Ayah 4:11 ۔ یعنی ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) سے، وحدت نوع انسانی کا یہ سبق اپنے عملی اور دور رس نتائج کے لحاظ سے کتنا اہم ہے ! آخری جد اعلی ہر گورے اور ہر کالے کے، ہر وحشی اور ہر مہذب کے، ہر ہندی اور ہر چینی کے، ہر حبشی اور ہر فرنگی کے ایک ہی ہیں اور وہ آدم (علیہ السلام) ہیں، یہ نہیں کہ فلاں کے مورث اعلی کوئی اور تھے اور فلاں نسل کے کوئی اور، اور نہ یہ کہ برہمن ذات والے برہما جی کے منہ سے پیدا ہوئے اور کھشتری نسل والے ان کے سینہ سے اور ویش جاتی والے ان کے پیٹ سے اور شدر ذات والے ان کی ٹانگوں سے، اصلا انسان انسان سب ایک ہیں۔ (آیت) ” خلقکم مسئلہ ارتقاء کسی حد تک کسی معنی میں صحیح ہے یا نہیں، قرآن مجید کو اس سے مطلق سروکار نہیں، انسان بہرحال وبہر صورت خلق ضرور ہوا ہے۔ قرآن انسان کی مخلوقیت کو بار بار نمایاں کررہا ہے۔ اور ہر اس نظریہ اور عقیدہ کی تردید کررہا ہے جو انسان کی تخلیق کے منافی ہے۔ (آیت) ” یایھا الناس “۔ خطاب ساری نوع انسانی سے ہے، خواہ کوئی کسی نسل، کسی رنگ، کسی قوم، کسی جنس، کسی ملک کا ہو، ایمان اور ایک درجہ میں تقوی کے مکلف سب ہیں، (آیت) ” اتقواربکم “۔ پروردگار سے ڈرنا اس کے احکام کی مخالفت سے ڈرایا اور روکا جارہا ہے، خود ان کی غایت بھی ربوبیت اور پرورش ہے۔
2 ۔ یعنی حضرت حوا (علیہ السلام) سے، تخلیق حوا کی تفصیلی کیفیت سے قرآن مجید تو یکسر ساکت ہے رہی حدیث سو اس کا بھی یہی حال ہے۔ جس مشہور حدیث کی رو سے حضرت حوا (علیہ السلام) کا حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہونا بیان کیا جاتا ہے اس میں ذکر نہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا ہے نہ حضرت حوا (علیہ السلام) کا، بلکہ محض عورت کی پیدائش اور کج سرشتی کا بیان ہے۔ آثار میں جو روایت ملتی ہے وہ روایت توریت کی آواز باز گشت ہے اور توریت کا بیان حسب ذیل ہے :۔” خداوندا نے آدم پر پیاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکالی اور اس کے بدلے گوشت بھر دیا۔ اور خداوند خدا نے اس پسلی سے جو اس نے آدم (علیہ السلام) سے نکالی تھی ایک صورت بنا کر آدم کے پاس بھیجا “ (پیدائش 2:22، 23) (آیت) ” منھا “۔ ضمیر ھا عموما نفس کی طرف پھیری گئی ہے۔ لیکن ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ (آیت) ” منھا یہاں من جنسھا کے مرادف ہے۔ القول الثانی ماھو اختیار ابی مسلم الاصفھانی ان المراد من قولہ وخلق منھا زوجھا ای من جنسھا (کبیر) اور یہی قول علاوہ ابومسلم کے ابن بحر سے بھی نقل ہوا ہے۔ وقیل ھو علی حذف مضاف التقدیر وخلق من جنسھا زوجھا قالہ ابن بحر وابو مسلم (بحر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عورت کی پیدائش ٹیڑھی پسلی سے محض بہ طور تشبیہ کے ارشاد فرمائی گئی ہو اور مقصود محض اس کے عدم ثبات کو ظاہر کرنا ہو جیسا کہ قرآن مجید ہی میں ہے کہ انسان کی پیدائش جلد بازی سے ہوئے ہے۔ یحتمل ان یکون ذلک علی جھۃ التمثیل لاضطراب اخلاقھن وکونھن لایثبتن علی حالۃ واحدۃ کما جاء خلق الانسان من عجل (بحر) ویحتمل ان یکون المعنی من جنسہ لامن نفسہ حقیقۃ (نہر) اور اس معنی کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ حدیث میں ذکر جنس عورت کا ہے نہ کہ حوا کا۔ ویؤید ھذا التاویل قولہ ان المرأۃ فاتی بالجنس ولم یقل ان حوآء (بحر) اور بعض شارحین حدیث بھی حدیث مذکور کی شرح میں اسی طرف گئے ہیں کہ یہ فطرت نسوانی کی کجی کی طرف صرف استعارہ ہے :۔ استعارۃ للمعوج ای خلقھن خلقا فیہ اعوجاج (کرمانی بہ حوالہ مجمع بحارالانوار جلد 2 صفحہ 294) وقد حمل العوج بعض العلماء علی المجاز والمعنی ان العوج ھو المیل عن الاعتدال وحب الشذوذ ھو شان المرأۃ (حاشیہ تفسیر ابن کثیر، مطبویہ مصر) بخاری کی ایک حدیث میں تو بالکل صاف ہے کہ عورت مثل پسلی کی ہے۔ عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال المراۃ کا لضلع ان اقم تھا کسرتھا (صحیح بخاری، کتاب النکاح حدیث نمبر 1 15) اور یہی حدیث مسلم نے بھی (کتاب الرضاع میں) حضرت ابوہریرہ ؓ ہی کی سند سے نقل کی ہے۔ خود ضلع کے پسلی کا مفہوم تو ثانوی ہے، اصل معنی کجی و انحراف بائبیل ہی کے ہیں۔ الضلع المیل (کتاب الفائق، زمخشری) الضلع الاعوجاج ای الزیغ حتی یمیل صاحبہ عن الاستواء والاعتدال (نہایۃ۔ ابن اثیر)
3 ۔ دونوں جنسیں اسی ایک جوڑے یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) وحضرت حوا (علیہ السلام) سے دنیا میں چلی ہیں۔ (آیت) ’ ’ کثیرا “۔ آدم (علیہ السلام) کے وقت سے لے کر اب تک جو آبادی ہر ملک اور ہر زمانہ کی رہی ہے یا جو قیامت تک ہوگی اس کے مجموعہ پر بھی اگر کثیر کا اطلاق نہ ہوگا تو اور کس پر ہوگا۔
4 ۔ (اپنے حقوق اور مراعات) قال الزجاج تطلبون بہ حقوقکم (بحر) (آیت) ” بہ “۔ یعنی اس کے نام کا واسطہ دلا دلا کر۔ آیت سے اللہ کے واسطہ سے مانگنے کا جواز نکل آیا۔ وفی الایۃ دلالۃ علی جواز المسئلۃ باللہ تعالیٰ (جصاص)
5 ۔ (آیت) ” الارحام “ کا عطف اللہ پر ہے۔ یہ ہے قرابت اور رشتہ داری کی اہمیت اسلام میں، حقیقت میں امت کے نظام اجتماعی کا سنگ بنیاد شریعت نے قرابت یا رحم ہی کو قرار دیا ہے۔ وفی عطف الارحام علی اسم اللہ دلالۃ علی عظم ذنب قطع الرحم (بحر) وقد نبہ سبحانہ تعالیٰ اذا قرن الارحام باسمہ الکریم علی ان صل تھا بمکان منہ (بیضاوی) فیہ تعظیم لحق الرحم وتاکید للمنع عن قطعھا (جصاص) رحم کا اطلاق وسیع ہے۔ جملہ اعزہ و اقرباء اس کے اندر آجاتے ہیں۔ الرحم اسم لکافۃ الاقارب من غیر فرق بین المحرم وغیرہ (قرطبی) من المجاز الرحم القرابۃ وبینھما رحم ای قرابۃ قریبۃ (تاج) اور اسی معنی میں یہ حدیث بھی آئی ہے :۔ الرحم معلقۃ بالعرش تقول الامن وصلنی وصلہ اللہ ومن قطعنی قطعہ اللہ، (رحم عرش الہی سے متعلق دعا کرتا رہتا ہے کہ جو مجھے جوڑے رکھے اللہ اسے جوڑے رہے اور جو مجھے کاٹے اللہ اسے کاٹے) فقہاء اس پر متفق ہیں کہ قرابت کا لحاظ واجب ہے اور اسے قطع کرنا جرم ہے۔ اتفقت الملۃ علی ان صلۃ الرحم واجبۃ وان قطیعتھا محرمۃ (قرطبی)
6 ۔ (اور اس نگرانی میں انسان کے ذاتی، خانگی، اجتمائی سارے معاملات آگئے) اگر اس کا اتحضار رہے تو آج خانگی زندگیاں کس قدر خوشگوار ہوجائیں !
Ayah 4:27 ۔ یتیم یعنی بن باپ کے بچوں اور بچیوں کا مسئلہ ہر قوم میں اہم ونازک رہا ہے، قرآن اب یہاں اسی باب میں ہدایتیں دے رہا ہے (آیت) ” واتوا الیتمی اموالھم “۔ یعنی ان یتیموں کے بالغ ہونے پر ان کی جائیداد، ان کا سامان ان کے حوالہ کردو، اور ان اس کے لیے ہرگز ضروری نہیں کہ یتیم اپنی جائیداد کا مطالبہ کرے بھی، وفیہ دلالۃ علی وجوب تسلیم اموال الیتمی بعد البلوغ وایناس الرشد وان لم یطالبوا باداءھا (جصاص) خطاب یتیموں کے اولیاء اور سرپرستوں سے ہے، یتیموں کے سپرد ان کی جائداد ان کے بالغ اور سمجھدار ہوجانے کے بعد ہی کرنا چاہیے اس کے قبل نہیں۔ ان الیتیم لایجب اعطاءہ مالہ قبل البلوغ (جصاص) انما یجب الدفع الیتیم بعد البلوغ وایناس الرش (جصاص) (آیت) ” ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب “۔ یعنی ایسا نہ ہونے پائے کہ ان نابالغ یتیموں کی اچھی چیز نکال کر اپنے مال میں ملالی اور اپنی طرف کی کوئی گھٹیاچیز ان کے حصہ میں شامل کردی ، (آیت) ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم “ یعنی اپنے حصہ کے ساتھ یتیموں کے حصہ کو خلط ملط کرکے۔ ای لاتکلوھا مض مومۃ الی اموالکم (بیضاوی) الی اموالکم ای مع اموالکم (بحر) (آیت) ” انہ “ ضمیر اسی دست درازی اور یتیموں کے مال میں گڑبڑ کرنے کی طرف ہے۔ ای الاکل (قرطبی) ڈاکٹر رابرٹ رابرٹسن مسلم نہیں، کافر ہیں اس پر بھی اس کے قائل ہیں کہ قرآن اور پیغمبر نے یتیموں کے حقوق کے تحفظ کا بہترین انتظام کردیا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 4:38 ۔ یعنی جو یتیم لڑکیاں تمہاری نگرانی وسرپرستی میں ہیں ان کے حقوق مہر وغیرہ پوری طرح ادا نہ کرسکو گے، خطاب یتیم لڑکیوں کے سرپرستوں سے ہے۔ جاہلیت میں ایک دستور یہ تھا کہ یتیم لڑکیاں جو مردوں کی سرپرستی میں ہوتیں تو انکے وہی سرپرست اکثر یہ دیکھ کر کہ کوئی اور ان کی طرف سے مہر وغیرہ کا مطالبہ کرنے والا اور ان کی حمایت پر کھڑا ہونے والا ہے نہیں، ان کے حقوق مار لینے آسان ہیں، انہی کے ساتھ نکاح کرلیتے ان کی جائیدادیں اپنی طرف شامل کرلیتے یا اور طریقوں سے ان کے ادائے حقوق کی طرف سے بےالتفاتی برتتے۔
9 ۔ (ان یتیم، صاحب جائداد، مگر بےحمایتی لڑکیوں کے علاوہ جو اپنی رضا وعدم رضا کھل کر آزادی کے ساتھ ظاہر ہی نہیں کرسکتیں) (آیت) ’ ماطاب لکم “۔ سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ عقل کے ساتھ ساتھ حسن و جمال کے پسند میں طبیعت کے متقضی پر عمل کی بھی پوری اجازت شریعت میں موجود ہے۔ (آیت) ” من النسآء “۔ امرروان ینکحوا سواھن من النساء (جصاص) ای غیرھن (قرطبی) اس میں بالغ نابالغ سب آگئیں۔ والصغار والکبار (جصاص)
10 ۔ یعنی تم پر نکاح کے باب میں کوئی تنگی نہیں۔ اپنی زیرنگرانی یتیم لڑکیوں کو زیر عقد لانے میں اتلاف حقوق کا اندیشہ بھی ہو تو اس خیال کو جانے دو ، باہروالی آزاد عورتوں میں سے انتخاب کرسکتے ہو۔ ایک ہی کا نہیں، ایک سے لے کر چار تک کی گنجائش ہے۔ (آیت) ” وثلث وربع “۔ میں و عطف کا نہیں تخییر کا ہے اور، او، کے مرادف ہے۔ وقد تخرج الواو عن افادۃ مطلق الجمع وذلک علی اوجہ احدھا تکون بمعنی او (تاج) والواو بمعنی اوللتخییر (معالم) خود قرآن مجید میں و کے اس معنی میں استعمال کی مثالیں متعدد ملتی ہیں مثلا :۔ (آیت) ” ان تقوموا للہ مثنی وفرادی (سبا۔ ع 6) (آیت) ’ اولی اجنحۃ مثنی وثلث وربع “۔ (فاطر۔ ع 1) بعض اہل زیغ نے 2 اور 3 اور 4 کے عدد کو جوڑ کر آیت سے استدلال 9 بیویوں کے جواز کا کیا ی ہے۔ اور بعض ظالموں نے تو اس تعداد کو 18 تک پہنچا دیا ہے۔ یہ سرتاسر جہل وزیغ ہے، جہل زبان عرب سے بھی اور جہل سنت رسول اللہ ﷺ سے بھی۔ وھذا کلہ جھل باللسان والسنۃ ومخالفۃ لاجماع الامۃ (قرطبی) اگر نوہی کی تعداد منظور تھی تو صاف ہی کیوں نہ ارشاد ہوگیا، اس قدر گھوم پھیر کر بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی، یہ تعداد ازدواج کی اجازت ہرگز کوئی ایسی چیز نہیں جس پر کسی مغرب زدہ مسلمان کو شرمانے اور اس کی طرح طرح کی تاویلیں کرنے کی ضرورت محسوس ہو، مرد کے قوی اور اس کی جسمانی ساخت و ترکیب ہی اس نوعیت کی ہے کہ بہ کثرت عورتوں میں ایک بیوی اس کی طبعی خواہش کی تشفی کے لیے کافی نہیں ہوتی، مرد و عورت کے اتحاد وتناسل کا جہاں تک تعلق ہے مرد کا عمل چند منٹ میں ختم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد مرد پر جسمانی حیثیت سے کوئی ذمہ داری ہی نہیں۔ برخلاف اس کے عورت کے لیے اس دو منٹی عمل کے نتائج کا سلسلہ دونوں اور ہفتوں نہیں حمل اور رضاعت کی مدت ملا کر ڈھائی ڈھائی سال تک پھیلا ہوا رہتا ہے، پھر حمل کے بغیر بھی ہر جوان تندرست عورت کے لیے ہر مہینہ ایک ایک ہفتہ کی معذوری ایک امر طبیعی ہے۔ اور وہ قانونی نظام کامل نہیں ناقص ہے جو مرد کی طبیعی ضرورتوں کی طرف سے آنکھ بند کرلے اور عورت کی طبیعی معذوریوں کا لحاظ کرکے مرد کے لیے کوئی سہولت جائز نہ رکھے، پھر یورپ کے بڑے بڑے ڈاکٹروں اور ماہرین حیاتیات کی شہادتیں اس تجربہ ومشاہدہ کی تائید میں ہیں کہ طبیعی ضرورت سے قطع نظر مرد کی شہوانی جبلت تنوع پسند بھی ہے اس لیے جو شریعت اس کی اس جبلت کی کوئی رعایت اپنے نظام میں نہیں رکھتی وہ اور کچھ بھی ہو، بہرحال خدائی اور مطابق فطرت نہیں کہی جاسکتی، یہی سبب ہے کہ تاریخ جب سے ساتھ دیتی ہے، داعیان توحید نے اس دستور کو نہ صرف جائز رکھا ہے بلکہ اس پر عمل کرکے اسے اور زیادہ قوت پہنچا رہی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) میں سے کسی کے ہاں بھی یک زوجی کی سند نہیں ملتی، بلکہ بعض کی حرم سرا تو کثرت تعداد کے لیے بھی مشہور ہے۔ ہند قدیم میں اکابر ہنود کی بابت بھی روایتیں وحدت کی نہیں، تعدد ہی کی ہیں اور یورپ وامری کہ میں آج رسم نکاح کو درمیان میں لائے بغیر جو اندھیر کھلے بندوں ہورہا ہے اس کی نقل وحکایت کی بھی تاب ان صفحات میں کہاں سے لائی جائے، اسلام نے ایک طرف تو یک زوجی کی قید اڑا کر تعدد کو سند جواز دے دی اور دوسری طرف اس کی مناسب حد بندیاں بھی کئی کئی طرح کردیں اور یہی اس کی حکمت کا کمال رہا۔
1 1 ۔ (کہ جب تعدد کی صورت ہی نہ ہوگی تو عدل کا سوال ہی پیدا نہ ہوگا) (آیت) ” الا تعدلوا “۔ یعنی بیویوں کے درمیان عدل نہ کرسکو گے اور ان کے حقوق واجب ادا نہ کرپاؤ گے۔ عدل سے یہاں مراد ادائے حقوق واجب میں عدل و مساوات ہے جو انسان کے قصد واختیار کے اندر کی چیز ہے۔ مثلا یہ کہ کوئی بیوی بغیر کھانے، کپڑے، مکان کے نہ رہے باقی جہاں تک محبت طبعی اور تعلق قلب کا سوال ہے اس میں مساوات قدرت بشری سے باہر ہے، اور اس باب میں شریعت نے کوئی گرفت نہیں رکھی ہے۔ اور اس عدل اختیاری میں بھی یہ لازم نہیں کہ ہر معاملہ مساوات عددی ہی کے ساتھ کیا جائے، ایک افریقی بیوی خوگر بالکل دوسری چیزوں کی ہوگی اور امریکی بیوی دوسری چیزوں کی، مسن اور ادھیڑسن کی بیوی کی ضرورتیں، خواہشیں، دلچسپیاں سب ایک کم سن، نوجوان بیوی کی ضرورتوں، دلچسپیوں، خواہشوں سے مختلف ہوں گی، مقصود یہ نہیں کہ ساری بھینسیں ایک ہی لاٹھی سے ہان کی جانے لگیں، مقصود ہر ایک کو بقدر امکان اور بہ لحاظ اس کے ذوق و حالات کے راحت پہنچانا ہے۔ فقہاء نے عدل بین الازواج کو فرض قرار دیا ہے لیکن خود عدل کی تفسیر عدم ظلم سے کی ہے کہ کسی پر زیادتی نہ ہونے پائے، وظاہر الایۃ انہ فرض ان یعدل ای ان الایجوز (درمختار) (آیت) ” فواحدۃ “ کوئی شوہر اگر ظلم وبے انصافی کے ساتھ دو یا زائد بیویاں رکھے تو اس پر ظلم وبے انصافی کا گناہ برابر ہوتا رہے گا لیکن نہیں کہ دوسری بیوی یا بیویوں سے نکاح ہی منعقد نہ ہو، ظلم وجور قانونی انعقاد نکاح کا مانع نہیں،
12 ۔ (آیت) ” او ماملکت ایمانکم “۔ کے لفظی معنی ہیں۔ وہ جن کے مالک تمہارے داہنے ہاتھ میں “ محاورہ میں اس میں سے مراد شرعی مملوک، غلام اور کنیزیں ہوتے ہیں۔ جن کا اب مدت دراز سے ہندوستان بلکہ دنیا کے اکثر ملکوں میں کہیں وجود نہیں۔ اسیران جنگ کا معاملہ ہو کر آئیں۔ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے، انہیں کہاں اور کیسے رکھا جائے، کسی نے اس کا حل جبری مزدوری Forced Labour یا بیگار کو نکالا، کسی نے کچھ اور، ہماری شریعت نے حکم یہ دیا کہ بجائے اس کے کہ ایک بڑی آبادی کا بار حکومت State پر ڈالا جائے، اس تعداد کو افراد میں تقسیم کیا جائے اور ہر فرد اس نووارد کو اپنے خاندان کا ایک جزء بنا لے۔ اس سے کام ہر طرح کا یقیناً لے، لیکن اس کے آرام کا بھی ہر طرح لحاظ رکھے۔ اور ان میں جو عورتیں ہوں ان سے ہمبستری کا حق بھی حاصل رہے، اس کا قیدی ہو کر آنا یہ خود اعلان نکاح کا قائم مقام ہے اور اس کے ہوتے ہوئے کسی مزید ایجاب و قبول اور شاہدین کی ضرورت نہیں اور یہ لوگ آسان شرائط پر اپنی آزادی ہر وقت خرید سکتے ہیں (شرائط کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ملے گی) بلکہ ان کے آزاد کرنے کی فضیلتیں اور اس کے لیے طرح طرح کی ترغیبات خود قرآن مجید ہی میں درج ہیں۔ اور حدیث میں تو اور زائد ہے۔۔۔ حیرت ہے کہ ایسے صاف، سیدھے، شریفانہ، حکیمانہ قانون سے شرمانے اور اسے غیروں سے چھپانے کی ضرورت تجددزدہ مسلمان محسوس کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کا ذہن معا انگریزی کے لفظ Slave اور ان ساری سختیوں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے جو اس لفظ کے تخیل کے ساتھ وابستہ ہیں، حالانکہ ہمارے ہاں تو غلاموں اور غلام زادوں نے بارہا بادشاہتیں کی ہیں اور امرا تو ان میں کثرت سے ہوئے ہیں اور دینی حیثیت سے بڑے بڑے علماء فقہاء وائمہ فن ان میں تابعین ہی کے زمانہ سے پیدا ہونے لگے تھے۔ کنیز کے حقوق بیوی سے کمتر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا ادا کرنا بھی قدرۃ سہل تر ہے۔
13 ۔ ظاہر ہے کہ جب ایک ہی کے ساتھ نباہ ہوگا تو ظلم اور زیادتی کے امکانات بھی بہت گھٹ جائیں گے ، (آیت) ” ذلک “۔ یعنی ایک پر قناعت۔ اشارۃ الی اختیار الواحدۃ (مدارک) (آیت) ” الا تعولوا “۔ عول کے معنی ایک طرف جھک جانے اور جور کرنے کے ہیں۔ (آیت) ” لا تعولوا “۔ کے معنی ہوئے کہ ظلم و زیادتی نہ کرو، العول ھو ترک النصفۃ باخذ الزیادۃ (راغب) من قولھم عال المیزان عولا اذا مال وعال الحاکم فی حکمہ اذا جار (کشاف) معناہ لاتجوروا ولا تمیلوا وھذا ھو المختار عند اکثر المفسرین (کبیر) لا خلاف بین السلف وکل من روی عنہ تفسیر ھذہ الایۃ ان معناہ ان لاتمیلوا وان لا تجوروا (جصاص)
Ayah 4:414 ۔ (آیت) ” صدقتھن “۔ صداق یا مہر شریعت اسلامی میں بیوی کی وہ قیمت نہیں جو شوہر اس کے اولیاء کو دے کر ان سے بیوی حاصل کرتا ہے بلکہ مہر بہ طور ایک نذرانہ کے ہے جو شوہر بہ غرض اکرام و اعزاز براہ راست بیوی کو پیش کرنا اپنے اوپر واجب کرلیتا ہے۔ ہمارے فقہاء نے اس مسئلہ کو صاف کردیا ہے۔ المھر واجب شرعا ابانۃ لشرف الحمل (ہدایہ) عورت کی شرمگاہ نکاح ہوجانے سے شوہر کی ملک نہیں ہوجاتی ملک عورت ہی کی رہتی ہے شوہر کے لیے صرف جائز ہوجاتی ہے۔ الزوج لایملک بدلہ شیئا لان البضع فی ملک المرأۃ بعد النکاح کھوقلبۃ (جصاص) وانما الذی یستحقہ الزوج منھا بعقد النکاح بہ الاستباحۃ لاالملک (جصاص) (آیت) ” واتوالنسآء یہ رقم مہر اپنی بیویوں کو دو نہ کہ ان کے اولیاء ووالدین کو، مہر کی اہمیت اور ادائے مہر کی تاکید شریعت میں بالکل ظاہر ہے۔ گوافسوس ہے کہ امت کا عمل اس کے برعکس ہے مہر کو محض ایک وہمی اور فرضی چیز سمجھ رکھا گیا ہے۔
15 ۔ یعنی اس اجازت کے بعد بےتکلف اسے اپنے کام میں لاسکتے ہو، (آیت) ” فان طبن لکم “۔ بیویوں کی طرف سے یہ ابراء بغیر کسی جبر اور دباؤ کے اور شوہر کے کسی مکروفریب کے بغیر ہونا چاہیے، مہر اگر کسی جبر یا مکر سے معاف کرایا گیا ہے تو قاضی وعدالت کے ہاں سے جو کچھ بھی فیصلہ ہوجائے عنداللہ معاف نہیں سمجھا جائے گا۔ (آیت) ” عن شیء “ چاہے وہ جزء چھوٹا ہو یا بڑا یہاں تک کہ کل کا کل بھی، بیوی اگر شوہر سے مہر وصول کرکے پھر اسے واپس کردے تو اسے ہبہ کہیں گے اور اگر لیے بغیر پہلے ہی معاف کردے تو اس کا نام اصطلاح فقہ میں ابراء ہے اور شرعا دونوں صورتیں بالکل درست ہیں۔ (آیت) ” فکلوہ ھنیئا مریئا “۔ محاورۂ زبان میں مراد اس کے لفظی معنی نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ بیوی کی اجازت کے بعد اس مال کو بےتکلف اپنے تصرف واستعمال میں لاسکتے ہو، تصرفوا فیہ تملکا (روح) لا اعتبار بلفظ الاکل فی ذلک وان المقصد فیہ جواز استباحتہ بطیبہ من نفسھا (جصاص) لیس المقصود صورۃ الاکل وانما المراد بہ الاستباحۃ بای طریق کان (قرطبی)
Ayah 4:516 ۔ (آیت) ” ولا تؤتوا السفھآء “ سیاق میں سفھاء سے مراد وہ یتیم ہیں جو عمر کے اعتبار سے بالغ ہوچکے ہیں لیکن صرف مال کا سلیقہ وانتظام ان میں پیدا نہیں ہوا ہے۔ اور وہ بےتکان اور بےتحاشا اسراف میں مشغول رہتے ہیں۔ المبذرین اموالھم الذین ینفقونھا فی مالا ینبغی ولا قدرۃ لھم علی اصلاحھا (مدارک) وصف الیتامی بانھم سفھاء باعتبار خفۃ احلامہم و اضطراب اراءھم لما فیھم من الصغر وعدم التدرب (روح) لیس السفہ فی ھولاء صفۃ ذم ولا یفید معنی العصیان للہ تعالیٰ وانھا سموا سفھاء لخفۃ عقولھم ونقصان تمیزھم عن القیام بحفظ المال (جصاص) سفہ وسفاہت سے یہاں کسی معصیت یا جرم اخلاقی کی طرف اشارہ کرنا نہیں بلکہ محض ان لوگوں کی انتظامی ناقابلیت کا اظہار مقصود ہے۔ (آیت) ” اموالکم “۔ مراد اس مال سے ہے جو ملک یتیموں ہی کی ہے لیکن فی الحال سرپرستوں کی ولایت میں ہے۔ ای اموالھم التی فی ایدیکم (جلالین) انما اضاف الاموال الی الاولیاء لانھا فی تصرفھم وتحت ولایتھم (بیضاوی) (آیت) ” لکم قیما “۔ ضمیر مخاطب سے مراد عالم انسانیت ہے یعنی مال جو انسان کے لیے مایہ زندگی ہے، جس کے اوپر انسان کی حیات مادی ومعاشرتی کا دارومدار ہے۔ وبہ قواما لابدانکم ومعاشا لاھلکم واولادکم (مدارک) المراد من القیام مابہ القیام (روح) (آیت) ” لکم “۔ کا مطلب یہ ہے کہ مال اللہ کی بڑی نعمت ہے اور بڑی قدر کی چیز۔ ابھی اسے نافہم یتیموں کے ہاتھ میں نہ دے دو ، کہ اس کی قدر و مرتبہ سے ناواقف ہیں وہ ناقدری سے اسے اڑا دیں گے۔ فقہاء نے آیت سے حفظ مال وعدم تضیع مال کے وجوب پر بھی استدلال کیا ہے۔ وفیہ الدلالۃ علی النھی عن تصییع المال ووجوب حفظہ وتدبیرہ والقیام بہ (جصاص) (آیت) ” وارزقوھم۔۔ معروفا “۔ مطلب یہ ہوا کہ اسی جائداد سے یتیموں کی ضرورتیں پوری کرتے رہو، ان کی راحت و آسائش کے سامان کرتے رہو اور بجائے ان کے ہاتھ میں جائیداد دے دینے کے ان سے تسلی کی باتیں کرتے رہو کہ یہ ملک تمہاری ہی ہے تمہاری ہی ہوا خواہی کا تقاضا ہے کہ اسے ابھی تمہارے ہاتھ میں نہ دیا جائے بلکہ انتظار کیا جائے کہ تم میں پوری طرح سمجھ آجائے، ان کی یہ سفاہت ان کے نان ونفقہ میں حائل نہیں ہوسکتی، اور یہیں سے فقہاء نے نالائق اولاد اور بیوی کے نان ونفقہ کے وجوب پر استدلال کیا ہے :۔ فی ذلک دلیل علی وجوب نفقۃ الاولاد السفہ والزوجات (جصاص) (آیت) ” معروفا “۔ معروف کے اندر ہر وہ چیز داخل ہے جو عملا عقل و شریعت کے نزدیک پسندیدہ ہو۔ کل ما سکنت الیہ النفس لحسنۃ عقلا اوشرعا من قول او عمل فھو معروف (مدارک) ای کلاما تطیب بہ نفوسھم (روح)
Ayah 4:617 ۔ یعنی سیانے اور بالغ ہوجائیں، یعنی القدرۃ علی الوطیء (ابن العربی) حتی اذا بلغوا حد البلوغ (بیضاوی) اور بلوغ کی عمر حنیفہ کے ہاں لڑکے کے لیے 18 سال کی اور لڑکی کے لیے 17 سال کی رکھی گئی ہے۔ وشاع عن الامام الاعظم ان السن للغلام تمام ثمانی عشرۃ سنۃ وللجاریۃ تمام سبع عشرۃ سنۃ (روح) ھکذا قالہ ابن عباس وتابعہ القتبی (روح) (آیت) ” وابتلوالیتمی “۔ یعنی ان کے بالغ ہونے سے پہلے ان کی جانچ انتظامی معاملات میں ہوشیاری اور تمیزداری کی کرلیاکرو۔ والاختیار فی استبراء حالہ فی المعرفۃ بالبیع والشری وضبط امورہ وحفظ مالہ (جصاص) خطاب وہی یتیموں کے اولیاء اور سرپرستوں سے چل رہا ہے۔
18 ۔ (بغیر ان کے عمر بلوغ کا انتظار کیے) من غیر تاخیرعن حد البلوغ (مدارک) (آیت) ” فان انستم منہم رشدا “۔ یعنی بلوغ وآزمائش کے بعد اگر ان میں انتظام اور صرف مال کا سلیقہ پاؤ۔ یہاں دیکھنے کی چیز ان کی صرف انتظامی صلاحیت ہوگی نہ کہ ان کی عبادت وتقوی وہدایت کے عام معنی میں۔ ای نوعا من الرشد وھو الرشد فی التصرف والتجارۃ (کشاف) وبین الرشدین اعنی الرشد المونس من الیتیم والرشد الذی اوتی ابراھیم (علیہ السلام) بون بعید (راغب) ای ھدایتہ فی التصرفات وصلاحا فی المعاملات (مدارک) وتنکیر الرشد یفیدان المراد رشد مخصوص وھو الرشد فی التصرف والتجارۃ (مدارک) فاعتبار الدین فی دفع المال غیر واجب باتفاق الفقھاء لانہ لوکان رجلا فاسقا ضابطا لامورہ عالما بالتصرف فی وجوہ التجارات لم یجزان یمنع مالہ لاجل فسقہ (جصاص)
19 ۔ (اور اس وقت تو بہرحال ان کے حوالہ کرنا ہی پڑے گا) وما یکبروا فیطالبوا باموالھم (جصاص) حد کبر میں داخل ہونے کے بعد جائیداد بہرحال صحیح الحواس اصل مالک کو مل جائے گی خواہ رشد سے انتظامی صلاحیت حاصل ہو یا نہ ہو فاترالعقل کے احکام الک ہیں، فیھا دلالۃ علی انہ اذا صار فی حد الکبر الستحق المال اذا کان عاقلا من غیر شرط ایناس الرشد (جصاص) اور حد کبر میں داخلہ کی عمر امام ابوحنیفہ (رح) کے ہاں 25 سال کی ہے کہ اس سن میں انسان دادا بن سکتا ہے۔ ؛ وجعل ابوحنفیۃ (رح) حد الکبر فی ذلک خمسا وعشرین سنۃ لان مثلہ یکون جدا ومحال ان یکون جدا ولایکون فی حد الکبار (جصاص) (آیت) بدارا “۔ کے معنی جلدی کرنے کے ہیں، بدارا ای مسارعۃ (راغب) بدارا ای مبادرۃ (بخاری)
20 ۔ (جائداد یتیم میں تصرف سے) (آیت) ” ومن کان غنیا “۔ ذکر انہی اولیاء یتامی کا ہے، حکم ان کو مل رہا ہے کہ اگر وہ خوش حال ہیں تو انہیں فیس، آنریریم وغیرہ کے نام سے کوئی رقم بھی یتیم کے مال میں سے نہ لینا چاہیے۔ بلکہ اسے محض حسبۃ للہ کرتے رہنا چاہیے۔
21 ۔ یعنی بہ قدر اپنی ضرورت کے ای بقدر الحاجۃ (ابن عربی) بقدر حاجتہ الضروریۃ (روح) یہ رقم، محققین حنفیہ نے صاف کردیا ہے کہ بہ طور اجرت کے نہ ہوگی کہ نگرانی تو ولی کے فرائض میں ہے اور معلوم ہے کہ ادائے فرائض پر اجرت جائز نہیں۔ بلکہ یہ رقم تو الگ سے اللہ کی مقرر کی ہوئی ایک مد ہے۔ ان الرزق لیس باجرۃ لشیء وانما ھو شیء جعلہ اللہ لہ (جصاص) فاخذ الاجرۃ للقاضی ولمن قام بشیء من امور الدین غیر جائز (جصاص) (آیت) ” بالمعروف “۔ یعنی یہ تدبیر کہ اس آمدنی سے خوف عیش کی زندگی بسر کرنے لگے۔ بلکہ صرف اتنا معاوضہ لے جتنا اسے معاشرہ میں متعارف ہو۔
22 ۔ یعنی یہ گواہوں کا حکم تو دنیوی ضابطہ کی تکمیل کے لیے دیا جارہا ہے ورنہ حقیقۃ ہر خیانت اور ہر امانت کا علم تو اللہ کو ہے۔ (آیت) ” فاذا دفعتم الیھم “۔ یعنی جب بعد تحقق شرائط مذکور (بلوغ و قابلیت انتظام) یتیموں کے سپرد ان کی جائیدادیں کرنے لگو۔ (آیت) ” فاشھدوا علیھم “ گواہ اس امر پر کہ یتیموں کا مال ان کے سپرد کردیا گیا۔
Ayah 4:723 ۔ یعنی یہ مورث کی رائے اور اختیار پر موقوف نہیں، حصوں کی ہر تقسیم اور ترکہ کا ہر استحقاق شریعت الہی کا مقرر کیا ہوا قانون ہے۔ یہ نہیں کہ جو روشن خیال جب جب چاہیں اٹھیں اور اس قانون میں قطع وبرید کرکے رکھ دیں۔ (آیت) ” للرجال نصیب۔۔۔ ولنسآء نصیب “۔ یعنی حق میراث مردوں عورتوں دونوں کو یکساں پہنچتا ہے۔ اس میں رد آگیا ان مذہبوں کا جنہوں نے عورت کو محض اس کے عورت ہونے کی بنا پر حق وراثت سے محروم رکھا ہے۔ ہندوؤں کی طرح جاہلیت عرب میں بھی عورتوں کا کوئی حصہ ہی نہ تھا۔ (آیت) ” مما قل منہ اوکثر “۔ منہ میں ضمیر غائب ترکہ یا مال کی طرف ہے۔ والضمیر یعود الی ما ترک (مدارک)
Ayah 4:824 ۔ یعنی نرمی اور خوش اسلوبی سے معذوری کردو۔ خشونت سے کام نہ لو۔ (آیت) ” اذا حضر القسمۃ “۔ یعنی جس وقت وارثوں کے درمیان تقسیم ترکہ ہورہی ہو، ای قسمۃ الترکۃ (مدارک) (آیت) ” اولوالقربی “۔ ایسے عزیز مراد ہیں جن کا میراث میں کوئی حق نہیں۔ فی من لایرث (مدارک) (آیت) ” منہ “۔ ضمیر ترکہ کی طرف ہے۔ ای مما ترک الوالدان والاقربون “ (مدارک) یہ تقسیم صرف بالغوں کے حصہ میں سے ہوگی۔ نابالغوں کے حصہ میں سے خیر و خیرات یا کسی کی مراعات جائز نہیں۔ فارزقوھم اس میں بڑی بحث وگفتگو ہوئی ہے کہ یہ حاضر الوقت غیر وارثوں کو ترکہ میں سے دینے کا حکم وجوبی ہے یا محض استحبابی، تحقیق یہ ہے کہ یہ درجہ استحباب کی چیز ہے۔ واجب نہیں ہے۔ اور اگر ابتداء میں واجب تھا بھی تو اب حکم وجوب منسوخ ہے۔ ابن عباس ؓ صحابی، ابن جبیر تابعی، حسن بصری تابعی، اور محققین حنفیہ کا یہی مذہب ہے۔ قال یوجب ان یکون اعطاء ھولاء الحاضرین عند القسمۃ استحبابا لاایجابا (جصاص) والصحیح ان ھذا علی الندب (قرطبی)
Ayah 4:925 ۔ (اور ان یتیموں کے حسب مصلحت) یعنی ان کی تعلیم، تادیب، تسلی، دلجوئی ہر پہلو کا لحاظ رہے، ذکروا بالنظر فی مصلحتھم (ابن عربی) القول السدید من الاوصیاء ان لایؤذوا الیتامی ویکلموھم کما یکلمون اولادھم بالادب الحسن والترحیب (کشاف) مفسرین کا ایک گروہ اس طرف بھی گیا ہے کہ یہ خطاب اولیاء کو نہیں بلکہ قریب الموت شخص کے عزیزوں قریبوں کو ہے کہ وہ اسے سمجھائیں کہ اسے حق صرف ایک ثلث میں صدقہ کا ہے اور باقی مال مقررہ وارثوں کے لیے چھوڑ جائے، (آیت) ” فلیتقوا اللہ “۔ اللہ سے ڈرتے رہیں کہ کہیں خود ان کے چھوٹے یتیم بچوں کے ساتھ یہ معاملہ پیش آکر نہ رہے۔ (آیت) ” ذریۃ ضعفا “۔ ضعیف سے مراد بوڑھی نہیں، کمزور اور کم سن اولاد ہے۔ ای اولادا صغارا (معالم۔ جلالین) (آیت) ” قولا سدیدا “۔ یعنی سچی اور صحیح بات جس میں کوئی پہلو شروفسادواتلاف حقوق کا نہ نکلتا ہو۔ ھوالعدل والحق الذی لا خلل فیہ ولا فساد فی رجحان بوارث او حرمان لذی قرابۃ (جصاص)
Ayah 4:1026 ۔ خیانت، غصب، بددیانتی ہر صورت میں بری ہیں، یتیموں کے مال میں ان کا وقوع قبیح تر ہے۔ (آیت) ” یاکلون اموال الیتمی “۔ یاکلون سے مراد یتیم کا مال کسی طریقہ سے بھی بےجا صرف میں لے آنا ہے۔ یہ مراد نہیں کہ صرف کھانے ہی کے کام میں آئے، اردو محاورہ میں بھی روپیہ ” کھاجانا “۔ ایسے موقع پر بڑے وسیع معنی میں آتا ہے۔ خص الاکل بالذکرلانہ اعظم ما یبتغی لہ الاموال (جصاص) (آیت) ” ” انما۔۔ نارا “ یعنی اس حرام خوری کا انجام یہی ہوتا ہے۔
Ayah 4:1127 ۔ ترکہ کی تقسیم اجتماعی ومعاشرتی زندگی کے اہم ترین مسائل میں سے ہے اور اس کی عادلانہ تقسیم پر معاشرہ کی فلاح و بہبود کا بہت کچھ مدار ہے۔ اور وہ نام نہاد آسمانی کتابیں دنیا کے ہدایت نامہ کی حیثیت سے کامل نہیں ناقص ہیں۔ جو ایسے اہم مسئلہ کی تفصیلات سے خالی ہوں۔ (آیت) ’ یوصیکم اللہ “۔ اب تصریح سے یہ یاد دلا دیا کہ یہ احکام کسی بندہ کے تجویز کیے ہوئے نہیں۔ حکیم مطلق اور عالم الغیب حاکم برحق کے ارشاد کیے ہوئے ہیں۔
28 ۔ یہ ایک عام اصل بیان کردی کہ ہر لڑکے کو دہرا اور ہر لڑکی کو اکہرا حصہ ملے گا، خواہ لڑکا اور لڑکی ایک ایک ہوں یا کئی۔ (آیت) ” حظ الانثیین “۔ دنیا کی بہت سی مذہبی اور غیر مذہبی شریعتیں ایسی ہیں جن میں لڑکی کا سرے سے کوئی حصہ ہی نہیں اور عرب جاہلیت میں بھی ترکہ کے حصہ دار صرف مرد (اور مردوں میں بھی بالغ اور قابل حرب مرد) تھے۔ ایسے قانون کا ظالمانہ اور خلاف فطرت ہونا بالکل ظاہر ہے، لیکن اب اس کے رد عمل کے طور پر بعض حلقوں سے جو یہ صدا اٹھی ہے کہ مرد و عورت کا حصہ مساوی ہونا چاہیے یہ دوسری بےاعتدالی اور افراط کی جگہ تفریط ہے۔ عورت کی فطری ساخت، جسمانی ترکیب اور عضویاتی فرائض نے اسے اس قابل ہی نہیں رکھا ہے کہ تربیت نسل کے ساتھ ساتھ اس پر فکر معاش کی ذمہ داریاں بھی ڈال دی جائیں، قدرت نے اور اس لیے صحیح اور سچی شریعت نے اس کا ذمہ دار مرد کو ٹھہرایا ہے۔ گھر اور خاندان کا خرچ چلانا اس کے سر رکھا ہے۔ اس لیے یہ ظلم نہیں عین عدل ہے کہ ترکہ میں سے حصہ اس صوری اور ظاہری اعتبار سے بھی عورت گھاٹے میں نہیں رہتی۔
29 ۔ (یا صرف دو ہی اولاد میں) (آیت) ” ان کن نسآء “ یعنی اگر وارث صرف لڑکیاں ہی ہوں۔ (آیت) ” فوق اثنتین ‘ فوق کے معنی یہاں لازمی طور پر ” زائد “ کے نہیں۔ یہ صلہ محاورۂ عرب میں اکثر زائد بھی آجاتا ہے اور خود قرآن مجید میں بھی اس کے زائد استعمال کی مثالیں موجود ہیں۔ مثلا (آیت) ” فاضربوا فوق الاعناق “ ان ذکر فوق ھھنا صلۃ للکلام (جصاص)
30 ۔ لڑکیاں اگر صرف دو ہوں تو ان کا کل حصہ 32 ہونا ظاہر ہے ہر ایک کو 3 1 کے حساب سے۔ لیکن یہ شرح یہیں ختم ہوجاتی ہے۔ تین کو 3 3 یعنی کل کا کل نہیں مل جائے گا، بلکہ لڑکیاں جتنی بھی ہوں ان کا مجموعی حصہ ترکہ کا 32 ہی رہے گا، باقی 3 1 میں اور اعزاء خاص شریک ہوں گے، تفصیل فرائض کی کتابوں میں ملے گی ،
31 ۔ (کل ترکہ کا) اور بقیہ نصف حصہ میں دوسرے متعین اعزہ شریک ہوں گے، لیکن اگر وہ نہ موجود ہوئے تو پھر وہ نصف بھی اسی لڑکی کی طرف عود کر آئے گا۔
32 ۔ اور بقیہ 65 اولاد او دوسرے وارثوں میں تقسیم ہوگا۔
33 ۔ خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اور خواہ تعداد میں ایک ہو یا زائد۔
34 ۔ (اور بقیہ دو تہائی باپ کا) (آیت) ” ورثہ ابوہ “۔ یعنی علاوہ اولاد کے بھائی بہن بھی نہ ہوں صرف ماں باپ ہی وارث ہوں ،
35 ۔ (اور بقیہ 65 حصہ باپ کا) باپ کے باعث بھائی بہنوں کو نہ ملے گا۔ (آیت) ان کان لہ اخوۃ یہ بھائی بہن خواہ سگے ہوں یا سوتیلے۔ یہ وہ صورت ہے کہ میت کے اولاد کوئی نہیں، لیکن ماں باپ بھی ہیں اور بھائی بہن بھی۔ (آیت) ” اخوۃ “ کا لفظ یہاں بھائی بہن دونوں کے لیے ہے۔ صیغہ مذکر قاعدۂ زبان کے مطابق محض تغلیبا لایا گیا ہے۔
36 ۔ (اگر کچھ ہو) وارثوں کو حصہ اس وقت ہوگا جب پہلے مورث کا قرض ادا ہولے اور اگر وہ ایک ثلث جائداد سے متعلق کچھ وصیت کرگیا ہے تو اس وصیت کا اجراء ہولے۔ فقہاء نے یہاں دو قاعدے اور بیان کیے ہیں، ایک یہ کہ قرض اور وصیت میں ادائے قرض مقدم ہے۔ گو قرآن مجید میں لفظ وصیت پہلے مذکور ہے۔ الدین مؤخر فی اللفظ وھو مبتدابہ فی المعنی علی الوصیۃ (جصاص) انما قدمنا الدین علی الوصیۃ لقولہ (علیہ السلام) الا ان الدین قبل الوصیۃ (مدارک) دوسرے یہ کہ ادائے قرض اور اجراء وصیت ان دونوں سے بھی پہلے مورث کی تجہیزوتکفین کے لیے خرچ نکالنا ضروری ہے۔
37 ۔ یعنی نفع دنیوی ہو یا اخروی تمہیں کون زیادہ پہنچا سکے گا ! (آیت) ” ابآؤکم وابنآؤکم “۔ کے تحت میں صرف باپ ہی نہیں بلکہ دادا، پردادا، اوپر کے سارے اصول آگئے۔ اسی طرح (آیت) ” ابنآؤکم “ کے تحت میں نہ صرف صلبی بلکہ اولاد در اولاد نیچے کے سارے فروع آگئے۔ یہاں یہ جتا دیا ہے کہ ترکہ کی تقسیم مورث کی رائے و اجتہاد پر نہیں چھوڑی گئی ہے۔ حکیم وخبیر حاکم مطلق نے خود ہی سب قاعدے ضابطے مقرر کردیئے ہیں۔ آیت سے حسن معاملت کے ساتھ ساتھ حسن معاشرت کی بھی تعلیم نکل آئی۔ انسان کو چاہیے کہ شفقت و رحمت اور حسن سلوک اپنے سارے بڑوں اور چھوٹوں کے ساتھ رکھے، اسے کیا خبر کہ کون اس کے زیادہ کام آکر رہے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
38 ۔ اور اللہ کے علم و حکمت سے بھلا کسی بندہ کی فہم و دانش کو کوئی نسبت ہوسکتی ہے ؟ آیت سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ احکام میراث کے باب میں قرآن مجید کو کس درجہ تاکید اور اہتمام منظور ہے۔ شروع (آیت) ” یوصیکم اللہ “۔ سے کیا، اور آیت کے خاتمہ پر پھر دہری دہری بلکہ تہری تہری تصریح وتاکید موجود ہے۔ اور پھر ہم لوگ بھی ٹھیک اس کے مقابل غفلت اور بےپروائی میں کس قدر پڑے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” کان “۔ یہاں ماضی کے معنی میں نہیں، بلکہ دوام و استمرار کے اظہار کے لیے ہے فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ چند حالات ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن میں میراث جاری نہ ہوگی مثلا ( 1) وارث مرتد ہوجائے (2) وارث اپنے مورث کے قتل عمد کا مجرم ہو۔ (3) وارث جاکر دارالحرب میں قیام اختیار کرلے۔ تفصیل ان موانع میراث کی، فقہ وفرائض کی کتابوں میں ملے گی ،
Ayah 4:1239 ۔ (نہ تم سے نہ کسی اور شوہر سے) ظاہر ہے کہ اتنے جزء میں خطاب شوہروں سے ہے۔
40 ۔ (اور بقیہ 43 دوسرے وارثوں کا حصہ ہے) بیوی کے ترکہ میں 4 1 حصہ شوہر کا ہر صورت میں ہے، خواہ بیوی کوئی اولاد چھوڑے یا نہ چھوڑے، (آیت) ” ان کان لھن ولد “۔ یہ اولاد خواہ تم سے ہو یا پہلے شوہر سے۔
41 ۔ حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا ہے کہ میراث کی تقسیم ہر حال میں اجرائے وصیت اور ادائے قرض کے بعد ہی ہوگی اور ان دونوں میں بھی ادائے قرض مقدم ہے۔
42 ۔ اور بیویاں اگر کئی ہوں تو شوہر کے ترکہ کی وہی چوتھائی سب میں برابر تقسیم ہوجائے گی۔
43 ۔ (اور شوہر کے ترکہ کا بقیہ 87 دوسرے وارثوں کی طرف جائے گا) بیویوں کو 8 1 بہر صورت ملے گا خواہ اولاد ہو یا نہ ہو۔ (آیت) ”‘ ان کان لکم ولد “۔ یہ اولاد خواہ انہی بیویوں سے ہو یا کسی اور عورت سے۔
44 ۔ (اور بقیہ 32 حصہ دوسرے وارثوں کی طرف جائے گا) (آیت) ” فھم شرکآء “ یہ شرکت برابری کی رہے گی، یعنی مذکر ومؤنث کا حصہ برابر کا رہے گا ،۔ کللۃ۔ اردو میں اس کے لیے کوئی ایک لفظ موجود نہیں۔ کلالہ عربی میں ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کے نہ باپ داد میں سے کوئی موجود ہو اور نہ اولاد، اولاد در اولاد میں سے۔
45 ۔ یعنی مورث کسی وارث کو نقصان نہ پہنچائے نہ عملا نہ ارادۃ۔ عملا کی مثال یہ کہ وصیت 31 سے زائد کی کردی ایسی وصیت قانون شریعت کے خلاف ہونے کی بنا پر ناقابل نفاذ ہوگی۔ ارادۃ یہ کہ وصیت رکھے تو 31 کے اندر ہی۔ لیکن نیت ومقصود یہ ہو کہ وارث کا حصہ کٹ جائے۔ ایسی صورت ایسی وصیت کا نفاذ قانونی تو ہوجائے گا لیکن وصیت کرنے والا عند اللہ گنہگار ٹھہرے گا، اسلام اپنے پیرو وں سے قدم قدم پر عمل کے ساتھ ساتھ نیت کا بھی اخلاص وصداقت چاہتا ہے۔
46 ۔ ختم کے قریب پھر یاد دلا دیا کہ یہ سارا قانون میراث شریعت کے ہر دوسرے حکم کی طرح حاکم مطلق اور حکیم برحق کا نازل کیا ہوا ہے۔ کسی انسانی عقل و دماغ کا سوچا ہوا کسی کونسل، کمیٹی، مجلس کا وضع کیا ہوا نہیں جو آج پاس ہوا اور کل اس میں ترمیم ہوجائے۔
47 ۔ چناچہ علم کامل کی بنا پر وہ خوب واقف ہے کہ کون اس قانون پر عامل ہے اور کون اس سے منحرف۔ اور حلم کامل کے اقتضاء سے بہت دفعہ مجرموں کی گرفت وہ فورا نہیں کرتا۔
Ayah 4:1348 ۔ (جنہیں ہلکا سمجھنا خود اپنے کو خدائی عدالت میں مجرم بنانا ہے) (آیت) ” تلک “ کا اشارہ ان تمام احکام کی جانب ہے جو یتیموں اور وصیتوں اور ترکہ کے باب میں ابھی گزر چکے ہیں۔ اشارۃ الی الاحکام التی ذکرت فی باب الیتامی والوصایا والمواریث (مدارک)
49 ۔ اور یہ فوز عظیم جس اطاعت کا مل پر مشروط ہے اس کے اندر اس قانون میراث کی پابندی بھی آگئی۔ (آیت) ” یطع اللہ ورسولہ “۔ اللہ اور رسوک کی اطاعت سے مراد اس قانون کی پابندی ہے جو اللہ کا اتارا ہوا اور رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا ہے۔
Ayah 4:1450 ۔ یہ عذاب دائمی بھی ہوگا اور معذب کے حق میں ذلت آفرین بھی، اس عذاب کے مورد کافر ہی ہوں گے۔ (آیت) ” یتعد حدودہ “۔ یعنی حد سے اس قدر باہر نکل جائے، کہ ان احکام کے احکام الہی ہونے ہی سے انکار کردے۔ الکافر ھو الذی تعدی الحدود کلھا (مدارک) ای یتعد حدودہ استحلالا (مدارک عن الکلبی) (آیت) ” ومن یعص اللہ “۔ میں معصیت سے مراد معصیت کفر وشرک ہے۔ فسر الضحاک ھنا المعصیۃ بالشرک وقال الکلبی ومن یعص اللہ یکفرہ (مدارک)
Ayah 4:1551 ۔ یعنی زنا کے مرتکب ہوں۔ (آیت) ” الفاحشۃ “۔ فاحشۃ قولی وفعلی ہر بڑی برائی کے لیے عام ہے۔ الفاحشۃ ماعظم قبحہ من الافعال والاقوال (راغب) الفعلۃ القبیحۃ (کبیر) یہاں مراد زنا ہے۔ کنایۃ عن الزنا (راغب) واجمعواعلی ان الفاحشۃ ھھنا الزنا (کبیر) استعملت کثیرا فی الزنا لانہ من اقبح القبائح وھو المراد علی الصحیح (روح) (آیت) ” نسآئکم “۔ نساء ہر عورت کے لیے عام ہے یہاں مراد بیویاں ہیں۔
52 ۔ زنا کی ایک سزا ابتداء اسلام میں عمرقید یا دائم الجس تھی۔ (آیت) ” اربعۃ منکم۔ اربعۃ “۔ اول تو نصاب شہادت اس معاملہ میں دوگنا ہے یعنی جہاں مسلمان مرد یا عورت کی عزت کا سوال ہے، گواہوں کی تعداد بجائے دو کے چار ہونا چاہیے اور پھر یہ چاروں :۔ ( 1) مسلم ہوں غیر مسلم نہ ہوں (2) آزاد ہوں، غلام نہ ہوں (3) عاقل ہوں، فاتر العقل نہ ہوں (4) بالغ ہوں، نابالغ نہ ہوں ، (5) گواہی چشم دید دیں، سماعی یا قیاسی شہادت کا یہاں دخل نہیں،۔ (آیت) ” فامسکوھن “۔ یہ قید حکام یا اہل حل وعقد کے حکم سے ہونا چاہیے۔ ھذا خطاب للحکام (معالم) فامسکوھن فی البیوت یعنی گھروں کے اندر انہیں قید یا نظر بند کردو بعض ظالموں نے جو اس سے پردہ مراد لیا ہے انہوں نے اپنی عقل وفہم پر ظلم کیا ہے فاحبسو ھن فی البیوت واجعلوھا سجنا علیھن (بیضاوی)
53 ۔ (اپنے رسول پر وحی کے ذریعہ سے) فقرہ خود اس پر دلالت کررہا ہے کہ گھروں کے اندر دائمی نظر بندی کی سزا عارضی تھی اور آئندہ کوئی دوسری سزا تجویز ہونے والی ہے چناچہ کچھ روز بعد سورة النور میں قرآن ہی کے ذریعہ سے دوسری سزا تجویز ہوئی۔ یعنی زانی مراد اور زانی عورت دونوں کو لیے سو 100 سو 100 تازیانے۔ اور سنت رسول ﷺ نے اس کی مزید تشریح یہ کی کہ یہ سزا ناکت خدا کے لیے ہے اور بیا ہے ہوؤں کے لیے جرم کی سزا سنگساری ہے۔ وھذا کلہ کان قبل نزول الحدود فنسخت بالجلد والرجم والجلد فی القرآن والرجم فی السنۃ (معالم)
Ayah 4:1654 ۔ یعنی سزا اس جرم کے سارے مجرموں کے لیے ہے۔ بہت سی قومیں اپنے کو مہذب کہلانے والی آج بھی موجود ہیں جن کے ہاں حرام کاری (جب تک کہ بہ جبر نہ ہو) سرے سے قابل تعزیز ہی نہیں، بہت سی قوموں میں حرام کاری صرف شادی کے بعد ہے۔ بن بیا ہوں اور بن بیاہیوں کے لیے یہ کوئی جرم ہی نہیں۔ آیت اس سارے غلط و گمراہ کن نظریات کی تردید کررہی ہے۔ (آیت) ” والذن یاتینھا “۔ میں ھا کی ضمیر (آیت) ” فاحشۃ “ کی طرف ہے یعنی کوئی بھی جوڑا جو حرام کا مرتکب ہو۔ اس عموم میں ہر طرح کے مرتکب آگئے، بیا ہے اور کنوارے، مرد و عورت سب، بجز فاترالعقلوں کے۔ (آیت) ” فاذوھما “۔ اجراء سزا کا یہ حکم حکام یا اہل حل وعقد کو ہے، الخطاب ھنا للحکام (روح)
55 ۔ (اجرائے سزا کے بعد) جن جرائم کی حد شرعی مقرر ہے ان میں اجرائے حد سے قبل توبہ کافی نہیں۔
56 ۔ یعنی مجرم جب سزا بھی بھگت چکا اور اب تائب بھی ہے تو اب اس پر مزید طعن وملامت وغیرہ جائز نہیں۔
57 ۔ اسلام کا خدا محدود ومقید قسم کا خدا نہیں کہ مغفرت ذنوب پر قادر ہی نہیں بلکہ کائنات میں گویا مشین کی طرح ایک قانون مکافات عمل کی حکومت ہے اور خدا (نعوذ باللہ) بیٹھا ہوا منہ دیکھ رہا ہے۔ یا اگر مغفرت پر قادر ہے بھی جب بھی کفارہ کا محتاج ہے۔ ہندومت، مسیحیت وغیرہ تمام باطل ادیان کی تردید آیت سے ہوگئی۔
Ayah 4:1758 ۔ جو طبائع غیر سلیم ہیں۔ ان کے لیے ہر قسم کی بدعملی کی گنجائش آیت ماقبل سے نکل سکتی تھی اور وہ اپنے دل میں کہہ سکتے تھے کہ جب توبہ قبول ہو ہی جائے گی تو پھر اطمینان سے ہم ہر قسم کے فسق وفجور میں پڑے رہ سکتے ہیں۔ جب مرنے لگیں گے، توبہ کرلیں گے۔ اس خدشہ کے دور کرنے کے لیے ضرورت تھی کہ قبول توبہ کے قیود و شرائط کو صاف کردیا جاتا۔ (آیت) ” السوٓء “۔ لفظ جامع ہے گناہ کبیرہ اور صغیرہ دونوں کے لیے۔ ای المعصیۃ صغیرۃ اوکبیرۃ (روح) (آیت) ” التوبۃ “ توبہ کی حقیقت شریعت میں یہ ہے کہ ماضٰ پر ندامت ہو اور مستقبل کے لیے ترک معصیت کا عزم ہو اور یہاں توبہ سے مراد قبول توبہ ہے۔ التوبہ عبارۃ عن الندم علی ما مضی والعزم علی الترک فی المستقبل (کبیر) ای ان قبولھا (مدارک) (آیت) ” بجھالۃ “۔ مراد یہ ہے کہ معصیت کے ارتکاب کے وقت اس کے نتائج کا ذہن سے ذہول ہوگیا ہو اور عقل شدت جذبات (یا ہوائے نفس) سے اندھی ہوگئی ہو۔ (آیت) ” علی اللہ “۔ ؛ اہل حق کا مذہب ہے کہ اللہ پر حقیقۃ واجب تو کوئی بھی چیز نہیں۔ یہاں مقصود صرف وعدہ کی تاکید ہے۔ ولیس المراد بہ الوجوب اذ لایجب علی اللہ شئی ولکنہ تاکید للوعد (مدارک)
59 ۔ معصیت پر ندامت اور اس کے ترک کا عزم عمل معصیت کے بعد جس قدر جلد ہوسکے اس کا مطلوب ہونا ظاہر ہے۔ لیکن شریعت نے انتہائی شفقت سے کام لے کر اس قرب (من قریب) کی میعاد حضور موت سے قبل تک وسیع کردی ہے۔ صحابیوں اور تابعین سے یہی مروی ہے۔ والقریب فی مابینہ وبین ان ینظر الی ملک الموت (ابن جریر، عن ابن عبا سؓ) کل شیء قبل الموت فھو قریب (ابن جریر، عن الضحاک) وھو ما قبل حضرۃ الموت (مدارک) دوسرے معنی یہ کیے گئے ہیں اور یہ معنی بھی لگتے ہوئے ہیں کہ قبل اس کے کہ برائی نفس پر چھا جائے۔ اور نیکیوں کو سوخت کرجائے، معناہ قبل ان یحبط السوء بحسناتہ فیحبطھا (معالم) (آیت) ” من قریب “۔ میں، من، تبعیض کے لیے ہے۔ معناہ التبعیض ای یتوبون بعض زمان قریب (کشاف)
60 ۔ یعنی وعدۂ مغفرت مرتب ایسے ہی لوگوں کی توبہ پر ہوتا ہے۔
61 ۔ سو وہ اپنی شان علم سے خوب جانتا ہے کہ کس کس نے دل سے توبہ کی ہے اور اپنی شان حکمت سے دل سے توبہ نہ کرنے والے کو رسوا نہیں کرتا، اور تائب مخلص ہو یا غیر مخلص۔ بہر صورت اس کے لیے مزید ملامت روا نہیں رکھتا۔
Ayah 4:1862 ۔ یعنی ایسے لوگوں سے قبول توبہ کا وعدہ نہیں۔ باقی اگر اور کسی کے ساتھ محض فضل وکرم ہی کا معاملہ کرنا چاہے تو اس کی راہ میں حائل کون ہوسکتا ہے۔
63 ۔ (اور عالم برزخ اس پر منکشف ہونے لگے) یعنی حالت نزع وسکرات شروع ہوجائے کہ اب عذاب وملائ کہ عذاب کے مشاہدہ کے بعد جو توبہ ہوگی وہ اضطراری ہوگی اور اس لیے کسی درجہ میں بھی مقبول نہیں۔ (آیت) ” الذین یعملون السیات “۔ معصیت کا صدور اگر ایک ہی آدھ بار ہو لیکن اس سے توبہ نہ کی جائے تو اس کا شمار بھی اصرار علی المعصیت میں ہوگا اور یہ عمل گناہ متواتر کرتے رہنے کے حکم میں داخل ہوگا۔ سیات۔ یہ صیغہ جمع لانے سے یہ لازم نہیں کہ گناہوں کی مختلف قسمیں صادر ہوتی رہیں بلکہ ایک ہی معصیت کی عرصہ دراز تک تکرار اسے صیغہ جمع میں لانے کے لیے کافی ہے۔ جمعت باعتبار تکرر وقوعھا فی الزمان المدید (روح)
64 ۔ کافر کے ایمان کا مرتے وقت نامقبول رہنا تو اوپر کے فقرہ میں شامل تھا۔ مزید تصریح شاید تاکید اور مزید تقبیح کے لیے ہو۔
Ayah 4:1965 ۔ عرب جاہلیت میں میت کی جائداد کی طرح اس کی بیویاں بھی وارث کے قبضہ میں آجاتی تھیں اور یہی دستور یونانی تمدن اور رومی تمدن میں بھی رہ چکا ہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی) پھر مرد اگر چاہتا تو ان سے جبرا یا خودنکاح کرلیتا یا دوسروں کے نکاح میں دے دیتا (آیت) ” ترثوالنسآء “۔ میں بیویوں کے جسم کا مالک ہونا بھی آگیا اور ان کے مال وجائداد کا بھی، عورتوں کے مال کے مالک ہوجانے کی تین صورتیں مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ عرب میں رائج تھیں، ایک یہ کہ عورت کا جو حق شرعی میراث میں نکل رہا ہو اسے خود لے لیا جائے اور اسے نہ دیا جائے، دوسرے یہ کہ اس کو نکاح نہ کرنے دیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے اور اس کے مال پر قبضہ کرلیا جائے۔ تیسرے یہ کہ خاوند اپنی بیوی کو بلاوجہ مجبور کردے کہ اسے کچھ مال دے جب یہ اسے چھوڑے، دنیا بداخلاقی اور بد عملی کی کتنی مختلف صورتوں میں مبتلا تھی اور اسلام نے آکر کن کن چیزوں کی اصلاح کی ہے۔
66 ۔ (کہ جب البتہ عورتوں کو قید رکھنا یا ان سے کچھ مال وصول کرنا جائز ہوگا) ایک دستور عرب جاہلیت میں یہ بھی تھا کہ مالدار بیوی کو وارث اس خیال سے کہیں نکاح نہ کرنے دیتے کہ یہ اپنا مال اپنے ساتھ لے جائے گی، یہاں تک کہ وہ مجبور ومحبوس بیوہ اس کے گھر میں اپنی جان دے دیتی۔ یا پھر اسے اپنا مال ومتاع حوالہ کرکے اپنی جان چھڑاتی، ” اس مضمون میں بھی تین صورتیں آگئیں، ایک یہ کہ میت کا وارث اس میت کی بیوی کو نکاح نہ کرنے دیتا تاکہ ہم کو یہ کچھ دے، دوسرے یہ کہ خاوند اس کو مجبور کرتا کہ مجھ کو کچھ دے تب چھوڑوں، تیسرے یہ کہ خاوند طلاق دینے کے بعد بھی اس سے کچھ لیے بغیر اس کو نکاح نہ کرنے دیتا “ (تھانوی (رح) (آیت) ” مااتیتموھن “۔ یعنی جو چیزیں خود تم نے دی ہوں یا تمہارے قرابت والوں نے۔ (آیت) ” فاحشۃ مبینۃ “۔ اس سے مراد زنا کاری ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ وھو الزنا (ابن جریر عن السدی) ای الزنا (ابن جریر عن الحسن) لیکن دوسرے معنی شوہر کی نافرمانی کے بھی ائمہ فن سے منقول ہیں۔ وھو النشوز (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ وھو النشوز (ابن جریر، عن قتادۃ) محققین کا فیصلہ یہ ہے کہ لفظ زنا کاری اور نافرمانی دونوں مفہوموں کا جامع ہے۔ کل فاحشۃ من بذاء ۃ باللسان علی زوجھا واذی لہ وزنا بفرجھا (ابن جریر) خلاصہ یہ کہ سوء معاشرت کا سبب ان بیویوں کا پیدا کردہ نہ ہو۔ ای الاان یکون سوء العشرۃ من جھتھن (کشاف)67 ۔ قرآن مجید کا یہ ایک عام اسلوب بیان ہے کہ جزئیات احکام کے درمیان ایک کلی مسئلہ بھی بیان کردیتا ہے اور کلیات کے ضمن میں جزئیات بھی لے آتا ہے۔ یہاں بھی یہی ہے کہ جزئی احکام بیان کرتے کرتے اس نے ایک اہم اصل بیان کردی عورتوں کے ساتھ معاشرت کی، یہ حسن معاشرت کا مرکزی، بنیادی، کلیدی حکم سہاگنوں، بیواؤں، طلاقنوں، سب کے معاملہ میں واجب العمل ہے۔ اور یہ ہدایت اس مذہب کہ ہے جو کتنے ہی کو رچشم مسیحیوں، آریوں وغیرہ کے نزدیک عورت کے حق میں ظالمانہ ہے۔
68 ۔ (حال یا مستقبل میں) شکایت کرنے والے شوہروں کو اپنی تسکین و تسلی کے لیے اس مراقبہ سے بڑھ کر اور کون خیال ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” خیرا کثیرا “۔ خیر کے اندر دنیوی اخروی، عاجل وآجل ہر قسم کی فلاح اور بھلائی آگئی۔ محض خیر ہی نہیں خیر کثیر (بھلائیوں کا ایک ڈھیر۔ ایک انبار) کہ اس سے زیادہ تسکین دہ اور کون خیال ہوسکتا ہے ؟ (آیت) ” ان کرھتموھن “۔ یہاں وہ کراہت مراد ہے جو طبعی طور پر یا خواہ مخواہ ہو۔ نہ کہ کوئی ایسا قابل شکایت امر جس کے اندر عورت کا ارادی قصور شامل ہو۔