Ayah 4:17 یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے اول تو حضرت حوا کو ان کی بائیں پسلی سے نکالا، پھر ان دونوں سے تمام مرد اور عورتوں کو پیدا کیا، اور دنیا میں پھیلایا تو حقیقت میں تمام آدمی ایک جان اور ایک شخص سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے، مطلب یہ ہے کہ جب تم سب کو عدم سے وجود میں لانے والا اور پھر تم کو باقی اور قائم رکھنے والا وہی ہے تو اس سے ڈرنا اور اس کی فرمانبرداری ضروری بات ہے، اس سے اشارہ ہوگیا دو مضمونوں کی طرف اول یہ کہ اللہ تعالیٰ تم سب کا خالق اور موجد ہے، دوسرے یہ کہ تمام آدمیوں کے لئے سبب وجود کہ جس سے اللہ تعالیٰ نے سب کو پیدا فرمایا، ایک ہی جان یعنی ابو البشر آدم (علیہ السلام) ہے جس سے معلوم ہوگیا کہ ہمارا اصلی تعلق تو اللہ سے ہے کیونکہ علت نامہ اور اس کے معلول میں جس قدر تعلق اور قرب اور علاقہ احتیاج ہوتا ہے وہ کسی میں ممکن نہیں اس کے بعد وہ تعلق اور قرب سے جو افراد انسانی میں باہم پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا سبب وجود اور مخلوق منہ بالکل شے واحد ہے جس سے معلوم ہوگیا کہ اول تو ہمارے ذمہ پر خدا تعالیٰ کی اطاعت لازم ہونی چاہیے کہ وہ ہمارا خالق ہے اس کے بعد تمام مخلوقات میں خاص اپنے بنی نوع کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہم پر ضروری ہونا چاہئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کے لئے مخلوق منہ اور سبب وجود ایک چیز کو مقرر فرمایا تو جو قرب اور جو اتحاد افراد انسانی میں باہم موجود ہے وہ کسی دوسری چیز کے ساتھ حاصل نہیں، اسی وجہ سے شرعاً اور عقلاً آدمیوں میں باہم حسن سلوک ایسا ضروری اور بدسلوکی اس قدر مذموم ہے جو اوروں کے ساتھ نہیں، جس کی تفصیل نصوص اور احکام شرعیہ میں برابر موجود ہے۔ شیخ علیہ الرحمتہ نے اسی مضمون کو بیان کیا ہے۔
قطعہ بنی آدم اعضائے یک دیگراند۔ کہ درآفرینش زیک جو ہراند چو عضوے بدردآورد روزگار۔ دگر عضوہارا نماند قرار۔
تو اس موقع میں حق تعالیٰ نے اپنی خالقیت ظاہر فرما کر اپنی اطاعت کا حکم دیا اور بنی آدم کے اتحاد اصلی کو جتلا کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ باہم ایک ہو کر رہو چناچہ آیت کے آیندہ حصہ میں اس اشارہ کو ظاہر کردیا۔
1 خالق اور رب یعنی موجد اور مبقی ہونے کے علاوہ اللہ سے ڈرنے اور اس کی اطاعت کے وجوب کی ایک یہ بھی وجہ ہے کہ تم اس کا واسطہ دیکر آپس میں ایک دوسرے سے اپنے حقوق اور فوائد طلب کرتے ہو اور آپس میں اس کی قسمیں دیتے ہو اور ان پر اطمینان حاصل کرتے کراتے ہو یعنی اپنے باہمی معاملات اور حاجات عارضہ میں بھی اسی کا ذریعہ پکڑتے ہو مطلب یہ ہوا کہ وجود اور بقا ہی میں احتیاج منحصر نہیں، بلکہ تمام حاجتوں اور کاموں میں بھی اس کے محتاج ہو اس لئے اس کی اطاعت کا ضروری ہونا اور بھی محقق ہوگیا اس کے بعد تم کو یہ حکم ہے کہ قرابت سے بھی ڈرو یعنی اہل قرابت کے حقوق ادا کرتے رہو، اور قطع رحمی اور بدسلوکی سے بچو۔ بنی نوع یعنی تمام افراد انسانی کے ساتھ علی العموم سلوک کرنا تو آیت کے پہلے حصہ میں آچکا تھا اہل قرابت کے ساتھ چونکہ قرب و اتحاد مخصوص اور بڑھا ہوا ہے اس لئے ان کی بدسلوکی سے اب خاص طور پر ڈرایا گیا، کیونکہ ان کے حقوق دیگر افراد انسانی سے بڑھے ہوئے ہیں، چناچہ حدیث قدسی قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ انا اللّٰہ وانا الرحمن خلقت الرحم وشققت لھا من اسمی فمن وصلہا وصلتہ ومن قطعہا قطعتہ اور حدیث خلق اللّٰہ الخلق فلما فرغ منہ قامت الرحم فاخذت بحقوی الرحمن فقال مہ قالت ھذا مقام العائذ منک من القطیعۃ قال الا ترضین ان اصل من وصلک واقطع من قطعک قالت بلے ٰ یا رب قال فذاک اور حدیث الرحم شجنۃ من الرحمٰن فقال اللّٰہ من وصلک وصلتہ ومن قطعک قطعتہ اور حدیث الرحم معلقۃ بالعرش تقول من وصلنی وصلہ اللّٰہ ومن قطعنی قطعہ اللّٰہ " اس پر شاہد ہیں اور رحم کے اختصاص مذکور اور تعلق کی طرف مشیر ہیں تو اب نتیجہ یہ نکلا کہ معدن وجود اور منشائے وجود کے اتحاد کے باعث تو تمام بنی آدم میں رعایت حقوق اور حسن سلوک ضروری ہے۔ اس کے بعد اگر کسی موقع میں کسی خصوصیت کی وجہ سے اتحاد میں زیادتی ہوجائے گی جیسے اقارب میں یا کسی موقع میں شدت احتیاج پائی جائے گی، جیسے یتامیٰ اور مساکین وغیرہ تو وہاں رعایت حقوق میں بھی ترقی ہوجائے گی، ان کے علاوہ جب حکم خداوندی بھی صاف آگیا کہ ارحام کے حقوق کی رعایت اور حفاظت رکھو تو اب تو اس کی تاکید انتہا کو پہنچ گئی۔ چناچہ اس سورت میں اکثر احکام اسی تعلق عام اور دیگر تعلقات خاصہ کے متعلق مذکور ہیں۔ گویا وہ احکام اس امر کلی کی جو کہ یہاں مذکور ہوا تفصیل ہیں۔2 یعنی تمہارے تمام احوال و اعمال سے واقف ہے اس کے حکم کی متابعت کرو گے تو ثواب پاؤ گے ورنہ مستحق عذاب ہوگے اور تمہارے تعلقات ارحام اور ان کے مراتب اور ہر ایک کے مناسب اس کے حقوق کو بھی خوب جانتا ہے اس لئے اس کے متعلق جو تم کو حکم دے اس کو حق سمجھو اور اس پر عمل کرو۔
Ayah 4:23 یعنی یتیم بچے جن کا کہ باپ مرگیا ہو ان کے متعلق ان کے ولی اور سرپرست کو یہ حکم ہے کہ جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کا مال ان کے سپرد کردے اور زمانہ تولیت میں یتیموں کی کسی اچھی چیز کو لیکر اس کے معاوضہ میں۔ بری اور گھٹیا چیز ان کے مال میں شامل نہ کردے اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاوے، مثلاً ولی کو اجازت ہے کہ اپنا اور یتیم کا کھانا مشترک اور شامل رکھے مگر یہ ضرور ہے کہ یتیم کا نقصان نہ ہونے پائے یہ نہ ہو کہ اس شرکت کے بہانے سے یتیم کا مال کھا جاوے اور اپنا نفع کرلے کیونکہ یتیم کا مال کھانا سخت گناہ ہے۔ احکام متعلقہ ارحام میں یتیموں کے حکم کو شاید اس لئے مقدم بیان فرمایا کہ یتیم اپنی بےسروسامانی اور مجبوری اور بیچارگی اور بےکسی کے باعث رعایت و حفاظت اور شفقت کا نہایت محتاج ہے اور اسی اہتمام کی وجہ سے تبدیل اور شرکت کے نقصان کی بھی کھول کر ممانعت فرمادی اور آئندہ متعدد آیات میں بھی یتیموں کے متعلق چند احکام ارشاد ہوئے جن سے اہتمام مذکور ظاہر و باہر معلوم ہوتا ہے اور یہ تمام احکام اور تاکیدات جملہ یتیموں کے حق میں ہیں۔ البتہ وہ یتیم جو قرابت دار ہیں ان کے بارے میں تاکید میں زیادہ شدت ہوگی اور وہی شان نزول اور سبب ربط بین الآیات ہیں اور عادت و عرف کے بھی موافق ہیں کیونکہ یتیم بچہ کا ولی اکثر اس کا کوئی قریب ہی ہوتا ہے۔
Ayah 4:34 احادیث صحیحہ میں منقول ہے کہ یتیم لڑکیاں جو اپنے ولی کی تربیت میں ہوتی تھیں اور وہ لڑکی اس ولی کے مال اور باغ میں بوجہ قرابت باہمی شریک ہوتی تو اب دو صورتیں پیش آتیں کبھی تو یہ ہوتا کہ ولی کو گو اس کا جمال اور مال دونوں مرغوب ہوتے تو وہ ولی اس سے تھوڑے سے مہر پر نکاح کرلیتا کیونکہ دوسرا شخص اس لڑکی کا حق مانگنے والا تو کوئی ہے ہی نہیں اور کبھی یہ ہوتا کہ یتیم لڑکی کی صورت تو مرغوب نہ ہوتی مگر ولی یہ خیال کرتا کہ دوسرے سے نکاح کردوں گا تو لڑکی کا مال میرے قبضہ سے نکل جائے گا اور میرے مال میں دوسرا شریک ہوجائے گا۔ اس مصلحت سے نکاح تو جوں توں کرلیتا مگر منکوحہ سے کچھ رغبت نہ رکھتا۔ اس پر یہ آیت اتری اور اولیاء کو ارشاد ہوا کہ اگر تم کو اس بات کا ڈر ہے کہ تم یتیم لڑکیوں کی بابت انصاف نہ کرسکو گے اور ان کے مہر اور ان کے ساتھ حسن معاشرت میں تم سے کوتاہی ہوگی تو تم ان سے نکاح مت کرو بلکہ اور عورتیں جو تم کو مرغوب ہوں ان سے ایک چھوڑ چار تک کی تم کو اجازت ہے، قاعدہ شریعت کے موافق ان سے نکاح کرلو تاکہ یتیم لڑکیوں کو بھی نقصان نہ پہنچے کیونکہ تم ان کے حقوق کے حامی رہوگے اور تم بھی کسی خرابی اور گناہ میں نہ پڑو۔ جاننا چاہئیے کہ مسلمان آزاد کے لئے زیادہ سے زیادہ چار نکاح تک اور غلام کے لئے دو تک کی اجازت ہے، اور حدیثوں میں بھی اس کی تصریح ہے اور آئمہء دین کا بھی اسی پر اجماع ہے اور تمام امت کے لئے یہی حکم ہے صرف رسول اللہ کی خصوصیت اور آپ ﷺ کا امتیاز ہے کہ اس سے زائد کی اجازت ہے۔
فائدہ : یتیم لڑکیوں کے نکاح کی تیسری صورت، یہ بھی ہے حدیث میں ہے کہ جس یتیم لڑکی کی طرف صورت اور مال دونوں وجہ سے بےرغبتی ہوتی تھی اس کا نکاح ولی دوسری جگہ کردیتا تھا۔ مگر ظاہر ہے کہ اس آیت کو اس صورت سے تعلق نہیں۔
5 یعنی اگر تم کو اس کا ڈر ہو کہ کئی عورتوں میں انصاف اور مساوات کے مطابق معاملہ نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی نکاح پر قناعت کرو یا صرف لونڈیوں پر ایک ہو یا زیادہ بس کرو یا ایک منکوحہ کے ساتھ ایک یا چند لونڈیوں کو جمع کرلو۔
6 یعنی صرف ایک عورت سے نکاح کرنے میں یا فقط اپنی لونڈی یا اپنی لونڈیوں پر قناعت کرنے میں یا ایک نکاح کے ساتھ ایک لونڈی یا چند لونڈیوں کو جمع کرنے میں اس بات کی توقع ہے کہ تم بےانصافی اور خلاف عدل سے محفوظ رہو کیونکہ زوجات کے جو حقوق ہیں وہ اپنی مملوکہ لونڈی کے نہیں کہ ان میں عدل نہ ہونے سے تم پر مواخذہ ہو نہ ان کے لئے مہر ہے نہ معاشرت کے لئے کوئی حد مقرر ہے۔
فائدہ : جس کے کئی عورتیں ہوں تو اس پر واجب ہے کہ کھانے پینے اور لینے دینے میں انکو برابر رکھے اور رات کو ان کے پاس رہنے میں باری برابر باندھے اگر برابری نہ کرے گا تو قیامت کو وہ مفلوج ہوگا۔ ایک کروٹ گھسٹتی چلے گی اور کسی کے نکاح میں ایک حرہ اور ایک لونڈی ہو تو لونڈی کو حرہ سے نصف باری ملے گی اور جو لونڈی اپنی ملک میں ہو اس کا باری میں کوئی حق مقرر نہیں مالک کی خوشی پر ہے۔
Ayah 4:47 یعنی جن عورتوں سے نکاح کرو ان کے مہر خوش دلی اور رغبت کے ساتھ خود ادا کردو ان کا کوئی حامی اور تم سے تقاضا کر کے وصول کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ ایسا کرو تو پھر یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج ہی نہیں، حرج تو جب ہے کہ مہر دینے میں یا ان کے کسی حق کے ادا کرنے میں گرانی ہو۔
8 یعنی اگر عورت اپنی خوشی سے مہر میں سے کوئی مقدار زوج کو معاف کردے یا لے کر پھر زوج کو ہبہ کر دے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔ زوج اس خوشی سے کھالے جو کھانا لذیذ ہو اور طبیعت اس کو رغبت کے ساتھ قبول کرلے اس کو ہنیء کہتے ہیں اور جو کھانا ہضم ہو کر بخوبی جزو بدن اور موجب صحت قوت ہو وہ مری ہے۔
Ayah 4:59 یعنی بےسمجھ لڑکوں کے ہاتھ میں ان کا وہ مال مت دے دو کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے آدمیوں کے لئے سامان معیشت بنایا ہے، بلکہ اس کی پوری حفاظت رکھو اور اندیشہ ہلاکت سے بچاؤ اور جب تک ان کو نفع نقصان کا ہوش نہ آئے، اس وقت تک ان کو اس میں سے کھلاؤ پہناؤ اور تسلی کرتے رہو کہ یہ سب مال تمہارا ہی ہے، ہم تو تمہاری خیر خواہی کرتے ہیں۔ جب سمجھدار ہوجاؤ گے تم کو ہی دے دیں گے۔
Ayah 4:610 یعنی یتیموں کو سدھاتے اور آزماتے رہو، بلوغ کے وقت تک۔ پھر بلوغ کے بعد اگر ان میں اپنے نفع نقصان کی سمجھ اور حفاظت و انتظام مال کا سلیقہ پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کردو۔ یتیموں کے سدھانے اور آزمانے کی عمدہ صورت یہی ہے کہ کم قیمت معمولی چیزوں کی ان سے خریدو فروخت کرائی جائے اور ان کا طریقہ ان کو بتایا جائے، اس سے معلوم ہوا کہ نابالغ کی بیع و شرا ولی کی اجازت سے جو ہوگی وہ درست ہوگی، امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے۔ اور اگر بالغ ہو کر بھی اس میں ہشیاری نہ آئے تو امام ابوحنیفہ کا یہ مذہب ہے کہ پچیس برس کی عمر تک انتظار کرو۔ اس درمیان میں جب اس کو سمجھ آجائے مال اس کے حوالے کردو، ورنہ پچیس سال پر ہر حال میں اس کا مال اس کو دیدو۔ پوری سمجھ آئے یا نہ آئے۔
1 یعنی یتیم کے مال کو ضرورت سے زیادہ صرف کرنا منع ہے، مثلاً ایک پیسہ کی جگہ دو پیسے صرف کردو اور یہ بھی منع ہے کہ اس بات سے گھبرا کر کہ یتیم بڑے ہو کر اپنا مال ہم سے لے لیں گے خرچ کرنے میں جلدی کرنے لگو، خلاصہ یہ ہوا کہ یتیم کے مال کو بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت صرف کرنا چاہیئے۔
2 یعنی یتیم کا مال ولی اپنے خرچ میں نہ لائے اور اگر یتیم کی پرورش کرنے والا محتاج ہو تو البتہ اپنی خدمت کرنے کے موافق یتیم کے مال میں سے تحقیق لے لیوے مگر غنی کو کچھ لینا ہرگز جائز نہیں۔3 جب کسی بچہ کا باپ مرجائے تو چاہئیے کہ چند مسلمانوں کے روبرو یتیم کا مال لکھ کر امانتدار کو سونپ دیں، جب یتیم بالغ ہوشیار ہوجائے تو اس تحریر کے موافق اس کا مال اس کے حوالہ کردیں اور جو کچھ خرچ ہوا ہو وہ اس کو سمجھا دیں، اور جو کچھ یتیم کے حوالے کیا جائے شاہدوں کو دکھلا کر حوالہ کریں۔ شاید کسی وقت اختلاف ہو تو بسہولت طے ہوسکے اور اللہ تعالیٰ ہر ہر چیز کی حفاظت کرنے والا اور حساب سمجھنے والا کافی ہے۔ اس کو کسی حساب یا شہادت کی حاجت نہیں یہ سب باتیں تمہاری سہولت اور صفائی کی وجہ سے مقرر فرمائیں۔ جاننا چاہئیے کہ یتیم کا مال لینے اور دینے کے وقت گواہ کرنا اور اس کو لکھ لینا مستحب ہے۔
Ayah 4:74 حضرت پیغمبر ﷺ کے زمانہ سے پہلے یہ رسم تھی کہ بیٹیوں کو چھوٹی ہوں یا بڑی میراث نہیں دیتے تھے اور بیٹے جو نابالغ ہوتے تھے ان کو بھی میراث نہیں ملتی تھی صرف مردوں کو جو بڑے اور دشمنوں سے مقاتلہ کے کام کے ہوتے تھے وہ وارث سمجھے جاتے تھے جس کی وجہ سے یتیم بچوں کو میراث سے کچھ بھی نہ ملتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت اتری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ اور دیگر قرابت والوں کے مال متروکہ میں سے مردوں یعنی بیٹوں کو خواہ وہ بچے ہوں یا جوان ان کا حصہ ملے گا اور عورتوں یعنی بیٹیوں کو بھی بالغ ہوں یا نابالغ ماں باپ وغیرہ اقارب کے ترکہ میں سے ان کا حصہ دیا جائے گا اور یہ حصے مقرر کئے ہوئے ہیں جن کا دینا ضروری ہے خواہ مال تھوڑا ہو یا بہت۔ اس سے اہل جاہلیت کی رسم مذموم کا ابطال ہوگیا اور یتیموں وغیرہ کے حقوق کی حفاظت فرما کر ان کی حق تلفی کو روک دیا۔
فائدہ : اس آیت میں حق والوں کا حق اور اس کا تقرر اور تعین بالاجمال بتلایا گیا آئندہ رکوع میں وارثوں کے حصہ کی تفصیل آتی ہے۔
Ayah 4:85 یعنی تقسیم میراث کے وقت برادری اور کنبہ کے لوگ جمع ہوں تو جو رشتہ دار ایسے ہوں جن کو میراث میں حصہ نہیں پہنچتا یا جو یتیم اور محتاج ہوں ان کو کچھ کھلا کر رخصت کرو یا کوئی چیز ترکہ میں سے حسب موقع ان کو بھی دے دو کہ یہ سلوک کرنا مستحب ہے۔ اگر مال میراث میں سے کھلانے یا کچھ دینے کا موقع نہ ہو مثلاً وہ یتیموں کا مال ہے اور میت نے وصیت بھی نہیں کی تو ان لوگوں سے معقول بات کہہ کر رخصت کردو یعنی نرمی سے عذر کردو کہ یہ مال یتیموں کا ہے اور میت نے وصیت بھی نہیں کی اس لئے ہم مجبور ہیں۔ ابتدائے سورت میں بیان ہوچکا ہے کہ تمام قرابت والے درجہ بدرجہ سلوک اور مراعات کے مستحق ہیں اور یتامی اور مساکین بھی اور جو قریب یتیم یا مسکین بھی ہو تو اس کی رعایت اور بھی زیادہ ہونی چائیے۔ اس لئے تقسیم میراث کے وقت ان کو حتی الوسع کچھ نہ کچھ دینا چائیے، اگر کسی وجہ سے وارث نہ ہو تو حسن سلوک سے محروم نہ رہیں۔
Ayah 4:96 یہ ارشاد اصل میں تو یتیم کے ولی اور وصی کے لئے ہے درجہ بدرجہ اوروں کو بھی اس کا خیال رہے مطلب یہ ہے کہ اپنے مرنے کے بعد جیسا ہر کوئی اس بات سے ڈرتا ہے کہ میری اولاد کے ساتھ سختی اور برائی سے معاملہ کیا جائے ایسا ہی تم کو بھی چاہیے کہ یتیم کے ساتھ وہ معاملہ کرو جو اپنے بعد اپنی اولاد کے ساتھ پسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو اور یتیموں سے سیدھی اور اچھی بات کہو، یعنی جس سے ان کا دل نہ ٹوٹے اور ان کا نقصان نہ ہو بلکہ ان کی اصلاح ہو۔
Ayah 4:107 آیات متعددہ سابقہ میں یتیموں کے مال کے متعلق مختلف طرح سے احتیاط کرنے کا حکم تھا اور ان کے مال میں خیانت کو بڑا گناہ بتایا گیا ہے، اب اخیر میں مال یتیم میں خیانت کرنے پر وعید شدید بیان فرما کر اس حکم کو خوب مؤکد کردیا کہ جو کوئی یتیم کا مال بلا استحقاق کھاتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ یعنی اس کھانے کا یہ انجام ہوگا اور جملہء اخیر میں اس کو ظاہر کردیا گیا۔
Ayah 4:111 اوپر اقارب میت کے وارث ہونے کا ذکر ہوا تھا اور ان کے حصوں کے تقرر اور تعین کی طرف اجمالی اشارہ فرما دیا تھا اب اقارب اور ان کے حصوں کی تفصیل بتلائی جاتی ہے اور اس سے پہلے یتیموں کے حق میں تشدد اور تاکیدات کا ذکر چلا آرہا تھا جس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اقارب میت میں اگر کوئی یتیم ہو تو اس کا حصہ دینے میں بہت ہی احتیاط اور اہتمام کرنا چاہئیے۔ اہل عرب کی قدیم رسم کے موافق ان کو میراث سے محروم کردینا سخت ظلم اور بڑا گناہ ہے اب اقارب میں سب سے پہلے اولاد کے حصہ کو بیان فرمایا کہ اگر کسی میت کی اولاد بیٹا بیٹی دونوں ہوں تو ان کی میراث دینے کا یہ قاعدہ ہے کہ ایک بیٹا دو بیٹیوں کے برابر حصہ پائے گا۔ مثلاً اگر ایک بیٹا اور دوبیٹیاں ہوں تو نصف مال بیٹے کا اور نصف دونوں بیٹیوں کا ہوگا، اور اگر ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوگی تو دو ثلث بیٹے کا اور ایک ثلث بیٹی کا ہوگا۔
2 یعنی اور اگر کسی میت نے اولاد میں صرف عورتیں یعنی بیٹیاں ہی چھوڑیں بیٹا نہیں چھوڑا تو وہ اگر دو سے زیادہ ہوں تب بھی ان کو دو تہائی ملے گا اور اگر صرف ایک ہی بیٹی چھوڑی تو اس کو میت کے ترکہ کا نصف ملے گا۔ جاننا چاہیے کہ (لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ) 4 ۔ النسآء :11) کے ذیل میں معلوم ہوچکا ہے کہ ایک بیٹی کو ایک بیٹے کے ساتھ ایک ثلث ملے گا۔ تو اس سے معلوم ہوگیا کہ ایک بیٹی کو دوسری بیٹی کے ساتھ بطریق اولیٰ ایک ثلث ملے گا کیونکہ بیٹے کا حصہ بیٹی سے زائد ہے تو جب بیٹے کی وجہ سے اس کا حصہ ایک ثلث سے کم نہیں ہوا تو دوسری بیٹی کی وجہ سے کیسے گھٹ سکتا ہے سو دو بیٹیوں کا حکم چونکہ پہلی آیت سے معلوم ہوچکا تھا اس لئے اس آیت میں دو بیٹیوں سے زائد کا حکم بتلا دیا تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ دو بیٹیوں کا حق جب ایک بیٹی سے زائد ہے تو شاید تین یا چار بیٹیوں کا حق دو بیٹوں سے زائد ہوگا سو یہ بات ہرگز نہیں بلکہ بیٹیاں جب ایک سے زائد ہونگی دو ہوں یا دس ان کو دو ثلث ملے گا۔
فائدہ : اولاد کے وارث ہونے کی دو صورتیں آیت میں مذکور ہوئیں اول یہ کہ لڑکا اور لڑکی دونوں طرح کی اولاد ہو۔ دوسری یہ کہ صرف دختری اولاد ہو اسکی دو صورتیں ہیں ایک لڑکی ہو یا ایک سے زائد تو اب صرف ایک صورت باقی رہ گئی وہ یہ کہ صرف پسری اولاد ہو سو اس کا حکم یہ ہے کہ تمام میراث اس کو مل جائے گی خواہ ایک بیٹا ہو یا زائد۔
3 اب ماں باپ کی میراث کی تین صورتیں بیان فرماتے ہیں۔ صورت اول کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر میت کی اولاد ہو بیٹا یا بیٹی تو میت کے ماں باپ کو ترکہ میت میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔
4 دوسری صورت یہ ہے کہ اگر میت کی اولاد کچھ نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو اس کی ماں کو ایک ثلث ملے گا۔ یعنی باقی دو ثلث اس کے باپ کو ملیں گے۔
5 تیسری صورت یہ ہے کہ اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی بہن ہوں خواہ حقیقی ہوں یا صرف باپ یا صرف ماں میں شریک ہوں اور اولاد کچھ بھی نہیں تو اب اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا، یعنی باقی سب اس کے باپ کو ملے گا، بھائی بہن کو کچھ نہ ملے گا۔ اور اگر صرف ایک بھائی یا ایک بہن ہوگی تو ماں کو ایک ثلث اور باپ کو دو ثلث ملیں گے جیسا کہ دوسری صورت مذکورہ بالا میں تھا۔
6 یعنی جس قدر وارثوں کے حصے گزر چکے یہ سب میت کی وصیت اور اس کے قرض کو جدا کرلینے کے بعد وارثوں کو دیے جائیں گے اور وارثوں کا مال وہی ہوگا جو مقدار وصیت و قرض کے نکال لینے کے بعد باقی رہے گا اور نصف اور ثلث وغیرہ اسی کا مراد ہے نہ تمام مال کا۔
فائدہ : میت کا مال اول اس کے کفن اور دفن کو لگایا جائے جو اس سے بچے وہ اس کے قرض میں دیا جائے پھر جو باقی رہے اس کو میت کی وصیت میں ایک تہائی تک صرف کیا جائے اس کے بعد جو رہے وارثوں پر تقسیم کیا جائے۔
7 اس آیت میں دو میراث بیان فرمائیں اولاد کی اور ماں باپ کی۔ اب فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ بات تم کو معلوم نہیں کہ کس سے تم کو نفع پہنچے گا اور کتنا نفع پہنچے گا اس لئے تم کو اس میں دخل نہ دینا چاہئیے جو کچھ کسی کا حصہ حق تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے۔ اس کی پابندی کرو کہ اس کو تمام چیزوں کی خبر بھی ہے اور بڑا حکمت والا ہے۔
Ayah 4:128 اب زوجین کی میراث کو بیان فرمایا جاتا ہے کہ مرد کو اس کی عورت کے مال میں سے آدھا مال ملے گا اگر عورت کے کچھ اولاد نہ ہو۔ اور اگر عورت کے اولاد ہے خواہ ایک ہی بیٹا یا بیٹی ہو اور اسی مرد سے ہو یا دوسرے مرد سے تو مرد کو عورت کے مال میں سے ایک چوتھائی مال ملے گا قرض اور وصیت کے بعد۔
1 اور اسی طرح عورت کو اس کے خاوند کے مال میں سے چوتھائی حصہ ملے گا اگر مرد کی اولاد کچھ نہ ہو اور اگر مرد کے اولاد ہے خواہ اسی عورت سے یا دوسری عورت سے تو عورت کو آٹھواں حصہ ملے گا خاوند کے اس مال میں سے جو وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد بچے گا مال کی ہر قسم میں سے نقد ہو یا جنس، سلاح ہو یا زیور حویلی ہو یا باغ، باقی رہا عورت کا مہر وہ میراث سے جدا ہے وہ قرض میں داخل ہے۔ یہ کل دو صورتیں ہوئیں جیسا کہ مرد کی میراث میں بھی یہی دو صورتیں تھیں۔
2 یہاں سے اخیافی بھائی بہن کے میراث کا ذکر ہے جو کہ صرف ماں میں شریک ہوں۔ سو جاننا چاہیے کہ باپ اور بیٹے کے ہوتے تو بھائی اور بہن کو کچھ نہیں پہنچتا۔ ہاں اگر باپ اور بیٹا نہ ہوگا تو بھائی اور بہن کو میراث ملے گی۔ بھائی اور بہن تین طرح کے ہیں۔ سگے جو ماں باپ دونوں میں شریک ہوں جن کو عینی کہتے ہیں، یا وہ سوتیلے جو صرف باپ میں شریک ہوں جن کو علاتی کہتے ہیں یا وہ سوتیلے جو صرف ماں میں شریک ہوں جن کو اخیافی کہتے ہیں، اس آیت میں قسم اخیر کا ذکر ہے چناچہ متعدد صحابہ کی قرات میں ولہ اخ اواخت کے بعد من الام کا کلمہ صریح موجود ہے اور اس پر سب کا اجماع ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس میت کے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، ماں باپ بیٹا بیٹی کچھ نہ ہو اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن اخیافی ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور مرد اور عورت یعنی اخیافی بھائی اور بہن کا برابر حصہ ہے کمی زیادتی نہیں۔ باقی رہے دو قسم کے بھائی بہن یعنی عینی اور علاتی سو ان دونوں قسموں کا حکم مثل اولاد کے ہے بشرطیکہ میت کے باپ بیٹا کچھ نہ ہو۔ مقدم عینی ہے وہ نہ ہو تو پھر علاتی۔ اس سورت کے اخیر میں ان ددنوں کی میراث کا ذکر آئے گا۔
فائدہ : جاننا چاہیے کہ کلالہ کی تفسیر جو یہ کی گئی کہ اس کے باپ بیٹا نہ ہو یہ سب کو مسلم ہے مگر امام ابوحنیفہ دادی اور پوتی کی بھی نفی کرتے ہیں اور جو حکم باپ بیٹے کا ہے وہی دادی اور پوتی کا فرماتے ہیں، اور حضرات صحابہ کے وقت سے یہ اختلاف علماء میں چلا آتا ہے۔
3 یعنی اگر اخیافی بھائی یا بہن ایک سے زیادہ ہوں تو ان سب کو ایک تہائی مال میراث میں ملے گا اور پہلی صورت میں سدس اور دوسری صورت میں ثلث جو دیا جائے گا تو وصیت اور دین کے بعد جو باقی رہے گا اس کا سدس اور ثلث دیا جائے گا اور وصیت میراث پر مقدم جب ہوگی جب اوروں کو نقصان نہ پہنچایا ہو اور نقصان کی دو صوتیں ہیں۔ ایک یہ کہ تہائی مال سے زیادہ کی وصیت ہو، دوسری یہ کہ جس وارث کو میراث میں سے حصہ ملے گا اس کے لئے کچھ وصیت بھی کر جائے یہ دونوں صورتیں درست نہیں۔ البتہ اگر سب وارث اس کو قبول کرلیں تو خیر ورنہ یہ وصیتیں مردود ہیں۔
فائدہ : وارثوں سے چونکہ اندیشہ تھا کہ ترکہ میت میں سے میت کا دین اور وصیت ادا نہ کریں بلکہ تمام مال آپ ہی رکھ لیں، اس لئے میراث کے ساتھ بار بار دین اور وصیت کا حکم تاکیداً بیان کیا گیا اور وصیت چونکہ تبرع اور احسان ہے اور بسا اوقات کوئی شخص معین اس کا مستحق نہیں ہوتا اور اس وجہ سے اس کے ضائع ہونے کا احتمال قوی تھا تو اس لئے بغرض اہتمام و احتیاط وصیت کو ہر جگہ دین سے پہلے ذکر فرمایا حالانکہ وصیت کا درجہ دین کے بعد ہے جیسا پہلے گزرا، نیز وصیت حق مورث ہے جیسے تجہیز و تکفین بخلاف وراثت اور دین کے کہ وہ دوسروں کا حق ہے تو اس حیثیت سے وصیت دین سے مقدم ہوگی گو دوسری وجہ سے دین وصیت پر مقدم ہے اور یہاں جو غیر مضار کی قید لگائی یہی قید مقامات سابقہ میں بھی معتبر ہوگی۔
4 شروع رکوع سے یہاں تک جو میراثیں بیان فرمائیں وہ پانچ ہیں۔ بیٹا بیٹی اور ماں باپ اور زوج اور زوجہ اور اخیافی بھائی بہن ان پانچوں کو ذوی الفروض اور حصہ دار کہتے ہیں، ان پانچوں میراث کو بیان فرما کر بطور تاکید فرما دیا کہ یہ حکم ہے اللہ کا اس کی تعمیل ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے کس نے اطاعت کی اور کس نے نافرمانی کی، کس نے میراث و وصیت و دین میں حق اور انصاف کے موافق کیا، کس نے بےانصافی کی اور ضرر پہنچایا۔ باقی ظلم و بےانصافی کی سزا میں تاخیر ہونے سے کوئی دھوکہ نہ کھائے کیونکہ حق تعالیٰ کا حلم بھی بہت کامل ہے۔
فائدہ : جاننا چاہیے کہ ذوی الفروض کے سوا کہ جن کا بیان اس رکوع میں گزرا ایک دوسری قسم کے وارث ہیں جن کو عصبہ کہتے ہیں۔ ان کے لئے کوئی حصہ مثل نصف ثلث وغیرہ کے مقرر نہیں بلکہ ذوی الفروض سے جو فاضل ہوگا وہ ان کو ملے گا مثلاً اگر کسی کے عصبہ ہو اور ذوی الفروض میں سے کوئی نہ ہو تو اس کا مال تمام عصبہ کو ملے گا اور جو دونوں ہوں تو ذوی الفروض کو دے کر جو مال بچے گا وہ عصبہ کو دیا جائے گا اور اگر کچھ نہ بچا تو عصبہ کو کچھ نہ ملے گا اور عصبہ اصل میں تو وہ ہے جو مرد ہو عورت نہ ہو اور اس میں میت میں اور عورت کا واسطہ بھی نہ ہو اور اس کے چار درجے ہیں اول درجہ میں بیٹا اور پوتا ہے دوسرے درجہ میں باپ اور دادا تیسرے درجہ میں بھائی اور بھتیجا چوتھے درجہ میں چچا اور بیٹا یا اس کا پوتا۔ اگر کئی شخص ہوں تو جو میت سے قریب ہے وہ مقدم ہوگا جیسے پوتے سے بیٹا، بھتیجے سے بھائی مقدم ہے، پھر سوتیلے سے سگا مقدم ہے اور ان چاروں کے سوا اولاد میں اور بھائیوں میں مرد کے ساتھ عورت بھی عصبہ ہوتی ہے یعنی بیٹے کے ساتھ بیٹی اور بھائی کے ساتھ بہن بھی عصبہ ہوگی یہ عصبہ اصلی نہیں بلکہ غیر اصلی ہیں اور اولاد اور بھائیوں کے سوا عورت عصبہ نہ ہوگی مثلاً چچا کا بیٹا عصبہ ہے مگر اس کے ساتھ ہو کر چچا زاد بہن عصبہ نہیں ہوسکتی۔
فائدہ : ان دونوں قسم مذکورہ بالا یعنی ذوی الفروض اور عصبہ کے سوا امام ابوحنیفہ کے نزدیک وارث کی تیسری قسم ذوی الارحام ہیں یعنی ایسے قرابت والے کہ ان میں اور میت میں عورت کا واسطہ ہو اور ذوی الفروض میں نہ ہو اور عصبہ بھی نہ ہو جیسے نواسہ اور نانا اور بھانجا اور ماموں اور خالہ اور پھوپھی اور ان کی اولاد۔ جب کسی میت کے ذوی الفروض اور عصبہ کوئی بھی نہ ہوگا تو اس کی میراث ذوی الارحام کو ملے گی تفصیل کتب فرائض میں مذکور ہے۔
Ayahs 4:13–145 یعنی تمام احکام مذکورہ سابقہ متعلق حقوق یتامی اور وصیت اور میراث اللہ کے مقرر فرمودہ ضابطے اور قاعدے ہیں۔ اور جو کوئی اطاعت کرے گا احکام الٰہی کی جن میں حکم وصیت و میراث بھی داخل ہے اس کے لئے ہمیشہ کو جنت ہے اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اور حدود خداوندی سے بالکل خارج ہوجائے گا۔ وہ ہمیشہ کو ذلت کے ساتھ عذاب جہنم میں گرفتار رہے گا۔
Ayah 4:156 یتامیٰ اور مواریث کو بیان فرما کر اب دیگر احکام متعلقہ اقارب کو بتلایا جاتا ہے۔ پہلے عورتوں کے متعلق چند باتیں ارشاد ہوتی ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کی تادیب اور سیاست ضروری امر ہے اور ان پر کسی قسم کی تعدی اور ظلم بھی نہ کیا جائے۔ اہل جاہلیت کے یہاں عورتوں کی بابت دونوں باتوں میں بہت بےاعتدالیاں ہوتی تھیں اور اس آیت میں تادیب کے متعلق حکم ہے کہ اگر کسی کی زوجہ کا مرتکب زنا ہونا معلوم ہو تو اس کے لئے چار گواہ مسلمانوں میں سے عاقل بالغ آزاد قائم ہونے چاہئیں اگر چار آدمی گواہی دیں تو اس عورت کو گھر میں مقید رکھنا چاہیے گھر سے باہر جانا اور کسی سے ملنا انتظاماً بالکل روک دیا جائے یہاں تک کہ وہ عورت مرجائے یا اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی حکم اور سزا مقرر فرمائے اس وقت تک زانیہ کے لئے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی بلکہ اس کا وعدہ کیا چناچہ کچھ عرصہ کے بعد سورة نور میں اس کی حد نازل فرما دی کہ باکرہ کے لئے سو کوڑے اور ثیبہ کے واسطے سنگسار کرنا ہے۔
Ayah 4:161 یعنی وہ شخص خواہ وہ ایک مرد اور ایک عورت ہو خواہ دونوں مرد ہوں اگر فعل بد کریں تو ان کی سزا مجملاً ایذا دینا ارشاد فرمایا۔ زبان سے ہاتھ سے بقدر مناسب ان کو تنبیہ و تادیب کرنے کا حکم ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت زنا اور لواطت دونوں کا یہی حکم تھا کہ حاکم اور قاضی کے نزدیک زجر وعبرت کے لئے جتنی سزا اور شتم و ضرب مناسب ہو، اتنی سزا دی جائے اس کے بعد حسب وعدہ حد زنا جب نازل ہوئی تو لواطت کیلئے کوئی جدا حد بیان نہ فرمائی اس میں علماء کا اختلاف رہا کہ لواطت کی بھی وہی حد ہے جو زنا کے لئے بیان ہوئی یا لواطت کی وہی سزا باقی رہی جو پہلے تھی یا اس کی سزا تلوار سے قتل کرنا یا کسی دوسرے طریقہ سے مار ڈالنا ہے۔
فائدہ : اس آیت کو بہت سے علماء نے زنا پر حمل کیا ہے اور بعض نے لواطت پر اور بعض نے دونوں کو شامل رکھا ہے۔
2 یعنی اس کے بعد اگر وہ بدکاری سے توبہ کرلیں اور آئندہ کو اپنے اعمال کی درستی کرلیں تو اب ان کے پیچھے مت پڑو اور زجرو ملامت سے ستانا چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے اور ان پر مہربانی فرمانے والا ہے تم کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔
Ayah 4:173 یعنی توبہ تو بیشک ایسی چیز ہے کہ زنا اور لواطت جیسے سنگین جرم بھی اس سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے جیسا کہ آیت سابقہ سے مفہوم ہوا لیکن اس کا بھی ضرور لحاظ رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنے فضل سے قبول توبہ کا ذمہ لے لیا ہے وہ اصل میں ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جو ناواقفیت اور نادانی سے کوئی صغیرہ یا کبیرہ گناہ کرلیتے ہیں مگر جب اپنی خرابی پر متنبہ اور مطلع ہوتے ہیں تو جب ہی نادم ہوتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں سو ایسوں کی خطائیں اللہ ضرور معاف فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کس نے نادانی سے گناہ کیا اور کس نے اخلاص سے توبہ کی، اور حکمت والا ہے جس توبہ کا قبول کرنا موافق حکمت ہوتا ہے اس کو قبول فرما لیتا ہے۔
فائدہ : قید جہالت اور قید قریب سے معلوم ہوگیا کہ جو شخص گناہ تو کرے نادانی سے اور تنبیہ کے بعد توبہ کرلے جلدی سے تو بقاعدہ عدل و حکمت اس کی توبہ مقبول ہونی ضروری ہے اور جس نے جان بوجھ کر دیدہ و دانستہ اللہ کی نافرمانی پر جرات کی یا اطلاع کے بعد اس نے توبہ میں تاخیر کی اور پہلی ہی حالت پر قائم رہا تو بقاعدہ عدل و انصاف اس کی خطا اصل میں معافی کے قابل نہیں۔ اس کا قبول کرلینا اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے کہ اپنے فضل سے اللہ تعالیٰ ان دونوں کی توبہ کو بھی قبول کرلیتا ہے۔ یہ اس کا احسان ہے مگر ذمہ داری صرف اول صورت میں ہے باقی میں نہیں۔
Ayah 4:184 یعنی اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو برابر گناہ کئے جاتے ہیں اور باز نہیں آتے یہاں تک کہ جب موت ہی نظر آگئی تو اس وقت کہنے لگا کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی توبہ قبول ہوگی جو کفر پر مرگئے اور اس کے بعد عذاب اخروی کو دیکھ کر توبہ کریں۔ ایسے لوگوں کے واسطے عذاب شدید تیار ہے۔ جاننا چاہیے کہ یہ دونوں آیتیں جو دربارہ قبول توبہ اور عدم قبول توبہ یہاں مذکور ہیں ہم نے جو ان کا مطلب بیان کیا یہ بعض اکابر محققین کی تحقیق کے موافق ہے اور اس میں یہ خوبی ہے کہ قید جہالت اور لفظ قریب دونوں اپنے ظاہری معنی پر قائم رہے اور علی اللّٰہ کے معنی بھی سہولت سے بن گئے اور اس موقع پر قبول اور عدم قبول توبہ کے ذکر فرمانے سے جو مقصد ہے یعنی توبہ کیف ما اتفق مقبول نہیں اور توبہ کی چند صورتیں ہیں اور ان کی مقبولیت میں باہم فرق ہے تاکہ کوئی توبہ کے اعتماد پر معاصی پر جری نہ ہوجائے۔ یہ مقصد بھی اس صورت میں خوب حاصل ہوجاتا ہے۔ مگر مفسرین حضرات نے علی العموم جو ان آیتوں کا مطلب ارشاد فرمایا ہے تو قید جہالت کو احترازی اور شرطی نہیں لیتے بلکہ قید واقعی فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گناہ ہمیشہ جہل اور حماقت سے ہوتا ہے اور قریب کے معنی یہ لیتے ہیں کہ حضور موت سے پہلے جس قدر وقت ہے وہ قریب ہی ہے کیونکہ دنیا کی زندگی قلیل ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کا توبہ قبول فرمانے کا وعدہ ان سے ہے کہ سفاہت اور عدم انجام بینی سے گناہ کرلیتے ہیں اور پھر موت کے آنے سے پہلے تائب ہوجاتے ہیں اور جو لوگ کہ موت کا مشاہدہ کرچکے اور نزع کی حالت کو پہنچ چکے یا جو لوگ کہ کفر پر مرچکے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی۔ اس تقریر کے موافق توبہ کرنے والوں کی وہ دو صورتیں ہیں جو تقریر اوّل میں مذکور ہوئیں شق اوّل یعنی قبول توبہ کے اندر شمار ہوں گی۔
فائدہ : جب موت کا یقین ہوچکے اور دوسرا عالم نظر آنے لگے تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں اور عالم آخرت کے دیکھنے سے پہلے کی توبہ البتہ قبول ہوتی ہے، اتنا فرق ہے کہ حسب تقریر اوّل صورت اوّل میں تو قبول توبہ قاعدہ عدل وانصاف کے موافق ہے اور دوسری صورتوں میں قبول توبہ اس کا محض فضل ہے کما مر۔
Ayah 4:195 حسب بیان سابق عورتوں کی بد افعالی کی بابت تادیب و سیاست کا حکم دے کر اب اہل جاہلیت کی اس ظلم وتعدی کو روکا جاتا ہے جو تعدی عورتوں پر وہ طرح طرح سے کیا کرتے تھے سو منجملہ ان صورتوں کے ایک صورت یہ ہوتی تھی کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی عورت کو میت کا سوتیلا بیٹا یا بھائی یا اور کوئی وارث لے لیتا پھر چاہتا تو اس سے نکاح کرلیتا یا بغیر نکاح ہی اپنے گھر میں رکھتا یا کسی دوسرے سے نکاح کر کے اس کا مہر کل یا بعض لے لیتا یا ساری عمر اس کو اپنی قید میں رکھتا اور اس کے مال کا وارث ہوتا۔ اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی مرجائے تو اس کی عورت اپنے نکاح کی مختار ہے میت کے بھائی اور اس کے کسی وارث کو یہ اختیار نہیں کہ زبردستی اپنے نکاح میں لے لے، نہ وہ عورت کو نکاح سے روک سکتے ہیں کہ وہ مجبور ہو کر خاوند کے ورثہ سے جو اس کو ملا تھا کچھ پھیر دے۔ ہاں اگر صریح بد چلنی کریں تو ان کو روکنا چاہئے۔
6 یعنی عورتوں کے ساتھ گفتگو اور معاملات میں اخلاق اور سلوک سے معاملہ رکھو۔ جاہلیت میں جیسا ذلت اور سختی کا برتاؤ عورتوں کے ساتھ کیا جاتا تھا اس کو چھوڑ دو ۔ پھر اگر تم کو کسی عورت کی کوئی خو اور عادت خوش نہ آئے تو صبر کرو شاید اس میں کوئی خوبی بھی ہو اور ممکن ہے کہ تم کو ناپسندیدہ ہو کوئی چیز اور اللہ تعالیٰ اس میں تمہارے لئے کوئی بڑی منفعت دینی یا دنیاوی رکھ دے سو تم کو تحمل کرنا چاہیے اور بدخو کے ساتھ بدخوئی نہ چاہئے۔
Ayah 4:201 اسلام سے پہلے یہ بھی ہوتا تھا کہ جب کوئی چاہتا کہ پہلی عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نکاح کرے تو پہلی عورت پر تہمت لگاتا اور مختلف طرح سے اس پر زیادتی اور سختی کرتا کہ مجبور ہو کر مہر واپس کر دے اور نکاح جدید میں کام آئے۔ یہ آیت اس کی ممانعت میں نازل ہوئی کہ جب پہلی عورت کو چھوڑ کر دوسری کرو اور پہلی عورت کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اب اس میں سے کچھ بھی واپس مت لو، کیا تم بہتان باندھ کر اور صریح ظلم کر کے زوجہ اولیٰ سے وہ مال لینا چاہتے ہو یہ ہرگز جائز نہیں۔
Ayah 4:212 یعنی جب مرد اور عورت نکاح کے بعد مل چکے اور صحبت کی نوبت آچکی تو اس کے معاوضہ میں تمام مہر دینا مرد پر واجب ہوچکا تو اب کس وجہ سے اس مہر کو واپس لے سکتا ہے اور در صورت مہر ادانہ کرنے کے کیسے اس کے مہر کو دبا سکتا ہے اب تو بجز اس کے کہ عورت ہی اپنی خوشی سے معاف کر بیٹھے کوئی صورت رستگاری کی نہیں ہوسکتی اور وہ عورتیں تو بہت مضبوط اور گاڑھا اقرار تم سے لے چکیں جس کی وجہ سے وہ تمہارے قبضہ اور تصرف میں آچکیں اور تم ان سے پورے منتفع ہوچکے نہیں تو تم کو ان پر تصرف کا کیا اختیار تھا۔ اب اس قدر تکمیل اور قبضہء کامل اور تصرف تام کے بعد عورتوں کے مہر کو واپس لینا یا ان کا مہر نہ دینا کیسے ہوسکتا ہے۔
فائدہ : جاننا چاہیے کہ جیسا مجامعت کے بعد تمام مہر زوج کے ذمہ لازم ہوجاتا ہے، ایسا ہی اگر مجامعت کی تو نوبت نہ آئے مگر خلوت صحیحہ ہوگئی تو بھی پورا مہر واجب الادا ہوگا، ہاں اگر خلوت صحیحہ کی بھی نوبت نہ آئی اور زوج نے طلاق دے دی تو پھر نصف مہر ادا کرنا ہوگا۔
Ayah 4:223 جاہلیت والے اپنی سوتیلی، ماں اور بعض دیگر محرمات سے بھی نکاح کرلیتے تھے جس کا تذکرہ ابھی گزرا، اس کی ممانعت کی جاتی ہے کہ جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح مت کرو یہ بےحیائی اور اللہ کے غضب اور نفرت کرنے کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی سمجھ دار لوگ اس کو مذموم سمجھتے تھے اور اس نکاح کو نکاح مقت اور اس نکاح سے جو اولاد ہوتی اس کو مقتی کہتے تھے۔ سو ایسے نکاح جو ہوچکے ہوچکے آئندہ کو ہرگز ایسا نہ ہو۔
فائدہ : باپ کی منکوحہ کا جو حکم ہے اسی حکم میں دادے اور نانے کی منکوحہ بھی داخل ہے کتنا ہی اوپر کا دادا اور نانا کیوں نہ ہو۔
Ayah 4:234 سوتیلی ماں کی حرمت بیان فرما کر اب جن عورتوں سے نکاح جائز نہیں ان سب کو بیان فرماتے ہیں وہ عورتیں چند قسم ہیں۔ اوّل انکو بیان کیا جاتا ہے جو علاقہ نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور وہ سات ہیں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی ان میں سے کسی کے ساتھ کسی کو نکاح کرنا جائز نہیں۔
فائدہ : ماں کے حکم میں دادی، نانی، اوپر تک کی سب داخل ہیں ایسے ہی بیٹی میں پوتی اور نواسی نیچے تک کی سب داخل ہیں اور بہن میں عینی اور علاتی اور اخیافی سب داخل ہیں اور پھوپھی میں باپ دادا اور اوپر تک کی پشتوں کی بہن سگی ہو یا سوتیلی سب آگئیں اور خالہ میں ماں اور نانی اور نانی کی نانی سب کی بہن تینوں قسم کی داخل ہیں اور بھتیجی میں تینوں قسم کے بھائیوں کی اولاد اور اولادالاولاد سب داخل ہیں اور بھانجی میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد اور اولادالاولاد داخل ہیں۔
5 محرمات نسبی کے بعد اب محرمات رضاعی کو بیان کیا جاتا ہے اور وہ دو ہیں، ماں اور بہن اور اس میں اشارہ ہے کہ ساتوں رشتے جو نسب میں بیان ہوئے، رضاعت میں بھی حرام ہیں، یعنی رضاعی بیٹی اور پھوپھی اور خالہ اور بھتیجی اور بھانجی بھی حرام ہیں، چناچہ حدیثوں میں یہ حکم موجود ہے۔
6 اب محرمات مصاہرت کا ذکر ہے یعنی علاقہ نکاح کی وجہ سے جن سے نکاح حرام ہوتا ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں اول وہ کہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح ناجائز ہے اور وہ زوجہ کی ماں اور اس زوجہ کی بیٹی ہے جس زوجہ سے کہ تم نے صحبت کی ہو لیکن اگر صحبت سے پہلے کسی عورت کو طلاق دے دو تو اس کی بیٹی سے نکاح ہوسکتا ہے اور تمہارے بیٹوں کی عورتیں ہیں اور اس میں نیچے تک کے پوتوں اور نواسوں کی عورتیں داخل ہیں کہ ان سے کبھی تمہارا نکاح درست نہیں ہوسکتا۔ دوسری قسم وہ ہے کہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح کی ممانعت نہ ہو بلکہ جب تک کوئی عورت تمہارے نکاح میں رہے اس وقت تک اس عورت کی ان قرابت والی عورتوں سے نکاح کی ممانعت رہی جب اس عورت کو طلاق دے دی یا وہ مرگئی تو ان سے نکاح درست ہوجائے گا اور وہ زوجہ کی بہن ہے کہ زوجہ کی موجودگی میں تو اس سے نکاح نہیں ہوسکتا اور بعد میں درست ہے اور یہی حکم ہے زوجہ کی پھوپھی اور خالہ اور بھتیجی اور بھانجی کا۔
فائدہ : یہ جو فرمایا کہ عورتیں تمہارے بیٹوں کی جو کہ تمہاری پشت سے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے بیٹے یا پوتے نسبی ہوں منہ بولے یعنی لے پالک نہ ہوں جس کو متبنّٰی کہتے ہیں رضاعی سے احتراز نہیں اور اِلَّامَاقَدْسَلَفَ کا یہ مطلب ہے، کہ زمانہ جاہلیت میں اس حکم سے پہلے جو دو بہنوں کو جمع کرلیتے تھے وہ معاف ہے اور فِیْ حُجُورِکُمْ فرمانے سے یہ مطلب ہے، کہ جن کو تم اپنی گود میں پالتے ہو اور ان کی پرورش کرتے ہو یعنی اولاد جیسا ان سے معاملہ کرتے ہو اور گویا اولاد ہی سمجھتے ہو اس سے ان کے نکاح کی حرمت اور ظاہر ہوگئی یہ مطلب نہیں کہ ان کی حرمت کے لئے گود میں رکھنا ضروری ہے۔
Ayah 4:241 محرمات کو ذکر فرما کر اخیر میں اب ان عورتوں کی حرمت بیان فرمائی جو کسی کے نکاح میں ہوں یعنی جو عورت کسی کے نکاح میں ہے اس کا نکاح اور کسی سے نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ وہ بذریعہ طلاق یا وفات زوج نکاح سے جدا نہ ہوجائے اور عدت طلاق یا عدت وفات پوری نہ کرلے اس وقت تک کوئی اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر کوئی عورت خاوند والی تمہاری ملک میں آجاوے تو وہ اس حکم حرمت سے مستشنٰی ہے اور وہ تم پر حلال ہے گو اس کا خاوند زندہ ہے اور اس نے طلاق بھی اس کو نہیں دی اور اس کی صورت یہ ہے کافر مرد اور کافر عورت میں باہم نکاح ہو اور مسلمان دار الحرب پر چڑھائی کر کے اس عورت کو قید کر کے دارالاسلام میں لے آئیں تو وہ عورت جس مسلمان کو ملے گی اس کو حلال ہے گو اس کا زوج دارالحرب میں زندہ موجود ہے اور اس نے طلاق بھی نہیں دی۔ اب سب محرمات کو بیان فرما کر اخیر میں تاکید فرمادی کہ یہ اللہ کا حکم ہے اس کی پابندی تم پر لازم ہے۔
فائدہ : جو عورت کافرہ دارالحرب سے پکڑی ہوئی آئے اس کے حلال ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک حیض گزر جائے اور وہ عورت مشرک بت پرست نہ ہو بلکہ اہل کتاب میں سے ہو۔2 یعنی جن عورتوں کی حرمت بیان ہوچکی ان کے سوا سب حلال ہیں۔ چار شرطوں کے ساتھ اول یہ کہ طلب کرو یعنی زبان سے ایجاب و قبول دونوں طرف سے ہوجائے۔ دوسری یہ کہ مال یعنی مہر دینا قبول کرو۔ تیسری یہ کہ ان عورتوں کو قید میں لانا اور اپنے قبضہ میں رکھنا مقصود ہو صرف مستی نکالنا اور شہوت رانی مقصود نہ ہو جیسا کہ زنا میں ہوتا ہے یعنی ہمیشہ کے لئے وہ اس کی زوجہ ہوجائے چھوڑے بغیر کبھی نہ چھوٹے۔ مطلب یہ کہ کوئی مدت مقرر نہ ہو اس سے متعہ کا حرام ہونا معلوم ہوگیا جس پر اہل حق کا اجماع ہے۔ چوتھی شرط جو دوسری آیتوں میں مذکور ہے یہ ہے کہ مخفی طور پر دوستی نہ ہو یعنی کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اس معاملہ کی گواہ ہوں اگر بدون دو گواہوں کے ایجاب و قبول ہوگا تو وہ نکاح درست نہ ہوگا زنا سمجھا جائے گا۔
3 یعنی جس عورت سے نکاح کیا اور اس کے بعد زوج نے اس سے کسی مدت معین قلیل یا طویل تک نفع بھی حاصل کرلیا کم سے کم یہ کہ ایک ہی دفعہ وطی یا خلوت صحیحہ کی نوبت آئی تو اب اس عورت کا پورا مہر دینا لازم ہے بدون عورت کے بخشے کسی طرح چھوٹ نہیں سکتا۔ البتہ جب تک عورت بالکل کام میں نہ آوے اور زوج طلاق دے دے تو مہر مقررہ کا آدھا دینا ہوگا اور اگر عورت نے انتفاع سے پہلے کوئی ایسی بات کی کہ نکاح ٹوٹ گیا تو زوج کے ذمہ سے سب مہر اتر جائے گا کچھ دینا نہ پڑے گا۔
4 یعنی اگر زوجین مہر مقرر کرلینے کے بعد کسی بات پر راضی ہوجائیں مثلاً عورت اپنی خوشی سے مہر میں سے کچھ کم کر دے یا مرد اپنی رضا سے مہر مقررہ سے کچھ زیادہ دے تو وہ مختار ہیں۔ اس میں کچھ گناہ نہیں۔ یہ نہیں کہ مہر مقررہ سے زوج کچھ کم دے یا عورت اس سے کچھ زیادہ لے تو ناجائز ہے۔ ہاں رضائے باہمی ضرور ہونی چاہئے، اخیر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں اور ہر طرح کے نفع و نقصان کو خوب جانتا ہے اور جو حکم فرماتا ہے وہ سراسر حکمت آمیز ہوتا ہے اس کی متابعت میں تمہارے لئے دارین کی خوبی اور بہبودی ہے اور مخالفت میں سراسر نقصان اور خرابی ہے۔
Ayah 4:255 یعنی جس کو اس بات کا مقدور نہ ہو کہ آزاد عورت سے نکاح کرسکے اور اس کے مہر اور نفقہ کا تحمل کرسکے تو بہتر ہے کہ ایسا شخص آپس میں کسی کی مسلمان لونڈی سے نکاح کرلے کہ اس کا مہر کم ہوتا ہے اور نفقہ میں بھی یہ سہولت ہے کہ اگر مالک نے اس کو اپنے یہاں رکھا جیسا کہ اکثر ہوتا ہے تو زوج اس کے نفقہ سے فارغ البال رہے گا اور اگر زوج کے حوالہ کردیا تو بھی بہ نسبت نفقہ حرہ تخفیف ضرور رہے گی۔ فائدہ : جس کو آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت ہو اس کو لونڈی سے نکاح کرنا امام شافعی وغیرہ کے نزدیک حرام ہے اور امام ابوحنیفہ کے مذہب میں مکروہ تنز یہی ہے ایسے ہی صحت نکاح کے لئے لونڈی کا مسلمان ہونا اکثر علماء کے نزدیک ضروری ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک افضل ہے۔ اگر کتابیہ لونڈی سے نکاح کرلے گا تو وہ بھی امام صاحب کے نزدیک جائز ہوگا۔ ہاں اگر کسی کے نکاح میں آزاد عورت ہو تو اس کو لونڈی سے نکاح کرنا سب کے نزدیک حرام ہے۔
6 یعنی اللہ تعالیٰ کو تم سب کے ایمان کی اصلی کیفیت معلوم ہے تم کو تو ظاہر پر اکتفا کرنا چاہیے یعنی لونڈی کا ایمان اللہ کے نزدیک بعضی آزاد عورت کے ایمان سے بہتر اور افضل ہوسکتا ہے تو اب حیثیت ایمانی سے لونڈی کے ساتھ نکاح کرلینے میں قباحت اور انکار نہ ہونا چاہیے اور آپس میں تم سب ایک ہو۔ ایک اصل سے پیدا ہوئے ہو، ایک دین میں شریک ہو، پھر لونڈیوں سے نکاح کرنے کو کیوں معیوب اور ننگ و عار سمجھتے ہو اس کلام سے لونڈیوں کے نکاح کی طرف توجہ دلانا اور ان سے نفرت کو دور کرنا مطلوب ہے۔
7 یعنی تو اب مناسب ہے کہ حسب بیان بالا ان لونڈیوں سے نکاح کرلیا کرو ان کے مالکوں سے اجازت لیکر اور قاعدہ اور دستور کے موافق ان کا مہر دے دیا کرو جب کہ وہ خوشی سے قید نکاح میں آئیں۔ مستی نکالنے والیاں اور چھپی اور مخفی یاری کرنے والیاں ہرگز نہ ہوں یعنی زنا نہ ہو کہ اس میں مہر ہرگز لازم نہ ہو سکے گا اس سے معلوم ہوگیا کہ زنا میں مہر لازم نہیں ہوتا اور نکاح کے لئے گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔
8 یعنی جو آزاد مرد یا عورت نکاح سے فائدہ اٹھا چکے یعنی مجامعت کی نوبت آچکی ہو اور پھر وہ زنا کرے تو وہ سگنسار کیا جائے گا اور اگر نکاح نہیں ہوا بلکہ نکاح سے پہلے ہی زنا کیا تو اس کے لئے سو کوڑوں کا حکم ہے اور لونڈی اور غلام کے لئے قبل نکاح اور بعد نکاح ہر حالت میں صرف پچاس کوڑے ہیں زیادہ نہیں۔
1 یعنی لونڈیوں سے نکاح کرنے کا ارشاد اور استحسان اسی کے حق میں ہے جو کوئی شخص تم میں ڈرتا ہو مشقت یعنی زنا میں مبتلا ہونے سے اور اگر تم صبر کرو اور باندیوں سے نکاح نہ کرو تو بہت اچھا ہے تمہارے حق میں کیونکہ اولاد آزاد ہوگی۔ ہاں جس کو صبر و تحمل میں کھٹکا ہو تو اس کو بہتر ہے کہ ایسی حالت میں کسی کی لونڈی سے نکاح کرلے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے صبر کرنے والوں پر۔
Ayah 4:262 یعنی اللہ تعالیٰ کو ان احکام کے ارشاد سے مطلوب یہی ہے کہ تم کو حلال اور حرام کا حال معلوم ہوجائے اور تم کو پہلے انبیاء کا راستہ نصیب ہو جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وغیرہ اور مغفرت کرے تمہاری اور اللہ کو تمہارے مصالح اور تمام حالات کا پورا علم ہے اور اس کے ہر حکم اور ہر تدبیر میں حکمت ہے تو اب اگر اس کے حکم کی اطاعت نہ کرو گے تو ہدایت سے بھی محروم اور پہلوں کے بھی مخالف اور اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم رہو گے۔
فائدہ : پہلے سے زنا اور لواطت کی حرمت اور ان سے توبہ کرنا اور عورتوں کے متعلق بعضے احکام اور جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کا ذکر اور نکاح کے متعلق مہر وغیرہ قیود و شرائط کا تذکرہ اور بدکاری سے ممانعت اور اس پر سزا کا ذکر تھا اور بچند وجوہ لوگوں کو ان حکموں کی اطاعت دشوار تھی اس لئے اس آیت میں اور آئندہ کی دو آیتوں میں ان احکام کی پابندی کو خوب مؤکد اور مستحکم کر کے مخالفت سے روک دیا واللہ اعلم۔
Ayah 4:273 یعنی یہ مختلف قیدیں جو پہلے گزریں اس سے مطلوب تم پر رحمت فرمانا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان قیدوں کی نسبت حکم فرمایا اور جو لوگ اپنی شہوتوں پر فریفتہ ہیں وہ البتہ یہی چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستہ سے دور جا پڑو یعنی انہی کی طرح تم بھی اپنی شہوات کا اتباع کرو اور گمراہ ہوجاؤ تو اب جو کچھ کرو سمجھ کر کرو۔