4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اوّل) اس نے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت (پیدا کر کے روئے زمین پر) پھیلا دیئے اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت براری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔

(1) اس مقام پر حکم عام ہے اور کبھی خاص بھی ہوتا ہے، اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں صرف نفس آدم ؑ سے توالد وتناسل کے ذریعہ پیدا کیا اور حضرت حوا کو بھی ان سے پیدا کیا پھر ان دونوں سے بذریعہ توالد بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں پیدا کیں۔ اسی کی اطاعت کرو جس کا نام لے کر ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا کرتے ہو، اور حقوق قرابت کے ضائع کرنے سے بھی ڈرو، اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت وفرمانبرداری کرو اور جن باتوں کا تمہیں کو حکم دیا گیا جیسا کہ اطاعت خداوندی اور صلہ رحمی وغیرہ ان سب کے متعلق تم سے پوچھ گچھ ہوگی۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔

(2) نیز یتیموں کے جو اموال تمہارے پاس ہیں ان کے عاقل وبالغ ہونے کے بعد وہ ان کو دے دو اور اپنے مال بچا کر ان کے مالوں کو مت کھاؤ اور نہ اپنے مالوں کے ساتھ ملاکرکھاؤ۔ بلاجواز یتیم کا مال کھانا اللہ تعالیٰ کے یہاں سزا کے اعتبار سے بہت بڑا جرم ہے۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے

(3) یہ آیت ایک غطفانی شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کے پاس اپنے یتیم بھیتجے کا بہت مال تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو گناہ کے ڈر کی وجہ سے صحابہ کرام ؓ بولے ہم یتیموں کو اپنے معاملات ومعاشرت سے علیحدہ کردیتے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت نازل فرمائی، یعنی جیسا کہ اموال یتیم کی حفاظت اور اس میں انصاف نہ کرنے سے ڈرتے ہو، اسی طرح تم عورتوں کے درمیان خرچ اور ان کے حقوق میں پوری طرح انصاف نہ کرسکوگے اور لوگ اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے تک جتنی مرضی ہوتی تھی شادیاں کرلیتے تھے، حتی کہ نو اور دس تک بھی یہ تعداد پہنچ جاتی تھی چناچہ قیس بن حارث کے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت فرما دی اور چار سے زیادہ شادیاں کرنے کو قطعی طور پر حرام کردیا۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس قدر شادیاں کرنا تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں، اس قدر نکاح کرو خواہ ایک نکاح کرو یا دو یا تین یا آخری حد چار شادیاں کرلو، اس سے زیادہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں اور اگر چار عورتوں کے درمیان نفقہ (خرچہ) اور تقسیم میں عدل و انصاف نہیں کرسکتے تو پھر ایک آزاد عورت سے شادی کرو اور اگر ایک کے بھی حقوق ادا نہ کرسکو، تو جو حسب قاعدہ شرعیہ باندی تمہاری ملکیت میں ہے ، (یادر رہے کہ نزول قرآن کے وقت پوری دنیا میں غلامی کا چلن تھا، اسلام نے اس برائی کو معاشرے سے بتدریج ختم کیا، غلاموں وباندیوں کو حقوق دیے انہیں آزاد کرنے کی تلقین کی اور متعدد گناہوں یا لغزشوں کا عوض غلاموں وباندیوں کو آزاد کرنا قرار دیا، آج چونکہ یہ قبیح رواج ختم ہوچکا ہے جو عین منشائے اسلام ہے اور دنیا کی تمام اقوام نے 1948 ء ؁ میں غلامی کی تنسیخ کردی، اب کسی فرد کو کوئی غلام، باندی رکھنے کا حق نہیں ہے، اور نہی ان آیات سے غلامی کے استمرار و دوام کا ثبوت میسر آسکتا ہے، اب افراد کی محنت کو خریدا جاسکتا ہے کسی کو غلام، باندی نہیں بنایا جاسکتا، اور نہ ہی کوئی اپنے کو غلام یا باندی قرار دے سکتا ہے۔) (مترجم) وہ ہی کافی ہے کیوں کہ اس میں نہ تقسیم ہے اور نہ عدت اس پر واجب ہے۔
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق و شوق سے کھالو۔

(4) ایک عورت سے شادی کرنے میں زیادتی اور بےانصافی نہ ہونے کی زیادہ امید ہے اور تم عورتوں کو مہر دے دیا کرو یہ منجانب اللہ ان کے لیے تحفہ اور تم پر فرض ہے۔ اور اگر وہ عورتیں خوش دلی سے تم کو مہر میں سے کچھ چھوڑ دیں تو بغیر کسی گناہ اور ملامت کے اسے استعمال کرو۔
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لیے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے معقول باتیں کہتے رہو۔

(5) اور تم ان کم عقل یتیم عورتوں اور لڑکوں کو وہ مال جو تمہارے لیے مایہ زندگی ہے، مت دو باقی اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو اور تم ہی اس چیز کے نگران ومحافظ رہو کیوں کہ تم صحیح مصارف کو زیادہ جانتے ہو اور ان کی تسلی کے لیے معقول بات کہتے رہو کہ ابھی دوں گا وغیرہ۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو۔ پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو۔ اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا جو شخص آسودہ حال ہو اس کو ایسے مال سے قطعی طور پر پرہیز رکھنا چاہیے اور جو بےمقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے۔

(6) اور یتیموں کی عقلوں وصلاحیتوں کو آزما لیا کرو جب ان میں تم کو صلاحیت دین اور حفاظت مال کا ملکہ نظر آجائے تو ان کے وہ اموال جو تمہارے پاس ہیں وہ ان کو دے دو اور حرام طریقہ پر گناہوں اور اس خیال سے کہ یہ بالغ ہوجائیں گے پھر ان کے اموال ان کو دینے پڑیں گے جلدی جلدی اڑا کر ضائع مت کرو۔ اور جو یتیم کے مال سے مستغنی (بےنیاز) ہو تو وہ اس سے بالکل ہی بچتا رہے اور اس کے مال میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ کرے اور جو محتاج ہو تو وہ کفایت کے ساتھ اس اندازہ سے اپنی ضروریات پوری کرے کہ یتیم کے مال کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔ اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ جس قدریتیم کے مال کی حفاظت میں محنت کرے اس اندازے یا مقدار کے مطابق اس سے کھائے یا یہ کہ بطور قرض اس میں سے لے۔ اور یتیموں کے عاقل وبالغ ہونے کے بعد جب ان کے مال انہیں واپس دو تو ان پر گواہ بھی کرلیا کرو، یاد رہے کہ یہ آیت ثابت رفاعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayahs 4:7–8

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔ یہ حصے (خدا کے) مقرر کیے ہوئے ہیں۔

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو۔

(7۔ 8) زمانہ جاہلیت میں لوگ لڑکیوں اور عورتوں کو میراث میں سے کچھ نہیں دیتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ مردوں اور عورتوں کے اصول (حصوں) کو بیان فرماتے ہیں کہ میراث خواہ کم ہو یا زیادہ ان کے لیے ایک متعین حصہ میراث میں مقرر ہے اور ان کی لڑکیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان کا چچا تھا جس نے انہیں میراث میں سے کچھ نہیں دیا تھا اور تقسیم میراث کے وقت جب میت کے ایسے رشتہ دار جن کا میراث میں کوئی حصہ نہ ہو اور اگر کوئی مسلمان یتیم اور مسلمان فقرا بھی اس وقت آجائیں تو ان کو بھی تقسیم سے قبل بطور استجاب (نیکی) کچھ دے دیا کرو اور اگر نابالغوں کا مال ہو تو ان لوگوں کو تسلی دے کر نرمی کے ساتھ ٹال دیا کرو۔ شان نزول : (آیت) ”للرجال نصیب“۔ (الخ) ابو الشیخ ؒ اور ابن حبان ؒ نے ”کتاب الفرائض“ میں بواسطہ کلبی ؒ ، ابوصالح ؒ ، ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ دور جاہلیت میں لوگ نابالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو میراث میں سے کچھ نہیں دیتے تھے، انصار میں سے اوس بن ثابت نامی ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس نے دو چھوٹے لڑکے اور دو چھوٹی لڑکیاں چھوڑیں، اس کے دو چچا زاد بھائی خالد اور عرفطہ آئے اور فرمایا میں کیا جواب دوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مردوں کے لیے بھی حصہ ہے۔
Ayahs 4:9–10

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں گے اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔

(9۔ 10) اور ان لوگوں کو جو قریب المرض مریض کے پاس ہوتے ہیں اور تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنے کا حکم دیتے ہیں، ان کو ان یتیم بچوں کے بارے میں ڈرنا چاہیے کیوں کہ اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر مرجائیں تو ان کو اپنی اولاد کی فکر ہو، اسی طرح ان لوگوں کو مرنے والے کی اولاد کی فکر ہونی چاہیے۔ اور یہ لوگ مریض کے پاس آتے تھے اور اس سے کہتے تھے کہ اپنا مال فلاں کو دے دو اور فلاں کو دے دو اس طریقہ سے اس کا سارا مال خوامخواہ تقسیم کرا دیتے تھے اور اس کے چھوٹے بچوں کے لیے کچھ نہیں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی ممانعت فرما دی لہٰذا یہ لوگ جو تہائی مال سے زیادہ مرنے والے کو وصیت کا حکم کرتے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور بیمار سے انصاف کی بات کرنی چاہیے اور جو بلااستحقاق (بلاضرورت شرعی) یتیم کا مال کھاتے ہیں ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ قیامت کے دن اپنے پیٹوں میں دوزخ کے انگارے بھریں گے اور اس کی جلتی آگ کا ایندھن ہوں گے یہ آیت حنظلہ بن شمرو کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں انکا دو تہائی اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو۔ یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادوں اور بیٹوں، پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے خدا کے مقرر کیے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

(11) میراث میں مرد و عورت کے کیا کیا حصے ہیں اب اللہ تعالیٰ ان کو بیان فرماتے ہیں کہ تمہارے مرنے کے بعد تمہاری اولاد میں میراث کی اس طرح تقسیم ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اور اگر دو یا دو سے زیادہ اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں تو ان کو مال کا دو تہائی ملے گا اور اگر ایک ہی لڑکی چھوڑی تو ترکہ کا آدھا ملے گا اور اگر میت کے لڑکا ہو یا لڑکی کوئی اولاد ہو تو ترکہ میں والدین کا چھٹا حصہ مقرر ہے اور اگر کوئی اولاد ہی نہ ہو تو ایک تہائی ماں کا اور بقیہ ترکہ باپ کا ہے۔ اور اگر میت کے ایک سے زائد بھائی یا بہن ہوں عینی کی طرف سے شریک ہوں یا علاتی، تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ اور باقی باپ کو ملے گا۔ اور واضح رہے یہ تمام حصے میت کا قرض ادا کردینے اور تہائی مال کے اندر اندر جو اس نے وصیت کر رکھی ہے، اس کے نفاذ کے بعد نکالے جائیں گے۔ تم اپنے اصول وفروغ کے بارے میں یہ نہیں جان سکتے کہ کون تم کو دینی یا دنیاوی زیادہ نفع پہنچا سکتا ہے اور میراث کی تقسیم اللہ کی جانب سے فرض کردی گئی ہے، اللہ تعالیٰ تقسیم میراث کو جاننے والا بعد ہر ایک کے حصے متعین کردینے میں بڑی حکمت والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”یوصیکم اللہ“۔ (الخ) صحاح ستہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ دونوں پیادہ (پیدل) بنی سلمہ میں میری عیادت کے لیے تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ نے تشریف لاکر مجھے ایسی حالت میں پایا کہ میں شدت ہوش میں نہیں تھا آپ نے پانی منگوا کر وضو فرمایا اور مجھ پر اس پانی کا چھینٹا دیا، جس سے مجھے افاقہ ہوا، میں نے عرض کیا کہ میرے حال کے متعلق آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور امام احمد ابوداؤد ؒ ترمذی ؒ اور حاکم ؒ جابر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ سعد بن ربیع کے گھر میں سے ان کی اہلیہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ یہ دونوں سعد بن ربیع کی دو لڑکیاں ہیں، ان کے والد آپ کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہوگئے اور ان کا چچا ان کا مال لے گیا اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا اور اب مال کے بغیر انکی شادی بھی نہیں ہوسکتی آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں ضرور کوئی فیصلہ فرمائیں گے، چناچہ میراث کی آیت نازل ہوئی، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں اس روایت سے ان حضرات نے استدلال کیا ہے جو اس کے قائل ہیں کہ میراث کی آیت سعد بن ربیع کی لڑکیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور حضرت جابر ؓ کے واقعہ میں نازل نہیں ہوئی، بالخصوص اس وقت تک حضرت جابر ؓ کی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی۔ باقی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت دونوں واقعات کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس آیت میراث کا ابتدائی حصہ سعد ؓ کی دونوں لڑکیوں کے بارے میں نازل ہوا ہے اور (آیت) ”وان کان رجل یورث کلالۃ“۔ والا آخری حصہ حضرت جابر ؓ کے واقعہ میں نازل ہوا ہو اور حضرت جابر ؓ کا (آیت) ”یوصیکم اللہ“۔ کے تذکرہ سے یہی مطلب ہو کیوں کہ یہ حصہ اسی حصہ سے متصل ہے۔ ایک تیسرا سبب اور مروی ہے، ابن جریر ؒ نے سدی سے روایت نقل کی ہے کہ زمانہ جاہلیت والے لڑکیوں اور کمزور لڑکوں کو میراث نہیں دیتے تھے اور صرف وہی شخص میراث حاصل کرسکتا تھا، جس میں لڑائی کی طاقت ہو، چناچہ جب حضرت حسان بن ثابت ؓ کے بھائی عبدالرحمن کا انتقال ہوا، انہوں نے ام کمہ نامی ایک بیوی اور پانچ لڑکیاں چھوڑدیں، ورثاء ان کا سارا مال لینے کے لیے آئے، یہ معاملہ دیکھ کر ام کمہ شکایت لے کر رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”فان کن نساء“ (الخ) اور پھر ام کمہ کے بارے میں فرمایا (آیت) ”ولھن الربع مما ترکتم“ (الخ) نیز سعد بن ربیع کا واقعہ ایک اور طریقہ پر بھی مروی ہے، چناچہ قاضی اسماعیل نے احکام القرآن میں عبد الملک بن محمد بن حزم سے نقل کیا ہے کہ عمرۃ بنت حزم سعد بن ربیع کے نکاح میں تھیں۔ حضرت سعد ؓ غزوہ احد میں شہید ہوگئے اور حضرت سعد ؓ کی ان سے ایک لڑکی تھی، یہ رسول اللہ ﷺ کی پاس اپنی لڑکی کی میراث طلب کرنے کے لیے آئیں ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں، اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمہ ہو کی جائے گی) اور جو مال تم مرد چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے بعد تقسیم کیے جائیں گے اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ۔ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی) ادائے وصیت و قرض بعد کے بشرطیکہ انسے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کیے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے۔

(12) اور اگر تمہاری بیبیوں کے کسی قسم کی کوئی اولاد نہ ہو تو ان کے ترکہ میں سے تم کو آدھا ملے گا۔ اور اگر ان کے کچھ اولاد ہو خواہ تم میں سے ہو یا کسی اور سے لڑکا ہو یا لڑکی تو پھر ترکہ میں سے تم کو چوتھائی ملے گا اور یہ تقسیم بھی میت کے قرض ادائیگی اور تہائی مال وصیت کے نافذ کردینے کے بعد ہوگی۔ اور ان کو واثت میں سے چوتھائی ملے گا اگر تمہارے کوئی اولاد نہیں ہوگی اور اگر تمہارے کچھ اولاد ہو خواہ ان ہی سے ہو یا کسی اور سے لڑکے ہوں یا لڑکی تو ان کو ترکہ میں سے تمہارے قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نافذ کرنے کے بعد آٹھواں حصہ ملے گا۔ اور اگر کوئی میت خواہ وہ مرد ہو یا عورت ایسی ہو کہ جس کے نہ اصول ہوں اور نہ فروع جس کی میراث دوسروں کو ملے گی اور اس میت کے ایک بھائی یا ایک بہن اخیافی ہو تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہوں گے جس میں مذکر ومونث سب برابر ہیں اور یہ میراث ثلث مال میں وصیت کے نافذ کرنے اور میت کے فرض ادا کرنے کے بعد ہوگی۔ بشرطیکہ تہائی حصہ مال سے زیادہ وصیت کرکے کسی وارث کو نقصان نہ پہنچائے۔ اور میراث کا تقسیم کرنا اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کیا ہے اور تقسیم میراث کو وہ بخوبی جاننے والا ہے کہ کس طریقہ سے لوگوں کی جانب اس میں خیانت کی جائے گی مگر وہ اپنی خاص حکمت کے سبب مہلت دیتا ہے اس پر جلدی انتقام نہیں لیتا۔
Ayah 4:13

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ (تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔

(13) یہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے فرائض ہیں اب جو شخص ان ضابطوں کی پابندی کرے گا اس کے لیے اللہ کے ہاں جنت میں ایسے باغات ہیں، جہاں درختوں اور مکانات کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور شراب طہور کی نہریں ہوں گی وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
Ayah 4:14

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو خدا اور اسکے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

(14) اور جو خیانت اور ظلم کرکے احکام خداوندی کی نافرمانی اور اس کے حدود سے تجاوز کرے گا تو جب تک اللہ تعالیٰ چاہے اس کو جہنم میں رکھے گا اور وہاں عذاب کے ساتھ ساتھ ذلت بھی ہوگی ،
Ayah 4:15

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

مسلمانو ! تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے یا خدا ان کے لیے کوئی اور سبیل (پیدا کرے)

(15) جو آزاد عورتیں زنا کا ارتکاب کردیں، ان پر چار آزاد آدمیوں کو گواہ کرلو اور مرنے تک ان کو جیل میں ڈالے رکھو یا اللہ تعالیٰ رجم کا حکم نازل فرما دے، چناچہ پھر رجم کے حکم سے شادی کا یہ حکم منسوخ ہوگیا۔
Ayah 4:16

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے۔

(16) اور اگر نوجوان کنوارے مرد اور لڑکیوں کی یہ سزا سو کوڑوں کے حکم نزول سے منسوخ ہوگئی۔
Ayahs 4:17–18

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھتے ہیں پھر جلد توبہ کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔

(17۔ 18) اللہ کی جانب سے توبہ تو ان ہی کی قبول ہے جو سزا سے واقف نہ ہونے کے سبب کوئی جرم کرلیتے ہیں اور پھر موت سے پہلے توبہ کرلیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نزع کی حالت سے قبل توبہ قبول فرمانے والے ہیں البتہ اس کے بعد توبہ قبول نہیں کرتے اور ایسے لوگوں کی جو موت کے سر پر آنے کے وقت توبہ کریں، قبول نہیں فرماتا، ان کفار کے لیے تو درد ناک عذاب ہے یہ آیت طعمہ اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مرتد ہوگئے تھے۔
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

مومنو ! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) مت روک رکھنا۔ ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا نامناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہو سہو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں سے بہت سی بھلائی پیدا کر دے۔

(19) اپنے آباء کی عورتوں کے مال کا زبردستی مالک ہونا حلال نہیں، اور ان کو شادی کرنے سے مت روکو تاکہ تمہارے آباء نے جو مال دیا ہے، وہ بھی وصول کرلو، یہ آیت کبشہ بنت معن انصاریہ اور محض بن ابی قیس انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ لوگ اس سے قبل اس مال کے وارث ہوجایا کرتے تھے۔ مگر یہ کہ ان کے زنا پر گواہ قائم ہوجائیں تو پھر ان کو جیل میں بند رکھو اور جیل کا حکم آیت رجم سے منسوخ ہوگیا اور جس طریقہ سے وہ اپنے آباء کے اموال کے وارث ہوتے تھے، اسی طرح ان کی عورتوں کے بھی وارث ہوجایا کرتے تھے۔ سب سے بڑا لڑکا وارث بنتا تھا اگر وہ عورت خوبصورت اور مالدار ہوتی تو بغیر مہر کے اس سے تعلق قائم کرلیتا تھا اور اگر وہ مالدار نہ ہوتی بلکہ نوجوان اور خوبصورت ہوتی تو اس کو اسی طرح چھوڑ دیتا تھا یہاں تک یہ وہ اپنی جان کا اپنے مال سے فدیہ نہ ادا کردے، اللہ تعالیٰ نے جہالت کی ان تمام چیزوں کی ممانعت فرمادی پھر حسن معاملہ کا حکم فرماتے ہیں کہ ان بیویوں کے ساتھ خوبی سے پیش آیا کرو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد صالحہ عطا فرما دے۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا لا یحل“۔ (الخ) امام بخاری ؒ ابو داؤد ؒ اور نسائی ؒ نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جس وقت کوئی مرجاتا تھا تو اس کے اولیاء اس کی عورت کے زیادہ حق دار ہوتے تھے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو خود شادی کرلیتا اور اگر چاہتے تو کہیں اور شادی کرا دیتے غرض یہ کہ اس کے گھروالوں سے زیادہ وہ اس کے حق دار بن جاتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے سند حسن کے ساتھ ابوامامتہ بن سہل بن حنیف ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب ابو قیس کا انتقال ہوگیا تو ان کے لڑکے نے ان کی عورت سے شادی کرنا چاہی اور یہ چیز زمانہ جاہلیت میں جائز تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ایمان والو تمہارے لیے یہ حلال نہیں الخ اور ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؓ سے بھی یہی روایت نقل کی ہے اور ابن ابی حاتم، فریابی اور طبرانی نے بواسطہ عدی بن ثابت ؓ ایک انصاری شخص سے روایت نقل کی ہے کہ ابوقیس بن اسلت کا انتقال ہوا اور وہ انصار کے شرفا میں سے تھے، تو ان کے لڑکے قیس نے ان کی بیوی کو نکاح کا پیغام دیا وہ بولیں میں تم کو اپنا بیٹا سمجھتی ہوں اور تم اپنی قوم کے شرفا میں سے ہو، اس کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ نے فرمایا اپنے گھر چلی جاؤ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayahs 4:20–21

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو اور پہلی عورت کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لو گے ؟

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم دیا ہوا مال کیو نکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہیں ؟

(20۔ 21) اور اگر تم ایک کو طلاق دے کر دوسری سے شادی کرنا چاہتے ہو یا اس ایک کے ہوتے ہوئے ایک اور سے شادی کا ارادہ ہے اور تم نے اس پہلے والی کو مہر بھی دے دیا تو تم اس مہر میں سے ناجائز طور سے کچھ بھی مت لو اور یہ ناجائز طریقہ پر مہر وصول کرنا صریح ظلم ہے اور تم اس مہر کو کیوں جائز سمجھتے ہو جب ایک لحاف میں مہر اور نکاح کے ساتھ خلوت کرچکے ہو اور اللہ تعالیٰ عورتوں کے بارے میں تم سے ایک پختہ وعدہ لے چکا ہے کہ رکھو تو خوبی اور حسن معاشرت کے ساتھ رکھو ورنہ خوبی کے ساتھ چھوڑ دو۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرنا مگر (جاہلیت میں جو ہوچکا سو ہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخو شی کی بات تھی اور بہت برا دستور تھا۔

(22) اور اب اللہ تعالیٰ ان پر ان کے آباء کی عورتوں سے شادی کرنے کی حرمت کو بیان فرماتے ہیں، زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے آباء کی عورتوں سے شادی کرلیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی ممانعت فرما دی۔ یعنی اپنے آباء کی عورتوں سے شادی مت کرو۔ البتہ زمانہ جاہلیت میں جو ہوگیا وہ معاف ہے یہ چیز بےحیائی اور نفرت والی اور بدترین طریقہ ہے، یہ آیت محسن بن ابی قیس انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ولا تنکحوا“۔ (الخ) یعنی جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے ان سے نکاح مت کرو اور ابن سعد نے محمد بن کعب قرظی سے نقل کیا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی عورت کو چھوڑ کر مرجاتا تھا تو اس کا لڑکا اگر وہ اس کی ماں نہ ہوتی تھی اگر وہ چاہتا اس سے خوش شادی کرنے یا جس سے چاہے شادی کرانے کا زیادہ حق دار ہوتا جب ابوقیس بن اسلت انتقال کرگئے تو ان کے بعض لڑکے ان کی عورت سے شادی کرنے کے دعویدار ہوئے اور ان کو مال میں سے کچھ نہیں ملا تھا چناچہ وہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا جاؤ ممکن ہے اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں کوئی حکم نازل فرمائے چناچہ (آیت) ”ولا تنکحوا“۔ اور ”۔ ولا یحل لکم“۔ یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ نیز ابن سعد ہی نے زہری سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت کچھ انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ ان میں جب کوئی مرجاتا تو اس کا ولی اس کی عورت کا زیادہ حق دار ہوتا تھا تو وہ اس کی عورت کو اس کے مرنے تک اپنے پاس رکھ لیتا تھا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کردی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کرچکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے ہو (وہ بھی حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (تو ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرلینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہوچکا (سو ہوچکا) بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

(23) یہ تمام نسبتی رشتے تم پر حرام ہیں خواہ کسی بھی طریقہ سے ہوں اور اسی طرح جب کہ مدت رضاعت میں دودھ پیا ہو تو یہ رشتہ حرام ہے، اور تمہاری بیبیوں کی مائیں بھی تم پر حرام ہیں، خواہ تم نے ان بیبیوں کے ساتھ صحبت کی ہو یا صحبت نہ کی وہ اور تمہاری عورتوں کی وہ لڑکیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں اور تم نے ان کی ماں کے ساتھ صحبت بھی کی ہو تو وہ بھی حرام ہیں اور اگر تم نے ان کے ساتھ صحبت نہیں کی تو ان کی ماں طلاق دے کر ان کی لڑکیوں کی شادی کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، اور تمہارے نسبی بیٹوں کی بیبیاں بھی تم پر حرام ہیں اور اسی طرح دو بہنوں کا خواہ وہ آزاد ہوں یا باندیاں ایک ساتھ رکھنا حرام ہے مگر زمانہ جاہلیت میں جو کچھ ہوگیا اور اسلام میں داخل ہو کر اس سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”وحلآئل ابنآئکم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے ابن جریج ؒ سے نقل کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے اس آیت کے بارے میں عطا سے دریافت کیا وہ بولے ہم آپس میں گفتگو کرتے تھے کہ یہ آیت رسول اکرم ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت آپ نے زیدبن حارثہ ؓ کی بیوی سے شادی کی اور مشرکین میں اس پر چہ مگوئیاں ہوئیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں۔ (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اسطرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی۔ تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو انکا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو۔ اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(24) شوہر والی عورتیں بھی تم پر حرام ہیں مگر اس حکم میں وہ مستثنی ہیں جو شرعی طور پر تمہاری مملوک ہوجائیں اور ان کے حربی شوہر ”دار الحرب“ میں موجود ہوں وہ ایک حیض آجانے (یا وضع حمل کے بعد) مشروط طور پر حلال ہیں، اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ میں جن کو حرام کردیا ہے وہ تم پر حرام ہیں۔ جن رشتوں کی حرمت بیان کردی گئی ان کے علاوہ چار تک شادی کرنا حلال ہے یا یہ کہ اپنے مالوں سے باندیاں خریدو یا اپنے اموال دے کر عورتوں سے شادی کرو مگر متع کا حکم منسوخ ہوگیا (وہ اب ہرگز کسی بھی نوعیت کے ساتھ کسی کے لیے بھی جائز نہیں) اس طریقہ پر تم ان کو بیوی بنا لو، مال دے کر نکاح کے علاوہ اور کوئی مستی کی صورت مت کرو اور نکاح کے بعد جب تم ان سے متمتع ہوجاؤ تو ان کو پورا مہر دو ، اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے تم پر پورا مہر دینا فرض کردیا ہے۔ مہرمتعین ہونے کے بعد باہم رضا مندی سے مقدار مہر میں کچھ کمی بیشی کرنے میں کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ نے اولا تمہارے متع کو حلال کیا اور پھر حرام کردیا یا یہ کہ متع کی طرف تمہاری اضطراری حالت کو جاننے کے بعد اس کے حرام کردینے میں وہ حکمت والا ہے۔ شان نزول : والمحصنت“۔ (الخ) امام مسلم ؒ ابو داؤد ؒ ، ترمذی ؒ اور نسائی ؒ ، ابوسعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ اوطاس کے قیدیوں میں باندیاں ہمارے ہاتھ آئیں اور ان کے خاوند موجود تھے تو ہمیں یہ بات اچھی نہیں معلوم ہوئی کہ ان کے خاوندوں کے موجود ہوتے ہوئے ہم ان سے متمتع ہوں۔ چناچہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بابت دریافت کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اس حکم سے وہ باندیاں مستثنی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں تمہیں دی ہوں اگر ان کے کافر شوہر دارالحرب میں موجود ہوں۔ سو اس حکم کے بعد ہم ان سے متمتع ہوئے اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت غزوہ حنین میں نازل ہوئی کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غزوہ حنین میں مسلمانوں کو فتح عطا کی تو مسلمانوں کو مال غنیمت میں اہل کتاب کی ایسی عورتیں ملیں جن کے شوہر موجود تھے، چناچہ ہم میں سے جب کوئی شخص اپنی باندی کے پاس جاتا تو وہ کہتی کہ میرا شوہر ہے، رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، شان نزول : (آیت) ”ولا جناح علیکم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے بواسطہ معمر بن سلیمان ان کے والد سے روایت نقل کی ہے، کہ حضرمی کو خیال ہوا کہ کچھ لوگ مہر (زیادہ) متعین کرلیتے ہیں پھر بعد میں تنگی ہوجاتی ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مقرر کرنے کے بعد باہم رضامندی سے کمی بیشی میں کوئی گناہ نہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کر کے نکاح کرلو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں۔ نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں۔ پھر اگر نکاح میں آ کر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی انکو (دی جائے) یہ (لونڈی کیساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو۔ اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(25) اور جس میں آزاد مسلمان سے شادی کرنے کی پوری قدرت نہ ہو تو پھر ان مسلمان باندیوں سے جو کہ شرعی طریقہ پر مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں، ان سے شادی کرو، تمہارے ایمان کی پوری حالت سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے، تم سب آدم ؑ کی اولاد ہو سب کا دین ایک ہے۔ لہذا ان باندیوں سے ان کے مالکوں کی اجازت کے ساتھ قاعدہ کے مطابق مہر دے کر شادی کرلیاکرو، اگر وہ پاک دامن ہوں نہ علانیہ طور پر کسی بدکاری میں مبتلا ہوں اور نہ خفیہ طریقہ پر ان کا کوئی آشنا ہو، شادی کے بعد اگر یہ باندیاں کسی بڑی بےحیائی کا ارتکاب کریں تو آزاد غیر منکوحہ کی جو سزا ہے ان کو اس کی آدھی ملے گی یعنی پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔ اور ان باندیوں سے شادی کرنا اس کے لیے مناسب ہے جو بوجہ غلبہ شہوت اور آزاد عورت میسر نہ ہونے کی وجہ سے گناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ رکھتا ہو اور اگر ان سے اپنے نفسوں کو قابو میں رکھو تو پھر تمہاری اولاد بغیر کسی شبہ کے آزاد ہوگی اور اگر کسی غلطی کا ارتکاب ہوجائے تو ہم مغفرت فرمانے والے ہیں اور مہربان بھی ہیں کہ ضرورت کے وقت باندیوں سے شادی کی اجازت دی۔
Ayahs 4:26–27

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو (اگلے لوگوں کے طریقے بتائے) اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

(26۔ 27) یعنی جو چیزیں تمہارے لیے حلال کردی ہیں اور یہ کہ باندیوں سے نکاح نہ کرنا تمہارے لیے بہتر ہے، اور اس کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں جو چیزیں مروج ہوگئیں تھیں ان کو معاف فرمانے والا ہے اور تمہاری بےقراری سے وہ بخوبی واقف ہے، اس لیے اس نے خاص شرائط کے تحت تمہیں ضرورت کے وقت باندیوں سے شادی کرنے کی اجازت دے دی۔ اور جس وقت اس نے تم پر زنا کو اور باپ شریک بہنوں سے شادی کرنے کو حرام کیا وہ پچھلی غلطیوں کو معاف فرمانے والا ہے۔ اور یہود جو کہ باپ شریک بہنوں اور زنا کو اپنی کتاب میں حلال بنا کر اس گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں تو تم خدانخواستہ ان کی اتباع میں مبتلا ہوگے تو بہت بڑی غلطی میں پڑجاؤ گے۔
Ayah 4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعا) کمزور پیدا ہوا ہے

(28) اللہ تعالیٰ نے تم پر ضرورت کے وقت باندیوں سے شادی کو حلال کردیا اور انسان عورتوں سے نہیں رک سکتا۔
Ayahs 4:29–30

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

مومنو ! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ ہوجائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

(29۔ 30) یعنی ظلم وغضب جھوٹی گواہی قسمیں کھا کر ایسا مت کرو۔ البتہ باہم رضا مندی کے ساتھ کوئی تجارتی معاملہ ہو اس میں بائع یا مشتری کوئی اعانت دے تو یہ اور بات ہے۔ اور ایک دوسرے کو ناحق مت قتل کرو اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے کہ اس نے اس کام کو حرام کردیا اور جو شخص کسی کو ظلما قتل کرے یا اس کے مال کو حلال سمجھے تو ہم اسے آخرت میں جہنم میں داخل کریں گے اور یہ عذاب میں مبتلا کرنا اور جہنم میں داخل کرنا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

(31) اور اگر ان غیر شرعی باتوں کو بالکل چھوڑ دو گے، تو چھوٹے گناہوں کو جو ایک نماز سے دوسری نماز تک اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ہوں گے ہم انہیں بالکل معاف کردیں گے اور آخرت میں جنت میں داخل کریں گے۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضلیت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

(32) یعنی کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے پاس اس کا مال وسواری اور اس کی عورت یا اس طرح کی کوئی اور نعمت دیکھ کر اسی چیز کی تمنا نہ کرے، بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے مانگے، کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی چیزیں یا اس سے بہتر چیزیں عطا فرما یہ آیت حضرت ام سلمہ زوجہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ کاش جن چیزوں کی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اجازت دی ہے، عورتوں کو بی مل جائے تو ہم بھی ان کی طرح جہاد وغیرہ کریں، اللہ تعالیٰ نے اس چیز سے منع فرمایا کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جمعہ جماعت، جہاد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وجہ سے عورتوں پر فضیلت دی ہے، اس کی تمنا نہ کریں، عورتیں جو اپنے گھروں میں نیکیاں کریں گی انھیں اس کا ثواب مل جائے گا، اے طبقہ خواتین، تم اس سے ہدایت اور عصمت کی درخواست کرو، اور اللہ تعالیٰ نیکی برائی، ثواب و بدلہ، ہدایت وگمراہی ہر ایک چیز کو پوری طرح جاننے والے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ“۔ (الخ) ترمذی ؒ اور حاکم ؒ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کرسکتے اور ہمیں وراثت بھی آدھی ملتی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی تم ایسی چیزوں کی تمنا مت کیا کرو، جس میں اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعضوں پر فوقیت بخشی ہے اور ان ہی کے بارے میں انالمسلمین ولمسلمات کی آیت بھی نازل ہوئی ہے۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت رسول اکرم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا یارسول اللہ مرد کو عورت سے دوگنا حصہ ملتا ہے اور دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے تو ہمارے عمل بھی کیا اسی طرح ہیں کہ اگر عورت کوئی نیکی کرے تو اسے آدھا ثواب ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حقداروں میں تو تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی انکا حصہ دو بیشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

(33) یعنی ہم نے ہر ایک کے لیے وارث بنا دیے اور جن لوگوں سے مولی موالات کا سلسلہ قائم ہے تو ان کو ان کی شرطوں کے مطابق دے دو اور اب یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے اور عرب آدمیوں اور لڑکوں کو متبنی (لے پالک) بنا لیا کرتے تھے اور اپنی اولاد کی طرح اپنے مال میں ان کا بھی حصہ مقرر کردیتے تھے مگر اس کو اللہ تعالیٰ نے منسوخ کردیا اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ شان نزول : (آیت) ”والذین عقدت“۔ (الخ) ابوداؤد ؒ نے اپنی سنن میں ابن اسحاق ؒ کے واسطہ سے داؤد بن الحصین سے روایت نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں ام سعد کے پاس قرآن پاک پڑھتا تھا چناچہ میں نے (آیت) ”والذین عاقدت“ پڑھا تو انہوں نے فرمایا (آیت) ”والذین عقدت“۔ ہے اور یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے لڑکے حسین کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت ان کے لڑکے نے اسلام لانے سے انکار کردیا تھا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قسم کھائی تھی کہ اسے بوجہ کفر میراث میں سے کچھ نہیں دیں گے جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کا حصہ دینے کا حکم دے دیا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر حاکم ومسلط ہیں اس لیے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال و آبرو کی) خبر داری کرتی ہے اور جن عوتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی اور (بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو۔ اگر اس پھر بھی باز نہ آئیں تو پھر زد کو ب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈوں بیشک خدا سب سے اعلی (اور) جلیل القدرر ہے

(34) یعنی مرد عقل، مال غینمت، میراث اور عورتوں کو مہر اور نفقہ وغیرہ دینے کی وجہ سے عورتوں پر حاکم ہیں۔ سو جو عورتوں نیک ہیں وہ خاوندوں کے حقوق میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہیں اور خاوندوں کی غیر موجودگی میں اپنی عصمتوں اور ان کے اموال کی بحفاظت خداوندی حفاظت کرتی ہیں۔ اور جن عورتوں کی نافرمانیوں سے تم باخبر ہو پہلے تو قرآن و حدیث سے ان کو سمجھاؤ اور پھر بستر پر اپنے چہروں کو ان سے پھیر لو اور پھر بھی نہ مانیں تو حد اعتدال میں ان کو مناسب سزا دو کرو اگر وہ سنبھل جائیں تو نباہ کرو ورنہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان امور کا مکلف نہیں کیا جن کی تم میں طاقت نہیں، تم بھی ان امور پر ان کو مجبور مت کرو۔ (یعنی شرعی طریقہ کے مطابق ان کو طلاق دے دو) شان نزول : الرجال قومون“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک عورت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنے خاوند کی شکایت کرنے کے لیے آئی کہ اس نے اس کے تھپڑ مارا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر قصاص (بدلہ) ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی مرد عورتوں پر حاکم ہیں، چناچہ وہ بغیر قصاص لیے ہوئے واپس ہوگئیں اور اپنے دعوی قصاص سے دستبردار ہوگئیں۔ اور ابن جریر ؒ نے حسن کے واسطہ سے اس طرح روایت نقل کی ہے کہ ایک انصاری شخص نے اپنی بیوی کے چاٹنا مارا وہ قصاص کے مطالبہ کے لیے آئے، رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان قصاص کا فیصلہ کردیا تو اس پر (آیت) ”ولا تعجل بالقرآن“ (الخ) اور یہ آیت نازل ہوئی اور اسی طرح ابن جریج ؒ اور سدی ؒ سے بھی روایت کی گئی ہے۔ اور ابن مردویہ ؒ نے حضرت علی ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کی خدمت میں ایک انصاری شخص اپنی بیوی کو لے کر آیا ان کی بیوی بولی یا رسول اللہ ﷺ انہوں نے میرے منہ پر زور سے چانٹا مارا ہے کہ نشان پڑگیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کو یہ حق نہیں ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس روایت کے بہت سے شواہد ہیں جن سے یہ روایت مضبوط وثقہ ہوجاتی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کر دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کر دے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

(35) اور اگر میاں بیوی میں رنجش محسوس ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ ابتدا کس کی طرف سے ہے تو مرد کے گھروالوں میں سے ایک معاملہ فہم آدمی مرد کے پاس اور اسی طرح عورت کے گھروالوں میں سے ایک پختہ عمر شخص عورت کے پاس بھیجو تاکہ ہر ایک کے پاس جا کر وہ دونوں کی صحیح صورت حال معلوم کرے اور دیکھے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ اگر یہ دونوں میاں بیوی میں سچے دل سے اصلاح کرائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کے درمیان اتفاق فرما دیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والے اور خبر دار ہیں۔ الرجال قوامون سے یہاں تک یہ آیت محمد بن سلمہ کی لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی، ان کی جانب سے اپنے خاوند اسعد بن ربیع کی نافرمانی ہوئی، ان کے خاوند نے ان کے ایک چپت مار دیا یہ اپنے خاوند سے قصاص کا مطالبہ کرنے کے لیے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت فرمادی۔
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسایوں اور اجنبی ہمسایوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

(36) اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرو اور بتوں کو اس کا شریک مت ٹھہراؤ یہ حقوق اللہ ہیں اور حقوق العباد میں سب سے پہلا حق والدین کا ہے اس لیے اپنے والدین کے ساتھ نیکی کا معاملہ کرو، اسی طرح اہل قرابت اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کرو نیزیتیموں کے اموال کی حفاظت کرو اور غریبوں کو صدقہ خیرات دو اور ایسا پڑوسی جس کے ساتھ رشتہ داری ہو اس کے تین حق ہیں ، (1) قرابت کا حق (2) اسلام کا اور دوسرے صحبت کا حق تم یہ تمام حقوق ادا کرو اور مہمان کے ساتھ بھی حسن سلوک کرو اور مہمان نوازی تین دن ہے، باقی احسان ہے اور خادموں کیساتھ بھی حسن سلوک کرو خواہ وہ غلام ہوں یا باندیاں، جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اترا کر اس کے بندوں پر شیخی مارتا ہوا چلتا ہے، ایسے متکبر انسان کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے۔
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کر رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

(37) اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی نعت وصفت کو چھپاتے ہیں جیسا کہ کعب اور اس کے ساتھی اور دوسروں کو بھی اس کے چھپانے کا حکم دیتے ہیں، اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی نعت وصفت ان کی کتاب توریت میں بیان کردی ہے، ایسے یہودیوں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ شان نزول : (آیت) ”والذین یبخلون“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ علماء یہود اپنے علم میں بخل کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو لوگ بخل کرتے ہیں۔ (الخ)۔ اور ابن جریر ؒ نے بواسطہ ابن اسحاق ؒ محمد بن ابی محمد ؒ ، عکرمہ ؒ یا سعید ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ کروم زید کعب بن اشرف کا دوست، اسامتہ بن حبیب، نافع بن ابی نافع، بحری بن عمرو، حی بن اخطب، رفاعۃ بن زید تابوت، یہ لوگ کچھ انصاری حضرات کو نصیحت کرنے لیے آیا کرتے تھے اور ان سے کہتے کہ اپنے اموال کو حضور ﷺ کے کہنے پر اللہ کے راستے میں خرچ مت کرو، کیونکہ ہمیں تم پر فاقہ اور تمہارے مالوں کے ختم ہوجانے کا ڈر ہے اور صدقہ و خیرات میں جلدی بھی مت کرو کیونکہ کہ کل کی کیا خبر، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لیے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کا ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے

(38) اور رؤسا یہود جو دکھاوے کے لیے مال خرچ کرتے ہیں ان کی اصل غرض یہ ہے کہ ان کو ملت ابراہیمی کا پیرو کہا جائے اور رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم موت کے بعد دوبارہ زندگی کے عقیدے اور اہل بہشت کی نعمتوں پر ایمان نہیں رکھتے تو شیطان جس کا دنیا میں مددگار ہو وہ دوزخ میں اس کا برا ساتھی ہے۔
Ayah 4:39

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

(39) ان یہود پر حالانکہ ان کا کوئی نقصان نہیں، رسول اللہ ﷺ قرآن کریم بعث بعدالموت اور جنت کی نعمتوں پر اگر یہ ایمان لے آئیں اور جو مال اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردیں تو ان کے لیے بہتر ہے لیکن اللہ تعالیٰ یہودیوں کو اچھی طرح جانتا ہے کہ انمیں سے کون ایمان لائے گا اور کون نہیں۔
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس کو دو چند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجر عظیم بخشے گا

(40) اور وہ کافر کے اعمال میں سے ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں چھوڑیں گے تاکہ آخرت میں وہ کام آئے یا اس کے دشمن خوش ہوں۔ اور مومن مخلص کو اس کے دشمنوں کا منہ بھر دینے کے بعد ایک نیکی پر دس گنا ثواب ملے گا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے جنت میں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔