Ayahs 4:1–22 تقوی رب کی ربوبیت کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کی ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ تم اسی سے ڈرو اور اس کی ہر نافرمانی سے بچو، کہ اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے، اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی، پس عبادت و بندگی کی ہر قسم خاص اسی کیلئے اداء کرو ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس میں کسی کو بھی کسی بھی طرح اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، اور جب تمہارا خالق ومالک اور رب وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم اسی سے ڈرو اور ہمیشہ اس کی رضا و خوشنودی کا خیال رکھو، سو یہ مخلوق آپ سے آپ وجود میں نہیں آگئی، بلکہ ایک خالق کل اور قادر مطلق کی تخلیق و ایجاد سے وجود پذیر ہوئی ہے تو انسان کے ذمے لازم آتا ہے کہ وہ اپنے اس خالق ومالک کا حق پہچانے اس کا شکر ادا کرے۔ اور اس کی پیدا کردہ اس مخلوق میں اس کی مقرر فرمودہ حدود کی پابندی کرے اور اس کی بغاوت و سرکشی سے بچے اور تقوی و پرہیزگاری کی روش کو اپنائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی عبادت و بندگی اور اپنی یاد سے شادکام رکھے ۔ آمین۔
3 تمام بنی نوع انسان کا آغاز ایک ہی جان سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ڈرو اپنے اس رب سے جس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا فرمایا۔ سو ایک ہی جان سے بیشمار مخلوق کی تخلیق، قدرت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے اور اتنی بیشمار مخلوق جو اپنے اندر گوناگوں اختلافات رکھتی ہے، اس سب کو ایک ہی جان سے اس طرح پیدا کردینا، اس کی وحدانیت وقدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ پس وہی وحدہ لاشریک ہر قسم کی عبادت کا حقدار ہے، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں ہوسکتا، نیز وہ قادر مطلق جب ایک جان سے اتنی گوناگوں مخلوق کو عدم سے وجود میں لاسکتا ہے، تو یقینا وہ ان سب کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کردینے پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے، اور اس کی حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ سب کو دوبارہ پیدا فرما کر ان کو زندگی بھر کے انکے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ دے، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں، سو اس گوناں گوں مخلوق میں اس قادر مطلق کی قدرت، حکمت اور وحدانیت کے عظیم الشان دلائل ہیں۔ بہر کیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پوری نسل انسانی ایک ہی قبیلہ اور ایک ہی گھرانا ہے، کہ یہ سب آدم ہی کی اولاد اور انہی کی نسل ہے، سو اس اعتبار سے ان میں عربی و عجمی احمر و اسود اور شرقی و غربی وغیرہ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں، بلکہ سب ہی نسل آدم کے افراد ہیں، اور خدا اور رحم کا رشتہ ان سب کے درمیان قدر مشترک ہے، جیسا کہ حضرت نبی معصوم علیہ الصّلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ تم سب لوگ آدم سے ہو اور آدم کی اصل مٹی ہے (کُلُّکُمْ منْ اٰدَمَ و آدَمُ مِنْ تُراب) سو اس حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ سب ایک ہی خدا کے بندے اور ایک ہی خاندان کے افراد ہونے کے اعتبار سے مشترک گھرانے کے افراد کی طرح آپس میں حق و انصاف اور مہر و محبت کے تعلقات رکھنے والے بن کر امن و سکون کی پر لطف زندگی گزاریں۔ پس نہ کوئی کسی پر کوئی زیادتی کرے اور نہ کوئی کسی کا حق مارے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
4 ایک ہی جان سے اس کے جوڑے کی پر حکمت تخلیق : سو ارشاد فرمایا گیا اور پھر اس نے اسی جان سے پیدا فرمایا اس کا جوڑا جو کہ اس کی قدرت و حکمت کا ایک عظیم اشان اور حیرت انگیز کرشمہ ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ یعنی اسی کی جنس سے، تاکہ وہ دونوں باہم انس و محبت سے گزر بسر کرسکیں، کہ اپنی اصل اور جبلت میں دونوں ایک ہی ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا وَمِنْ اٰیاتہٖ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنْوْآ اِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَََکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لٓاٰیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْن (الروم۔ 2 1) سو مرد اور عورت دونوں کی تخلیق میں جس قادر مطلق کی رحمتیں اور عنایتیں تمہیں اس پر حکمت طریق سے احاطہ کئے ہوئے ہیں، اس کو تم کیسے بھول سکتے ہو ؟ اور اس سے غافل و لاپرواہ ہونا کس قدر ظلم ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان دونوں کی تخلیق اس قادر مطلق نے ایسے حکمت بھرے انداز میں فرمائی کہ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا محتاج اور ضرورت مند ہے، اور ان میں سے ہر ایک کی زندگی کی تکمیل دوسرے سے وابستہ ہے، اور ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر ناقص اور ادھوری ہے، بہرکیف جنسیت یعنی ہم جنس ہونا باہمی تضا من و تآلف کی علت ہے سو جس طرح سورة روم کی مذکورہ بالا آیت کریمہ اور سورة نحل کی آیت نمبر 72 میں فرمائے گئے ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ یہ بیویاں ہر ایک کے اندر سے پیدا ہوئیں بلکہ اس سے مراد جنس ہے، اسی طرح یہاں پر بھی خَلَقَ مِنْہا زَوْجَہا سے مراد جنس ہے۔ (محاسن التاویل المنار اور تدبر وغیرہ) بہرکیف یہ قدرت کا ایک نہایت ہی پر حکمت نظام ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
5 ایک ہی جوڑے سے بیشمار و گوناں گوں مخلوق کی تخلیق کا کرشمہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے ان دونوں سے بیشمار مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ پس دنیا ساری دراصل ایک ہی برادری اور ایک ہی خاندان ہے، اس لئے ان کو باہم اسی انس و محبت، اور خیر خواہی و بھلائی اور اسی پیا ربھری فضاء میں رہنا چاہیئے ‘ جس کا ایک برادری اور خاندان کے اندر پایا جانا ضروری ہوتا ہے، کاش کہ راہ حق سے بھٹکی ہوئی دنیا کو اس ایک ہی ارشاد ربانی پر عمل کرنے کی توفیق نصیب ہوجاتی تو وہ اس شر و فساد اور قتل و خونریزی سے بچ جاتی جس نے آج پوری دنیا کو ایک آتشکدہ بنا کر رکھ دیا ہے، اور جگہ جگہ فساد اور قتل و خونریزی کا دور دورہ ہے والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم نیز اس سے اس حقیقت کو بھی آشکارا فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدم کی جنس ہی سے بنایا ہے اس لئے عورت کوئی ذلیل و حقیر اور فروترو فطری گنہگار مخلوق نہیں جیسا کہ اس کے بارے میں کہا اور سمجھا گیا بلکہ یہ بھی شرف انسانیت میں شریک اور مرد کی برابر کی شریک ہے۔ پس نہ اس کو حقیر و ذلیل مخلوق سمجھ کر اس کے حقوق سے محروم کرنا جائز ہوسکتا ہے اور نہ اس کو ضعیف و کمزور خیال کر کے ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کی اجازت ہوسکتی ہے۔ جس طرح کہ اسلام کے نور عظیم کے طلوع سے پہلے ہو رہا تھا ۔ والعیاذ باللہ -
6 اللہ کے نام پاک کی عظمت اور برکت کا ایک عظیم الشان مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ڈرو تم اس اللہ سے جس کے نام پر تم لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ کہ تم خدا تعالیٰ کا نام پاک استعمال کر کے ایک دوسرے کو واسطہ دیتے، اور سوال کرتے ہو، مثلًا یہ کہ اللہ کے لئے ‘ یا خدا کے واسطہ ایسے کرنا ‘ یا اللہ کے نام پر یہ دیدو، وہ دیدو، وغیرہ، (مدارک ‘ خازن ‘ جامع، روح وغیرہ) اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو تم سے اللہ کا نام لے کر پناہ مانگے تم اس کو پناہ دے دیا کرو، اور جو اللہ کے نام سے سوال کرے تم اس کی حاجت پوری کردیا کرو، ( ابوداؤد، کتاب الادب، واحمد و نسائی وغیرہ) تو خلق و ایجاد اور وجود وبقاء سے متعلق اس وحدہ لاشریک کی دیگر بیشمار نعمتوں کے علاوہ تم اس کے نام پاک سے ہی کس قدر فائدہ اٹھاتے ہو، پھر کس طرح اس کی گنجائش ہوسکتی ہے کہ تم اس کو بھول جاؤ، یا اس کی عبادت و بندگی میں دوسروں کو اس کے ساتھ شریک کرنے لگو ؟ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم سو معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہر نعمت اسی وحد لاشریک کی طرف سے ہے۔ سو جو لوگ اس کے نام پاک سے اپنے حقوق مانگتے ہیں ان کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ ان کے ذمے بھی اس کے کچھ حقوق و فرائض عائد اور واجب ہوتے ہیں ان کی ادائیگی کی بھی اس کو فکر و کوشش کرنی چاہئے وباللّٰہ التوفیق۔
Ayahs 4:3–47 رشتوں کے بگاڑ سے بچنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور ڈرو تم لوگ رشتوں [ کے بگاڑ ] سے "۔ کہ ان کے بارے میں کہیں تم قطع رحمی یا حق تلفی کے مرتکب نہ ہوجاؤ کہ یہ بڑا کبیرہ گناہ ہے، حدیث پاک میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قاطع رحم، یعنی رشتہ داری کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا (بخاری کتاب الادب، مسلم کتاب البر والصلۃ والآداب) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس کا ایمان ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر، تو وہ صلہ رحمی کرے، (بخاری کتاب الادب) سو اس سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی ایمان کا تقاضا ہے وباللّٰہ التوفیق وھوالہادی الی الصِّدق والصّواب سو جس طرح تم لوگ خدا کا واسطہ دیکر دوسروں سے اپنے حقوق اور مفادات کا مطالبہ اور سوال کرتے ہو اسی طرح تم رحم کا واسطہ دے کر بھی دوسروں سے سوال اور مطالبہ کرتے ہو۔ اور خدا اور رحم کے واسطے سے کی جانے والی اپیل اور اس پر مبنی مطالبہ چونکہ فطرت پر مبنی ہوتا ہے اس لئے اکثر حالات میں یہ اپیل موثر بھی ہوتی ہے، تو پھر تم لوگ خداوند قدوس اور رحم کے حقوق کیوں بھول جاتے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔
8 یتیموں کے بارے میں عدل و انصاف کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور اگر تمہیں یتیموں سے بےانصافی کا خوف و خدشہ ہو تو تم اس سے بچنے کے لئے آئندہ بتائی جانے والی ہدایات پر عمل کرو اور ان کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہیں کرنا جس طرح کہ زمانہئ جاہلیت میں ہوتا تھا کہ یتیم بچیوں میں سے جن کے پاس مال وغیرہ ہوتا، یا ان کا حسن و جمال ان کو پسند آتا، تو ان کے سرپرست ان سے خود نکاح کرلیتے، اور ان کے مہروں وغیرہ کے سلسلہ میں وہ ان سے بےانصافی کرتے ‘ اس لئے ان کو اس طرز عمل سے روکنے کیلئے یہ پابندی عائد کی گئی ‘ کہ ایسی صورت میں تم ان یتیم بچیوں کے ساتھ خود نکاح کرو بعد میں اسی کے بارے میں سورة نساء کی آخر والی آیت کریمہ نازل ہوئی وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِیْ النِّسَائ الایۃ ا اسی پابندی کو رفع فرما دیا گیا یہ تفسیر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے، آپ ؓ کے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے روایت کی ہے، (بخاری کتاب التفسیر، کتاب النکاح، مسلم، ابودؤد، کتاب النکاح) سو اس طرح دین حق کی ان رحمتوں بھری تعلیمات نے ان مظلوم عورتوں کو اس ظلم و ستم سے ہمیشہ کے لئے سے نجات دلا دی فالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ بہرکیف اس پابندی کا تعلق اس خاص پس منظر سے ہے، اور اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جو عورتیں تمہارے لئے حلال ہوں ان سے تم نکاح کرلو بشرطیکہ ان کی تعداد چار سے کسی صورت زائد نہ ہونے پائے اور تم ان کے درمیان عدل قائم رکھ سکو۔ ورنہ تم لوگ اس اجازت واستحقاق کے حق نہ ہوؤ گے۔
9 یتیموں کے بارے میں بےانصافی کے اندیشے سے متعلق حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکنے کا اندیشہ ہو تو تم ان دوسرے عورتوں سے نکاح کرلیا کرو جو تمہیں پسند ہوں دو دو تین تین اور چار چار۔ اسلام چونکہ دین فطرت اور دین حق ہے، اور اس کی مقدس تعلیمات سراسر حکیمانہ اور عادلانہ ہیں، اس لئے اس نے نہ تو کثرت ازدواج پر بالکل پابندی عائد کی، کہ اس کی ضرورت بہرحال رہتی ہے، جو کہ بعض اوقات استحباب اور جواز کے درجے میں ہوتی ہے، اور بعض اوقات لزوم و وجوب کے درجے میں، اور نہ ہی اس نے اس کی کھلی اور غیر مشروط چھٹی دی ہے، بلکہ زیادہ سے زیادہ چار تک کی اجازت دی ہے، اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ تم لوگ متعدد بیویوں کے درمیان عدل و انصاف قائم رکھ سکو ‘ پس اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم ان کے درمیان عدل و انصاف نہیں کرسکو گے، تو پھر تم ایک سے زیادہ نکاح مت کرو، یہ طریقہ تمہیں حق و انصاف پر قائم و استوار رکھنے کے لئے زیادہ صحیح ہے، سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بیویوں کے معاملہ میں عدل و انصاف کی شرط ایک ایسی اٹل شرط ہے کہ اس کے لئے کسی لچک کی کوئی گنجائش نہیں، اور تعدد ازدواج کے سلسلے میں اس شرط کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
10 بیویوں کے بارے میں عدل وانصاف کی تعلیم اور ایک مغالطے کی تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم [ ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان ] انصاف نہیں کرسکو گے تو پھر تم ایک ہی بیوی پر اکتفاء کرو یا اپنی ان باندیوں پر جن کے مالک ہوں تمہارے داہنے ہاتھ۔ یہ اس بات کے زیاد قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔ تَعُوْلُوْا عول سے بنا ہے جس کے معنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں، یعنی راہ حق و صواب سے ادھر یا ادھر ہوجانا، سو اس سے روکا اور منع فرمایا گیا ہے، کہ یہ ظلم و زیادتی اور بےانصافی ہے، اور دین حق کبھی ظلم و زیادتی اور بےانصافی کی اجازت نہیں دے سکتا، والحمدللہ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم، مگر واضح رہے کہ اس سے مراد وہ عدل و انصاف ہے جو انسان کے اپنے اختیار میں ہو، یعنی کھانے پینے اور بود و باش وغیرہ امور میں، رہ گیا معاملہ قلبی میلان اور طبعی رحجان کا تو وہ اس میں داخل نہیں کہ وہ انسان کے بس میں نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا، وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْ اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النَّسَائ وَلَوْحَرَصْتُمْ فَلا تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْل فَتَذَرُوْھَاَ کَالْمُعَلَّقَۃ الایۃ (النسائ۔ 129) یعنی تم لوگ اپنی عورتوں کے درمیان کبھی انصاف نہیں کرسکو گے اگرچہ تم اس کی پوری حرص بھی کرو، پس تم کسی ایک طرف پوری طرح ایسے نہ جھک پڑنا کہ دوسری کو اس طرح کردو جس طرح کہ وہ لٹکی ہوئی ہے۔ اور جیسا کہ نبی اکرم ﷺ اپنی زوجات مطہرات کے درمیان ظاہری اور اختیاری حقوق کی تقسیم کے بعد فرمایا کرتے تھے، یعنی اے میرے اللہ یہ میری تقسیم ہے ان امور کے بارے میں جو میرے اختیار میں ہیں، پس ان امور کے بارے میں میری گرفت نہیں فرمانا جو میرے بس اور اختیار میں نہیں ہیں، سو اس آیت کریمہ میں زوجات کے درمیان جس عدل کی نفی ہے اس سے مراد وہ عدل و انصاف ہے جو دل کی محبت اور تعلق کے اعتبار سے ہوتا ہے، لہٰذا اس سے منکرین حدیث کا وہ مغالطہ رفع ہوجاتا ہے، جو وہ تعدد ازواج کے بارے میں لوگوں کو دیتے ہیں، کیونکہ جو عدل و انصاف مطلوب و مامور ہے وہ اور ہے اور جس کی نفی کی جا رہی ہے وہ اور۔ سو ان دونوں کو ملا کر مغالطے میں ڈالنا ایک ابلیسی منطق ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 4:512 مال کے بارے میں اسلام کا عادلانہ اور حکیمانہ نقطہئ نظر : سو یہ ہے مال کے بارے میں اسلام کا وہ عادلانہ اور حکیمانہ نقطہ نظر جو قرآن حکیم کے اس لفظ " قِیَامًا " سے مستفاد ہوتا ہے، کہ نہ تو اس کو مقصود حقیقی اور معبود قرار دے کر اس کی پوجا کرنے لگ جاؤ، اور پوری متاع حیات کو اس کے لئے تج کر رکھ دو ، جیسا کہ عام دنیا دارمادہ پرستوں کا حال ہے، اور نہ ہی اسے یونہی ضائع کرو کہ یہ بہرکیف تمہاری زندگی کیلئے قیام وبقاء کا سبب اور گزران کا ذریعہ ہے، بلکہ اس کو جائز حدود کے اندر رہ کر جائز طریقوں سے کماؤ اور صحیح جگہوں اور جائز مواقع پر خرچ کرو، تاکہ اس طرح یہ تمہارے لیے خیر و برکت اور آخرت کی کمائی کا ذریعہ بن جائے اور دوسروں کے کام آئے اور پورے معاشرے کی صلاح و فلاح کا ذریعہ بن جائے۔ سو دین کی تعلیمات مقدسہ پر عمل کرنے سے مال سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
13 دلجوئی کیلئے بھلی بات کہنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان سے بھلی بات کہہ دیا کرو مثلًا یہ کہ یہ مال تمہارا ہی ہے ہم تو محض اس کے محافظ اور نگران ہیں اور بس، جب تم سمجھدار ہو جاؤگے تو یہ تمہارے حوالے کردیا جائے گا وغیرہ ‘ تاکہ وہ مطمئن رہیں، اور تاکہ اس طرح ان کی دلجوئی ہوتی رہے اور ان کے اندر کسی طرح کی غلط فہمی پیدا نہ ہونے پائے، کہ اس سے آگے کئی طرح کے مفاسد جنم لے سکتے ہیں، وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم سو بھلی بات کہنا شریعت کی تعلیمات مقدسہ کا ایک اہم عنوان ہے، جو ہر جگہ مطلوب و مفید ہے اور اس کے بڑے منافع و فوائد ہیں، اسی لئے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَقُوْلُوْا للنَّاس حُسْنًا۔ یعنی لوگوں سے بھلی بات ہی کہا کرو، وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ وَیُرِیدُ وَعلی مَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 4:614 یتیموں کا مال کھانے سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ان کے مال مت کھاؤ حد ضرورت سے زیادہ اور حاجت سے پہلے۔ دوسرا ترجمہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ جلدی جلدی کہ مبادا وہ بڑے ہوجائیں، تو پھر کھانے کا موقع نہ مل سکے، مآل دونوں تعبیروں کا ایک ہی نکلتا ہے، اور یہ دونوں ہی باتیں مقصود و مطلوب ہیں اور اصل مقصود اس یتیم کے مال کو ناحق کھانے اور ہڑپ کرنے سے روکنا ہے، کہ تم یتیموں کا مال نہ حد ضرورت سے زیادہ کھاؤ اور نہ جلدی جلدی، تاکہ اس کے بلوغ سے پہلے پہلے اس کو زیادہ سے زیادہ ہڑپ کرسکو، کہ یہ مال بہرحال تمہارے پاس امانت ہے، جس کی حفاظت کرنا تمہاری ذمہ داری ہے، اور اس کی جو ابدہی تم نے کرنی ہے، اور اس ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور کرنی ہے جس کے نزدیک تمہارا ظاہر اور باطن ایک برابر ہے، اس لئے اس سے اپنے باطن اور اپنی نیتوں کا معاملہ بھی ہمیشہ درست رکھو کہ اس کے حضور حاضر ہو کر تم نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب بہرحال دینا ہے اور اس کا پورا پورا صلہ و بدلہ پانا ہے۔ پس ہر کوئی ہمیشہ اسی بات کو اپنے سامنے رکھے کہ وہاں اور اپنے اس خالق ومالک کے حضور میرا معاملہ کس طرح کا ہوگا ؟ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُ ویرید وعَلٰی مَا یُحِبُّ ویرید جَّل جَلالہ وعم نوالہ۔
15 یتیم کے مال سے دستور کے مطابق لینے کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو ضرورت مند ہو تو وہ دستور کی مطابق کھا سکتا ہے۔ کہ جس میں نہ افراط ہو نہ تفریط، اور نہ حدود سے تجاوز، بلکہ ضرورت کے مطابق اور اس قدر جتنا کہ ایک مزدور اپنی مزدوری کی اجرت لیتا ہے اور بس، (معارف وغیرہ) سو یتیم کا سرپرست اگر مستغنی ہو تو اس کو یتیم کے مال سے کچھ لینے سے بچنا اور پرہیز کرنا چاہئے اور اگر وہ غریب اور ضرورتمند ہو تو وہ دستور کے مطابق اس سے کچھ فائدہ اٹھا سکتا ہے یعنی اتنا فائدہ جو کہ اس کی ذمہ داری کی نوعیت، جائداد کی حیثیت، مقامی حالات، اور سرپرست کے معیار زندگی کے اعتبار سے معقولیت کی حدود کے اندر اور بقدر کفایت و ضرورت ہو، اور ان امور میں پابندی خدا کے خوف اور اس کے حضور جوابدہی کے احساس سے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔
16 یتیم کا مال سپرد کرتے وقت گواہ رکھنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جب تم ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو تم اس پر گواہ رکھ لیا کرو اور گواہ رکھنے کا یہ حکم استحباب کیلئے ہے، نہ کہ وجوب کے طور پر، تاکہ بوقت ضرورت تمہارے کام آسکے، یہ رائے حنفیہ کی ہے جبکہ مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک یہ حکم وجوب کیلئے ہے، (المراغی، المعارف وغیرہ) بہرکیف اس سے ہدایت فرمائی گئی کہ یتیم کا مال اس کے حوالے کرتے وقت کچھ ثقہ اور معتبر لوگوں کو اس پر گواہ بھی بنا لیا کرو، تاکہ کسی سوئے ظن اور نزاع و خلاف کا احتمال باقی نہ رہے۔ اور اگر کبھی نزاع و خلاف کی ایسی کوئی صورت پیدا ہوجائے تو گواہوں کی گواہی سے اس کا ازالہ اور دفعیہ ہو سکے۔ سو اسلام کی تعلیمات مقدسہ امن وامان کی کفیل اور خیرات و برکات کا ذریعہ وسیلہ ہیں۔ فالحمد للہ رب العالمین۔
17 اللہ تعالیٰ کے محاسبے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کافی ہے حساب لینے کیلئے۔ اس کو نہ گواہوں کی ضرورت ہے، نہ تحریروں اور دستاویزوں کی، کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ پس اصل اور بنیاد یہ ہے کہ تم اس کے ساتھ اپنا معاملہ ہمیشہ درست رکھو سبحانہ و تعالی، گواہ رکھنے کا حکم تو ظاہری ضرورتوں کی تکمیل اور قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے ہے ورنہ اصل چیز یہی ہے کہ انسان اپنے خالق ومالک کے ساتھ اپنا رویہ درست رکھے کہ حساب اسی وحدہ لاشریک کے حضور اور اسی کی جناب اقدس و اعلی میں دینا ہے، سو اگر کسی قسم کی خیانت کا ارتکاب کیا گیا تو ہوسکتا ہے کہ دنیا کے شاہدوں اور گواہوں کی نگاہ سے وہ اوجھل رہے، لیکن اس خالق ومالک مطلق کی نگاہ سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ کہ وہ اپنے بندوں کے اعمال کو پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
Ayah 4:718 استحقاق میراث کی اساس و بنیاد قرابت و رشتہ داری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ میراث کی بنیاد اور اس کا استحقاق قرابت و رشتہ داری پر ہے، نہ کہ کسی اور امرپر، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا کہ وہ عورتوں اور بچوں کو میراث میں حصہ نہیں دیتے تھے، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ میراث وہی پاسکتا ہے، جو دشمن کے مقابلے میں تیر چلا سکے، جان و مال کا دفاع کرسکے، اور غنیمت لاسکے، نیز رشتہ داری میں بھی مدار الاَقْرَبْ فَالْاَ قْرَبْ کے اصول پر ہے، کہ جو سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوگا اس کی موجودگی میں اس کے بعد والا محروم ہوگا، سبحان اللہ ! کیسا عمدہ اور جامع اصول اور ضابطہ ہے جو کہ عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، فَلِلّٰہ الحمدُ وَالمِنَّۃُ قَبْلَ کُل شَیْئ وَبَعْدَ کُل شَیْئٍ بہرکیف میت کے ترکے میں رشتہ داروں کا حق ہے، سو یتیموں کے حقوق کو بیان کرنے کے بعد، اب اس ارشاد سے اس قانون میراث کی تمہید ذکر فرمائی جا رہی ہے، جس میں مردوں اور عورتوں دونوں کے حقوق ان کے والدین اوراقرباء کے ترکے میں متعین فرما دیئے گئے ہیں، تاکہ زور آور عصبات اور دوسرے وارثوں کے لئے مورث کی تمام املاک و جائداد پر قابض ہوجانے کا کوئی موقع باقی نہ رہے، جیسا کہ اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا، اور آج بھی جہاں ظلم اور زور زبردستی کا دور دورہ ہے، وہاں ایسے ہی ہوتا ہے، سو اسلام نے قانون میراث کے ذریعے اس طرح کے ہر ظلم کا دروازہ بند کردیا فالحمد للہ رب العالمین۔ لیکن افسوس کہ آج مسلم معاشرے میں اس پر عمل نہیں ہو رہا الا ماشاء اللہ ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے راہ حق و ہدایت پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
19 وارث کو اس کا حق دینا ضروری ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ان کا حق دو مقرر کردہ حصے اور فریضے کے طور پر۔ یعنی اس کا دینا اور اداء کرنا ضروری ہے، کہ یہ ان کا حق اور مقرر کردہ حصہ ہے، سو جس کا جو اور جتنا حصہ قاعدہ اور قانون کے مطابق بنتا ہو وہ اس کو دے دیا جائے، اس میں کسی طرح کی کوئی کمی بیشی نہ کی جائے کہ یہ اس کا حق ہے جو اللہ کی طرف سے اس کو ملا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، یہاں پر ان آیات کریمہ کا یہ پہلو بھی واضح رہے کہ اوپر کی آیات کریمات تلاوت کرتے ہوئے جب آدمی اس آیت پر پہنچتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ یتیموں کی برکت سے دوسروں کے حقوق متعین کرنے کی راہ بھی کھل گئی، یعنی جو خود حقوق سے محروم تھے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے حقوق حاصل کئے بلکہ ان کی بدولت دوسروں کو بھی حقوق حاصل ہوگئے، خاص طور پر عورتوں کا ذکر اس طرح آیا ہے کہ پہلی بار ان کو بھی مردوں کے پہلو بہ پہلو حقداروں کی صف میں جگہ ملی، اور اپنے والدین اوراقرباء کے ترکے میں سے ان کا حصہ بھی بطور فرض کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین فرما دیا گیا خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، فللّٰہ الحمد جَلَّ وَعَلَا۔
Ayah 4:820 میراث کا استحقاق نہ رکھنے والوں کے لئے بھلی بات کی تلقین : یعنی جن کا ترکے میں حصہ نہ ہو ان کو کچھ دے دیا کرو اور بھلی بات کہہ دیا کرو، تاکہ ان کی دلجوئی ہوجایا کرے ‘ اہل بدعت کے بعض بڑوں کی بدعت پرستی ملاحظہ ہو کہ اس آیت کریمہ سے انہوں نے بعض مروجہ بدعات یعنی تیجہ وغیرہ کے لئے دلیل کشید کرنے کی سعیٔ مذموم کی ہے، ِوَالْعِیَاذ باللّٰہ حالانکہ اس کا یہاں کوئی تعلق و ذکر ہی نہیں، نہ تیسرے دن کا کوئی سوال ہے، نہ تین کے ہند سے ہی کا کوئی ذکر ہے، یہاں تو ذکر صرف میراث کی تقسیم کا ہے، وہ جب اور جیسے ہو، اور جہاں ہو، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان جب راہ حق و صواب کی پٹڑی سے اتر جاتا ہے تو وہ کس قدر بھٹک جاتا ہے اور کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے، وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حصے معین ہوجانے کے بعد میراث کے قانونی حقدارتو وہی لوگ ہوں گے جن کے حصے مقرر فرما دیئے گئے ہیں، لیکن صلہ رحمی اور خاندانی اور انسانی ہمدردی کے عام حقوق پھر بھی باقی رہیں گے، اس لئے یہاں ارشاد فرمایا گیا کہ تقسیم میراث کے موقع پر اگر قرابت دار، اور یتیم اور مسکین آموجود ہوں، تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دلا کر ان کی دلداری کی جائے، اور ان کی ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے ان سے بھلی اور دلداری کی بات کی جائے، تاکہ ان کی دل شکنی نہو، سبحان اللہ، دین متین نے دوسروں کی دلجوئی اور دلداری کا کتنا خیال رکھا ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 4:921 یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کیلئے ایک موثر انداز تعلیم و تبلیغ : پس جو بھلائی اور خیر خواہی تم لوگ اپنے ان بےسہارا یتیم بچوں کیلئے چاہو، اسی کا معاملہ تم دوسروں کے ان یتیم بچوں کے ساتھ بھی کرو، جو تمہاری کفالت اور پرورش میں ہوں، جس طرح تم چاہتے ہو کہ تمہارے پیچھے رہ جانے والے بچوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ ہو، اس طرح تم ان کے بارے میں بھی ایسا ہی چاہو کہ جس طرح آج یہ بچے یتیم اور بےسہارا ہیں اسی طرح کل تمہارے بچے بھی ہوسکتے ہیں، سو جو لوگ یہ بات اپنے پیش نظر رکھیں گے وہ دوسروں کے یتیم بچوں کا کبھی کوئی حق نہیں مار سکتے، اور ان کے ساتھ کبھی کسی زیادتی کا ارتکاب نہیں کرسکتے، بہرکیف اس ارشاد سے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ آدمی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ جس طرح دوسروں کے بچے یتیم ہوتے ہیں، اس کے بچے بھی یتیم ہوسکتے تھے، اور ہوسکتے ہیں، تو انسان سوچے کہ ایسی صورت میں اس کو اپنے بچوں کے بارے میں کیا کچھ اندیشے ہوسکتے تھے اور ہوسکتے ہیں، سو اس حقیقت کو پیش نظر رکھ کر اس کو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ سو یتیموں کے ساتھ حسن سلوک ایک اہم مطلب ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 4:1022 یتیموں کا مال کھانے والوں کے ہولناک انجام کا بیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ظلم و زیادتی کے ساتھ یتیموں کا مال کھانے والے اپنے پیٹوں میں دوزخ کی آگ ڈال رہے ہیں، والعیاذ باللہ، اور ایسی آگ جو ابتلاء و آزمائش کے تقاضوں کی بنیاد پر آج اس جہاں میں نظر نہیں آتی، کہ مجاہدہ اور امتحان کے اس عالم کا تقاضا یہی ہے، لیکن کل قیامت کے اس جہان میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہوگا، اس میں وہ سامنے آجائے گی، اور سب کو نظر آئے گی، کہ وہ عالم عالم مشاہدہ ہوگا، جہاں حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے ‘ چناچہ روایات میں آتا ہے کہ حشر کے روز ایسے لوگوں کے مونہوں اور نتھنوں وغیرہ ہر منفذ اور سوراخ سے دھواں نکل رہا ہوگا، جس کو دیکھ کر سب لوگ پہچان لیں گے کہ یہ یتیموں کا مال کھانے والے لوگ ہیں، وَالْعِیَاذ باللّٰہِاسی لئے رسول اللہ ﷺ نے یتیم کا مال کھانے کو سبع موبقات یعنی ان سات بڑے مہلک گناہوں میں سے ایک قرار دیا ہے، جو تباہ و برباد اور ہلاک کردینے والے ہیں، وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمَ اللہ ہمیشہ ہر غلط قدم سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
Ayahs 4:11–1323 اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت و عنایت کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو تمہاری اولادوں کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ اولاد جو کہ انسان کو سب سے زیادہ محبوب اور پیاری ہوتی ہے، اور جس کے لئے وہ سب پاپڑ بیلتا، اور طرح طرح کی مشقتیں برداشت کرتا ہے، اس کے لئے بھی رب تعالیٰ اس کو اس طرح تاکیدی حکم دیتا ہے، تاکہ کہیں ان کی کوئی حق تلفی نہ ہوجائے، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے، پس اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ ہماری اولادوں پر ہم سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے، جل جلالہ پس کتنے ظالم اور کس قدر ناشکرے ہیں وہ لوگ، جو اپنی اولادوں کو اس وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کی تعلیم و تلقین نہیں کرتے، اور اسمیں تساہل بلکہ غفلت اور لاپرواہی سے کام لیتے ہیں، وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم یہاں پر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ تقسیم میراث سے متعلق جو احکام ارشاد فرمائے گئے ہیں ان کو اللہ پاک نے اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے اور وصیت کا صحیح مفہوم عربی زبان میں یہ ہے کہ کسی شخص پر یہ ذمہ داری ڈالی جائے کہ جب فلاں صورت پیش آئے تو وہ فلاں طریقہ یا فلاں طرز عمل اختیار کرے، اس میں وصیت کرنے والے کی پیش بینی خیر خواہی اور اس کی شفقت کا پہلو بھی مضمر ہوتا ہے، اور اس کے اندر ایک عہد و معاہدہ کی ذمہ داری بھی پائی جاتی ہے۔ اردو میں ایسا کوئی لفظ نہیں پایا جاتا جو اس لفظ کے ان تمام مضمرات پر حاوی اور مشتمل ہو اس لئے حضرات مترجمین نے اس کا ترجمہ مختلف الفاظ سے کیا ہے اور ہم نے اپنے ترجمہ میں اس کے لئے یہ الفاظ اختیار کئے ہیں ۔ والحمد للہ جل وعلا -
24 میراث میں ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر : سو اس سے معلوم ہوا کہ میراث میں اصل اور مقرر شدہ حصہ تو لڑکیوں کا ہے، اور لڑکوں کا حصہ اسی کے حساب سے اس کا دوگنا رکھا گیا ہے، اور پھر مردوں کے لئے یہ دوگنا حصہ بھی اس لئے رکھا گیا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں کمانے اور خرچ کرنے کی اصل ذمہ داری مرد کی ہے نہ کہ عورت کی، اسی لئے عورت جب بچی ہوتی ہے تو اس کا خرچہ اس کے باپ کے ذمے ہوتا ہے، جب وہ بیوی بن جاتی ہے تو اسکا نفقہ اس کے خاوند کے ذمے ہوتا ہے، اور جب وہ ماں ہوجاتی ہے تو اس کا خرچہ اس کی اولاد کے ذمے ہوتا ہے، ہاں مخصوص حالات میں جب اسے کمانے کی ضرورت پڑجائے تو اسلامی حدود کے اندر، اور پردے کے ساتھ وہ ایسا کرسکتی ہے، کہ اپنی ضروریات کی تحصیل و تکمیل کیلئے وہ خود کمائی کرے، لیکن یہ استثنائی صورت ہے، اصل بات وہی ہے جو پہلے مذکور ہوئی، پس آج کل جو عورتوں کے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی بات کی جاتی ہے، یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں، بلکہ یورپ وغیرہ کے ان مادہ پرست ملکوں اور قوموں کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا چربہ ہے، جن کے یہاں مادہ اور معدہ ہی سب کچھ ہے، ایمان و اخلاق کی وہاں کوئی قدر و قیمت ہی نہیں، بلکہ پیٹ بھرنا اور بطن و فرج کی خواہشات کی تکمیل کرنا ہی ان لوگوں کی زندگی کی معراج ہے اور بس، جبکہ اسلام کی تعلیمات مقدسہ کی رو سے اصل چیز ایمان و عمل اور اخلاق و کردار کی وہ دولت ہے جس پر دنیا و آخرت کی صلاح و فلاح کا مدارو انحصار ہے، بہر کیف اسلام کے نظام معاشرت میں چونکہ کفالت کی ذمہ داری اصل میں مرد ہی کی ہوتی ہے اور خلقی صفات کے اعتبار سے وہی اس کا اہل ہے اس لئے میراث میں اس کا حصہ دو گنا رکھا گیا ہے۔ اور یہی تقاضا ہے عقل ونقل کا۔
25 تنفیذ وصیت اور ادائیگیئ قرض تقسیم میراث سے پہلے : اسی لئے میت کی میراث کی تقسیم، اس کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی، اور وصیت کی تنفیذ کے بعد ہی عمل میں لائی جاسکتی ہے، اور یہاں پر جو دین (قرض) کا عطف وصیت پر واؤ کی بجائے حرف او سے کیا گیا ہے تو اس سے ان دونوں یعنی قرض اور وصیت کی تساوی اور برابری کا ثبوت ملتا ہے، یعنی یہ دونوں اپنی اہمیت اور اصل فرضیت کے اعتبار سے باہم مساوی و برابر ہیں، (محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) پھر ان دونوں میں بھی ذکر کے اعتبار سے اگرچہ وصیت مقدم ہے مگر اہمیت اور ادائیگی کے اعتبار سے قرض مقدم ہے، جیسا کہ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے فیصلے میں قرض (دَین) کو وصیت پر مقدم رکھا ہے، (ترمذی کتاب الفرائض) لیکن چونکہ وصیت کا ادا کرنا بڑا بھاری اور گراں ہوتا ہے ایک تو اس لیے کہ وہ کسی مقابل اور عوض کے بغیر ہوتی ہے اور دوسرے اس لیے کہ اس کا کوئی مطالبہ اور پیچھا کرنے والا نہیں ہوتا، اس لیے ذکر میں اس کو یہاں پر مقدم رکھا گیا ہے، بہرکیف دین یعنی قرض اور وصیت دونوں کا تعلق چونکہ حقوق الانسان سے ہے اس لئے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اسی لئے ان کی اس عظمت اہمیت کی بناء پر ان کے تقاضوں کو مقدم رکھا گیا ہے، اور ارشاد فرمایا گیا کہ میت کے ترکہ اور میراث کی ان کے ورثاء اور مستحقین میں تقسیم سے قبل دین یعنی قرض کی ادائیگی، اور وصیت کی تنفیذ ضروری ہے، اس کے بعد ہی میت کے ترکہ کو اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم کیا جاسکے گا۔ علم فقہ اور میراث میں اسی ترتیب کو بیان کیا گیا ہے۔ اور یہی عقل ونقل دونوں کا تقاضا ہے۔
26 تقسیم میراث مقررہ حصوں کے مطابق : پس تم لوگ ورثاء کے حقوق اسی طرح اداء کرو جس طرح اللہ نے مقرر فرمائے ہیں کیونکہ تم لوگ نہیں جانتے کہ تمہاری اولاد میں سے تمہارے نفع کے اعتبار سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے، اس لئے تم ان کے بارے میں صحیح معیار قائم نہیں کرسکتے، کیونکہ تمہاری عقل و فکر کے زاوئے محدود ہیں، اور تم اغراض و اَہواء کے جالوں میں پھنسے ہوئے لوگ ہو، اس لئے اللہ پاک نے میراث اور حصوں کی تقسیم کے سلسلہ میں معاملہ تم پر نہیں چھوڑا بلکہ سب کچھ خود ہی طے فرما دیا، ورنہ تم اسی طرح کی بےانصافیاں کرتے جن کے بعض نمونے زمانہ جاہلیت میں پائے جاتے تھے کہ کمزور و بےسہارا بچوں اور عورتوں کو حق میراث سے محروم کردیا جاتا تھا، پس تمہاری خیر اور بہتری اسی میں ہے کہ تم لوگ ورثاء کے حقوق اور ان کے مقرر کردہ حصوں کو اسی طرح ادا کرو۔ جس طرح کہ حضرت حق جل مجدہ، نے مقرر فرمائے ہیں۔ نہ کسی کے حصے میں کوئی کمی اور کوتاہی کرو اور نہ اس میں زیادتی و اضافہ۔ بلکہ ہر ایک کو اس کا پورا حق دو ۔
27 اللہ تعالیٰ کے اوامرو ارشادات کی اہمیت و عظمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ سب کچھ جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے۔ اس لئے اس کا ہر حکم علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے، پس تم لوگ بےچون و چرا اس کے حکم و ارشاد پر اعتماد کرتے ہوئے اسے دل و جان سے اپنایا کرو کہ اسی میں تمہاری خیر اور بھلائی ہے، دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی، اور اس کے سوا اور کسی کے بھی حکم و ارشاد کی یہ شان نہیں ہوسکتی، کہ کمال علم و حکمت کی یہ شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی ہوسکتی ہی نہیں، بہرکیف آیت کریمہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم و حکمت کا حوالہ دے کر اس کے احکام و ارشادات کی عظمت و اہمیت کو واضح فرما دیا گیا ہے، اور آگاہ فرما دیا گیا کہ میراث کی یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے علم کامل اور حکمت بےپاباں پر مبنی ہے، اس لئے اس پر نہ کسی کے لئے کسی اعتراض کی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے، اور نہ ہی اس تقسیم کا کوئی متبادل ممکن ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کا علم ماضی حال اور سب پر حاوی اور ظاہر و باطن اور حال و مآل سب پر ایک برابر محیط ہے سبحانہ و تعالیٰ ، اور اس کے ہر قول و ارشاد اور حکم و فرمان میں گہری حکمت کارفرما ہوتی ہے اور کسی انسان کے بس میں نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کی حکمت کی تمام باریکیوں کو سمجھ سکے۔ سبحانہ و تعالیٰ ، سو اس کا حکم جیسا ہے ویسا ہی بجا لایا جائے، وباللہ التوفیق۔
Ayah 4:1435 حدود اللہ سے تجاوز کرنے والوں کا انجام نہایت ہولناک ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں کیلئے دوزخ کی آگ اور رسوا کن عذاب ہے کہ انہوں نے اپنے تکبر و غرور کی بناء پر حق سے منہ موڑا تھا (جیسا کہ عموماً ہوتا ہے) اس لئے اب اس کو اس رسوا کن عذاب کا مزہ چکھنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ عذاب مہین (رسوا کن عذاب) ایسے شخص کیلئے ہے جو تجاوز حدود یعنی حدوں کے پھلانگنے کے اس جرم کو حلال جانتا ہو، اور اس کی پرواہ ہی نہ کرتا ہو، کہ ایسا کرنا کفر ہے جسکی سزا عذاب مہین یعنی رسوا کن عذاب ہے۔ رہ گئے وہ لوگ جن سے بشری تقاضوں کی بناء پر ایسے ہوجائے اور وہ اس پر اصرار کرنے کی بجائے توبہ و استغفار کرلیں وہ اس زمرے میں نہیں آتے، (مدارک التنزیل وغیرہ) بہرحال دین سارے کا حاصل اور خلاصہ اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود کا التزام اور ان کی پابندی ہے اور ان سے خروج اور تجاوز جو کہ اصل میں نتیجہ ہوتا ہے استکبار و اعراض اور اتباع ہویٰ کا، وہ دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہر مرض سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 4:15–1636 اِرتکاب فاحشہ سے متعلق ایک عارضی حکم : سو یہ ایک عارضی اور وقتی حکم وقتی تھا، جو کہ بعد میں حد زنا کے نزول سے منسوخ ہوگیا ‘ جس پر حضور ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا تھا " خُذُوْا عَنِّّیْ خُذُوْا عَنِّیْ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً " (بخاری۔ تفسیر) یعنی " مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کیلئے راستہ مقرر فرما دیا ہے "۔ سو یہ راستہ حد کا راستہ تھا جس کا حکم بعد میں سورة نور میں نازل فرمایا گیا جس کے مطابق " محصن " یعنی شادی شدہ کیلئے ارتکاب زنا پر " رجم " یعنی سنگساری کی سزا ہے اور غیر محصن یعنی غیر شادی شدہ کیلئے سو کوڑوں کی سزا ہے۔ سو ارتکاب فاحشہ سے متعلق سورة نساء میں ارشاد فرمودہ مذکورہ بالا حکم ایک عارضی اور وقتی حکم تھا، جو بعد میں نازل ہونے والے سورة نور کے حکم سے منسوخ ہوگیا۔ (محاسن التاویل، معارف القرآن اور قرطبی وغیرہ) ۔ " فاحشۃ " کھلی ہوئی بےحیائی اور بدکاری کو کہتے ہیں۔ اور یہ لفظ زنا کی تعبیر کے لئے معروف ہے اور { مِنْ نِّسَائِکُمْ } یعنی " تمہاری عورتوں میں سے " کی اس قید کا مطلب اور اس سے مراد یہ ہے کہ بدکاری کے اس جرم کا ارتکاب کرنے والی عورت کا تعلق اگر مسلمانوں کے معاشرے سے ہو ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم -ِبہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والی ایسی عورتوں کے متعلق یہ ایک وقتی اور عارضی حکم ہے۔ اور یہ کہ اس کے متعلق آخری اور مستقل حکم بعد میں نازل ہونے والا ہے۔ چناچہ سورة نور میں زنا سے متعلق جو حکم نازل ہوا اس سے یہ وعدہ پورا ہوگیا جیسا کہ ابھی اوپر گزرا۔ اور جس میں ارشاد فرمایا گیا کہ زنا کے مرتکب کو سو کوڑے مارے جائیں خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ جبکہ وہ غیر محصن ہو اور محصن کے لیے رجم کی سزا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 4:1741 جہالت بمعنی نادانی : یعنی " جہالت " کا لفظ یہاں پر عدم علم کے معنی میں نہیں، بلکہ نادانی اور بےوقوفی کے معنی میں ہے۔ کیونکہ جو بھی کوئی گناہ کرتا ہے، وہ دراصل حماقت اور نادانی ہی کی بنا پر کرتا ہے، کہ وہ وقتی خواہشات و جذبات اور دوسرے عوامل و عوارض سے مغلوب و متاثر ہو کر اور گناہ کے عواقب و نتائج سے غافل و لاپرواہ ہو کر ہی اس کا ارتکاب کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حضرات صحابہ کرام اور دوسرے ثقہ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں جہالت کا یہی مفہوم مراد ہے۔ (جامع البیان، وغیرہ) ۔ سو یہاں پر جہالت کا لفظ علم کے مقابلے میں نہیں، حلم کے مقابلے میں ہے جیسا کہ شاعر کہتا ہے ۔ الَا لا یَجْہلَنَّ اَحَدٌ عَلَیْنَا ۔ فَنَجْہَلُ فَوْقَ جَہْل الْجَاہِلِینَ ۔ یعنی " خبردار کوئی ہمارے خلاف جہالت کا ارتکاب نہ کرے کہ اس کے نتیجے میں ہم تمام جاہلوں کی جہالت سے بڑھ کر جہالت کا ارتکاب نہ کرنے پر مجبور ہوجائیں -
42 جلد توبہ کرنے کی ترغیب : سو اس سے جلدی توبہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ بندہ کو ارتکاب معصیت کے بعد فوراً ہی اپنے رب تعالیٰ کے حضور جھک جانا چاہیئے۔ لیکن توبہ کا دروازہ عالم نزع کے طاری ہونے تک کھلا رہتا ہے، جیسا کہ آیات و احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ چناچہ ایک مشہور حدیث میں ارشاد فرمایا گیا " اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْد مَا لَمْ یُغَرْغِرْ " ( کثیر وغیرہ) یعنی " اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ کو قبول فرماتا ہے، یہاں تک کہ وہ غرغرہ کی کیفیت تک پہنچ جائے "۔ پس جو توبہ موت کے آثار ظاہر ہونے سے پہلے کرلی جائے گی وہ قریب ہی کی توبہ ہوگی، جیسا کہ حضرات اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ چناچہ حضرت ضحاک کہتے ہیں کہ موت سے پہلے جو بھی توبہ ہوگی وہ قریب ہی کی توبہ ہوگی اور ابن عباس کہتے ہیں جو توبہ فرشتہ موت کو دیکھنے سے پہلے ہوگی وہ قریب ہی کی توبہ کہلائے گی۔ (مدارک التنزیل، محاسن التاویل، جامع البیان اور ابن کثیر وغیرہ) اور مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا، اور اس کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے جب تک کہ حجاب واقع نہ ہوجائے۔ عرض کیا گیا کہ حجاب سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کی موت شرک ہی کی حالت میں آجائے " اَنْ تَمُوْتَ وَہِیَ مْشْرِکَۃُ " ابن کثیر محاسن التاویل وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ توبہ کو موت کے اس آخری وقت تک ٹالا اور موخر رکھا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قبول توبہ کی آخری حد ہے ورنہ اصل بات یہی ہے کہ توبہ فوری طور پر اور جس قدر جلد ممکن ہو کرلی جائے۔ تاکہ گناہ کی میل اور اس کی سیاہی دل و دماغ پر جمنے نہ پائے۔ اسی لیے یہاں پر اس کو " من قریب " کے کلمات کریمہ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ سو یہ بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے کرم بےپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے ۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَلَہُ الشُّکُرْ ۔ اللہ ہر گناہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور جو ہوجائے اس کو معاف فرما دے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayahs 4:18–2043 دو قسم کے لوگوں کیلئے کوئی توبہ نہیں : سو یہ دونوں قسم کے لوگ اپنی ہی تقصیر و کوتاہی کی بنا پر قبولیت توبہ کے شرف سے محروم رہینگے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی ایک وہ شخص جو آخر وقت تک گناہوں میں مشغول رہا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں تک کہ جب موت اس کے سامنے آگئی تو وہ توبہ کرنے لگا کہ یہ توبہ اختیاری نہیں اضطراری ہے۔ کیونکہ یہ عذاب کو دیکھنے کے بعد کی توبہ ہے اور مُعَاینہ عذاب کے بعد، جبکہ مطلوب وہ توبہ ہے جو کہ اپنے ارادہ و اختیار سے ہو۔ اور دوسرا وہ شخص جو زندگی بھر اپنے کفر و باطل پر ہی اڑا رہا یہاں تک کہ وہ مرتے وقت یا آخرت میں پہنچ کر توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی، کہ کافر کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ موت کے بعد کے ایمان اور اس وقت کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ انسان مرنے کے ساتھ ہی عذاب کا معائنہ کرلیتا ہے اور معائنہ عذاب کے بعد کا نہ ایمان معتبر ہے نہ توبہ کہ وہ ایمان بالمشاہدہ ہے جبکہ اصل مطلوب ایمان بالغیب ہے۔ اور اس سے سرفرازی کا موقع دنیاوی زندگی ہی میں ہے۔
Ayah 4:2149 ازواج کا اپنے شوہروں سے ایک پختہ عہد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان سے اپنا دیا ہوا مال کس طرح واپس لو گے جبکہ وہ تم سے ایک پختہ عہد لے چکی ہیں۔ عقد نکاح کی صورت میں۔ کہ یہ ایسا پختہ عہد ہے کہ اگر شوہر طلاق نہ دے تو کوئی طاقت اس پختہ عہد کو توڑ نہیں سکتی۔ سو اللہ پاک کا نام بہت عظمت والا ہے۔ اس لئے اس کے نام پاک کے حوالے سے کیا جانے والا عہد اس قدر پختہ اور مضبوط ہوتا ہے، کہ اس جیسا دوسرا کوئی عہد ہوسکتا ہی نہیں۔ چناچہ صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " تم اپنی بیویوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے ان کو اللہ کی امانت کے ذریعے حاصل کیا ہے، اور اللہ کے کلمہ کے ذریعے تم نے ان کی شرم گاہوں کو اپنے لئے حلال کیا ہے " (صحیح مسلم، ابن کثیر، محاسن التاویل، اور صفوۃ البیان، وغیرہ) ۔ سو اس " پختہ عہد "، " میثاق غلیظ " کو نبھانا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا دین و ایمان اور عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ اور یہ " پختہ عہد "، " میثاق غلیظ " جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا کہ یہ میاں بیوی کے درمیان ایک ایسا پختہ عہد اور مضبوط معاہدہ ہے کہ اس کے ذریعے وہ دونوں زندگی بھر کے سنجوگ کے عزم کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور اس عقد اور بندھن کے نتیجے میں ان میں سے ہر ایک دوسرے پر خاص حقوق بھی حاصل کرتا ہے۔ اور اس کے لئے اپنے ذمہ خاص فرائض اور ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اٹھاتا ہے۔ سو بظاہر اس میثاق کے الفاظ اگرچہ نہایت سادہ اور بہت مختصر ہوتے ہیں لیکن ان کے مضمرات و تضمنات بہت بڑے اور ان کے نتائج وثمرات بہت دور رس ہوتے ہیں۔ جن سے آگے ایک مستقل خاندان کی بنیاد پڑتی ہے اور زوجین سے متعلق خاندانوں کی بہتری اور ان کی عزت اور راحت کا دار و مدار بھی اسی نئے عقد اور بندھن پر ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے تقاضوں کو پورا کرنا عقل ونقل دونوں کا تقاضا ہے ۔ وباللہ التوفیق -