج اور البث کا معنی گزر چکا ہے، اس لئے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے، اس آیت میں صانع (بنانے والا) پر تنبیہ اور آگاہی ہے فرمایا (آیت) ” واحدۃ “ نفس کے لفظ کی تانیث کی بناء پر (آیت) ” واحدۃ “۔ فرمایا۔ نفس کا لفظ مؤنث ہے اگرچہ اس سے مراد مذکر ہوتا ہے، کلام عرب میں من نفس واحد بھی جائز ہے، یہ معنی کی رعایت کے اعتبار سے ہے، کیونکہ…
Read the full tafseer →(1) ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” خلقنکم من نفس واحدۃ “ سے مراد ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے ” وخلق منہا زوجھا “ سے مراد ہے حوا کو پیدا کیا گیا ان کی چھوٹی پسلی سے۔
(2) عبد بن حمید وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” خلقنکم من نفس واحدۃ “ سے مراد ہے کہ آدم اور ” وخلق منھا زوجھا “ سے مراد ہے حوا کو آدم (علیہ السلام) کی چھوٹی پسلی سے پیدا کیا جبکہ آدم (علیہ السلام) سو رہے تھے (حوا کو دیکھ کر) فرمایا۔ انا نبطی زبان میں (انا) سے عورت مراد ہے۔
(3) عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت حوا کو…
Read the full tafseer →(یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ : اے لوگو ! ) (اتَّقُوْا : تم تقویٰ اختیار کرو) (رَبَّـکُمُ : اپنے رب کا ) (الَّذِیْ : جس نے ) (خَلَقَکُمْ : پیدا کیا ) (تم کو ) (مِّنْ نَّـفْسٍ وَّاحِدَۃٍ : ایک ہی جان سے) (وَّخَلَقَ : اور (اس نے) پیدا کیا) (مِنْہَا : اس سے ) (زَوْجَہَا : اس کا جوڑا) (وَبَثَّ : اور (اس نے) پھیلائے) (مِنْہُمَا : ان دونوں سے ) (رِجَالاً کَثِیْرًا : بہت سے مرد) (وَّنِسَآئً : اور عورتیں) (وَاتَّقُوا : اور تم بچو) (اللّٰہَ الَّذِیْ : اس اللہ (کی ناراضگی) سے ) (تَسَآئَ لُوْنَ : تم لوگ باہم مانگتے ہو) (بِہٖ : جس (کے حوالے ) سے ) (وَالْاَرْحَامَ : اور رشتہ داروں (کی حق تلفی) سے) (اِنَّ :…
Read the full tafseer →بنی آدم کی تخلیق کا تذکرہ اور یتیموں کے مال کھانے کی ممانعت
ان آیات میں اول تو تمام انسانوں کو ان کے خالق ومالک اور پرورش کرنے والے سے ڈرنے کا حکم فرمایا اور یہ حکم جگہ جگہ قرآن حکیم میں موجود ہے اللہ تعالیٰ شانہ سے ڈرنا ہی سب کامیابیوں کی کنجی ہے کوئی شخص خلوت میں ہو یا جلوت میں اپنے رب تعالیٰ شانہ سے ڈرے گا اور خوف و خشیت کی صفت سے متصف ہوگا تو دنیا و آخرت میں اس کے لیے کامیابی ہی کامیابی ہے۔ دنیا و آخرت کی بربادی گناہوں میں مبتلا ہونے سے ہوتی ہے اور خوف و خشیت دل میں جگہ پکڑ لے تو پھر گناہ چھوٹتے چلے جاتے ہیں۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تمہید احکام سورة دربارہ اداء حقوق قرابت حکم تقوی و اطاعت ربانی وتذکیر اتحاد انسانی۔
قال تعالیٰ یا ایھا الناس۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ رقیبا۔
اللہ جل شانہ نے اس سورت کا تقوی اور پرہیزگاری کے حکم سے آغاز فرمایا جو آئندہ احکام قرابت کی تمہید ہے اور تقوی کے حکم کے ساتھ اپنی خاص شان خالقیت کو ذکر فرمایا کہ تم سب ایک آدم کی اولاد ہو لہذا تم پر حق قرابت کا لحاظ اور پاس داری ضروری اور لازمی ہے۔
بنی آدم اعضاء یکدیگر ند کہ در آفرینش زیک جو ہر اند
چو عضوے بدرد آور روز گار دگر عضوھارا نماند قرار
نیز تم پر اس پروردگار کی اطاعت اور فرمانبرداری اور تقوی اور پرہیزگاری نہایت ضروری ہے کہ جس نے تم کو اپنی قدرت کاملہ سے پیدا…
Read the full tafseer →2 یہ تخویف اخروی ہے اور اور کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا خالق اور محسن و مربی ہے اس سے ڈرو اور جو احکام آئندہ بیان ہو رہے ہیں ان کی تعمیل کرو۔ تمہاری ہر حرکت خدا کی نگاہ میں ہے وہ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور جو اس کے احکام کی مخالفت کریگا اسے عذاب دے گا۔ تخویف اخروی کے بعد پوری سورت میں عذاب سے بچنے کے لیے تین امور بیان فرمائے۔ (1) ظلم نہ کرو۔ چناچہ احکام رعیت کا خلاصہ ہے ظلم نہ کرو۔ (2) شرک نہ کرو۔ (3) احسان کرو۔ احکام رعیت کے بعد یہ دونوں امور مذکور ہیں۔ نَفْسٍ وَّاحِدَۃً سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ جو تمام انسانوں کے باپ ہیں۔ فرعکم من اصل واحد و ھو نفس اٰدم ابیکم…
Read the full tafseer →نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النساء ہے۔ یہ سورة ہجرت کے بعد مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ سورة بقرہ اور آل عمران کی طرح یہ بھی لمبی سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔ ترتیب کے لحاظ سے طویل ترین سورة بقرہ ہے ، پھر آل عمران اور اس کے بعد سورة نساء کا نمبر ہے اس کا ایک صد 177 آتیں ، 24 رکوع ، 3940 کلمات اور 16030 حروف ہیں۔
نساء جمع کا صیغہ ہے اور اس کا واحد المراۃ ہے تنثنیہ المراتن ہے یعنی ایک عورت ، دو عورتیں اور نساء یا نسوۃ سب عورتوں کے معنی میں آتا ہے اسی طرح مرد کے لیے بھی المراء المران اور رجال آتا ہے۔ یعنی ایک مرد ، دو مرد اور سب مرد۔
مضامین سورة
جیسا کہ اس سورة مبارکہ کے نام سے ظاہر ہے ،…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً 0 ۚ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْ تَسَاۗءَلُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا 1
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1]
( ن و س ) الناس ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض…
Read the full tafseer →ترکیب : من نفس واحدۃ صفت و موصوف موضع نصب میں خلقکم کی وجہ سے ومن ابتداء غایۃً کے لئے ہے اور ایسا ہی منہما کثیرا صفت ہے رجالا کی اور رجال اگرچہ یہاں جمع ہے اور قاعدہ چاہتا تھا کہ اس کی صفت میں کثیرہ ہوتا کیونکہ جمع مونث ہے لیکن کبھی جمع کی صفت مذکر بھی آتی ہے جیسا کہ جماعت مونث کی طرف فعل مذکر مستند ہوجاتا ہے کما قال نسوۃ ‘ والارحام منصوب معطوف ہے اللّٰہ پر۔
تفسیر : یہ سورة بھی مدینہ میں نازل ہوئی کہ اس میں ایک سو چھہتر آیتیں ہیں۔ اول چونکہ اس میں عورتوں کے احکام نکاح و توریث وغیرہ زیادہ مذکور ہیں اس لئے اس مناسبت سے اس کا نام سورة ٔ نساء مشہور ہوگیا۔ سورة 1 ؎ آل عمران میں بیشتر جہاد فی سبیل…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّـکُمُ الَّذِیْ خَلَقَـکُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآئً ج وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْـکُمْ رَقِیْبًا
(اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے پھیلا دیئے بہت سے مرد اور عورتیں اور اللہ سے تقویٰ اختیار کرو جس کے واسطہ سے ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور قرابتوں کے باب میں بھی اللہ سے ڈرو بیشک اللہ تمہارے اوپر نگران ہے) (النسآء : 1)
اسلوبِ قرآن کا ایک انداز
قرآن…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط سورة : سورة آل عمران کے اختتام میں ” اِتَّقُوْا اللّٰہَ “ فرما کر تقو ٰی کو مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت قرار دیا ہے۔ اِتَّقُوْااللّٰہَ میں جلالت اور تمکنت پائی جاتی ہے۔
سورۃ النساء کا آغاز ” اِتَّقُوْا رَبَّکُمْ “ سے ہوتا ہے۔ اسمِ رب میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اظہار ہوتا ہے جس میں شفقت ‘ الفت اور قربت کا تصور پایا جاتا ہے۔
اس سورة میں انسانی معاشرے کے ابتدائی یونٹ کو مضبوط بنانے کے لیے اس کے بنیادی حقوق و فرائض کا بیان ہوا ہے۔ سورة النساء کے ابتدائی الفاظ اور کلمات میں توحید اور وحدت انسانی کا سبق دیا گیا ہے کہ جس طرح تم سب ایک ہی خالق کی مخلوق اور اسی کی ربوبیت کے مرہون منت…
Read the full tafseer →آیت : 1
یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً ۔ (اے لوگو ! تم اپنے رب سے ڈرو۔ جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کے جوڑے کو اور آدم و حوا سے پھیلا یا بہت سارے مردوں اور عورتوں کو) یٰٓـاَ ۔ یُّہَا النَّاسُ (اے اولاد آدم ) ۔
صورتِ تخلیق :
اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ (آغاز تخلیق کے زمانہ میں ایک اصل یعنی تمہارے باپ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے بنایا) ۔
وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا یہ محذوف پر عطف ہے۔ گویا اس طرح…
Read the full tafseer →(تفسیر) 1۔:
(آیت)” یایھا الناس ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ نفس واحدۃ “ ۔ اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ، (آیت)” وخلق منھا زوجھا “۔ اس سے مراد حضرت حواء (علیہا السلام) (آیت)” وبث منھما “۔ اور آدم وحواء (علیہما السلام) سے پھیلایا یا ظاہر کیا ، (آیت)” رجالا کثیرا ونساء واتقوا اللہ الذی تساء لون بہ “۔ یہاں دو تائیں تھیں اصل میں تتساء لون تھا ، سین کی تخفیف کے ساتھ یہاں ذکر کیا ہے جیسا کہ اس آیت (آیت)” وتعاونوا “ اصل میں ” تتعاونوا “ تھا (آیت)” والارحام “ بعض حضرات نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے مطلب یہ ہوگا کہ قطع رحمی سے ڈرتے رہو ، حمزہ نے اس کو مجرور پڑھا ہے اس صورت میں عبارت یوں ہوگی ، ” بالارحام “ جیسا…
Read the full tafseer →1۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو متعدد روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آگے جو اس سورت کی آیتیں آتی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے احکام کے ذکر فرمائے ہیں مثلاً قرابت دار ولی جن کی پرورش میں یتیم بچے ہوں۔ یتیموں کے مال کی بابت ان کو حکم فرمایا ہے یا کوئی شخص اگر مرجائے تو اس کا مال قرابت دار وارثوں میں کیونکر تقسیم ہونا چاہیے اس کا حکم فرمایا ہے پھر جب تک آدمی قرابت داروں کا پاس اور لحاظ پورا پورا نہ رکھے گا تو ان حکموں کی پابندی پوری پوری آدمی سے نہیں ہوسکتی۔ اس واسطے ان حکموں کے ذکر فرمانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قرابت دار کو اپنے نام پاک کے ساتھ اس آیت میں ذکر فرما کر قرابت داری کی پاس…
Read the full tafseer →آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کا افتتاح تقویٰ کے حکم، اپنی عبادت کی تاکید اور صلہ رحمی کے حکم اور اس کی تاکید سے کیا ہے۔ اور ان اسباب کو بیان کیا ہے جو ان تمام امور کے موجب ہیں اور تقویٰ کا موجب یہ ہے (ربکم الذی خلقکم) ” وہ تمہارا رب ہے جس نے تمہیں پیدا کیا “ تمہیں رزق عطا کیا اور بڑی بڑی نعمتوں کے ذریعے سے تمہاری تربیت کی اور ان جملوں نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے تمہیں پیدا کیا (من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا) ” ایک ہی جان سے اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا “ تاکہ وہ اس کے مشابہہ اور مناسب ہو اور اسے اس کے پاس سکون حاصل ہو، اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی تکمیل ہو اور اس سے فرحت و…
Read the full tafseer →سورة النساء
رشتوں کا احترام ضروری ہے
قول باری ہے (واتقواللہ الذی تساء لون بہ والارحام۔ اس خدا سے ڈروجس واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور راستہ و قرابت کے تعلقات ہورکاڑنے سے پرہیزکرو) حسن، عابد اورابراہیم کا قول ہے کہ آیت کا وہی مفہوم ہے جو اس قول کا ہے، اسالک باللہ وبالرحیم (میں تجھ سے اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر سوال کرتاہوں) ابن عباس ؓ ۔ قتادہ، سدی اور ضحاک کا قول ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے ، رشتہ و قرابت کے تعلقات کو ٹوڑنے اور بگاڑنے سے پرہیزکرو آیت میں اللہ کے نام پر اور اس کا واسطہ دے کر سوال کرنے کے جواز پر دلالت موجود ہے۔ لبیث نے مجاہد سے انھوں نے حضرت ابن عمر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2 تقوی رب کی ربوبیت کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کی ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ تم اسی سے ڈرو اور اس کی ہر نافرمانی سے بچو، کہ اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے، اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی، پس عبادت و بندگی کی ہر قسم خاص اسی کیلئے اداء کرو ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس میں کسی کو بھی کسی بھی طرح اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، اور جب تمہارا خالق ومالک اور رب وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم اسی سے ڈرو اور ہمیشہ اس کی رضا و خوشنودی کا خیال رکھو، سو یہ مخلوق آپ سے آپ وجود میں نہیں آگئی، بلکہ ایک خالق کل اور قادر مطلق کی تخلیق و ایجاد سے وجود پذیر ہوئی ہے تو…
Read the full tafseer →انسان کی پیدائش
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہمارا پیدا کرنے والا اللہ ہے جس نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کے ذریعے سے دنیا میں اتنی زیادہ خلقت پیدا کی اور یہ بتا دیا کہ عورت و مرد برابر کے انسان ہیں کوئی بھی بےکار نہیں۔ یہ طریقہ اللہ رب العزت کا اپنا ہی ہے پھر پیدا کرنے کے بعد رزق بھی وہ خود ہی دیتا ہے۔ انسان کو حکم دیتا ہے کہ آپس کے بھائی چارے کو مضبوط رکھو، رب سے ڈرو، کوئی غلط کام نہ کرو۔ کیونکہ ہر کام کو اللہ رب العزت دیکھ رہا ہے، نیکی کی راہوں پر چلنا چاہئے، تاکہ دنیا میں اور آخرت میں نجات حاصل ہو سکے۔ حدیث ہے ” جو شخص اللہ کے خوف سے رویا ہو وہ آگ میں داخل نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اسرار و معارف
رکوع نمبر 1 ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۔۔۔ یا الناس اتقوا ربکم۔۔۔۔ انہ کان حوبا کبیرا۔ آیات نمبر 1 تا 2 ۔
اے لوگو اس سے نہ بگاڑو جو تمہارا رب ہے یعنی تمہاری تمام ضروریات کا پورا کرنے والا ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا ہے۔ اخوت کا یہ حال ہے کہ جملہ انسانیت کی اصل ایک فرد ہے حضرت آدم علی نبینا و ﷺ ، اسی ایک فرد سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا وہ قادر مطلق حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ان کی زوجہ محترمہ حضرت حوا کو بھی تو مٹی سے پیدا کرسکتا تھا اور پھر ہمیشہ ساری انسانیت کو بھی اسی طرح پیدا کرنے پہ قادر تھا مگر اس نے کوئی علیحدہ وجود پیدا کرنا پسند نہیں فرمایا بلکہ اسی ایک وجود…
Read the full tafseer →)5 یعنی پوری نوع انسانی ابو ال لبشر آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ہے اسی ایک نفس سے اللہ تعالیٰ نے اس کا جوڑا (حوا) پیدا کیا۔ بعض نے منھا کر ترجمہ ای من جنسھتا کیا ہے مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ اس سے لازم آّتا ہے کہ نفس واحدۃ نہیں بلکہ دونفسوں انسان کی تخلیق کی ابتدا ہوئی اور ظاہر ہے کہ نص قرآن کے خلاف ہے۔ روح لمعامی) اب یہ سوال کہ آدم ( علیہ السلام) سے ان کی زوج کی تخلیق کیسے ہوئی قرآن نے اسے بیان نہیں نہیں کیا اور احادیث صحین سے یہ تو ثابت ہے کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے اور بعض روایات میں فالھر خلقن من ضلع بھی بھی آیا ہے کہ سب عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی مگر کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ…
Read the full tafseer →(4:1) بث۔ اس نے بکھیرا۔ اس نے پھیلایا۔ بث سے ماضی واحد مذکر غائب باب ضرب۔ نصر۔
نفس واحدۃ۔ ایک جان ۔ من اصل واحد وھوادم ابو البشر (علیہ السلام) یعنی ایک اصل سے جس سے مراد ذات آدم (علیہ السلام) ہے۔ صیغہ واحد مؤنث نفس کے لئے آیا ہے ۔ جو مؤنث سماعی ہے۔
زوجھا۔ جن حیوانات میں نر اور مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ حیوانات کے علاوہ دوسری اشیاء میں سے جفت (جوڑا) کو زوج کہا جاتا ہے۔ جیسے موزے اور جوتے وغیرہ۔ پھر ہر اس چیز کو جو دوسری کی مماثل یا مقابل ہونے کی حیثیت سے اس سے مقترن ہو اہ اس کا زوج کہلاتی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 1
لغات القرآن : یایھا الناس۔ اے لوگو ! ۔ نفس واحدۃ، ایک جان۔ زوج، بیوی۔ بث، اس نے پھیلایا۔ رجال، مرد (رجل کی جمع ہے) ۔ کثیر، بہت سے۔ نساء، عورتیں۔ تسآءلون، تم آپس میں سوال کرتے ہو۔ الارحام، رشتہ داریاں رقیب، نگہبان، نگراں۔
تشریح : سورة نساء کی پہلی آیت ان تمام مسائل اور مضامین کی تمہید ہے جو آنے والی آیات میں بیان کئے گئے ہیں تمام انسانی حقوق کی بنیاد تقویٰ یعنی اللہ کے خوف پر رکھی گئی ہے کیونکہ اللہ کا خوف ہی ایک انسانی معاشرہ کو صحیح خطوط پر چلا سکتا ہے۔ مثلاً بہت سے وہ حقوق ہیں جو حکومت اور قانون کی گرفت میں آسکتے ہیں۔ اجر و مزدور، معاہدات اور لین دین کے بہت سے معاملات اگر ان میں…
Read the full tafseer →یتم کے مال کی حفاظت کا حکم
حضرت حوا سلام اللہ علیہا کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کیا۔ اور ان دونوں سے بہت پور بڑھائی، بہیترے مرد اور عورت پیدا کئے اور ڈرو اس اللہ سے جس سے تم حاجت مانگتے ہو، اور قرابت کے توڑنے سے ڈرو یعنی ہر ایک سے مہربانی کے ساتھ رشتہ کرو۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رحم عرش معلیٰ میں لٹکا ہو ہے اور یہ کہتا ہے کہ یا اللہ ! جو شخص صلہ رحمی کرے اس پر رحم فرما اور جو قطع رحمی کرے اس کو کاٹ ڈال۔
خواص سورة النساء : جو کوئی اس سورة کو زعفران سے لکھ کر تین روز متواتر دھو کر پیے، خدا کے فضل سے جس قسم کا ڈر یا خوف رکھتا ہو اس سے نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] یعنی آدم سے۔
[2] یعنی حوا۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں اس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ سارا عالم انسانیت ایک کنبہ ہے جس کے تمام افراد مرد و عورت اور اطفال اولاد کی شکل میں زمین پر پھیلے ہوئے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ خدا کی عبادت کے ساتھ ساتھ بندوں پر شفقت کا جذبہ بھی موجود رہے ، اور دین و مذہب کا منشاء اس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال نہ رکھا جائے ، اسلام نے اس مسئلہ پر بڑا زور دیا ہے کہ مذہب کے مفہوم کو صرف عبادت پر محصور وموقوف نہ سمجھا جائے ، بلکہ اس میں اتنی وسعت دے کہ تمام مدنی ضروریات سما جائیں ۔
حل لغات :
رقیبا ۔ نگہبان اور محافظ :
Read the full tafseer →ف 1 اے بنی نوع انسان ! تم لوگ اپنے اس پروردگار کے احکام کی مخالفت سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ اور اسی جاندار سے اس کا جوڑا یعنی حضرت حوا کو بنایا اور پھر ان دونوں سے بکثرت مرد و عورت کو دنیا میں پھیلا دیا اور ہم تم کو پھر تاکیداً حکم دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کے نام کا واسطہ دیکر اور جس کے نام کی قسمیں دے دے کر تم اپنے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا کرتے ہو اور ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو۔ اور دیھکو۔
ارحام، یعنی قرابت داری اور رشتہ داری کے بارے میں احتیاط کرو اور گود پیٹ کے تعلقات منقطع کرنے سے پرہیز کرو اور رشتہ داری کے حقوق کو ضائع کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 1۔ اس آیت میں پیدائش کی تین صورتوں کا بیان ہے ایک تو جاندار کا بےجان سے پیدا کرنا جیسے آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے دوسرے جاندار سے بلاطریقہ توالد متعارف پیدا ہونا جس طرح حضرت حوا حضرت آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اور تیسرے جاندار کا جاندار سے بطریق توالد متعارف پیدا ہونا جیسا اور آدمی آدم وحوا سے اس وقت تک پیدا ہوتے آرہے ہیں اور فی نفسہ عجیب نہ ہونے میں اور قدرت کے سامنے عجیب نہ ہونے میں تینوں صورتیں برابر ہیں۔
2۔ اوپر تقوی کا حکم تھا اور اس کے ضمن میں مراعات حقوق انسانیہ ورحمیہ کا ارشاد تھا آگے اس تقوی کے مواقع کا حقوق مذکورہ میں ہیں مفصلا ذکر فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →سلسلہ حسب و نسب باپ سے ہے ماں سے نہیں لیکن کنیت ماں سے بھی ہو سکتی ہے :
1: انسان اول کی پیدائش کا ذکر قرآن کریم میں کئی ایک مقامات پر کیا گیا ہے۔ لیکن کسی جگہ سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انسان اول فی نفسہ صرف ایک اور وہ بھی مرد ہی ہے۔ اور پھر اس مرد یعنی انسان اول کی بائیں پسلی نکال کر یا وہاں سے ایک گوشت کا ٹکڑا نکال کر یا پسلی کے درمیان سے حوا کو پیدا کر کے اس کی بیوی بنا دیا۔ اس طرح کے سارے تخیلات دراصل ہندو لٹریچر سے لئے گئے اور ان کو الفاظ کا لبادہ پہنا کر قرآن کریم کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پر ان کو چڑھا دیا گیا اور اس طرح آہستہ آہستہ نظریات پیدا ہوتے رہے اور انہیں نظریات کے…
Read the full tafseer →Sequence _ _
The last verse of Surah 'Al-` Imran was concluded with an exhortation to Taqwa, the fear of Allah. The present Surah begins with Taqwa in the mode of command. The previous Surah mentioned some battles, described the manner of treating antagonists, condemned misappropriation in battle spoils and took up several other matters. In the earlier part of the present Surah, there are injunctions about rights related to one's own people which must be fulfilled while living and inter-acting with them, such as, the rights of orphans, relatives and wives (known as حقُوقُ العباد Huququl-`…
Read the full tafseer →1. What are the mutual rights of human beings, what are the principles on which a sound and stable family life can be established, are questions that are discussed a little further on in this surah. As an appropriate introduction to the subject, the surah opens by exhorting the believers to fear God and to avoid courting His displeasure, and by urging them to recognize that all human beings have sprung from the same root and that all of them are, therefore, of one another's flesh and blood. The expression 'Who created you from a single being (nafs)' indicates that the creation of the human…
Read the full tafseer →