Ayah 4:1(1) ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” خلقنکم من نفس واحدۃ “ سے مراد ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے ” وخلق منہا زوجھا “ سے مراد ہے حوا کو پیدا کیا گیا ان کی چھوٹی پسلی سے۔
(2) عبد بن حمید وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” خلقنکم من نفس واحدۃ “ سے مراد ہے کہ آدم اور ” وخلق منھا زوجھا “ سے مراد ہے حوا کو آدم (علیہ السلام) کی چھوٹی پسلی سے پیدا کیا جبکہ آدم (علیہ السلام) سو رہے تھے (حوا کو دیکھ کر) فرمایا۔ انا نبطی زبان میں (انا) سے عورت مراد ہے۔
(3) عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت حوا کو آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا اور ابلیس کی بیوی کو ان کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا۔
(4) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وخلق منھا زوجھا “ سے مراد ہے کہ حضرت حوا کو آدم (علیہ السلام) کی سب سے چھوٹی پسلی سے پیدا کیا گیا اور وہ سب پسلیوں میں سے سب سے نیچے والی پسلی ہے۔
(5) ابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عورت کو مرد سے پیدا کیا گیا اور اس کی سخت خواہش رکھ دی گئی مردوں میں پس تم عورتوں کا خیال رکھو اور پیدا کیا گیا مرد کو مٹی سے اور اس کی ضرورت رکھ دی گئی مٹی سے۔
وبث منھما رجالا : الایۃ
(6) اسحاق بن بشیر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی چالیس اولادیں ہوئیں بیس لڑکے اور بیس لڑکیاں۔
(7) ابن عساکر نے ارطاۃ بن منذر (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب حوا ؓ شیث (علیہ السلام) کے ساتھ حاملہ ہوئیں یہاں تک کہ ان کے دانت اگ آئے اور حوا ؓ پیٹ کے شفاف ہونے کے وجہ سے محبت کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھتی تھیں اور یہ آدم (علیہ السلام) کا تیسرا بیٹا تھا اور جب پیدائش کا وقت آیا تو ان کو شدید تکلیف پہنچی اور جب ان کو جنا تو ان کو فرشتوں نے اٹھا لیا اور فرشتے حوا کے ساتھ چالیس دن تک رہے اور انہوں نے ان کو اشارے (یعنی طریقے) سکھائے پھر حوا کی طرف ان کو لوٹا دیا۔
(8) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واتقوا اللہ الذی تساء لون “ سے مراد ہے کہ اس کے ذریعہ تم آپس میں ایک دوسرے پر مہربانی کرتے ہو۔
(9) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو کہ جس کے ذریعہ تم ایک دوسرے سے عہدو پیمان کرتے ہو۔
(10) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” تساء لون بہ والارحام “ سے مراد ہے کہ یعنی میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اللہ تعالیٰ اور رشتہ داری کے واسطے سے۔
(11) ابن جریر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آدمی کا قول ہے کہ میں تجھ کو اللہ تعالیٰ اور رشتہ داروں کا واسطہ دیتا ہوں۔
(12) عبد بن حمید وابن جریر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ” تساء لون بہ والارحام “ میں الارحام کے نیچے کسرہ پڑھا ہے پھر فرمایا وہ ایک آدمی کا قول ہے کہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے واسطے سے اور رشتہ داری کے واسطے سے۔
اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرنے والوں کو رد نہ کرو
(13) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس آیت کو تلاوت کرتے ہوئے فرمایا جب مجھ سے سوال کیا جائے اللہ تعالیٰ کے واسطے سے تو اس کو عطا کر اور جب تو سوال کرے رشتہ داری کے واسطے سے تو وہ اس کو بھی۔
(14) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واتقوا اللہ الذی تساء لون بہ والارحام “ سے مراد ہے کہ ڈرو تم اللہ تعالیٰ سے کہ جس کے ذریعہ تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور ڈرو تم رشتہ داری سے اور اس کو جوڑو۔
(15) عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الذی تساء لون بہ والارحام “ کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں صلہ رحمہ کرو اپنے رشتہ داروں سے کیونکہ یہ بقا کا باعث ہے تمہارے لئے دنیا کی زندگی میں اور تمہارے لئے خیر کا باعث ہے آخرت میں۔
(16) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صلہ رحمی کرو کیونکہ یہ بقا کا باعث ہے تمہارے لئے دنیا میں اور خیر ہے تمہارے لئے آخرت میں۔
(17) عبد الرزاق وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صلہ رحمی کرو۔
(18) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” والارحام “ اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ سے ڈرو (اور) اس کو نہ کاٹو۔
(19) ابن جریر (رح) نے ابن جریج کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رشتہ داری سے ڈرو (کہ اس کو جوڑے رکھو اس کو نہ توڑو) ۔
(20) عبد بن حمید ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الذی تساء لون بہ والارحام “ سے مراد ہے کہ ڈرو تم اللہ سے اور ڈرو تم رحموں (صلہ رحمہ) کے توڑنے سے یعنی رشتہ داری کے تعلق کو قائم رکھو۔
(21) ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے ” والارحام “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ڈرو تم رحموں کے قطع کرنے سے۔
(22) ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان اللہ کان علیکم رقیبا “ سے مراد ہے ” حفیظا “ یعنی حفاظت کرنے والا “۔
(23) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ نگرانی کرتا تمہارے اعمال پر اور وہ اس کو جانتا ہے اور اس کو پہچانتا ہے
(24) ابن ابی شیبہ و ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے نماز کا خطبہ اور حاجت کا خطبہ سکھایا نماز کا خطبہ تو تشہد لیکن حاجت کا خطبہ یہ ہے کہ بلاشبہ ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اس سے مدد مانگتے ہیں اور ہم اسی سے استغفار کرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں اپنے نفسوں کی شرارت سے اور اپنے برے اعمال سے جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیں تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو گمراہ کریں تو اس کو کوئی ہدایت کرنے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر آپ ﷺ نے تین آیات اللہ کی کتاب میں سے پڑھیں لفظ آیت (1) ” اتقوا اللہ حق تقتہ ولا تموتن الا وانتم مسلمون “ (2) ” واتقوا اللہ الذی تساء لون بہ والارحام ان اللہ کان علیکم رقیبا “ (3) ” اتقوا اللہ وقولوا قولا سدیدا (70) یصلح لکم اعمالم ویغفرلکم ذنوبکم “ پھر اپنی حاجت کا ذکر کر۔
Ayah 4:2(1) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ غطفان کے ایک آدمی کے پاس اپنے بھتیجے کا بہت مال تھا جو یتیم تھا جب وہ یتیم بالغ ہوا تو اس نے اپنے مال کو طلب کیا مگر چچا نے دینے سے انکار کردیا اس یتیم نے نبی ﷺ کو شکایت کی تو اس پر یہ آیت ” واتوا الیتمی اموالہم “ نازل ہوئی یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ یتیموں کو ان کے اموال دے دو (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب “ یعنی لوگوں کے حرام مال کو اپنے مال سے تبدیل نہ کرو پھر فرماتے ہیں یہ معنی بھی ہوسکتا ہے اپنے حلال مالوں کی فضول خرچی نہ کرو اور ان کے حرام مال نہ کھاؤ۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب “ سے مراد ہے کہ حلال کو حرام سے تبدیل نہ کرو اور نہ حرام رزق کے لیے جلدی کرو پہلے اس کے کہ تیرے پاس حلال آجائے جو تیرے لئے مقدر کیا گیا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ولا تاکلوا اموالہم “ یعنی نہ کھاؤ ان کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ ملاتے ہوئے تاکہ اس کے سارا ہی مال کھا جاؤ (پھر فرمایا) لفظ آیت ” انہ کان حوبا کبیرا “ یعنی حوب سے مراد گناہ ہے۔
(3) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب “ سے مراد ہے کہ ان کو دبلا اور کمزور (جانور) دے دو اور (خود) موٹا جانور لے لو (ایسا نہ کرو) ۔
یتیم کے مال میں ردو بدل کرنا بڑا گناہ ہے
(5) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ایک آدمی یتیم کی بکریوں میں سے موٹی بکری لے لیتا تھا اور اس کی جگہ دبلی بکری اس کے لیے کردیتا تھا اور کہتا تھا یہ بکری ہے اس کے بکری کے بدلہ میں اور کھرا درہم لے لیتا تھا اور اس کی جگہ کھوٹا درہم دے دیتا تھا اور کہتا تھا یہ درہم ہے اس درہم کے بدلہ میں۔
(6) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی آدمی عورتوں اور بچوں کا وارث نہیں بناتے تھے بڑا مال لیتا مال میں سے اس کا عمدہ حصہ ہوتا اور خراب حصہ چھوٹے کے لیے ہوتا۔
(7) عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ولا تاکلوا اموالہم الی اموالکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہاں الی مع کے معنی میں ہے یعنی ان کے مال نہ کھاؤ اپنے مالوں کے ساتھ۔
(8) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت یتیموں کے مال کے بارے میں نازل ہوئی تو انہوں نے یتیموں کے مال کو اپنے مال سے ملانے کو ناپسند کیا اور یتیم کے ولی نے یتیم کے مال کو اپنے مال سے الگ کردیا تو یتیموں نے اس بات کی شکایت کی نبی ﷺ کے پاس تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” ویسئلونک عن الیتمی قل اصلاح لہم خیر وان تخالطوہم فاخوانکم “ نازل فرمائی یعنی ان کے مالوں کو اپنے ساتھ ملاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔
(9) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” حوبا کبیرا “ سے بڑا گناہ مراد ہے۔
(10) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” حوبا کبیرا “ سے مراد ہے ظلم۔
(11) الطستی نے اپنے فضائل میں وابن الانباری نے الوقف والا بتداء میں اور طبرانی نے حضرات ابن عباس ؓ سے نافع بن ازرق (رح) نے ان سے ” حوبا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس کا معنی گناہ ہے حبشی لغت میں، انہوں نے عرض کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں انہوں نے فرمایا ہاں ! کیا تو نے اعشی شاعر کا قول نہیں سنا۔
” فانی وما کلفتمونی من امرکم لیعلم من امی اعق واحوبا “
ترجمہ : بیشک میں اور جن کاموں کا تم نے مجھے مکلف بنایا ہے تمہارے معاملات میں سے تو معلوم ہوجائے گا کون زیادہ نافرمانی کرنے والا اور گناہ گار ہے۔
(12) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” حوبا “ ح کے رفع کے ساتھ پڑھتے تھے۔
(13) حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” حوبا “ ح کے نصب کے ساتھ پڑھتے تھے۔
Ayah 4:3(1) عبد بن حمید و بخاری ومسلم و نسائی وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنے سنن میں عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بھانجے ! یہ یتیم لڑکی جو اپنے ولی کی گود میں ہو اور وہ اس بچی کے مال کے شریک ہے اور اس بچی کے دل کو اس کا مال اور اس کا وہی دیتا ہے جو اس کے علاوہ اور کوئی آدمی اس کو دیتا ہے تو ان یتیم بچیوں سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا مگر یہ انصاف ان کے ساتھ انصاف کریں بہت اچھا مہر مقرر کریں اور حکم کیا گیا کہ وہ نکاح کریں دوسری عورتوں میں سے جو ان کو اچھی لگیں ان کے علاوہ اور لوگ (یعنی صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” ویستفتونک فی النساء “ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ کا قول دوسری آیت میں ہے لفظ آیت ” وترغبون ان تنکوھن “ (یعنی) تم میں سے کسی کا اعراض کرنا اس یتیم بچی سے جبکہ وہ قلیل مال اور قلیل جمال والی ہو اور روک دیا گیا کہ وہ نکاح کریں دوسری عورتوں سے جس سے رغبت کریں اس کے مال اور اس کے جمال میں مگر انصاف کے ساتھ ان سے اعراض کرنے کی وجہ سے جبکہ وہ قلیل مال اور قلیل جمال والی ہوں۔
یتیم بچی پر ظلم کرنا بڑا عظیم گناہ ہے
(2) بخاری نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی کے پاس ایک یتیم بچی تھی تو اس نے اس سے نکاح کرلیا اس کے کھجور کے پھل دار درخت اس کا پھل بھی روک لیتا تھا اور اپنی طرف سے کوئی چیز نہ دیتا تو اس کے بارے میں یہ آیت ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی “ نازل فرمائی اور میں خیال کرتی ہوں کہ وہ یتیم بچی ان کھجوروں میں اور اس کے مال میں شریک تھی۔
(3) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت یتیم بچی کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک آدمی کے پاس رہتی تھی اور وہ بچی مال والی تھی شاید کہ اس نے نکاح کرلیا تھا اس کے مال کی وجہ سے حالانکہ وہ اس کو نہ پسند کرتا تھا پھر وہ اس کو مارتا تھا اور اس کے ساتھ برا سلوک کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نصیحت فرمائی۔
(4) ابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش میں سے ایک آدمی تھا جس کے پاس کئی عورتیں اور یتیم بچے بھی تھے اس کا (اپنا) مال ختم ہوجاتا تو وہ یتیموں کے مال کی طرف میلان کرتا تھا تو اس بارے میں یہ آیت ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی “ نازل ہوئی۔
(5) ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ایک آدمی چار، پانچ، چھ اور دس عورتوں سے شادی کرلیتا تھا دوسرا آدمی یہ کہتا تھا مجھے کس چیز نے منع کیا کہ میں بھی اتنی ہی شادیاں کروں جتنی فلاں نے کی ہیں تو وہ یتیم بچی کا مال لے کر اس سے شادی کرلیتا تھا پھر مردوں کو چار سے زیادہ شادیاں کرنے سے منع کردیا گیا۔
(6) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ایک آدمی یتیم بچے کے مال سے جتنی شادیاں چاہتا کرلیتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔
(7) الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مردوں کو چار عورتوں سے شادی کرنے پر محدود کردیا گیا یتیموں کے مال کی وجہ سے۔
(8) سعید بن منصور وعبد بن حمید، ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور لوگ اپنے جاہلیت کے کاموں پر تھے مگر ان کو کسی چیز کا حکم دیا جاتا اور (کسی چیز سے) روک دیا جاتا اور وہ لوگ یتیموں کے بارے میں پوچھتے تھے جبکہ نہ عورتوں کی کوئی تعداد مقرر تھی اور نہ مردوں کی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم “ اور آدمی جتنی چاہتا تھا شادیاں کرلیتا تھا فرمایا جیسے تم ڈرتے ہو کہ تم یتامیٰ کے بارے انصاف نہ کرسکوں گے اسی طرح تم عورتوں کے بارے میں ڈرو ایسا نہ ہو کہ ان کے درمیان تم انصاف نہ کرسکو اس لیے ان کو چار عورتوں تک محدود کردیا گیا۔
(9) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ دس دس یتیم عورتوں سے نکاح کرلیتے تھے اور یتیم کے معاملہ کو عظیم خیال کرتے انہوں نے یتیموں کے معاملہ کو اپنے دین تلاش کیا پھر انہوں نے چھوڑ دیا جو کچھ وہ زمانہ جاہلیت میں یتیموں سے شادیاں کرتے تھے۔
(10) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ جیسا کہ اس بات سے ڈرتے ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو تم اس بات سے بھی ڈرو کہ تم عورتوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو جب تم ان کو اپنے پاس جمع کر رکھا ہو۔
(11) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا زمانہ جاہلیت میں یتیم کے مال میں سے کوئی چیز نہ لیتے لیکن وہ دس دس عورتوں سے نکاح کرتے تھے اور اپنے باپوں (آباء) کی عورتوں سے بھی نکاح کرلیتے تھے انہوں نے عورتوں کے بارے دین کے حکم کو جاننا چاہا۔
(12) ابن ابی حاتم نے محمد بن موسیٰ الاشعری کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اگر تم زنا سے ڈرتے ہو تو ان (عورتوں) سے نکاح کرلو پھر فرماتے تھے جیسا کہ یتیموں کے مال سے ڈرتے ہو کہ اس میں تم انصاف نہ کرسکو گے اسی طرح تم اپنے اوپر ڈرو جب تم نکاح نہ کرو۔
(13) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اگر تم بچتے ہو یتیموں کی سرپرستی میں اور ان کے مال کھانے میں (اللہ کے حکم پر) ایمان رکھتے ہوئے اور تصدیق کرتے ہوئے اسی طرح تم زنا سے بچو اور عورتوں سے نکاح کرلو، نکاح پاکیزہ دو سے تین سے اور چار سے۔
(14) عبد بن حمید نے ابن ادریس (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو اسود بن عبد الرحمن بن اسود نے علقمہ کا مصحف دیا تو میں (اس میں) پڑھا لفظ آیت ” فانکحوا ما طاب لکم من النساء “ الف کے ساتھ میں نے یہ بات اعمش کو بیان کی تو وہ خوش ہوئے اور اعمش (رح) اس کو کسرہ نہیں دیتے تھے کس کو ” طیب “ نہیں پڑھتے تھے اور یہ بعض مصاحف میں یاء کے ساتھ یعنی ” طیب لکم “۔
(15) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” ما طاب لکم “ سے مراد ہے کہ ” ما احل لکم “ یعنی جو تمہارے لئے حلال ہے۔
(16) ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” ما طاب لکم “ سے مراد ہے کہ وہ تمہارے لئے حلال ہیں۔
قولہ تعالیٰ : مثنی وثلث وربع :
(17) ابن ابی شیبہ نے وابن المنذر نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ما طاب لکم “ سے مراد ہے کہ وہ تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں۔
(18) الشافعی وابن ابی شیبہ واحمد اور ترمذی وابن ماجہ ونحاس نے اپنی ناسخ میں والدار قطنی والبیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ غیلان بن سلمہ لقضی ؓ مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں نبی ﷺ نے ان سے منع فرمایا ان میں سے چار کو چن لو اور باقی چھوڑ دو اور دوسرے لفظ میں یوں ہے ان میں چار کو اور رکھ لے اور باقی سب کو جدا کر دے۔
(19) ابن ابی شیبہ ونحاس نے اپنی ناسخ میں قیس بن حارث ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں اسلام لایا تو میری آٹھ بیویاں تھیں میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے یہ بات ان کو بتائی آپ ﷺ نے فرمایا ان میں چار کو چن لو اور باقی سب کو چھوڑ دو تو میں نے ایسا ہی کیا۔
غلام دو شادیاں کرسکتا ہے
(20) ابن ابی شیبہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کون جانتا ہے کہ غلام کے لیے عورتوں میں سے کتنی حلال ہیں ؟ ایک آدمی نے عرض کیا میں جانتا ہوں دو عورتیں حلال ہیں تو حضرت عمر ؓ یہ سن کر خاموش ہوگئے
(21) ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں حکم (رح) سے روایت کیا ہے سب اصحاب رسول اللہ ﷺ کا اس بات پر اجماع ہے کہ مملوک دو عورتوں سے زیادہ نکاح نہیں کرسکتا۔
(22) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان خفتم الا تعدلوا “ یعنی تم ڈرو اس بات سے کہ چار میں انصاف نہ کرسکو گے تین سے شادی کرو، ورنہ دو سے، ورنہ ایک سے اور اگر ڈرو تم اس بات سے کہ تم ایک بھی انصاف نہ کرسکو گے تو لونڈی سے نکاح کرلو۔
(23) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان خفتم الا تعدلوا “ سے مراد ہے اگر تم جماع اور محبت میں انصاف نہ کرسکو۔
(24) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اوما ملکت ایمانکم “ سے مراد لونڈیاں ہیں۔
(25) ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” او ما ملکت ایمانکم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ پہلے سب باندیاں حلال تھیں پھر اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا بیوی اور اس کی ماں کے ساتھ نکاح کرنا ان عورتوں سے نکاح کرنا جن سے باپوں نے اور بیٹوں نے نکاح کیا ہو اور رضاعی بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا، دودھ پلانے والی ماں سے نکاح کرنا، اس عورت سے نکاح کرنا جس کا خاوند موجود ہو تو اللہ تعالیٰ نے ان سب صورتوں کو حرام فرمایا چاہے وہ آزاد عورتوں میں ہوں یا باندیوں میں سے ہوں۔
(26) ابن المنذر وابن ابی حاتم اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” ذلک ادنی الا تعولوا “ سے مراد ہے کہ تم ظلم نہ کرو، ابن ابی حاتم نے کہا میرے باپ نے کہا یہ حدیث غلط ہے اور صحیح یہ ہے کہ سند حضرت عائشہ ؓ پر موقوف ہے۔
(27) سعید بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الا تعولوا “ سے مراد ہے کہ تم ایک طرف جھک نہ جاؤ۔
(28) الطستی نے اپنے مسائل میں نافع (رح) سے حضرت ابن عباس ؓ سے نافع بن ازرق (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ذلک ادنی الا تعولوا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات زیادہ لائق ہے کہ تم ایک طرف مائل نہ ہوجاؤ عرض کیا کیا عرب اس معنی سے واقف ہیں کہ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا :
انا تبعنا رسول اللہ واطر حوا قول النبی وعالوا فی الموازین
ترجمہ : ہم نے رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی اور انہوں نے نبی ﷺ کی بات کو ٹھکرا دیا انہوں نے اوزان میں عدل نہ کیا۔
(29) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے لفظ آیت ” ان لا تعولوا “ کے بارے میں روایت کیا یعنی ایک طرف کو تم مائل نہ ہوجاؤ پھر فرمایا کیا تم نے ابو طالب کا قول نہیں سنا :
بمیزان قسط لا تکس سعیرہ ووزان صدق وزنہ غیر عائل
ترجمہ : انصاف کے ترازو والا ہے بھاؤ کی (کمی، بیشی) کوئی خرابی نہیں کرتی اور وہ صحیح وزن کرنے والا ہے اور اس کا وزن ایک طرف جھکایا ہوا نہیں ہے۔
(30) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابو سحق کوفی (رح) سے روایت کیا ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے کوفہ والوں کے معاملہ میں خط لکھا جس میں ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا میں کوئی میزان نہیں ہوں کہ ایک طرف نہ جھکوں۔
(31) ابن ابی شیبہ وعبد الرحمن وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان لا تعولوا “ سے مراد ہے کہ تم ایک طرف کو مائل نہ ہوجاؤ۔
(32) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ذلک ادنی “ سے مراد ہے تمہارے اہل و عیال زیادہ ہوجائیں۔
(33) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ کمی کرنے والا ہے تیرے خرچے میں کیونکہ تھوڑا ہے ایک عدد سے اور تیری آزاد لونڈی کے خرچہ سے آسان سے جو زیادہ آسان ہے تجھ پر اہل و عیال میں۔
(34) ابن ابی حاتم نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان لا تعولوا “ کہ تم فقیر نہ بن جاؤ (واللہ تعالیٰ اعلم) ۔
Ayah 4:4(1) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی جب اپنی لونڈی کی شادی (کسی اور مرد سے) کرتا تھا تو اس کا مہر اسے دینے کی بجائے خود لے لیتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات سے منع فرمایا اور یہ آیت ” واتوا النساء صدقتہن نحلۃ “ نازل فرمائی۔
(2) ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی کسی کو اپنی بہن نکاح میں دیتا تھا تو اس آدمی کی بہن کو اپنے نکاح میں لیے لیتا تھا اور (آپس میں) مہر نہیں لیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” واتوا النساء صدقتہن نحلۃ “۔
(3) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واتوا النساء “ سے مراد ہے عورتوں کو دے دو ” صدقتہن “ یعنی محھورھن (ان کے مہر) ۔
(4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” نحلۃ “ سے مراد ہے مہر۔
(5) ابن ابی حاتم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” نحلۃ “ سے مراد ہے واجبہ یعنی واجب۔
(6) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واتوا النساء صدقتہن نحلۃ “ سے مراد ہے مہر مقرر کیا ہوا۔
بغیر مہر کے نکاح حلال نہیں
(7) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” نحلۃ “ کا مطلب واجب ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تو عورت سے نکاح نہ کرے مگر ایک ایسی شی کے بدلے میں جو اس کے لیے واجب ہو اور کسی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ کسی عورت سے نکاح کرے نبی ﷺ کے بعد واجب مہر کے بغیر۔
(8) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” نحلۃ “ سے مراد ہے ” فریضۃ “ یعنی فرض۔
(9) احمد نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو اپنے ہاتھ بھر کر غلہ مہر کے طور پردے دے تو اس کے لیے وہ عورت حلال ہوجائے گی۔
(10) ابن ابی شیبہ نے ابن ابی لبیبہ (رح) سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ایک درہم کے بدلہ میں حلال کیا تو تحقیق وہ عورت اس کے لیے حلال ہوگئی۔
(11) ابن ابی شیبہ نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور وہ ارادہ کرتا ہے کہ اس کے مہر کو غصب کرلے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زنا کرنے والا ہوگا قیامت کے دن۔
(13) ابن ابی شیبہ نے حضرت عائشہ وام سلمہ ؓ دونوں سے روایت کیا ہے کہ عورت کا مہر اور مزدور کی مزدوری سے شدید کوئی چیز نہیں۔
(14) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان طبن لکم “ (کا حکم) بیویوں کے لیے ہے۔
(15) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان طبن لکم عن شیء منہ “ سے مراد مہر ہے۔
(16) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریئا “ سے مراد ہے کہ جب یہ بغیر تکلیف دینے کے اور بغیر دھوکہ دیتے ہوئے تو وہ مبارک اور خوشگوار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
(17) ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لوگ گناہ خیال کرتے اس چیز کو واپس لے لینے سے جو وہ اپنی بیوی کو دے چکے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریئا “۔
(18) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی بیمار ہو تو اپنی بیوی سے تین درہم یا اتنی رقم کا مطالبہ کرے اور اس سے شہد خرید لے اور چاہئے کہ آسمان کے پانی (یعنی بارش) میں سے لے لے ان دونوں کو جمع کرلے تو یہ لفظ آیت ” ھینئا مریئا “ تو یہ شفا اور مبارک ہوگا۔
(19) ابن سعد نے علقمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے فرمایا کرتے تھے ہم کو لفظ آیت ” ھنیئا مریئا “ میں سے کچھ کھلاؤ اور اس آیت کی تاویل کرتے تھے۔
Ayah 4:5(1) ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنا مال اپنی بیوی کو دے دیا تو اس نے ناحق کاموں میں خرچ کر ڈالا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت :” ولا تؤتوا السفھاء اموالکم “۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء اموالکم “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ تو اپنے مال کی طرف قصد نہ کر کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو عطا کیا اور تیرے لئے اس کو زندگانی کا ذریعہ بنایا کہ اس کو اپنی بیوی کو اور اپنے بیٹوں کو دے دے پھر تو مجبور ہوجائے اس مال کی طرف جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے لیکن تو روک لے اپنے مال کو اور اس کو مناسب طریقے پر خرچ کرتا رہے اور تو وہ آدمی بن جا جو ان پر خرچ کرتا ہے ان کے لباس میں ان کے رزق میں اور ان کی ضروریات میں اور فرمایا لفظ آیت ” میثاقا “ یعنی (مال کو) تمہاری زندگی کو قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا۔
(3) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اپنی اولاد میں سے کسی بیوقوف کو اپنے مال پر مسلط نہ کر بلکہ انسان کو حکم دیا کہ اس میں سے کھلائے اور اس کو پہنائے۔
(4) ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء “ سے تیرے بیٹے اور عورتیں مراد ہیں۔
(5) ابن ابی حاتم نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتیں بیوقوف ہوتی ہیں مگر جو عورت اطاعت کرے اپنے شوہر کی۔
(6) ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء “ سے خدام مراد ہیں اور انسانوں کے شیطان ہیں۔
(7) ابن جریر وابن المنذر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء “ سے عورتیں اور بچے مراد ہیں۔
(8) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے چھوٹے بچے اور عورتیں مراد ہیں کہ وہ بیوقوف ہوتے ہیں۔
(9) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ مردوں کو منع کیا گیا کہ وہ عورتوں کو اپنے مال دیں اور عورتیں بیوقوف ہوتی ہیں وہ بیویاں ہوں یا بیٹیاں ہوں اور ان سے اچھی بات کہیں۔
(10) عبد بن حمید وابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء “ سے یتیم اور عورتیں مراد ہیں۔
(11) عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء اموالکم “ سے وہ یتیم کا مال مراد ہے جو تمہارے پاس ہے فرماتے ہیں کہ مال اس کو نہ دو اور اس پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے۔
(12) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء “ سے یتامیٰ مراد ہیں اور ” اموالکم “ سے ان کے مال مراد ہیں اس قول کی طرح جیسے فرمایا لفظ آیت ” ولا تقتلوا انفسکم “ (کہ اپنی جانوں کو قتل نہ کرو اسی طرح فرمایا کہ یتیموں کا مال نہ کھاؤ) ۔
(13) ابن جریر نے مورق (رح) سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت عبد اللہ بن عمر ؓ کے پاس سے گذری جو حسن و جمال اور زیب وزینت والی تھی حضرت ابن عمر ؓ نے اس کے لیے فرمایا لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیما “۔
(14) حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب میں ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن ان کی دعا قبول نہیں ہوتی ایک وہ آدمی کہ اس کی بیوی برے اخلاق والی ہو اور وہ اس کو طلاق نہ دے دوسرا وہ آدمی کہ کس آدمی پر اس کا مال لازم ہو مگر وہ گواہی نہ دے تیسرا وہ آدمی جو بیوقوف کو اس کا مال دے دے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ولا تؤتوا السفھاء اموالکم “ (کہ بیوقوفوں کو ان کے مال نہ دو ) ۔
(15) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مال کے بارے میں حکم فرمایا کہ اس کو جمع کرلیا جائے ضرورت کے لیے اور پھر اس خزانے کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جائے اور بیوقوف عورت کو اور کسی بچے کو اس کا مالک نہ بنادے۔
(16) عبد الرزاق وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” قیما “ سے مراد ہے تیری زندگی کو قائم رکھنے والا۔
(17) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ” قیما “ الف کے ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ تیر زندگی کو قائم رکھنے والا۔
(18) ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” جعل اللہ لکم قیما “ سے مراد ہے کہ (مال) تمہارے دین کو بچانے والا اور تمہاری (زندگی کو) قائم کرنے والا ہے۔
(19) ابن جریر وابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” وارزقوہم “ سے مراد ہے کہ ان پر (یعنی اہل و عیال پر) خرچ کرو۔
(20) ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقولوا لہم قولا معروفا “ سے مراد ہے کہ مردوں کو حکم کیا گیا کہ ان کے لیے اچھی بات کہو نیکی کرنے اور صلہ رحمی میں۔
(21) ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وقولوا لہم قولا معروفا “ سے مراد ہے کہ ایسا وعدہ جو تم ان سے کرتے ہو۔
(22) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” وقولوا لہم قولا معروفا “ سے مراد ہے کہ اگر تیری اولاد نہیں ہے اور نہ ان لوگوں میں سے کوئی ہے جس پر خرچ کرنا تم پر فرض ہو تو اس کو (کم سے کم) اچھی بات کہو اور اس کو کہو اللہ تعالیٰ ہم کو اور تم کو معاف کر دے اور اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے۔
Ayah 4:6(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” وابتلوا الیتمی “ یعنی یتیموں کا امتحان لے لو بالغ ہونے کے وقت تک لفظ آیت ” فان انستم “ یعنی اگر تم پہچان لو ” منہم رشدا “ ان میں سے عقلمندی کو کہ وہ اپنے مالوں کی حفاظت کرسکتے ہیں تو ان کے مال دے دو اسی کو فرمایا لفظ آیت ” فادفعوا الیہم اموالہم ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا “ یعنی نہ کھاؤ یتیم کا مال جلدی کرتے ہوئے ان کے بالغ ہونے سے پہلے کہ تو حائل ہوجائے اس کے اور مال کے درمیان
(2) ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وابتلوا الیتمی “ یعنی امتحان لیتے رہو ان کی عقلوں کا ” حتی اذا بلغوا النکاح “ یعنی وہ بالغ ہوجائیں ” فان انستم “ اگر تم معلوم کرلو ” منہم رشدا “ ان میں سے عقل کو (سمجھ داری کو) ۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” وابتلوا الیتمی “ یعنی ان کی عقل کا تجربہ کرتے رہو ” فان انستم منہم رشدا “ یعنی عقل اور صلاحیت (کو ان میں محسوس کرلو تو ان کو ان کے مال دے دو ) ۔
(4) ابن ابی حاتم و بیہقی نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وابتلوا الیتمی “ یعنی سرپرست اور جن کو وصیت کی گئی (یتیموں کا امتحان لیتے رہے) ۔
(5) ابن ابی حاتم نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” حتی اذا بلغوا النکاح “ یعنی جب پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائیں۔
(6) ابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان انستم منہم رشدا “ اگر تم ان میں عقلمندی کو محسوس کرو تو مال اس کے حوالے کر دو ) ۔
(7) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فان انستم منہم رشدا “ یعنی اگر تم ان میں عقلمندی کو محسوس کرو کہ وہ اپنے دین میں بھلائی کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے مال کی حفاظت کرسکتے ہیں (تو مال یتیم کے حوالے کردو) ۔
(8) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب تم یتیم کو پاؤ حلم والا عقل والا وقار والا تو اس کو اس کا مال دے دو ۔
یتیم میں مال سنبھالنے کی صلاحیت پیدا ہونے سے پہلے مال نہ دینا
(9) سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذرنے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ یتیم کو اس کا مال اس کے حوالے نہ کرو اگرچہ اس کے سر پر بال سفید ہونے لگیں جب تک تم اس میں سمجھداری کو محسوس نہ کرو۔
(10) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا “ سے مراد ہے کہ اس میں اسراف نہ کرو اور نہ اس (کے خرچ کرنے) میں جلدی کرو۔
(11) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولا تاکلوھا اسرافا “ سے مراد ہے کہ غیر حق میں خرچ نہ کرو اور فرمایا لفظ آیت ” وبدارا ان یکبروا “ یعنی جلدی نہ کرو اس ڈر سے کہ یہ بالغ ہوجائے گا تو اپنا لے لے گا (اس لئے بالغ ہونے سے پہلے ہی اس کا مال اڑا جاؤ) ۔
(12) بخاری وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابی ابن حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت یتیم کے سرپرست کے بارے میں نازل ہوئی (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ومن کان غنیا فلیستعفف ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف “ اور معروف کا معنی ہے اس کی نگرانی کے بقدر (اس کے مال میں سے لے) ۔
(13) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) مقسم کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن کان غنیا فلیستعفف “ سے مراد ہے اس کو اپنے مال کی وجہ سے مالدار ہو اور اسے یتیم کے مال کی کوئی ضرورت نہ ہو تو پھر یتیم کے مال سے کچھ بھی نہ لے (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف “ یعنی وہ کھا سکتا ہے یتیم کے مال میں سے جو اس کی زندگی کے حق کو باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے یہاں تک کہ یتیم کے مال کی طرف محتاج نہ رہے۔
(14) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن کان غنیا فلیستعفف “ سے مراد ہے کہ غنی کو اپنے مال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ یتیم کے مال کی طرف نہ پہنچے۔
(15) ابن جریر نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف “ معروف سے مراد قرض ہے (یعنی سرپرست مقروض ہے تو یتیم کے مال میں سے بقدر ضرور کھا سکتا ہے) ۔
(16) ابن جریر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف “ سے مراد ہے قرض (یعنی اگر سرپرست مقروض ہے تو یتیم کے مال میں بقدر ضرورت لے سکتا ہے ) ۔
(17) عبد بن حمید اور بیہقی نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یتیم کا ولی اگر غنی ہے تو اس کو چاہیے کہ (اس کے مال سے) بچے اور اگر فقیر ہے تو بچا ہوا دودھ لے سکتا ہے اور بقدر ضرورت کھانا بھی لے سکتا ہے اس سے زیادہ تجاوز نہ کرے اور جس سے اپنی ستر چھپالے اتنا کپڑا بھی لے سکتا ہے اور اگر مالدار ہوجائے تو اس (مال) کو واپس کر دے اور اگر تنگ دست ہوجائے تو وہ مال (جو کھالیا تھا) اس کے لیے حلال ہے۔
(18) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اگر وہ غنی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ یتیم کے مال میں سے ذرا بھی کچھ کھالے اور اگر فقیر ہے تو اس کے مال میں سے قرضہ لے لے اور جب مالداروں کو پالے تو اس کو واپس کر دے جو اس سے قرضہ لیا تھا تو یہ بھلائی کے ساتھ کھانا ہوا۔
یتیم کے مال میں بقدر ضرورت تصرف کرنا
(19) عبد الرزاق و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی الدنیا وابن جریر والنحاس نے اپنی ناسخ میں وابن المنذر اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے مال کو اپنی جان پر یتیم کے ولی کی طرح بنا دیا ہے اگر میں مالدار ہوجاتا ہوں تو سوال کرنے سے رک جاتا ہوں اور اگر محتاج ہوجاتا ہوں تو معروف طریقہ سے اسے لے لیتا ہوں پھر جب میں مالدار ہوجاتا ہوں تو (وہ قرضہ) ادا کردیتا ہوں۔
(20) الفریابی و سعید بن منصور وابن المنذر والبیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف “ سے مراد ہے اگر یتیم کا سرپرست محتاج ہوجائے تو یتیم کھانے میں کھالے اور اس (اس کے مال) میں سے نہ کپڑا پہنے نہ عمامہ۔
(21) عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس رضی عنہما سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فلیاکل بالمعروف “ سے مراد ہے تین انگلیوں کے کنارے سے کھائے۔
(22) ابن المنذر و طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب محتاج آدمی یتیم کے مال کا نگران بنے۔ تو جتنی اس کی نگرانی کرتا ہے اور اس کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ اتنا وہ اس کے مال میں سے لے لے۔ لیکن فضول خرچی اور اسراف نہ کرے۔
(23) مالک و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والنحاس میں اپنی ناسخ میں قاسم بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میری پرورش میں یتیم بچے ہیں۔ ان کی ایک اونٹنی ہے کیا میرے لیے اس کا دودھ حلال ہے ؟ انہوں نے فرمایا اگر تو اس کے گم ہوجانے پر اس کی تلاش کرتا تھا۔ اس کی خارش کو تار کول مل دیتا تھا۔ اور اس کے حوض کو مٹی سے لیپ دیتا تھا۔ اور اس کے لیے محنت کرتا تھا۔ تو اس کا دودھ پی لے اس کے بچے کو نقصان پہنچائے بغیر اور تھن کو دودھ سے بالکل خالی نہ کردینا (بچے کے لیے دودھ رہنے دینا) ۔
(24) احمد، ابو داؤد و نسائی وابن ماجہ وابن ابی حاتم والنحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عمر وؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا میرے پاس مال نہیں ہے مگر یتیم میری پرورش میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اپنے یتیم کے مال میں سے کھالو بغیر اسراف اور تبذیر کے اور اس (کے مال) سے اپنا مال نہ بڑھا اور اس کا مال خرچ کر کے اپنا مال نہ بچا۔
(25) ابن حبان نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! کس چیز سے میں اپنے یتیم کو مارا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس چیز سے کہ جس سے تو اپنے بیٹے کو مارتا تھا اور اس کا مال خرچ کر کے اس کا مال نہ بچا اور نہ اس کے ذریعہ اپنا مال زیادہ کر۔
یتیم سے اپنے بیٹوں کی طرح سلوک کرو
(26) عبد الرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی شیبہ ونحاس نے اپنی ناسخ میں حسن عرفی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی کے عرض کیا یا رسول اللہ ! کس چیز سے میں اپنے یتیم کو مارسکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس چیز سے کہ جس سے تو اپنے بیٹے کو مارا کرتا تھا پھر اس نے عرض کیا کیا میں اس کے مال میں سے لے لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا معروف طریقے سے اس کے ذریعہ اپنے مال کو زیادہ کرنے والا نہ ہو اور نہ اس کا مال خرچ کر کے اپنا مال بچانے والا ہو۔
(27) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ثابت بن وداعہ کے چچا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ثابت ؓ ان دنوں اس کی پرورش میں یتیم تھے اور عرض کیا کہ میرا بھتیجا یتیم ہے میری گود میں اس کے مال میں سے میرے لئے حلال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اس کے مال میں کھالے معروف طریقے سے لیکن یہ جائز نہیں کہ تو اس کا مال خرچ کر کے اپنا مال بچائے اور اس کے مال میں سے وافر مقدار لے پھر اس نے عرض کیا کہ یتیم کا ایک کھجوروں کا باغ بھی تھا تو اس کا ولی اس کی نگرانی کرتا ہے اور اس کو بلاتا ہے اور اس کے پھل میں سے لے لیتا ہے اور اس یتیم کے جانور بھی ہیں اس کا ولی اس کی نگرانی کرتا مشقت اٹھاتا ہے اور کام کاج کرتا ہے تو اس کی اون دودھ اور ان کے متعلق دوسری چیزیں لے سکتا ہے لیکن مال کے بارے میں یہ تھا کہ اس میں سے کھانے اور خرچ کرنے کی اجازت نہ تھی۔
(28) ابن المنذر نے عطاء (رح) سے روایت کیا ہے کہ پانچ چیزوں میں اللہ کی کتاب میں رخصت ہے اور عزیمت نہیں ہے (یعنی قطعی حکم کے طور پر نہیں ہیں) (جیسے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف “ یعنی اگر چاہے کھالے اور چاہے تو نہ کھائے۔
(29) ابو داؤد ونحاس دونوں نے ناسخ میں اور ابن المنذر نے عطا کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف “ کے حکم کو ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “ نے منسوخ کردیا۔
(30) ابن ابی حاتم نے ابن ابو الزناد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ابو الزناد (رح) فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت دیہاتی اور ان جیسے دوسرے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
(31) ابن ابی حاتم نے نافع بن ابی نعیم قاری (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے لفظ آیت ” فلیاکل بالمعروف “ کے بارے میں پوچھا تو دونوں نے فرمایا یہ یتیم کے بارے میں ہے اگر ولی فقیر ہے تو یتیم کے مال سے بقدر ضرورت اس پر خرچ کر اور ولی کے لیے اس میں سے کوئی چیز لینا جائز نہیں۔
(32) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاذا دفعتم الیہم اموالہم فاشھدوا علیہم “ سے مراد ہے کہ جب تم یتیم کو اس کا مال دینے لگو تو گواہ بنا لو جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے
(33) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو حکم فرمایا جب تم یتیموں کا ان کا مال دینے لگو جب وہ بالغ ہوجائیں تو مال دیتے وقت ان پر گواہ بنا لو (پھر فرمایا) لفظ آیت ” وکفی باللہ حسیبا “ اور اللہ تعالیٰ حساب لینے والا کافی ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے افضل کوئی گواہ نہیں جو تمہارے آپس میں معاملات ہیں۔
(34) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” وکفی باللہ حسیبا “ میں حسیبا سے گواہ مراد ہے۔
Ayah 4:7میراث تقسیم کرنے کی تاکید
(1) ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں لڑکیوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور نہ چھوٹے لڑکوں کو یہاں تک وہ لڑکے بالغ ہوجاتے تھے۔ انصار میں سے ایک آدمی مرگیا جس کو اوس بن ثابت ؓ کہا جاتا تھا اس نے دو بیٹیاں اور دو چھوٹے لڑکے چھوڑے اس کے چچا کے بیٹے آئے اور دونوں باپ کی طرف سے رشتہ دار تھے انہوں نے ساری میراث لے لی اس عورت نے ان دونوں سے کہا میری ان دونوں بیٹیوں سے شادی کرلو اور وہ دونوں لڑکیاں خوبصورت نہ تھیں تو انہوں نے انکار کردیا وہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ ! اوس فوت ہوگئے۔ اور اس نے دو چھوٹے بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑ دی ہیں اوس کے چچا زاد بھائی خالد اور عرفط آئے اور اس کی ساری میراث لے گئے میں نے ان سے کہا اس کی دونوں بیٹیوں سے شادی کرلو تو انہوں نے انکار کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نہیں جانتا میں کیا کہوں ؟ اس پر یہ (آیت) ” للرجال نصیب مما ترک الوالدن والاقربون “ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے خالد اور عرفط کی طرف قاصد بھیجا کہ اس کی وراثت میں سے کسی چیز کو حرکت نہ دینا (یعنی ہاتھ نہ لگانا) کیونکہ اس بارے میں مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی نازل کی گئی ہے جس میں یہ خبر دی گئی کہ مرد اور عورت کے لیے حصہ ہے پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ویستفتونک فی النساء “ سے لے کر ” علیما “ تک پھر نازل ہوا ” یوصیکم اللہ فی اولادکم “ سے لے کر ” واللہ علیم حلیم “ تک (اس کے بعد آپ ﷺ نے میراث کے مال) کو طلب فرمایا عورت کو آٹھواں حصہ عطا فرمایا اور باقی کو ” للذکر مثل حظ الانثیین “ کے اصول پر تقسیم فرمایا۔
(2) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ام کلثوم اور اس کی بیٹی ام کحلہ یا ام کحہ، وثعلبہ بن اوس اور سوید کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ لوگ انصار میں سے تھے ایک اس کا خاوند تھا اور دوسرا اس کی ادلاد کا چچا یعنی بھائی تھا اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! میرا خاوند مرگیا اس نے مجھے اور اپنی بیٹی کو پیچھے چھوڑا کیا ہم اس کے مال کے وارث نہیں مرنے والے بھائی نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بچی نہ ہی گھوڑے پر سوار ہوتی ہے اور نہ ہی دشمن کا مقابلہ کرتی ہے اس پر مال خرچ کیا جاتا ہے یہ مال کماتی نہیں تو (اس پر یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” للرجال نصیب “۔
(3) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور چھوٹے لڑکوں کو میراث میں سے کچھ بھی نہ دیتے تھے مردوں میں سے بڑی عمر کے لوگوں میں میراث بانٹ دیتے تھے تو (یہ آیت نازل ہوئی) لفظ آیت ” للرجال نصیب مما ترک الوالدان والاقربون “ سے لے کر ” مما قل منہ او کثر “ یعنی میراث میں سے ” نصیبا “ یعنی حصہ ” مفروضا “ یعنی جو معلوم ہے۔
(4) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” نصیبا مفروضا “ سے مراد ہے کہ وہ معین وقف ہے۔