4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 4:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے پروردگار (اللہ) سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں میں سے بہت سے مرد اور عورتیں (روئے زمین پر) پھیلائیں اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام سے تم ایک دوسرے سے مطالبہ کیا کرتے ہو اور قرابت سے بھی (ڈرو) یقینا اللہ تم پر نگہبان ہیں (دیکھ رہے ہیں)

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کو ان کے مال دو اور ناپاک سے پاک کو تبدیل نہ کرو اور ان کے مال اپنے مال میں ملا کر مت کھاؤ یقینا یہ بڑا گناہ ہے

اسرار و معارف رکوع نمبر 1 ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔ یا الناس اتقوا ربکم۔۔۔۔ انہ کان حوبا کبیرا۔ آیات نمبر 1 تا 2 ۔ اے لوگو اس سے نہ بگاڑو جو تمہارا رب ہے یعنی تمہاری تمام ضروریات کا پورا کرنے والا ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا ہے۔ اخوت کا یہ حال ہے کہ جملہ انسانیت کی اصل ایک فرد ہے حضرت آدم علی نبینا و ﷺ ، اسی ایک فرد سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا وہ قادر مطلق حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ان کی زوجہ محترمہ حضرت حوا کو بھی تو مٹی سے پیدا کرسکتا تھا اور پھر ہمیشہ ساری انسانیت کو بھی اسی طرح پیدا کرنے پہ قادر تھا مگر اس نے کوئی علیحدہ وجود پیدا کرنا پسند نہیں فرمایا بلکہ اسی ایک وجود سے دوسرے کو تخلیق اور پھر ان دونوں کو مزید افرادِ انسانیت کے پیدا کرنے کا سبب بنا دیا اور اس سے طرح سے مرد و عورت کو جہاں میں پھیلا دیا۔ رنگ مختلف ہوسکتے ہیں زبان کا فرق ہوسکتا ہے قد و قامت جدا جدا ممکن ہے مگر اصل سب کی ایک ہے اور تمام افرادِ انسانیت ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ ایک بدن کے اجزا ہیں اس لیے انہیں محبت ہی زیب دیتی ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کی نگہداشت کی امید کی جاسکتی ہے۔ کہ ایک درخت کی شاخیں اور پتے آپس میں دشمن نہیں ہوتے بلکہ اگر شاخیں الجھ جائیں تو چھاؤں اور گھنی ہوجاتی ہے ایسے ہی افراد انسانیت میں اگر اختلاف یا الجھاؤ پیدا ہو تو انسانیت کی بہتر کے لیے سایہ مزید گھنا کرنے کے لیے تو ہوسکتا ہے تباہی کا تصور انسانیت کے منافی ہے جب ہی تو اسلام نے کافر تک کے حقوق مقرر فرما دئیے ہیں اور اس پر بھی ظلم و زیادتی کرنے کی اجازت نہیں دی چہ جائیکہ مومن ایک دوسرے پر یا مرد اپنی بیویوں پر ورثاء اپنے یتیم عزیزوں پر زیادتی کریں تو یہ بات ہرگز ہرگز اللہ کریم کو پسند نہیں۔ یاد دلایا کہ جب تمہیں اپنا حق طلب کرنا ہو تو کیا نہیں کہتے ہو کہ اللہ سے ڈرو اور میرا حق ادا کردو یا قریبی رشتے کا واسطہ دیتے ہو کہ دیکھو آپس میں تو یہ بات زیب نہیں دیتی ، فرمایا یہ درست ہے مگر جب تمہاری اپنی باری آئے تب بھی تو خیال رکھو کہ اللہ کریم سب کا رب ہے اور رشتہ داری میں سب کی اصل ایک فرد ہے پھر رب جلیل ہمارے ہر حال کو دیکھ رہا ہے کیفیات باطنی تک اس سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ سو نہ صرف طلب حقوق میں بلکہ ادائے فرائض میں بھی اس کا خیال رکھو۔ یتیموں سے برتاؤ : اور یتیم بچوں کو تو تمہاری ذاتی توجہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ان کی طرف سے تو کوئی مطالبہ کرنے والا بھی نہیں۔ انہیں ان کے اموال سے ہرگز محروم نہ کرو اور حرام کو حلال سے نہ بدبو یا برے کو اچھے مال سے تبدیل نہ کرو۔ دونوں صورتیں مفسرین نے تحریر فرمائی ہیں کہ تمہارے پاس جو مال ہے حلال اور جائز اس میں مال یتیم ناجائز طور پر شامل کرکے اسے خراب نہ کردیا کرو ان کے مال میں کوئی اچھی چیز لباس برتن جانور وغیرہ ہو تو اس کی جگہ کمتر شامل کردیا جائے اور وہ لے لیا جائے جیسا کہ عموماً قبل اسلام لوگوں کا وطیرہ تھا تو ایسا ہرگز نہ کرو کہ یہ بہت بڑا وبال ہے اور بہت سخت گناہ ہے کہ جرم تو ہے ہی مگر اس پر جو غضب مرتب ہوتا ہے اور جس قدر رحمت باری سے محرومی ہوتی ہے وہ دوسرے جرائم کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے اگرچہ مال بلوغت پہ لوٹایا جاتا ہے اور بعد بلوغت تو کوئی بھی یتیم نہیں رہتا۔ مگر یہاں چونکہ یتیم ہی کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ فرمایا کہ یتیموں کو ان کا مال لوٹا دو ۔ احادیث مبارکہ میں صلہ رحمی یعنی رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنے کی فضیلت اور آپس میں محبت سے رہنا پھر اس بھائی چارے کو وسعت دے کر پوری انسانیت کی بہتری اور بھلائی کے لیے سرگرم عمل ہونا ہی کمال انسانیت ہے ایسے لوگ ہی اللہ کریم کے پسندیدہ لوگ ہیں جن کی محبت سے دوسروں کو آرام پہنچے اور جو خود انسانیت پر بوجھ ہیں وہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہرگز نہیں ہوسکتے خصوصاً دوسروں کے مال پر نگاہ رکھنے والے لوگ تو کسی تعریف کے ہرگز مستحق نہیں۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان کے سوا جو عورتیں تمہیں پسند ہیں دو سے اور تین سے اور چار سے نکاح کرو پھر اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی بی بی پر بس کرو یا وہ لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس میں بےانصافی نہ ہونے کی امید قریب تر ہے

و ان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی ۔۔۔۔۔۔ آیت 3 ایک غلط روش کی اصلاح : دوسری صورت یتیم بچیوں کے نکاح کی تھی کہ قبل اسلام ورثا مال کے لالچ میں یتیم لڑکیوں سے نکاح تو کرلیتے تھے مگر حقوق ادا نہیں کرتے تھے یہ بھی اموال کے غصب کرنے ہی کا ایک حیلہ تھا سو اسلام نے منع فرما دیا کہ اگر ایسی صورت ہو اور تم ان کے حقوق کی نگہداشت نہ کرسکو تو یتیم لڑکیوں سے شادی ہی نہ کرو بلکہ جو عورتیں نکاح میں حلال ہیں ان میں سے دو تین یا چار تک بیک وقت نکاح کرسکتے ہو مگر خیال رہے کہ ان سب کے حقوق کا خیال رکھنا پڑے گا یہ نہ ہو کہ نکاح تو کرلیا مگر کسی ایک کو تو محبوبہ بنا لیا اور دوسری بیویوں کی پرواہ نہ کی بلکہ سب کے حقوق برابر ہوں گے اور اختیار امور میں کسی کی حق تلفی جائز نہ ہوگی اگر یہ مشکل نظر آئے تو پھر ایک ہی بیوی رکھو یا باندی جو تمہاری ملکیت ہے۔ سو اس طرح امید ہے کہ خطا سے بچ جاؤ گے۔ تعدد ازواج : تعدد ازواج اسلام نے شروع نہیں کیا بلکہ قبل اسلام اس کا بہت زیادہ رواج تھا اور دنیا کی تمام قوموں میں بھی اور سب مذاہب میں بھی اسے جائز سمجھا جاتا تھا۔ نہ صرف عرب بلکہ ایران مصر ، بابل اور ہندوستان سب میں یہ رسم موجود تھی ہندوؤں کا اوتار کرشن سینکڑوں بیویاں رکھتا تھا اور آج بھی ویدوں سے غیر محدود تعدد ازواج ثابت ہے یہی حال وسط ایشیائی اقوام کا تھا اور پیرس و روم کی تاریخ دیکھئے نیز اس کی ضرورت و افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اکثر اقوام میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ مرد جنگوں وغیرہ میں کام آجاتے ہیں اور عورتیں ایسی صورت میں رہ جاتی ہیں کہ انہیں کسی آسرے کی ضرورت ہوتی ہے نیز عورت کی ذات کے مختلف تقاضے ایسے ہیں جن سے مرد آزاد ہے۔ سو اس طرح سے اگر متعدد عورتوں سے نکاح کی اجازت نہ ہوگی۔ تو دوسری صورت زنا ہے جو معاشرے میں پھیل جائے گا۔ جس کا عملی ثبوت مغرب کا معاشرہ پیش کر رہا ہے کہ اپنے متقدمین کے خلاف تعدد ازواج پر پابندی لگا دی مگر بغیر نکاح عورت کے ساتھ مراسم رکھنے میں کوئی پابندی نہیں یعنی نکاح کرنے کی اجازت نہیں داشتہ رکھ سکتے ہو۔ یہ سب صورتیں ناپسندیدہ تھیں کہ لوگ نکاح تو بہت زیادہ کرلیتے پھر ان کی پرواہ نہ کرتے تھے اور دوسری صورت میں زنا کے جرم کے علاوہ داشتہ کے کوئی حقوق بھی تو نہیں اسلام نے اس پہلو کی شاندار اصلاح فرمائی کہ تعدد ازواج کو چار تک کا پابند کردیا۔ کہ بیک وقت کوئی بھی مسلمان چار سے زائد بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ چناچہ احادیث و سیرت میں موجود ہے کہ بعض صحابہ جب مسلمان ہوئے تو قبل اسلام ان کے نکاح میں دس یا آٹھ یا پانچ عورتیں تھیں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ چار رکھ لو جو چاہو اور باقی کو طلاق دے کر آزاد کردو یعنی ایک اصلاح تو یہ فرمائی کہ چار کی حد مقرر فرما دی پھر پوری تاکید سے سب بیویوں کے حقوق برابر قرار دئیے اور مساوات کی بہت زیادہ تاکید فرمائی۔ خلاف ورزی پر اللہ کریم کی سخت ناراضگی کا خوف دلایا۔ نیز شروع میں ہی ، ما طاب ، کہہ کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ جو عورت حلال ہو اور تمہیں پسند بھی ہو۔ کہ اس پسند کو حقوق کی نگہداشت میں بہت دخل ہوگا تو جب چاروں پسندیدہ ہوں گی تو مساوات اور آسان ہوجائے گی۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ دلی چاہت کسی سے کم زیادہ ہو مگر عملی طور پر سب برابر ہوں اگر یہ مشکل نظر آئے جیسا کہ واقعی ہے تو پھر صرف ایک بیوی سے گذارہ کرو۔ یا لونڈی جو تمہاری ملکیت ہے اور بغیر نکاح کے حلال ہے یاد رہے کہ آج کے زمانہ میں وہ شرائط نہیں پائی جاتیں جو باندی کے لیے مقرر ہیں اس لیے کسی عورت کو خرید کر یا باندی بنا کر رکھنا جائز نہیں۔ اس شرط کی اور صورت کیا ہے یہ علیحدہ موضوع ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ عورت پر اسلام کا احسان : اسلام نے حقوق نسواں کا علم اس دور میں بلند فرمایا جس دور میں عورت محض ایک کھلونا تھی جسے زندہ درگور تک کردیا جاتا تھا جس کی عزت و ناموس سر بازار نیلام ہوتی تھی حتی کہ بیویوں کو ملکیت سمجھا جاتا تھا اور مال کے ساتھ اولاد میں تقسیم بھی ہوتی تھیں۔ مغرب و مشرق ہر جگہ عورت تباہ حال تھی۔ کہ اسلام نے اس کا حق نہ صرف مقرر فرمایا بلکہ معاشرے میں اسے مناسب مقام دلوایا اور حدود مقرر فرما دیں۔ تب اقوام عالم میں یہ رسوا تھی اور اب اقوام عالم میں عیاشی کا ذریعہ اور اشتہار کی زینت بنی ہوئی ہے۔ مشرق ہو یا مغرب سوائے اسلام کے کسی معاشرے میں عورت کا نہ حال ہے اور نہ مستقبل عزت و ناموس نام کی کوئی شئے اس کے پاس نہیں۔ اس کے باوجود اسلام کے تعددازواج کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پھر حیرت ہوتی ہے کہ ناموس رسالت یپہ حملے کئے جاتے ہیں اور اعتراض ہوتے ہیں۔ کفار سے تو گلہ نہیں خود مسلمان کی سمجھ میں بھی پتھر پڑگئے۔ ایک صاحب جو لندن سے چند دن کے لیے تشریف لائے تھے فرمانے لگے کہ ہمارے مولوی کو آپ ﷺ کی زندگی کا یہ پہلو بیان ہی نہیں کرنا چاہئے۔ سبحان اللہ ! انہیں یہ شعور نہیں کہ نبی معصوم ﷺ کی زندگی پاک کا یہ پہلو کس قدر روش اور درخشندہ تھا کہ مشرکین مکہ اور یہود عرب بھی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہ حضور اکرم ﷺ کو اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں ذرا دیکھیں کہ آپ ﷺ نے پچیس برس کنوارے پن میں گزارے اور پھر حضرت خدیجہ ؓ سے نکاح ہوا جو عمر میں آپ ﷺ سے بڑی تھیں پچیس برس حضور ﷺ کے ان کے ساتھ بسر ہوئے جو مثالی زندگی تھی جسے رب جلیل نے نبوت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے باقی سارے نکاح پچاس سال کی عمر شریف کے بعد ہوئے جب عنفوان شباب گذر چکا تھا ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ ؓ سے نکاح ہوا اور چار سال وہ تنہا رہیں عمر شریف چون سال تھیں جب 2 ھ میں عائشۃ الصدیق ؓ رخصت ہو کر آئیں۔ ایک سال بعد حضرت حفصہ ؓ کا نکاح ہوا پھر حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ کا جو ڈیڑھ سال بعد فوت ہوگئیں۔ 4 ھ میں ام سلمی ؓ اور 5 ھ میں زینب بنت جحش ؓ اس وقت عمر شریف اٹھاون برس تھی تب تک صرف چار ازواجِ مطہرات تھیں زاں بعد 6 ھ میں حضرت جویریہ اور 7 ھ میں ام حبیبہ ؓ حضرت صفیہ ؓ اور اسی سال حضرت میمونہ ؓ غرض عمر شریف کے چون برس ایک بیوی کے ساتھ بسر ہوئے اٹھاون برس کی عمر شریف تک چار چار اور اس کے بعد پانچ ازواج مطہرات جمع ہوئیں جن کا نکاح اطہر میں آنا جہاں حضور اکرم ﷺ کی خانگی زندگی کو امت تک پہنچانے کا ذریعہ تھا وہاں سیاسی اعتبار سے ریاست اسلام کو اس قدر فتوحات دینے کا سبب بنا جو سینکڑوں جنگوں سے حاصل ہونا ممکن نہ تھا۔ حضرت ام سلمہ ؓ اولاد ساتھ لائیں تو عملی زندگی میں یتیموں کی پرورش کا انداز سمجھ میں آیا۔ حضرت جویریہ ؓ کا نکاح ان کے پورے قبیلہ کی آزادی کا سبب بنا ام حبیبہ ؓ سے نکاح نے اہل مکہ کی کمر توڑ دی کہ ان کے سردار ابوسفیان کی بیٹی تھی۔ غرض جہاں تک تقدس ذات اور عصمت کا تعلق ہے تو وہ اعتراض تو مشرک بھی نہ کرسکے ہاں حضور اکرم ﷺ کی انفرادی خصوصیات بھی تھیں جیسے وصل کے روزے رات کی نمازیں آپ ﷺ کی جائیداد پر احکام وراثت کا نہ ہونا جسم اطہر کا شب معراج عرش عظیم تک جانا آپ ﷺ کی ازواج کا آپ کا آپ ﷺ کے وصال مبارک کے بعد کسی کے نکاح میں نہ آنا اسی طرح سے ان خوش نصیب خواتین کا اس عظمت سے سرفراز ہونا عطائے الہی ہے جہاں تک معترضین کا تعلق ہے ان کے منہ میں خاک ڈالنے کے لیے ذرا عمر شریف کا تجزیہ اور ان نکاحوں کے سیاسی فوائدجو ریاست اسلامی کو حاصل ہوئے اور دینی تعلیم مسلمانوں کے لیے نگاہ میں رہے اور پھر اللہ کریم کا ارشاد کہ ، لایحل لک النساء من بعد۔ یعنی اب ان کے علاوہ آپ کوئی نکاح نہیں کرسکتے یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ ان خوش قسمت خواتین پر بھی اللہ تعالیٰ کا انعام تھا امت مرحومہ پر بھی احسان تھا اور ریاست اسلامی کے ساتھ ساتھ کفار تک کو ان کے فوائد محروم نہ رکھا کاش مسلمان اس پر معذرت کی بجائے اس موضوع کو پڑھیں کہ ان کے دل صاف ہوں اور انہیں اس پر فخر ہو نہ کہ ندامت۔ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ العزیز کا رسالہ ، کثرت ازواج لصاحب المعراف ، بھی بہت فائدہ مند ہے۔
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ہاں) پھر اگر وہ اپنی مرضی سے تمہیں اس میں سے کچھ معاف کردیں تو اسے ذوق وشوق سے کھالو

آیت 4 ۔ واتوا النساء صدقاتھن۔ مہر کے متعلق احکام : مہر ایک عطیہ ربانی ہے جو عورت کو نئے گھر میں مالک بنا دیتا ہے اور یہ واجب ہے اگر نکاح کرتے وقت اس کی مقدار معین نہ کی تو جب خلوت صحیحہ ہوگی مہر مثل یعنی جس قدر خاندان میں پہلے سے رواج ہے واجب ہوجائے گا چونکہ واجب ہے اس لیے ادائے حکم تو کم سے کم عدو میں بھی ہوجائے مگر مستحسن یہ ہے کہ اپنی حیثیت یا خاندان کی حیثیت کے مطابق دیا جائے اور یہ عورت کی ذاتی ملکیت بن جاتا ہے وہ کسی کو دے یا اپنے پاس رکھے۔ اسے کاروبار میں لگا دے اسے اختیار ہے قبل اسلام عورتوں کے ساتھ مال پر محدود مدت کے لیے معاملہ کرلینے کا رواج تھا جسے متعہ نام دیا گیا اس میں فریقین کی رضا مندی سے مال اور وقت مقرر ہوتا تھا۔ عرب عموماً تجارتی سفر کیا کرتے تھے تو جہاں قیام کرتے وہاں یہ وقتی اور عارضی شادی کرلیتے اسلام نے اسے قطعی حرام قرار دے دیا جیسا کہ شراب کی حرمت بعد میں نازل ہوئی مگر یہ ثابت نہیں کہ اسلام میں کبھی اسے اچھا بھی سمجھا گیا حلال تو دور کی بات ہے ہاں ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حرمت کے احکام نازل ہوئے ایسے ہی متعہ کے احکام بھی ہجرت کے بعد نازل ہوئے مگر یہ کبھی بھی اسلامی نکاح کے معنوں میں نہ تھا ہاں اسلام نے نکاح کے ساتھ یہ واجب قرار دیا کہ مرد اپنی یا اپنے خاندان کی حیثیت کے مطابق بطور مہر کے مال عورت کو دے جو عورت کی ذاتی ملکیت ہوگا یعنی وہ مرد کی صرف باندی نہیں ہوگی بلکہ صاحب ملکیت اور خاندان کا ایک معزز فرد ہوگی سو ارشاد ہوا کہ عورتوں کے مہر ان کو خوشی خوشی ادا کردو یہ نہ ہو کہ اس کے والدین لے کر کھا جائیں یا خاوند ہضم کرجائے یا اس کو مجبور کرکے معاف کرالیا جائے کہ یہ تمام صورتیں جائز نہیں ہیں۔ بعض عرب قبائل میں اور دوسرے لوگوں میں بھی رشتہ دینے پر جو رقم وصول کی جاتی ہے غالباً عہد جاہلیت کی نشانی ہے کہ قبل اسلام عورت بکتی بھی تھی مگر اسلام نے نکاح میں عورت کو مال دلوا کر اسے ایک خاص مقام عطا فرمایا نہ یہ کہ والدین اسے بیچ کھائیں یا پھر شوہر کچھ بھی نہ دے اگرچہ تھوڑے سے مال کو مہر مقرر کیا جاسکتا ہے مگر یہ صرف ادائے واجب کے طور پر ورنہ سیدنا فاروق اعظم ؓ نے ام کلثوم بنت علی ؓ سے نکاح فرمایا تو مہر چالیس ہزار دینار مقرر ہوا تھا (اوجز المسالک) سو شرفاء میں جو رواج ہے کہ پرواہ نہیں کرتے اور بیس پچیس روپے مہر مقرر کرادیا جاتا ہے جائز تو ضرور ہے مگر مستحسن نہیں۔ بلکہ اچھا یہ ہے کہ معقول رقم جو خاندانی حیثیت کے مطابق ہو اور بوجھ نہ بنے عورت کو ادا کی جائے خوشی اور خلوص کے ساتھ کہ وہ بھی افراد خاندان میں برابر کی حیثیت سے شامل ہوسکے ہاں اگر برضا ورغبت مہر کی رقم کا کچھ حصہ خاوند کو معاف کردے یا لے کر واپپس کردے شوق سے کھاؤ یعنی یہ بھی باہمی الفت کے بڑھانے کا اور ایک دوسرے پر اعتماد کا ذریعہ ہے مگر افسوس کہ آج کل یہ اہم کام سخت تغافل کا شکار ہے اور محض خانہ پری کی جاتی ہے اور بس یا پھر جس طرح والدین کی جائیداد سے بہنوں کو حضہ نہیں دیا جاتا بڑا کوئی نیک بنے تو زبانی کلامی معاف کرالیتا ہے اور وہ بےچاری یہ جان کر کہ ملنے سے رہا خواہ مخواہ ناراضگی مول نہ لی جائے معاف کردیتی ہیں ہرگز جائز نہیں آخر جب وہ والدہ کی اولاد ہیں تو ان کو ان کا شرعی حق جو جائیداد میں حصہ کی صورت میں ہے کیوں نہیں دیا جاتا۔ یہی حال عورتوں کا مہر کے معاملہ میں ہے جو ہرگز مستحسن نہیں ہے۔
Ayahs 4:5–6

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور ناسمجھوں کو اپنے وہ مال جسے اللہ نے تمہارے لئے معیشت کا سبب بنایا ہے مت دو اور ان کو اس میں سے کھلاؤ اور ان کو پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہتے رہو

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو آزما لیا کرو جب تک کہ وہ نکاح (کی عمر) کو پہنچیں پھر اگر تم ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس کو فضول خرچی اور جلدی سے مت کھاؤ (اس خیال سے) کہ یہ بڑے ہوجائیں گے۔ اور جو شخص آسودہ حال ہو تو اس کو (اس مال سے) بچنا چاہیے اور جو کوئی حاجت مند ہو تو وہ مناسب مقدار سے کچھ کھائے پھر جب تم ان کا مال ان کے حوالے کرو تو اس پر گواہ کرلیا کرو اور اللہ حساب لینے والے کافی ہیں

آیت 5- 6: ولا توتوا السفھاء اموالکم۔ ۔۔۔ اسلام میں دولت کی اہمیت : ہاں مال اس قدرت بےوقعت بھی نہیں کہ اسے ضائع کیا جائے بلکہ مال کی حفاظت بھی بہت ضروری ہے کہ یہ ایک بہت بڑی قوت ہے اور انسانی زندگی کا مدار اس پر ہے سو مالدار ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ حلال ذرائع سے کمانا اور پھر اس کی حفاظت ضروری ہے کہ صرف ضرورت کے مطابق خرچ کیا جائے اور ضائع ہونے سے بچایا جائے اگر کوئی اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا گیا تو شہید ہوگا جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔ من قتل دون مالہ فھو شہید۔ سو کسی ایسے عزیز کے سپرد مال نہ کیا جائے جو بےعقل ہو اور سنبھال نہ سکے خواہ یتیم ہو یا اپنا بچہ یا عورت لیکن اس میں سے اس کی ضروریات کو مناسب طریقے سے پورا کرو اور نہایت لطف سے پیش آؤ یعنی مال کی حفاظت مقصود ہے کسی کو دوسرے پر مسلط کرنا مراد نہیں ہے ایسے یتیم جب نکاح کی حالت کو پہنچیں یعنی بالغ ہوجائیں تو ان کو پرکھ لو آزما لو اگر وہ ہوشیار معلوم ہوں یعنی ان میں بھلے برے کی تمیز آجائے اور نفع نقصان کی خبر رکھتے ہوں تو ان کے اموال انہیں لوٹا دو اور ان کے مالوں میں اسراف یعنی فضول خرچ نہ کرو نہ اس طرح کھانا شروع کردو کہ ان کے بڑا ہونے سے پہلے ختم کرلیا جائے ورنہ لوٹانا پڑے گا بلکہ اگر گزارہ ہوسکے تو یتیم کے مال سے ہرگز نہ لو اور اپنا دامن صاف رکھو ہاں اگر احتیاج ہو تو بقدر گذارہ لے لو۔ یعنی کم از کم رقم لو اور جب انہیں مال لوٹانے لگو تو اس پر گواہ مقرر کرلو اگرچہ حساب تو اللہ کریم ہی نے لینا ہے اور وہ ہر بات سے خوب واقف ہے مگر قانون کے مطابق گواہ کا ہونا بہت اچھی بات ہے کہ دنیا کی زندگی بھی کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو ہمارے ہاں جو مال کی مذمت کی جاتی ہے اور اکثر بزرگان دین سے بیان ہوئی ہے اس کا سبب مالداروں کی گمراہی ہے اور غریب کی نسبت مالداروں کے پاس گناہ کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں نیز عموماً مالدار لوگ گناہ کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اس لیے مال کو مصیبت سمجھا جانے لگا ورنہ حلال دولت کمانا عبادت ہے اور مال و اقتدار رکھتے ہوئے حدود الہی کی حفاظت اور نگہداشت بڑا مجاہدہ ہے بلکہ جہاد اکبر ہے۔ اکثر علماء صحابہ کرام کی تنگ دستی کے احوال بیان فرماتے ہیں مگر میری نگاہ میں تو قابل بیان ان کا وہ دلی تعلق ہے جو براہ راست ذات باری سے قائم ہوگیا رسول اللہ ﷺ کی ایک نگاہ پاک نے ان کے دل چھلنی اور جگر کباب کردئیے پھر کوئی مصیبت یا تکلیف انہیں اللہ کے دروازے سے ہٹا سکی اور نہ دولت و اقتدار نے ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کیا ورنہ ربع صدی میں چین سے ہسپانیہ تک اور سائبیریا سے جنوبی افریقہ تک ان کی سلطنت پھیل چکی تھی تاریخ عالم میں اتنی بڑی سلطنت اور نظر نہیں آتی پھر روم وفارس اور یمن کے خزانے جو ٹنوں سونے اور جواہرات پر مشتمل تھے سب اکابر صحابہ میں تقسیم ہوتے تھے ان اموال نے انہیں ارب پتی بنا دیا مگر کیا مجال جو عشق الہی میں سرد مہری ہو یا اطاعتِ الہی اور اطاعت رسول مقبول ﷺ میں کمی آئی ہو اور یہی فرد کا کمال ہے کہ اللہ کریم کے ساتھ اس کے حبیب ﷺ کے ساتھ دل کا تعلق ہو اور اتنا مضبوط کہ نہ مال اور نہ اقتدار اس کی جگہ لے سکے سو مال کمانا جائز زرائع سے اور اس کی حفاظت کرنا پسندیدہ بات ہے ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ بچوں یا اہل خانہ کو تنگ دستی میں چھوڑ کر مرنے سے انہیں خوشحال چھوڑ کر مرنا بہت پسندیدہ ہے اور آج کل تو رواج ہے کہ لوگ مال کی مذمت کرتے ہیں اور اسی ذریعہ سے دولت کماتے بھی ہیں فقروفاقہ کے فضائل بیان کرکے فیس وصول کرتے ہیں جہاں مال کمانا اچھی بات وہاں دوسرے کے مال پہ نگاہ رکھنا سخت ناپسندیدہ ہے بلکہ دینی اور ملکی امور پر مقرر حضرات کے لیے جو ایسی خدمات پر مقرر ہیں جن کا انجام دینا فرض کفایہ ہے۔ مثلاً اوقاف ، مساجد ، مدارس یا ایسے ہی دوسرے ادارے تو افضل یہ ہے کہ ان اداروں سے رقوم لے کر نہ کھائیں اور ذریعہ معاش کوئی دوسرا ہونا چاہئے ہاں اگر مجبور ہوں اور اس طرف سے وقت نہ بچے تو بقدر ضرورت حلال ہوگا یعنی جس سے اپنے اور اپنے گھر والوں کے ضرور اخراجات پورے کرسکیں فلیاکل بلمعروف۔ پیش نظر رہنا چاہئے اور اس بات پر بھی نظر ہو کہ۔ وکفی باللہ حسیبا۔ اللہ کریم کے روبرو حساب دینا ہوگا جن حضرات نے مساجد و مدارس اور دینی تقاریر وغیرہ کو عیش کوشی کا سبب بنا رکھا ہے ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کتنی حسرت کی بات ہوگی کہ جن کی باتیں سن کر اور اپنا کر لوگ نجات پا جائیں گے وہ خود مال کے ناجائز طور پر کھانے کی سزا بھگت رہے ہوں اللہ کریم آخرت کی روسوائی سے پناہ دے اور دو عالم میں اپنی رضا اور لطف و کرم نصیب فرمائے آمین۔
Ayahs 4:7–8

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

جو (مال) ماں باپ اور قرابت دار چھوڑ مریں اس میں مردوں کا (بھی) حصہ ہے اور جو (مال) ماں باپ اور قرابت دار چھوڑ مریں اس میں عورتوں کا بھی حصہ ہے وہ تھوڑا ہو یا بہت یہ حصہ (اللہ کا) مقرر کیا ہوا ہے

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب ترکہ تقسیم ہونے کے وقت (دور کے) رشتہ دار اور یتیم اور مساکین آموجود ہوں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے اچھی طرح سے بات کرو

آیت 7 تا 8 ۔ للرجال نصیب تا وسیصلون سعیرا۔ قانون وراثت : مال اگرچہ بےوقعت ہرگز نہیں مگر اس قدر قیمتی بھی نہیں کہ آدمی صرف مال کے حصول پہ نگاہ رکھے اور اس میں دوسروں کے حقوق تک کی پرواہ نہ کرے جیسا کہ قبل اسلام ہوتا تھا کہ عورت سرے سے وارث ہی نہ تھی اور نابالغ بچے بھی وارث نہ تھے سو اگر بالغ اور مذکر اولاد ہوتی تو کچھ پا لیتی ورنہ مرنے والے کے ورثا سب مال لے اڑتے تھے پھر اس میں بھی بعض چیزیں مثلا گھوڑا تلوار زرہ یا اس قسم کی دوسری اشیاء مستثنی قرار دی گئی تھیں اسلام نے اس سارے معاملے کو نہایت حسن و خوبی سے سلجھا دیا۔ فرمایا والدین یا قرابت دار جو ترکہ چھوڑ کر مریں اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی چھوٹے ہوں یا بڑے اور یہ حصہ اللہ کریم کی طرف سے مقرر ہے نیز ہر چیز میں حصہ داری ہوگی وہ چیز چھوٹی ہے یا بڑی۔ مرد اگر وراثت پا لے گا تو عورت بھی پا لے گی نیز کوئی شے تقسیم سے مستثنی نہیں کی جائے گی اور یہ حصہ اللہ کریم کی طرف سے مقرر ہے اس میں لینے والے کی رضامندی بھی شرط نہیں بلکہ وہ شرعی طور پر مالک ہوجائے گا ہاں اپنا حصہ لے کر کسی کو دے دے یا شرعی طور پر مالک بن کر اپنا حصہ کسی کو ہبہ کردے یا تقسیم کردے تو الگ بات ہے۔ وراثت کا سبب دو چیزوں کو قرار دیا الوالدان والاقربون رشتہ ولادت جو اولاد اور والدین کے درمیان ہے دوسرے قرابت جس میں تمام رشتے خواہ وہ ازدواجی ہوں یا خاندانی سب شامل ہیں۔ اور یہ قانون بن گیا کہ وراثت کے لیے صرف رشتہ داری کافی نہ ہوگی بلکہ اقرب یعنی قریب تر ہونا مستحق ثابت کرلے گا۔ اور قریبی رشتہ دار کے ہوتے ہوئے دور کا رشتہ دار وارث نہیں ہوگا۔ ہاں جو لوگ قرابت میں برابردرجہ رکھتے ہوں گے سب وارث قرار پائیں گے اس حصے کے مطابق جو اللہ کریم نے مقرر فرما دیا ہے اگر ایسا نہ ہو اور سب رشتہ دار وارث قرار دئیے جائیں تو روئے زمین کے سب انسان ایک دوسرے کے وارث ہوں گے کہ سب ایک والد کی اولاد ہیں۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کی ۔ حضرت امیر معاویہ ؓ کی خدمت میں ایک آدمی نے پیغام بھجوایا کہ آپ کا بھائی باہر موجود ہے اور اتنی بڑی ریاست میں سے اپنے حصے کا طالب ہے انہوں نے طلب فرمایا اور پوچھا تم میرے کس طرح بھائی ہو۔ کہنے لگا آپ بھی آدم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں اور میں بھی۔ انہوں نے نصف درہم دے دیا بڑا حیران ہوا کہ اتنی بڑی سلطنت میں بھائی کا صرف یہ حصہ فرمایا بھاگ جاؤ اگر دوسرے بھائیوں نے سن لیا تو یہ بھی نہیں ملے گا۔ سو یہی حال ہوتا اس لیے قانون بن گیا کہ قریبی رشتہ دار ہو تو رشتہ بعید وارث نہ ہوگا اس ضمن میں پوتا بھی آ گیا کہ بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتا وارث نہ ہوگا خواہ اس کا باپ زندہ ہو یا نہ۔ نیز کسی کا ضرورت مند ہونا بھی وارث نہیں بناتا کہ اس کا بھی کیا ثبوت کون زیادہ ضرورت مند ہے نیز آج کا ضرورت مند کل کا غنی اور آج کا غنی کل کا ضرورت مند ہوسکتا ہے۔ ہاں اگلی آیہ کریمہ میں اس کمی کا ازالہ فرما دیا کہ جب میراث تقسیم ہو رہی تو رشتہ دار جو وارث تو نہیں بن سکے مگر رشتہ داری تو ہے اور یتیم و مسکین لوگ اگر وہاں حاضر ہوں تو انہیں کچھ نہ کچھ دے دیا جائے تاکہ وہ محروم نہ رہیں یہ بہت بڑی نیکی اور صلہ رحمی ہے نیز ان سے خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے اور شیریں کلامی سے پیش آئیں تو اگر چچا ہوں یا پھپھیاں یتیم بھتیجے کو اپنے اپنے حصے سے دے دیں تو دوہرا اجر وثواب پائیں اور اس کی نہ صرف دل داری ہو بلکہ مال سے کسی قدر حصہ بھی پا لے ہوسکتا ہے دوسروں سے زیادہ مال اسے مل جائے و نیز اللہ کریم خود رزاق ہے جن کو وراثت نہیں ملتی بلکہ والدین قرضہ چھوڑ کر مرتے ہیں۔ ان کی روزی کہاں سے آتی ہے یہ تو بڑا سیدھا سادا قانون تھا جسے جدید مجتہدوں نے الجھانے کا پروگرام بنا رکھا ہے اور ایک شور بپا کر رکھا ہے۔
Ayahs 4:9–10

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے بعد چھوٹے بچے چھوڑ جائیں تو انہیں ان کی (کتنی) فکر ہو پس ان کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی بات کہنی چاہیے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ زیادتی کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے

آیت 9 تا 10 ۔ قرآنی انداز تربیت : دین اسلام کو یاد دلاتا ہے کہ اسے بھی مرنا ہے اور ممکن ہے اسی طرح چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مرجائے تو یہ کیا چاہے گا کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے ویسا ہی سلوک ان بچوں سے کرے جو آج اس کے سامنے یتیم ہو کر بےکسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ اور اللہ سے ڈرتا رہے کہ وہ ہر چیز پہ قادر ہے ایسا ہی سلوک اس کے ساتھ بھی کرسکتا ہے سو چاہئے کہ نہایت ہی موزوں بات کرے۔ اور یہ یاد رکھو کہ مال یتیم جو شخص بھی ناروا طور پر کھائے گا وہ یقیناً اپنے پیٹ میں آگ بھر رہا ہے اور عنقریب اسے بھڑکتی آگ یعنی دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ بعض علما نے لکھا کہ یہ خبر بطور استعارہ کے ہے مگر ایسا نہیں ہے بلکہ اعمال انسانی پر دونوں اجر بیک وقت دئیے جاتے ہیں دنیا کا اجر بھی اور آخرت کا بھی دنیا کا اثر یہ ہے کہ پیٹ بھر گیا مگر اخروی اجر یہ ہے کہ پیٹ میں آگ ڈالی جا رہی ہے حدیث شریف میں وارد ہے کہ بعض لوگ اس حال میں اٹھیں گے کہ منہ ناک کان وغیرہ سے دھواں اور شعلے نکل رہے ہوں گے اور یہ آگ اگرچہ ظاہر کی آنکھوں سے نظر نہیں آتی مگر اپنا اثر دکھاتی ہے اور دنیا میں بھی چین نصیب نہیں ہوتا ایسے لوگ زندگی بھر تڑپتے رہتے ہیں اور بعد مرگ تو عذاب ہے ہی۔ اللہ کریم اپنے عذابوں سے اپنے ہی پناہ میں رکھے اور ایسے امور سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس کی ناراضگی کا سبب ہوں۔ آمین۔
Ayahs 4:11–12

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

اللہ تم کو تمہاری اولاد کے بارے حکم دیتے ہیں کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں دو سے زیادہ بھی ہوں تو مرنے والے کے ترکے سے ان کو دوتہائی ملے گا اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کو نصف ملے گا اور اس کے ماں باپ دونوں میں سے ہر ایک کے لئے مرنے والے کے ترکہ سے چھٹا حصہ ہے اگر اس (مرنے والی) کی کچھ اولاد ہو۔ پس اگر اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا حصہ ایک تہائی ہے پھر اگر اس کے ایک سے زیادہ بہن بھائی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا (اور باقی باپ کو ملے گا) وصیت جو اس نے کی ہو پوری کرنے یا قرض ادا کرنے کے بعد۔ تمہارے آباء اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ فائدے کے لحاظ سے تمہارے لئے ان میں سے کون بہتر ہے یہ (حصے) اللہ کے مقرر کیے ہوئے ہیں یقینا اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہارے لئے نصف ہے (اس ترکہ میں سے) جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اگر ان کے اولاد نہ ہو پس اگر ان کے اولاد ہو تو تمہیں ان کے ترکے سے ایک چوتھائی ملے گا ان کو وصیت جو انہوں کی ہو پوری کرنے یا قرض ادا کرنے کے بعد اور جو تم چھوڑ جاؤ اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو ان (بیبیوں) کو اس میں سے ایک چوتھائی ملے گا پس اگر تمہاری اولاد ہو تو تمہارے ترکے میں سے تمہاری کی ہوئی وصیت پوری کرنے یا قرض ادا کرنے کے بعد ان کو آٹھواں حصہ ملے گا اور اگر کسی ایسے مرد کی یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا اور اس کے ایک بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹاحصہ ہوگا پس اگر یہ لوگ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (اس حال میں) کہ جو وصیت کی گئی پوری کی جانے یا قرض کو ادا کیے جانے کے بعد بشرطیکہ (مرنے والا وصیت میں) کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ جاننے والے حلم والے ہیں

رکوع نمبر 2 اسرار و معارف آیات 11 تا 12: میراث کی تقسیم : اللہ کریم نے مرنے والے کے مال میں سب حقداروں کا حصہ مقرر فرما دیا جس کا قاعدہ یہ ہے کہ پہلے اس کے کفن دفن کا اہتمام کیا جائے جو نہ کنجوسی سے ہو نہ اس میں فضول خرچی کی جائے اور پھر اس کے قرض کو ادا کیا جائے جو سب سے ضروری ہے اگر مال نہ بچے تو کوئی وراثت نہیں اگر بچ جائے تو ایک تہائی مال میں وصیت نافذ ہوگی اگرچہ مرنے والے نے سب مال میں کردی ہو۔ جیسے یورپ میں مرنے والے انسانوں کو تو محروم رکھتے ہیں اور کتوں بلیوں وغیرہ کے لیے سب مال کی وصیت چھوڑ کر مرتے ہیں اسلام ایسی کسی وصیت کو سرے سے قبول نہیں فرماتا نیز ورثا کو محروم کرنے کے ارادے سے ایسی وصیت کرنے کو سخت گناہ قرار دیتا ہے یہ دنیا یا اس کا مال حقیقتاً اللہ کریم کی ملکیت ہے اس نے عطا فرمایا ہم نے استعمال کیا جو بچ رہا وہ کس کس کا ہے یہ مالک کی مرضی سو اس نے اس کی تقسیم فرما دی زیادہ تفصیل تو کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے یہاں عام فہم مفہوم ہی پیش کیا جاسکتا ہے۔ جو یہ ہے کہ اداء قرض کے بعد اگر وصیت ہو تو پہلے وہ پوری کی جائے جو ایک تہائی میں نافذ ہوگی اور اگر نہ ہو تو باقی سارا مال یوں تقسیم ہوگا کہ قریبی رشتہ پہلے پائیگا اور اس کے سامنے دور والے کی کوئی حیثیت نہ ہوگی سب سے قریب اولاد یا والدین ہوتے ہیں سو ارشاد ہے کہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلہ میں دوگنا حصہ دیا جائے مثلا اگر ایک لڑکا اور دو لڑکیاں رہ گئیں تو مال کے 4 حصے ہوں گے دو حصے لڑکا پائے گا جبکہ ایک ایک حصہ دونوں لڑکیوں کو دیا جائے گا وعلیٰ ھذا۔ قرآن حکیم نے لڑکیوں کا حصہ بطور اصل ذکر فرمایا اور اس پر دوگنا حصہ لڑکے کا مقرر فرمایا یعنی بنیاد ہی لڑکی کا حصہ قرار دیا عورت جس قدر محرومی کا شکار تھی اسی شدت سے اس کے حصے کا تذکرہ فرما کر یہ تاکید فرما دی کہ بچیوں کو بہرحال حصہ دیا جائے اور جائز نہیں کہ انہیں یہ کہہ دیا جائے کہ آپ تو جہیز لے چکی ہیں جہیز ایک تحفہ ہے جو والدین اپنی مرضی سے اور اکثر اظہار شوکت کے لیے دیتے ہیں مگر وراثت میں بچی کا حق ہے جو اسے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اکثر لوگ کسی حد تک شرعی بھرم رکھنے کے لیے معاف کرا لیتے ہیں اور بہنوں کو حصہ نہیں دیتے وہ بھی بادل ناخواستہ معاف کردیتی ہیں یہ ہرگز درست نہیں بعض اوقات بچیاں نابالغ ہوتی ہیں جن کا مال کھانا نہ صرف شرعی حصہ دبانا ہے بلکہ مال یتیم کا کھانا بھی ہے جو سخت گناہ ہے یہ امر متروک ہوچکا ہے لہذا ضروری ہے کہ لڑکیوں کو حصہ دیا جائے خصوصاً زمیندار اس ظلم میں بہت زیادہ ملوث ہیں کہ زمین سے حصہ دینا گوارا نہیں کرتے اگر بعض صورتوں میں جیسے صرف لڑکیاں ہی وارث ہوں تو پھر زمین کی وجہ سے ان کی شادی ایسے لڑکوں سے کی جاتی ہے جن کی وجہ سے زمین قبضہ سے نہ نکلے خواہ وہ لڑکے شادی کے اہل ہی نہ ہوں یا بعض اوقات پاگل لڑکوں سے کردی جاتی ہے۔ اسلام اس ظلم کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح اگر اولاد نرینہ نہ ہو اور لڑکیاں دو یا دو سے زیادہ ہوں تو انہیں مال موروث سے دو تہائی مال ملے گا اور ایک تہائی دوسرے ورثا کو جیسے میت کی بیوی یا شوہر یا والدین وغیرہ جو وراثت کے حق دار ہوں گے اور اگر مرنے والے نے صرف ایک لڑکی ہی چھوڑی ہو تو اس کو نصف مال مل جائے گا باقی نصف دوسرے ورثا کا حصہ ہوگا۔ اگر مرنے والے نے والدین بھی زندہ چھوڑے ہوں اور اولاد بھی تو ماں باپ کو چھٹا چھٹا حصہ ملے گا باقی کا حصہ اولاد یا بیوی شوہر وغیرہ لیں گے یا پھر مرنے والے کی اولاد نہ ہو نہ بہن بھائی ہوں تو والدہ کو ایک تہائی حصہ ملے گا باقی دو تہائی والد کو جائے گا اگر مرنے والے کی بیوی یا شوہر ہوں تو اس کا حصہ الگ کرکے باقی کا ایک بٹا تین والدہ اور 2 بٹا تین والد کو ملے گا اور تیسری حالت یہ ارشاد فرمائی کہ مرنے والے کی اولاد تو نہ ہو مگر بہن بھائی ہوں اور والدین بھی ہوں تو اس صورت میں ماں کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر کوئی دوسرا وارث شریک نہ ہوا تو 5/6 والد کو مل جائے گا یعنی بہن بھائیوں کی وجہ سے ماں کا حصہ تو کم ہوجائے گا مگر باپ کے ہوتے ہوئے بہن بھائیوں کو کوئی حصہ نہیں ملے گا کہ باپ ان کی نسبت اقرب ہے شرط یہ ہے کہ یہ ایک سے زیادہ ہوں خواہ حقیقی ہوں یا ماں شریک یا باپ شریک ہر صورت میں ان کی وجہ سے ماں کا حصہ کم ہوجائے گا اور یہ تقسیم اللہ کریم کی طرف سے ہے کہ تم نہیں جانتے اولاد یا والدین میں سے تمہارے لیے کون زیادہ مفید ہے یا کس سے تمہیں زیادہ نفع مل سکے گا اس میں تمہاری رائے یا پسند کو دخل اس لیے نہیں کہ اول تو مال کا حقیقی مالک اللہ کریم ہے دوسرے وہ تم سے زیادہ جانتا ہے کہ کس کو مال پہنچنا چاہئے جو تمہارے لیے بھی مفید ہو اور نظام معیشت میں خلل واقع ہو انسان کا فائدہ تو اللہ کریم کی اطاعت میں ہے اور نظام معیشت کسی ایک آدمی کے اٹھ جانے سے معطل نہیں ہوسکتا۔ اس میں جہاں بھی شرعی تقسیم کو روکا جائے گا وہاں خرابی پیدا ہوگی۔ جیسے دل کا خون کہ جسم کے ہر حصے میں پہنچتا ہے اگر بازو روک لے کہ یہ زیادہ اہم ہے اور انگلیوں تک ان کا حصہ نہ جائے تو وہ ناکارہ ہو کر بازو پر بوجھ بن جائیں گی یہی حال عورتوں کو حصہ نہ دینے سے عورت کا ہوگا کہ معاشرہ میں اس کی معیشت مجروح ہوگی جو بالآخر مرد کو بھی متاثر کرے گی اللہ کریم کے احکام کبھی حکمت سے خالی نہیں ہوتے اس لیے پورے خلوص کے ساتھ ان پر عمل کرنے میں سلامتی ہے اور اپنی رائے سے تبدیلی کرنا ہرگز درست نہیں۔ جہاں تک تمہارے منافع کا تعلق ہے تو وہ علیم ہے تمہارے منافع کو تم سے بہتر جانتا ہے جو دوسروں کو تم سے نفع پہنچانا چاہتا ہے وہ تمہارے نفع سے ہرگز غافل نہیں ہے یہ بھی تمہارا ہی نفع ہے کہ تقسیم میراث کا فیصلہ اس نے اپنے ذمہ لے لیا ورنہ تم ہرگز انصاف نہ کرسکتے اور دوسروں کے ساتھ اپنا بھی نقصان کرلیتے۔ یہ ذکر ان لوگوں کا تھا جن کا رشتہ مرنے والے کے ساتھ نسب کا ہے اب میت کے ازدواجی رشتے کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ اگر بیوی مال چھوڑ کر مرے تو اداء قرض اور نفاذ وصیت کے بعد شوہر کو نصف مال ملے گا باقی دوسرے ورثا کو مثلاً اس کے والدین یا بہن بھائی وغیرہ لیکن اگر مرنے والی نے اولاد بھی چھوڑی ہو تو ایک ہو یا زیادہ لڑکا ہو یا لڑکی اسی شوہر سے ہو یا پہلے کسی سے ہر حال میں شوہر کو ایک چوتھائی ملے گا اور باقی دوسرے ورثاء کو ان کے حق کے مطابق اگر مرنے والا شوہر ہو اور اس نے کوئی اولاد نہ چھوڑی ہو تو اداء قرض اور نفاذ وصیت کے بعد عورت کو کل مال کا چوتھائی ملے گا لیکن اگر اولاد چھوڑی ہو خواہ اسی بیوی سے یا کسی دوسرے سے تو بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہو تو سب اسی میں شریک ہوں گی یعنی ہر ایک کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا بلکہ اسی ایک چوتھائی یا آٹھویں حصے میں سب شریک ہوں گی جو بچے گا وہ باقی ورثاء میں تقسیم ہوجائے گا ہاں اگر عورت کا مہر ادا نہ ہوا ہو تو یہ بھی مرد پر قرض شمار ہوگا اور پہلے ادا کیا جائے گا نیز اسکے لینے سے عورت کا حصہ کم نہیں ہوگا یہ اس کا علیحدہ حق ہے جو بہرحال ادا کیا جائے گا۔ کلالہ کے متعلق احکام : اب کلالہ کی میراث کا کیا ہوگا کلالہ سے مراد وہ وراثت ہے جس میں مرنے والے کے نہ اصول ہوں نہ فروع یعنی نہ ماں باپ ہوں اور نہ اولاد بلکہ صرف دور کے رشتہ دار ہی وارث ہوں تو مرنے والا اگرچہ مرد ہو یا عورت اس کا اگر ایک بھائی یا ایک بہن جو مفسرین کے نزدیک ماں شریک ہوں کیونکہ دوسروں کے حصے تو پہلے ذکر کیے جا چکے ہیں اور بالاجماع اس آیت کا معنی یہی کیا گیا ہے کہ اگر بہن یا بھائی ماں شریک چھوڑے ہوں تو اگر بھائی ہے چھٹا حصہ پائے گا یا بہن ہے تو بھی چھٹا حصہ لے گی اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب مرنے والے کے اس مال میں سے جو ادائے قرض اور نفاذ وصیت سے بچ رہے گا تہائی حصہ کے حق دار ہوں گے اور وہ سب پر برابر تقسیم ہوگا یہ حصہ مرد کو عورت سے دوگنا نہیں بلکہ سب کو برابر ملے گا جیسے علامہ قرطبی کی عبارت کا مفہوم ہے کہ وراثت میں مرد عورت کہیں بھی برابر نہیں سوائے ان بہن بھائیوں کے جو ماں شریک ہوں اور یہ سب اللہ کریم کا حکم ہے کہ ادائے قرض بھی ضروری ہے اور نفاذِ وصیت بھی مگر شرط یہ ہے کہ وصیت کسی وارث کا نقصان کرنے کے لیے نہ ہو جیسے مرنے والے کے جب نہ والدین ہوں اور نہ اولاد تو وہ یہ سمجھ کر کہ دور کے وارثوں کے بجائے کسی اسی جگہ خرچ کردوں جہاں سے انہیں کچھ نہ ملے تو یہ درست نہ ہوگا کہ گناہ کے کام پر یا جو کام شرعاً درست ہی نہیں وصیت باطل ہوگی رہی نیکی کی بات تو اس میں بھی ادائے قرض مقدم ہے پھر ایک تہائی مال میں وصیت نافذ ہوگی اور باقی مال ورثا کو ملے گا نیز وارث کے حق میں وصیت نافذ نہ ہوگی وہ صرف اپنا حق پا سکے گا۔ ہاں اگر دوسرے وارث اپنی مرضی سے دے دیں تو انہیں اختیار ہوگا اور مرنے والے کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ ایسے مشکل وقت میں بھی کسی کی حق تلفی کرے نہ باقی رہ جانے والوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ جس نے کمایا تھا جب وہ ہی چھوڑ کر چلا گیا تو دوسرے اس میں کمی بیشی کرکے کیا لیں گے کہ مال تو بہرحال اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے اگرچہ علیم ہے فوراً گرفت نہ بھی کرے تو ایک روز تو سب کچھ اس کے سامنے آجائے گا نیز وارث کے لیے صرف نسب کافی نہیں بلکہ ایک دین پر ہونا بھی شرط ہے جیسے حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ 1 ۔ لایرث المسلم الکافر ولا الکافر المسلم۔ مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا لیکن اگر کوئی شخص مسلمان تھا پھر کافر ہوگیا یعنی مرتد کا مال جو حالت اسلام میں کمایا تھا وارثوں کو ملے گا اور ارتداد کے بعد کا بیت المال میں آجائے گا۔ اور اگر عورت مرتد ہوگئی تو اس کا کل مال مسلمان ورثا کو ملے گا۔ لیکن خود مرتد مرد ہو یا عورت کسی مسلمان سے میراث پائے گا نہ کسی مرتد سے۔ (معارف) 2 ۔ قاتل وراثت سے محروم رہے گا یعنی باپ کو یا کسی ایسے فرد کو قتل کردیا جس سے اسے وراثت پہنچتی تھی تو وراثت کا حقدار نہیں رہے گا اور یہ حکم قتل عمد کا ہے۔ 3 ۔ اگر مرنے والے کی بیوی کے پیٹ میں بچہ ہو تو وہ وارث ہوگا اور لڑکا یا لڑکی فرض کرکے جس صورت میں ورثا کو کم ملتا ہو اس پر عمل کرکے باقی اس کے لیے رکھا جائے یا پھر ولادت تک تقسیم میراث موخر کی جائے گی۔ 4 ۔ ایسے ہی کسی نے مرض الوفات میں طلاق دی اور عدت ختم ہونے سے پہلے مرگیا تو عورت وارث ہوگی ہاں حالت صحت میں طلاق دی تو اگر رجعی تھی اور عدت باقی ہے تو وارث ہوگی ورنہ نہیں ہوگی۔ 5 ۔ اگر کسی عورت نے مرض الموت میں بھی از خود خلع کرلیا تو وارث نہ ہوگی۔ اصحاب الفروض سے اگر مال بچ جائے تو عصبات میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ جیسے چچا وغیرہ یا پھر اگر عصبات نہ ہوں تو ذوی الارحام کو جائے گا۔ جیسے نواسے نواسیاں یا پھوپھیاں یا ماموں خالہ وغیرہ ان مسائل میں بہت تفصیل ہے جو کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے یہاں صرف مفہوم کتاب عرض کرنا مقصود ہے۔
Ayahs 4:13–14

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرے گا وہ (اللہ) اس کو بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے تابع نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا اور اس (اللہ) کی حدود سے نکل جائے گا وہ اس کو دوزخ میں ڈالیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

آیات 13 تا 14: تلک حدود اللہ۔۔ ولہ عذاب مھین۔ حدود اللہ کی اہمیت : یہ اللہ کریم کے احخام ہیں اور اس کی مقرر کردہ حدود ہیں اور اللہ کریم اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی جنت کی ضمانت ہے جس کی نعمتوں کو کبھی زوال نہیں اور جس میں داخلے کے بعد کسی کو بھی کبھی وہاں سے نکالا نہ جائے گا۔ لیکن خیال ضرور رہے کہ صرف نماز روزہ ہی اطاعت نہیں جیسے لوگ یہ تو کرلیتے ہیں مگر مال یا میراث تقسیم کرنا پڑے تو حیلے بہانے سے مال کھالیا جاتا ہے یاد رہے کہ یہ تقسیم میراث اور مختلف رشتوں کے حصے اللہ کے مقرر کردہ ہیں اور ان پر عمل ہی نجات کا راستہ ہے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے اس کے خلاف جن لوگوں نے احکام الہی کی پرواہ نہ کی اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کو پامال کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی وہ نہ صرف عذاب میں مبتلا ہوں گے نہ صرف ہمیشہ کی آگ میں رہنا ہوگا بلکہ ذلت و رسوائی کا عذاب ہوگا اور دو عالم کی رسوائی ان کا مقدر بن جائے گی۔ اعاذنا اللہ منھا۔ نیز یہ سب قانون وراثت انبیاء (علیہم السلام) پر لاگو نہیں ہوگا کہ انبیاء کی وراثت ان کی مادی جائداد نہیں ہوتی بلکہ روحانی کمالات ہوتے ہیں اور ان کا علم ہوتا ہے جیسے نبی کریم ﷺ کی کوئی مادی میراث تقسیم نہیں ہوئی بلکہ آپ ﷺ کی میراث آپ کا علم اور کمالات روحانی ہیں جو ابد الآباد تک مستحقین میں تقسیم ہوتے رہیں گے اور شرط استحقاق۔ روحانی تعلق ہے جس کی بنیادایمان اور جس کی قوت اطاعت ہے اور وہ نسبت جو آپ ﷺ سے منتقل ہو کر دلوں کو روشن اور سینوں کو منور کرتی ہے۔ کرامتِ ولی ہی وراثت پیغمبر ہوتی ہے جو در اصل نبی کا معجزہ ہوتا ہے اور اس کے کامل متبع کے ہاتھ پر ظاہر ہو کر کرامت کہلاتا ہے مادی وراثت لمحاتی اور دار دنیا کے لیے ہوتی ہے مگر روحانی وراثت ابدی اور دائمی ہوتی ہے اور جس قدر کوئی روحانی قلبی طور پر قرب نبوت کو پاتا ہے اسی قدر کمالات نبوت و رسالت سے اپنے حصے کی نورانیت حاصل کرتا ہے جس کی ظاہر دلیل یہ ہوتی ہے کہ اطاعت پیغمبر محبوب تر ہوتی چلی جاتی ہے اور نافرمانی کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ اسی حال کو صوفیہ فنا فی الرسول کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ نعمت سینہ بسینہ منتقل ہوتی ہے اور اہل اللہ کی صحبت سے حاصل کی جاسکتی ہے اللہ کریم جسے چاہیں حظ وافر عطا فرمائیں۔ یہ ان کی اپنی دین ہے۔
Ayahs 4:15–16

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) اور تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کر بیٹھیں سو ان پر اپنے لوگوں میں سے چار گواہ طلب کرو پس اگر وہ گواہی دیں تو تم ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ ان کو موت اٹھالے یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راہ پیدا فرمادیں

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان دونوں سے کچھ تعرض نہ کرو یقینا اللہ توبہ قبول کرنے والے رحمت کرنے والے ہیں

رکوع نمبر 3 اسرار و معارف آیت 15 تا 16: زنا کی قباحت : یہاں تک ان امور میں بات چل رہی تھی جو تقسیم وراثت میں جہالت اور ظلم کی وجہ سے رواج پا چکے تھے ان کی اصلاح کے ساتھ ہی جہاں عورت کو ایک مستقل مالک اور حصہ دار کی حیثیت عطا فرمائی وہاں اس کی ذمہ داری کا احساس بھی دلایا جانا مقصود ہے یعنی جن سے حصہ پاتی ہے والدین ہوں یا خاوند یا دوسرے رشتہ داران کی عزت و ناموس بھی بہت حد تک عورت ہی کے تعاون کی محتاج ہوتی ہے اس لیے اس بارے میں عورت کو شدت سے تاکید بھی فرمائی اور یہ اہتمام بھی پیش نظر رکھا کہ شوہر کے خاندان کی عورتیں حسد وغیرہ کی وجہ سے اس پر تہمت نہ لگا سکیں فرمایا اگر تمہاری عورتوں میں سے کسی سے فاحشہ کا صدور ہو جس سے مراد زنا ہے تو ان پر اپنوں میں سے (یعنی مسلمان ، عاقل ، بالغ ، آزاد اور مذکر) چار گواہ طلب کرو حاکم یا عدالت جس کے روبرو یہ معاملہ پیش ہو کو چاہیے کہ اس پر چار گواہ جو شہادت کی اہلیت رکھتے ہیں طلب کرے اور اس بارہ میں عورت کی گواہی معتبر نہیں۔ صاحب روح المعانی نے علامہ زہری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک کی یہ سنت کہ لا تقبل الشھادۃ النساء فی الحدود۔ حدود میں عورتوں کی شہادت قابل قبول نہیں شیخین کے عہد خلافت میں بھی جاری تھی یہ آج کل جو مرد اور عورت کی برابری اور مساوات اکا شور ہے یہ ایک دھوکا ہے کہ عورت ہر وہ کام کرے جو مرد کرتا ہے یہ برابری نہیں ہے بلکہ مساوات کا اسلامی تصور اور نظریہ یہ ہے کہ عورت ہو یا مرد ہر ایک کو اس کا حق ایک جیسی آسانی سے مل جائے یعنی محض عورت ہونے کی وجہ سے اسے اپنا حق حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے اب کس کا حق کیا ہے یہ اس نے مقرر فرما دیا جس نے مرد کو مرد اور عورت کو عورت پیدا فرمایا اس میں کسی کی رائے یا پسند کو دخل نہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ عورت کی شہادت حدود میں (جن جرائم میں سزا اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دی حاکم یا عدالت صرف شہادت لیں گے) قابل قبول نہ ہوگی اور اس کی سب سے بڑی دلیل رسول اللہ ﷺ کا اس پر عمل ہے اگر چار گواہ شہادت دیں تو انہیں عدالت کے حکم سے گھروں میں مقید رکھو یہاں تک کہ اللہ کریم ان کے لیے کوئی راہ متعین فرما دیں۔ یا اس سے پہلے ہی ان کی زندگی پوری ہوجائے اور تم میں سے کوئی بھی دو شخص بدکاری کریں یعنی منکوحہ عورت کی تخصیص نہیں بلکہ کوئی بھی عورت اور مرد یا دونوں مرد یعنی زنا کی کوئی بھی صورت ہو یا لواطت کریں اور ان پر شہادت کا تقاضا پورا ہو تو ان کو اذیت دی جائے اب اس کا کوئی طریقہ بیان نہیں ہوا بلکہ اولاً اسے حکام کی رائے پر چھوڑ دیا گیا کہ وہ جیسی مناسب جانیں سزا دیں اور عورتوں کو اس کے ساتھ گھروں میں قید بھی رکھا جائے تاآنکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا مقرر ہوجائے یا وہ مر جائیں سو وہ اللہ کریم نے اس کی سزا کا حکم نازل فرما دیا جیسا کہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں الرجم شیب والجلد للبکر کہ شادی شدہ کے لیے رجم یعنی سنگسار اور غیر شادی شدہ کے لیے کوڑوں کی سزا۔ احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے اس پر عمل ثابت ہے جو معروف ہے یہاں نقل کرنے کی ضرورت نہیں اسی طرح خلفاء راشدین سے بھی ثابت ہے ایسے ہی قضائے شہوت اگر غیر فطری طریقے سے ہو تو بھی مستوجب سزا ہوگا اور اس پر حد جاری ہوگی اکثر مفسرین نے والذان سے مراد ہی لواطت کو لیا ہے حدیث شریف میں اس پر بہت سخت وعید ہے کسی حدیث میں متعدد بار لعنت آئی ہے کہیں غضب الہی سے ڈرایا گیا ہے بلکہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت میں تو یہ تک موجود ہے کہ چار آدمی ایسے ہیں جن پر اللہ کریم کبھی خوش نہیں ہوتے یعنی ہر وقت غضب الہی کی زد میں رہتے ہیں پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون ہیں تو ارشاد ہوا وہ مرد جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور وہ عورتیں جو مردوں کی طرح بنتی ہیں ایسا شخص جو چوپایہ سے غیر فطری حرکت کرتا ہے اور وہ مرد جو مرد سے قضائے شہوت کرتا ہے ایسے ہی حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جس کو لواطت کرتا دیکھو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو عورت کے ساتھ غیر فطری حرکت بھی سخت قبیح حرکت ہے اور حضرت خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتے پھر فرمایا لا تاتوا النساء فی ادبارھن کہ عورتوں کے پاس غیر فطری طریقے سے مت آیا کرو حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ جو بیوی سے غیر فطری حرکت کرے وہ معلون ہے سو ان تمام جرائم پر سخت ترین سزا مقرر فرمائی گئی بشرطیکہ جرم ثابت ہوجائے ورنہ محض الزام لگانے والے پر حد قذف جاری ہوگی ان افعال قبیحہ میں حد کی تعیین میں علما کی رائے میں اختلاف ہے مگر سب کے نزدیک سخت ترین سزا ہی مقرر ہے جیسے آگ میں جلا دینا دیوار گرا کر کچل دینا اونچی جگہ سے گرا دینا سنگسار کرنا یا تلوار سے قتل کردینا اور غالباً یہ بھی نوعیت کے اعتبار سے حاکم کو معین کرنا چاہئے کہ دوسروں کے لیے باعث عبرت بھی ہو ہاں اگر کسی پر سزا جاری کردی جائے اور وہ آئندہ کے لیے تو یہ بھی کرلے تو اسے پھر شرمندہ نہ کیا جائے اور اس کی تذلیل نہ کی جائے مگر یاد رہے ثابت ہوجانے پر حد جاری ہوگی توبہ سزا سے نہیں بچا سکے گی ہاں اخروی مواخذہ کے لیے مفید ہوگی یا اگر ایسی سزا ملی کہ وہ زندہ رہا مثلاً کچھ کوڑے وغیرہ لگ گئے تو پھر اسے شرمندہ نہ کیا جائے اور اس کی تذلیل نہ کی جائے مگر یاد رہے ثابت ہوجانے پر حد جاری ہوگی توبہ سزا سے نہیں بچا سکے گی ہاں اخروی مواخذہ کے لیے مفید ہوگی یا اگر ایسی سزا ملی کہ وہ زندہ رہا مثلاً کچھ کوڑے وغیرہ لگ گئے تو پھر اسے شرمندہ نہ کیا جائے لیکن اگر توبہ نہ کرے تو معاشرے میں مناسب جگہ نہیں پا سکے گا یہی حال اس مرنے والے کا ہے کہ اس کا تذکرہ کسی حقارت سے نہ کیا جائے جس نے توبہ کرلی ہو کیونکہ اللہ کریم توبہ قبول کرنے والے اور رحمت والے ہیں۔ جب اللہ نے توبہ قبول فرمائی اور اپنی رحمت سے خطا معاف کردی تو پھر لوگوں کو بھی ان کے درپئے آزار نہ ہونا چاہئے۔