Explained with ayahs 2–4
یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت
اللہ تعالیٰ یتیموں کے والیوں کو حکم دیتا ہے کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے جو مال تمہارے پاس ہو انہیں سونپ دو ، پورے پورے بغیر کمی اور خیانت کے ان کے حوالے کرو، اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے کھا جانے کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں دے رہا ہے پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ ؟ تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کرلیا…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 4
اس کے تین مفہوم اہل تفسیر نے بیان کیے ہیں
(1) حضرت عائشہ ؓ اس کی تفسیر میں فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جو یتیم بچیاں لوگوں کی سرپرستی میں ہوتی تھیں ان کے مال اور ان کے حسن و جمال کی وجہ سے، یا اس خیال سے کہ ان کا کوئی سردھرا تو ہے نہیں، جس طرح ہم چاہیں گے دبا کر رکھیں گے، وہ ان کے ساتھ خود نکاح کرلیتے تھے اور پھر ان پر ظلم کیا کرتے تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو دوسری عورتیں دنیا میں موجود ہیں، ان میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان کے ساتھ نکاح کرلو۔ اسی سورة میں انیسویں رکوع کی پہلی آیت اس تفسیر کی تائید کرتی ہے۔
(2) ابن…
Read the full tafseer →ربط آیت
ماقبل کی آیت میں یتامی کی حق تلفی کی ممانعت تھی کہ اولیاء کو ان کے اموال خرد برد کرنا حرام ہے، اس آیت میں بھی ایک دوسرے عنوان سے اس حکم کا اعادہ ہے کہ جن لوگوں کی ولایت میں یتیم لڑکیاں ہیں ان سے اس خیال سے نکاح نہ کریں کہ اپنے اختیار کی لڑکی ہے، جتنا چاہیں گے مہر مقرر کردیں گے، اور جو اموال ان کی ملک میں ہیں وہ بھی اپنے قبضہ میں آجائیں گے۔
غرض قرآن کریم کی اس آیت نے صراحتہ بتلا دیا کہ مال یتیم پر قبضہ کرنے کا ہر حیلہ اور بہانہ ناجائز ہے اور اولیاء کا فرض ہے کہ وہ دیانتداری سے ان کے حقوق کی نگہداشت کریں، چناچہ فرمایااور اگر تم کو اس بات کا احتمال (بھی) ہو (اور یقین ہو تو بدرجہ اولی) کہ…
Read the full tafseer →وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا۔
یتامیٰ کا مفہوم :۔ ’ یتامی ‘ کا لفظ ان نابالغوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کا باپ فوت ہوچکا ہو، عام اس سے کہ وہ نابالغ، لڑکے ہیں یا لڑکیاں، صرف نابالغ لڑکیوں کے لیے اس کا استعمال نہ عربی زبان میں معلوم ہے، نہ قرآن مجید اور حدیث میں۔ قرآن میں یہ لفظ کم از کم پندرہ جگہ اسی جمع کی صورت میں استعمال ہوا ہے لیکن کسی جگہ بھی صرف یتیم بچیوں کے مفہوم میں نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3۔ 1 اس کی تفسیر حضرت عائشہ ؓ سے اس طرح مروی ہے کہ صاحب حیثیت اور صاحب جمال یتیم لڑکی کسی ولی کے زیر پرورش ہوتی تو اس کے مال اور حسن و جمال کی وجہ سے اس سے شادی تو کرلیتا لیکن اس کو دوسری عورتوں کی طرح پورا حق مہر نہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم سے روکا، کہ اگر تم گھر کی یتیم بچیوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو ان سے نکاح ہی مت کرو، تمہارے لئے دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کا راستہ کھلا ہے (صحیح بخاری) ایک کی بجائے دو سے، تین سے حتیٰ کے چار عورتوں تک سے تم نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو ورنہ ایک ہی نکاح کرو یا اس کے بجائے لونڈی پر گزارا کرو۔ اس آیت سے معلوم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3: صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ ؓ نے اس ہدایت کا پس منظر یہ بتایا ہے کہ بعض اوقات ایک یتیم لڑکی اپنے چچا کے بیٹے کی سرپرستی میں ہوتی تھی وہ خوبصورت بھی ہوتی اور اس کے باپ کا چھوڑا ہوا مال بھی اچھا خاصا ہوتا تھا اس صورت میں اس کا چچا زاد یہ چاہتا تھا کہ اس کے بالغ ہونے پر وہ خود اس سے نکاح کرلے تاکہ اس کا مال اسی کے تصرف میں رہے لیکن نکاح میں وہ اس کو اتنا مہر نہیں دیتا تھا جتنا اسی جیسی لڑکی کو دینا چاہیے دوسری طرف اگر لڑکی زیادہ خوبصورت نہ ہوتی تو اس کے مال کی لالچ میں اس سے نکاح کرلیتا تھا ؛ لیکن نہ صرف یہ کہ اس کا مہر کم رکھتا تھا ؛ بلکہ اس کے ساتھ ایک محبوب بیوی جیسا سلوک بھی…
Read the full tafseer →(آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النسآء مثنی ثلث وربع ، فان خفتم الا تعدلوا فواحدة او ماملکت ایمانکم ، ذالک ادنی الا تعولوا “۔
حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے دریافت فرمایا کہ آیت ” اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو “۔ کا مفہوم کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا بھانجے ! یہ یتیم بچی وہ تھی جو اپنے ولی کی تحویل میں ہوتی تھی ۔ یہ ولی کے ساتھ مال میں شریک ہوتی تھی ‘ اسے اس کے مال اور اس کی خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی تھی ، اس طرح اس کا ولی یہ چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ نکاح کرلے بغیر اس کے کہ اسے مہر ادا کرے ‘ اور اسے وہ حقوق دے جو اسے دوسرے…
Read the full tafseer →4 احادیث صحیحہ میں منقول ہے کہ یتیم لڑکیاں جو اپنے ولی کی تربیت میں ہوتی تھیں اور وہ لڑکی اس ولی کے مال اور باغ میں بوجہ قرابت باہمی شریک ہوتی تو اب دو صورتیں پیش آتیں کبھی تو یہ ہوتا کہ ولی کو گو اس کا جمال اور مال دونوں مرغوب ہوتے تو وہ ولی اس سے تھوڑے سے مہر پر نکاح کرلیتا کیونکہ دوسرا شخص اس لڑکی کا حق مانگنے والا تو کوئی ہے ہی نہیں اور کبھی یہ ہوتا کہ یتیم لڑکی کی صورت تو مرغوب نہ ہوتی مگر ولی یہ خیال کرتا کہ دوسرے سے نکاح کردوں گا تو لڑکی کا مال میرے قبضہ سے نکل جائے گا اور میرے مال میں دوسرا شریک ہوجائے گا۔ اس مصلحت سے نکاح تو جوں توں کرلیتا مگر منکوحہ سے کچھ رغبت نہ رکھتا۔ اس پر یہ…
Read the full tafseer →آیت 3 وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِی الْْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ج
اس آیت میں یَتَامٰیسے مراد یتیم بچیاں اور خواتین ہیں۔ یتیم لڑکے تو عمر کی ایک خاص حد کو پہنچنے کے بعد اپنی آزاد مرضی سے زندگی گزار لیتے تھے ‘ لیکن یتیم لڑکیوں کا معاملہ یہ ہوتا تھا کہ ان کے ولی اور سرپرست ان کے ساتھ نکاح بھی کرلیتے تھے۔ اس طرح یتیم لڑکیوں کے مال بھی ان کے قبضے میں آجاتے تھے ‘ اور یتیم لڑکیوں کے پیچھے ان کے حقوق کی نگہداشت کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا تھا۔ اگر ماں باپ ہوتے تو ظاہر ہے کہ وہ بچی کے حقوق کے بارے میں بھی کوئی بات کرتے۔ لہٰذا ان کا…
Read the full tafseer →5 یتیم لڑکیوں سے ناانصافی :۔ اور زیادہ حق تلفی یتیم لڑکیوں کی ہوتی تھی۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ یتیم لڑکی کا ولی کوئی قریبی رشتہ دار ہی ہوسکتا ہے اور وراثت میں بھی ولی اور یتیم لڑکی کا اشتراک ممکن ہے۔ اب لڑکی کے جوان ہونے پر تین صورتیں پیش آسکتی تھیں : ایک یہ کہ لڑکی خوبصورت نہ ہو اور ولی کے دل میں اس کی الفت بھی نہ ہو اور وہ محض اس طمع سے اس سے نکاح کرلے کہ اس کا ورثہ کا مال ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اس طرح کا نکاح کرنا بھی اس لڑکی پر ظلم ہے۔ دوسرے یہ کہ لڑکی خوبصورت بھی ہو اور صاحب جائیداد بھی ہو، اس صورت میں ولی اس سے نکاح کرلیتا مگر جتنا حق مہر اسے دوسروں سے مل سکتا تھا اسے اس سے بہت کم دیتا اور…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی جو یتیم لڑکیاں تمہاری نگرانی وسرپرستی میں ہیں ان کے حقوق مہر وغیرہ پوری طرح ادا نہ کرسکو گے، خطاب یتیم لڑکیوں کے سرپرستوں سے ہے۔ جاہلیت میں ایک دستور یہ تھا کہ یتیم لڑکیاں جو مردوں کی سرپرستی میں ہوتیں تو انکے وہی سرپرست اکثر یہ دیکھ کر کہ کوئی اور ان کی طرف سے مہر وغیرہ کا مطالبہ کرنے والا اور ان کی حمایت پر کھڑا ہونے والا ہے نہیں، ان کے حقوق مار لینے آسان ہیں، انہی کے ساتھ نکاح کرلیتے ان کی جائیدادیں اپنی طرف شامل کرلیتے یا اور طریقوں سے ان کے ادائے حقوق کی طرف سے بےالتفاتی برتتے۔
9 ۔ (ان یتیم، صاحب جائداد، مگر بےحمایتی لڑکیوں کے علاوہ جو اپنی رضا وعدم رضا کھل کر آزادی کے ساتھ ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ (الآیۃ) اس آیت کی تفسیر حضرت عائشہ ؓ سے اس طرح مروی ہے کہ صاحب حیثیت اور صاحب جمال یتیم لڑکی کسی ولی کی سرپرستی میں ہوتی تو وہ اس کے مال و جمال کی وجہ سے اس سے شادی تو کو لیتا، لیکن اس کا دوسری عورتوں کی طرف پورا حق مہر نہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم سے روکا ہے اگر تم گھر کی یتیم بچیوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو ان سے نکاح مت کرو۔ تمہارے لیے دوسری عورتوں سے نکاح کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ (بخاری شریف) بلکہ ایک کے بجائے چار تک نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو، ایک سے زائد کرنے کی اجازت ہے،…
Read the full tafseer →و ان خفتم الا تقسطوا فی الیتمیٰ خطاب سر پرستوں کو ہے اقساط (باب افتعال) عدل کرنا ظلم نہ کرنا۔ کیونکہ قسط (ثلاثی مجرد) کا معنی ہے ظلم کرنا اور باب افعال کا ہمزہ سلب مآخذ (مادہ) کے لیے ہے اس لیے اقساط کا معنی ہوگیا ظلم نہ کرنا یعنی اے یتیموں کے سر پرستو ! اگر تم کو اندیشہ ہو کہ جو یتیم لڑکیاں تمہاری زیر سرپرستی ہیں ان سے نکاح کرنے میں تم عدل نہ کرسکو گے اور حق تلفی کرو گے۔
فانکحوا ما طاب لکم من النسا تو پھر یتیم لڑکیوں کے علاوہ دوسری عورتوں میں سے جو تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔ یتامیٰ کا اطلاق مرد و عورت دونوں پر آتا ہے۔ بخاری نے صحیح میں زہری کی روایت سے لکھا ہے کہ عروہ بن زبیر بیان کرتے…
Read the full tafseer →(3) یہ آیت ایک غطفانی شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کے پاس اپنے یتیم بھیتجے کا بہت مال تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو گناہ کے ڈر کی وجہ سے صحابہ کرام ؓ بولے ہم یتیموں کو اپنے معاملات ومعاشرت سے علیحدہ کردیتے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت نازل فرمائی، یعنی جیسا کہ اموال یتیم کی حفاظت اور اس میں انصاف نہ کرنے سے ڈرتے ہو، اسی طرح تم عورتوں کے درمیان خرچ اور ان کے حقوق میں پوری طرح انصاف نہ کرسکوگے اور لوگ اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے تک جتنی مرضی ہوتی تھی شادیاں کرلیتے تھے، حتی کہ نو اور دس تک بھی یہ تعداد پہنچ جاتی تھی چناچہ قیس بن حارث کے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے اس کی…
Read the full tafseer →وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا۔۔ : اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ عروہ بن زبیر ؓ کے ایک سوال کے جواب میں ام المومنین عائشہ ؓ نے فرمایا کہ ”بعض یتیم لڑکیاں کچھ لوگوں کی پرورش میں ہوتیں، وہ ان لڑکیوں کے مال اور جمال کی وجہ سے ان سے نکاح کرلیتے، لیکن انھیں اپنے گھر کی لڑکیاں سمجھ کر پرائے گھر کی لڑکیوں جیسا نہ تو مہر دیتے اور نہ ان کے دوسرے حقوق ویسے ادا کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انھیں ایسا کرنے سے منع فرمایا کہ اگر تم یتیم لڑکیوں سے ان کے مہر اور نفقات میں انصاف نہیں کرسکتے تو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے، جو تمہیں پسند ہوں، نکاح کرلو۔ [ بخاری، التفسیر، باب :
(وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 3۔
اس میں چودہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان خفتم “۔ یہ شرط ہے اور اس کا جواب (آیت) ” فانکحوا “ ہے یعنی اگر تمہیں ان کے مہور ار ان میں خرچ کرنے میں عدل نہ کرنے کا اندیشہ ہو تو ان سے نکاح کرو جو تمہیں (ان کے علاوہ) پسند ہیں، ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے اور یہ لفظ مسلم کے ہیں، حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے (آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ماطاب لکم من النسآء مثنی وثلث وربع “۔ کے تحت روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : اے میرے بھانجے ! یہ اس یتیم بچی کے بارے میں ہے جو کسی ولی کی پرورش میں ہوتی تھی اور وہ اس کے مال میں شریک…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید و بخاری ومسلم و نسائی وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنے سنن میں عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بھانجے ! یہ یتیم لڑکی جو اپنے ولی کی گود میں ہو اور وہ اس بچی کے مال کے شریک ہے اور اس بچی کے دل کو اس کا مال اور اس کا وہی دیتا ہے جو اس کے علاوہ اور کوئی آدمی اس کو دیتا ہے تو ان یتیم بچیوں سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا مگر یہ انصاف ان کے ساتھ انصاف کریں بہت اچھا مہر مقرر کریں اور حکم کیا گیا کہ وہ نکاح کریں دوسری عورتوں میں سے جو ان کو اچھی لگیں ان کے…
Read the full tafseer →(وَاِنْ : اور اگر ) (خِفْتُمْ : تمہیں خوف ہو ) (اَلاَّ تُقْسِطُوْا : کہ تم انصاف نہیں کرسکو گے) (فِی الْْیَتٰمٰی : یتیم (لڑکیوں ) میں) (فَانْـکِحُوْا : تو تم نکاح کرو) (مَـا : ان سے جو ) (طَابَ : پسندیدہ ہوں) (لَــکُمْ : تمہارے لیے ) (مِّنَ النِّسَآئِ : عورتوں میں سے ) (مَثْنٰی : دو دو) (وَثُلٰثَ : اور تین تین) (وَرُبٰعَ : اور چار چار ) (فَاِنْ : پھر اگر ) (خِفْتُمْ : تمہیں خوف ہو ) (اَلاَّ تَعْدِلُوْا : کہ تم برابری نہیں کرسکو گے) (فَوَاحِدَۃً : تو پھر (نکاح کرو ) ایک سے ) ) اَوْ مَا : یا اس سے جس کے) (مَلَکَتْ : مالک ہوئے ) (اَیْمَانُکُمْ : تمہارے داہنے ہاتھ ) (ذٰلِکَ : یہ ) (اَدْنٰٓی :…
Read the full tafseer →یتیم بچیوں کے نکاح کرنے کے بارے میں ہدایت
آیت کا مضمون سمجھنے سے پہلے سبب نزول ذہن نشین کرلینا چاہیے تفسیر درمنثور صفحہ 118: ج 2 میں بخاری وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اے میری بہن کے بیٹے اس آیت میں ایسی یتیم بچیوں کا ذکر ہے جن کا باپ فوت ہوجاتا تھا اور جو مال میراث میں ملتا وہ اس بچی اور اس کے ولی کا مال مشترک ہوتا تھا جسے تقسیم کرنا لازم تھا۔
اب ہوتا یہ تھا کہ جو شخص اس یتیم بچی کا ولی (سر پرست) ہوتا تھا وہ اس کے مال میں یا جمال میں رغبت رکھنے کی وجہ سے اس سے نکاح کرلیتا تھا لیکن بچی چونکہ اپنے ہی گھر میں اپنی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
حکم دوم دربارہ نکاح یتامی۔
قال تعالی۔ وان خفتم۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ تعولوا۔
ربط) گزشتہ آیت میں یتیموں کے مالی ضرر پہنچانے کے متعلق ہدایت تھی اب اس آیت میں یتیم لڑکیوں کے نکاح کے متعلق ہدایت ہے اس لیے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یتیم لڑکیاں جس کی تربیت میں دی جاتی ہیں وہ لڑکی اس ولی کے مال میں بوجہ قرایت ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں تو اب دو صورتیں پیش آتیں ہیں کبھی تو یہ ہوتا کہ ولی کو اس یتیمہ کا مال اور جمال دونوں مرغوب ہوتے اور اس مال اور جمال کے لالچ میں اس سے تھوڑے سے مہر پر نکاح کرلیتا چونکہ یتیم لڑکی کا کوئی سرپرست نہیں ہوتا جو اس کے حقوق کی حفاظت کرتا اور اس کے حقوق کے لیے جھگڑے اس لیے یہ ولی اس کے…
Read the full tafseer →4 دوسرا حکم رعیت۔ (اگر یتیم لڑکیوں سے نکاح کرو تو ان کا مہر اور دوسرے حقوق ادا کرو) زمانہ جاہلیت میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایک شخص کی تولیت میں یتیم لڑکی مثلاً اس کی چچا زاد بہن ہوتی جو وراثت میں اس کی شریک ہوتی وہ شخص یہ سوچ کر کہ اگر اس یتیمہ کی شادی کسی دوسرے شخص سے کریگا تو اس کی دولت اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی، وہ خود ہی اس لڑکی سے نکاح کرلیتا لیکن مہر اور دیگر حقوق معاشرت میں اس سے بےانصافی کرتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یتیم سے بےانصافی اور ان پر ظلم کرنے سے ممانعت فرمادی اور مسلمانوں تلقین فرمائی کہ اگر وہ اپنی زیر کفالت یتیم لڑکیوں سے نکاح کریں تو ان کی حیثیت کے مطابق ان کے مہر ادا کریں…
Read the full tafseer →رابطہ آیات
سورۃ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ، اور تمام انسانوں کا ایک ہی نفس سے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا۔ پھر اسی ایک نفس سے اسکا جوڑا پیدا کیا اور پھر تمام نسل انسانی کو پھیلایا۔ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے اور قرابت داروں سے حسن سلوک کی وصویت فرمائی۔ انسانی حقوق کی ادائیگی کا حکم فرمایا اور خاص طور پر یتیموں کے حقوق کی حفاظت کی اور تلقی کی کہ ان کے مال حیلے بہانے سے مت کھائو بلکہ بالغ ہونے پر ان کے مال ان کو واپس کردو۔
اور یتیم لڑکیوں سے نکاح
یتیموں کے مال حق کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یتیم لڑکیوں کے نکاح کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ بخاری ، مسلم ،…
Read the full tafseer →وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ 0 ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ 0 ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا 3 ۭ
خفی
خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ،
( خی ) خفی ( س )
خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔
قسط
الْقِسْطُ : هو النّصيب بالعدل کالنّصف والنّصفة . قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ترکیب : بالطیب مفعول ثانی ہے مبتدالوا کا۔ الی اموالکم متعلق ہے محذوف سے اور موضع حاملیں ہے اے مضافۃ الی اموالکم وقیل لی بمعنی ان خفتم شرط فانکحوا الخ جواب۔ ما طاب مفعول فانکحوا من النساء اس کا بیان ‘ مثنی وثلث وربع تینوں نکرہ غیر منصرف ہیں عدل اور وصف کی وجہ سے اور یہ تینوں بدل ہیں ما سے۔ فان خفتم شرط فواحدۃ اے انکحواواحدۃ جواب او تخییر یا اباحت کے لئے۔ ماملکت موصول وصلہ مبتداء کا فیہ خبر محذوف نحلہ مفعول مطلق ہے اتوا کا دونوں ہم معنی ہیں نفسًا تمیز ہے شیء سے عامل طبن منہ فعیل وکذا مرئیا مفعول مطلق ہیں اے کلاھنا۔
تفسیر : جب وہ تمہید ہوچکی تو سب سے اول حکم یتیموں کے مال کی بابت دیتا ہے…
Read the full tafseer →وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتٰمٰی فَانْـکِحُوْا مَاطَابَ لَـکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ
وَرُبٰعَ ط فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْمَامَلَـکَتْ اَیْمَانُـکُمْ ط ذٰلِکَ اَدْ نٰٓی اَلَّا تَعُوْلُوْا ط
(اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہارے لیے جائز ہوں ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کرلو اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو ایک ہی پر بس کرویا پھر کوئی لونڈی جو تمہاری ملک میں ہو۔ یہ طریقہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم بےانصافی سے بچ جاؤ) (النسآء : 3)
یتیم بچیوں پر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یتامیٰ میں بھی یتیم بچیوں کا خیال رکھنے کا حکم ہے کیونکہ یتیم لڑکا تو کسی نہ کسی طریقے سے گزارہ کرلیتا ہے لیکن یتیم بچی جائے تو کدھر جائے۔ اگر بالغ ہوجائے تو اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس سے مشروط نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے یتیموں کے بعض سر پرست محض اس کے مال پر قبضہ کرنے کے لیے یتیم لڑکی کے بالغ ہونے پر اس کا نکاح اپنے یا اپنے بیٹے کے ساتھ کردیتے۔ ایسا ہی واقعہ آپ کی بعثت کے بعد پیش آیا۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ رَجُلًا کَانَتْ لَہٗ یَتِیْمَۃٌ فَنَکَحَھَا وَکَانَ لَھَا عَذْقٌ وَکَانَ یُمْسِکُھَا عَلَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ…
Read the full tafseer →آیت 3 :
وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْافِی الْیَتٰمٰی (اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم انصاف نہ کرسکو گے یتیموں کے معاملہ میں) اقسط۔ باب افعال بمعنی عدل کرنا۔ لا تقسطوا کا معنی عدل نہ کرنا۔ الیتامیٰ کا لفظ مذکر و مؤنث دونوں کیلئے بولا جاتا ہے۔ جمع یتیمۃ و یتیم ہے۔ باقی ایتام جمع یتیم ہے فقط۔ فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ (پھر تم نکاح کرو دوسری عورتوں میں سے جو تم پسند کرو)
طاب کا معنی حلال :
طاب کا معنی حلال ہونا ہے۔ یعنی جو تمہارے لئے حلال ہوں۔ کیونکہ ان میں بعض عورتیں وہ ہیں جو حرام ہیں۔ ان کا تذکرہ آیت تحریم میں ہے۔ مَا کا استعمال ذی عقل کی صفات کیلئے آتا ہے۔ گویا یہاں اس طرح…
Read the full tafseer →(یتامی کے ساتھ نکاح کا حکم اور شان نزول)
(آیت)” وان خفتم ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثنی وثلاث ورباع “۔ اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں ، بعض حضرات نے کہا کہ اگر تم کو خوف ہوائے یتامی کے اولیاء کہ تم ان میں عدل نہیں کرسکو گے کہ جب تم ان سے نکاح کرو تو تم ان کے علاوہ دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرلو ، دو دو تین تین ، چار چار ہوں ۔
حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے اس آیت کے متعلق سوال کیا کہ (آیت)” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ماطاب لکم من النسائ “۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ارشاد فرمایا اس سے مراد وہ یتیمہ ہے جو اپنے کی سرپرستی میں ہوتی تھی اور ولی اس کا محرم نہیں ہوتا تھا جیسے چچا…
Read the full tafseer →صحیح بخاری 3 میں روایت ہے کہ عروہ بن زبیر ؓ نے عائشہ صدیقہ ؓ سے اس آیت کی شان نزول پوچھی تھی حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اے میرے بھانجے بعض یتیم لڑکیاں لوگوں کی پرورش میں ہوتی ہیں وہ لوگ ان لڑکیوں کو مالدار اور قبول صورت دیکھ کر ان کے مال اور جمال پر گرویدہ ہوجاتے تھے اور پہلے تو ان لڑکیوں سے نکاح کرلیتے تھے پھر ان کو گھر کی لڑکیاں سمجھ کر پرائے گھر کی لڑکیوں جیسے ان کے حق ادا نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ایسی صورت میں ایک سے لے کر چار تک تم پرائے گھر کی لڑکیاں کیا کرو تاکہ ان کے حق ادا کرنے پر تم کو پرائے گھر کی شرم و امن گیر ہو۔ چار سے زیادہ عورتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیت 3-4
یعنی اگر تمہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ تم ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکو گے جو تمہاری پرورش اور سرپرستی میں ہیں اور تمہیں ڈر ہے کہ ان کے ساتھ تمہاری محبت نہ ہونے کی وجہ سے تم ان کے حقوق ادا نہ کرسکو گے۔ تو تم ان کے علاوہ دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرلو (ماطاب لکم من النسآء) ” عورتوں میں سے جو تمہیں اچھی لگیں “ یعنی، دین، مال، حسب و نسب اور حسن و جمال جیسی دیگر صفات جو نکاح کی ترغیب دیتی ہیں، ان صفات کی حامل عورتوں میں سے جس کے ساتھ نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہو، اپنی خواہش اور صوابدید کے مطابق نکاح کرلو۔ نکاح کے انتخبا کے لئے بہترین صفت دین ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”…
Read the full tafseer →کم عمربچے بچیوں کا نکاح کرادینا
اسلام کسی کو بھی یتیم بچیوں کے ساتھ ناانصافی کی اجازت نہیں دیتا
قول باری ہے (وان خفتم ان لاتقسطوافی الیتامی فانکحواماطاب لکم من النساء مثنیٰ واثلث وربع ، اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دودو، تین تین ، چارچار سے نکاح کرلو) زہری نے عروہ سے روایت کی ہے کہ میں نے اپنی خالدحضرت عائشہ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : میرے بھانجے یہ یتیم لڑکی کے متعلق ہے جو اپنے ولی کی سرپرستی میں ہوتی تھی۔ اس کے مال اور حسن وجمال سے اسے رغبت ہوجاتی اور وہ اس سے نکاح کرنے کا ارادہ کرلیتا اور بدلے میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
7 رشتوں کے بگاڑ سے بچنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور ڈرو تم لوگ رشتوں [ کے بگاڑ ] سے "۔ کہ ان کے بارے میں کہیں تم قطع رحمی یا حق تلفی کے مرتکب نہ ہوجاؤ کہ یہ بڑا کبیرہ گناہ ہے، حدیث پاک میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قاطع رحم، یعنی رشتہ داری کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا (بخاری کتاب الادب، مسلم کتاب البر والصلۃ والآداب) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس کا ایمان ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر، تو وہ صلہ رحمی کرے، (بخاری کتاب الادب) سو اس سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی ایمان کا تقاضا ہے وباللّٰہ التوفیق وھوالہادی الی الصِّدق والصّواب سو جس طرح تم…
Read the full tafseer →بیویوں کی تعداد
تشریح : اس آیت میں یہ تاکید کی گئی ہے کہ اگر کوئی یتیم بچی تمہاری ذمہ داری میں ہو تو تم انصاف سے کام لیتے ہوئے نیک نیتی سے اس سے نکاح کرلو لیکن اگر سمجھتے ہو کہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو پھر نکاح نہ کرو دوسرا نکتہ جو اس آیت میں اٹھایا گیا ہے وہ ہے بیویوں کی تعداد کا ایک تو اس زمانے میں لوگ بیشمار بیویاں رکھتے تھے تو اس وجہ سے دو ، تین یا چار کی اجازت دی گئی، تاکہ لوگ گناہ نہ کریں، یعنی بغیر نکاح کے عورتوں سے تعلقات نہ رکھیں۔ چار کی اجازت دینے پر بھی ایک سخت شرط رکھ دی کہ اگر تم ان سے برابری کا سلوک نہ کرسکو تو پھر ایک بیوی دو یا تین سے بہتر ہے۔ غرض جس قدر انصاف تم کرسکتے…
Read the full tafseer →و ان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی ۔۔۔۔۔۔ آیت 3
ایک غلط روش کی اصلاح : دوسری صورت یتیم بچیوں کے نکاح کی تھی کہ قبل اسلام ورثا مال کے لالچ میں یتیم لڑکیوں سے نکاح تو کرلیتے تھے مگر حقوق ادا نہیں کرتے تھے یہ بھی اموال کے غصب کرنے ہی کا ایک حیلہ تھا سو اسلام نے منع فرما دیا کہ اگر ایسی صورت ہو اور تم ان کے حقوق کی نگہداشت نہ کرسکو تو یتیم لڑکیوں سے شادی ہی نہ کرو بلکہ جو عورتیں نکاح میں حلال ہیں ان میں سے دو تین یا چار تک بیک وقت نکاح کرسکتے ہو مگر خیال رہے کہ ان سب کے حقوق کا خیال رکھنا پڑے گا یہ نہ ہو کہ نکاح تو کرلیا مگر کسی ایک کو تو محبوبہ بنا لیا اور دوسری بیویوں کی پرواہ نہ کی بلکہ سب کے حقوق…
Read the full tafseer →ف 9 آیت کی شان نزول کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ عروہ بن زبیر ؓ کے ایک استفسار کے جواب میں فرماتی ہیں کہ بعض یتیم لڑکیاں لوگوں کے دامن پر ورش میں ہوتیں وہ ان لڑکیوں کے مال دار اور قبول صورت ہونے کی وجہ سے ان کے مال و جمال پر گرویدہ ہوجاتے اور ان سے نکاح کرلیتے لیکن ان کو اپنے گھر کی لڑکیاں سمجھ کر پرائے گھر کی لڑکیوں جیسا نہ تو مہر دیتے اروانہ ان کے دوسرے حقوق ہی ویسے ادا کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا کہ اگر یتیم لڑکیوں سے تم ان کے مہر اور نفقات میں انصاف نہیں کرسکتے تو ان کے علاوہ تمہیں دوسری عورتوں س نکاح کی اجازت ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی) اس آیت حضرت ابن عباس ؓ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(4:3) خفتم۔ خوف (اجوف وادی) باب سمع سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ اصل میں خوفتم تھا۔ واؤ متحرک ما قبل مفتوح واؤ کو الف سے بدلا۔ دو ساکن جمع ہوئے۔ الف اجتماع ساکنین سے گرگیا۔ بعد ازاں تاء کلمہ کے فتح کو کسرہ سے بدلا کہ ماضی مکسور العین ہے۔ خفتم۔ تم ڈرے۔ تم کو ڈر ہوا۔
الا۔ ان لا کا مخفف ہے۔
تقسطوا۔ تم انصاف کرو۔ تم انصاف کرو گے۔ اقساط سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تقسطون تھا۔ ان ناصبہ کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ الا تقسطوا۔ کہ تم انصاف نہیں کرو گے۔ یا نہ کرسکو گے۔
طاب۔ طیب (باب ضرب) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ خوش لگے۔ بھلا معلوم دے صاحب مدارک التنزیل نے ما طاب لکم سے مراد لیا ہے جو تمہارے لئے حلال…
Read the full tafseer →آیت نمبر 3
لغت القرآن : ان خفتم، اگر تمہیں ڈر ہو۔ الا تقسطوا، یہ کہ تم انصاف نہ کرسکو گے۔ طاب، پسند ہو۔ مثنی دودو۔ ثلث، تین تین۔ ربع، چار چار۔ واحدۃ، ایک۔ ملکت، مالک ہو۔ ایمان، داہنے ہاتھ۔ ادنی، قریب ہے۔ الا تعولوا، یہ کہ تم بےانصافی نہ کرو۔
تشریح : حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ دور جاہلیت میں نکاح کی کوئی حد مقرر نہ تھی۔ ایک شخص دس دس بیویاں کرلیا کرتا تھا۔ جب شادیوں کی کثرت سے اخرجات بڑھ جاتے تو مجبور ہو کر اپنی یتیم بھتیجیوں، بھانجیوں اور دوسرے بےبس عزیزوں کے حقوق پر دست درازی کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لئے چار بیویاں رکھنے کی حد مقرر کردی لیکن اس…
Read the full tafseer →لوگ یتیموں کی ولایت وسرپرستی میں تو ناانصافی کرتے تھے اور بہت سے نکاح کرنے میں کچھ پاس نہیں رکھتے تھے۔ ان کو بتایا گیا کہ جب زیادہ عورتیں نکاح میں ہوں تو ان کے حق میں ناانصافی ہونے سے بھی ڈرو۔ اتنی ہی عورتوں سے نکاح کرو جن کے حقوق ادا کرسکو۔ قریش زیادہ نکاح کرتے تھے جب ان کا بار نہیں اٹھا سکتے تھے تو جو یتیم لڑکیاں ان کی سرپرستی میں ہوتیں اس کے مال خرچ کرتے۔ اس پر اس آیت میں آیا کہ چار سے زیادہ نکاح نہ کرو تاکہ ان کے حقوق برابر رکھ سکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[3] یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرنے کی صورت یہ تھی کہ یتیم لڑکی کسی کی سرپرستی میں ہوئی اور وہ یہ دیکھ کر کہ کوئی اس کی طرف سے مہر وغیرہ کا مطالبہ کرنے والا اور اس کی حمایت پر کھڑا ہونے والا نہیں ہے اور اس کے حقوق مار لینے آسان ہیں اس کے ساتھ نکاح کرلیتا اور اس کی جائیداد اپنی جائیداد میں شامل کرلیتا یا دوسرے طریقوں سے ادائے حقوق میں بےالتفاتی برتتا۔ اس پر فرمایا کہ اگر تم انصاف نہیں کرسکتے تو ان سے نکاح ہی مت کرو۔ دوسری عورتوں میں سے انتخاب کرسکتے ہو۔ ایک وقت میں ایک سے لے کر چار تک کی گنجائش ہے۔
[4] یہاں تعداد ازواج کے جواز کو عدل کی شرط سے مشروط کیا گیا ہے۔ عدل سے مراد یہاں ادائے…
Read the full tafseer →تعددازو واج :
(ف 2) اسلام نے عورت کو جو حقوق دیئے ہیں دنیا کا قانون حیران و ششدر ہے ، اس نے اس کا درجہ اتنا بلند اور رفیع قرار دیا ہے کہ وہاں تک غیر مسلم عورتوں کی رسائی ناممکن ہے ، مگر تعدد ازواج ایک مسئلہ ہے جو بظاہر عقل و انصاف رکھنے والوں کے دل میں کھٹکتا ہے اور غیر مسلم دنیا کے دل میں عورت کی حیثیت کی نسبت شکوک پیدا کردیتا ہے ، اور وہ یہ دیکھ کر کہ اسلام بیک وقت چار عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے ، کہہ اٹھتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں سے کوئی اچھا سلوک روا نہیں رکھا ، حالانکہ ایسا نہیں ، تعدد ازواج کے متعلق مندرجہ ذیل حقائق سامنے رکھنے چاہئیں ۔
اسلام سے پہلے کثرت بعول اور کثرت ازواج کی…
Read the full tafseer →ف 1 اور اگر تم کو اس امر کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکوگے اور ان کے مہر وغیرہ کے متعلق تم عدل و انصاف کی رعایت نہ رکھ سکوگے تو ان یتیم لڑکیوں کے علاوہ تم اور دوسری حلال عورتوں میں سے جو تم کو کسی وجہ سے پسند ہوں ان سے نکاح کرلو اور یہ نکاح خواہ در در عورتوں سے کرو خواہ تین تین عورتوں سے خواہ چار چار عورتوں سے بہرحال کوئی شخص چار عورتوں سے زاہد کو نکاح میں نہ رکھے پھر اگر ایک سے زیادہ عورتوں کو نکاح میں رکھنے سے اس امر کا ظن غالب ہو کہ تم ان میں مساویانہ برتائو نہ کرسکوگے اور ان عورتوں کے درمیان عدل قائم نہ رکھ سکوگے تو پھر ایک ہی عورت پر اکتفا کرو یا قواعد شرعیہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 3۔ مثنی وثلث وربع ترکیب نحوی میں حال ہیں طاب سے اور حال قید ہوتا ہے کلام میں اور مفہوم میں بوجہ تکرار معنی کے موضوع ہیں انقسام کے لیے پس مجموعہ دونوں امروں کا مقید ہوا تقلید الحکم بہذہ الاقسام کو۔ نہ کہ اطلاق کو اور حکم فانکحوا جو عامل ہے حال میں اباحت کے لیے ہے پس اباحت مقید ہوگئی ان اقسام کے ساتھ جب یہ قید نہ ہوگی مثلا چار سے زائد تواباحت بھی نہ ہوگی کیونکہ جہاں قید کا کوئی فائدہ نہ ہوا احترازی ہونی ہے۔
4۔ اگر عدل نہ ہوسکنے کا غالب احتمال ہو تو کئی بیبیوں سے نکاح کرنا بایں معنی ممنوع ہے کہ یہ شخص گناہ گار ہوگا نہ بایں معنی کہ نکاح صحیح نہ ہوگا نکاح یقینا ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →یتیم لڑکیوں کا مخصوص حکم کہ ان کے معاملہ میں بھی انصاف سے کام لو :
8: مال کھانے کے معامہ میں یتیم لڑکے ہوں یا لڑ کیا ، دونوں ہی کے لئے ایک جیسا حکم ہے اور کوئی فرق نہیں لیکن یتیم لڑکیوں کے لئے تم کو ایک مخصوص حکم بھی دیا جاتا ہے تاکہ اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو۔ وہ حکم یہ ہے کہ ان یتیم لڑکیوں کو جو تمہای کفالت میں آجائیں اس لئے اپنے گھروں میں مت ڈال لیا کرو کہ ان کا مال اس طریقہ سے تم کو حاصل ہوجائے گا یا ان کی ماؤں کے ساتھ اس غرض سے نکاح کرو کہ ان کے ساتھ نکاح کرنے سے وہ مال بھی اور یتیم بچے بھی تمہاری ملک میں آجائیں گے اور تم اپنی من مانی کرسکو گے۔
اگر اس بات کا ذرا بھی خیال ہو کہ اس طرح…
Read the full tafseer →Sequence
In the previous verse, guardians were warned against pilferage or misappropriation in the property of orphans. The present verse is an extension of the basic command from another angle. Here they are warned against any attempt to marry orphaned girls under their guardianship hoping to get away by fixing a dower of their choice and claiming their properties as additional benefit.
So, the Holy Qur'an has very clearly declared that every excuse, device or stratagem set up to usurp the property of the orphan is impermissible. It is the duty of the guardians that they should protect the…
Read the full tafseer →4. Commentators have explained this in the following ways:
(i) There is the view of 'A'ishah who says that men tended to marry orphan girls who were under their guardianship out of consideration for either their property, beauty or because they thought they would be able to treat them according to their whims, as they had no one to protect them. After marriage such men sometimes committed excesses against these girls. It is in this context that the Muslims are told that if they fear they will not be able to do justice to the orphan girls, then they should marry other girls whom they like.…
Read the full tafseer →