Ayah 4:1ترکیب : من نفس واحدۃ صفت و موصوف موضع نصب میں خلقکم کی وجہ سے ومن ابتداء غایۃً کے لئے ہے اور ایسا ہی منہما کثیرا صفت ہے رجالا کی اور رجال اگرچہ یہاں جمع ہے اور قاعدہ چاہتا تھا کہ اس کی صفت میں کثیرہ ہوتا کیونکہ جمع مونث ہے لیکن کبھی جمع کی صفت مذکر بھی آتی ہے جیسا کہ جماعت مونث کی طرف فعل مذکر مستند ہوجاتا ہے کما قال نسوۃ ‘ والارحام منصوب معطوف ہے اللّٰہ پر۔
تفسیر : یہ سورة بھی مدینہ میں نازل ہوئی کہ اس میں ایک سو چھہتر آیتیں ہیں۔ اول چونکہ اس میں عورتوں کے احکام نکاح و توریث وغیرہ زیادہ مذکور ہیں اس لئے اس مناسبت سے اس کا نام سورة ٔ نساء مشہور ہوگیا۔ سورة 1 ؎ آل عمران میں بیشتر جہاد فی سبیل اللہ کے مسائل اور فضائل اور مخالفین ملت اسلامیہ کے مبداء معاد ‘ ذات وصفات کی بابت شکوک و شبہات کے جواب اور عالم آخرت کے دلائل و فضائل اور وہ باتیں ذکر کی گئیں کہ جن سے اقوام ملت آسمانی اور تقویت مذہب رحمانی ہوجائے اس کے بعد حکمت نوامیسیہ اور فیض الہام کا مقتضٰی ہوا کہ مکلفین کے لئے وہ احکام بھی بیان ہوجاویں کہ جو ان کے معاملات کا پورا دستور العمل رہیں اور ان باتوں کا معین کرنا بھی قوت بشریہ کی طاقت سے باہر تھا۔ اس لئے اس سورة میں بہت سے احکام بیان ہوئے۔ خصوصاً سب سے اول یتیموں کی پرورش اور ان کے مال کی حفاظت اور ان کے حقوق کی رعایت اور ان پر رحم کرنے کے مسائل اور پھر وراثت وغیرہ کے متعلق کہ جس کا سلسلہ موت سے متعلق ہے۔ گرچہ ایماندار ہر طرح سے خدا تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں مگر عرب کی جہالت اور وحشت ابھی دور ہوئی تھی اور ان کا درندہ پن تھوڑے ہی دن سے رخصت ہوا تھا۔ اس لئے ان احکام پر برداشت کرنے کے لئے شروع کلام یا ایہا الناس الی قولہ رقیبا سے کیا اور اس میں اللہ سے ڈرنے کی دو بار تاکید فرمائی۔ ایک بار یوں فرمایا کہ تم اپنے اس رب سے ڈرو کہ جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کردیا اور پھر اس سے اس کی بیوی پیدا کرکے ان سے بہت سے مرد و عورتیں زمین پر پھیلا دیے۔ ان لفظوں میں چند باریک نکتے رکھے ہیں : (1) لفظ رب آیا کہ جس کے معنی پرورش کرنے والے کے ہیں تاکہ اس بات کا خیال رہے کہ خدا ہماری پرورش کرتا ہے۔ ہم کو یتیموں کی پرورش مجازی میں کچھ کمی نہ کرنی چاہیے ورنہ درحقیقت تو وہی پرورش کرتا ہے اور یہ بھی کہ جو پرورش کرتا ہے اس سے ڈرنا اور اس کی فرمانبرداری کرنا ضرور چاہیے اور خدا سے ڈرنے کے یہ معنی نہیں معاذ اللہ وہ بڑا ہلاکو ہے یا سفاک بےرحم ہے ٗ اس سے بچنا چاہیے کیونکہ اللہ تو سب محبوبوں سے محبوب اور سب پیاروں سے پیارا ہے بلکہ یہ معنی کہ اس کی نافرمانی کرنے سے ڈرو ورنہ اس کا بد ثمرہ تمہیں دیکھنا پڑے گا۔ (2) یہ کہ تم کو ایک شخص سے پیدا کیا تاکہ یہ بات ملحوظ رہے کہ سب بنی آدم باہم ایک ہیں۔ کوئی کسی پر حسب و نسب شکل و صورت مال و جاہ سے بیہودہ تفاخر اور تکبر نہ کرے کہ جو رحمدلی اور مروت کے برخلاف ہے اور نیز یہ بات ملحوظ رہے کہ سب بنی آدم میں برادری ہے سب سے رحمدلی اور صلہ رحمی کرنا چاہیے اور یہ کہ اگر آج ہم کسی کو پرورش کرتے ہیں تو کیا ہوا آخر ہم کو بھی کسی نے پالا ہے۔ نفس واحدۃ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جن کو خدا نے مٹی سے
بنایا اور جب ان کو تنہائی سے وحشت ہوئی تو ان کی بائیں پسلی سے ان کی بیوی حوا کو ان کے سوتے وقت بنا کر بٹھا دیا جس سے وہ خوش ہوئے۔ ان سے تمام بنی آدم کی نسل چلی۔ احادیث صحیحہ اور تورات کتاب پیدائش میں اس کی تصریح ہے۔ حکمائِ حال اور دہریہ اور ہنود کے بعض فرقہ اس کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ نوع انسان قدیم ہے ہمیشہ سے ہے کروڑوں برس اس پر گذر گئے اور ہمیشہ رہے گی۔ یہ مذہب عقلاً اور نقلاً مردود ہے۔ پھر فرماتا ہے اللہ سے ڈرو کہ جس کا نام لے کر اور اس کا واسطہ دے کر لوگوں سے سوال کیا کرتے ہو کہ برائے خدا یہ کر دو یعنی جب تم اس کے واسطے سے کام نکالتے ہو تو اس کا کہنا بھی مانو اور ان کے کام نکالنے میں بھی اس کا لحاظ رکھو۔ اس کے بعد فرمایا الارحام کہ آپس کے قرابت کا بھی لحاظ رکھو۔ بعض نے مجرور پڑھا ہے کہ قرابت سے بھی تم سوال کیا کرتے ہو۔ عرب کہتے تھے انشدک اللہ والرحام کہ خدا کے لیے اور قرابت کے لئے۔ پھر فرمایا کہ خدا تمہیں تاک رہا ہے غافل نہیں تاکہ ہر وقت لحاظ رہے۔
1 ؎ صرف اس سورة کے اول یا ایہا الناس اور سورة حج کے اول میں آیا ہے اور دونوں کا یہی مطلع چند اسرار کے لئے قرار پایا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 4:2–4ترکیب : بالطیب مفعول ثانی ہے مبتدالوا کا۔ الی اموالکم متعلق ہے محذوف سے اور موضع حاملیں ہے اے مضافۃ الی اموالکم وقیل لی بمعنی ان خفتم شرط فانکحوا الخ جواب۔ ما طاب مفعول فانکحوا من النساء اس کا بیان ‘ مثنی وثلث وربع تینوں نکرہ غیر منصرف ہیں عدل اور وصف کی وجہ سے اور یہ تینوں بدل ہیں ما سے۔ فان خفتم شرط فواحدۃ اے انکحواواحدۃ جواب او تخییر یا اباحت کے لئے۔ ماملکت موصول وصلہ مبتداء کا فیہ خبر محذوف نحلہ مفعول مطلق ہے اتوا کا دونوں ہم معنی ہیں نفسًا تمیز ہے شیء سے عامل طبن منہ فعیل وکذا مرئیا مفعول مطلق ہیں اے کلاھنا۔
تفسیر : جب وہ تمہید ہوچکی تو سب سے اول حکم یتیموں کے مال کی بابت دیتا ہے وَاٰتُوا الیتمیٰ الخ سے حوبًاکبیرًا تک اس آیت میں تین حکم ہیں : (1) یہ کہ یتیموں کو جبکہ وہ ہوشیار ہوجاویں ان کا مال و اسباب جو ان کے ولی سرپرستوں کی سپردگی میں ہو ان کے حوالہ کردینا چاہیے
اور اس سپردگی کا وقت اور اس کا طریقہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ بقولہ وابتلوا لیتمٰی حتی اذا بلغ النکاح فان آنستم منہم رشد فادفعوا الیہم اموالہم الایۃ اس کی تشریح اور تفسیر آگے آتی ہے (2) یہ کہ ان کے اچھے مال اسباب کو اپنے برے مال و اسباب سے بدل نہ لیا کرو۔ یہ بات ہوتی ہے کہ جب گھر میں یتیم کا مال تفویض کرکے رکھا جاتا ہے گو اس بات کی فہرست بھی ہوتی ہے مگر اسی قسم کا دوسرا اسباب اس کی جگہ ولی بدل کر دے سکتا ہے۔ مثلاً یتیم کی ایک تلوار بھی تفویض میں آئی جس کی قیمت ہزار روپیہ ہیں بوقت واپسی ولی نے اس کی جگہ اپنی دو روپیہ کی تلوار رکھ دی۔ سو اس بات سے خدا نے منع کیا کیونکہ قانون عدالت اس کا کافی بندوبست نہیں کرسکتا۔ یہ دیانت پر موقوف ہے۔ (3) یہ کہ اپنے مال کے ساتھ یتیم کا مال ملا کر نہ کھا جایا کرو مثلاً یتیم کے لئے اس کے مال میں سے کھانا پکانا اس میں کسی قدراپنا کھانا ملا کر اس قدر زیادہ پکایا کہ اپنے تمام کنبہ کو کافی ہو دراصل یتیم کے لئے پائو بھر کافی تھا دو سیر اس کے مال میں سے اور سیر بھر اپنے میں سے ملا کر پکانا۔ یہ بھی ایک صورت باہم یتیم اور ولی میں ہوتی ہے اور اس کا کوئی بجز والی کے نگران نہ تھا۔ سو وہی اس کا مرتکب ہوا تو پھر کیا
: حوب الاثم یقال حاب یحوب اذا اثم واصلاً الزجر للبعیر۔ العول الجوزمن عال یعقول الرجل اذا مال نحلۃ بکسر النون ومنھا بمعنی لعطاء ہنیئًا یقال ھناہ العطام یہنیہ اذا انہضم وکذا المراد۔ 12
علاج اس لئے اس سے منع کیا اور دیانت کا حکم دیا اور سب کے بعد یہ فرما دیا کہ یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔
: یتیم بہ تیم سے مشتق ہے جس کے معنی تنہا ہوجانا چونکہ باپ کے مرنے سے بیٹا تنہا رہ جاتا ہے اس لئے اس کو یتیم کہتے ہیں اور اسی لئے دُرِّیک دانہ کو درِّ یتیم کہتے ہیں۔ لغوی معنی کے لحاظ سے جس کا باپ مرجاوے اس کو یتیم کہا جاوے گا خواہ وہ لڑکا ہو خواہ جوان مگر عرف میں جبکہ لڑکا بالغ ہوجاوے اور بجائے سرپرست کے خود اپنے کاروبار کرنے لگے تب اس پر یہ لفظ نہ بولا جاوے گا۔ یتیم بروزن فعیل جیسا کہ مریض اس کی جمع مرضٰی کی طرح سے یتیمٰی آنی چاہیے تھی اور آئی یتامیٰ صاحب کشاف کو کہتے ہیں۔ یتامیٰ یتیمٰی کی جمع ہے جیسا کہ اسیر کی جمع اسرٰی ہے پھر اس کی اسارٰی یعنی جمع الجمع اور آیت میں جو کہا یتیم کو مال دو ۔ حالانکہ جوان ہونے سے یتیم نہیں رہتا اور مال جوان بالغ ہو کر ملتا ہے تو یہاں لغوی معنی کے لحاظ سے یا مجازاً شفقت دلانے کے لئے باعتبار مالکان یتیم کہہ دیا ہے۔ (2) حوب اور حاب دونوں کے معنی گناہ کے ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی دعا میں ہے رب تقبل توبتی واغسل حوبتی۔ (3) یہ آیت بنی غطفان کے ایک شخص کے حق میں نازل ہوئی جو اپنے بھتیجے کو اس کا مال نہ دیتا تھا۔ اس کے بعد اس نے دے دیا۔
اس کے بعد دوسرا حکم یتیموں کے نکاح کی بابت دیا۔ عروہ (رح) نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کی ہے کہ عرب کا جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ وہ یتیم لڑکیوں سے ان کے مال و جمال کی وجہ سے آپ ہی نکاح کرلیتے تھے۔ مثلاً کسی کے چچا کی بیٹی یتیم اس کے پرورش میں ہے اور اس کے پاس مال بھی ہے تو وہ اور کو دینا پسند نہ کرکے خود ہی نکاح کرلیتا تھا مگر ان کا کوئی اور شخص بجز اس کے باز پرس کرنے والا نہیں ہوتا تھا۔ وہ مہر بھی کم باندھتے تھے اور بعد میں اور بیویاں کرکے اس کی حق تلفی بھی کرتے تھے۔ چونکہ بجز خدا کے اور کوئی ان کی طرف سے اس امر میں حامی و مددگار نہ تھا اس لئے ان کے بارے میں بھی یہ حکم دیا وان خفتم الا تقسطوا فی الیتٰمی فانکحوا ما طاب من النساء الآیۃ کہ اگر تم یتیم عورتوں کے حق ادا نہ کرسکو تو ان پر کیا موقوف ہے اور بہت سی عورتیں ہیں ٗ تم ان میں سے پسند کرکے خواہ ایک سے نکاح کرو خواہ دو سے خواہ تین سے خواہ چار سے اور اگر ان میں بھی باہم عدل و انصاف نہ کرسکو تو پھر ایک ہی پر بس کرو یا اپنی لونڈی پر قناعت کرو تاکہ ظلم میں مبتلا نہ ہوجائو۔
(1) اقساط عدل کرنا قسط عدل قال اللہ تعالیٰ واقسطوا ان اللّٰہ یحب المقسطین۔ اسلام میں عدل و انصاف کی نہایت تاکید ہے۔ اپنے و بیگانے کی اس میں کوئی قید نہیں۔ عرب میں ایک یہ بھی دستور تھا کہ جہاں تک چاہتے تھے نکاح کرتے چلے جاتے تھے۔ پھر بیویوں میں کھانے پینے کے ساتھ سونے میں برابری نہ کرتے تھے جس سے دل چاہا عیش منایا۔ اوروں کو قید میں ڈال کر جلایا۔ اسلام نے اس خرابی کی بھی اصلاح کردی اور گھٹا کر صرف چار عورتوں تک کی اجازت دی اور اس میں بھی یہ شرط کی کہ اگر انصاف و عدل کرسکو تو کرو ورنہ نہیں کیونکہ بیویوں کے حقوق نان و نفقہ شب باشی برابر ہونی چاہییں۔ (2) جمہور کے نزدیک اس آیت اور احادیث صحیحہ سے کہ جو حد تواتر کو پہنچ گئے ہیں اور اجماع امت سے چار عورتوں سے زیادہ سے ایک وقت میں نکاح کرنا حرام ہے۔ ہاں مرتے جاویں یا طلاق دے دی جاویں تو کہیں تک نوبت کیوں نہ پہنچے اور لونڈیاں جس قدر چاہے جمع کرسکتا ہے مگر چار کی اجازت غلام کو نہیں۔ امام مالک (رح) کے نزدیک اس اجازت میں غلام بھی شریک ہے۔ سدی وغیرہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس آیت سے یا اور کسی آیت سے چار پر حصر کرنا ثابت نہیں ہوتا بلکہ ماطاب لکم اجازت عام ہے۔ علاوہ اس کے مثنیٰ و ثلث ورباع میں وہ ہے جو جمعیت کا فائدہ دیتا ہے پھر سب کو جمع کیا جاوے تو نو بلکہ اٹھارہ ہوسکتی ہیں۔ اقول یہ استدلال غلط ہے۔ اگر اجازت عام دینی مقصود تھی تو صرف ما طاب لکم من النساء کہہ دینا کافی تھا۔ چار تک تعین کرنا کیا ضرور تھا۔ اور اگر و کی جگہ او آتا تو یہ بات سمجھی جاتی کہ تمام اہل اسلام کو ان میں ایک عدد اختیار کرنا چاہیے یعنی سب دو دو سے نکاح کریں۔ یا تین تین یا چار چار سے یہ نہیں کہ کوئی دو سے کوئی تین سے کوئی چار سے کرے۔ حالانکہ یہی مقصود تھا۔ اس لئے وآیا او نہ آیا پس و سے جمعیت جمیع امت کے لیے ہے نہ کہ ایک شخص کے لئے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ باستثنائِ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کہ جن کی طبیعت میں عدل و انصاف خمیر کردیا گیا ہے سب کے لئے کثرت ازدواج اور بےتعداد بیویاں جمع کرنا مقاصد دینی و دنیویہ میں مخل ہے اور انسان کی ترقی کمالات اور عمدہ عیش میں خلل انداز بھی ہے۔ مقاصد دینیہ میں اس وجہ سے کہ جب بہت سی عورتیں ہوں گی تو سب کے حقوق میں مساوات کرنا عادتاً مشکل ہے اور اگر انصاف کیا اوراقل مرتبہ مہینہ بھر میں ایک عورت کی باری آئی تو اس کثرت مجامعت سے اب یہ اس قابل نہ رہے گا کہ اس کی طبیعت میں سیاست ملک اور جہاد کا ولولہ رہے۔ ہندوستان کے رئیسوں کی عین جوانی میں پژمردگی کثرت جماع سے جو کچھ ان کے ملکوں میں بربادی کر رہی ہے ظاہر ہے اور دنیاوی خرابی کثرت عیال قلت مال کا صدمہ اور عیش کی تلخی تو ظاہر ہے آج کیا ہے کوئی لڑکا بیمار ہے کوئی کچھ مانگتا ہے کوئی مرگیا۔ اس کا سوگ ہے پھر اس قدر عورتیں ایک سے کیونکر سیر ہوسکتی ہیں اور سب کی طبیعتیں بھی مساوی نہیں۔ پھر کیا کیا فساد اور خلاف عصمت باتیں کرکے ننگ و ناموس شوہر میں دھبہ لگاتے ہیں۔ علاوہ اس کے ہر وقت عورتوں میں رہنا انسان کو تجارت اور سفر اور مشقت کے ان کاموں سے مانع آتا ہے جو اس کی ترقی دنیا کی سیڑھیاں ہوتی ہیں۔ کیا خوب کہا ہے کسی نے ؎
فاحفظ مینک ما استطعت فانہ
مارا الحیوۃ یصب فی الارحام
اور یہ بھی خوب کہا ہے
مرا بیک دم شہوت کہ خاک برسرا وا سیر زن نتواں شد بسالہائے دراز
اب رہی یہ بات کہ شریعت محمدیہ نے کیوں عیسائیوں کے راہبوں اور ہندوئوں کے جوگی اور گشایوں کی طرح ملنگ پنا تعلیم نہ کیا اور کیوں ایک ہی عورت پر قناعت کرنے کا حکم نہ دیا۔ برخلاف اس کے مسلمانوں کو چار تک کی اجازت اور خود پیغمبر (علیہ السلام) نے چار سے زیادہ نو تک بیویاں ایک وقت میں رکھیں۔ آج کل کے رفارمروں اور عیسائی اور ملحدمنش لوگوں کا اسلام پر ایک یہ بھی اعتراض ہے اور اس پر ملمع کار تقریروں سے بڑا زور دیتے ہیں بالخصوص پادری بہت غل مچاتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے :
(1) یہ بات ہر عقلمند پر ظاہر ہے کہ انسان جب تک کہ اس جامہ انسانی میں ہے خواہ کوئی کیوں نہ ولی ہو ٗ نبی ہو اس کو تمام انسانی حاجتیں پیش آتی ہیں۔ بھوک پیاس بھی لگتی ہے۔ اس کے بعد نیند بھی آتی ہے۔ پاخانہ پیشاب بھی آتا ہے۔ اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر اس کے کسی عضو میں فتور نہیں تو منی بھی پیدا ہو کر اپنا نکلنا چاہتی ہے۔ اس لئے خواہ مخواہ عورت کی طرف رغبت ہوتی ہے۔ یہ طبعی بات ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ اچھے لوگ اس کو اس کے محل پر صرف کرتے ہیں۔ برے لوگ بےمحل کام میں لاتے ہیں۔ اگر ملنگ پنا سکھایا جاتا تو علاوہ قطع نسل انسانی کے ہزاروں مصیبتیں 1 ؎ پیش آتیں حرام کاری کا پل ٹوٹ جاتا۔ دیکھئے باوجود تقدیس کے جب جرجیس 2 ؎ نے وہ تالاب صاف کرایا کہ جو اس کلیسیا کے متعلق تھا جس میں مجرد مرد و عورت رہتے تھے تو سینکڑوں کھوپڑیاں حرامی بچوں کی نکلیں اور جو ادھر ادھر پھینک دیے گئے یا حمل گرائے گئے ان کا تو کوئی حساب ہی نہیں۔ علاوہ اس کے بردباری وغیرہ اخلاق کی درستی عیالداری کی بدولت نصیب ہوتی ہے اور ایک عورت پر عموماً سب کو پابند کرنا بھی بعض لوگوں کی عفت میں فرق لاتا ہے کیونکہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مرد کو عورت سے کہیں زیادہ قوت ہے اور نیز عورت تیس چالیس برس کی عمر میں دس پانچ بچے جن کر بڑھیا ہوجاتی ہے اور مرد کے لئے یہ عین جوشِ
1 ؎ خانہ داری کے سامان اور انتظام خاص عورتوں کا یہی حصہ ہے اور پاک دامنی اور نیک نیتی بھی نکاح پر موقوف ہے۔ 12 منہ
2 ؎ چناچہ پادری لوگ بھی نظر عمیق کے بعد اس کا فتویٰ دیتے ہیں جیسا کہ کتاب مسمی بہ اصلاح سہو مطبوعہ امریکن مشن پریس 1871 ء میں کہتے ہیں تعداد ازواج بنی اسرائیل میں تھا اور خدا نے اس کو منع نہیں کیا بلکہ برکت کا وعدہ کیا اور مارٹین لوتھر نے فلپ کو دو جو رئوں کی اجازت دے دی تھی۔ 12 منہ
قوت کا وقت ہے۔ پھر اس بڑھیا پر بس کرنا یا تو اشارۃً اور مزہ اڑانے 1 ؎ کا حکم دیتا ہے یا سہل شریعت کو دشوار کردینا ہے کہ جس کی اصلاح کے لئے پھر کسی نبی کی حاجت پڑتی اور یہ بھی ہے کہ عورت ایام حیض و نفاس اور حمل بلکہ رضاعت کے وقت مرد قوی کو بس نہیں کرتی۔ بالخصوص ان گرم ملکوں کے لوگوں کے لئے کہ جن کو ایک روز بھی بغیر جماع کے چین نہیں پڑتا (مر طوب اور بلغمی لوگوں کا ذکر نہیں ہے) پھر ان کے لئے حرام کاری کی اس قدر ممانعت کرکے (کہ کسی کو بدنظر سے بھی نہ دیکھو کسی غیر محرم کے ہاتھ بھی نہ لگائو اس سے تخلیہ میں بات بھی نہ کرو۔ اگر کرو گے تو علاوہ عذاب آخرت کے دنیا میں بھی سزا پائو گے) ایک عورت کا پابند کرنا حکمت الٰہیہ کی مصلحت کے برخلاف ہے۔ اس لئے شریعت نے چار تک کی اجازت دی ہے نہ یہ کہ سب کے لئے حکم دیا ہے اور اجازت میں بھی عدل شرط ہے۔ البتہ جس قوم میں بغیر نکاح کے بھی حاجت براری ہو سکے بلکہ خوب طرح سے ان کے نزدیک چار کیا ایک بھی جنجال اور جان کے لئے وبال ہے۔
رہا آنحضرت ﷺ کا متعدد نکاح کرنا اور آپ کا اس حکم سے مستثنیٰ ہونا سو یہ مصالح کے لئے تھا۔ اول یہ کہ عدالت آپ کا شیوہ ذاتی تھا ٗ معصوم تھے۔ دوم یہ کہ آنحضرت کو باوجود کسی آمدنی مقرر نہ ہونے کے متعدد بیویاں رکھ کر صفت توکل اور استقلال کی تعلیم دینا منظور تھا۔ سوم متعدد عورتوں کی معرفت عورتوں کے متعلق خلوت اور جلوت میں بیشمار مسائلِ شریعت کی تعلیم کرنا منظور تھا اور دائود ابراہیم و موسیٰ و یعقوب (علیہم السلام) نے بھی اس لئے متعدد بیویاں کی ہیں۔ جیسا کہ بائبل سے ثابت ہے اور اب تک یہودی شریعت میں کئی بیویاں کرنا جائز ہے (3) تیسرا حکم واتوا النساء صدقاتہن نحلہ ابن عباس و ابن جریج و قتادہ وغیرہ نحلہ کے معنی فریضہ کے کہتے ہیں۔ بولتے ہیں۔ فلاں ینتحل کذا یعنی ایسا دین رکھتا ہے اس لئے مذہب کو نحل کہتے ہیں۔ چونکہ مہر بھی شرعی اور دینی بات ہے اس لئے اس کو نحلہ کہا کلیبی کے نزدیک نحلہ کے معنی عطیہ کے ہیں مگر مراد دونوں کی مہر ہے۔ مہر 2 ؎ کا دینا واجب ہے مگر جب خود عورت یا در صورت صغر سنی اس کے اولیاء معاف کردیں تو معاف ہوسکتا ہے۔
1 ؎ جن لوگوں میں دوسری عورت کرنے کا دستور نہیں اور اسی بڑھیا بدشکل ‘ کج ‘ خلق ‘ یا بیمار یا مکار ‘ بدوضع ‘ کوتاہ اندیش ‘ مخالف مزاج ہی کو گلے باندھنے کی تاکید ہے ان کے حال دیکھئے کہ کیا کیا مصائب پیش آتے ہیں۔ کہیں عورت کو زہر دے کر مارا جاتا ہے ٗ کہیں اس کے ہلاک کے لئے ڈاکٹروں سے مدد لی جاتی ہے۔ 12
2 ؎ عرب میں دستور تھا کہ عورت کو نکاح کے وقت کچھ ہدیہ اس کی خوشنودی کے لئے دیا کرتے تھے۔ اس کو مہر اور صداق اور صدقہ کہتے تھے۔ اس رسم کو اسلام نے بھی قائم رکھا اور نکاح میں یہ ضروری ہوگیا مگر مہر میں کمی کرنے کی تاکید بھی شارع نے ازحد کردی تاکہ خوشی میں آکر سب گھر بار نہ دے بیٹھے اور پھر بھیک مانگتا پھرے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک مہر پیسا دو پیسے یعنی بہت کم چیز بھی ہوسکتی ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اقل مرتبہ دس درہم ہونے ضرور ہیں جن کے تخمیناً ساڑھے تین روپیہ ہوتے ہیں مگر ہندوستان میں یہ رسم بدل گئی۔ صرف برائے نام لاکھوں اور کروڑوں کے فرضی مہر باندھنے لگے۔ کہیں سوا من مچھروں کا بھیجا کہیں کچھ اور فرضی بات ایسے مہر شرع میں کچھ نہیں نہ ان کا ادا کرنا کوئی ضروری بات ہے۔ 12 منہ
Ayahs 4:5–6ترکیب : السفہاء جمع سفیہ بمعنی بیوقوف مفعول اول ‘ اموالکم مفعول ثانی ‘ قیما میں تین وجہ ہیں۔ اس کو قیاما بھی پڑھا ہے جو مصدر ہے قام یقوم کا یہ مفعول ثانی جعل بمعنی صیّر کا ای جعل اللہ لکم سبب قیام دوسرا یہ کہ جمع قیمۃ کی ہے کدیمۃ ودیم والمعنی ان الاموال کالقیم للنفوس اے بہ بقاء النفوس سوم یہ کہ اصل قیاماتہا الف کو حذف کردیا۔
تفسیر : یہ ان احکام کی تیسری قسم ہے۔ اس آیت میں تین حکم ہیں : (1) یہ کہ یتیم اگر سفیہ یعنی بیوقوف ہو اس کو مال کی حفاظت اور تجارت کا طریقہ نہ آتا ہو اور اس کے اطوار سے معلوم ہو کہ وہ اڑا ڈالے گا تو اس کا وہ مال حوالہ نہ کرو جو تمہاری تفویض میں ہے (اموالکم کے یہی معنی ہیں) اور اس مال میں تمہاری معاش ہے۔ (2) یہ کہ جب تک مال ان کے سپرد نہ کئے جاویں تو ان کو ان کے مال میں سے یا اس کے نفع میں سے جو تجارت سے مال حاصل ہو کھانا اور کپڑا دینا چاہیے۔ (3) یہ کہ مال نہ دینے سے عادتاً ان کو رنج ہوتا ہے تو ان سے تسلی اور دلا سے کی باتیں کیا کرو کہ یہ تمہارا ہی مال ہے۔ میاں ہم اس کے نگہبان ہیں۔ آخر تم کو مل جاوے گا یا یہ مراد کہ ان بیوقوفوں کو اچھی باتوں کی تعلیم کرو۔ اس میں یتیموں پر نہایت شفقت ہے۔ سفاہت کم عقلی اور حماقت کو کہتے ہیں۔
اور جب کہ یہ فرمایا کہ بیوقوفوں کو مال نہ دو وہ خراب کر ڈالیں گے تو اس کے بعد دوسری آیت میں اس کی تفصیل کردی کیونکہ اگر یہ نہ ہوتا تو اس بہانہ سے ولی یتیم کا مال ہضم کرسکتا تھا۔ فرمایا وابتلوا الیتیمٰی الآیہ اس آیت میں چار حکم ہیں (1) یہ کہ یتیموں کا کاروبار تجارت وغیرہ میں امتحان لیا کرو۔ پھر جب وہ نکاح کو پہنچیں (یعنی بالغ ہوجاویں احتلام اور خاص دانتوں کا نکلنا اور بغلوں اور زیر ناف بالوں کا نکلنا اور بالخصوص عورتوں کے لئے حیض آنا اور چھاتیوں کا اٹھنا علامت بلوغ مقرر ہے) اور تم کو ان سے کچھ بھی رشد یعنی دنیا کے کاروبار میں ہوشیاری معلوم ہو (رشدا کے نکرہ لانے سے یہ بات سمجھی جاتی ہے) تو ان کے مال ان کے حوالہ کر دو (2) اور اس بات پر شاہد کرلو یعنی گواہوں کے روبرو دو تاکہ پھر کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو۔ (3) یہ کہ حالت سرپرستی میں ان کے مال فضول خرچی سے اور اس وجہ سے کہ مبادا یہ بڑے ہوجاویں تو پھر اپنا مال واپس لے لیں گے اب جو کچھ ہو کھالو ٗنہ کھا یا کرو (4) اگر یتیم کا سرپرست غنی ہو تو اس کو کچھ بھی لینا نہ چاہیے اور فقیر ہے تو اپنی سرپرستی اور اس کے مال کی نگرانی اور خدمت گذاری اور اس کی تجارت کے کاروبار کے معاوضہ میں جو اوروں کو دیا جاتا ٗ اسی قدر آپ لے لے۔ فلیاکل بالمعروف کے یہی معنی ہیں بعد میں کفی باللّٰہ حسیباً فرما کر تنبیہ کردی کہ خدا تم سے ہر بات کا حساب لے گا۔
ف۔ اگر یتیم بالغ ہو اور بالکل احمق ظاہر ہو تو اس کو مال دینا نہ چاہیے جیسا کہ پہلے تھا ولا توتوا السفہاء الآیۃ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں۔ پھر پچیس برس کے بعد بھی ایسا ہی رہے تو دے دینا چاہیے کیونکہ اب اس کی اصلاح کا زمانہ تمام ہوچکا۔ کوئی امید باقی نہ رہی۔ اب محروم نہ کرنا چاہیے۔ امام شافعی (رح) اور صاحبین کے نزدیک اخیر عمر تک بغیر رشد معلوم کرنے کے نہ دینا چاہیے کیونکہ یہ سفیہ ہے ٗ تلف کر ڈالے گا۔
Ayahs 4:7–10ترکیب : مماقل الخ جملہ بدل ہے ماترک سے اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر محذوف سے ‘ ای مما ترکہ قلیلا او کثیرا۔ نصیباً یہ موقع میں مفعول مطلق کے ای عطاء و استحقاقا واذا حضر شرط۔ فارزقوھم الخ جواب لو ترکوا شرط خافوا علیہم جواب ظلماً مفعول لہ ہے یا مصدر موقع حال میں۔
تفسیر : یہ ان احکام کی چوتھی قسم ہے جو توریت سے متعلق ہے۔ اس کے سبب نزول میں ابن عباس ؓ سے یہ منقول ہے کہ اوس بن ثابت انصاری ؓ کا انتقال ہوا اور ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیوی پیچھے رہی اور اس کے چچا کے دو بیٹے سوید اور عرفجہ جو وصی تھے کل مال کو دبا بیٹھے۔ اس کی بیوی نے آنحضرت ﷺ سے فریاد کی۔ آپ نے فرمایا اس امر میں خدا تعالیٰ جو حکم دے گا ویسا کیا جاوے گا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں تعین حصص نہیں بلکہ یہ اگلی آیت میں یوصیکم اللّٰہ الآیہ کے لیے تمہید ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو حصہ نہیں دیتے تھے خواہ میت کی بیٹی ہو خواہ بیوی ہو۔ یہاں صرف اس قدر فرمایا کہ میت خواہ والدین ہوں خواہ اقارب ہو ان کے مال میں جس طرح مردوں کو حصہ پہنچتا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی خواہ وہ چیز کم ہو یا زیادہ۔
چونکہ آیندہ آیت میں وارثوں کے حصے مقرر کرنے منظور تھے اور بعض عزیز و اقارب بعید بسبب وارث قریب کے میراث سے محروم ہوجاتے ہیں اور مال کے تقسیم ہونے کے وقت فقیر اور یتیم بھی آنکلتے ہیں سو ایسی حالت میں ان کا بالکل محروم جانا ان کے لئے گونہ جگر خراش ہے۔ اس لئے حکم دیا کہ جب تقسیم کے وقت اقارب محروم الارث یا یتیم اور فقیر آنکلیں تو کچھ اس میں سے ان کو بھی دے دو اور نرم بات کہو کہ بھائی یہ فلاں فلاں وارثوں کا حق ہے کہ جو میت سے زیادہ تعلق رکھتے تھے۔ خدا تمہیں برکت دے گا۔ ان لوگوں کو میراث میں سے کچھ دینا امر استحبابی ہے۔ فرض واجب نہیں۔ پس اس آیت کو آیت میراث سے منسوخ بنانا بےفائدہ ہے۔ اس کے بعد ان کو بےکسوں پر رحم کھانے اور خدا سے ترس کرنے کا حکم اس لطف کے ساتھ دیتا ہے کہ جس سے خواہ مخواہ زندہ دل کی آنکھوں میں پانی بھر آئے۔ وہ یہ کہ تم خیال کرو کہ اگر تمہارے پیچھے تمہارے ننھے ننھے بچے رہ جاویں تو تم ان کی بےکسی اور بسور بسور کر دیکھنے اور غیروں کے آگے ننھے ننھے ہاتھ پھیلا کر مانگنے سے کس قدر ترس کھائو۔ سو ایسا ہی دوسروں کی اولاد پر ترس کھائو۔ اس لئے خدا سے ترس کھا کر نرم اور تشفی بخش بات کہا کرو ( سچ ہے بےکسوں کے دل میں خدا کا گھر ہے۔ ان پر اس کے لطف و کرم کی نظر ہے) اس کے بعد آیت کو یتیموں کے مال سے پرہیز کرنے پر ختم کرکے حصہ معین فرماتا ہے۔ آگ کھانے سے مراد یہ ہے کہ ظالم نے جس قدر یتیم کا مال ناحق پیٹ میں بھرا ہے آخرت میں آگ ہوجاوے گا۔ گویا یہ اس کا سبب ہے گرچہ پیٹ ہی میں کھاتے ہیں مگر فی بطونہم کے آنے سے تاکید ہوگئی جیسا کہ ہماری زبان میں بولتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا حالانکہ غیر کی آنکھ سے کوئی نہیں دیکھتا صرف تاکید مراد ہے اسی طرح یہاں اس پر اعتراض کرنا حمق ہے۔
Ayah 4:11ترکیب : للذکر الخ جملہ موضع نصب میں ہے بسبب یوصی کے فان کن ای المتروکات نساء موصوف ‘ فوق اثنتین صفت سب خبر فلہن جواب شرط من بعد وصیتہ الخ جملہ موضع حال میں ہے السدس سے تقدیرہ مستحقامن بعد وصیتہ والعامل الظرف۔ اباء کم وابناء کم مبتداء لا تدرون جملہ خبر پھر ایہم مبتداء اقرب لکم ممیز نفعا تمیز مجموعہ خبر۔ فریضۃ مصدر ہے فعل محذوف کا اے فرض ذلک فریضۃ وان کان تامہ رجل فاعل وامرائۃ اس پر معطوف ہے۔ یورث صفت ہے رجل کی اور کلالۃ حال ہے ضمیر یورث سے اور اگر کان ناقصہ مانا جاوے تو رجل موصوف یورث صفت معطوف علیہ او امراۃ معطوف سب اسم کان کلالۃ خبر بعض کہتے ہیں کلالۃ اسم ہے مال موروث
1 ؎ میت کی کوئی اولاد بھی ہو بیٹا پوتا وغیرہ۔
2 ؎ باقی کے بھائی وارث ہیں۔ 12 منہ
کاتب نصب کلالۃ کا اس وجہ سے ہوگا کہ یہ مفعول ثانی ہوگا یورث کا ‘ کما تقول ورث زید مالا بعض کہتے ہیں کلالۃ ان وارثوں کو کہتے ہیں کہ جن کے نہ ولد نہ اولاد ہوں نہ ماں باپ دادا وغیرہ تب حذف مضاف مانا جاوے گا۔ وَلَہٗ ضمیر میت کی طرف راجع ہے یا موروث کی طرف کہ جس میں رجل و امراۃ دونوں شریک ہیں۔ غیر مضار حال ہے فاعل یوصی سے وصیۃ مصدر ہے فعل محذوف کا۔
تفسیر : یہ آیت سابقہ کی تفصیل ہے۔ واضح ہو کہ جاہلیت میں دو سبب سے وراثت جاری ہوتی تھی۔ ایک نسب دوسرا عہد۔ نسب میں بھی وہ لوگ ان لوگوں کو حصہ دیتے تھے جو میت کی طرف سے نیزہ لے کر لڑ سکتے تھے۔ اس لئے عورتوں اور چھوٹے لڑکوں کو حصہ نہ دیتے تھے اور عہد دو طرح پر ہوتا تھا۔ ایک یہ کہ کوئی شخص کسی کو یہ کہہ لیتا تھا کہ میری جان تیری جان اور میرا خون تیرا خون۔ میں تیرا وارث تو میرا وارث۔ سو اس کے روبرو بھائی بیٹے کسی کو بھی ورثہ نہیں ملتا تھا۔ دوسرا یہ کہ کسی کو متبنی یعنی بیٹا بنا لیتے تھے جیسا کہ ہنود میں رواج ہے سو وہی وارث ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ جب مبعوث ہوئے تو ابتداء میں اس رسم و دستور کو بحال خود رہنے دیا پھر مدینہ میں آکر کچھ دنوں ہجرت اور مواخات یعنی بھائی چارہ پر وراثت قائم ہوئی یعنی جب کوئی صحابی ہجرت کرکے آتا تھا ٗ دوسرا مہاجر اس کا حصہ پاتا تھا اور کو نہیں ملتا تھا اور مواخات یہ کہ آنحضرت ﷺ دو شخصوں میں بھائی چارہ کرا دیتے تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے کا وارث ہوتا تھا مگر اس کے بعد دین اسلام میں توریث کا دار و مدار تین چیزوں پر رہا۔
ایک نسب دوسرا نکاح تیسرا ولاء
مسائل وراثت : پھر نسب کی بھی چند قسم ہیں (اول) میت کی اولاد ہے کیونکہ اعانت اور کارگذاری انسان کی جس قدر اس کی اولاد کرتی ہے اور کوئی نہیں کرتا۔ عادتاً اس عمر میں ماں باپ تو زندہ رہتے ہی نہیں اور بھائی وغیرہ اقارب اپنی اپنی اولاد کی پرورش اور اپنے اپنے دھندے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اس لئے بقدر مشقت سب سے زیادہ ان کا حصہ قرآن میں قرار پایا۔ پھر اولاد کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بیٹے اور بیٹیاں ملے جلے ہوں۔ عام ہے کہ اور وارث بھی ہوں یا نہ ہوں۔ اگر اور بھی ہیں تو ان کا حصہ دے کر اور اگر نہیں تو کل مال کو للذکر مثل حظ الانثیین (یعنی دو حصہ مرد کے اور ایک عورت کا) کے موافق تقسیم کرلیں۔ چونکہ جس قدر کارگزاری اور اعانت بیٹا کرسکتا ہے اسی قدر بیٹی ضعیف العقل ضعیف القویٰ نہیں کرسکتی۔ علاوہ اس کے یہ تو کسی مرد سے نکاح کرکے اپنے خرچ کا ذمہ دار اس کو کر دے گی۔ بیٹے کو یہ بات کب نصیب ہوتی ہے۔ علاوہ اس کے ہر قوم میں بیٹا باپ کا جانشین قرار دیا جاتا ہے نہ بیٹی۔ اس حکمت سے بیٹے کو دو حصہ بیٹی کو ایک حصہ دلایا یعنی حصہ کرکے ایک حصہ بیٹی کو دو بیٹے کا۔ دوم یہ کہ دو سے زیادہ کئی لڑکیاں ہوں اور بیٹا نہ ہو اس کے لئے فرماتا ہے فان کن نساء فوق اثنتین فلہن ثلثا ماترک کہ کل مال کے تین حصہ کرکے دو حصہ بیٹیوں کو دے دیں۔ وہ اس کو باہم برابر حصہ کرکے بانٹ لیں۔ خود دو ہوں یا ان سے زیادہ ہوں اور ایک حصہ اور وارثوں کو دے دیا جاوے۔ قرآن میں فوق اثنتین کا لفظ ہے جس سے ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اگر صرف دو لڑکیاں ہوں تو ان کو بھی نصف ملے گا۔ کس لئے کہ فوق اثنتین کے معنی جو مشروط تھے نہ پائے گئے مگر جمہور کے نزدیک دو بیٹیاں بھی تین کا حکم رکھتی ہیں اور اِنْ شرطیہ سے یہ بات نہیں ثابت ہوتی کہ دو سے زیادہ نہ ہوں تو ان کو دو ثلث نہ ملیں اور احادیث صحیحہ اور دلائلِ آیات قرآنیہ بھی جمہور کے مؤید ہیں۔ سوم یہ کہ صرف ایک بیٹی ہو تو اس کو کل مال کا نصف یعنی آدھا 1 ؎ پہنچے گا۔ وان کانت
؎ شیعہ اس جگہ حضرت ابوبکر ؓ پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ ؓ کو آنحضرت ﷺ کے مال میں سے نصف کیوں نہ دیا ؟ اس کا اصل جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بوقت اخیر کوئی مال نہیں چھوڑا تھا نہ جائیداد منقولہ نہ غیر منقولہ اور نہ پیغمبر ﷺ کی یہ شان تھی کہ وہ نبوت و رسالت کو دنیاوی مال کا ذریعہ بناتے اور نہ کسی اولو العزم رسول نے کوئی مال چھوڑا جو کچھ ان کو مل بھی گیا تو ضرورتوں اور مہمانوں اوراقرباء کے لئے وقف کردیا
واحدۃ فلہا النصف۔ چہارم یہ کہ صرف ایک ہی بیٹا ہو۔ اس کو کل مال ملے گا کیونکہ جب ایک لڑکی کو نصف ملتا ہے اور مرد کا حصہ عورت سے دو چند ہے تو خواہ مخواہ اس کو کل ملے گا کس لئے کہ دو نصف کے جمع کرنے سے کل ہوجاتا ہے اور اسی پر اجماع امت بھی ہوگیا ہے۔ پنجم یہ کہ کئی بیٹے ہوں ان کا حکم ظاہر ہے وہ اور وارثوں کا حصہ دے کر جس قدر بچے گا برابر تقسیم کرلیں گے۔
نسب کی دوسری قسم انسان کے ماں باپ ہیں۔ ہرچند ماں باپ کا درجہ اور ان کے حقوق اولاد سے کہیں زیادہ ہیں مگر جب آدمی صاحب اولاد ہو کر مرتا ہے تو عادتاً اس عمر میں ماں باپ بڈھے ہوجاتے ہیں جن کی عمر کا کسی قدر حصہ باقی رہ جاتا ہے۔ اس لئے ان کو مال کی کم ضرورت ہے۔ دوم ان کے پاس ان کا اندوختہ اور اپنے ماں باپ کا زائد حصہ بھی موجود ہوتا ہے۔ برخلاف میت کی اولاد کے کہ ان کا سرمایہ تو سردست یہی باپ کی کمائی ہوتی ہے۔ اس لئے ماں باپ کا حق بہ نسبت اولاد کے کم قرار پایا اور اسی لئے اس کو اس کے بعد میں بترتیب ذکر کیا۔ والدین میت کے تین حال ہیں (1) یہ کہ ان کے ساتھ میت کی کوئی اولاد بھی ہو مثلاً زید مرا اور اس نے ماں باپ اور اولاد پیچھے چھوڑی تو اس صورت کو اللہ تعالیٰ اس آیت میں بیان فرماتا ہے ولا بویہ لک واحد منہا السدس مما ترک ان کان لہ ولد کہ کل مال کے چھ حصے کرکے ایک حصہ ماں کو ایک باپ کو ملے گا باقی چار حصوں کو اولاد بانٹ لے گی۔ ولد میں میت کا بیٹا اور بیٹی دونوں آگئے۔ پھر اگر صرف ایک بیٹا ہے تو یہ چاروں کا حصہ لے گا اور اگر کئی ہیں تو باہم برابر بانٹ لیں گے اور اگر بیٹے اور بیٹیاں ہیں تو دوہرا حصہ بیٹا اور اکہرا حصہ بیٹی کو دے کر تقسیم کریں گے اور اگر صرف ایک بیٹی ہو تو آدھا مال وہ لے گی اور حصے کے سوا جو کچھ بچے گا اس کو بھی باپ ہی عصبہ بن کرلے گا۔ اور اگر دو بیٹیاں ہیں یا زیادہ تو دو ثلث وہ لیں گے اور ماں باپ کو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اب (2) ام بنت یہ کہ سوائے ماں باپ کے میت نے اور کوئی وارث نہیں چھوڑا۔ اس صورت میں کل مال کے تین حصہ کرکے ایک ماں کو اور باقی باپ کو ملیں گے جیسا کہ فرماتا ہے فان لم یکن لہ ولد وورثہ ابواہ فلامہ الثلث گرچہ باپ کے حصہ کی شرح نہیں کی مگر دلالۃ سے سمجھا جاتا ہے کہ ثلث کے بعد جو کچھ ہے باپ کا ہے اور وارث تو کوئی ہے نہیں۔ پھر اگر اور وارث بھی ہو یعنی خاوند عورت کا اور خاوند کی بیوی مثلاً ایک شخص مرا۔ اس نے اولاد تو کچھ نہ چھوڑی مگر بیوی اور ماں باپ چھوڑے یا ایک عورت لاولد مری اس نے خاوند تھا۔ فدک میں جو کچھ زمین تھی وہ وقف علی الاقارب تھی۔ اگر یہ روایات جو خبر احاد ہیں جن کا ظن سے زیادہ مرتبہ نہیں تسلیم بھی کرلی جائیں تو ممکن ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا ؓ کو وراثت کا خیال پیدا ہوا ہو مگر اصل حقیقت ابوبکر رازدار رسول خدا ﷺ سے سن کر خاموشی اختیار فرمائی اور دم اخیر تک کلام نہ کیا مگر ابوبکر ؓ بھی غصب کرکے جیسا کہ معترض کہتا ہے اپنے تصرف میں نہ لائے اور نہ اپنی اولاد کو دے گئے کہ جن میں سے ایک لڑکی رسول خدا ﷺ کی بیوی تھیں جن کو میراث میں سے بھی کچھ حصہ مل سکتا تھا مگر بدستور آنحضرت ﷺ کے اقارب کو اس کی آمدنی دیتے رہے۔ پھر عمر و عثمان بلکہ علی کی خلافت میں بھی اسی پر عمل درآمد رہا۔ اپنی خلافت میں خود علی ؓ نے بھی اس زمین کو حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد کو نہ دیا ورنہ ردّ مظالم امام برحق کا فرض منصبی تھا حضرت حسن ؓ نے اپنی خلافت میں اس پر مالکانہ تصرف فرمایا۔ یوں ابوبکر پر طعن کرنے کے لئے مخالف اس واقعہ کی برے پیرایہ میں تصویر کھینچتا ہے تو اس کو اختیار ہے مگر وہ پیغمبر خدا ﷺ اور فاطمہ ؓ پر بھی در پردہ طعن کر رہا ہے بلکہ حضرت علی اور حسن ؓ پر بھی معاذ اللہ۔ 12 منہ
اور ماں باپ چھوڑے اس صورت میں علماء کا اختلاف ہے کیونکہ آیت میں اس کی کچھ تصریح نہیں۔ اکثر صحابہ ؓ کہتے ہیں پیشتر خاوند اپنا چوتھاحصہ لے گا۔ اس کے بعد تہائی یعنی ثلث ماں لے گی اور جو بچے گا باپ لے گا۔ یوں تقسیم کریں گے مسئلہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ کل کا ثلث ماں لے گی۔ اس طرح تقسیم زوج ام 4 اب 2 اس صورت میں باپ کو ماں سے کم ملتا ہے۔ (3) یہ کہ میت کے اولاد تو نہ ہو مگر باپ ماں کے سوا اس نے بہن بھائی چھوڑے ہوں۔ اس صورت میں صرف ماں کا حصہ خدا نے بیان کیا کہ اس کو سدس یعنی چھٹا حصہ ملے گا۔ فان کان لہ اخوۃ فلامہ السدس مگر یہ حکم جب ہے کہ دو یا دو سے زیادہ میت نے بہن بھائی چھوڑے ہوں۔ اخوۃ اخ کی جمع ہے مگر مراد وہ ہے کہ جس سے اخوۃ ثابت ہو خواہ بھائی ہو یا بہن عینی ہوں یا علاتی یا اخیافی اگر ایک بہن ہے تب ان کو ثلث ملے گا مگر یہ نہ فرمایا کہ سدس کے بعد باقی کون لے گا۔ جمہور صحابہ یہ کہتے ہیں کہ قرینہ ولادت کرتا ہے کہ باپ لے گا جیسا کہ فلامہ الثلث سے دو ثلث باپ کے لئے سمجھے جاتے ہیں اور ان میں بہن بھائیوں کو اس صورت میں کچھ نہ ملے گا محروم رہیں گے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں ان کو ایک سدس جو ماں سے لیا ہے دیا جاوے گا اور تنہا بہنیں ہوں گی تو ماں کو ثلث ہی ملے گا کیونکہ لفظ اخوۃ ہے نہ اخوات۔ واضح ہو کہ دادا 1 ؎ بمنزلہ باپ کے اور نانی دادی بمنزلہ ماں کے ہے۔ یہاں اس کی بھی آیت میں تصریح کردی ہے کہ سب حصہ میت کے قرضہ اور وصیت ادا کرنے کے بعد قائم ہوں گے اور یہ بھی بتلا دیا کہ ان حصوں کے مقرر کرنے میں جو مصلحتِ الٰہی ہے اس کو تم اچھی طرح نہیں جانتے لا تدرون ایہم اقرب لکم نفعا چونکہ یہ تقسیم عرب کے دستور قدیم کے برخلاف تھے تاکہ ان کو شاق نہ معلوم ہو۔ اس لئے یہ فرمایا گیا نسب کی تیسری قسم میں بہن بھائی ہیں۔ ان کا مرتبہ اولاد اور ماں باپ کے بعد ہے مگر زوجیت کا تعلق عجیب ہے اور نیز بیوی کو عرب میں حصہ نہیں دیتے تھے۔ اس لئے ان سے پہلے میاں بیوی کا حصہ بیان فرمایا اور میاں بیوی کا حصہ دوسرے سبب یعنی نکاح پر مبنی ہے۔ ہم تفسیر میں پیشتر اس سے فارغ ہو لیں پھر اس تیسری قسم کی تشریح کریں گے اگر خاوند لاولد مرے تو منجملہ اور وارثوں کے بیوی کو چوتھا حصہ کل مال میں سے پہنچے گا ٗ خواہ ایک بیوی ہو یا چار سب اسی چہارم میں شریک ہیں اور اگر میت کی اولاد ہے خواہ بیٹا خواہ بیٹی خواہ ایک خواہ دو اس بیوی سے یا کسی اور سے خواہ لونڈی شرعیہ سے تب بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا اور اگر بیوی لا ولد مرے تو خاوند کو نصف ورنہ چہارم ملے گا۔ جیسا کہ فرماتا ہے ولکم نصف ما ترک ازواجکم ان لم یکن لہن ولد۔ الا یہ چونکہ عورت مہر بھی پاتی ہے پھر اور شخص سے بھی نکاح کرسکتی ہے اور نیز مرد سے کم رتبہ ہے اس لئے اس کا حصہ ہر حال میں میاں کے حصے سے نصف رہا۔
واضح ہو کہ اگر ایک ماں باپ کی اولاد ہے تو ان کو بہن بھائی عینی اور کبھی بنی اعیان کہتے ہیں اور اگر ماں غیر اور باپ ایک ہو تو ان کو بہن بھائی علاتی کہتے ہیں اور اگر ایک ماں اور دو باپ ہوں مثلاً ایک عورت نے پہلے ایک شخص سے نکاح کیا۔ اس سے اولاد ہوئی پھر اس کے طلاق دینے یا مرنے کے بعد اور سے نکاح کرکے اولاد حاصل کی سو یہ بہن بھائی اخیافی کہلاویں گے۔
چونکہ اخیافوں کا رشتہ ضعیف ہے اس لئے پیشتران کے حصہ کا ذکر کیا کہ اگر کوئی مرد یا عورت کلالۃ ہو یعنی نہ اس کے ماں باپ ہوں نہ اولاد ہو بلکہ صرف بہن بھائی ہوں تو ان میں سے ہر ایک کو سدس یعنی چھٹا حصہ ملے گا اور جو دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ان کو ایک تہائی ملے گی۔ اس کو وہ سب آپس میں برابر بانٹ لیں گے۔ بہن بھائی کا حصہ برابر ہوگا۔ اگر میت کی اولاد یا ماں باپ عینی یا علاتی بہن بھائی ہوں تو ان کو کچھ بھی نہ ملے گا۔ وان کان رجل یورث کلالۃ اوا مراۃ ولہ اخ اخت فلکل واحد منہا السدس الآیۃ باتفاق جمہور اس جگہ اخ ادراخت سے بھی اخیافی بہن بھائی مراد ہیں کس لئے کہ اسی سورة نساء کے اخیر میں عینی اور علاتی بہن بھائیوں کا ورثہ بیان فرمایا ہے جو
1 ؎ یعنی اگر باپ نہ ہو تو اس کے قائم مقام میراث میں دادا ہے اور ماں نہ ہو تو نانی یا دادی ان کا قائم مقام ہونا بعض کے نزدیک لفظ اب اور ام سے ہے اور بعض کے نزدیک اجماع امت سے اسی طرح پوتا قائم مقام ابن کے ہے۔ 12
اس ورثہ کے غیر ہے کما قال قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ ان امراء ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلہا نصف ما ترک وھو یرثہا ان لم یکن لہا ولد فان کانت اثنتین فلہما الثلثان مما ترک وان کانوا اخوۃ رجالاً ونساء فلذکر مثل حظ الانثیین الآیۃ یعنی اگر ایک بہن میت کی ہو اور اس میت کی اولاد اور ماں باپ نہ ہوں جس کو کلالۃ کہتے ہیں تو اس بہن کو نصف مال ملے گا اور اگر دو یا زیادہ ہیں تو ان کو دو ثلث ملیں گے اور اگر ان کے ساتھ بھائی بھی ہے تو عصبہ ہو کر مرد کے لئے دو حصے اور عورت کے لئے ایک حصہ کرکے تقسیم کرلیں گے۔ یہ لوگ کہ جن کے قرآن میں حصے مقرر ہوئے ان کو ذوالفروض کہتے ہیں جس صورت میں کہ یہ لوگ مرتد نہ ہوں یا مورث کو عمداً قتل نہ کریں یا اختلاف دین نہ ہونا یا اختلاف حریت عبدیت میں نہ ہو اس وقت ان کو یہ حصہ ملے گا۔
نسب کی چوتھی قسم ایک اور بھی ہے جس کو عصوبت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ذوالفروض کے حصوں کے بعد جو کچھ باقی بچتا ہے اس کو عصبہ لے لیتا ہے عصبوں کی تین قسم ہیں کیونکہ اس کے عصبہ ہونے میں اگر غیر کی احتیاج نہیں تو اس کو عصبہ بنفسہٖ کہتے ہیں اس قسم میں وہ ذکور ہیں 1 ؎ کہ جن کا واسطہ میت سے بغیر توسط انثی 2 ؎ کے ہو جیسا کہ میت کی اولاد (ذکور) اور اس کا باپ دادا پھر اس کے بھائی پھر اس کے دادا کی اولاد درجہ بدرجہ یہ چار قسم ہیں اور اگر غیر کی حاجت ہے اور وہ غیر بھی عصبہ ہے تو اس کا باپ دادا پھر اس کے بھائی پھر اس کے دادا کی اولاد۔ درجہ بدرجہ یہ چار قسم ہیں۔ اور اگر غیر کی حاجت ہے اور وہ غیر بھی عصبہ ہے تو اس کو عصبہ لغیرہ کہتے ہیں۔ جیسا کہ میت کی بیٹیاں اور پوتیاں اور بہنیں یہ بھائیوں کے ساتھ مل کر عصبہ ہوتی ہیں جو وہ خود عصبہ ہیں۔ اگر وہ عصبہ نہیں تو اس کو عصبہ مع غیرہ کہتے ہیں جیسا کہ میت کی بہن پوتی کے عصبہ ہوجاتی ہے ان کے بعد ذوالارحام ہیں۔ عصبات کا وارث ہونا احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ تیسرا سبب توریث ولاء رہے۔ ولاء یہ ہے کہ کوئی شخص کسی غلام کو آزاد کر دے اور اس کے اقارب نہ ہوں تو یہ آزاد کرنے والا کہ جس کو مولی العتاقہ کہتے ہیں وارث ہوگا اور اس کو عصبہ سبیہ کہتے ہیں۔ چونکہ ان میں بھی ایک دوسرے کا ہر طرح سے مددگار ہے اس لئے وراثت قائم ہوگی یا دو شخص ایسے کہ جن کو اقارب نہ ہوں باہم معاہدہ یگانگت کرکے گذران کریں تو اس کو مولی الموالات کہتے ہیں۔ ان میں بھی باہم وراثت ہوگی بشرطیکہ اقارب نہ ہوں ورنہ نہیں۔(1) دوبارہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حصیّ وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد قائم ہوں گے کیونکہ قرض کا میت پر باقی رہ جانا اور وارثوں کا مال لے کر چلتے پھرتے نظر آنا میت کو بھی عالم آخرت میں ضرر دیتا ہے اور قرض خواہ کا بھی ضر رہے اور نیز وصیت کا پورا نہ ہونا بھی میت کی روح کو صدمہ دیتا ہے۔ اس لئے غیر مضار فرمایا اور تاکید کرکے وصیت من اللّٰہ کہہ دیا کہ یہ تعمیل بھی وصیت الٰہی ہے۔ (2) کسی وارث کے لئے بغیر مرضی دوسرے وارثوں کے وصیت جائز نہیں اور اگر کسی غیر کے لئے وصیت کرے تو ایسا نہ کرے کہ تمام مال مرتے وقت غیروں کو بخش کر وارثوں کو محروم چھوڑ جائے۔ غایۃ الامر تہائی مال تک وصیت کرسکتا ہے کہ فلاں فقیر کو یہ دینا یا مدرسہ یا مسجد میں لگانا یا فلاں میرے دوست کو اس قدر دینا اور جو کل کی وصیت کرے گا تو اس میں سے موصی لہ کو صرف ثلث ملے گا۔ (3) احکام میراث بیان فرما کر یہ فرمایا کہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جو ان پر قائم رہے گا جنت میں آرام پاوے گا ورنہ جہنم میں ذلت اٹھاوے گا۔
1 ؎ مرد 12 2 ؎ عورتیں 12
Ayahs 4:12–143 ؎ کلالہ اس کو کہتے ہیں کہ جس کے نہ فروع ہوں یعنی کوئی اولاد نہ ہو نہ اصول ہوں ماں باپ دادا وغیرہ 12 منہ
: کلالتہ کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل سے مشتق ہے جس کے معنی بار کے ہیں۔ ایسی قرابت بعیدہ جو نہ اصول سے تعلق رکھے نہ فروع سے ایک طرح کی بار ہوتی ہے۔ پھر کلالہ کون ہے ؟ بعض کہتے ہیں وہ میت ہے کہ جس کے بعد اس کے وارثوں میں سے نہ اس کے اصول ماں باپ موجود ہوں نہ فروع اولاد ہو بلکہ اور لوگ ہوں بھائی اور ان کی اولاد وغیرہ ان کی نسبت یہ بلحاظ پرورش کے ایک بار سمجھا جاتا ہے۔ ابوبکر عمر علی اور جمہور صحابہ ؓ اور اہل لغت و اہل حرمین کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں میت کے ایسے وارث جو اس کے اصول سے ہوں نہ فروع سے ہوں۔ 12 منہ
: اور یہ بھی ہے کہ آدمی سب سے زیادہ اپنی اولاد کو عزیز رکھتا ہے۔ انہیں کے لئے کماتا ہے۔ آپ نہیں کھاتا ان کو کھلا کر خوش ہوتا ہے۔ اس لئے سب سے زیادہ یہی مستحق ہیں۔
Ayah 4:15ترکیب : والتی کی جمع خلاف قیاس ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ لفظ جمع کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ مبتداء فاستشہدوا اس کی خبر۔ گرچہ یہ امر ہے لیکن بہ سبب ملنے التی کے فعل سے شرط کا حکم رکھتی ہے۔ بعض کہتے ہیں خبر محذوف ہے تقدیرہ حکمھن فیما یتلی علیکم وھو فاستشہدوا الخ او یجعل عاطفۃ بعض کہتے ہیں بمعنی ان لہن یجعل سے متعلق ہے۔ والذان کو والاتی پر قیاس کرلیجئے مبتداو خبر ہونے میں۔ انما التوبۃ مبتداء علی اللّٰہ ثابت کے متعلق ہو کر خبر للذین الخ حال ہے ضمیر ثابت سے جس کے متعلق علی ہے۔ بعض کہتے ہیں للذین خبر علی اللّٰہ شیء مقدر سے حال ہے ولا الذین الخ معطوف ہے الذین یعملون السئیات پر مبتداء خبر بھی ہوسکتے ہیں۔
تفسیر : پہلے آیات میں عورتوں کے لئے میراث کا حکم دیا تھا جس کا عرب میں عموماً دستور نہ تھا۔ یہ بات ان کے حق میں نہایت شفقت کی تھی۔ اس کے ساتھ زنا وغیرہ مفاسد کا بھی حکم بیان کیا تاکہ برائی سے منع کرکے کامل شفقت ہوجاوے۔ خصوصاً میراث کے بعد جبکہ عورت کے پاس مال ہوجاتا ہے اور نیز اس کا سرپرست مرجاتا ہے تو یہ دونوں باتیں اس کے نفس کو شتر بےمہار کردیتی ہیں جس سے آزادگی اور اس سے حرامکاری جو باعث فسادِ عالم ہے پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم اب آزاد ملک کی عورتوں کو دیکھتے ہیں اس لئے ایسے موقع پر اس حکم کا بیان کرنا بھی نہایت مناسب ہے۔
(1) والتی الخ الفاحشۃ مصدر ہے جیسا کہ العاقبۃ برے کام یا بری بات کو کہتے ہیں مگر اس جگہ مراد زنا ہے کیونکہ یہ قوت شہوانیہ کا بد نتیجہ ہے جو نہایت بد ہے۔ جمہور کے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں کہ جو عورتیں زنا کریں اور چار گواہ ان پر چشم دید گواہی دے دیں تو ان کو گھر میں یہاں تک مقید رکھیں کہ ان کا حکم نازل ہوجاوے یعنی ان کے لئے خدا کوئی طریقہ خلاصی کا نکالے۔ یہ حکم ابتدائِ اسلام میں تھا۔ جب کسی عورت پر زنا کی شہادت گذر جاتی تھی تو اس کو گھر میں مقید رکھتے تھے۔ اس بات کے انتظار میں کہ انجام جو حکم اس کے حق میں نازل ہو اس پر
1 ؎ ابتدائِ اسلام میں زنا کی یہی سزا تھی پھر بعد میں یہ سزا سخت ہوگئی۔ رجم یا سو کوڑے مارنے کا حکم آگیا۔ 12 منہ
عمل کیا جاوے۔ چناچہ پھر چند عرصہ کے بعد سورة نور میں حکم نازل ہوا اور آنحضرت ﷺ نے اس کی تشریح فرمادی کہ اگر کنوارہ یا کنواری ایسا فعل کرے تو اس پر سو درے مارنے چاہییں اور کبھی اس کی سات برس تک جلاوطنی بھی کی گئی ہے اور جو بیاہا ہوا مرد یا عورت جس کو محصن یا محصنہ کہتے ہیں ایسا کرے تو اس کو سنگسار کرنا چاہیے۔ چناچہ یہ بیان فرما کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا خذواعنی قد جعل اللہ لہن سبیلا رواہ مسلم تورات میں بھی زنا کی سزا قتل ہے۔ چار گواہ اس لئے مقرر کئے کہ یہ بڑا نازک معاملہ ہے ٗدو ایک کا جھوٹ باندھ لینا سہل ہے مگر چار ثقہ آدمیوں کا ہونا جو جماعت کا حکم رکھتے ہیں ایسی جھوٹی بات پر متفق ہونا عادتاً ناممکن ہے اور نیز اس میں پردہ پوشی بھی ملحوظ ہے۔ اس میں علاوہ سزائے موت کے خاندان کی عزت پر بھی دھبہ لگتا ہے اور نیز یہ فعل اس سے سرزد ہوتا ہے اور کم سے کم مرتبہ شہادت میں دو گواہ ہیں تو دو مرد کے فعل کے لحاظ سے دو عورت کے لحاظ سے چار ہوگئے۔