Explained with ayahs 2–4
یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت
اللہ تعالیٰ یتیموں کے والیوں کو حکم دیتا ہے کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے جو مال تمہارے پاس ہو انہیں سونپ دو ، پورے پورے بغیر کمی اور خیانت کے ان کے حوالے کرو، اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے کھا جانے کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں دے رہا ہے پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ ؟ تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کرلیا…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 2
یعنی جب تک وہ بچے ہیں، ان کے مال انہی کے مفاد پر خرچ کرو اور جب بڑے ہوجائیں تو جو ان کا حق ہے وہ انہیں واپس کردو۔
سورة النِّسَآء 3
جامع فقرہ ہے جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ حلال کی کمائی کے بجائے حرام خوری نہ کرنے لگو، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یتیموں کے اچھے مال کو اپنے برے مال سے نہ بدل لو۔
Read the full tafseer →یتیموں کے حقوق اور ان کے اموال کی حفاظت۔
پہلی آیت میں مطلقاً قرابت کی حفاظت اور اس کے حقوق ادا کرنے کی تاکید عام انداز میں بیان فرمانے کے بعد دوسری آیت میں یتیموں کے اموال کی حفاظت کا حکم اور ان میں کسی قسم کی خورد برد کرنے کی ممانتع ہے، کیونکہ یتیم بچے کا نگران اور ولی عموماً اس کا کوئی رشتہ دار ہوتا ہے، اس لئے اس کا تعلق بھی حق قرابت کی ادائیگی سے ہے۔
پہلے جملہ میں ارشاد ہےواتوالیتمی اموالھم جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”یتمیوں کے مال انہی کو پہنچاؤ۔“ یتیم کے لفظی معنی اکیلے اور منفرد کے ہیں، اسی لئے جو موتی سیپ میں تنہا ایک ہو، اس کو در یتیم کہا جاتا ہے، اصطلاح شرع میں اس بچہ کو یتیم کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →وَاٰتُوا الْيَــتٰمٰٓى اَمْوَالَھُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ ۠ وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا
اس آیت کا خطاب یتیموں کے سرپرستوں سے ہے۔ اس آیت میں خطاب یتیموں کے اولیاء اور سرپرستوں سے ہے اور اوپر والی آیت پر اس کا عطف اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں جس بات کا حکم دیا جا رہا ہے یا جس چیز سے روکا جا رہا ہے اس کی بنیاد انہی اصولی حقائق پر ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔
خبیث و طیب کا مفہوم : خبیث اور طیب کے الفاظ جس طرح ان اشیا اور ذوات کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو اخلاقی و شرعی نقطہ نظر سے خبیث یا طیب ہوتی ہیں اسی طرح جیسا کہ بقرہ…
Read the full tafseer →2۔ 1 یتیم جب بالغ اور باشعور ہوجائیں تو ان کا مال ان کے سپرد کردو، خبیث سے گھٹیا چیزیں اور طیب سے عمدہ چیزیں مراد ہیں یعنی ایسا نہ کرو کہ ان کے مال سے اچھی چیزیں لے لو اور محض گنتی پوری کرنے کے لئے گھٹیا چیزیں ان کے بدلے میں رکھ دو ، بدلایا گیا مال جو اگرچہ اصل میں طیب (پاک اور حلال) ہے لیکن تمہاری اس بددیانتی نے اس میں خباثت داخل کردی اور وہ اب طیب نہیں رہا، بلکہ تمہارے حق میں وہ خبیث (ناپاک اور حرام) ہوگیا۔ اسی طرح بددیانتی سے ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھانا بھی ممنوع ہے ورنہ اگر مقصد خیر خواہی ہو تو ان کے مال کو اپنے مال میں ملانا جائز ہے۔
Read the full tafseer →2: کسی مرنے والے کے بچے جب یتیم ہوجاتے ہیں تو ان کے باپ کی میراث میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے، مگر ان کی کم عمری کی وجہ سے وہ مال ان کے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ ان کے سرپرست، مثلاً ، چچا، بھائی وغیرہ اسے بچوں کے بالغ ہونے تک اپنے پاس امانت کے طور پر رکھتے ہیں۔ اس آیت میں ایسے سرپرستوں کو تین ہدایتیں دی گئی ہیں : ایک یہ کہ جب بچے بالغ اور سمجھ دار ہوجائیں تو ان کی امانت دیانت داری سے ان کے حوالے کردو۔ دوسرے یہ کہ بددیانتی نہ کرو کہ ان کو ان کے باپ کی طرف سے تو میراث میں اچھی قسم کا مال ملا تھا، مگر تم وہ مال خود رکھ کر گھٹیا قسم کی چیز اس کے بدلے میں دے دو ،۔ اور تیسرے ایسا نہ کرو کہ ان کے مال کو…
Read the full tafseer →اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو ‘ تین تین ‘ چار چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا ان عورتوں کو زوجیت میں لاو جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں ۔ بےانصافی سے بچنے کیلئے یہ زیادہ قرین ثواب ہے ۔
اور عورتوں کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو ‘ البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو ۔
اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے ‘ نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو البتہ انہیں کھانے اور پہننے کیلئے دو اور انہیں…
Read the full tafseer →3 یعنی یتیم بچے جن کا کہ باپ مرگیا ہو ان کے متعلق ان کے ولی اور سرپرست کو یہ حکم ہے کہ جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کا مال ان کے سپرد کردے اور زمانہ تولیت میں یتیموں کی کسی اچھی چیز کو لیکر اس کے معاوضہ میں۔ بری اور گھٹیا چیز ان کے مال میں شامل نہ کردے اور ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاوے، مثلاً ولی کو اجازت ہے کہ اپنا اور یتیم کا کھانا مشترک اور شامل رکھے مگر یہ ضرور ہے کہ یتیم کا نقصان نہ ہونے پائے یہ نہ ہو کہ اس شرکت کے بہانے سے یتیم کا مال کھا جاوے اور اپنا نفع کرلے کیونکہ یتیم کا مال کھانا سخت گناہ ہے۔ احکام متعلقہ ارحام میں یتیموں کے حکم کو شاید اس لئے مقدم بیان فرمایا کہ یتیم…
Read the full tafseer →آیت 2 وَاٰتُوا الْیَتٰمٰٓی اَمْوَالَہُمْ
معاشرے کے دبے ہوئے طبقات میں سے یتیم ایک اہم طبقہ تھا۔ دور جاہلیت میں ان کے کوئی حقوق نہیں تھے اور ان کے مال ہڑپ کرلیے جاتے تھے۔ وہ بہت کمزور تھے۔
وَلاَ تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بالطَّیِّبِ
ایسا ہرگز نہ ہو کہ یتیموں کے مال میں سے اچھا اچھا لے لیا اور اپنا ردّی مال اس میں شامل کردیا۔
وَلاَ تَاْکُلُوْآ اَمْوَالَہُمْ الآی اَمْوَالِکُمْ ط اِنَّہٗ کَانَ حُوْبًا کَبِیْرًا
یتیموں کے بعض سرپرست جو تقویٰ اور خوف خدا سے تہی دامن ہوتے ہیں ‘ اوّل تو ان کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں ‘ اور اگر ایسا نہ بھی کریں تو ان کا اچھامال خورد برد کر کے اپنا ردّی اور بےکار مال اس میں…
Read the full tafseer →4 یتیم کی سرپرستی اور خیرخواہی :۔ معاشرتی قباحتوں میں سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی۔ یتیم کی پرورش کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ چناچہ آپ نے فرمایا میں اور یتیم کا سرپرست جنت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی ذرا کھول کر اشارہ کیا۔ (بخاری۔ کتاب الادب۔ باب فضل من یعول یتیما) لیکن عرب میں یتیموں کے حقوق کئی طرح سے پامال ہو رہے تھے۔ انہی حقوق کی پامالی کا بالترتیب یہاں ذکر ہو رہا ہے۔ مثلاً جو چیزیں بطور امانت سرپرست کے پاس ہوتیں انہیں واپس کرتے وقت وہ یہ کوشش کرتا کہ اچھی چیز کے بدلے کوئی پرانی اور گھٹیا چیز دے کر خانہ پری کر دے۔ دوسری صورت یہ…
Read the full tafseer →7 ۔ یتیم یعنی بن باپ کے بچوں اور بچیوں کا مسئلہ ہر قوم میں اہم ونازک رہا ہے، قرآن اب یہاں اسی باب میں ہدایتیں دے رہا ہے (آیت) ” واتوا الیتمی اموالھم “۔ یعنی ان یتیموں کے بالغ ہونے پر ان کی جائیداد، ان کا سامان ان کے حوالہ کردو، اور ان اس کے لیے ہرگز ضروری نہیں کہ یتیم اپنی جائیداد کا مطالبہ کرے بھی، وفیہ دلالۃ علی وجوب تسلیم اموال الیتمی بعد البلوغ وایناس الرشد وان لم یطالبوا باداءھا (جصاص) خطاب یتیموں کے اولیاء اور سرپرستوں سے ہے، یتیموں کے سپرد ان کی جائداد ان کے بالغ اور سمجھدار ہوجانے کے بعد ہی کرنا چاہیے اس کے قبل نہیں۔ ان الیتیم لایجب اعطاءہ مالہ قبل البلوغ (جصاص) انما یجب الدفع الیتیم…
Read the full tafseer →وَآتُوا الْیَتَامیٰ اَمْوَالَھُمْ یتیم جب بالغ اور باشعور ہوجائے تو ان کا مال ان کے سپرد کردو۔ خبیث سے روی اور طیب سے عمدہ چیز مراد ہے، یعنی ایسا نہ کرو کہ ان کے مال سے اچھی چیزیں لے لو اور محض گنتی پوری کرنے کیلئے گھٹیا چیزیں ان کے بدلے میں رکھ دو ۔
Read the full tafseer →و اتوا الیتمیٰ اموالھم اور یتیموں کو انکا مال دیدو چچا نے جب یہ حکم سنا تو کہا ہم اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار ہیں ہم گناہ کبیرہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں پھر اس نے یتیم کا مال دیدیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : جو نفسانی حرص سے محفوظ رہا اور اس طرح اپنے رب کا حکم مانا وہ اللہ کے گھر میں یعنی اللہ کی جنت میں ضرور فروکش ہوگا۔ اس لڑکے نے مال وصول کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں خیرات کردیا اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : اجر پکا ہوگیا اور بار رہ گیا یعنی اس لڑکے کا ثواب پکا ہوگیا اور اس کے باپ پر اس مال کو کمانے کا بار رہ گیا۔ 2 آیت میں اداء مال کا حکم سر پرستوں کو اور ان لوگوں کو ہے جن کو میت نے وصیت کی…
Read the full tafseer →(2) نیز یتیموں کے جو اموال تمہارے پاس ہیں ان کے عاقل وبالغ ہونے کے بعد وہ ان کو دے دو اور اپنے مال بچا کر ان کے مالوں کو مت کھاؤ اور نہ اپنے مالوں کے ساتھ ملاکرکھاؤ۔ بلاجواز یتیم کا مال کھانا اللہ تعالیٰ کے یہاں سزا کے اعتبار سے بہت بڑا جرم ہے۔
Read the full tafseer →وَاٰتُوا الْيَــتٰمٰٓى اَمْوَالَھُمْ : یعنی جب یتیم بالغ ہوجائیں تو ان کے اموال ان کے سپرد کر دو اور یہ نہ کرو کہ یتیم کے مال سے اچھی چیز (طیب) لے کر اس کی جگہ ردی چیز (خبیث) رکھ دو۔ طیب اور خبیث حلال اور حرام کے معنی میں بھی آتے ہیں، اس لیے بعض نے یہ معنی کیا ہے کہ اپنا حلال مال چھوڑ کر دوسرے کا مال مت کھاؤ جو تمہارے لیے حرام ہے۔“ آیت میں ”الٰی“ بمعنی ”مَعَ“ ہے، یعنی ان کے اموال کو ناجائز طریقے سے کھانے کے لیے اپنے مالوں کے ساتھ مت ملاؤ، ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ ہاں، اصلاح کی نیت سے ملانا جائز ہے۔ [ دیکھیے البقرۃ : (220) ]
Read the full tafseer →آیت نمبر 2۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” واتوالیتمی اموالھم “۔ یتامی سے مرادیتیم لوگ ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” والقی السحرۃ سجدین “۔ (الاعراف) سجود کے ساتھ سحر نہیں تھا، اسی طرح بلوغ کے ساتھ یتیم نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کو یتیم ابی طالب کہا جاتا ہے۔ (2) (جامع البیان، جلد 3۔ 4، صفحہ 283) ان کی صحبت کی وجہ سے واتوا کا مطلب ہے اعطوا اور ایتاء کا معنی الاعطاء ہے، لفلان اتو یعنی فلاں کے لئے عطا ہے، یہ ابو زید کا قول ہے اتوت الرجل اتوہ اتاوۃ یعنی میں نے اسے یہ رشوت دی، یتیم وہ ہوتا ہے جو ابھی بالغ نہ ہو۔ سورة بقرہ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے، یہ خطاب اولیاء اور…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ غطفان کے ایک آدمی کے پاس اپنے بھتیجے کا بہت مال تھا جو یتیم تھا جب وہ یتیم بالغ ہوا تو اس نے اپنے مال کو طلب کیا مگر چچا نے دینے سے انکار کردیا اس یتیم نے نبی ﷺ کو شکایت کی تو اس پر یہ آیت ” واتوا الیتمی اموالہم “ نازل ہوئی یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ یتیموں کو ان کے اموال دے دو (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب “ یعنی لوگوں کے حرام مال کو اپنے مال سے تبدیل نہ کرو پھر فرماتے ہیں یہ معنی بھی ہوسکتا ہے اپنے حلال مالوں کی فضول خرچی نہ کرو اور ان کے حرام مال نہ کھاؤ۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی…
Read the full tafseer →(وَاٰتُوا : اور تم پہنچائو) (الْیَتٰمٰٓی : یتیموں کو) (اَمْوَالَہُمْ : ان کے مال ) (وَلاَ تَـتَــبَدَّلُــوا : اور تم مت بدلو ) (الْخَبِیْثَ : گندے کو) (بِالطَّیِّبِ : پاکیزہ سے ) (وَلاَ تَاْکُلُوْآ : اور تم مت کھائو ) (اَمْوَالَہُمْ : ان کے مال ) (اِلٰٓی اَمْوَالِکُمْ : اپنے مالوں میں شامل کر کے) (اِنَّـہٗ : یقینا یہ ) (کَانَ : ہے ) (حُوْبًا کَبِیْرًا : ایک بڑا جرم )
Read the full tafseer →اموال یتامیٰ کے بارے میں تین حکم :
پھر یتیموں کے اولیاء کو حکم دیا کہ تم ان کے مال ان کودے دو اچھے مال کو برے مال سے تبدیل نہ کرو۔ اور اپنے مال ان کے مالوں میں ملا کر نہ کھا جاؤ اس میں تین باتوں کا حکم فرمایا ہے۔
یتامیٰ کے اموال دے دو :
اول یہ کہ جو یتیم بچے تمہاری پرورش میں ہیں ان کے مال جو انہیں میراث میں ملے ہیں یا کسی نے انہیں ہبہ کردیئے ان کے بالغ ہونے تک ان کے مالوں کو محفوظ رکھو اور بقدر ضرورت ان کے مالوں میں سے ان پر خرچ کرتے رہو۔ پھر جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کے مال ان کے سپرد کر دو ۔ ایسا نہ کرو کہ جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کا مال بلا وجہ اپنی تحویل میں رکھے رہو اور ان کو دینے سے منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تمہید احکام سورة دربارہ اداء حقوق قرابت حکم تقوی و اطاعت ربانی وتذکیر اتحاد انسانی۔
قال تعالیٰ یا ایھا الناس۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ رقیبا۔
اللہ جل شانہ نے اس سورت کا تقوی اور پرہیزگاری کے حکم سے آغاز فرمایا جو آئندہ احکام قرابت کی تمہید ہے اور تقوی کے حکم کے ساتھ اپنی خاص شان خالقیت کو ذکر فرمایا کہ تم سب ایک آدم کی اولاد ہو لہذا تم پر حق قرابت کا لحاظ اور پاس داری ضروری اور لازمی ہے۔
بنی آدم اعضاء یکدیگر ند کہ در آفرینش زیک جو ہر اند
چو عضوے بدرد آور روز گار دگر عضوھارا نماند قرار
نیز تم پر اس پروردگار کی اطاعت اور فرمانبرداری اور تقوی اور پرہیزگاری نہایت ضروری ہے کہ جس نے تم کو اپنی قدرت کاملہ سے پیدا…
Read the full tafseer →3:۔ چودہ احکام رعیت۔ پہلا حکم رعیت۔ (یتیموں کا مال نہ کھاؤ وہ تمہارے لیے خبیث ہے) ۔ مال یتیم کے بارے میں تین چیزوں سے منع فرمایا (1) یتیم کا عمدہ مال لے کر اس کے بدلے اپنا ردی مال دیدینا۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے۔ وکانوا فی الجاھلیۃ لعدم الدین لا یتحرجون عن اموال الیتیمی فکانوا یاخذون الطیب والجید من اموال الیتمی ویبدلونہ بالردی من اموالہم الخ (قرطبی ج 5 ص 9) مال یتیم کو بوجہ حرمت خبیث فرمایا کیونکہ وہ ولی یتیم کے لیے حرام ہے (2) اپنے پاس مال نہ ہو تو یتیم کا مال کھانا۔ لا تتعجلوا اکل الخبیث من اموالھم وتدوا انتظار الرزق الحلال من عنداللہ (قرطبی) (3) اور اگر اپنے پاس بھی مال…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا کہ اس اللہ سے ڈر جائو جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو۔ اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ، پھر جوڑے جوڑے بناکر لاتعداد مردوں اور عوتوں کو پھیلادیا۔ نیز یہ بھی تاکید فرمائی کہ قرابت داروں کے حقوق سے متعلق ڈر جائو۔ انسانی حقوق کی ادائیگی میں رشتہ داروں کے حقوق کو اولیت حاصل ہے۔ نہیں لازم طور پر ادا کرو غرض یہ کہ اجتماعی حقوق کے سلسلے میں اللہ نے تقویٰ کو سب سے پہلے بیان فرمایا۔
یتموں کے حقوق
اب حقوق کی تفصیل بیان ہورہی ہے اور حقوق کے سلسلے میں یتیموں کے حقوق کو مقدم رکھا گیا ہے۔ چناچہ اگلی 10 آیتوں تک یتامی کے حقوق کی بات آرہی ہے۔…
Read the full tafseer →وَاٰتُوا الْيَــتٰمٰٓى اَمْوَالَھُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ 0 ۠ وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ 0 ۭ اِنَّہٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا 2
إِيتاء
: الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247]
الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ترکیب : بالطیب مفعول ثانی ہے مبتدالوا کا۔ الی اموالکم متعلق ہے محذوف سے اور موضع حاملیں ہے اے مضافۃ الی اموالکم وقیل لی بمعنی ان خفتم شرط فانکحوا الخ جواب۔ ما طاب مفعول فانکحوا من النساء اس کا بیان ‘ مثنی وثلث وربع تینوں نکرہ غیر منصرف ہیں عدل اور وصف کی وجہ سے اور یہ تینوں بدل ہیں ما سے۔ فان خفتم شرط فواحدۃ اے انکحواواحدۃ جواب او تخییر یا اباحت کے لئے۔ ماملکت موصول وصلہ مبتداء کا فیہ خبر محذوف نحلہ مفعول مطلق ہے اتوا کا دونوں ہم معنی ہیں نفسًا تمیز ہے شیء سے عامل طبن منہ فعیل وکذا مرئیا مفعول مطلق ہیں اے کلاھنا۔
تفسیر : جب وہ تمہید ہوچکی تو سب سے اول حکم یتیموں کے مال کی بابت دیتا ہے…
Read the full tafseer →وَاٰتُوا الْیَتٰمٰٓی اَمْوَالَھُمْ وَلاَ تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ ص وَلاَ تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓی اَمْوَالِکُمْ ط اِنَّـہٗ کَانَ حُوْبًا کَبِیْرًا
اور یتیموں کے مال ان کے حوالہ کرو اور اپنے برے مال کو ان کے اچھے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈمڈ کرکے ہڑپ کرو، بیشک یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے) (النسآء : 2)
یتیموں کے سرپرستوں سے خطاب
اس آیت کریمہ میں خطاب یتیموں کے اولیا اور سرپرستوں سے ہے۔ اسلامی حکومت میں تو یتیموں کے سرپرست اور اولیا حکومت کی طرف سے مقرر ہوتے ہیں۔ اور وہی وقتا ً فوقتاً اس انتظام کا جائز ہ بھی لیتی رہتی ہے۔ لیکن اگر اسلامی حکومت قائم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورت کی پہلی آیت میں بنی نوع انسان کو ایک کنبہ قرار دے کر ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا اب معاشرے کے پسماندہ لوگوں کے حقوق کا چھ آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ پسماندہ لوگوں میں سرفہرست یتیم ہیں جو بلوغت سے پہلے باپ کے سہارے سے محروم ہوچکے ہوں۔
یتیم کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اپنے مال کے ساتھ ملانے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ ایسا کرنے والا حرام کو حلال کے ساتھ ملاتا ہے جس سے نفرت دلانے کے لیے خبیث کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ خبیث ناپاک اور گندی چیز کو کہتے ہیں۔ لفظ خبیث استعمال کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ پاک ذہن اور با ضمیر شخص یتیم کا مال کھانے کا تصور بھی نہ کرسکے۔ اسے…
Read the full tafseer →آیت 2 :
وَ ٰاتُوا الْیَتٰٓمی اَمْوَالَہُمْ (اور یتیموں کو ان کے اموال دو ) یتامیٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے والد فوت ہوجائیں اور وہ اکیلے رہ جائیں۔
یتیم کا معنی :
الیُتْمُ ۔ انفراد کو کہتے ہیں۔ اسی سے کہتے ہیں الدُرۃ الیتیمۃ۔ یکتا موتی۔ ایک قول یہ ہے کہ یتیم انسانوں میں وہ ہے جس کا باپ مرجائے اور بہائم میں یتیم وہ ہے جس کی ماں مرجائے۔ اس نام کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ہر چھوٹے بڑے پر بولا جائے کیونکہ باپ سے منفرد ہونے کا معنی پایا جاتا ہے۔ مگر استعمال میں بلوغ سے قبل تک ہی بولا جاتا ہے جب وہ کسی کفیل و نگران سے مستغنی ہوجاتے ہیں۔ تو یہ نام ختم ہوجاتا ہے۔ نبی ( علیہ السلام) کا ارشاد ہے : لا یتم بعد…
Read the full tafseer →(تفسیر) 2۔:
(آیت)” واتوا الیتامی اموالھم “۔
(واتوا الیتامی کا شان نزول)
مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ غطفان کے ایک شخص کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ اس کے بھائی کے بیٹے کے پاس جو یتیم تھا اس کے پاس مال کثیر تھا جب یتیم مال حاصل کرنے کی عمر تک پہنچا اس نے مال طلب کیا ، چچا نے اسے مال دینے سے انکار کردیا ، یہ مسئلہ آپ ﷺ تک پہنچا تو آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی ، جب اس کے چچا نے یہ آیت سنی تو کہنے لگا کہ میں نے اللہ کی اطاعت کی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اور میں پناہ مانگتاہوں اس بڑے وبال سے اس نے اپنا مال اس یتیم بچے کے حوالے کردیا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے نفس کو بچایا اور…
Read the full tafseer →تفسیر خازن وغیرہ میں جو سعید بن جبیر کی معتبر سند سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ غطفان قبیلہ میں ایک شخص کے پاس اس کا یتیم بھتیجا پرورش پاتا تھا۔ جب وہ لڑکا ہوشیار ہوا تو اس نے اپنے باپ کا مال چچا سے مانگا چچا نے مال دینے سے انکار کردیا۔ یہ جھگڑا آنحضرت کے پاس آیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1۔ تو اس آیت کا حکم سن کر چچا نے اپنے بھتیجے کو مال دے دیا اور اس لڑکے نے وہ سب مال خیرات کردیا آں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ بیٹے کو خیرات کا اجر ملا اور باپ پر مال کے جمع کرنے کا وبال باقی رہا۔ اور اکثر رشتہ دارلوگ یتیموں کا اچھا مال رکھ کر اس کے عوض میں اپنا ناکارہ مال یتیموں کو دے دیتے تھے…
Read the full tafseer →آیت 2
اس سورة مبارکہ میں جن حقوق اعلباد کی تاکید کی گئی ہے، یہ ان میں سے پہلا حکم ہے اور وہ یتیم بچے ہیں جن کے باپ فوت ہوگئے ہیں جو ان کی کفالت کیا کرتے تھے۔ وہ بہت چھوٹے اور نہایت کمزور ہیں اپنے مصالح کی خود دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔ بنا بریں اللہ رؤف و رحیم نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ان کے مال کے قریب نہ جائیں مگر بھلے طریقے سے اور جب یہ بالغ اور سمجھ دار ہوجائیں تو ان کا پورے کا پورا مال ان کے حوالے کردیں۔ (ولا تتبدلوا الخبیث) ” اور بدل نہ لو خبیث مال کو “ خبیث سے مراد ناحق یتیم کا مال کھانا ہے (بالطیب) طیب مال سے مراد حلال مال ہے جس میں کوئی حرج ہے نہ…
Read the full tafseer →اسلام یتموں کے حقوق کی حفاظت کا علمبردار ہے
قول باری ہے (واتو الیتامی اموالھم ولا تتبدل الخبیث بالطیب۔ یتیموں کا مال ان کو واپس دوا اچھے مال کو برے مال سے نہ بدل لو) حسن سے مروی ہے کہ یتیموں کے مال کے متعلق جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے انھیں اپنے خاندان کے افرادبناکررکھنے سے نہ صرف گریز کرتا شروع کردیا، بلکہ یتیم لوگوں نے حضور ﷺ سے ان کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیروان تخالطوھم فاخوانکم۔ یتیموں کے متعلق لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہوجس طرزعمل میں ان کے لیے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہت رہے اگر تم اپناخرچ اور رہنا سہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2 تقوی رب کی ربوبیت کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کی ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ تم اسی سے ڈرو اور اس کی ہر نافرمانی سے بچو، کہ اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے، اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی، پس عبادت و بندگی کی ہر قسم خاص اسی کیلئے اداء کرو ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس میں کسی کو بھی کسی بھی طرح اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، اور جب تمہارا خالق ومالک اور رب وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم اسی سے ڈرو اور ہمیشہ اس کی رضا و خوشنودی کا خیال رکھو، سو یہ مخلوق آپ سے آپ وجود میں نہیں آگئی، بلکہ ایک خالق کل اور قادر مطلق کی تخلیق و ایجاد سے وجود پذیر ہوئی ہے تو…
Read the full tafseer →یتیموں کا مال
تشریح : تاکید کی جا رہی ہے کہ یتیم کے مال میں پوری طرح امانت داری اختیار کرو۔ کسی صورت میں بھی خیانت نہ کرو۔ یہ مت سمجھو کہ وہ معصوم کیا جانے ؟ اللہ تو نیتوں کو جانتا ہے اس لیے جیسے ہی یتیم بالغ ہوجائے پورے انصاف سے اس کو اس کے مال سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ بتاؤ اور اس کی پوری طرح مدد کرو کہ اس کا نقصان نہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اسرار و معارف
رکوع نمبر 1 ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۔۔۔ یا الناس اتقوا ربکم۔۔۔۔ انہ کان حوبا کبیرا۔ آیات نمبر 1 تا 2 ۔
اے لوگو اس سے نہ بگاڑو جو تمہارا رب ہے یعنی تمہاری تمام ضروریات کا پورا کرنے والا ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا ہے۔ اخوت کا یہ حال ہے کہ جملہ انسانیت کی اصل ایک فرد ہے حضرت آدم علی نبینا و ﷺ ، اسی ایک فرد سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا وہ قادر مطلق حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ان کی زوجہ محترمہ حضرت حوا کو بھی تو مٹی سے پیدا کرسکتا تھا اور پھر ہمیشہ ساری انسانیت کو بھی اسی طرح پیدا کرنے پہ قادر تھا مگر اس نے کوئی علیحدہ وجود پیدا کرنا پسند نہیں فرمایا بلکہ اسی ایک وجود…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی جب یتیم بالغ ہوجائیں تو ان کے اموال ان کے سپرد کردو اور یہ نہ کرو کہ یتیم کے مال سے اچھی چیز لے ر اس کی جگہ ردی چیز رکھ دو ، بعض نے طیب اور خبیث کے یہ معنی کئے ہیں کہ اپناما حلال مال چھوڑ کر دسرے کا حرام مال مت کھا و (ابن کثیر) اور آیت میں الی بمعنی مع کے ہے یعن ان کے اموال کو ناجائز کھا نے کے لیے اپنے مالوں کے ساتھ مت ملا ایسا کرنا کبیرہ گنا ہے حوب کے معنی گناہ کے ہیں ایک دعا میں ہے۔ ، اللھم اغفر حوبتی اے اللہ مرے گناہ بخش دے۔ (قربطی)
Read the full tafseer →(4:2) اتوا۔ ایتاء سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم دو ۔
لا تتبدلوا۔ نہی۔ جمع مذکر غائب۔ تبدل (تفعل) سے جس کے معنی بدل ڈالنے کے ہیں۔ تم نہ بدل ڈالو۔
انہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ اکل مال یتیم کی طرف راجع ہے جس سے ولا تاکلوا اموالہم الی اموالکم میں ممانعت فرمائی ہے۔ حوبا۔ گناہ ۔ وبال ۔ اسم ہے۔ الحوب (باب نصر) سے جرم کا ارتکاب کرنا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 2
لغات القرآن : اتوا، تم دو ۔ لاتتبدلوا، تم تبدیل نہ کرو۔ الخبیث بالطیب، گندگی کو پاکیزگی سے۔ حوب، لفظ حوب حبشی زبان کا ہے جس کے معنی ہیں بڑا گناہ عربی میں یہ لفظ اسی معنی کے لیے بولا جاتا ہے ۔ کبیرا، بڑا۔
تشریح : ابھی کہا گیا ہے کہ اللہ کا تقوی اختیار کرو یعنی اس سے امیدیں لگاؤ۔ اس سے ڈرو۔ اور اس کا حکم مانو۔ پہلا حکم یتیموں کے متعلق ہے۔ ہر قوم میں ہر زمانے میں یتیم ہوتے ہیں۔ جو قوم یتیموں کا حق مار دیتی ہے وہ اپنے ایک اہم حصہ کو ضائع کردیتی ہے۔ ممکن ہے یتیموں میں یا ان کی اولادوں میں عظیم ہستیاں ہوں۔ وہ قوم ان عظیم ہستیوں سے محروم رہ جائے۔ پھر یتیم ہر خاندان میں اور ہر طبقے میں…
Read the full tafseer →شان نزول : ایک شخص کی نگرانی میں اس کے یتیم بھتیجے کا کثیر مال تھا۔ جب وہ یتیم بالغ ہوا اور اس نے اپنا مال طلب کیا تو چچا نے دینے سے انکار کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کو سن کر اس شخص نے یتیم کا مال اس کے حوالے کیا اور کہا کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] یعنی آدم سے۔
[2] یعنی حوا۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں یتامی کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم ہے ۔ لوگ عام طور پر تربیت کے نام پر ان کا مال کھاتے یا بدل لیتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا اور بتایا ہے کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔
Read the full tafseer →ف 2 اور یتامیٰ یعنی بن باپ کے بچوں کا مال انہی کو دیتے رہو اور حسب ضرورت انہی پر خرچ کرتے رہو اور اچھی چیز کو بری چیز سے نہ بدلو اور ان بن باپ کے بچوں کا مال اپنے اموال کے ساتھ ملاکر خود برد نہ کرو یقیناً ایسا کرنا یعنی اچھی چیزوں کو بری چیزوں سے بدلنا یا ہوتے سا تھے بلاضرورت ان کے مال سے نفع حاصل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اوصیا اور اولیاء کو چاہئے کہ ان کے پاس یتیموں کا جو مال ہو وہ اس مال کو یتامیٰ کی ضروریات پر خرچ کرتے رہیں اور حسب ضرورت ان کو دیتے رہیں اور ان کے مال میں ادل بدل نہ کریں کہ اچھی چیز ان کے مال میں سے نکال لیں اور بری چیز ان کے مال میں رکھ دیں۔ جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 1۔ اس آیت میں پیدائش کی تین صورتوں کا بیان ہے ایک تو جاندار کا بےجان سے پیدا کرنا جیسے آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے دوسرے جاندار سے بلاطریقہ توالد متعارف پیدا ہونا جس طرح حضرت حوا حضرت آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اور تیسرے جاندار کا جاندار سے بطریق توالد متعارف پیدا ہونا جیسا اور آدمی آدم وحوا سے اس وقت تک پیدا ہوتے آرہے ہیں اور فی نفسہ عجیب نہ ہونے میں اور قدرت کے سامنے عجیب نہ ہونے میں تینوں صورتیں برابر ہیں۔
2۔ اوپر تقوی کا حکم تھا اور اس کے ضمن میں مراعات حقوق انسانیہ ورحمیہ کا ارشاد تھا آگے اس تقوی کے مواقع کا حقوق مذکورہ میں ہیں مفصلا ذکر فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →معاشرہ اسلامی کے حقوق میں سے بےباپ بچوں کے حقوق کا تذکرہ کیا جا رہا ہے :
6: اس سلسلے میں سب سے زیادہ مستحق بےباپ بچے تھے لہٰذا ان کا ذکر سب سے پہلے کردیا۔ یہ بےباپ بچے کون ہیں ؟ وہی جو یتیم ہیں مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ ان یتیموں کے نگران و محافط ہوں ان کو چاہیے کہ ان کا مال الگ رکھیں اپنے مال کے ساتھ ملا کر ان کے مالوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ وہ بےباپ بچہ جو باپ کے سایہ محبت و عاطفت سے محروم ہے جماعت کے ہر رکن کا فرض ہے کہ اس کو محبت آغوش میں لے ، اس کو پیار کرے ، اس کی ہر طرح خدمت کرے۔ اس کے متروکہ مال و اسباب کی حفاظت کرے۔ اس کی تعلم و تربیت کی فکر رکھے عقل و شعور کے پہنچنے کے بعد اس کے باپ کی…
Read the full tafseer →The Rights of the Orphans and the Protection of Their Property:
The first verse stressed upon the care and concern for kinship in an absolute sense. Then came the general emphasis on the fulfillment of rights that issue forth from it. Now, the second verse carries the command to protect the properties of the orphans, as well as the prohibition of any misappropriation therein because the guardian of an orphaned child is usually one of his relatives. Therefore, this too has a bearing on the fulfillment of the rights of kinship.
The word, الْيَتَامَىٰ 'al-yatama' in the first sentence of verse…
Read the full tafseer →2. God directs the guardians of the orphans to spend out of the latter's property while they are still minors, and to restore it to them when they attain majority.
3. The order not to exchange the bad for the good has several meanings. On the one hand, it means that one should not replace honest by dishonest living. At the same time, it also means that one should not exchange one's own property which is of little value for the more valuable property of the orphans.
Read the full tafseer →