4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا اور اس جان سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلا دئیے اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے آپس میں سوال کرتے ہو۔ اور قرابت داریوں سے بھی ڈرو، بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے

بنی آدم کی تخلیق کا تذکرہ اور یتیموں کے مال کھانے کی ممانعت ان آیات میں اول تو تمام انسانوں کو ان کے خالق ومالک اور پرورش کرنے والے سے ڈرنے کا حکم فرمایا اور یہ حکم جگہ جگہ قرآن حکیم میں موجود ہے اللہ تعالیٰ شانہ سے ڈرنا ہی سب کامیابیوں کی کنجی ہے کوئی شخص خلوت میں ہو یا جلوت میں اپنے رب تعالیٰ شانہ سے ڈرے گا اور خوف و خشیت کی صفت سے متصف ہوگا تو دنیا و آخرت میں اس کے لیے کامیابی ہی کامیابی ہے۔ دنیا و آخرت کی بربادی گناہوں میں مبتلا ہونے سے ہوتی ہے اور خوف و خشیت دل میں جگہ پکڑ لے تو پھر گناہ چھوٹتے چلے جاتے ہیں۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا عَلَیْکَ بتَقْوَی اللّٰہِ اَزْیَنُ لِاَمْرِکَ کُلِّہٖ (کہ تم اللہ سے ڈرنے کو لازم پکڑ لو کیونکہ اس سے تمہارے ہر کام میں زینت آجائے گی) (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 415) پھر رب جل شانہٗ کی صفت جلیلہ بیان فرمائی اور وہ یہ کہ اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس جان سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا پھر اس جوڑے سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو دنیا میں پھیلا دیا۔ ایک جان سے حضرت آدم ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ حضرت حوا کی تخلیق : ان کا جوڑا یعنی حضرت حوا [ کو ان ہی سے پیدا فرمایا صحیح مسلم صفحہ 475: ج 1 میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے وہ کسی طریقہ پر تیرے لیے سیدھی نہیں ہوسکتی۔ سو اگر تو اس سے نفع حاصل کرنا چاہے تو اس کی کجی یعنی ٹیڑھے پن کے ہوتے ہوئے ہی نفع حاصل کرسکتا ہے اور اگر تو اسے سیدھا کرنے لگے تو توڑ ڈالے گا اور اس کو توڑ دینا طلاق دینا ہے، صحیح بخاری صفحہ 779: ج 2 کی ایک روایت میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ قرآن مجید میں جو (وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا) فرمایا اس کی تفسیر حدیث شریف سے معلوم ہوگئی کہ حضرت حوا حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کی گئیں۔ بہت سے لوگ جن کا مزاج معتزلہ والا ہے وہ چونکہ اپنی عقل کو پہلے دیکھتے ہیں بعد میں قرآن و حدیث پر نظر ڈالتے ہیں اور جو چیز ان کی عقل میں نہ آئے اس کے منکر ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں نے یہاں بھی ٹھوکر کھائی ہے انہوں نے حضرت حوا کا حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہونے کا انکار کیا ہے۔ آیت کو انہوں نے سمجھنا چاہا آیت کے مفہوم صریح تک ان کے ذہن کی رسائی نہیں ہوئی۔ رہی حدیث تو اس مزاج کے لوگ احادیث کو مانتے ہی نہیں۔ ھداھم اللّٰہ پھر فرمایا (وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً ) کہ ان دونوں (یعنی ایک مرد اور ایک عورت) سے بہت سارے مرد اور عورتیں دنیا میں پھیلا دیئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ سیدنا حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیس لڑکے اور بیس لڑکیاں پیدا ہوئیں ان ہی سے آگے نسل چلی جس سے کروڑوں انسان مرد اور عورتیں زمین پر پھیل گئے۔ (درمنثور صفحہ 116: ج 2) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا پھر ان کی بیوی پیدا فرمائی پھر ان دونوں سے خوب زیادہ نسل چلی اور پھلی پھولی اور پھیلی، موجودہ دور کے انسان اسی نسل سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کو بھی سامنے رکھیں اور صفت ربوبیت کو بھی کہ اس نے پیدا فرمایا اور پرورش بھی فرمائی اور پرورش کے سامان پیدا فرمائے کئی طرح سے اس کا شکر واجب ہے اور شکر کا بہت بڑاجز و یہ ہے کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔ یعنی جو مال و اولاد اس نے عطا فرمایا ہے اس کو گناہوں سے محفوظ رکھاجائے اور انہیں اللہ کی نافرمانی کا ذریعہ نہ بنایا جائے، یہ تقویٰ کی صفت ہے، شروع آیت میں تقویٰ کا حکم فرمایا اور یہ بھی بتادیا کہ تقویٰ کیوں اختیار کیا جائے ؟ جس نے اللہ تعالیٰ شانہ کی صفت خالقیت اور صفت ربوبیت کو جان لیا وہ ضرور متقی ہوگا اور خلوت و جلوت میں گناہوں سے بچے گا۔ اللہ سے ڈرنے کا حکم : پھر فرمایا (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ ) (کہ تم اللہ سے ڈرو جس کے نام کا واسطہ دے کر آپس میں ایک دوسرے سے حقوق کا مطالبہ کرتے ہو۔ ) جس نے حق مار لیا ہو یا حق دینے میں دیر لگا دی ہو اس سے کہتے ہو کہ تو خدا سے ڈرو اور میرا حق دے۔ حقوق مانگنے کے سوا دوسری ضروریات کے لیے بھی ایک دوسرے سے یوں کہتے ہو کہ اللہ کے لیے میرا یہ کام کر دو ، خدا کے لیے مجھے یہ دے دو جس خدا تعالیٰ کے نام سے اپنے کام چلاتے ہو اس سے ڈرو اور گناہوں سے بچو۔ صلہ رحمی کا حکم اور قطع رحمی کا و بال : پھر فرمایا وَ الْاَرْحَامَارحام رحم کی جمع ہے، عربی میں رحم بچہ دانی کو کہا جاتا ہے جس کے اند ماں کے پیٹ میں بچہ رہتا ہے پھر یہ کلمہ مطلقاً رشتہ داری کے تعلقات کے لیے استعمال ہونے لگا، زمانہ اسلام سے پہلے بھی اہل عرب کے نزدیک رشتہ داری کے تعلقات باقی رکھنا اور انہیں خوبی کے ساتھ نباہنا بہت اہم کام تھا۔ تعلقات باقی رکھنے کو صلہ رحمی اور تعلقات توڑ دینے کو قطع رحمی کہتے ہیں۔ اسلام نے بھی اس کی اہمیت کو باقی رکھا صلہ رحمی پر بڑے اجر وثواب کا وعدہ فرمایا اور قطع رحمی پر وعیدیں بیان فرمائیں۔ اہل عرب آپس میں صلہ رحمی کے تعلقات کو یاددلایا کرتے تھے اور قسم دلا کر کہتے کہ اے فلاں تجھے رحم کی قسم ہے تو ہماری رعایت کر اور قطع رحمی نہ کر۔ اس آیت شریفہ میں عرب کی اس عادت کو یاددلایا ہے۔ اور فرمایا کہ تم قرابت داری کے حقوق ضائع کرنے سے ڈرو۔ آپس میں ایک دوسرے کو رحم کا واسطہ دے کر جو سوال کرتے ہو اس واسطہ کی لاج رکھو اور آپس کے حقوق ضائع نہ کرو۔ صلہ رحمی کی شریعت اسلامیہ میں بھی بہت اہمیت ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جسے پسند ہو کہ اس کا رزق زیادہ کردیا جائے اور اس کی عمر بڑھا دی جائے تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔ (رواہ البخاری صفحہ 885: ج 1) اپنے قرابت داروں سے ملنا جلنا اور شریعت کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے آنا جانا، لینا دینا یہ سب صلہ رحمی میں شامل ہے۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس قوم میں کوئی بھی شخص قطع رحمی کرنے والا ہو ان پر رحمت نازل نہیں ہوتی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 420: ج 2) ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا (ایضاء) سنن ابو داؤد میں ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے لفظ رحم کو اپنے نام سے نکالا ہے جو شخص صلہ رحمی کرے گا میں اسے اپنے سے ملا لوں گا۔ اور جو شخص قطع رحمی کرے گا میں اسے اپنے سے کاٹ دوں گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 420: ج 2) آج کل قطع رحمی کا گناہ بہت عام ہے جو لوگ دینداری کے مدعی ہیں نمازوں کے پابند ہیں تہجد گزار ہیں وہ بھی اس گناہ میں مبتلا رہتے ہیں۔ کسی کا بہن کے گھر آنا جانا نہیں، کوئی بھائی سے روٹھا ہوا ہے۔ کوئی چچا سے ناراض ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے ماں باپ سے ہی تعلقات صحیح نہیں۔ لوگوں کا مزاج یہ بن گیا ہے کہ غیروں کے ساتھ گزارہ کرسکتے ہیں اچھے تعلقات رکھ سکتے ہیں مگر اپنوں کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتے معمولی سی باتوں کی وجہ سے قطع تعلق کر بیٹھتے ہیں۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ آپس کے تعلقات درست رکھے جائیں ایک دوسرے سے جو قصور اور کوتاہی ہوجائے اس سے درگزر کرتے رہیں اور صلہ رحمی کی فضیلت اور دنیاوی و آخروی منفعت کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور آپ کا دست مبارک پکڑ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے فضیلت والے اعمال بتا دیجیے آپ نے فرمایا یَا عُقْبَۃُ صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاَعْطِ مَنْ حَرَمَکَ وَ اَعْرِضْ عَنْ مَّنْ ظَلَمَکَ (کہ اے عقبہ ! جو شخص تمہارے ساتھ قطعی رحمی کا معاملہ کرے اس سے تعلقات جوڑے رکھو اور جو تمہیں نہ دے اسے دیتے رہو اور جو شخص تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرتے رہو یعنی اس کے ظلم کی طرف دھیان نہ دو ) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے یوں فرمایا : ” وَاعْفُ عَنْ مَّنْ ظَلَمَکَ “ (جو شخص تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو ) ۔ (الترغیب و الترہیب صفحہ 342: ج 3) جو شخص یوں کہتا ہے کہ رشتہ دار میرے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو میں بھی کروں گا ایسا شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں وہ تو بدلہ اتارنے والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت سرور دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تعلق جوڑنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ اتار دے بلکہ تعلق جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی کا برتاؤ کیا جائے تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری صفحہ 886: ج 2) حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ صلہ رحمی کرے اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔ (صحیح بخاری صفحہ 889: ج 2) اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے : پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر نگران ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ کو تمہارے سب اعمال کی خبر ہے۔ تمہارا کوئی عمل خیر یا شر اس کے علم سے باہر نہیں۔ وہ اعمال کے بدلے پورے پورے دیدے گا اس میں تقویٰ کے مضمون کو دوسرے الفاظ میں دہرا دیا ہے۔ جو ذات پاک خالق اور مالک ہے جسے ہر عمل کا علم ہے جو خلوتوں اور جلوتوں کے تمام اعمال کو جانتا ہے اس سے ڈرنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور دیدو یتیموں کو ان کے مال اور مت بدلو خبیث مال کو اچھے مال سے، اور مت کھاؤ ان کے مالوں کو اپنے مالوں میں ملا کر، بیشک ایسا کرنا بڑا گناہ ہے۔

اموال یتامیٰ کے بارے میں تین حکم : پھر یتیموں کے اولیاء کو حکم دیا کہ تم ان کے مال ان کودے دو اچھے مال کو برے مال سے تبدیل نہ کرو۔ اور اپنے مال ان کے مالوں میں ملا کر نہ کھا جاؤ اس میں تین باتوں کا حکم فرمایا ہے۔ یتامیٰ کے اموال دے دو : اول یہ کہ جو یتیم بچے تمہاری پرورش میں ہیں ان کے مال جو انہیں میراث میں ملے ہیں یا کسی نے انہیں ہبہ کردیئے ان کے بالغ ہونے تک ان کے مالوں کو محفوظ رکھو اور بقدر ضرورت ان کے مالوں میں سے ان پر خرچ کرتے رہو۔ پھر جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کے مال ان کے سپرد کر دو ۔ ایسا نہ کرو کہ جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کا مال بلا وجہ اپنی تحویل میں رکھے رہو اور ان کو دینے سے منع کر دو ۔ اسباب النزول صفحہ 136 میں ہے کہ یہ آیت بنی غطفان کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی اس کی پرورش میں ایک یتیم بچہ تھا جو اس کے بھائی کا لڑکا تھا۔ جب یتیم بالغ ہوگیا تو اس نے اپنا مال طلب کیا۔ چچا نے اس کا مال سپرد کرنے سے انکار کردیا اس پر دونوں چچا بھتیجے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جس پر یہ آیت نازل ہوئی چچا نے جب یہ آیت سنی تو کہا کہ ہم اللہ و رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور بڑے گناہ سے پناہ مانگتے ہیں یہ کہا اور یتیم کا مال اس کے حوالے کردیا۔ یتامیٰ کے اچھے مال کو برے مال سے تبدیل نہ کرو : دوم یہ فرمایا کہ برے مال کو اچھے مال سے تبدیل نہ کرو اس کا مطلب یہ ہے کہ یتیم بچے جو تمہاری پرورش اور نگرانی میں ہیں جن کا مال تمہارے قبضہ میں ہے ان کے اچھے مال کو خود اپنے حصے میں اور اپنے گھٹیا مال کو اس کے عوض اس کے حساب میں لگا کر حساب پورا نہ کر دو ۔ اپنی اولاد کی خاطر لوگ یتیم کے ساتھ ایسا معاملہ کرتے ہیں کہ اچھی جائداد اور اچھا مال جو یتیموں کی ملکیت ہو اسے اپنا بنا کر اپنے نام رجسٹری کر وا لیتے ہیں اور یتیم بچوں کو گھٹیا مال دے دیتے ہیں۔ اور بعض مفسرین نے (وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بالطَّیِّبِ ) کا یہ معنی بھی بتایا ہے کہ اپنے حلال مال کو چھوڑ کر یتیموں کا مال نہ کھا جاؤ جن کا کھانا تمہارے لیے حرام ہے۔ اگر ایسا کرو گے تو طیب کو چھوڑ کر خیانت کرکے دوسرے کا مال کھانے والے بن جاؤ گے۔ اور یہ مال چونکہ تمہارے لیے حرام ہوگا اس لیے خبیث ہوگا، یہ معنی بھی لفظ قرآنی سے بعید نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب اپنا گھٹیا مال یتیم کے حصہ میں لگا کر اس کا اچھا مال لینا حرام ہے تو یہ تو بدرجہ اولیٰ حرام ہوگا کہ ان کا مال بالکل ہی بلا بدل کے کھالیا جائے۔ یتامیٰ کے مال کو اپنے مال میں ملا کر نہ کھا جاؤ : سوم : یہ ارشاد فرمایا کہ (وَ لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ الآی اَمْوَالِکُمْ ) (اور یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ) یتیم بچے جن لوگوں کی پرورش میں ہوتے ہیں ان میں جن کا مزاج خیانت والا ہوتا ہے ایسے لوگ مختلف طریقوں اور تدبیروں سے یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں میں ملا کر کھا جاتے ہیں کچھ لوگ تو غفلت اور بےدھیانی میں ایسا گزرتے ہیں کہ گھر کی مشترکہ ضرورتوں میں مال خرچ کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یتیم بچے پر اس کے اپنے ذاتی مال میں سے کتنا خرچ ہوا اور اس کے مال میں سے مشترکہ ضروریات میں دوسروں پر کتنا خرچ ہوا ہے ؟ اور کچھ لوگ قصداً وارادۃً ایسا کرتے ہیں کہ یتیم بچوں کے بالغ ہونے سے پہلے ہی ان کے مال کو کسی نہ کسی طرح اپنے نام میں یا اپنی اولاد کے نام میں لکھوا دیتے ہیں پھر جب وہ بالغ ہوجاتا ہے تو اسے اپنے مال میں سے ذرا بہت ملتا ہے یا بالکل ہی محروم ہوجاتا ہے۔ فائدہ : یتیم بچوں کا کھانا اپنے کھانے میں ملا کر پکانے کے بارے میں ضروری ہدایت سورة بقرہ کی آیت (وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی) کی تفسیر میں گزر چکی ہے وہاں ملا حظہ کرلی جائے۔ آخر میں فرمایا (اِنَّہٗ کَانَ حُوْبًا کَبِیْرًا) (یعنی یتیم کے مال میں خیانت کرنا بڑا گناہ ہے) ہر امانت داری کی خلاف ورزی گناہ ہے لیکن یہاں مستقل طریقہ پر یتیم کے مال میں خیانت کرنے پر تنبیہ فرمائی اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ گناہ ہے بلکہ یہ فرمایا کہ بڑا گناہ ہے جو لوگ یتیموں کے مالوں کے محافظ و متولی ہیں پوری آیت کو بار بار پڑھیں۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تم کو ڈر ہو کہ یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرلو جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو، تین تین، چار چار سو اگر تم کو ڈر ہو کہ انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی عورت سے نکاح کرلو، یا ان لونڈیوں پر بس کرو جو تمہاری ملکیت ہوں۔ یہ اس سے قریب تر ہے کہ تم زیادتی نہ کرو

یتیم بچیوں کے نکاح کرنے کے بارے میں ہدایت آیت کا مضمون سمجھنے سے پہلے سبب نزول ذہن نشین کرلینا چاہیے تفسیر درمنثور صفحہ 118: ج 2 میں بخاری وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اے میری بہن کے بیٹے اس آیت میں ایسی یتیم بچیوں کا ذکر ہے جن کا باپ فوت ہوجاتا تھا اور جو مال میراث میں ملتا وہ اس بچی اور اس کے ولی کا مال مشترک ہوتا تھا جسے تقسیم کرنا لازم تھا۔ اب ہوتا یہ تھا کہ جو شخص اس یتیم بچی کا ولی (سر پرست) ہوتا تھا وہ اس کے مال میں یا جمال میں رغبت رکھنے کی وجہ سے اس سے نکاح کرلیتا تھا لیکن بچی چونکہ اپنے ہی گھر میں اپنی ہی پرورش میں ہے اس لیے اس کا مہر جس قدر ہونا چاہیے اتنا مقرر نہیں کرتے تھے۔ دوسری جگہ سے جو مہر ملتا اس سے کم مقرر کیا جاتا تھا۔ لہٰذا اس بات سے منع فرما دیا گیا کہ ان لڑکیوں سے نکاح کریں اور پورا مہر نہ دیں، بلکہ حکم یہ فرمایا کہ ان لڑکیوں کو پورا حق مہر دو جتنا زیادہ سے زیادہ ان کو دوسری جگہ سے مل سکتا تھا۔ (راجع صحیح البخاری صفحہ 772: ج 2) اور یہ بھی حکم فرمایا کہ اگر ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو ان کے علاوہ اپنی پسند کی دوسری عورتوں سے نکاح کرلیں۔ دوسری عورتوں سے نکاح کریں گے تو چونکہ وہ خود سوچ سمجھ والی ہوں گی اور پہلے سے ان پر قابو نہ ہوگا تو حسب منشا جتنا مہر چاہیں گی مقرر کرا لیں گی کیونکہ ان پر کوئی دباؤ نہ ہوگا، اگر کوئی شخص یتیم لڑکی ہی سے نکاح کرنا چاہے اور مہر اس کو پورا پورا دے تو یہ بھی درست ہے اسی لیے (وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا) فرمایا، نیز تفسیر درمنثور میں بحوالہ ابن جریر وغیرہ حضرت عائشہ ؓ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص کی سرپرستی میں کوئی یتیم لڑکی ہے اور وہ مالدار بھی ہے تو جس کی سر پرستی میں ہے وہ اس سے مال کی وجہ سے نکاح کرلیتا تھا لیکن چونکہ طبعی طور پر اسے پسند نہ تھی اس لیے اس کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتا تھا لہٰذا اس بارے میں نصیحت فرمائی۔ سبب نزول کے جاننے سے معلوم ہوا کہ یتیم لڑکیاں جو صاحب مال ہوتی تھیں ان سے نکاح تو کرلیتے تھے لیکن ان سے سلوک اچھا نہ رکھتے تھے اور ان کو مہر بھی اتنا نہ دیتے تھے۔ جتنا ان کو اور جگہ سے مل سکتا تھا۔ لہٰذا ان کو حکم دیا کہ اگر تمہیں یہ ڈرہو کہ یتیم بچیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو دوسری عورتوں سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند ہوں۔ چار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت اور عدل کرنے کا حکم : اور ساتھ ہی ساتھ عورتوں کی تعداد کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا کہ جو عورتیں پسند ہوں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرسکتے ہو اور اگر یہ ڈر ہو کہ ان میں انصاف نہ کرسکو گے تو دوسری عورتوں سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند ہوں۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اول تو ہر شخص کو بیک وقت دو یا تین یا چار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ جو تمہیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرلو ایک سے زائد نکاح کرنا جائز ہے۔ فرض اور واجب نہیں ہے اور جائز بھی اس شرط پر ہے کہ جتنی بیویاں ہوں ان سب کے درمیان عدل و انصاف رکھے۔ قلبی تعلق پر تو مواخذہ (گرفت) نہیں ہے کہ یہ اختیاری چیز نہیں۔ البتہ اختیاری چیز میں عدل نہ کیا تو گرفت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے پاس دو عورتیں ہوں اور وہ ان دونوں عورتوں کے درمیان عدل یعنی برابری نہ کرتا ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہوا ہوگا، جتنی راتیں ایک کے پاس رہے اتنی ہی راتیں دوسری کے پاس رہے تقسیم جس طرح چاہے کرے اس کے اختیار میں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح : صفحہ 279: از ترمذی وغیرہ) بہت سے لوگ پیسہ زیادہ ہونے کی وجہ سے یا خواہ مخواہ شوق میں آکر پہلی بیوی پرانی ہوجانے کی وجہ سے یا نئی بیوی کے مالدار ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کرلیتے ہیں۔ لیکن پھر برابری نہیں کرتے اور کسی ایک کے ساتھ ظلم و زیادتی بھی کرتے رہتے ہیں یہ شرعاً حرام ہے۔ اگر کسی کو برابری پر قدرت نہ ہو تو ایک ہی بیوی رکھے تاکہ ظلم و زیادتی سے محفوظ رہے۔ فائدہ : شریعت اسلامیہ میں بیک وقت صرف چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت ہے مگر مذکورہ بالا شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ دوسری قوموں میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں ان کے یہاں یہ جائز ہے کہ بہت سی دوستانیاں (گرل فرینڈز) رکھ لے۔ زنا کاری کرنا ان کے نزدیک کچھ عیب کی بات نہیں ہے البتہ نکاح کر کے ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا اور حلال طریقہ سے زندگی گزارنا ان کے نزدیک عیب ہے۔ اسلام پر جو بعض جاہلوں کے اعتراضات ہیں ان میں سے ایک یہ اعتراض بھی ہے کہ اسلام میں تعدد ازواج کی اجازت ہے۔ یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اول تو چار تک کی اجازت ہے واجب نہیں۔ دوسرے دنیاوی احوال کے اعتبار سے اس اجازت کی ضرورت ہے اول تو اس میں نسل بڑھانے کا فائدہ ہے اور دوسرا عظیم فائدہ یہ ہے کہ جب کسی وجہ سے مردوں کی قلت ہوجائے (جیسا کہ جہاد کے مواقع میں مرد شہید ہوجاتے ہیں) تو عورتیں بیوہ ہوجائیں۔ تحفظ آبرو کے ساتھ ان کے اخراجات کا انتظام ہوجائے۔ پھر جب عورتوں کی کثرت ہو اور مردوں کی کمی ہو (جیسا کہ اس کا دور شروع ہوچکا ہے) تو عورتوں کی عفت و عصمت اور شریفانہ معیشت کا انتظام اسی میں ہے کہ مرد ایک سے زیادہ نکاح کریں۔ جو لوگ گہرائیوں میں نہیں جاتے۔ حکمتوں کو نہیں سمجھتے انہوں نے اپنے ذمہ صرف اعتراض کرنا ہی لے رکھا ہے جب اجازت اور اباحت کو عدل و انصاف کے ساتھ مشروط و مقید کردیا گیا تو پھر کسی عقلمند کے لیے کسی طرح بھی اعتراض کی گنجائش نہیں رہتی۔ پھر آیت کے خاتمے پر فرمایا : (ذٰلِکَ اَدْنآی اَلَّا تَعُوْلُوْا) (یہ اس سے قریب تر ہے کہ تم زیادتی نہ کرو) یعنی نکاح کے بارے میں جو تفصیل اوپر بیان کی گئی ہے اس کے مطابق عمل کرو گے تو ظلم و زیادتی سے محفوظ رہ سکتے ہو مذکورہ ہدایت پر عمل کرنا ظلم سے بچانے کے لیے بہت زیادہ قریب تر ہے۔ فائدہ : بیک وقت چار عورتوں تک سے نکاح کرنے کی اجازت ہے لیکن اس میں شرطیں ہیں ہر عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا، مثلاً جو عورت کسی مرد کی عدت میں ہو اس سے نکاح نہیں ہوسکتا، دو بہنیں ایک مرد کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں اور جن عورتوں سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے ان سے کبھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ جس کی تفصیل اس سورت کے چوتھے رکوع میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اگر کوئی شخص بیک وقت چار عورتیں نکاح میں ہوتے ہوئے پانچویں عورت سے نکاح کرے گا تو یہ نکاح شرعی نہ ہوگا اور یہ عورت اس کی شرعی بیوی نہ بن سکے گی زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ بغیر کسی قانون کے بہت سی عورتوں سے نکاح کرلیا کرتے تھے۔ اسلام میں صرف چار تک کی اجازت دی گئی اور عدل و انصاف کی قید لگا دی گئی۔ غیلان بن سلمہ ثقفی ؓ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے پاس دس عورتیں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار کو رکھ لو اور باقی کو چھوڑ دو ۔ (رواہ ابن ماجہ فی کتاب الطلاق) باندیوں سے جماع کرنے کی اجازت : پھر فرمایا (اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ) یعنی انصاف پر قائم نہ رہ سکنے کی صورت میں ایک بیوی پر اکتفا کرو۔ یا پھر ان باندیوں سے گزارہ کرو جو تمہاری ملکیت میں ہیں جو باندی ہو اس سے بھی بحق ملکیت جماع کرنا جائز ہے لیکن ان کے حقوق بیوی والے حقوق نہیں ہیں اگر کئی باندیاں ہوں تو ان سے جماع کرنا تو جائز ہے لیکن چونکہ جماع کا حق نہیں اس لیے ان کے درمیان راتیں تقسیم کرنا بھی لازم نہیں ہے۔ البتہ بسبب ملکیت ان کے کھلانے پلانے اور پہنانے کے جو حقوق ہیں وہ اپنی جگہ پر واجب ہیں۔ جو کافر عورتیں قید میں آجاتی تھیں ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیا جاتا تھا لہٰذا وہ ان کی ملکیت ہوجاتی تھیں اور ان سے گھر بار کی خدمت لینے کے علاوہ جماع کرنا بھی جائز تھا۔ اس کے جائز ہونے کی بھی کچھ شرطیں ہیں۔ جو کتب فقہ میں لکھی گئی ہیں۔ باندی سے جو اولاد ہوجاتی تھی وہ ثابت النسب ہوتی تھی اور وہ اولاد آزاد ہوتی تھی اور جس باندی سے اولاد پیدا ہوتی وہ باندی آقا کی موت کے بعد آزاد ہوجاتی تھی۔ تفصیلی احکام کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ کافر قیدیوں کو غلام باندی بنانے میں حکمت : جب مسلمان جہاد کرتے تھے تو جن کافروں کو قید کرلیا جاتا تھا ان میں مرد بھی ہوتے تھے اور عورتیں بھی۔ امیر المؤمنین کو اختیار تھا کہ ان کو جہاد کرنے والوں میں تقسیم کردے جب ان مجاہدین میں قیدی تقسیم ہوجاتے تھے تو ان کی ملکیت میں آجاتے تھے اس لیے ان کا بیچنا، فروخت کرنا جائز تھا اور یہ غلامی کفر کی سزا ہے اور اس میں ان غلاموں کا یہ نفع ہے کہ دار الاسلام میں رہیں گے تو مسلمانوں کے اسلامی معاشرہ سے مانوس ہوں گے اذانیں سنیں گے، نمازیں دیکھیں گے، اور اسلام قبول کریں گے، اور آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جائیں گے اور حکومت اسلامیہ کا یہ نفع ہے کہ جب ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیا تو ان کی قوت بھی ٹوٹ گئی جس سے بغاوت کا اندیشہ تھا اور بیت المال پر ان قیدیوں کو کھلانے پلانے کا بار بھی نہ پڑا، اگر ان کو جیل میں رکھتے تو بغاوت کا بھی خطرہ تھا۔ آپس میں مشورہ کرتے رہتے اور دار الحرب سے تعلقات پید کرکے دار الاسلام میں فساد کا باعث بن جاتے اور بیت المال کو روزانہ ان لوگوں پر بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی۔ دوسری طرف مجاہدین کو نفع ہوا ان کو کام کاج کرنے والے افراد مل گئے اور چونکہ یہ لوگ اپنے مالکوں کا کام کریں گے اس لیے ان کو کھلانا پلانا بھی ناگوار نہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ جو غلام تمہارے احوال کے مناسب اور موافق ہو اسے اسی میں سے کھلاؤ جس میں سے تم کھاتے ہو اور اسی میں سے پہناؤ جس میں سے تم پہنتے ہو اور جو تمہارے احوال کے مناسب نہ ہو اس کو بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو ، (رواہ احمد و ابوداؤد کمافی المشکوٰۃ صفحہ 292) مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے احوال کے موافق اور مناسب نہ ہوگا تو خواہ مخواہ اس کی مار پیٹ کی طرف بھی طبیعت چلے گی اور کھلانے پلانے میں بھی کوتاہی ہوگی اسے بیچ دو گے تو انشاء اللہ تعالیٰ دوسری جگہ اس کے حال کے مناسب مل جائے گی جب غلام اسی کھانے میں سے کھائے گا جو گھر والوں کے لیے پکایا گیا اور اسی کپڑے میں سے پہنے گا جو دوسرے گھر والے پہنتے ہیں اور اس کے علاوہ روا داری، دلداری اور حسن معاشرت کے مظاہرے اس کے سامنے آئیں گے تو حسن و خوبی کے برتاؤ کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو اجنبی محسوس نہ کرے گا اور رفتہ رفتہ اسلام قبول کرنے کے قریب تر آجائے گا۔ اسلام کی تاریخ میں بڑے بڑے محدثین ایسے حضرات گزرے ہیں جو غلام تھے۔ یا باندیوں کی اولاد تھے۔ حدیث کی کتابوں میں غلاموں کے ساتھ حسن معاشرت کے ساتھ گزارہ کرنے اور ان کے حقوق کی نگہداشت کرنے کے بارے میں مفصل ہدایات موجود ہیں۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں بار بار یہ فرمایا الصَّلٰوۃُ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (کہ تم نماز کا دھیان رکھنا اور جو تمہارے غلام اور باندیاں ہو ان کے حقوق کی نگہداشت کرنا) (رواہ احمد صفحہ 817: ج 3) یہ ہے وہ غلامی جسے یورپ کے متعصب جاہلوں نے اعتراضات کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ فائدہ : غلام اور باندیوں کے جو احکام بیان ہوئے یہ سب اب بھی مشروع ہیں، کوئی بھی حکم منسوخ نہیں ہے لیکن اس دور میں مسلمان غلام اور باندیوں سے اس لیے محروم ہیں کہ اول تو اللہ کے لیے جہاد نہیں کرتے اور جو کوئی جنگ ہوتی ہے وہ دشمن کے اشارہ سے ہوتی ہے اور دشمن ہی کے اشارہ سے بند کردی جاتی ہے۔ پھر دشمنوں نے مسلم حکومتوں کو ایسے معاہدوں میں جکڑ رکھا ہے جن کی وجہ سے وہ قیدیوں کو غلام اور باندیاں نہیں بنا سکتے، غلام اور باندیاں جو بہت بڑی نعمت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دی تھی کہ گھر گھر ان کے باندیاں اور غلام ہوں ان سب سے یکسر محروم ہوگئے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دشمنوں کے پنجے سے چھڑائے اپنے دین پر چلائے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور اصول شریعت کے مطابق جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ نوکرانیاں باندیاں نہیں ہیں ان سے جماع کرنا حرام ہے اور آزاد لڑکے اور لڑکی کو فروخت کرنا بھی حرام ہے وہ باندیاں جن سے جماع کرنا جائز ہے وہ یہ قیدی ہیں جو جہاد کے موقع پر لائے گئے ہوں اور جنہیں امیر المؤمنین نے مجاہدین میں تقسیم کردیا ہو۔ اس کے سوا ابتداءً کسی مرد یا عورت کو غلام باندی بنانے کا کوئی راستہ نہیں۔ گھروں میں جو نوکرانیاں رکھ لیتے ہیں، یہ باندیاں نہیں ہیں ان سے پردہ بھی واجب ہے اور ان سے جماع کرنا بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح دوسری عورتوں سے حرام ہے۔ ان عورتوں سے جماع کرنا سراپا زنا کاری ہے اس کو خوب سمجھ لیاجائے، اگر کسی لڑکی کے ماں باپ لڑکی فروخت کردیں یا کہیں سے اغوا کر کے کوئی لا کر بیچ دے یا کوئی عورت خود سے کہہ دے کہ میں باندی بن کر رہوں گی اس طرح سے وہ شرعی باندی نہ بنے گی اور اس سے جو جماع کیا جائے گا وہ زنا ہوگا۔ کیسی عورتوں سے نکاح کیا جائے : (فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ ) میں لفظ طاب فرمایا ہے یہ خوبی بہتری اور عمدگی کے معنی میں آتا ہے اس کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ جو عورتیں تمہیں پسند ہوں اس سے نکاح کرلو۔ پسند آنے کے اسباب میں حسن و جمال بھی ہے۔ مال بھی ہے اور دین داری بھی ہے۔ خوش خلقی بھی ہے اور بہت سے اوصاف ہیں جو عورتوں میں ہوتے ہیں۔ آیت کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ خوبی والی عورتیں تلاش کرنا غلط کام نہیں ہے بلکہ اس کی اجازت ہے اگر حسن و جمال کو دیکھا جائے تو یہ بھی جائز ہے البتہ دیندار کو ترجیح دینی چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار چیزوں کی وجہ سے عورت سے نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اس کے صاحب مرتبہ ہونے کی وجہ سے (شخصی حیثیت کی وجہ سے) اس کے جمال کی وجہ سے، اس کے دین کی وجہ سے، پس اے مخاطب تو دین والی کو حاصل کر کے کامیاب ہوجا، اللہ تیرا بھلا کرے۔ (رواہ مسلم صفحہ 473: ج 1) اچھی بیوی کی صفات : ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا ساری کی ساری نفع کی چیز ہے اور دنیا کے منافع میں سب سے بہتر چیز نیک عورت ہے (رواہ مسلم صفحہ 475: ج 1) حضرت ابو ہریرۃ ؓ آنحضرت سرور عالم ﷺ کا یہ ارشاد بھی نقل فرماتے ہیں کہ بہتر عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہیں (عرب عورتیں) قریش کی وہ عورتیں ہیں جو بچوں پر بہت زیادہ شفیق ہوتی ہیں اور شوہر کے مال کی بہت زیادہ حفاظت کرتی ہیں (رواہ البخاری صفحہ 760: ج 2) حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تقویٰ کے بعد جو چیزیں بندہ کو حاصل ہوں ان میں نیک بیوی سے بڑھ کر کوئی بہترین نعمت نہیں۔ پھر نیک بیوی کے اوصاف بیان فرمائے۔ (1) اگر اسے حکم دے تو فرمانبر داری کرے۔ (2) اور اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کرے۔ (3) اور شوہر کوئی قسم کھائے (جو عورت کے عمل کرنے سے متعلق ہو مثلاً یوں کہے کہ تم فلاں کام ضرور ضرور کرو گی) تو اس کی قسم پوری کرے۔ (4) اور اگر شوہر کہیں چلا جائے تو اپنی جان اور شوہر کے مال میں خیر خواہی کرے۔ (رواہ ابن ماجہ صفحہ 132) جس طرح عورتوں میں دینداری کو دیکھ کر نکاح کرنے کو ترجیح دینی چاہیے اسی طرح لڑکیوں کے لیے مرد بھی نیک دیکھنے چاہیں۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص پیغام بھیجے جس کی دینی اور اخلاقی حالت تمہیں پسند ہو تو اس سے نکاح کر دو ۔ اگر ایسا نہ کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ ہوگا اور (لمبا) چھوڑا فساد ہوگا۔ (رواہ الترمذی صفحہ 207: فی ابواب النکاح) نکاح کرنا شرعی ضرورت ہے : نکاح انسان کی ضروریات میں سے ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مرد میں عورت کی اور عورت میں مرد کی خواہش رکھی ہے۔ یہ خواہش فطری اور طبعی ہے نفس اور نظر کو پاک رکھنے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔ سنن ترمذی (اول کتاب النکاح) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں پیغمبروں کے طریقے میں سے ہیں۔ (1) حیاء (2) خوشبولگانا (3) مسواک کرنا (4) نکاح کرنا۔ نکاح کے بغیر رہنا کوئی کمال اور دینداری کی بات نہیں ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اے جوانو ! تم میں سے جسے نکاح کرنے پر قدرت ہو نکاح کرلے، کیونکہ وہ نظر کو پست رکھنے والا ہے اور شرم کی جگہ کو پاک رکھنے والا ہے، اور جسے نکاح کی قدرت نہ ہو وہ روزے رکھے کیونکہ اس سے شہوت دب جائے گی۔ (رواہ البخاری صفحہ 758: ج 2) قوت مردانہ زائل کرنے کی ممانعت : اگر نکاح کرنے کا موقع نہ لگے تو قوت مردانہ ختم کرنے کی اجازت نہیں البتہ عارضی طور پر اور بقدر ضرورت روزے رکھ کر شہوت کو دبا لے بعض صحابہ ؓ نے خصی ہونے اور قوت مردانہ زائل کرنے کی اجازت مانگی تو آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا لَیْسَ مِنَّا مَنْ خَصٰی وَلاَ اخْتَصٰی اِنَّ خَصَاءَ اُمَّتِیْ الصِّیَام یعنی وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی کو خصی کرے یا خود خصی ہو بلاشبہ میری امت کا خصی ہونا یہ ہے کہ روزے رکھا کریں۔ (رواہ فی شرح السنہ کمافی مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 69) نکاح کرنے میں دینی، دنیاوی بہت سے منافع ہیں مرد کو سکون کی جگہ مل جاتی ہے، کام کاج کر کے تھکا ماندہ آکر آرام کا ٹھکانہ پکڑ لیتا ہے جسے سورت اعراف میں (لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا) سے تعبیر فرمایا اور عورت کو بھی اخراجات کی طرف سے اطمینان ہوجاتا ہے اسے کمانا نہیں پڑتا پردہ میں محفوظ رہتی ہے مرد و عورت دونوں کی حیثیت اور شخصیت بن جاتی ہے گھر بار والے آل اولاد والے کہلاتے ہیں پھر جو اولاد ہوتی ہے اس سے دل خوش ہوتا ہے بچوں کو کھلانے پلانے پہنانے سے مسرت کی لہریں دوڑ جاتی ہیں اور اس اولاد کو جب دین اور علم دین پر ڈالا جائے تو آخرت میں بھی رفع درجات کا ذریعہ بن جاتی ہے، اسلام کے احکام فطرت انسانیہ کے موافق ہیں۔ انسانی خواہشوں کو اسلام نے ختم نہیں فرمایا بلکہ ان کی حدود مقرر فرما دی ہیں اور متعلقہ احکام کی تعلیم دے کر ان کا پابند بنا دیا ہے۔
Ayahs 4:4–5

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور تم عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کر دو ، سو اگر وہ تمہارے لیے اس میں سے نفس کی خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو اس سے مبارک طور پر خوشگواری کے ساتھ کھالو۔

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور بیوقوفوں کو اپنے مال مت دو جن کو اللہ نے تمہارے لیے زندگی گزارنے کا ذریعہ بنایا ہے اور ان مالوں سے ان کو کھانے پینے کے لیے دے دو اور ان کو کپڑے پہنا دو ، اور ان سے بھلی با ت کہہ دو ،

عورتوں کے مہر ادا کرنے کا حکم شریعت مطہرہ میں عورت کی ایک حیثیت ہے جب کوئی مرد اس سے نکاح کرے تو اس کا مہر مقرر کرے اور جس قدر مہر پر وہ راضی ہو اتنے مہر پر نکاح ہوگا، مہر کی مقدار مقرر کرنے کے لیے اس پر زبردستی نہیں کی جاسکتی پھر جب مہر مقرر کردیا تو اس کا ادا کرنا فرض ہے، اور مرد جب تک مہر ادا نہ کرے بیوی کا قرض دار رہے گا اگر عورت پورا مہر یا کچھ حصہ معاف کر دے یا کچھ حصہ لینے کے بعد واپس کر دے تو اس کو رکھ لینا جائز ہے البتہ اس میں ایک شرط لازم ہے اور وہ یہ کہ عورت نے جو کچھ دیا ہو یا معاف کیا ہو وہ اس نے طیب نفس کے ساتھ دیاہو، طیب نفس کا معنی یہ ہے کہ اچھی طرح خوب خوشی سے دل کی گہرائی سے دے دے یا معاف کر دے اگر زبردستی معاف کروا لیا یا لکھوا لیا یا دھوکہ دے کر دستخط کرا لیے یا انگوٹھا لگوا لیا تو خواہ اس کی وجہ سے دنیاوی عدالتوں میں دعویٰ نہ کرسکے لیکن اس کا حق باقی رہے گا۔ اور آخرت میں ادا کرنا ہوگا۔ وہ معافی معتبر ہے جو طیب نفس سے ہو : قرآن مجید میں مہر چھوڑنے کو جو طیب نفس کے ساتھ مشروط کیا ہے اس میں یہ بتایا ہے کہ جب تک سچ مچ اندر کے جذبات سے بلا دباؤ اور بلا اکراہ معاف نہ کیا گیا ہو اس وقت تک معاف نہ سمجھا جائے، بغیر طیب نفس کے معاف سمجھ لینا غلط ہے۔ طیب نفس کا لفظ استعمال فرمایا طیب قلب نہیں فرمایا اس میں یہ نکتہ ہے کہ انسان جب سوچنے بیٹھتا ہے تو بہت کچھ سوچ کر فیصلہ کرتا ہے اس سوچ بچار میں آئندہ حالات کے پیش نظر نفع نقصان کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ رشوت دینے والے سوچ سمجھ کر جان بوجھ کر رشوت دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بیس روپے دیں گے تو سو روپے بچیں گے یہ قلب (دل) کا اور دماغ کا کام ہے۔ لیکن نفس کبھی بھی اپنا حق چھوڑنے یا بےجگہ خرچ کرنے کو تیار نہ ہوگا۔ جب شوہر بیوی سے مہر معاف کرواتے ہیں تو اسے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اگر میں معاف نہ کروں تو کتنے نوٹوں کے گڈے میری ملکیت میں آئیں گے اور ان کے خرچ کرنے کے بارے میں مجھے پورا پورا اختیار ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب معاف کرانے لگتے ہیں تو وہ دور تک سوچتی ہے کہ میں نے اگر معاف نہ کیا تو شوہر کو ناگواری ہوگی۔ اور یہ ناراض ہوگیا تو کہاں جا کررہوں گی۔ ماں باپ کب تک سہارا دیں گے، بھائی ہمیشہ رکھ نہیں سکتے ایسی باتیں سوچ کر اور یہ سمجھ کر کہ ملتا تو ہے نہیں لاؤ معاف ہی کر دوں، لہٰذا اوپر کے دل سے معاف کردیتی ہیں۔ شرعاً بددلی کی معافی کا کوئی اعتبار نہیں، زبردستی یہ ہی نہیں ہے کہ کسی سے ڈنڈا مار کر چھین لیا جائے جو بھی چیز بددلی کے ساتھ لی جائے وہ لینے والے کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ آیت شریفہ میں مہر کی معافی یا بخشش کے بارے میں فرمایا کہ طیب نفس سے دے دیں تو کھالو اور حدیث شریف میں قاعدہ کلیہ کے طور پر یہ قانون بتادیا کہ الا لاَ تَظْلِمُوْا اَلاَ لاَ یَحِلَّ مَالُ امْرِی ءٍ الاَّ بِطِیْبِ نَفْسٍ مِّنْہُ (خبر دار ظلم نہ کرو۔ خبر دار کسی شخص کا مال حلال نہیں ہے مگر اس کے نفس کی خوشی کے ساتھ) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 255) بہت سے لوگ دوسرے کا مال لے لیتے ہیں وہ لحاظ میں یا کسی قسم کے دباؤ میں کچھ نہیں کہتا اور اندر سے تلملاتا رہ جاتا ہے اس کی خاموشی سے حلال سمجھ لینا غلط ہے اس طرح مال لے لینا حرام کھانے ہی کے درجہ میں ہے۔ بعض لوگ مذاق میں کسی کی چیز لے لیتے ہیں۔ پھر واپس نہیں کرتے اور جس کی چیز ہے وہ دل سے راضی نہیں ہوتا اس طرح سے کسی کا مال لے لینا حرام ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے لاَ یَآخُذْ اَحَدُ کُمْ عَصَا اَخِیْہِ لاَعِباً جَادًّا فَمَنْ اَخَذَ عَصَا اَخِیْہِ فَلْیَرُدِّہٗ اِلَیْہِ (تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی لاٹھی اس طرح سے نہ لے لے کہ (ظاہر میں) دل لگی ہو اور دل سے واقعی طور پر لینے کا ارادہ ہو جو شخص اپنے بھائی کی لاٹھی لے لے تو واپس کر دے (لاٹھی کو بطور مثال کے فرمایا چونکہ یہ معمولی چیز ہوتی ہے، ہر چھوٹی بڑی چیز کا یہی حکم ہے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 255) آخر میں یہ جو فرمایا (فَکُلُوْہُ ھَنِیْٓءًا مَّرِیْٓءًا) اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز خوش دلی سے دی جائے اس کا کھانا مبارک بھی ہوگا اور خوشگوار بھی ہوگا۔ دل میں فرحت بھی ہوگی اور خوبی کے ساتھ جسم و جان میں بھی لگے گا۔ برخلاف اس کے جو چیز کسی کو بددلی سے دی جائے وہ نہ مبارک ہوگی نہ خوشگوار ہوگی، اور نہ صحیح طور پر جسم و جان میں لگے گی۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور آزما لو تم یتیموں کو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل ہوجائیں سو اگر تم ان کی طرف سے سمجھداری محسوس کرو تو ان کے مال ان کو دے دو اور مت کھا جاؤ ان کے مالوں کو فضول خرچی کرتے ہوئے اور ان کے بڑے ہوجانے سے پہلے جلدی کرتے ہوئے اور تم میں سے جو شخص صاحب مال ہو وہ پرہیز کرے اور جو شخص تنگدست ہو سو وہ مناسب طریقہ پر کھالے سو جب تم دے دو ان کو ان کے مال تو اس پر گواہ بنا لو اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔

یتیم بچوں کے مالوں کے بارے میں چند ہدایات ان دونوں آیتوں میں متعدد احکام ذکر فرمائے ہیں اول یہ فرمایا کہ بیوقوفوں کو اپنے مال نہ دے دو ، بیوقوفوں سے یتیم مراد ہیں، اول یہ حکم فرمایا تھا کہ یتیموں کو ان کے مال دے دو جب وہ بالغ ہوجائیں اور یہاں یہ فرمایا کہ باوجود بالغ ہوجانے کے ان کا مال ان کو نہ دو ، اگر ان کے اندر ہوش مندی اور سمجھداری نہ پائی جائے بالغ ہو کر بھی ان میں بچپن کی بیوقوفی موجود ہو جس سے اندیشہ ہو کہ مال کو برباد کردیں گے تو ان کے مال ان کے سپرد نہ کرو بلکہ اپنی تحویل میں حفاظت سے رکھو اور ان کے کھانے پینے پہننے کے اخراجات میں خرچ کرتے رہو اور جب وہ دلگیر ہوں، برا مانیں کہ ہمارا مال ہمارے قبضہ میں نہیں آیا تو ان کو سمجھا دو کہ تمہاری مصلحت کے لیے میں نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے، ذرا اور بڑے ہوجاؤ تمہارا مال ہے تم ہی کو ملے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ اَمْوَالَھُمْ نہیں فرمایا بلکہ اَمْوَالَکُمُ فرمایا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یتیموں کے مالوں کو خورد برد کرنے اور اپنے اوپر خرچ کرنے کے بارے میں تو ان کے مال کو اپنا مال نہ سمجھو لیکن حفاظت سے رکھنے کے بارے میں ایسا سمجھو جیسے تمہارا ہی مال ہے ان کے مال کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرو، اور اس طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ تم میں سے جو کوئی شخص کسی یتیم کو مال ہبہ کرے تو اس مال کو بھی حفاظت سے رکھے اور ان کو اس وقت تک حوالہ نہ کرے جب تک کہ ان میں بالغ ہونے کے بعد ہوشمندی اور سمجھداری نہ دیکھ لے۔ نیز ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے وہ یہ کہ مال کو قیامًا سے تعبیر فرمایا کہ اس میں یہ بتایا کہ مال کے ذریعہ انسان کی زندگی اچھی طرح سے گزرتی ہے اور مال انسانی زندگی کے صحیح طریقے پر قائم رہنے اور انسانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا ذریعہ ہے، اللہ کسی کو حلال مال دے تو اس کی قدر کرے اپنی جان پر اہل و عیال پر خرچ کرے مال کو ضائع نہ کرے فضول خرچی میں نہ اڑا دے۔ مال ضائع کرنا ہنر اور کمال نہیں بلکہ حرام ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ نے تم پر حرام فرمایا ہے ماؤں کو تکلیف دینا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا (جیسے اہل عرب کرتے تھے) اور جس کا حق چاہیے اس کا حق روک دینا اور جس پر اپنا حق نہ ہو اس سے مانگنا اور اللہ نے اس کو پسند نہیں فرمایا کہ قیل وقال کی جائے، اور زیادہ سوال کیے جائیں اور مال ضائع کیا جائے۔ (رواہ البخاری صفحہ 324: ج 1) دوسرا حکم یہ دیا کہ آزما لو جب وہ بالغ ہوجائیں تو دیکھو ان کے اندر سمجھداری اور ہوشمندی ہے یا نہیں، اگر ان کا مال ان کے سپرد کردیا جائے تو حفاظت سے رکھتے ہوئے سلیقہ سے اچھے چلن کے ساتھ زندگی گزارنے کا ذریعہ بنا سکیں گے یا نہیں۔ بےجا خرچ کر کے مال کو برباد تو نہ کردیں گے، جب تم یہ محسوس کرلو کہ مال ضائع نہیں کریں گے خوبی سے خرچ کریں گے تو ان کے مال ان کو دے دو اس صورت میں بالغ ہوجانے کے بعد ان کے مال ان کے سپرد کرنے میں دیر نہ لگاؤ۔ تیسرا حکم یہ ارشاد فرمایا کہ یتیموں کے مالوں کو فضول خرچی کر کے نہ کھا جاؤ اور اس ڈر سے نہ اڑا دو کہ یہ بڑا ہوجائے گا تو اپنا مال مانگ لے گا اور ضابطہ کے مطابق اس کو دینا پڑے گا یہ سوچ کر اس کے بالغ ہونے سے پہلے ہی اپنی ذات یا اپنی اولاد پر یا احباب و اصحاب پر خرچ نہ کر ڈالو۔ چوتھا حکم یہ بیان فرمایا کہ جو اولیاء یتیموں کے مالوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ان میں جو لوگ صاحب حیثیت ہیں، وہ ان یتیموں کے مالوں میں سے نہ کھائیں اور جو لوگ محتاج و ضرورت مند ہوں وہ مناسب طریقے پر ان کے مال میں سے کھا سکتے ہیں، اس کے بارے میں علامہ آلوسی نے روح المعانی صفحہ 208: ج 4 میں تین قول لکھے ہیں اول یہ کہ پہلے ضرورت مند ولی کو یتیم کے مال سے کھانے کی اجازت تھی بعد میں آیت کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامٰی) (الآیۃ) (الآیۃ) نے اس کو منسوخ کردیا۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یتیم کا ولی جو تنگدست ہو بطور قرض بقدر ضرورت اس کے مال سے کھا سکتا ہے جب مال ہاتھ میں آجائے تو ادائیگی کر دے۔ یہ حضرت سعید بن جبیر اور حضرت مجاہد اور حضرت ابو العالیہ اور حضرت عبیدہ سلمانی اور حضرت باقر رحمہم اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ یتیم کا ولی جو ضرورت مند ہو اس کے مال کی نگرانی اور متعلقہ امور ضرور یہ کی مشغولیت کے عوض بطور اجرت اس میں سے کھا سکتا ہے، مگر یہ کھانا بالمعروف یعنی مناسب طریقہ پر ہو مثلاً ایک یتیم ہے اس کے باپ نے جائیداد چھوڑی ہے بہت دکانیں ہیں۔ مکان ہیں، کھیتیاں ہیں، باغات ہیں ان کی دیکھ بھال کرنے، کرائے وصول کرنے اور محکموں میں جانے، مزدوروں کسانوں کو تلاش کرنے میں کافی وقت صرف ہوتا ہے اس دوڑ دھوپ محنت و کوشش کے عوض وہ شخص کھا سکتا ہے جو ان کاموں میں لگا ہوا ہے اور یہ کھانا بھی بالمعروف یعنی مناسب طریقے پر ہو، اس میں یتیم کی ہمدردی کا پورا پورا لحاظ رہے مال اڑانے کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے، اس سے زیادہ نہ لے جتنا اور کسی شخص کو اس کی اجرت دینا گوارا ہوتا اور یہ بھی دیکھ لیں کہ ہم اپنے کام کے لیے کرتے تو کتنا خرچ ہوتا۔ ایسا نہ کریں کہ یتیم کے مال کی نگہداشت کرنے کے سلسلہ میں سفر میں جائیں تو بڑے بڑے ہوٹلوں میں ٹھہر کر بےتحاشا مال خرچ کردیں اور اپنی ضرورت سے اسی شہر میں جائیں تو معمولی سے کرائے کی جگہ لیں اور معمولی سا کھانا کھا کر گزار لیں۔ اصولی بات یہ ہے جو اپنے لیے پسند کریں وہی یتیم کے لیے پسند کریں۔ پانچواں حکم یہ ہے کہ جب یتیموں کو ان کے مال سپرد کرنے لگو تو گواہ بنا لیا کرو اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ بعد میں وہ یہ نہ کہہ سکیں گے ہم نے مال نہیں لیا، اور جتنا مال دیا ہوگا اس کی مقدار کا علم بھی رہے گا۔ اور کبھی کوئی بات مخالفت اور اعتراض کی پیش آگئی تو گواہوں کے ذریعہ فیصلہ ہو سکے گا۔ آخر میں فرمایا (وَ کَفٰی باللّٰہِ حَسِیْبًا) (اللہ تعالیٰ حساب لینے کے لیے کافی ہے) اس لفظ میں بہت جامعیت ہے جو بھی ولی یا وصی یتیم کے مال کی نگرانی کرے گا اور اس سلسلہ میں غلط طریقہ اختیار کرے گا مثلاً حساب غلط لکھے گا۔ کسی حاکم کو رشوت دے کر غلط فیصلہ کرائے گا، یا یتیم بالغ ہو کر مال لینے کے بعد وصول کرنے سے انکاری ہوجائے گا یا جتنا مال ملا ہے اس کی مقدار کم ظاہر کرے گا (غرض جس جانب سے بھی غبن یا خیانت ہو) تو وہ دنیا کی ظاہری کاغذی کاروائی کے ذریعہ مطمئن نہ ہوجائے اس کے پیش نظر رہے کہ یوم آخرت بھی سامنے ہے اللہ جل شانہٗ حساب لینے والا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے وہاں کے حساب میں صحیح اترنا چاہیے۔ فائدہ : آیت بالا میں جو یہ فرمایا (حَتّآی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ ) کہ یتیم بچے جب بالغ ہوجائیں تو سمجھداری محسوس ہونے پر ان کے مال ان کے حوالے کر دو اس میں بلوغ کا ذکر ہے۔ لڑکا بالغ جب ہوتا ہے جب احتلام ہوجائے یا انزال ہوجائے اور لڑکی اس وقت بالغ ہوتی ہے جب اسے حیض آجائے یا احتلام ہوجائے یا حاملہ ہوجائے اگر ان چیزوں میں سے کچھ نہ ہو تو لڑکا یا لڑکی جب بھی ہجری سال کے اعتبار سے پندرہ سال کا ہوجائے شرعاً بالغ سمجھا جائے گا۔ قول مفتی بہ یہی ہے۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

مردوں کے لیے اس مال میں سے حصہ ہے جو ان کے ماں باپ نے اور رشتہ داروں نے چھوڑا، اور عورتوں کے لیے اس مال میں سے حصہ ہے جو ان کے ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا، وہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے

میراث میں مردوں اور عورتوں کے حصے مقرر ہیں اس آیت شریفہ میں میراث جاری کرنے کی اہمیت بتائی ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مردوں اور عورتوں کے جو حصے مقرر ہیں ان کا دے دینا فرض ہے، مردوں کا بھی اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے متروکہ مالوں میں حصہ مقرر ہے، اور عورتوں کے لیے بھی اپنے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کے چھوڑے ہوئے اموال و املاک میں حصہ مقرر ہے، زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو مرنے والے کی میراث سے حصہ نہیں دیا کرتے تھے اور اب بھی بہت سی قوموں میں یہی رواج ہے، اول تو لوگ میراث تقسیم کرتے ہی نہیں جس کے قبضہ میں جو کچھ ہوتا ہے اس پر قبضہ جمائے بیٹھا رہتا ہے، اور اگر حصہ دینے بھی لگتے ہیں تو مرنے والوں کی بیویوں اور لڑکیوں کو حصہ نہیں دیتے۔ خاص کر جہاں دو بیویوں کی اولاد ہو ان میں جس بیوی کی اولاد کا قابو ہوگیا وہی سارا مال دبا لیتے ہیں شرعی طور پر حق دینے کا ذرا بھی خیال نہیں کیا جاتا۔ وارثین میں یتیم بچے ہوتے ہیں، ان کا مال بھی کھا جاتے ہیں، اور میراث کا جو شرعی نظام ہے اس پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، نماز پڑھنے کی حد تک تو مسلمان ہیں، تلاوت ذکر اذکار بھی خوب کرتے ہیں لیکن میراث جاری کرنا جو شریعت کا ایک لازمی حکم ہے اس کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ آیت بالا سے معلوم ہوا کہ جیسے والدین سے میراث پہنچتی ہے ایسے ہی دوسرے رشتہ داروں کے مال میں سے بھی بطور میراث مردوں اور عورتوں کو حصہ پہنچتا ہے جس کی کچھ تفصیلات انشاء اللہ سورة نساء کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں معلوم ہوں گئی، ہر رشتہ دار کو حصہ نہیں پہنچتا ہے اس کے کچھ اصول مقرر ہیں جو کتب فرائض میں مذکور ہیں۔
Ayahs 4:8–10

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب تقسیم کرنے کے موقعہ پر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین حاضر ہوجائیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دے دو اور ان سے اچھے طریقہ پر بات کرو

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور چاہیے کہ وہ لوگ ڈریں جو اپنے پیچھے ضعیف بچوں کو چھوڑ جاتے اور ان پر خوف ہوتا سو یہ لوگ اللہ سے ڈریں اور ٹھیک بات کریں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ظلم کے طریقے پر یتیموں کا مال کھاتے ہیں بات یہی ہے کہ وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

یتیموں کا مال کھانے پر سخت و عید اور ان کے مالوں کی نگرانی کا حکم بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ میراث کا کام تقسیم ہونے لگے تو عزیز رشتہ دار اور یتیم مسکین بھی حاضر ہوجاتے ہیں جن کو میراث میں شرعاً حصہ نہیں پہنچتا اگر یہ لوگ ایسے موقعہ پر حاضر ہوجائیں تو بالغ ورثا اپنے حصوں میں سے کچھ دے دیں تاکہ ان کی دلداری ہوجائے اور ان کو مناسب طریقہ پر نرمی کے ساتھ اچھے الفاظ میں سمجھا دیں کہ شرعاً تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے تم کو میراث میں سے نہ دینا کوئی ظلم زیادتی کی بات نہیں ہے اور یہ ہم اپنے پاس سے پیش کر رہے ہیں، آپ حضرات قبول کرلیں اور دلگیر نہ ہوں اللہ کی قضا و قدر اور اس کی شریعت پر راضی رہیں، پھر یہ ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں کے قبضہ میں مرنے والے کا مال آجائے وہ لوگ مال کو خود ہی لے کر نہ بیٹھ جائیں شرعی حصہ داروں کو ان کے حصے دے کر شرعی فریضہ سے سبکدوش ہوجائیں، ان میں ضعیف بھی ہوتے ہیں محتاج بھی، یتیم بھی اور چھوٹے بچے بھی، اگر ان کا حصہ نہ دیا یا حصہ دینے میں دیر لگائی تو ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا یہ غور کریں کہ اگر ہم مرجاتے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ جاتے تو ہماری کیا خواہش ہوتی۔ اپنی اولاد کے بارے میں یہ سوچتے کہ پورا پورا حصہ ملے تاکہ ضائع ہوجانے سے بچ جائیں۔ یہی بات دوسروں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے بارے میں سوچنی چاہیے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میراث صحیح طریقہ پر تقسیم کرو اور بچوں کا مال ایسے ولی یا وصی کے سپرد کرو جو مال کو ضائع نہ کر دے خیانت نہ کرے اور بچوں پر مناسب طریقہ پر خرچ کرے اور جب بالغ ہوجائیں تو ان کو دے دے عملی طور پر بھی بچوں کو مطمئن کر دے اور ان کا حصہ دیدے تاکہ حق بحق دار سید پر عمل ہوجائے اور قولی طور پر بھی ایسی باتیں کرے جو مناسب ہوں جن میں ان کی دلداری ہو۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ دنیا ہی میں سب کچھ ہے، کھایا پیا یہیں برابر ہوجائے گا، خوب سمجھ لیں کہ آگے آنے والی گھاٹی بہت سخت ہے یوم آخرت میں حساب و کتاب ہے یتیموں کے مال کھا جانا آسان بات نہیں۔ یہاں وہ ضعیف ہیں معصوم بچے ہیں کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن بار گاہ خداوندی میں جب پیشی ہوگی تو اس حرام خوری کی سزا بھگتنی ہوگی یتیم کا مال کھا رہے ہیں، بظاہر روٹی سے پیٹ بھر رہے ہیں لیکن حقیقت میں اپنے پیٹ میں آگ کے انگارے بھر رہے ہیں اور پھر قیامت کے دن دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ جو لوگ ورثہ کا مال تقسیم نہیں کرتے یتیموں کا حق نہیں دیتے اور جو لوگ یتیم خانے کھول کر بیٹھے ہوتے ہیں یتیموں کے نام سے چندے کرتے ہیں اور ان پر ذرا بہت خرچ کرکے خود ہی کھا جاتے ہیں۔ آیت کے مضمون پر بار بار غور کریں حقیقت یہ ہے کہ میراث کے مال تقسیم نہ کرنے کی وجہ سے گھر گھر یتیم کا مال کھایا جا رہا ہے اور کھانے والوں کو ذرا اس طرف توجہ نہیں۔