4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsانوار البیان

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اوّل) اس نے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت (پیدا کر کے روئے زمین پر) پھیلا دیئے اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت براری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔

(4:1) بث۔ اس نے بکھیرا۔ اس نے پھیلایا۔ بث سے ماضی واحد مذکر غائب باب ضرب۔ نصر۔ نفس واحدۃ۔ ایک جان ۔ من اصل واحد وھوادم ابو البشر (علیہ السلام) یعنی ایک اصل سے جس سے مراد ذات آدم (علیہ السلام) ہے۔ صیغہ واحد مؤنث نفس کے لئے آیا ہے ۔ جو مؤنث سماعی ہے۔ زوجھا۔ جن حیوانات میں نر اور مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ حیوانات کے علاوہ دوسری اشیاء میں سے جفت (جوڑا) کو زوج کہا جاتا ہے۔ جیسے موزے اور جوتے وغیرہ۔ پھر ہر اس چیز کو جو دوسری کی مماثل یا مقابل ہونے کی حیثیت سے اس سے مقترن ہو اہ اس کا زوج کہلاتی ہے۔ زوجھا میں ھا ضمیر مؤنث واحد نفس کی رعائیت سے اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ زوج سے مراد حضرت آدم کی زوجہ حضرت حوا مراد ہیں۔ منھا۔ ھما ضمیر تثنیہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کی طرف راجع ہے یعنی حضرت آدم اور حضرت حوا (علیہما السلام) سے کچیر تعداد میں مرد اور عورتیں پیدا کیں۔ تساء لون بہ۔ تم باہم سوال کرتے ہو اس کے نام سے ۔ تم آپس میں مانگتے ہو اس کے واسطہ سے۔ تسائل (تفاعل) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تتساء لون تھا تاء تثنیہ کو حذف کردیا گیا۔ بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب۔ اللہ کی طرف راجع ہے والارحام۔ منصوب ہے اس کا عطف لفظ اللہ پر ہے ارحام رحم کی جمع ہے ۔ رحم عورت کے پیٹ کا وہ حصہ ہے جس میں بچہ پیدا ہونے سے پیشتر شکم مادہ میں پلتا ہے۔ استعارہ کے طور پر رحم کا لفظ قرابت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے واتقوا الارحام۔ اور ڈرو قطع رحمی سے۔ رقیبا۔ نگہبان ۔ خبر رکھنے والا۔ محافظ۔ مطلع۔ منتظر۔ راہ دیکھنے والا۔ فعیل کے وزن پر اسم صفت ہے۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔

(4:2) اتوا۔ ایتاء سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم دو ۔ لا تتبدلوا۔ نہی۔ جمع مذکر غائب۔ تبدل (تفعل) سے جس کے معنی بدل ڈالنے کے ہیں۔ تم نہ بدل ڈالو۔ انہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ اکل مال یتیم کی طرف راجع ہے جس سے ولا تاکلوا اموالہم الی اموالکم میں ممانعت فرمائی ہے۔ حوبا۔ گناہ ۔ وبال ۔ اسم ہے۔ الحوب (باب نصر) سے جرم کا ارتکاب کرنا۔
Ayahs 4:3–4

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق و شوق سے کھالو۔

(4:3) خفتم۔ خوف (اجوف وادی) باب سمع سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ اصل میں خوفتم تھا۔ واؤ متحرک ما قبل مفتوح واؤ کو الف سے بدلا۔ دو ساکن جمع ہوئے۔ الف اجتماع ساکنین سے گرگیا۔ بعد ازاں تاء کلمہ کے فتح کو کسرہ سے بدلا کہ ماضی مکسور العین ہے۔ خفتم۔ تم ڈرے۔ تم کو ڈر ہوا۔ الا۔ ان لا کا مخفف ہے۔ تقسطوا۔ تم انصاف کرو۔ تم انصاف کرو گے۔ اقساط سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تقسطون تھا۔ ان ناصبہ کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ الا تقسطوا۔ کہ تم انصاف نہیں کرو گے۔ یا نہ کرسکو گے۔ طاب۔ طیب (باب ضرب) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ خوش لگے۔ بھلا معلوم دے صاحب مدارک التنزیل نے ما طاب لکم سے مراد لیا ہے جو تمہارے لئے حلال ہیں۔ الا تعدلوا۔ کہ تم انصاف نہیں کرسکو گے۔ ادنی۔ دان اور دنی کا اسم تفضیل ہے۔ الدنو (باب نصر) کے معنی قریب ہونے کے ہیں۔ یہ قرب ذاتی۔ حکمی۔ مکانی۔ زمانی اور قرب ملحاظ مرتبہ کے سب کو شامل ہے۔ قرآن میں ہے ومن النخل من طلعھا قنوان دانیۃ (6:99) اور (ہم) کھجور کے گابھے سے (نکالتے ہیں خوشے یا گچھے جو جھکے پڑتے ہیں۔ اور آیت کریمہ ثم دنا فتدلی (53:8) پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے۔ اس میں قرب حکمی مراد ہے۔ لفظ ادنی کبھی بمعنی اصغر آتا ہے اس صورت میں اکبر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ولا ادنی من ذلک ولا اکثر (58:7) نہ اس سے کم نہ زیادہ۔ اور کبھی ادنی بمعنی ارذل آتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے جیسے اتستبل لون الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر (6:61) بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیون چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول (نشاۃ اولیٰ ) استعمال ہوتا ہے اور الاخر (نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے خسر الدنیا والاخرۃ (22:11) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ اور کبھی ادنی بمعنی اقرب آتا ہے اور اقصیٰ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے اذ انتم بالعدوۃ والدنیا وھم بالعدوۃ القصوی (8:42) جس وقت تم مدینے کے قریب کے ناکے پر تھے اور وہ (کافر) بعید کے ناکے پر۔ وذلک ادنی ان یاتوا بالشھادۃ علی وجھھا (5:108) یہ طریقہ زیادہ قریب ہے کہ گواہ صحیح صحیح شہادت دیا کریں۔ یہاں ادنی بمعنی اقرب آیا ہے۔ الا تعولوا۔ تاکہ تم ایک طرف نہ جھک جاؤ۔ تم بےانصافی نہ کرو۔ تعولوا۔ عول (نصر) سے مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر۔ جس کا معنی انصاف کو چھوڑ کر بڑھتی وصول کرنے کے ہیں۔ عال المیزان۔ ترازو جھک گئی ۔ عال الحاکم۔ حاکم نے بےانصافی کی۔ عال السھم۔ تیز نشانہ سے ہٹ گیا۔
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لیے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے معقول باتیں کہتے رہو۔

(4:5) قیما۔ مصدر بھی ہے (باب نصر) جس کے معنی ہیں کھڑا ہونا۔ بیٹھنے کی حالت سے اٹھنا۔ اور قائم کی جمع بھی ہے۔ کھڑے ہونے والے۔ قیام کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) کسی شخص کا تسخیری طور پر یا اپنے ارادہ سے کھڑا ہونا۔ مثال منھا قائم وحصید (11:100) ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض تہس نہس ہوگئے ہیں (تسخیری طور پر کھڑا ہونے کے معنی ہیں) ۔ والذین یبیتون لربھم سجدا وقیاما (25:64) اور وہ لوگ اپنے رب کے حضور سجدہ میں اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ (قیام اختیاری کی مثال) (2) قیام للشیئ۔ کسی شے کی حفاظت اور نگرانی کرنا۔ الرجال قوامون علی النساء (4:34) مرد عورتوں پر راعی اور محافظ ہیں (3) کسی کام کا پختہ ارادہ کرلینا ۔ یایھا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوۃ (5:6) مومنو ! جب تم ارادہ کرو نماز پڑھنے کا۔ (4) قیام اور قوام اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس سے کسی شے کی بقا وابستہ ہو۔ مثلاً آیۃ ہذا : ولا تؤتوا السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیاما (4:5) نہ دونا دانوں کو اپنے مال جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زندگی کا سہارا بنایا ہے۔ اموالکم۔ سے اصل مراد وہ مال ہے جو نادان یتیموں کا دوسروں کی تحویل میں بطور نگران دیا گیا ہے۔ ھم کی بجائے کم کی ضمیر کا استعمال اس اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ہوا ہے کہ یہ مال ایسا ہی قابل توجہ اور قابل احتیاط ہے جیسا کہ تمہارا اپنا مال۔ اس لئے اس کا ضیاع بہرنوع مذموم ہے۔ اور جعل اللہ لکم قیاما جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زندگی کا سہرا بنایا ہے) کے الفاظ اس مال کی اہمیت اور اس کی قدروقیمت کو ذہن نشین کرانے کے لئے ہے کہ یہ مال زندگی کا سہارا ہے اس لئے اس کو بےمقصد خرچ کرنا منع ہے تو اس آیۃ کا مطلب یہ ہوا کہ نابالغ۔ بےسمجھ یتیموں کے مال کی اپنا مال سمجھ کر حفاظت کرو یہ مال زندگی کا سہارا ہے اس لئے اسے بےمقصد خرچ کے لئے ان کے مال ان نادان یتیموں کے حوالے نہ کرو۔ جو نادانی کی وجہ سے اسے چند دنوں میں اڑا دیں گے (لیکن ان کے کھانے پینے اور لباس ضروریہ پر اس مال سے خرچ کرسکتے ہو) ۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو۔ پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو۔ اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا جو شخص آسودہ حال ہو اس کو ایسے مال سے قطعی طور پر پرہیز رکھنا چاہیے اور جو بےمقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے۔

(4:6) ابتلوا۔ تم آزماأ۔ تم امتحان لو۔ ابتلاء (افتعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ یعنی تم ان کی آزمائش مختلف طریقوں سے کرتے رہو کہ آیا شعور محکم کو پہنچ گئے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کو صحیح طور پر رکھ سکتے ہیں۔ حتی اذا بلغوا النکاح۔ نکاح مصدر ہے اس کے معنی نکاح کرنا یا جماع کرنا دونوں ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جاویں اور سن تمیز کو پالیں۔ رشدا۔ رشد کے معنی ہیں ہدایت۔ صلاحیت۔ راہ یابی۔ بھلائی۔ راستی۔ حسن تدبیر (رشد یرشد کا مصدر ہے) یہاں مراد صلاحیت ہے۔ ادفعوا۔ تم دیدو۔ تم حوالہ کردو۔ دفع سے ۔ امر کا صیغہ مذکر حاضر۔ ولا تاکلوھا۔ یعنی تم خود اس مال سے خرچ مت کرو۔ اسرافا۔ فضول مدوں میں ۔ بدارا۔ جلدی کرکے بروزن فعال۔ مصدر۔ یعنی شتابی اور سرعت سے کام لے کر ان کا مال بےدریغ خرچ نہ کر ڈالو کہ بڑے ہوگئے تو اپنا مال واپس لے لیں گے۔ فلیستعفف۔ امر ۔ واحد مذکر غائب۔ استعفاف (استفعال) مصدر۔ وہ بچتا رہے۔ یعنی یتیموں کے مال خود خرچ کرنے سے پرہیز کرے۔ بالمعروف۔ مناسب مقدار میں۔ حسیبا۔ حساب لینے والا۔ حساب کرنے والا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔
Ayahs 4:7–8

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔ یہ حصے (خدا کے) مقرر کیے ہوئے ہیں۔

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو۔

(4:7) قل۔ ماضی معروف واحد مذکر غائب۔ وہ کم ہوا۔ قلۃ۔ مصدر سے۔ کثرۃ کی ضد ہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ۔ قلیل ہو یا کثیر۔ مفروضا۔ اسم مفعول ۔ فرض مصدر ۔ فرض کیا گیا۔ مقرر کردہ۔
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں گے اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں۔

(4:9) ولیخش۔ واحد مذکر گا ئب امر خشیۃ مصدر باب سمع۔ اس کو ڈرنا چاہیے۔ وہ ڈرتا رہے۔ ذریۃ۔ چھوٹے چھوٹے بچے۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ضعافا۔ ضعف سے کمزور۔ ناتواں۔ ضعیف کی جمع ہے۔ (4:9) خافوا علیہم۔ وہ فکر مند ہوئے ان کے متعلق۔ ولیخش ۔۔ خافوا علیہم۔ پس جو لوگ یتیموں کے سرپرست ہیں وہ ڈریں یتیموں کے ساتھ سلوک کرنے میں اور سوچیں کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے کمزور ناتواں بچے چھوڑ کر اس جہاں سے رخصت ہوں تو اپنے ان بچوں کے متعلق وہ کتنے فکر مند ہوتے ۔ پس جیسے وہ اپنے پسماندگان سے اپنے بچوں کے متعلق سلوک کی تمنا رکھتے ہیں ویسا ہی سلوک وہ اب اپنے زیر سرپرستی سے کریں۔ سدیدا۔ سدید بروزن فعیل صفتتت مشبہ کا صیغہ ہے۔ سدیسد سددا وسدادادرست ہونا۔ ھو یسدفی تولہ وہ ٹھکانہ کی بات کہتا ہے۔ قلت لہ سدادا من القول میں نے اسے ٹھیک اور سیدھی بات کہی (سدید کامیر استوار و درست منتہی الادب)
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔

(4:10) سیصلون۔ س۔ مستقبل قریب کے لئے ہے۔ یصلون مضارع جمع مذکر غائب صلی مصدر۔ باب ضرب۔ صلی یصلی صلیا۔ گوشت بھوننا۔ صلی فلان النار وفیہا وعلیہا۔ آگ میں ڈالنا۔ سلی (سمع) آگ کی گرمی برداشت کرنا۔ آگ میں جلنا۔ آگ میں داخل ہونا۔ یصلی النار الکبری (87:12) بڑی تیز آگ میں داخل ہوگا۔ (باب افعال) اصلاء متعدی۔ آگ میں داخل کرنا۔ آگ میں پھینکنا۔ فسوف نصیلیہ نارا (4:30) ہم اسے عنقریب جہنم میں داخل کریں گے۔ سعیرا۔ السعر کے معنی آگ کے بھڑکنے کے ہیں۔ سعرت النار میں نے آگ بھڑکائی۔ سعیر۔ دہکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سیصلون سعیراً ۔ عنقریب میں دہکتی ہوئی آگ (جہنم ) میں جلیں گے۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں انکا دو تہائی اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو۔ یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادوں اور بیٹوں، پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے خدا کے مقرر کیے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

(4:11) یوصیکم اللہ۔ یوصی مضارع واحدمذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ ایصاء (افعال) مصدر۔ وصی مادہ۔ الوصیۃ واقعہ پیش آنے سے قبل کسی کو ناصحانہ طور پر ہدایت کرنے کو کہتے ہیں۔ الوصیۃ الابصار کا اسم ہے۔ ھذا وصیتہ یہ اس کی وصیت ہے۔ جمع وصایا ۔ وصایا اللہ۔ اللہ تعالیٰ کے احکام جو بندوں پر فرض ہوئے۔ اللہ کی طرف سے وصیت بمعنی حکم کے ہے (آیۃ ہذا) تواصی (تفاعل) ایک دوسرے کو وصیت کرنا۔ وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر (103:3) اور آپس میں حق کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے ہیں۔ یوصیکم اللہ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے ولقد وصینا الانسان (29:8) اور ہم نے انسان کو حکم دیا۔ حظ۔ حصہ۔ نصیب۔ مقررہ حصہ۔ جمع حظوظ۔ (1) ایک لڑکے کا حصہ۔ دو لڑکیوں کے حصہ برابر۔ (2) اگر متوفی کی دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو کل جائداد کا 2/3 حصہ ان کو ملے گا۔ (3) اگر متوفی کی صرف ایک لڑکی ہو تو کل جائداد کا 1/2 حصہ اس کو ملے گا۔ (4) اگر متوفی کی اولاد ہو تو والدین میں سے ہر ایک کو 1/6 حصہ ملے گا۔ اور بقایا اولاد کو حسب قاعدہ تقسیم ہوگا۔ (5) اگر متوفی کی اولاد نہ ہو اور وارث صرف والدین ہوں تو اس کی ماں کو کل جائداد کا 1/3 حصہ ملے گا باقی 2/3 حصہ باپ کا ہوگا۔ (6) اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں اور اس کی اولاد نہ ہو تو متوفی کی وصیت پورا کرنے اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد ماں کو 1/6 حصہ ملے گا۔ باپ کے باعث بھائی بہنوں کو حصہ نہ ملے گا۔ لا تدرون۔ مضارع نفی جمع مذکر حاضر۔ درایۃ مصدر۔ دری مادہ۔ تم نہیں جانتے۔ اباء کم ۔۔ نفعا۔ تم نہیں جانتے کہ نفع (حصہ) حاصل کرنے میں تمہارے ماں باپ یا لڑکے لڑکیوں میں تمہارے نزدیک کون زیادہ حق دار ہے۔ یا حق حاصل کرنے میں زیادہ قریب ہے۔ یعنی کس کو کتنا ملنا چاہیے اور کونسی ترجیحات تم اختیار کرو۔ فریضۃ من اللہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر شدہ حصے (بیان فرما دیئے ہیں) بیوی کی وراثت کی تقسیم (1) متوفیہ کی کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کو 1/4 حصہ ملے گا ۔ خواہ بیوی ایک ہو یا زیادہ ۔ بقیہ دیگر وارثوں کو۔ (2) اگر اس کی اولاد ہو تو بیوی کو 1/8 حصہ ملے گا۔ خواہ ایک ہو یا زیادہ۔ بقیہ دیگر وارثوں کو۔ (نوٹ) ہر صورت میں متوفی یا متوفیہ کی جائداد پر اس کی وصیت اور اس کے قرض کا بار بمع تجہیز و تکفین اولیت رکھتا ہے۔ دیگر صورتیں (1) اگر کوئی مرد یا عورت بےاولاد مرے اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں (کلالہ) اور اس مرد یا عورت کا اخیافی (ماں ایک باپ الگ) ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو اس بھائی یا بہن کو 1/6 حصہ ملے گا۔ (2) اگر کلالہ (مرد یا عورت) کے ایک سے زیادہ اخیافی بھائی بہن ہوں گے تو سب کو ملا کر 1/3 حصہ ملے گا اور سب میں برابر تقسیم ہوگا ہر دو صورتوں میں جائداد پر پہلا بار متوفی یا متوفیہ کی وصیت اور اس کے قرض کی اور تجہیز و تکفین کا ہوگا۔ کلالہ۔ وہ میت جس کی نہ اولاد ہو نہ باپ (حدیث) کلالہ کی اصل کلال ہے ۔ جس کے معنی ضعف کے ہیں۔ اعشیٰ کا شعر ہے فا لیت لا ارنی لہا من کلالۃ ولا من حفا حتی تلاقی محمدا (جب تک اونٹنی محمد ﷺ تک نہ پہنچا دے گی مجھے اس کی تھکان اور فرسودہ پائی پر رحم نہیں آئے گا) ۔ توسیع استعمال کے بعد عرف عام میں کلالہ سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو منقطع الطرفین ہوں (نہ ان کے والدین ہوں نہ ان کی اولاد) ۔ (معجم القرآن) ۔ قریب کے رشتہ کو چھوڑ کر کوئی دور کا رشتہ دار ہو تو اس کو بھی کلالہ کہا جاتا ہے مثلاً اگر حقیقی چچا کا لڑکا ہو تو اسے ھو ابن عمی کہیں گے اور اگر رشتہ کے چچا کا بیٹا ہو تو ھو ابن عمی کلالہ کہیں گے۔ صاحب معجم القرآن (پروفیسر عبد الرؤف) نے لکھا ہے کہ :۔ ” سلف کا اجماع ہے کہ آیت ہذا میں اخیافی بھائی مراد ہیں “۔ زمخشری نے بھی کشاف میں یہی معنی مراد لئے ہیں۔
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں، اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمہ ہو کی جائے گی) اور جو مال تم مرد چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے بعد تقسیم کیے جائیں گے اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ۔ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی) ادائے وصیت و قرض بعد کے بشرطیکہ انسے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کیے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے۔

غیر مضار۔ جو نقصان دہ نہ ہو۔ یعنی ایسی وصیت۔ یا قرض نہ ہو جو محض وارثوں کو نقصان پہنچانے کی خاطر عائد کیا گیا ہو۔ مضار۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اصل میں مضارر (ضرر سے بروزن مفاعل) سے ہے۔ وصیۃ من اللہ۔ (وراثت کے متعلق) یہ ہے حکم اللہ کا۔
Ayah 4:13

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ (تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔

(4:13) یدخلہ۔ میں فاعل اللہ تعالیٰ ہے۔ اور ہ ضمیر واحد مذکر حاضر من کی طرف راجع ہے۔
Ayah 4:14

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو خدا اور اسکے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

یعص۔ واحد مذکر غائب مضارع مجزوم (بوجہ عمل من جو اسم جازم فعل ہے) اصل میں یعصی تھا۔ عصیان مصدر باب ضرب۔ من یعص۔ جو نافرمانی کرے گا۔ یتعد۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب اصل میں یتعدی تھا (عدوان مصدر) من یتعد جو حدود الٰہیہ سے تجاوز کرے گا۔ مھین۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اھانۃ مصدر۔ باب افعال۔ ذلیل و خوار کرنے والا۔
Ayah 4:15

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

مسلمانو ! تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے یا خدا ان کے لیے کوئی اور سبیل (پیدا کرے)

(4:15) یاتین۔ مضارع۔ جمع مؤنث غائب اتیان۔ مصدر باب ضرب۔ وہ عورتیں آئیں یہاں بمعنی مرتکب ہوئیں۔ فاستشھدوا شھدین۔ فاستشھدوا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ استشھاد (استفعال) سے ۔ تم گواہ لاؤ۔ استشہاد۔ گواہ لانا۔ یا گواہ طلب کرنا۔ دونوں معنوں میں آتا ہے۔ فاحشۃ۔ اسم ۔ حد سے بڑھی ہوئی برائی۔ ایسی بےحیائی کا اثر دوسرے پر پڑے۔ زنا۔ یتوفھن۔ یتوفی۔ مضارع واحد مذکر غائب (فاعل موت) توفی مصدر۔ (باب تفعل) ھن۔ ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ وفی۔ مادہ۔ وافی۔ پورا۔ باب افعال ۔ پورا کرنا۔ یا پورا دینا باب تفعیل سے پورا پورا دینا۔ باب تفعل (توفی مصدر) پورا پورا لینا۔ قبضہ کرلینا۔ کبھی مراد روح کا قبض کرلینا ہوتا ہے۔ (باب استفعال) استیفاء پورا پورا وصول کرلینا۔ یتوفھن الموت۔ موت ان پر پورا پورا قبضہ کرلے۔ موت ان کو آلے۔
Ayah 4:16

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو ۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو ۔ بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے۔

(4:16) فاذوھما۔ اذوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایذاء (افعال) ھا ضمیر مفعول تثنیہ (مذکر، مؤنث دونوں کے لئے) غائب۔ ان دونوں کو ایذا دو ۔ ان دونوں کو مارو پیٹو۔ اعرضوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ اعراض سے تم درگزر کرو۔ تم کنارہ کشی کرو۔ تم چھوڑ دو ۔
Ayah 4:17

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھتے ہیں پھر جلد توبہ کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

(4:17) انما التوبۃ علی اللہ للذین۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرنا اپنے ذمہ لے لیا ان لوگوں کے حق میں۔ التوبۃ۔ تاب۔ اس نے توبہ کی۔ وہ پھر آیا۔ گناہ سے وہ باز آیا۔ باب نصر سے اس نے قبول کیا۔ جب اس کا تعدیہ الیٰ کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے معنی ہوتے ہیں۔ جیسے فتوبوا الی بارئکم (2:54) پس چاہیے کہ توبہ کرو تم اپنے خالق کے حضور۔ اور جب علیٰ سے ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔ فتاب علیکم (2:54) پھر حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔ من قریب۔ جلدی ۔ شتاب۔
Ayah 4:18

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔

(4:18) اعتدنا۔ ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ اعتاد (افعال) مصدر۔ الاعداد۔ تیار کرنا ۔ مہیا کرنا۔ عدد مادہ۔ واعدلہم جنت (9:100) اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں۔ وآیۃ ہذا۔ اور اگر مصدر اعتداء سے ہو تو معنی ہوتے ہیں زیادتی کرنے کے لیکن اس کا مادہ عدو ہے۔
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

مومنو ! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) مت روک رکھنا۔ ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا نامناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہو سہو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں سے بہت سی بھلائی پیدا کر دے۔

(4:19) ترثوا۔ تم وارث ہوجاؤ۔ تم میراث میں لے لو۔ (حسب یحسب) وراثۃ سے مضارع جمع مذکر حاضر نون اعرابی ان ناصیہ کے آنے سے گرگیا۔ ان ترثوا ۔۔ کرھا۔ کہ تم (اس کے شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ کو متوفی کی میراث سمجھ کر) زبردستی وارث بن جاؤ۔ لا تعضلوھن۔ مضارع نفی۔ جمع مذکر حاضر۔ ہن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب تم ان کو نہ روکو۔ تم ان کو بند نہ کرو۔ تم ان وک منع نہ کرو۔ (باب نصر) عضل سے ۔ سختی کے ساتھ روکنا یعنی عدت ختم ہونے کے بعد ان کو نکاح ثانی سے مت روکو۔ تذھبوا ۔ ب تم لے جاؤ۔ ولو شاء اللہ لذھب بسمعہم وابصارھم (2:20) اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو لیجائے ان کے سننے کی قوت اور ان کی بینائی۔ بعض۔ کچھ حصہ۔ عاشروھن۔ تم ان کے ساتھ زندگی گزارو۔ تم ان کے ساتھ برتاؤ کرو۔ معاشرۃ (مفاعلۃ) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ بالمعروف۔ المعروف۔ ہر اس قول یا فعل کا نام ہے جس کی خوبی عقل یا شریعت ست ثابت ہے۔ المنکر۔ اس کی ضد ہے۔ دستور کے مطابق ۔ مناسب طور پر۔ عسی۔ عنقریب۔ شتاب۔ ممکن ہے توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے۔ ہوسکتا ہے۔
Ayah 4:20

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو اور پہلی عورت کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لو گے ؟

(4:20) استبدال (استفعال) بدلنا۔ تبدیلی چاہنا۔ مصدر ہے۔ قنطار۔ مال کثیر۔ مال کا انبار۔ بھتانا۔ بہتان لگا کر۔
Ayah 4:21

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم دیا ہوا مال کیو نکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہیں ؟

(4:21) قد افضی بعضکم الی بعض ۔ قد ماضی قریب کے لئے افضی الیٰ ۔ کسی جگہ پہنچنا افضی بیدہ الی کذا کئے معنی ہیں کسی جگہ ہاتھ پہنچ جانا۔ افضی الی۔ ای وصل۔ وافضی الی المراۃ ۔ خلابھا۔ اس کے ساتھ خلوت کی۔ جمار کیا۔ افضی۔ وہ پہنچ گیا ۔ وہ بےحجابانہ مل گیا۔ فضا اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی عمارت اس جگہ کی کسی چیز کے ادراک سے مانع ہو۔ خلوت بھی اسی وجہ سے افضاء سے موسوم ہوئی کہ اس میں ہر وہ چیز جو مجامعت سے مانع تھی دور ہوگئی۔ قد افضی۔۔ بعض۔ حالانکہ تم تنہائی میں ایک دوسرے سے مل چکے ہو۔ اخذن۔ ماضی جمع مؤنث غائب وہ لے چکی ہیں۔ یا نہوں نے لیا۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرنا مگر (جاہلیت میں جو ہوچکا سو ہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخو شی کی بات تھی اور بہت برا دستور تھا۔

(4:22) مقتا۔ مصدر۔ منصوب۔ کسی شخص کو برائی کا مرتکب دیکھ کر اس سے بغض رکھنا ۔ سبب بغض۔ کبر مقتا عند اللہ (61:3) سخت مبغوض ہے اللہ کے نزدیک م ق ت مادہ۔ یعنی تمہارا یہ فعل اللہ تعالیٰ کی سخت ناپسندیدگی کا سبب ہوگا۔
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کردی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کرچکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے ہو (وہ بھی حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (تو ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرلینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہوچکا (سو ہوچکا) بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

(4:23) ارضعنکم۔ ماضی جمع مؤنث غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ رضع (سمع) رضع (فتح) رضعا ورضعا ورضاعۃ۔ بچے کا ماں کا دودھ پینا۔ راضعہ رضاعا و مراضعۃ دودھ شریک بھائی کے ساتھ دودھ پینا۔ ارضعہ دودھ پلایا اس کو۔ ربائیکم۔ ربائب۔ ربیبۃ کی جمع ہے۔ زیر پرورش لڑکی جو اگلے شوہر سے ہو۔ ربیبہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی ماں کے دوسرے شوہر کی آغوش میں تربیت پاتی ہے۔ تمہاری جوروں کی پہلے خاوند سے لڑکیاں۔ فی حجورکم۔ حجور۔ حجر کی جمع۔ حفاظت۔ جو تمہاری حفاظت۔ نگرانی میں ۔ دخلتم بھن۔ جن سے تم صحبت کرچکے ہو۔ حلال۔ جمع حلیلۃ۔ واحد بمعنی زوجہ۔ حل سے مشتق ہے حل گرہ کھولنا۔ اترنا۔ جلال ہونا۔ من اصلابکم۔ اصلاب جمع صلب کی۔ بمعنی ریڑھ کی ہڈی۔ مراد تمہاری نسل سے تمہارے تخم سے۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں۔ (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اسطرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی۔ تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو انکا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو۔ اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(4:24) المحصنت۔ اسم مفعول۔ جمع مؤنث۔ محصنۃ واحد محصنۃ۔ اسم فاعل۔ واحد۔ احصان۔ مصدر ۔ (بروزن افعال) آزاد۔ (1) پاکدامن عورتیں ۔ دوشیزہ ہوں یا نہ ہوں۔ (2) شوہر والیان یعنی منکوحہ۔ (3) آزاد دوشیزائیں۔ صاحب معجم القرآن نے لکھا ہے کہ سورة النساء میں مندرجہ بالا معانی محصنت کے بالترتیب لئے گئے ہیں۔ جس ترتیب سے یہ لفظ سورة نساء میں آیا ہے۔ ثعلب نے لکھا ہے کہ ہر پاک دامن عورت کو محصنہ (اسم مفعول) اور محصنہ (اسم فاعل) کہا جاتا ہے۔ لیکن شوہر والی عورت کو محصنہ (اسم مفعول) کہیں گے۔ قاموس میں ہے امرأۃ حصان پاک دامن یا شوہر والی عورت۔ راغب نے اس کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر حرمت کے بعد المحصنت قرآن میں آیا ہے وہاں شوہر والیاں مراد ہے اور اس مفعول کا صیغہ ہے اور اگر حرمت کے بعد نہیں ہے تو فتح وکسرہ، برص دونوں صحیح ہیں۔ شوہر والیان ہوں یا عام پاک دامن عورتیں۔ اصل میں احصان کا معنی ہے حفاظت رکھنا۔ حصن سے بمعنی قلعہ۔ الا قلیلا ما تحصنون (12:48) صرف وہی تھوڑا سا (رہ جائے گا) جو تم احتیاط سے محفوظ رکھ لو گے۔ الحصان کے معنی محصنۃ (بفتح الصا (وبکسر) عورت کے ہیں خواہ وہ احصان پاک دامنی کی وجہ سے ہو۔ یا کسی کے ساتھ نکاح کرلینے سے یا اپنے شرف ذات اور حریت کی وجہ سے محفوظ ہو۔ اگر کوئی عورت شرف ذاتی یا عفت اخلاقی کی وجہ سے بدکاری سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتی ہے تو محصنہ (اسم فاعل) یہ ہے۔ اور اگر شوہر حفاظت کرتا ہے تو محصنۃ (اسم مفعول) ہے۔ الا ما ملکت ایمانکم۔ جنہیں تمہارے دائیں ہاتھوں نے قبضہ میں لے لیا۔ ان سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جو جہاد میں کفار کے ساتھ مذہبی جنگ کے نتیجہ میں مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں۔ (مسئلہ) جو اسیر عورت کسی کے حصہ میں آئے وہ ایک ماہواری گزرنے کے بعد اس سے صحبت کرسکتا ہے اگر اس کے شکم سے اولاد پیدا ہوئی تو اس کے حقوق بالکل ویسے ہی ہوں گے جیسے دوسری اولاد کے۔ اب وہ لونڈی کو فروخت نہیں کرسکتا اور اس کے مرنے کے بعد وہ خود بخود آزاد بھی ہوجائے گی۔ (ضیاء القرآن) کتب اللہ علیکم۔ کتاب مصدر مؤکدہ ہے اس کا فعل کتب محذوف ہے گویا اس کی تقدیر یوں ہے : کتب علیکم کتاب اللہ۔ ای کتب اللہ علیکم تحریم ذلک کتاب (مصدر بمعنی حکم ۔ فرض۔ حکم الٰہی۔ فریضہ۔ جیسے یایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام (2:183) اے ایمان والو ! تم پر روزہ فرض کئے گئے ہیں۔ ان تبتغوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبرغون تھا۔ ان ناصبہ کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ تم چاہتے ہو۔ تم ڈھونڈھتے ہو۔ تم تلاش کرتے ہو۔ ابرغاء (افتعال) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنے کے ہیں ۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ ۔ بغی۔ دو قسم پر ہے۔ (1) محمود یعنی عدل و انصاف سے تجاوز کرکے (بڑھ کر) مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کرکے تطوع بجالانا۔ (2) مذموم۔ یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل کو اختیار کرنا۔ یا شبہات میں پڑنا۔ بغی (ثلاثی مجرد) کا استعمال قرآن میں اکثر مذموم معنی میں ہوا ہے۔ ان تبتغوا کہ تم تلاش کرو۔ تم حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ ان تبتغوا مفعول لہ ہے احل کا۔ یعنی ماسوا ان عورتوں کے (جو آیۃ 23 ماقبل میں حرام کی گئی ہیں) باقی تم پر حلال کردی گئی ہیں یہ اس لئے کہ تم اپنے مال خرچ کرکے ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرسکو۔ محصنین۔ اپنے نفس کو حرام کاری سے بچانے والے۔ اسم فاعل ، جمع مذکر۔ منصوب۔ مسافحۃ (مفاعلۃ) زنا کرنے والے۔ یعنی تم اپنا مال خرچ کرکے حلال عورتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہو۔ لیکن اپنے نفس کو پاکدامن رکھتے ہوئے اور زنا کاری سے بچتے ہوئے ۔ گویا ابتغاء کی اجازت مشروط ہے۔ استمتعتم۔ باب استفعال ۔ تم کام میں لائے۔ تم نے فائدہ اٹھایا۔ تم برت چکے۔ یعنی جب تم نے نکاح کرکے ہمبستری کا فائدہ اٹھایا۔ تو مقرر شدہ مہران کو ادا کرو۔ استمتعتم سے متعہ جو رافضیوں کے نزدیک جائز ہے اس پر استدلال کرنا سراسر باطل ہے کیونکہ الفاظ محصنین اور غیر مسافحین صاف طور پر اس کی تردید کرتے ہیں۔ اجورھن۔ ان کا حق ان کا مہر۔ مضاف مضاف الیہ۔ دونوں مل کر فاتوھن کا مفعول بہٖ ۔ اجور۔ اجر کی جمع ہے۔ فریضۃ۔ مقرر کیا ہوا مہر۔ لازم کیا ہوا حکم۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث ۔ فرض مادہ۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کر کے نکاح کرلو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں۔ نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں۔ پھر اگر نکاح میں آ کر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی انکو (دی جائے) یہ (لونڈی کیساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو۔ اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(4:25) طولا۔ بمعنی السعۃ والغنی۔ مال و دولت۔ تونگری۔ انعام۔ وسعت۔ گنجائش ۔ مقدر۔ قدرت۔ طال۔ یطول کا مصدر۔ طول مادہ۔ اس کا استعمال دو معنی میں ہوتا ہے۔ ایک تو درازی اور فضیلت میں غلبہ حاصل کرنا۔ دوسرے کسی شخص کے ساتھ احسان کرنا۔ اور اس کو انعام دینا۔ یہاں مراد مقدر بمعنی مہر و نفقہ ہے۔ فمن ما ملکت ایمانکم۔ میںجواب شرط کے لئے ہے اور ما ملکت ایمانکم سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جو دوسرے کی ملکیت ہوں۔ جیسا کہ عبارت مابعد فانکحوھن باذن اہلہن۔ سے ظاہر ہے۔ من فتیتکم المومنت۔ تمہاری باندیاں۔ کنزیں جو مسلمان ہیں۔ بعضکم من بعض۔ بعض (جمع ابعاض) کے معنی ہیں حصہ۔ قسمت۔ ٹکڑا۔ جزو۔ کچھ۔ کوئی سا۔ کوئی آدمی۔ کوئی چیز۔ کسی ۔ یعنی تم ایک دوسرے کے حصے ہو۔ ایک دوسرے میں سے ہی ہو۔ ایک دوسرے کی ہی جنس سے ہو۔ انسانی طور پر۔ بوجہ شرکت اسلام ۔ بوجہ وحدت خیال ۔ بوجہ وحدت دین وایمان۔ محصنت۔ مسفحت۔ دیکھو آیۃ ماقبل۔ متخذات۔ اسم فاعل۔ جمع مؤنث۔ اتخاذ (افتعال) اخذ۔ مادہ۔ کسی چیز کو اپنے تسلط و تصرف میں داخل کرلینا۔ خواہ ہاتھ سے پکڑ لینا ہو یا کسی کی گرفت کرلینا۔ باب افتعال سے اس کے معنی بنانا۔ اختیار کرلینا۔ اس باب سے یہ فعل متعدی بدو مفعول ہوگا۔ لیتخذ بعضھم بعضا سخریا۔ کہ بنائیں ان میں سے بعض طعض کو اپنا غلام یا تابعداد۔ (43:32) بعضا مفعول بہٖ سخریا مفعول لہ۔ متخذات۔ بنانے والیاں ۔ پکڑنے والیاِ اخدان۔ خدن کی جمع جس کے معنی مصاحب اور رفیق کے ہیں۔ مگر عام طور پر اس مصاحب پر بولا جاتا ہے جو جنسی خواہش پوری کرنے کے لئے ساتھ رہتا ہو۔ چھپے یار۔ چھپے آشنائ۔ مذکر و مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔ محصنت ۔۔ اخدان۔ تاکہ وہ نکاح کے سنجیدہ فعل سے پاکدامن بن جائیں اور اعلانیہ زنا کار اور چوری چھپے یار بنانے والیاں بن کر نہ رہیں۔ احصن۔ ماضی مجہول جمع مؤنث غائب۔ احصان سے بمعنی حریت۔ عفت۔ تزوج۔ اسلام۔ قید میں رکھنا ۔ نکاح کی قید یا پناہ میں لائی گئیں۔ ما علی المحصنت۔ جو (سزا) آزاد عورتوں کے لئے ہے۔ ذلک۔ یہ لونڈیوں سے نکاح کی اجازت کی طرف اشارہ ہے۔ العنت۔ گناہ۔ بدکاری۔ زنا۔ تکلیف۔ مشقت۔ فساد۔ ہلاکت۔ غلطی۔ خطا۔ جور۔ اذیت۔ عنت بعنت (سمع) کا مصدر ہے۔ یہاں متفقہ طور پر مفسرین اس سے مراد زنا لیتے ہیں۔ ان تصبروا۔ ان مصدریہ ہے اور فعل کے ساتھ مل کر مصدر کے معنی میں ہوتا ہے ای صبرکم۔ تمہارا صبر کرنا۔
Ayah 4:26

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو (اگلے لوگوں کے طریقے بتائے) اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(4:26) سنن۔ سنۃ کی جمع ہے سنۃ کے معنی ہیں۔ راہ۔ رسم۔ دستور۔ طریقہ۔ جاریہ۔ یھدیکم کا مفعول ثانی ہے۔ چلائے تم کو ان لوگوں کی راہوں پر۔ یتوب علیکم۔ تاب یتوب (نصر) توبا۔ وتوبۃ وتابۃ۔ تاب الی اللہ۔ نادم اور پشیمان ہوکر گناہ سے روگردانی کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔ تائب توبہ کرنے والا۔ تاب اللہ علیہ۔ اللہ تعالیٰ کا کسی کے گناہ معاد کرکے اس کو اپنے فضل و کرم سے نوازنا۔ تواب۔ (توبہ قبول کرنے والا)
Ayah 4:27

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

(4ـ:27) تمیلوا ۔ مال یمیل (ضرب) میلا۔ درمیانی راہ سے کسی ایک طرف ہٹ جانا۔ ایک طرف مائل ہوجانا۔ راست روی سے ہٹ جانا۔ تمیلوا۔ تم بہک پڑو۔ کج روی اختیار کرو۔
Ayah 4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعا) کمزور پیدا ہوا ہے

(4:28) ان یخفف عنکم۔ تم سے (پابندیوں کا بوجھ) ہلکا کرے۔ یخفف کا مفعول محذوف ہے۔
Ayah 4:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

مومنو ! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ ہوجائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے

(4:29) تراض۔ باہمی رجا مندی۔ آپس کی خوشی۔ ایک کا دوسرے سے راضی ہونا۔ (باب تفاعل) مصدر ہے۔ ی حرف علت بوجہ ثقالت۔ آخر سے گرگئی۔ رضی مادہ۔
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

(4:30) عدوانا۔ عدا یعدوا عدوا وعدوانا وعدونا وعدوا (باب نصر) زیادتی ۔ ظلم و ستم ۔ سرکشی۔ نصلیہ۔ اصلی یصلی اصلاء (افعال) سے مضارع جمع متکلم۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم اس کو آگ میں (جہنم میں) داخل کریں گے۔ اصلی (سمع) کے اصل معنی آگ جلانے کے ہیں ۔ (باب افعال) سے آگ میں پھینکنا۔ آگ میں ڈالنا۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

(4ـ31) تجتنبوا۔ اجتناب (افتعال) سے اگر تم بچتے رہو گے۔ اجتناب کرو گے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تجتنبون تھا۔ ان جازم فعل کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ نکفرعنکم۔ نکفر۔ جمع متکلم مضارع جواب شرط کی وجہ سے مجزوم ہے۔ ہم دور کردیں گے۔ تکفیر۔ مصدر بروزن تفعیل۔ مدخلا۔ داخل ہونے کی جگہ۔ اسم ظرف مکان۔ مدخلا۔ مصدر بھی ہے (باب افعال) پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ ہم تمہیں عزت کی جگہ میں داخل کریں گے۔ (یعنی جنت میں) دوسری صورت میں۔ ہم تمہیں عزت کے ساتھ (جنت میں) داخل کریں گے۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضلیت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

(4:32) ولا تتمنوا۔ مضارع نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تمنی (باب تفعل) سے اصل میں تتمنون تھا۔ لاء نہی (جازم فعل) کی وجہ سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ تم آرزو مت کرو۔ تم ہوس نہ کرو۔ تمنی کا بیشتر استعمال کسی بےحقیقت چیز کے تصور کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ التمنی عبارۃ عن ارادۃ مایعلم او یظن انہ لایکون (رازی۔ روح البیان) تمنی وہ ارادہ ہے جو متمنی جانتا ہے کہ پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ اس لئے کہ حقیقت کی دنیا میں یہ اس کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے ورنہ جہاں تک اس کی اپنی ہمت اور کوشش کا تعلق ہے وہ اسی آیت میں فرما دیا کہ : للرجال نصیب مما اکتسبوا۔ مردوں کے نصیب میں وہی ہے جو انہوں نے کمایا۔ یعنی جو جتنی محنت کرے گا اتنا ہی پھل پائے گا۔ واسئلوا اللہ من فضلہ۔ واؤ کا عطف ولا تتمنوا پر ہے یعنی بےکار ہوس نہ کرو بلکہ وہی چیز اللہ سے طلب کرو۔ لاتتمنوا ما للناس واسئلوا اللہ من خزائنہ۔ جو چیز لوگوں کو دی گئی ہے اس کی تمنا مت کرو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کے خزانوں سے ویسی نعمت کی طلب کرو۔
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حقداروں میں تو تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی انکا حصہ دو بیشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

(4:33) لکل ہر شخص کے لئے۔ موالی۔ مولی۔ کی جمع۔ چچا کے بیٹے (بغوی) عصیات (مجاہد) کلالہ (ابو صالح) عام وارث (کلبی) دوست۔ مؤکل۔ محافظ (44:41) آقا۔ مالک (16:76) عقدت اس نے باندھا ۔ عقد سے جس کے معنی باندھنے ۔ گرہ باندھنا۔ سوگند کھانا۔ کسی چیز کے اطراف کو آپس میں جمع کردینا (باب ضرب) عقدۃ گرہ۔ عقد جمع۔ نفثت فی العقد۔ گرہوں میں پھونکیں مارنے والیاں۔ عقد۔ عہد باندھنا۔ قول و قرار۔ عہدو پیمان۔ اس کی جمع عقود ہے۔ عقد یمین عہد و پیمان کی پختگی۔ والذین عقدت ایمانکم۔ اور وہ لوگ جن سے تمہارا عہد و پیمان بند ھ چکا ہے۔ ولکل جعلنا ۔۔ والاقربون۔ اس کی مندرجہ ذیل ہوسکتی ہیں : (1) کل مضاف ہے اور اس کا مضاف الیہ احد محذوف ہے۔ (2) کل مضاف ہے اور مال اس کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اور مما ترک الوالدان والاقربون اس مال کی صفت ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا : ” ہر ایک شخص کے لئے اس ترکہ کے متعلق جو اس نے چھوڑا ہے ہم نے وارثان مقرر کر دئیے ہیں۔ اس صورت میں الوالدان والاقربون وارثان (موالی) کی صفت ہے یعنی یہ وارثان والدین اور قریبی رشتہ دار ہیں۔ دوسری صورت میں ترجمہ یوں کیا جائے گا : ہر مال کے لئے جو والدین اور اقربون نے ترکہ میں چھوڑا ہے ہم نے وارث (موالی) مقرر کردیئے ہیں۔ اس صورت میں والدین والاقربون موروثین ہیں۔ دوسری صورت جمہور کے نزدیک زیادہ صحیح ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے۔ والذین عقدت ۔۔ نصیبھم۔ نیا فقرہ ہے۔ والذین عقدت ایمانکم۔ (اور وہ لوگ جن سے تمہارا عہد و پیمان بندھ چکا ہے) سے کیا مراد ہے بعض نے اس سے مراد وہ عورتیں لی ہیں جن سے تمہارا عہدو پیمان (نکاح) بندھ چکا ہو (ترجمان القرآن ابو الکلام) لیکن اکثریت نے اس سے مراد وہ اشخاص لئے ہیں جن سے زندگی میں باہمی عہدو پیمان وراثت ہوچکا ہو۔ یہ رسم عہد جاہلیت سے بھی چلی آرہی تھی اور ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار میں ایک انصاری کی وفات کے بعد اس کا مہاجر بھائی بند وارث ہوتا۔ اس آیت نے اس طریقہ کو منسوخ کردیا اور حکم ہوا کہ ان کی مدد کرو۔ ان کی خیر خواہی کرو ان کو فائدہ پہنچاؤ۔ لیکن میراث انہیں نہیں پہنچتی۔ (ابن کثیر۔ عبد اللہ یوسف علی) ۔ بعد میں یہ دستور مابین انصار و مہاجرین آیۃ 33:6 سے منسوخ ہوگیا۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر حاکم ومسلط ہیں اس لیے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال و آبرو کی) خبر داری کرتی ہے اور جن عوتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی اور (بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو۔ اگر اس پھر بھی باز نہ آئیں تو پھر زد کو ب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈوں بیشک خدا سب سے اعلی (اور) جلیل القدرر ہے

(4:34) قوامون۔ جمع مرفوع ۔ قوام۔ واحد صیغہ مبالغہ ۔ بگران۔ سرپرست۔ محافظ۔ مصلح۔ برتر۔ قوامد یا قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارہ یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی نگہبانی اور حفاظت کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ بما۔ بوجہ۔ ب سببیہ ہے اور ما مصدریہ۔ بعضہم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب مردوں کے لئے ہے اور بعض عورتوں کے لئے (مدارک) فالصلحت۔ پس نیک بیبیاں (وہ ہیں جو آگے بیان ہوئی ہیں) قنتت۔ اسم فاعل جمع مؤنث۔ فرماں بردار، اطاعت گزار۔ قنوت سے قانت (مذکر) خضوع اور عاجزی کرنے والا۔ نماز میں طویل قیام کرنے والا۔ بندگی پر قائم و دائم رہنے والا۔ کل لہ قنتون (2:116) سب اس کے فرمانبردار ہیں۔ ان ابراہیم کان امۃ قانتا (16:120) بیشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور (خدا کے) فرمانبردار تھے۔ حفظت لللغیب۔ مردوں کی عدم موجودگی میں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والیاں۔ شوہروں کی عزت و آبرو کی ان کے نفع و نقصان کی اور ان کے بھیدوں کی حفاظت کرنے والیاں (لام بمعنی فی ہے) ۔ بما حفظ اللہ۔ جیسا کہ حفاظت فرمائی اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت و آبرو کی۔ ان کے حقوق کی۔ ان کی نگہداشت و نان و نفقہ کی مردوں کو حکم دے کر۔ بما میں ب سببیہ اور ما مصدریہ۔ یا اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے۔ (عبد اللہ یوسف علی) تخافون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم ڈرتے ہو۔ تمہیں خوف ہو۔ خوف (باب سمع) مصدر سے ۔ نشوزھن۔ مضاف مضاف الیہ۔ (مصدر۔ باب نصر۔ ضرب) ان کی سرکشی۔ ان کی نافرمانی۔ مراد شوہر سے نفرت۔ اطاعت سے گریز۔ شوہر کے مقابلہ میں غرور۔ مضاف مضاف الیہ مل کر فعل تخافون کا مفعول ہے۔ فعظوہن۔ عظوا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر وعظ سے ھن ضمیر جمع مؤنث غائب۔ تم ایسی عورتوں کو نصیحت کرو۔ ان کو سمجھاؤ (باب ضرب) ابن فارس کہتے ہیں کہ الوعظ کے معنی خوف دلانے اور ڈرانے کے ہیں۔ المصاجع اسم ظرف جمع المضجع واحد۔ بستر۔ خواب گاہیں اضجع واضطجع پہلو کے بل لیٹنا۔ الضجع ساتھ لیٹنے والا فلا تبغوا علیہن سبیلا۔ بغی۔ تلاش کرنا۔ ڈھونڈھنا۔ چاہنا۔ علی بمعنی خلاف ۔ یعنی پھر ان کے خلاف (کوئی ظلم کی) راہ تلاش مت کرو۔ تبغوا اصل میں تبغون تھا لاء نہی کے سبب نون اعرابی گرگیا۔
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کر دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کر دے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

(4:35) شقاق۔ الشق۔ شگاف کو کہتے ہیں۔ جیسے مشققۃ بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔ قرآن کریم میں ہے ثم شققنا الارض شقا (8:126) پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا۔ یا اذا السماء انشقت (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ الشق (بکسرش) اس مشقت کو کہتے ہیں کہ جو تگ ودو سے بدن یا جسم کو لاحق ہوتی ہو۔ مثلاً الا بشق الانفس (16:7) مگر جان پر مشقت جھیلنے کے بعد۔ الشقاق۔ کے معنی مخالفت۔ عداوت۔ ناچاقی کے ہیں۔ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ شق طرف شقاق بمعنی الگ الگ (مخالف) طرفوں میں ہونا۔ فابعثوا۔ تم بھیجو۔ تم بلا بھیجو۔ تم اٹھاؤ۔ مقرر کرو۔ بعث سے باب فتح۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ حکما۔ مفعول بہٖ ۔ منصف۔ بیچ۔ فیصلہ کرنے والا۔ حکم سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد جمع۔ سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ فیصلہ کرنے والے کو حکم کہتے ہیں۔ حاکم سے زیادہ بلیغ۔ یریدا تثنیہ مذکر غائب اس سے مراد دو بنچ۔ ایک خاوند کی طرف سے ایک بیوی کی طرف سے۔ اصل میں یریدان تھا۔ ان ناصبہ کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔ یوفق اللہ۔ یوفق مضارع مجزوم مکسور بالوصل واحد مذکر غائب توفیق مصدر باب تفعیل موافقت پیدا کر دے گا۔ بینھما۔ میں ھما ضمیر تثنیہ مؤنث غائب مرد اور عورت کے لئے ہے۔
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

(4:36) وبالوالدین احسانا۔ اس کی تقدیر ہے واحسنوا بالوالدین احسانا۔ وبذی القربی ۔۔ ایمانکم میں ذوی القربی۔ والیتامی۔ والمساکین۔ والجارذی القربی۔ والجار الجنب۔ والصاحب بالجنب وابن السبیل اور ما ملکت ایمانکم سے پہلے احسنوا محذوف ہے۔ الجار ذی القربی۔ الجار۔ جو جوار میں یعنی پہلو میں رہنے والا ہو بمعنی پڑوسی ذوی القربی ۔ قرابت دار ہو۔ یعنی رشتہ دار پڑوسی الجار الجنب۔ جنب بمعنی دور۔ اجنبی۔ یعنی وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہ ہو۔ صاحب بالجنب پہلو کا رفیق۔ قریبی درست کا سفر کا ساتھی۔ ابن السبیل مسافر۔ مخالا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب بوجہ خبر کان۔ اختیال (افتعال) مصدر۔ بمعنی اکڑنے والا۔ اترانے والا۔ اپنے آپ کو بڑا خیال کرنے والا۔ فخو وا۔ خبر ثانی۔ کان مبالغہ کا صیغہ فاخر سے مفعول بمعنی فاعل بہت فخر کرنے والا۔ گھمنڈ کرنے والا۔ اترانے والا۔ شیخی خور
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کر رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

(4:37) یبخلون۔ مضارع جمع مذکر غائب بخل (باب سمع) مصدر وہ بخل کرتے ہیں۔ کنجوسی کرتے ہیں۔ فضلہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ فضل کے معنی مال۔ برتری۔ قوت۔ حسن۔ مرتبہ۔ عزت۔ حکومت۔ عقل۔ علم۔ حلم وغیرہ میں زیادتی کے ہیں۔ اعتدنا۔ ہم نے تیار کیا ہے۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ اعتاد مصدر۔ عتد مادہ۔ العتاد ضرورت کی چیزوں کا پہلے سے ذخیرہ کرلینا۔ یہی معنی اعداد کے ہیں۔ اعتدنا بروزن افعلنا۔ اعتاد سے فعل ماضی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اصل میں اعددنا ہے۔ ایک دال کو ت میں تبدیل کیا گیا ہے۔
Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لیے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کا ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے

(4:38) یکن مضارع مجزوم فعل ناقص کون سے (باب نصر) اصل میں یکون تھا۔ من جازم فعل کی وجہ سے ن ساکن ہوگیا۔ اجتماع ساکنین (واؤ۔ نون) کی وجہ سے واؤ گرگئی۔ قریبا۔ بروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے (باب کرم) ساتھی۔ دوست۔ اس کی جمع قرناء ہے۔ قرآن حکیم میں ہے کہ وقیضنا لہم قرناء (41:25) اور ہم نے شیطان کو ان کو ہمنشین مقرر کردیا۔ ایک زمانہ کے لوگ یا امت قرن کہلاتی ہے۔ اس کی جمع قرون ہے جیسے قرون اولیٰ ۔ پہلی امتین۔ قرن جانور کا سینگ بھی ہے۔ ذوالقرنین دو سینگوں والا۔ یہاں سینگ تشبیہ کے طور پر استعمال ہوا ہے) ۔ آیات 36 ۔ 37 ۔ 38 میں مختالا فخورا۔ ان اشخاص کے لئے ہے جو اپنے مال و دولت۔ عزت و جاہ وغیرہ پر اتراتے ہیں۔ اور فخر کرتے ہیں۔ الذین یبخلون ۔۔ الخ مختالا فخورا کی صفت ہے۔ کافرین سے مراد یہی مندرجہ بالا گروہ ہے کہ کفران نعمت سے کام لیتے ہوئے اللہ کے دئیے ہوئے فضل پر بیجا گھمنڈ کرتے ہیں ۔ اس کے صحیح استعمال میں کنجوسی کرتے ہیں دوسروں کو اس کے صحیح استعمال سے منع کرتے ہیں۔ اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو دوسروں سے چھپاتے ہیں۔ والذین ینفقون کی تین صورتیں ہیں : (1) یہ الذین یبخلون پر عطف ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور اللہ ان لوگوں کو بھی پسند نہیں کرتا۔ جو اپنا مال دکھاوے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔۔ الخ۔ (2) یہ للکافرین پر عطف ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا ۔ ان لوگوں کے لئے بھی جو اپنا مال دکھاوے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔۔ الخ ہم نے ان کے لئے بھی رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (3) والذین ینفقون۔ سے نیا جملہ شروع ہوتا ہے۔ اس صورت میں والذین ینفقون ۔۔ بالیوم الاخر۔ مبتداء اس کی خبر محذوف (فلہم الشیطان قرینا۔ تو شیطان ان کا ساتھی ٹھہرا) اور جن کا ساتھی شیطان ہو (تو وہ جان لے شیطان) بہت برا ہے ایک ساتھی کی حیثیت سے۔
Ayah 4:39

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

(4:39) وما ذاعلیہم۔ اور کیا تکلیف ہوتی ان کو۔ اور کیا مصیبت آجاتی ان پر۔ اور کیا نقصان ہوتا ان کا۔