4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsسراج البیان

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک شخص (یعنی آدم امام علیہ السلام) سے پیدا کیا (ف 2) اور اسی سے جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں اور اس سے ڈرو جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور ڈرو قرابت والوں سے بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے ۔

(ف 2) اس آیت میں اس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ سارا عالم انسانیت ایک کنبہ ہے جس کے تمام افراد مرد و عورت اور اطفال اولاد کی شکل میں زمین پر پھیلے ہوئے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ خدا کی عبادت کے ساتھ ساتھ بندوں پر شفقت کا جذبہ بھی موجود رہے ، اور دین و مذہب کا منشاء اس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال نہ رکھا جائے ، اسلام نے اس مسئلہ پر بڑا زور دیا ہے کہ مذہب کے مفہوم کو صرف عبادت پر محصور وموقوف نہ سمجھا جائے ، بلکہ اس میں اتنی وسعت دے کہ تمام مدنی ضروریات سما جائیں ۔ حل لغات : رقیبا ۔ نگہبان اور محافظ :
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور پاک سے ناپاک کو نہ بدلو اور ان کے مال اپنے مال میں ملا کر نہ کھاؤ بیشک یہ بڑا گناہ ہے (ف 1)

(ف 1) اس آیت میں یتامی کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم ہے ۔ لوگ عام طور پر تربیت کے نام پر ان کا مال کھاتے یا بدل لیتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا اور بتایا ہے کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں میں عدل نہ کرسکو گے تو سوائے ان کے عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں دو دو ، تین تین ، چار چار نکاح میں لاؤ اور اگر خوف ہو کہ برابری نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا جو تمہارے ہاتھوں کا مال ہوا (یعنی باندی) اس دستور سے قریب ہے کہ تم ایک طرف جھک پڑو (ف 2)

تعددازو واج : (ف 2) اسلام نے عورت کو جو حقوق دیئے ہیں دنیا کا قانون حیران و ششدر ہے ، اس نے اس کا درجہ اتنا بلند اور رفیع قرار دیا ہے کہ وہاں تک غیر مسلم عورتوں کی رسائی ناممکن ہے ، مگر تعدد ازواج ایک مسئلہ ہے جو بظاہر عقل و انصاف رکھنے والوں کے دل میں کھٹکتا ہے اور غیر مسلم دنیا کے دل میں عورت کی حیثیت کی نسبت شکوک پیدا کردیتا ہے ، اور وہ یہ دیکھ کر کہ اسلام بیک وقت چار عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے ، کہہ اٹھتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں سے کوئی اچھا سلوک روا نہیں رکھا ، حالانکہ ایسا نہیں ، تعدد ازواج کے متعلق مندرجہ ذیل حقائق سامنے رکھنے چاہئیں ۔ اسلام سے پہلے کثرت بعول اور کثرت ازواج کی بلا تعین اجازت تھی ، یعنی مرد جس قدر چاہتے ، عورتیں نکاح میں رکھتے اور اسی طرح عورتیں جس قدر چاہتیں ‘ خاوند بنا لیتیں ۔ 1۔ اسلام نے کثرت بعول کی جو درحقیقت غیر مہذب زمانے کی رسم ہے قطعی ممانعت کردی اور کثرت ازواج کی تحدید کردی ، اس لئے اسلام تعدد ازواج کا حامی بصورت تعیین ہے ‘ نہ موجد ومخترع کی حیثیت سے ۔ 2۔ اسلام سے پہلے عدل و انصاف کی شرط غیر ضروری تھی ، سلام نے اس شرط کو ضروری قرار دیا ۔ 3۔ تعدد ازواج کو ہر حال میں اسلام نے اچھا نہیں سمجھا البتہ حالات کے مطابق اس کو موزوں قرار دیا ۔ 4۔ مرد بالطبع تنوع پسند ہے اور یہی وجہ ہے یورپ میں وحدت زوج کی سکیم کامیاب نہیں رہی ۔ 5۔ عورت ایک آلہ تولید ہے جس کی کثرت میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ 6۔ مرد مادی حیثیت سے اتنا قوی ہے کہ بعض اوقات وہ ایک عورت پر اکتفا نہیں کرسکتا ۔ 7۔ ملکی حالات بعض دفعہ مجبور کردیتے ہیں کہ کثرت ازدواج کی رسم کو جاری کیا جائے ، جسے یورپ میں جنگ عظیم کے بعد ، کیا ان حقائق کی روشنی میں کثرت ازواج کی اجازت نہ دینا انسانیت پر بہت بڑا ظلم نہیں ؟ اور آج جب کہ ” اقلیت واکثریت “ کا مسئلہ دنیا کی سیاسیات کا اہم عنصر ہے ‘ تعدد ازواج کی خوبیوں سے کون انکار کرسکتا ہے ہندوستان میں اگر مسلمان کثرت ازدواج پر عمل کرنے لگیں تو صرف پچاس سال کے بعد اقلیت بغیر کسی تبلیغ کے مبذل بہ اکثریت ہوجائے ۔ عورت کی صنفی کمزوریاں اور بیماریاں بجائے خود تعددازواج کی دعوت ہیں ، مگر چونکہ ہندوستان میں اس کا رواج نہیں ۔ اس لئے ہم اسے اچھا نہیں سمجھتے اور یہ ہماری غلطی ہے ، یورپ آج کثرت اولاد پر بڑا زور دے رہا ہے ، مگر اسلام نے پہلے سے لوگوں کو اس کی ترغیب دلائی ہے اور اس کی صورت تعدد ازواج ہے عام عورتوں میں کوئی خاص تعداد معین نہیں ۔ (آیت) ” الا تقسطوا فی الیتمی “ کے معنی یہ ہیں کہ اگر تم یتیم عورتوں کو اپنے عقد میں لا کر انصاف نہ کرسکو تو پھر دوسری عورتوں کے ساتھ جو تمہیں پسند ہوں نکاح کرلو ، تاکہ بےانصافی کا موقع نہ رہے ۔ (آیت) ” ماطاب “۔ میں بتایا ہے کہ جو عورت جسم وروح دونوں کے لحاظ سے تمہیں اچھی معلوم ہو ‘ اور اس قابل ہے کہ رفیقہ حیات بنائی جائے ۔
Ayahs 4:4–5

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی (ف 1) سے ادا کرو ، پھر اگر وہ دل کی خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو تم اس کو لذت اور مزے سے کھاؤ ۔

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور اپنے مال جو اللہ نے تمہاری گذران ٹھہرائے ہیں ‘ بیوقوفوں کو نہ دو ہاں اس میں سے انہیں کھلا ؤ پہناؤ اور ان سے مناسب بات بولو ۔

شادی کا تحفہ : (ف 1) اسلام جس حسن سلوک کو میاں بیوی میں دیکھنا چاہتا ہے ‘ اس کا اندازہ رسم ” صداق “ سے ہو سکتا ہے یعنی عہد مؤدت وصداقت کی یاد گار ۔ مسلمان شوہر مجبور ہے کہ حسب توفیق عورت کو شادی کا تحفہ یعنی مہر دے ۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو آزماؤ (ف 2) یہاں تک کہ وہ نکاح کی حد کو پہنچیں ، اگر تم ان میں ہوشیاری پاؤ تو ان کے مال ان کو دے دو اور اس خوف سے کہ کہیں وہ بڑے نہ ہوجائیں ان (مالوں) کو ضرورت سے زیادہ اور جلدی سے نہ کھاؤ ، اور جو کفیل غنی ہو ، اس کو چاہیے کہ بچتا رہے اور جو محتاج ہو تو وہ موافق دستور کے کھائے ، پھر جب تم یتیموں کا مال انہیں دو تو ان پر گواہ مقرر کرلو ۔ اور خدا کافی حساب لینے والا ۔

(ف 2) ان آیات میں بھی یتامی کے ساتھ بہتر سلوک کی تعلیم دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ ان کے مال کو حتی الامکان نقصان نہ پہنچایا جائے اور اس وقت تک انہیں ان کا مال واپس نہ دیا جائے ‘ جب تک کہ وہ خود اس سے استفادہ کے قابل نہ ہوجائیں اور صاحب حیثیت امراء اگر بہت کم ضروریات پر ان کا مال صرف کریں اور خود اس میں سے کچھ نہ لیں تو زیادہ بہتر ہے ، اور جب مال دیں تو گواہ مقرر کرلیں ، تاکہ آیندہ چل کر کوئی خرابی نہ نکلے ۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

جو کچھ والدین اور ناتے والے چھوڑ مریں ، اس میں مردوں کا حصہ ہے اور جو کچھ والدین ‘ اس میں عورتوں کا حصہ ہے ، مال تھوڑا ہو یا بہت ، یہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے (ف 1)

اسلام اور تقسیم میراث : (ف 1) نوع انسانی کے لئے اجتماعی زندگی میں ایسے روابط کی سخت ضرورت ہے جو باہمی تعاون وتوافق کے زیادہ سے زیادہ ترغیب کا باعث ہو سکیں اور جو یہ بتا سکیں کہ انسانی عائلہ کس طریق پر ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور ان کے آپس کے تعلقات کس درجہ فطری اور طبعی ہیں ، اسلام جو اجتماعی فلاح وسعادت کا سب سے بڑا حامی ہے کیونکر ایسے اہم رشتے کو فراموش کرسکتا تھا ۔ اس نے سب سے پہلے باہمی انس و تعاون کی بنیاد ڈالی اور ہر مسلمان کو ” وصیت “ پر آمادہ کیا چناچہ اول اول لوگ اپنے مال سے کچھ حصہ بطور ” وصیت “ کے بلا تخصیص قرابت وضع کر جاتی تھی ، مقصد یہ تھا کہ مسلمان اس جذبہ تعاون وتوافق کی اہمیت کو محسوس کریں بعد میں میراث کی آیتیں نازل ہوئیں ، جن میں قرابت والوں کے حصے بیان کئے گئے اور یہ اس وقت نازل ہوئیں جب فتوحات اسلامی بہت وسیع ہوگئیں اور مسلمان خاصے مال دار ہوگئے ، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک عام انسانی تعلق زیادہ قابل اعتناء ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں عورتیں حقوق میراث سے محروم قرار دی جاتیں ، عرب کہتے تھے ، میراث کا وہ حق دار ہے جو میدان جنگ میں قومی عزت کے لئے لڑے اور مال غنیمت جمع کرے ، عورتیں ہرگز اس کی مستحق نہیں ۔ موجودہ کتب مذہبی بھی تقریبا تمام عورتوں کو حقوق میراث سے محروم رکھتی ہیں ، قرآن مجید نے بیان کیا کہ عورتیں بھی اسی طرح حق دار ہیں جس طرح مرد ۔ اس لئے کہ فطرت نے سوا جنسی عوارض ولوازم کے عورت اور مرد میں اور کوئی تقسیم جائز نہیں رکھی ، تمام عورتیں نفس انسانیت میں مرد کے برابر ہیں ، اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ انہیں اس انسانی حق سے محروم رکھا جائے ، وہ مذاہب جو عورت کے اس طبعی و فطری حق کے حامی نہیں وہ کس منہ سے اس کے احترام کا دعوی کرسکتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے سوا اور کسی مذہب نے مرد اور عورت کے صحیح معنوں کو نہیں سمجھا ۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور تقسیم (میراث) کے وقت جب قرابتی اور یتیم محتاج حاضر ہوں تو اس مال میں سے انہیں کچھ دو اور ان سے اچھی بات بولو (ف 2) ۔

(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ بانٹتے وقت اگر کچھ لوگ اپنے عزیز یا دوسرے محتاج ومستحق جمع ہوجائیں تو انہیں بھی کچھ نہ کچھ دے دو ‘ تاکہ وہ دل شکستہ نہ ہوجائیں اور ان سے اس طرح پیش آؤ جس سے کہ ان کے وقار اور ناموس کو ٹھیس نہ پہنچے ۔ حل لغات : نصیب : حصہ ۔ فروضا : مقرر و متعین ۔ غیر مشکوک ۔
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور چاہئے کہ ڈریں وہ لوگ کہ اگر پیچھے ناتواں اولاد چھوڑیں تو ان پر اندیشہ کریں (یعنی ہمارے پیچھے ایسا ہی حال ان کا ہوگا) پس چاہئے کہ وہ خدا سے ڈریں ۔ اور سیدھی بات بولیں ۔ (ف 1)

(ف 1) یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو مریض کے پاس بیٹھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کے لئے زیادہ سے زیادہ وصیت لکھوا لیں اور اصل ورثا کو محروم رکھیں ، فرمایا یہ حرکت نہایت مذموم ہے ، ان کو سوچنا چاہئے کہ اگر یہی پوزیشن انکی ہو تو وہ کیا کریں ، یعنی یعنی اگر ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو کیا یہ گوارا کریں گے کہ ان کے لئے کچھ نہ چھوڑ جائیں ۔
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں ، اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں ، اور وہ عنقریب دوزخ میں داخل ہوں گے (ف 2)

(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ یتیموں سے ناجائز وسائل کی بنا پر مال حاصل نہ کیا جائے ، عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ یتامی کو وراثت سے محروم رکھنے کے لئے طرح طرح کی چالیں چلی جاتی ہیں ، فرمایا جو یتیموں کے مال کو کھائے گا ، اسے یقین رکھنا چاہئے کہ وہ جہنم کی آگ نگل رہا ہے یعنی اس سے بڑا گناہ اور کیا ہوگا کہ تم ان لوگوں کو نقصان پہنچاؤ جو سچے سرپرستوں کو ضائع کرچکے ہیں ، ان کے ماں باپ زندہ نہیں اور تم بجائے اس کے کہ ان کا خیال رکھو ان کو لوٹتے ہو ۔
Ayahs 4:11–12

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں وصیت کرتا ہے کہ مرد کا (ف 3) حصہ دور عورتوں کے برابر ہے ، اگر دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو کل ترکہ سے دو تہائیاں ملیں گی اور جو صرف ایک لڑکی ہو تو آدھا ملے گا ، اور میت کے والدین میں سے ہر ایک کو اس کے ترکے میں سے چھٹا حصہ ملے گا بشرطیکہ میت کی کوئی اولاد ہو ، اور اگر اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا تیسرا حصہ ہے اور اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے پیچھے (ادا کرنے ) قرضہ اور وصیت کے جو میت کر گیا ہو ، تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ اور بیٹوں میں سے کون تمہارے نفع کے لئے نزدیک تر ہے ، اللہ نے حصہ مقرر کیا ہے ۔ بیشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے ۔

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور جو کچھ تمہاری عورتیں چھوڑ مریں ‘ اس کا نصف تمہارا ہے اگر ان کے اولاد نہ ہو ، پھر اگر ان کے اولاد ہو تو تمہیں ان کے ترکہ سے چوتھا حصہ ملے گا پیچھے (ادا کرنے) قرضہ یا وصیت کے جو وہ کرگئی ہوں ، اور جو کچھ تم چھوڑ مرو ‘ اس میں سے عورتوں کو چوتھا حصہ ملے گا ، اگر تمہارے اولاد نہ ہو ، پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے عورتوں کو آٹھواں حصہ ملے گا ، بعد (ادا کرنے) قرضہ یا وصیت کے جو تم کر جاؤ گے ، اور اگر جس مرد کی میراث ہے ‘ باپ بیٹا نہیں رکھتا اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک چھٹا حصہ ہے پھر اگر اس سے زیادہ ہو تو وہ سب تہائی میں برابر کے شریک ہیں ، بعد (ادا کرنے) قرضہ یا وصیت کے جو کہ کی گئی ہو ، جب اوروں کا نقصان نہ کیا ہو ، یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ جاننے والا تحمل والا ہے ۔

تقسیم حصص : (ف 3) حضرت سعد ؓ شہید ہوئے تو ان کی دو بچیاں ‘ ایک بیوہ اور ایک بھائی زندہ تھے بھائی نے تمام جائیداد پر قبضہ کرلیا ، سعد ؓ کی بیوی حضور ﷺ کی خدمت میں شکایت لے کر آئیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا انتظار کر ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” یوصیکم اللہ “ کے معنی یہ ہیں کہ تقسیم جائیداد بھی ایک اہم ضرورت دینی ہے اور وہ لوگ جو اس میں تساہل وتغافل برتتے ہیں ‘ یقینا اللہ کے ہاں مجرم ہیں ، (آیت) ” للذکر مثل حظ الانثینین “ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ لڑکیاں تقسیم میراث کے سلسلہ میں اصل ومعیار کی حیثیت رکھتی ہیں ، زمانہ جاہلیت میں جس طرح عورتیں زندگی کے تمام لوازم سے محروم تھیں ، اسی طرح حق وراثت سے بھی محروم تھیں ، اسلام جب دنیا میں آیا ہے اور اس کا آفتاب نصف شعار چمکا ہے تو تاریکیاں چھٹ گئیں اور عدل و انصاف دور دورہ ہوا ۔ اسلام نے آکر بتایا کہ لڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی تمہاری جائیداد میں شریک ہیں اور انہیں جائیداد سے محروم رکھنا کسی طرح زیبا و درست نہیں ۔ آج بھی بعض سرمایہ دار زمیندار زمانہ جاہلیت کی نخوت وبغاوت اپنے سینوں میں مضمر رکھتے ہیں اور عدالتوں میں جا کر صاف صاف کہہ دیتے ہیں ہم رواج کو شریعت پر مقدم سمجھتے ہیں ، یہ کھلا ارتداد ہے ، ان کے سامنے دو راہیں ہیں ، یا تو اسلام کو پوری طرح قبول کرلیں اور لڑکیوں کو حصہ دیں اور یا اسلام کو چھوڑ دیں ، تیسری کوئی راہ نہیں ، یہ بیوقوف یہ نہیں سمجھتے کہ جس طرح ہماری جائیداد دوسروں کے گھروں میں جائیگی ، اسی طرح دوسروں کی جائیداد بھی تو تمہارے ہاں آئیگی ، ضرورت شریعت کے احکام کو رواج دینے کی ہے ۔ اس سے کوئی شخص گھاٹے میں نہیں رہتا ۔ لڑکی کا حصہ لڑکے سے آدھا ہوتا ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ اسلام کے نزدیک لڑکیاں سرے سے احترام وعزت کی مستحق ہی نہیں ، بلکہ بات یہ ہے کہ اسلام کے سامنے چونکہ ہر طرح کی مشکلات ہیں جن سے مرد دو چار ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں ، اس لئے ان سے لڑکوں کو زیادہ حصہ دلایا ہے ۔ (آیت) ” من بعد وصیۃ یوصین بھا اودین “۔ کے معنی یہ ہیں کہ مال موروثہ اس وقت تک تقسیم نہ ہو سکے گا جب تک کہ میت کے سر سے قرض نہ اتر جائے ، وصیت وقرض کے بعد جو مال بچے گا ‘ اس میں ورثا کو تقسیم کا حق ہے ۔ قرآن حکیم نے جو حصص مقرر فرمائے ہیں ضرور حکیمانہ ہیں اور ان میں ہر ایک حصہ کی ایک وجہ ہے مگر ہمارا تجربہ چونکہ محدود ہے اور ہمارا علم قاصر ‘ اس لئے ہم قطعی اور حتمی رائے نہیں قائم کرسکتے ، اس لئے فرمایا ۔ (آیت) ” لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعا “۔ یعنی تم نہیں جانتے تمہارے لئے کون زیادہ مفید ہے اور کس کو زیادہ حصہ دیا جائے یعنی حصص کی تقسیم توفیقی ہے منطقی نہیں ۔ حل لغات : قولا سدیدا : ڈھب کی بات ۔ حظ : حصہ ۔
Ayahs 4:13–14

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ اللہ کی حدیں ہیں (ف 1) اور جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا ‘ اللہ اسے ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، انہیں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی مراد ملنی ہے ۔

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا اور خدا کی حدوں سے بڑھے گا ‘ اسے خدا آگ میں ڈالے گا اس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسوائی کا عذاب ہے ۔

(ف 1) ان آیات میں اللہ کے احکام ونواہی کو حدود سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ان حدود سے تجاوز کرنا گناہ ہے اس لئے کہ یہ فرائض ومنکرات حق و باطل اور جنت و دوزخ کے درمیان بطور حدود کے ہیں کہ وہ لوگ جو ان کا خیال رکھتے ہیں اور ہر لحظہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں ، وہ فوز عظیم پالیتے ہیں اور وہ جن کے خمیر میں معصیت وکبر سرشت ہے ، وہ انکار کردیتے ہیں ، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ حل لغات : کللۃ : اس مرد یا عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی اصل وفرع موجود نہ ہو ۔
Ayah 4:15

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

اور تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں بدکاری کریں ان پر تم اپنے مسلمانوں میں سے چار گواہ طلب کرو ، پھر اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتون کو اپنے گھروں میں بند رکھو ، یہاں تک کہ ان کو موت اٹھالے ، یا اللہ ان کے لئے کوئی راہ نکالے (ف 1)

فاحشہ کی سزا : (ف 1) اس آیت میں فاحشہ کی سزا کا ذکر ہے کہ اگر کوئی عورت فحش کا ارتکاب کرے اور ثابت ہوجائے تو اسے گھر میں بند کر دو تاکہ آیندہ فتنہ کی گنجائش نہ رہے ۔ اور اگر مرد برائی کا ارتکاب کرے تو اسے سزا دو ، تاآنکہ وہ توبہ کرلے ، پھر اس سے تعرض نہ کرو ۔ ان ہر دو آیات کے مصداق ومحل میں اختلاف ہے جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد زانی مرد اور عورت ہے اور یہ حکم تقرر حد سے پہلے کا ہے چناچہ جب حد کا تقرر ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا ” خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا “۔ کہ آؤ میں بتاؤں اللہ تعالیٰ نے ان کے فیصلہ کی سبیل بتا دی ہے اس صورت میں یہ حدیث آیت کی مخصص ہوجائے گی ، ابومسلم کہتے ہیں ، یہ دونوں آیتیں تفاحش جنسی کے بیان میں ہیں ، اس میں زنا کا ذکر نہیں یعنی اگر دو عورتیں مل کر ارتکاب فحش کریں اور شہادت ہوجائے تو پھر انہیں بطور سزا کے گھروں میں محبوس رکھا جائے ، اور اگر مرد شہوت جنسی کا ارتکاب کرے تو اسے سزا دی جائے ، مگر یہ تاویل گو چلتی ہوئی ہے لیکن درست نہیں ، اس لئے کہ حدیث میں توضیح آچکی ہے اور اس لئے بھی کہ زانیہ کے لئے تو گواہوں کی ضرورت ہے ، اس کے لئے تو ذرا سختی کے ساتھ تادیب کافی ہے ۔ حل لغات : الفاحشۃ : برائی زنا ۔
Ayah 4:16

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو تم میں سے دو مرد وہی کام کریں تو ان دونوں کو ایذا پہنچاؤ پھر اگر وہ توبہ کریں اور درست ہوجائیں تو ان کا خیال چھوڑ دو ، بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف 1)

نفسیات اخلاق کا باریک نکتہ : (ف 1) (آیت) ” فاعرضوا عنھما “۔ میں اخلاق کے اس دقیق نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ بعض دفعہ حد سے زیادہ سزا اور ملامت ذوق گناہ کو اور بھڑکا دیتی ہے ، مقصد یہ ہے کہ مجرموں کے دل میں شدید احساس پیدا کردیا جائے اور بس جب یہ پیدا ہوجائے تو انہیں زیادہ تنگ نہ کرنا چاہئے ، اس طرح وہ خود بخود رک جاتے ہیں ۔
Ayah 4:17

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

خدا کو ضرور انہیں لوگوں کی توبہ قبول کرنی ہے جو نادانی سے گناہ کرتے اور پھر جلد توبہ کرلیتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ متوجہ ہوتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ، (ف 2)

(ف 2) فرمایا ، تائب وہ ہے جو نادانستہ گناہ کر بیٹھے اور پھر فورا ہی جان لینے کے بعد توبہ کرلے ، وہ نہیں جو عمدا توبہ کے بھروسہ پر گناہ کرے ، حدیث میں آیا ہے ، التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ “۔ کے صحیح معنوں میں توبہ کرنے والا بالکل معصوم انسان کی طرح ہوجاتا ہے ۔
Ayah 4:18

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ان کی توبہ (ف 3) کچھ نہیں جو بدیاں کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت سامنے آجائے تو کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی اور ان کی توبہ بھی کچھ نہیں جو کافر ہی مر جاتے ہیں ، ان کے لیے ہم نے دکھ کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

توبہ کا وقت : (ف 3) فحش و حرام کاری کے بعد ضروری تھا کہ فلسفہ توبہ پر روشنی ڈالی جائے اس آیت میں یہی بتایا ہے کہ توبہ اس وقت مفید ہو سکتی ہے جب گناہ کے ارتکاب کی پوری ہمت موجود ہو اور وقت مساعد ہو ، ورنہ اس وقت جب کاروان منزل تک پہنچ چکا ہو اور ہمت وقوت جواب دے چکی ہو ، توبہ سے کیا حاصل ؟ اس وقت کی توبہ کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اپنے گناہوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں ، جب زندگی ہی نہیں تو ارتکاب گناہ کیسا ؟ بات یہ ہے کہ اسلامی فرائض ومناہی استدلال ومنطق پر مبنی ہیں اور جب عالم غیب کی بہت سی چیزیں بلاغور وفکر کئے آنکھوں کے سامنے آموجود ہوں اور فطرت کے راز ہائے سربستہ خود اپنی چہرہ کشائی پر آمادہ ہوں تو اس وقت خیر وشر میں تمیز کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ حل لغات : اذوھما : تکلیف دو ، سزا دو ، مادہ ایذا ۔ اعرضوا : پیچھا چھوڑ دو ۔
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

مومنو ! تمہیں زبردستی عورتوں کا وارث بننا حلال نہیں (ف 1) اور نہ یہ کہ انہیں بند رکھو ‘ تاکہ اپنا دیا ہوا کچھ ان سے چھین لو ، ہاں جب وہ آشکارا بےحیائی کریں (تو مضائقہ نہیں) اور عورتوں کے ساتھ اچھی طرح رہا کرو ، پھر اگر وہ تمہیں بری معلوم ہوں تو شاید کہ تم کسی شے کو برا سمجھو اور خدا اس میں سے بہت بھلائی پیدا کرے ۔

عورتیں مال ڈھور نہیں : (ف 1) جاہلیت میں عورت مال ڈھور کی طرح قابل بیع وشرا تھی اور جب کوئی ؤدمی مر جاتا تو اس کی سوتیلی اولاد اس کی وارث ٹھہرتی ، ان آیات میں بتایا کہ تم ان پر جبر وستم روا نہیں رکھ سکتے ، وہ تمہاری طرح جذبہ عزت نفس سے بہرہ ورہ ہیں اور انہیں بھی تمہاری طرح پوری عزت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہے اور یہ طریق بالکل ناجائز ہے کہ تم انہیں محض اس لئے تنگ رکھو کہ وہ تمہیں کچھ دے کر طلاق حاصل کریں ۔ (آیت) ” وعاشروھن بالمعروف “ کے معنی یہ ہیں کہ عورت سے حسن سلوک از قبیل فرائض وواجبات ہے ۔ (آیت) ” فعسی ان تکرھوا “ میں ازدواجی زندگی کا ایک بیش قیمت نکتہ بیان فرمایا ہے یعنی بیوی میں اگر کوئی امر نقیض نہ ہو تو حتی الوسع چشم پوشی اور ایثار سے کام لینا چاہئے ، ہو سکتا ہے کہ تمہارا یہ ایثار بیوی کے دل میں تمہارے لئے بہت زیادہ احترام پیدا کر دے جس سے تمہاری زندگی مزے سے کٹے گی ، بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اکثر اس بات سے ملول رہتے ہیں کہ ان کی بیوی ان کے معیار مطابق قبول صورت نہیں یا اتنی مال دار نہیں ، جیسا کہ وہ چاہتے ہیں ، اور یا وہ اس درجہ تعلیم یافتہ نہیں جو ان کے لئے باعث فخر ہو سکے ، یہ لوگ اگر تھوڑے سے ایثار سے کام لیں تو یہ ملال دور ہو سکتا ہے کیا ان لوگوں نے کبھی یہ غور کیا ہے کہ خود ان کی کیا قوت ہے ۔ ہندوستان اور پاکستا کی شریف اور اطاعت گزار عورتیں بدصورتی ، غربت اور بدوضعی کے تمام عیوب کے باوجود اپنے خاوندوں سے محبت رکھتی ہیں ، کیا یہ رویہ قابل صد تحسین نہیں ۔ حل لغات : کرھا : بجبر ۔ زبردستی ۔
Ayahs 4:20–22

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اگر تم بجائے ایک عورت کے دوسری عورت سے (نکاح) کرنا چاہو ، اور ان میں سے کسی کو ڈھیر مال کا دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ نہ لو ، کیا تم ناحق اور صریح گناہ سے لیا چاہتے ہو (ف 1)

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم کیونکر لیتے ہو جب کہ تم آپس میں مل چکے ہو اور وہ عورتیں تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ، مگر جو آگے ہوگیا سو ہوگیا ، یہ بےحیائی اور غضب کا کام ہے اور برا چلن ہے ۔

مہر واپس نہ لو : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ بیوی لو طلاق دینے کے بعد مہر یا وہ تحائف جو تم نے وقتا فوقتا اسے دیئے ہیں واپس نہ لو کہ یہ مروت اور حسن معاشرت کے منافی ہے یعنی طلاق کے معنی باقاعدہ اور آداب کے مطابق علیحدگی کے ہیں ، نہ اظہار بغض وعداوت کے ۔ اسلام نے ہر مرحلہ پر انسان کو اخلاق کی بلند شاہراہ پر قائم رہنے کی تلقین کی ہے ، اسی لئے وہ کہتا ہے کہ تم طلاق و علیحدگی کے بعد بھی حسن سلوک کے اصول کو نہ بھولو ۔
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تمہارے اوپر حرام (ف 2) کی گئیں تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں ، جنہوں نے تم کو دودھ پلایا اور تمہاری بہنیں اور تمہاری ساسیں اور تمہاری عورتوں کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں تمہاری ان عورتوں سے جن کے ساتھ تم ہم بستر ہوچکے ہو لیکن اگر تم ان کے ساتھ ہم بستر نہیں ہوئے تو تم پر کچھ گناہ نہیں ، اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں اور یہ کہ دو بہنوں کو جمع کرو ، مگر آگے جو ہوچکا ‘ سو ہوچکا ، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

کن کن عورتوں سے نکاح درست نہیں ؟ (ف 2) اسلام میں خوبی یہ ہے کہ وہ الہیات کی مشکل گتھیاں بھی سلجھاتا ہے اور معاشرت کے نکات بھی اس کے ریاض توحید میں عالم غیب کے اسرار بھی ہیں اور عالم شہود کے واقعات بھی ، اخلاق کے دقیق ابواب معاشرت کے چھوٹے چھوٹے مسائل تک ہے اور بہرحال یہ دعوی درست ہے کہ اسلام ایک کامل ومفصل مذہب ہے ، یہ بات کتنی افسوسناک ہے کہ وہ مذاہب جن میں الہیات کے اسرار وغوامض پر تو بحث ہے مگر روز مرہ کے واقعات سے تعرض نہیں ‘ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور وہ مسلک جس میں جامعیت و کمال تابحد مبالغہ ہے ، بدنام ہے ۔ ان آیات میں محرمۃ النکاح عورتوں کا بیان ہے ۔ یعنی وہ عورتیں جن سے نکاح درست نہیں ۔ اور وہ یہ ہیں : 1۔ منکوحہ آب ، یعنی باپ کی بیوی امام ابوحنیفہ (رح) کے خیال میں ” مزنیہ اب بھی اس میں داخل ہے امام شافعی (رح) اسے صرف جائز ازواج تک محدود رکھتے ہیں ، قرآن حکیم کے الفاظ سے امام ابوحنیفہ (رح) کی تائید ہوتی ہے اور مفہوم ومنشاء کے اعتبار سے امام شافعی (رح) کی ۔ (آیت) ” الا ما قد سلف “۔ سے مراد یہ ہے کہ گزشتہ واقعات اس تعزیر میں شامل نہیں جو ہو شکا سو ہوچکا ، مگر نزول کے بعد ایسا شادیاں ناجائز ہیں ۔ اس لئے حضور نے بہت سے ایسے واقعات میں تفریق کرا دیں ۔ 2۔ مائیں ، بیٹیاں ، بہنیں ، پھپھیاں ، خالائیں ، بھتیجیاں اور بھانجیاں ‘ اس لئے کہ فطرت انسانی ان رشتوں کو احترام و شفقت کی نظر سے دیکھتی ہے ، اس لئے طبیعت اس طرف مائل ہی نہیں ہوتی ۔ 3۔ رضاعی رشتے یعنی وہ عورتیں جن سے دودھ کا رشتہ ہو ، ظاہر ہے رضاعت سے لڑکے کے دل میں وہی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں جو حقیقی ماں کی نسبت اس لئے ان رشتوں کو بھی احترام وعزت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے ، 4۔ ساس اس لئے کہ ساس بھی بمنزلہ ماں کے ہے ، 5۔ ربائب ، یعنی وہ زیر تربیت بچیاں جو تمہاری بیویوں کی آغوش شفقت میں رہی ہوں ، حرمت کی وجہ ظاہر ہے ۔ 6۔ بہو ۔ 7۔ (آیت) ” جمع بین الاختین “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں فطرت نے جو دو بہنوں میں محبت رکھی ہے ، وہ رقابت کے بدترین جذبے سے بدل جائے گی اور اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کوئی تعلق کسی بدمزگی کا باعث ہو ، اسلام تو دنیا میں محبت ورفائیت پیدا کرنے آیا ہے نہ رقابت ودشمنی کے لئے ۔ حل لغات : قنطارا : مال کثیر ۔ افضی بعضکم الی بعض : سے مراد ہے تعلقات جنسی ۔ سلف : جو گزر چکا ، جو ہوچکا ۔ مقت : نفرت وناراضگی ۔ حجور : جمع حجر ۔ گود ۔ حلآئل : جمع حلیلۃ بمعنی بیوی ۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور شوہر والی عورتوں کا نکاح میں لانا بھی حرام ہے مگر جو تمہارے ہاتھ کی ملک ہوجائیں ، یہ اللہ نے تم پر لکھ دیا ہے اور ان کے سوا سب عورتیں (نکاح کرنے کو ) حلال ہیں ، یوں کہ تم اپنے مال دے کر طلب کرو ۔ بحالیکہ تم قید میں لانے والے ہو نہ کہ مستی نکالنے والے پس جو مال کہ فائدہ اٹھایا ہے تم نے بدلے اس کے ان سے سو دو انکوحق ان کا موافق مقرر کے اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں کہ بعد مقرر کرنے مہر کے کسی بات پر آپس میں راضی ہوجاؤ بیشک خدا جاننے (ف 1) والا حکمت والا ہے ۔

متعہ حرام ہے : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ شادی شدہ عورتیں کسی طرح بھی دوسروں کے لئے جائز نہیں البتہ مملوکہ عورتیں چونکہ بوجہ عین بمنزلہ منکوحات کے ہیں اور ان کا سابقہ نکاح فسخ ہوچکا ہے ، اس لئے وہ ” محصنات “ کی فہرست میں داخل نہیں ۔ ذیل کے الفاظ سے بعض لوگوں نے متعہ کا جواز نکالا ہے ، (آیت) ” ان تبتغوا باموالکم فما استمتعتم بہ منھن فاتوھن اجورھن “۔ حالانکہ آیت کے سیاق وسباق سے ظاہر ہے کہ بیان نکاح کا ہو رہا ہے جس کے معنی دائما کسی کو حبالہ عقد میں لے آنے کے ہیں نہ متعہ کا ، جو وقتی جذبات کے ماتحت یکسر حیوانی حرکت ہے ، (آیت) ” محصنین غیر مسافحین “ کی تصریح ہرگز کسی شک وشبہ کی متحمل نہیں ، اس میں واضح طور پر مفہوم مضمر ہے کہ مرد اور عورت کا تعلق باہمی یا بصورت احصان و دوام ہے اور یا بصورت زنا وسفاح ۔ تیسری کوئی صورت نہیں ، یہ درست ہے کہ زمانہ جاہلیت میں متعہ کا عام رواج تھا اور عہد نبوی ﷺ میں بھی بعض لوگ اسے جائز جانتے رہے مگر قرآن حکیم کا ایسے طرز ازواج کو پیش کرنا جو دائمی ہو جس میں عورت کا تمام حقوق زوجیت حاصل ہوں جس میں (آیت) ” عاشروھن بالمعروف “ کی تلقین ہو صاف طور پر متعہ کی مخالفت ہے ، اس لئے یہ کہنا کہ قرآن حکیم میں متعہ کی ممانعت موجود نہیں ‘ تجاہل ہے ۔ زیر خط الفاظ اس وقت موجب وہم وشک ہو سکتے ہیں جب پہلے سے ذہن میں متعہ کے جواز کا خیال ہو ، ورنہ ظاہر ہے ” ابتغآء بللال تمتع اور اجور ۔ ان میں کوئی شے بھی متعہ کے ساتھ مختص نہیں ۔ نکاح میں بھی روپیہ خرچ ہوتا ہے اور متہ میں بھی ، مہر ” صداق “ جس میں ہدیہ محبت وصداقت ہوتا ہے ، اسی طرح ایک قسم کا اجر بھی ، یعنی حلیہ مہر ووفا بھی اور تمتع تو ظاہر ہے جس قدر نکاح میں ہے متعہ میں نہیں ، پھر یہ کہاں سے لازم آگیا کہ ان الفاظ سے متعہ ثابت ہے ، ان الفاظ میں تو نکاح کے لوازم سے بحث ہے ۔ اصل میں غلط فہمی کا منبع یہ مسئلہ ہے کہ مہر بدل استحلال ہے ۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں ، مہر تو شادی کا تحفہ ہے ، فتماء نے اسے خواہ مخواہ ” معاوضہ حیوانیت “ سمجھ لیا ہے جس سے اس کی پاکیزگی میں فرق پڑگیا ہے اور اسی بنا پر حضرت تشیع نے متعہ کا جواز نکالا ہے کہ چونکہ اجرت متحقق ہے ، اس لئے تمتع ازدواج کا حق ثابت ہوا ، وہ یہ نہیں جانتے کہ اسلام اس سے بہت بلند ہے کہ صرف چند نقرئی سکوں کے معاوضہ میں استحلال کا حق دے دے ، گو وہ اسے لازمی قرار دیتا ہے مگر اسے ” معاوضہ حیوانیت “ قرار نہیں دیتا اسلام جس شکل اتحاد کو پیش کرتا ہے وہ نہایت بلند اخلاق اساسوں پر قائم ہے ، اس میں دوام اور توریث شرط ہے ۔ حل لغات : المحصنت : آزاد ۔ شادی شدہ ، عفیف اور مسلمان عورتیں ، قرآن حکیم نے چاروں معنوں میں اس کا اطلاق فرمایا ہے ، مسافحین : مادہ سفاح بمعنی پہالا ۔ طول : مقدور گنجائش اور وسعت ۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو تم سے مسلمان (آزاد) بیبیوں کے ساتھ نکاح کا مقدور نہ رکھتا ہو وہ تمہاری مسلمان باندیوں کے ساتھ جو تمہاری ملک ہوں نکاح کرلے اور خدا تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم آپس میں ایک ہو سو باندیوں سے نکاح ان کے مالکوں کی اجازت سے کرو اور دستور کے مطابق ان کو ان کے مہر دو ، جب کہ باندیاں قید نکاح میں آنے والیاں ہوں نہ کہ مستی نکالنے والیاں اور نہ پوشیدہ یار رکھنے والیاں ، (ف 1) پھر جب وہ قید نکاح میں آجائیں ، پھر زنا کریں تو جس قدر عذاب آزاد عورت کے لئے مقرر ہے اس کا نصف ان پر ہوگا ، یہ حکم ان کے لئے ہے جو تم میں بدکاری سے ڈرے اور اگر تم صبر کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے ۔

ولا تخذات اخدان : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ جو لوگ آزاد عورتوں سے قلت سرمایہ کی وجہ سے نکاح نہ کرسکیں ، وہ غلام عورتوں سے نکاح کرلیں ، کیونکہ وہ سستے داموں رشتہ ازدواجی میں منسلک ہوجاتی ہیں ، مگر اس میں چار باتیں ملحوظ رکھیئے ۔ 1۔ مومن ہو ۔ 2۔ مالک کی اجازت حاصل کرلی جائے ۔ 3۔ انہیں مہر دیا جائے ۔ 4۔ اور یہ کہ وہ مالک سے الگ آشنا نہ رکھتی ہوں ۔ یعنی وہ عورتیں جو مالک کے سوا اور احباب ودوست بھی رکھتی ہیں ، ان سے رشتہ مناکحت درست نہیں موجودہ تمدن اس دفعہ کی مکمل تشریح ہے ، فرق یہ ہے کہ اس زمانے میں شرفا کی عورتیں اس سے محفوظ تھیں ، اب شریف وہ ہے جو دس بانچ دوست رکھتی ہو ۔ اللہ اکبر ! اخلاق کی دنیا میں کتنا بڑا انقلاب پیدا ہوگیا ہے ، اب ہر برائی شرافت وتہذیب کے نام پر جائز ہے ، لونڈی کی سزا نصف اس لئے رکھی ہے کہ اسے برائی سے بچنے کے مواقع بہت کم ملتے ہیں ، اب بھی وہ عورتیں جو گھروں میں کام کاج کرتی ہیں بمشکل برائی سے محفوظ رہتی ہیں اور وہ عورتیں جو کونسلوں ، ملوں اور ایوانوں میں مردوں کے پہلو بہ پہلو مل کر بیٹھتی ہیں کیونکر ردا عصمت کو بچا سکتی ہیں ؟ یہ حقیقت ہے کہ مرد و عورت کا اجتماع کسی صورت میں بھی خوش آئندہ نہیں ۔ وہ لوگ جو اس کا دعوی کرتے ہیں ‘ فریب نفس میں مبتلا ہیں میں نہیں کہتا کہ اس میں عورت کا قصور ہے اور نہ مرد کو ملزم ٹھہراتا ہوں ، مگر یہ واقعہ ہے کہ ہر مرد اور عورت کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے ۔ صلی اللہ علی محمد ۔ حل لغات : اخدان : جمع خذن ۔ خفیہ آشنا ۔ دوست ۔ العنت : بدکاری ۔
Ayahs 4:26–28

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ تمہیں بیان سنائے اور اگلوں کی راہوں پر تمہیں چلائے تمہیں معاف کرے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔ (ف 1)

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور خدا تم پر متوجہ ہونا چاہتا ہے اور جو لوگ اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم مڑ جاؤ راہ سے بہت دور ۔

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

خدا تمہارا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔

(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ اسلام میں کوئی الگ صحیفہ شریعت نہیں ، اس میں وہی قواعد بتائے گئے ہیں جن کو بار بار دہرایا گیا ہے ، یہ وہی صداقت قدیمہ ہے ، جسے زمانہ کی ہر کروٹ کے ساتھ پرکھا گیا ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ تم لوگ اسے قبول کرکے اللہ کی وسیع رحمتوں میں شامل ہوجاؤ ، شہوات سے بچو اور اپنی جبلی و فطری کمزوریوں کا خیال رکھو ، بجز خدا کے فضل وعفو کے تم برائیوں سے نہیں بچ سکتے ، اس لئے اس راستہ پر مضبوطی سے گامزن ہوجاؤ جو خدائے غفور نے تمہارے لئے تجویز کیا ہے ۔
Ayahs 4:29–30

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

مومنو ! ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاؤ لیکن آپس کی رضا مندی سے سودا ہو تو مضائقہ نہیں اور باہم خونریزی نہ کرو بیشک خدا تم پر مہربان ہے ۔ (ف 2)

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو کوئی زور زبردستی سے ایسا کرے گا ‘ ہم اسے آگ میں ڈالیں گے اور یہ کام خدا پر آسان ہے ،

(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ ناجائز وسائل سے مال حاصل کرنا گناہ ہے ، البتہ باہم رضا مندی سے تجارت میں کوئی مضائقہ نہیں ، یعنی تجارت کل حلال کا بہترین ذریعہ ہے افسوس ! آج مسلمان تجارت نہ کر کے دنیا بھر میں ذلیل ورسوا ہے ۔ حالانکہ خدا تعالیٰ نے مسلمان کو تاجر پیدا کیا تھا (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم “ کا مطلب یا تو یہ ہے کہ عام طور پر چونکہ جعل و فریب سے لڑائیاں ہوتی ہیں ، اس لئے تم ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو اور باہمی رضا جوئی سے کام لو اور یا یہ کہ جو قوم تجارت کو ترک کردیتی ہے وہ مردہ ہے ، اس میں کوئی زندگی باقی نہیں رہتی ۔ دیکھ لیجئے ، آج مسلمان کیا محض اس لئے حقیر نہیں شمار کئے جاتے کہ ان کے پاس دولت نہیں اور کیا صرف مردہ قوموں میں ان کا شمار نہیں کہ یہ تہی دست ہیں ۔ حل لغات : یرید ان یتوب علیکم تاب علیہ : کے معنی حسن التفات کے ہیں ۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم ممنوعات میں سے کبیرہ گناہوں سے بچتے رہے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہ تم سے دور کردیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے (ف 1)

اسلامی کفارہ : (ف 1) مذہب کا مقصد یہ ہے کہ گناہگار انسان کو خدا کی بادشاہت تک کامیابی کے ساتھ پہنچا دے اور اس میں ایسی قابلیت اور استعداد پیدا کر دے کہ وہ خدا کی بخشش بیحد کا مستحق ٹھہرے ، قرآن حکیم ایک ایسے ہی مسلک کی طرف بلاتا ہے جو بالکل فطری اور معقول ہے اور جس پر چلنے کے بعد لامحالہ انسان میں ” نجات “ کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے ، چناچہ وہ کہتا ہے کبائر سے بچنے کی کوشش کرو ، یہ طے کرلو کہ موٹے موٹے اور عام سمجھ میں آجانے والے گناہ ہم سے سرزد نہیں ہوں گے ، نتیجہ یہ ہوگا کہ طبیعت میں پرہیزواتقاء کے جذبات پیدا ہونے لگیں گے اور انسان باقاعدہ اور باضابطہ طور پر گناہوں سے نفرت کرنے لگے گا اور اسے ایک ایسی زندگی عطا ہوگی جو یکسر روحانی اور اعلی زندگی ہے ، یہ اسلامی کفارہ ہے جو بالکل واضح اور یقینی ہے ۔ دوسرا کفارہ وہ ہے جو عیسائی پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے صلیب پر جان دے کر ہمارے تمام گناہوں کو اپنے اوپر اٹھا لیا ہے ، یہ کس قدر غلط اور غیر منطقی عقیدہ ہے ۔ کیا کسی انسان کی موت دوسروں کے لئے باعث نجات ہو سکتی ہے ؟ اور کیا کوئی انسان تمام لوگوں کو اپنے ذمے لے سکتا ہے ؟ بات یہ ہے کہ یہ ایک بت پرسانہ عقیدہ ہے جو عیش و عشرت کے لئے ایک طرح کی دلیل صحت ہے اور بس یار لوگوں نے مذہب کے نام تعیش وفسق کے لئے ایک وجہ جواز پیدا کرلی ہے ۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر جو فضیلت بخشی ہے تم اس کی تمنا نہ کرو مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لئے انکی کمائی کا حصہ ہے اور اللہ سے اس کا فضل مانگو ۔ بیشک اللہ کو سب کچھ معلوم ہے (ف 2)

(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ مرد و عورت کے لئے کسب واکتساب کا ایک وسیع میدان موجود ہے ، دونوں کے الگ الگ فرائض ہیں اور الگ الگ دائرہ عمل ، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں خدا کی رضا جوئی مشترکہ طور پر حاصل کریں ، نہ یہ کہ مرد تانث کے زیور سے آراستہ ہوں اور عورتیں مردانہ اسلحہ سے مسلح ۔ حل لغات : تجتنبوا : مصدر و مادہ اجتناب بچنا ۔ پہلو تہی کرنا ۔ نکفر : مادہ تکفیر ۔ گناہ مٹانا ، دور کرنا بعض لوگ اس لفظ کو ” اکفار “ بمعنی کافر گرداننے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں یہ غلط ہے ۔
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

جو کچھ والدین اور قرابتی چھوڑیں ‘ اس میں ہر کسی کے وارث ہم نے مقرر کردیئے ہیں اور جن سے تم نے اقرار باندھا ہے ان کا حصہ انہیں دو ۔ بیشک ہر شے خدا کے روبرو ہے (ف 1)

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ میراث میں سب کے ورثہ ہیں اور ان میں باہمی تفاوت ہے ، خدا خوب جانتا ہے کون کتنے حصے کا مستحق ہے ، تم ان کا حصہ بہرحال حسب ہدایت ان تک پہنچا دو ۔ آیت کی ترکیب کچھ اس طرح ہے کہ والدین واقربا وغیرہ وارث بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں اور موروث بھی ۔ (آیت) ” والذین عقدت ایمانکم “ سے مراد میاں بیوی ہیں ۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر حاکم ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ نے ایک کو ایک پر فضیلت بخشی ہے اور اس لئے بھی کہ وہ اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں (ف 2) پس نیک بخت عورتیں فرمانبردار (ہوتی ہیں) اور اللہ کی حفاظت سے شوہروں کی غیبت میں خبرداری کرتی ہیں اور وہ عورتیں جنکی بدخوئی سے تم ڈرتے ہو انہیں سمجھاؤ اور خوابگاہوں میں جدا چھوڑ دو اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارا کہنا مانیں تو ان پر الزام کی راہ تلاش نہ کرو ، بیشک اللہ بلند سب سے بڑا ہے (ف 1)

الرجال قوامون : (ف 2) قوام یاقیم کے معنی ہوتے ہیں منصرم یا منتظم کے اس آیت میں فلسفہ تدیبر منزل کی مشکلات کا حل ہے ، عائلہ یا فیملی ایک قسم کی چوٹی سی ریاست ہے جس کے متعدد رکن ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان کا منتظم ومنصرم کون ہے ، قرآن حکیم کا فیصلہ یہ ہے کہ مرد ۔ اور اس کی وجہ سے مرد عورت کے لئے آذوقہ حیات بہم پہنچانے پر مجبور ہے ، عورت نہیں ، اور اس لئے بھی کہ فطری طور پر مرد ہی منتظم بننے کی صلاحیتیں موجود ہیں ۔ یہ درست ہے عورتیں بھی کام کرسکتی ہیں مگر وہ ہر وقت وہ ایسا نہیں کرسکتیں ان کی جنسی کمزوریاں انہیں بہرحال منصرم رہنے کی اجازت نہیں دیتیں ، بخلاف مرد کے کہ وہ کڑی سے کڑی مصیبتیں برداشت کرلیتا ہے ۔ پس نیک عورتیں وہ ہیں جو اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی ہیں اور خاوند کی دل سے قدر کرتی ہیں ۔ یہ یاد رہے کہ اس ریاست کا نظام یکسر جمہوری ہے گھر کے چھوٹے چھوٹے کام بھی بلامشورہ نہ ہونے چاہئیں چناچہ دودھ پلانے کا مسئلہ دوسرے پارے میں گزر چکا ہے کہ وہ بھی باہمی تشاور وتراضی سے ہو ۔ حل لغات : موالی : جمع مولی ۔ آزاد کنندہ ، آزاد شدہ غلام حلیف ابن عم ولی اور عصبہ تمام معانی میں اس کا استعمال ہوتا ہے ۔ (ف 1) یہ حقیقت ہے جس کا بارہا اعتراف کرنا پڑا ہے کہ قرآن حکیم ہماری تمام مشکلات کا حل اس خوبصورتی اور جامعیت سے پیش کرتا ہے کہ بےاختیار دل سے کلمات تحسین نکل جاتے ہیں ، یہ ایک ایسی کتاب ہے جو معاشرت کے تمام ابواب وفصول ہمارے لئے واشگاف کرکے رکھ دیتی ہے ، اس میں فلسفہ و حکمت کے ساتھ ساتھ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جن پر انسانی سعادت و فلاح کا دارومدار ہے ، اس طرح مذکور ہیں کہ قربان جائیے اور پھر بھی جذبہ احترام میں کمی نہ پیدا ہو ۔ اس آیت میں عورت کے نشوز وتمرد کا علاج بتایا ہے ، بہت سے لوگ ایسے ہیں جو باوجود تعلیم یافتہ ہونے ان رموزواسرار سے واقف نہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو کافی سرمایہ دار ہیں ‘ لیکن پھر بھی ان کی بیویاں ان سے ناراض رہتی ہیں اور وہ نہایت اضطراب وبے چینی کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ قرآن حکیم ایک طرف تو مرد سے کہتا ہے (آیت) ” وعاشروھن بالمعروف “ ، دوسری طرف عورت کو خاوند کی اطاعت پر مجبور کرتا ہے لیکن اس کے بعد بھی اگر نشوز واختلاف کا خوف ہو تو قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ عظوھن “ سب سے پہلے انہیں ” وعظ “ سے بدلنے کی کوشش کی جائے ، ” وعظ “ سے مراد ناصحانہ گفتگو ہی نہیں بلکہ مشفقانہ برتاؤ بھی ہے یعنی اپنے قول وفعل کے لحاظ سے عورت کے لئے اس درجہ محبوب ودل پسند بننے کی کوشش کرو کہ وہ لامحالہ متاثر ہو ، تمہارے بلند اخلاق اسے مجبور کردیں کہ وہ اپنی غلطی کو محسوس کرے اور عورت اگر اس قدر سمجھ دار نہ ہو تو پھر اس کے ” جذبات “ سے اپیل کرو اور اس کا بہترین طریق یہ ہے کہ اسے بستر پر تنہا چھوڑ دو ۔ اور یہ اس وقت زیادہ موزوں ہوگا جب تم اکٹھا ایک بستر پر استراحت اختیار کرو ، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اس انقطاع کو برداشت نہیں کرے گی ۔ عورت کی یہ فطرت میں داخل ہے کہ وہ ہر چیز برداشت کرسکتی ہے ، بجز اپنے محبوب کے غصہ کے ، اور اگر اس پر بھی تبدیلی نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ بالکل عام عورت ہے ، اس لئے عامیانہ سلوک کی مستحق ہے اسے پٹینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں مگر یہ تیسرا درجہ ہے ۔ جو لوگ ان نکات ازدواج نہیں جانتے ، نہایت معمولی باتوں پر اپنے گھر کو دوزخ بنا لیتے ہیں ورنہ اگر وہ اسلامی اور قرآنی زندگی بسر کریں تو ان کا گھر اس دنیا میں بہشت کا نمونہ بن جائے ،
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم ان دونوں (میاں بیوی) کی مخالفت درمیانی سے ڈرتے ہو تو ایک پنچ مرد کے کنبے میں سے اور ایک پنچ عورت کے کنبے میں سے مقرر کرو اور اگر یہ دونوں ان میں صلح کا ارادہ کریں گے تو خدا ان میں ملاپ کر دیگا ، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے (ف 2)

تدبیر منزل کے تین زرین اصول : آخری صورت : (ف 2) اگر میاں بیوی میں اختلاف اس درجہ تک بڑھ جائے کہ دونوں اسے مٹانے پر قادر نہ ہوں تو بہترین طریق یہ ہے کہ وہ حکم مقرر کرلیں ، ایک عورت کا عزیز ہو اور اس ایک مرد کا ، دونوں غیر جانبداری سے واقعات کو سنیں اور معاملہ نپٹانے کی کوشش کریں ، اگر مسلمان اس تجویز پر عمل پیرا ہوجائیں تو ان کا بہت سا روپیہ عدالتوں میں برباد ہونے سے بچ جائیے ۔ حل لغات : شقاق : اختلاف ۔
Ayahs 4:36–38

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین اور قرابتیوں ‘ اور یتیموں اور محتاجوں سے اور قریبی ہمسایہ ‘ اور اجنبی ہمسایہ اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر اور لونڈی غلام سے نیکی کرو ، خدا کسی اترانے والے اور بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا (ف 1)

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

وہ جو بخل کرتے اور لوگوں کو بخل سکھلاتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپاتے ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے رسوائی کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور وہ اللہ اور آخری دن پر ایمان نہیں رکھتے اور جس کا ساتھی شیطان ہوا ، اس کا بہت برا ساتھی ہوگیا ۔

(ف 1) ان آیات میں خدا سے لے کر غلام تک کے ساتھ صحیح تعلق رکھنے کی تلقین ہے کہ جہاں اللہ کی عبادت کرو ‘ وہاں اس کا مظاہرہ تمہارے اعمال سے بھی ہو ۔ حل لغات : وما ملکت ایمانکم : جو تمہارے قبضہ ملک میں ہوں ۔ مختال : مکتبر ۔ فخور : شیخی بگھارنے والا ۔
Ayah 4:39

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور اگر وہ اللہ پر اور پچھلے دن پر ایمان لاتے اور جو ہم نے دیا ہے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوجاتا اور اللہ ان کو جانتا ہے ۔ (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے معنی یہ ہیں کہ اس میں کسی ریا کاری کو دخل نہ ہو اور نہ کوئی شیطانی جذبہ اس میں کار فرما ہو ۔ خالصۃ اللہ کے لئے ، اللہ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق خرچ کیا جائے ، اگر خدا پر یقین نہ ہو اور آخرت سے دل لرزاں نہ ہو تو یاد رکھیے کوئی عمل قابل قبول نہیں ۔
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

بیشک اللہ ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اس کو دو چند کردیتا ہے اور اپنی طرف سے بڑا ثواب دیتا ہے ۔ (ف 2)

(ف 2) خدائے تعالیٰ اس درجہ رؤف ورحیم ہے کہ باوجود حق واختیار کے وہ کسی کی حق تلفی نہ کرے گا اور نیکیوں کو بڑھاتا رہے گا ار اپنی طرف سے اجر عظیم عنایت فرمائے گا یعنی وہ ہمہ احسان و جمال ہے ‘ ہمارے گناہوں کو بنظر ترحم دیکھے گا اور ہماری حسنات کو بہ نگاہ فضل امتنان ۔ بات یہ ہے کہ اس کی شان کریمی بہر حال آمدہ بخشش ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا ایک بھی بندہ جہنم میں جائے ، یہ نیکیوں کو بڑھانا اور گناہ کی تکفیر تو بہانے ہیں اور وسائل وذرائع اپنی آغوش رحمت میں لینے کے اور ظاہر ہے جب تک وہ زائد از استحقاق فضل و عنایات سے کام نہ لے ، عاصی وگنہگار انسان کے لئے نجات کی کیا امید ہو سکتی ہے ، اس کی نعمتیں اس قدر وسیع وبے حد ہیں کہ ساری زندگی کی عبادتیں اور ریاضتیں ” شکریہ “ کے مرتبے سے آگے نہیں بڑھتیں ، پھر یہ اس کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ ہماری حقیر ” خدمات “ کو درخور اعتناء جانتا ہے اور ہمیں بخشش عام کا مستحق قرار دیتا ہے ۔