4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نساء۔ سورة نمبر ٤۔ رکوع ٢٤، آیات ١٧٦۔ الفاظ وکلمات ٣٧٢٠۔ حروف ١٦٦٦٧۔ مقام نزول مدینہ منورہ۔ سورة النسا غزوہ احد کے بعد نازل کی گئی، جس جنگ میں ستر سے زیادہ صحابہ کرام شہید ہوئے۔ اتنی بڑی تعداد میں گھروں کے سرابراہوں کے اٹھ جانے سے عورتوں بچوں کے مسائل میراث و جائیداد کی مشکلات پیش آئیں، اللہ تعالیٰ نے سورة النساء۔ میں عورتوں کے حقوق کے ساتھ اخلاق معاشرے معیشت کے بنیادی اصول نازل فرمائے، تاکہ ان مطابق اسلامی معاشرہ اور خاندانوں کی شیرازہ بندی کی جاسکے۔ تعارف سورة النساء سورة النساء میں تمام انسانی حقوق خاص طور پر خواتین کے بنیادی حقوق، یتیم بچے، بچیوں۔ غلام اور باندیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض اہم ذمہ داریوں کی وجہ سے مردوں کو ایک درجہ فضیلت عطا کیا ہے لیکن انسانی حقوق میں مرد اور عورتیں دونوں یکساں اور برابر ہیں۔ چونکہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت عطا کیا گیا ہے اس لیے ان کو ایک خاندان کو بنائے رکھنے میں عظیم حوصلے اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ شریعت میں عورتوں کو ہر طرح کے ظلم وستم اور زیادتیوں سے بچانے کے لئے اس عرب معاشرہ میں جہاں بیویاں رکھنے پر کوئی پاندی نہیں تھی اور بیشمار شادیاں کرکے عورتوں کو بھیڑیوں کی طرح رکھتے تھے حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک ہی بیوی رکھیں کسی شدید ضرورت کے وقت ایک سے زیادہ بھی بیویاں کی جاسکتی ہیں مگر ان کی تعداد چار سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ ایک کے بعد دوسری عورت سے شادہ کرنے میں یہ شرط ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرنا ہوگا۔ یہ بھی خیال رہے کہ چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ہے ہر مسلمان کو حکم نہیں دیا گیا کہ وہ چار شادیاں ضرور کرے ورنہ وہ مسلمان نہیں رہے گا (نعوذ باللہ) چونکہ مرد خاندانی امور کا ذمہ دار بنایا گیا ہے اس لیے اس خاندان کو بنائے رکھنے کی گرہ مرد کے ہاتھ میں دی گئی ہے چاہے تو اس گرہ کو باندھے رکھے چاہے تو کھول دے یعنی طلاق دے دے۔ مگر شریعت میں طلاق دینے کو سب سے بری حرکت قرار دیا گیا ہے جس سے نہ صرف عرش الٰہی کانپ اٹھتا ہے بلکہ اللہ کا غصہ بھی نازل ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر طلاق دینا ضروری عرش الٰہی کانپ اٹھتا ہے بلکہ اللہ کا غصہ بھی نازل ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر طلاق دینا ضروری ہوجائے تو قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات کی روشنی میں پوری احتیاط سے طلاق دی جائے۔ کیونکہ طلاق دو حقیقت چلائے ہوئے اس تیر کی طرح ہے جو کمان میں واپس نہیں آتا۔ اگر یہ تیر کمان میں واپس آئے گا تو مرد اور عورت کو کافی ذلت اٹھانا پڑتی ہے۔ شریعت کے احکامات کے مطابق مرد اور عورت میراث میں شریک ہیں۔ عورتوں کو میراث سے محروم کرنا ظلم ہے جس کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ شریعت نے عورتوں کو ایک خاص حد تک آزادی دی ہے اس پر پابندی لگانے کا اکسی کو اختیار نہیں ہے اور عورتوں کو بھی شریعت نے جتنی آزادی عطا کی ہے ان حدود کا خیال رکھنا ہر مومن عورت کی ذمہ داری ہے۔ دنیا میں فیشن اور ترقی کے نام پر کھلی آزادی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان نبوت سے پہلے عورتوں پر ظلم کی انتہاء یہ تھی کہ عورتیں بھی شوہر کے مرتے ہی مراث کی طرح تقسیم کی جاتی تھیں۔ دین اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی اور قطعاً ممنوع قرار دیا گیا۔ عربوں میں یہ جاہلانہ رسم جاری تھی کہ وہ اپنی سوتیلی ماؤں سے نکاح کرلیا کرتے تھے ۔ فرمایا گیا کہ یہ کتنی بےحیائی اور بےشرمی کی بات ہے کہ کل تک جس کو ماں کہتے رہے ہو باپ کے مرنے کے بعد اس کو بیوی کی حیثیت سے رکھنے پر کیا تمہیں اس بےحسی پر غیرت نہیں ائے گی۔ اسی لیے شریعت نے سوتیلی ماؤں کو بھی حقیقی ماں کا مقام دے کر ان سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں بیان کیا گیا کہ نسب اور رضاعت (دودھ پلانے) سے کون کون سے عورتیں ہیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ عورتوں پر یہ بھی ظلم اور زیادتی تھی کہ لوگ عورتوں کا مہر ہڑپ کر جاتے تھے۔ اس کے لیے فرمایا کہ مہر درحقیقت عورت کی ملکیت ہے اس کو خوشدلی کے ساتھ ادا کرو اور اس میں خیانت نہ کرو۔ اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو مال کا ڈھیر بھی دیا ہو تو اس کو زبردستی واپس لینا حرام ہے۔ البتہ اگر خلع کی صورت میں مال دے کر عورت اپنی جان چھڑانا چاہے اور طلاق کا مطالبہ کرے تو اس صورت میں عورت سے مال لینا جائز ہے۔ فرمایا کہ صالح عورتیں وہ ہیں جو شوہر کی عدم موجودگی میں شوہر کی عزت و آبرو ، گھر بار اور مال و دولت کی حفاظت کرتی ہیں اور ذمہ داریوں کو نبھاتی ہیں۔ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت ، فرمانبرداری اور اللہ کا خوف رکھنا سب سے بہتر احسن اور کامیابی کا راستہ ہے۔ باہمی رضا مندی کے بغیر لین دین جائز نہیں ہے اور ناجائز طریقے پر مال کی لوٹ کھسوٹ کو حرام قرار دیا گیا ہے کسی مومن کو ناحق قتل کرنا اور جان بوجھ کر کسی انسان یا جان دار کی جان لینا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور دنیا سے ظلم و ستم کی حکمرانی کو مٹانے کیلئے جہاد کی ترغیب اور تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ کی ذات اور صفات میں کسی طرح کا بھی شرک کرنا ایک ایسا ظلم ہے جب تک اس سے توبہ نہ کرلے اس وقت تک اسکی معافی نہیں ہے عیسائیوں اور یہودیوں کے غلط عقیدوں اور رسموں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اہل ایمان کو غلط اور بری رسموں سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ مومنوں سے فرمایا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اپنے عقیدے کو درست رکھیں۔ نماز ایک اہم ترین عبادت اور اسلام کی بنیاد ہے نماز کے وقت اللہ کا خوف دامن گیر رہنا چاہیے کیونکہ جو لوگ اللہ کے خوف اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں دنیا اور آخرت کی کامیابیاں ان ہی کے قدم چومتی ہیں۔

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

اے لوگو ! اللہ سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا پھر ان دونوں کے ذریعہ بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کا آپس میں واسطہ دے کر (تم اپنا حق) مانگا کرتے ہو اور رشتہ داریوں کا لحاظ رکھو۔ کیونکہ اللہ تمہارے اوپر نگہبان ہے۔

آیت نمبر 1 لغات القرآن : یایھا الناس۔ اے لوگو ! ۔ نفس واحدۃ، ایک جان۔ زوج، بیوی۔ بث، اس نے پھیلایا۔ رجال، مرد (رجل کی جمع ہے) ۔ کثیر، بہت سے۔ نساء، عورتیں۔ تسآءلون، تم آپس میں سوال کرتے ہو۔ الارحام، رشتہ داریاں رقیب، نگہبان، نگراں۔ تشریح : سورة نساء کی پہلی آیت ان تمام مسائل اور مضامین کی تمہید ہے جو آنے والی آیات میں بیان کئے گئے ہیں تمام انسانی حقوق کی بنیاد تقویٰ یعنی اللہ کے خوف پر رکھی گئی ہے کیونکہ اللہ کا خوف ہی ایک انسانی معاشرہ کو صحیح خطوط پر چلا سکتا ہے۔ مثلاً بہت سے وہ حقوق ہیں جو حکومت اور قانون کی گرفت میں آسکتے ہیں۔ اجر و مزدور، معاہدات اور لین دین کے بہت سے معاملات اگر ان میں کوئی گڑبڑ کرتا ہے تو قانون کی طاقت سے اس کے حقوق دلوائے جاسکتے ہیں۔ لیکن ، والدین ، اولاد، رشتہ دار، یتیم بچے اور بچیاں ضرورت مند اور دوسرے رشتے داروں کے درمیان الفت و محبت۔ دنیا کی کوئی حکومت یا قانون قوت کے زور سے ایک کے حقوق دوسرے سے دلوا نہیں سکتے۔ یہ الفت و محبت تو صرف اللہ کے خوف، باہمی محبت، ہمدردی اور رواداری اور خیر خواہی کے جذبے ہی سے پروان چڑھ سکتی ہے۔ چونکہ سورة نساء میں حقوق انسانی کی بنیادی اصول بتائے گئے ہیں اس لئے تمہیدی طور پر یہ بتا یا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے کیونکہ تمام انسانوں کو ایک ہی اصل سے پیدا کیا گیا ہے۔ بنیادی طور سے ان میں کوئی فرق نہیں ہے کوئی امتیاز نہیں ہے۔ فرمایا گیا کہ تم دن رات جس اللہ کا واسطہ دے کر اپنے ہزاروں کام نکالتے ہو اور وہ رشتے دار جن سے تم آڑے وقت میں بہتر سلوک کی توقع رکھتے ہو ان کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ صلہ رحمی کرو کیونکہ اگر تم صلہ رحمی نہیں کرو گے اور رشتوں کی نزاکتوں کا خیال نہیں رکھو گے تو اللہ تمہارے ایک ایک عمل کا نگراں اور نگہبان ہے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ جو دوسروں پر رحم نہیں کرتے ان پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کو ان کے مال دے دو ۔ اور برے مال سے اچھے مال کو نہ بدل ڈالو۔ اور ان کے مال کو اپنے مال میں ملا کر نہ کھا جاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

آیت نمبر 2 لغات القرآن : اتوا، تم دو ۔ لاتتبدلوا، تم تبدیل نہ کرو۔ الخبیث بالطیب، گندگی کو پاکیزگی سے۔ حوب، لفظ حوب حبشی زبان کا ہے جس کے معنی ہیں بڑا گناہ عربی میں یہ لفظ اسی معنی کے لیے بولا جاتا ہے ۔ کبیرا، بڑا۔ تشریح : ابھی کہا گیا ہے کہ اللہ کا تقوی اختیار کرو یعنی اس سے امیدیں لگاؤ۔ اس سے ڈرو۔ اور اس کا حکم مانو۔ پہلا حکم یتیموں کے متعلق ہے۔ ہر قوم میں ہر زمانے میں یتیم ہوتے ہیں۔ جو قوم یتیموں کا حق مار دیتی ہے وہ اپنے ایک اہم حصہ کو ضائع کردیتی ہے۔ ممکن ہے یتیموں میں یا ان کی اولادوں میں عظیم ہستیاں ہوں۔ وہ قوم ان عظیم ہستیوں سے محروم رہ جائے۔ پھر یتیم ہر خاندان میں اور ہر طبقے میں ہوتے ہیں۔ اگر یتیموں کو تلف کیا گیا تو آہستہ آہستہ ساری قوم تلف ہو سکتی ہے۔ پھر کیا ٹھکایا ہے کہ آج جو لوگ یتیموں کا حق مار رہے ہیں وہ کل خود یتیم اولاد نہ چھوڑ جائیں۔ اگر اپنی قوم کو عظیم بنانا ہے یا کم از کم بچانا ہے تو یتیموں کی خدمت اور حفاظت مقدم ہے۔ جیسا کہ یہ آیت مظہر ہے اس کے تین طریقے ہیں۔ (1) یتیموں کا مال یتیموں پر صر کیا جائے اور جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کا مال شریعت کے مطابق ان کے حوالے کردیا جائے (2) ان کے اچھے مال کو برے مال سے نہ بدلا جائے (3) ان کے مال کو اپنے مال میں ملا کر نہ کھایا جائے۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ حساب کتاب الگ الگ اور صاف صاف رکھا جائے۔ اس اصول سے غبن، خوردبرد، غفلت ، تصرف وغیرہ کے چور دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔
Ayah 4:3

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے حق میں انصاف نہ کرسکو گے تو پھر عورتیں جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔ دو دو سے تین تین سے یار چار چار سے پھر اگر ایک سے زائد بیویں میں تمہیں اس بات کا ڈر ہو کہ تم ان کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی بیوی کرو یا ان (باندیوں) کو زرجیت میں لاؤ جو تمہاری ملکیت میں آئی ہیں کیونکہ بےانصافی سے بچنے کے لئے یہ عمدہ بات ہے۔

آیت نمبر 3 لغت القرآن : ان خفتم، اگر تمہیں ڈر ہو۔ الا تقسطوا، یہ کہ تم انصاف نہ کرسکو گے۔ طاب، پسند ہو۔ مثنی دودو۔ ثلث، تین تین۔ ربع، چار چار۔ واحدۃ، ایک۔ ملکت، مالک ہو۔ ایمان، داہنے ہاتھ۔ ادنی، قریب ہے۔ الا تعولوا، یہ کہ تم بےانصافی نہ کرو۔ تشریح : حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ دور جاہلیت میں نکاح کی کوئی حد مقرر نہ تھی۔ ایک شخص دس دس بیویاں کرلیا کرتا تھا۔ جب شادیوں کی کثرت سے اخرجات بڑھ جاتے تو مجبور ہو کر اپنی یتیم بھتیجیوں، بھانجیوں اور دوسرے بےبس عزیزوں کے حقوق پر دست درازی کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لئے چار بیویاں رکھنے کی حد مقرر کردی لیکن اس میں بھی عدل و انصاف کی شرط رکھ دی ہے۔ اگر ایک شخص عدل و انصاف نہ کرسکتا ہو تو پھر اسے ایک ہی شادی کرنا چاہئے۔ دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ دور جاہلیت میں بھی لوگ یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے کو برا سمجھتے تھے لیکن عورتوں کے معاملے میں ان کے ذہن عدل و انصاف کے تصور سے خالی تھے۔ جتنی چاہتے تھے شادیاں کرلیتے تھے اور پھر ان پر طرح طرح سے ظلم و ستم کیا کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو عورتوں کے ساتھ بھی بےانصافی کرنے سے ڈرو۔ اول تو چار سے زیادہ نکاح ہی نہ کرو اور چار کی حد میں بھی اتنی بیویاں رکھو جن کے ساتھ تم انصاف کرسکتے ہو۔ قرآن و سنت کی روشنی میں علماء امت کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ چار سے زیادہ بیویاں کرنا کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں ہے۔ اور اسلامی تاریخ میں اس کی مثالیں مل سکتی ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اس کی پابندی کی ہے۔ اس آیت میں کسی مسلمان کو اس بات پر مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ چار چار شادیاں ضرور کرے بلکہ ایک سے زیادہ نکاح کرنے پر عدل و انصاف کی پابندی لگا کر اس بات پر آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ عام حالات میں ایک ہی عورت سے نکاح کرے لیکن بعض حالات میں یہ ایک تمدنی اور اخلاقی ضرورت بن جاتی ہے۔ اگر اس کی اجازت نہ ہو تو پھر وہ لوگ جو ایک عورت پر قانع نہیں ہوسکتے وہ گناہوں کی دل دل میں پھنس سکتے ہیں جس کے نقصانات بےانتہا ہیں۔ ایک مسلمان کو اللہ نے اس کی اجازت دے کر گناہوں سے بچایا ہے۔ قرآن کریم نے ایک مرد کو چار شادیوں تک کی اجازت دی ہے اس کے اس حق پر دنیا کے کسی قانون کو پابندی لگانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ قرآن کے احکامات کے خلاف کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت نہیں ہے تو اس وقت بعض صحابہ کرام کے گھر میں چار سے بھی زیادہ بیویاں تھیں۔ صحابہ کرام ؓ نے اس حکم کے آتے ہی چار سے زیادہ جتنی بھی بیویاں تھیں ان کو طلاق دے دی تاکہ وہ عدت گزار کر شریعت کے مطابق جس سے چاہیں نکاح کرلیں۔ جب یہ حکم آیا تو اس وقت نبی کریم ﷺ کے گھر میں بھی چار سے زیادہ امہات المومنین موجود تھیں مگر آپ نے طلاق نہیں دی کیونکہ آپ اس حکم سے اسلئے مستثنیٰ تھے کہ یہ ان خواتین کے ساتھ شدید بےانصافی ہوتی۔ وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ہر زوجہ محترمہ امت کی ماں ہیں اگر آپ ﷺ طلاق دے دیتے تو ان سے کسی کو نکاح کرنے کی اجازت نہ ہوتی کیونکہ ماں سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اسلئے امت کے تمام افراد کو جن کے گھر میں چار سے زیادہ بیویاں تھیں ان کو طلاق دے دینے کا حکم تھا کیونکہ وہ طلاق کی عدت گزارنے کے بعد کسی سے بھی نکاح کرنے میں آزاد تھیں جب کہ ازواج مطہرات جن کو ایک دفعہ ” ماں “ کا درجہ حاصل ہوگیا تھا اگر ان کو فارغ کردیا جاتا تو ان کے ساتھ شدید بےانصافی ہوتی۔
Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دیا کرو۔ پھر اگر وہ اپنی خوشی سے تمہارے لئے کچھ چھوڑ دیں تو تم اس کو شوق سے کھا سکتے ہو۔

آیت نمبر 4 لغت القرآن : صدقت، (صدقۃ) مہر۔ نحلۃ، خوشی سے، خوش دلی سے۔ طبن، (مونث) خوشی سے، مرضی سے کام کریں۔ ھنیئا مریئا، ہنسی خوشی۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے عورتوں پر طرح طرح کے ظلم کئے جاتے تھے۔ ان کے کسی حق کی ادائیگی کو ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن اسلام نے عورت کو معاشرہ میں عزت کا مقام عطا کیا اور وہ تمام راستے بند کر دئیے جن سے عورت پر ظلم و ستم کیا جاسکتا تھا۔ مہر جو سراسر ایک عورت کا حق ہے اس کو کھا جانے کے بھی بہت سے طریقے اختیار کر رکھے تھے۔ مثلاً شادی کے وقت لڑکی کا مہر اس کے سرپرست وصول کرلیا کرتے تھے، دوسرا ظلم یہ تھا کہ اگر کبھی کسی عورت کو مہر دینا ہی پڑگیا تو اوپرے دل سے عورت کو نادان اور بیوقوف سمجھ کر دے دیا کرتے تھے۔ تیسرا ظلم یہ تھا کہ بہت سے شوہر یہ سمجھ کر کہ ان کی بیوی مجبور ہے مخالفت کر نہیں سکتی دباؤ ڈال کر اس سے معاف کرالیا کرتے تھے۔ یہ اور اسی طرح کے ظلم و زیادتی کرکے عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کردیا جاتا تھا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح الفاظ میں فرما دیا کہ لڑکی کا مہر خواہ اس کے سرپرست لے لیں یا شوہر کے پاس ہو اس لڑکی کو اس کی ادائیگی کرنا لازمی ہے۔ ہاں ایک لڑکی خود ہی اپنا مہر دل کی خوشی اور رضا سے معاف کر دے تو دوسری بات ہے۔ لیکن اگر ذرا بھی اس پر کوئی دباؤ ڈالا جائے گا یا اس کا مہر ہضم کرنے کی کوشش کی جائے گی تو یہ بات ایک مسلمان کے لئے جائز اور مناسب نہیں ہوگی۔
Ayahs 4:5–6

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور تم اپنے ان مالوں کو جو تمہارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ ہیں بےعقلوں کو نہ پکڑا دو ۔ البتہ ان مالوں میں سے ان کو کھلاؤ، پہناؤ اور ان سے قول معروف (یعنی قاعدے کی بات) کرو۔

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو اس وقت تک آزماتے رہو جب تک وہ نکاح کی عمر کو نہ پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم ان میں ہوشیاری اور سمجھ داری کی صلاحیت پاؤ تو ان کے مال ان کے سپرد کردو اور یتیموں کا مال اس خوف سے زیادتی کرکے جلدی جلدی نہ اڑا جاؤ کہ بڑے ہوکر مطالبہ کریں گے۔ (ان سرپرستوں میں سے) جو شخص خود مال دار ہو تو اسے یتیم کے مال سے بچنا چاہئے اور جو شخص حاجت مند ہو وہ (اپنے ضروری اخراجات کے لئے) قاعدے طریقے سے لے سکتا ہے اور جب یتیموں کا مال ان کے سپرد کرو تو اس پر گواہ بھی کرلیا کرو۔ ویسے حساب لینے کے لئے تو اللہ ہی کافی ہے۔

آیت نمبر 5- 6 لغات القرآن : لاتؤتوا، تم نہ دو ۔ السفھاء، نادان ، ناسمجھ۔ قیم، سہارا، سرمایہ زندگی۔ اکسوا، پہناؤ۔ قول معروف اچھی بات، معقول بات۔ ابتلوا، آزماؤ۔ الیتمی، یتیم، بےباپ کے بچے۔ حتی بلغوا، جب تک وہ پہنچ نہ جائیں۔ انستم، تم نے محسوس کیا، اندازہ کرلیا۔ رشد، سمجھ داری، ہوشیاری۔ ادفعوا، دے دو ، حوالے کر دو ۔ اسراف، زیادتی ، اڑا لینا۔ ان یکبروا، یہ کہ وہ بڑے ہوجائیں۔ غنی، خوش حال، آسودہ۔ فلیستعفف، پھر بچنا چاہئے۔ اشھدوا، گواہ بنالو۔ حسیب، حساب لینے والا۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اپنا پورا مال کم عقل بچوں اور عورتوں کے حوالے اس طرح نہ کرو کہ خود ان کے محتاج بن کر بیٹھ جاؤ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو قوام اور منتظم بنایا ہے فرمایا تم مال کو خود اپنی حفاظت میں رکھ کر ضرورت کے مطابق ان کو کھلاؤ پہناؤ اور ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرتے رہو اور اگر ناسمجھ یتیم بچے اس مال کو اپنے قبضے میں لینے کا مطالبہ کریں تو ان کو معقول طریقے سے سمجھا دو جس میں ان کی دل شکنی بھی نہ ہو اور مال بھی ضائع نہ ہونے پائے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ ایسے یتیم بچے جن کے مال کے تم نگراں ہو ان کو ایسے ہی مال نہ دے دو بلکہ آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ ان کو آزماتے رہو کہ وہ اس قابل بھی ہیں کہ اگر مال و دولت ان کے سپرد کردیا جائے گا تو وہ اس کا ضائع نہ کریں گے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بالغ ہونے سے پہلے چھوٹے چھوٹے معمولی خریدوفروخت کے معاملات سپرد کرکے دیکھو۔ ان کی صلاحیتوں کا امتحان کرتے رہو۔ یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوجائیں تو اب خاص طور سے اندازہ لگاؤ کہ وہ اپنے معاملات میں سمجھ دار ہوگئے ہیں یا نہیں۔ جب تم ان میں ہوشیاری محسوس کرلو تو ان کے مال ان کے سپرد کر دو ۔ اس کی احتیاط ہونی چاہئے کہ جب مال ان بچوں کے حوالے کیا جائے تو کچھ لوگوں کو گواہ بھی بنا لیا جائے تاکہ آئندہ کسی موقع پر کوئی نیا فتنہ نہ کھڑا ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے کہ وہ انسانوں کے تمام اعمال اور افعال و کردار سے آگاہ ہے۔ ایک آدمی دنیا کی نگاہوں میں دھول جھونک سکتا ہے لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتا اس لئے ممکن ہے ایک شخص کچھ لوگوں کے سامنے حساب کتاب پیش کرکے سرخ رو ہوجائے لیکن اصل حساب کتاب وہ ہے جب قیامت کے دن تمام انسانوں سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ ان آیات میں یتیم بچوں کے سرپرستوں کیلئے چند خاص ہدایات دی گئی ہیں۔ فرمایا گیا ہے کہ (1) امانت میں خیانت نہ کی جائے (2) یتیم کے مال کو فضول نہ اڑایا جائے (3) اور اس خوف سے جلدی جلدی خرچ نہ کردیا جائے کہ وہ بچے جوان ہوکر اپنا حق طلب کریں گے (4) اگر ایک سرپرست اپنا خرچ آپ برداشت کرسکتا ہے تو یتیم کے مال میں سے کچھ بھی نہ لے، لیکن اگر ضرورت مند ہے تو بقدر حاجت لے سکتا ہے۔ حضرت عثمان ؓ غنی خلیفہ ثالث اسی آیت کے تحت حکومت کے خزانے سے کوئی تنخواہ نہیں لیتے تھے۔ دوسرے خلفاء راشدین بھی بس اتنی ہی رقم لیتے تھے جس سے ان کا گزارہ ہوجائے۔ اس جگہ ایک بات کا اور لحاظ رکھا جائے کہ ان آیات میں نابالغ بچوں کیلئے فرمایا جا رہا ہے پوری ملت اور اس کے ہر فرد کیلئے نہیں فرمایا گیا ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ بعض لوگوں نے اس آیت کو دلیل بنا کر یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مال و دولت بہت اہم ہے اس کو نادان اور ان پڑھ قوم کے لئے کھلا نہیں چھوڑا جاسکتا لہٰذا اگر ساری قوم کا مال و دولت حکومت لے کر سب کو روٹی کپڑا مکان انصاف کے ساتھ دے تو یہ بہتر ہے اور دلیل میں اس آیت کو پیش کرتے ہیں میں ایسے نادانوں سے یہی کہوں گا کہ کمیونسٹ نظریات کو (جو نظام تقریباً فیل ہوچکا ہے) اس کو اپنانے کیلئے خواہ مخواہ کی تاویلیں کرکے قرآن کریم کے ابدی اصولوں کو وقتی نطریات کی بھینٹ چڑھانا جائز نہیں ہے۔ اور ہمیں ان نطریات سے مرعوب ہوکر قرآن و سنت کو اس رنگ میں ڈھالنا کائنات کی سب سے بڑی بےوقوفی ہے۔ اس آیت میں نابالغ نادان بچوں کیلئے فرمایا جا رہا ہے کہ بالغ ہونے کے بعد فوراً ہی مال ان کے حوالے نہ کیا جائے جب ان میں معاملہ فہمی پیدا ہوجائے تو پھر حق دار کو اس کا حق دے دیا جائے۔
Ayahs 4:7–10

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

اس ترکہ میں جو والدین نے یا دوسرے رشتہ داروں نے چھوڑا ہے مرد بھی حصہ دار ہیں۔ اور عورتیں بھی اس ترکہ میں حصہ دار ہیں جو والدین نے یاد یگر اقربا نے چھوڑا ہے۔ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ۔ یہ حصے (اللہ کی طرف سے) مقرر ہیں۔

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب تقسیم کے موقع پر قرابت دار اور یتیم لڑکے لڑکیاں اور حاجت مند آجائیں تو انہیں بھی اس (چھوڑے ہوئے مال میں سے) کچھ دے دو اور ان کے ساتھ اچھی گفتگو کرو۔

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور اس بات کا تصور کرکے بھی ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں کمزور بچے چھوڑ جائیں تو انہیں کیسی کیسی فکریں لاحق ہوں گی۔ پس انہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور ٹھیک اور درست بات کہنی چاہیے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

بلا شبہ جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کرکے کھا جاتے ہیں تو سوائے اس کے اور کیا ہے کہ وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ بہت جلد بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے۔

آیت نمبر 7 – 10 لغات القرآن : نصیب، حصہ۔ ترک، چھوڑا۔ قل، تھوڑا ہو۔ کثیر، زیادہ۔ نصیب مفروض، حصہ مقرر ہے۔ القسمۃ، تقسیم۔ ولیخش، اور ڈرنا چاہیے۔ ضعف، کمزور، ناتواں۔ سیصلون، جلد ہی وہ ڈالے جائیں گے۔ سعیر، بھڑکتی آگ۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے عرب میں ایسے ظالمانہ طریقوں کا رواج تھا جس سے عورتوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم ہوا کرتے تھے ان ہی میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ عورتوں کو ترکہ نہیں دیا جاتا تھا قرآن کریم نے اس ظالمانہ رواج کو توڑا اور عورتوں کو بھی اسی طرح حصہ دلایا جس طرح مردوں کو۔ عرب میں کم مال تقسیم نہیں ہوتا تھا۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ مال و دولت، جائیداد وغیرہ کم ہو یا زیادہ بہرحال میراث تقسیم ہوگی۔ اور یہ بھی کہا کی میراث کے حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔ ان میں کمی بیشی کا اختیار کسی کو نہیں دیا گیا۔ تقسیم میراث کے موقع پر چند لوگ بھی آسرا لگا کے آجاتے ہیں جن کا کوئی حصہ نہیں نہیں ہوتا۔ ان میں دوردراز کے رشتہ دار، یتیم اور بیوائیں اور دوسرے حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔ وہ ورثا جو موقع پر موجود ہیں ان سے اخلاق کا تقاضا ہے کہ کچھ دے دلا کر ایسے لوگوں کی دلداری کریں اور نرم گفتگو کے ذریعہ ان کا دل ہاتھ میں لیں۔ مگر ایسے لوگوں کو اس مال میں سے دینا جائز نہیں جو یتیموں کا حصہ ہے یا غائب ورثا کا حصہ ہے۔ صرف حاضر اور بالغ ورثا اپنے اپنے مال میں سے دے سکتے ہیں۔ اس طرح شریعت انہیں بھی نہیں بھولی جن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حصہ پانے والوں، پا نے والیوں اور تقسیم میراث کے وقت حاضر افراد کو لازم ہے کہ کوئی غلط مطالبہ یا غلط گفتگو نہ کریں اور لالچ، ظلم اور دھوکے سے دور رہیں۔ دل میں ہر وقت اللہ کا خوف ہو۔ زبان پر نرم بلکہ شیریں الفاظ ہوں۔ ذرا دل میں غور کریں اگر وہ نابالغ بےبس یتیم بچوں کو اپنے پیچھے چھوڑ کر مر رہے ہوں تو وہ دوسروں سے کیسی کیسی امیدیں اور اندیشے رکھتے ہوں گے ۔ جیسا وہ دوسروں کو دیکھنا چاہتے ہیں ویسا خود بھی کرکے دکھائیں۔ آخر میں فرمایا ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طریقے سے کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ ضرور جہنم میں جائیں گے۔ قیامت کے دن وہ اس حال میں پیش ہوں گے کہ پیٹ کے اندر سے آگ کی لپٹیں منہ ناک کانوں اور آنکھوں کو جھلس رہی ہوں گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا ” میں تمہیں خاص طور پر دو طرح کے کمزوروں کے مال سے بچنے کی تاکید کرتا ہوں۔ عورت اور یتیموں کے مال سے۔ یہ جو آیت نمبر سات میں لفظ ” اقربون “ ہے اس سے تین اصول مرتب ہوتے ہیں۔ (1) تقسیم میراث رشتہ داری کی بنیاد پر ہے۔ جو رشتہ دار جتنا نزدیکی ہوگا اس کا حق اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ (2) اقربون میں مرد عورت دونوں شامل ہیں۔ (3) میراث کی تقسیم میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کون کتنا ضرورت مند ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ کون رشتہ میں کتنا قریب ہے۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔ پھر اگر لڑکیاں دو یا اس سے زیادہ ہوں تو انہیں ترکہ کا دوتھائی حصہ دیا جائے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اسے ترکہ کا آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر مرنے والا صاحب اولاد ہو تو اس کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو ترکہ کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر مرنے والا صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تب ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے گا۔ اور اگر مرنے والے کے بہن بھائی بھی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حق دار ہوگی۔ یہ حصے اس وقت نکالے جائیں گے جبکہ مرنے والے کی وصیت پوری کردی گئی ہو اور اس پر جو قرض تھا وہ ادا کردیا گیا ہو۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے والدین اور تمہاری اولاد میں سے کون تمہیں زیادہ نفع پہنچانے والا ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کئے ہیں۔ بلاشبہ اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

آیت نمبر 11 لغات القرآن : یوصی، وہ حکم دیتا ہے۔ نصیحت کرتا ہے۔ ذکر، لڑکا، مرد۔ حظ، حصہ۔ الانثیین، دو لڑکیاں، دو عورتیں۔ ثلثا، دو ثلث (دو تہائی) ۔ النصف، آدھا۔ ابویہ، اس کے ماں باپ (ا بوین۔ ہ) ۔ السدس، چھٹا حصہ۔ اخوۃ، بھائی (اخ) ۔ دین، قرض۔ لاتدرون، تم نہیں جانتے۔ ایھم، ان میں سے کون۔ اقرب، زیادہ قریب ہے۔ تشریح : سورة النساء کی آیت 11 میں اللہ نے وراثت کے سلسلے میں چند اہم اصول ارشاد فرمائے ہیں ! (1) ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔ (2) اگر میت نے بیٹا نہ چھوڑا۔ صرف بیٹیاں چھوڑی ہوں دو یا زیادہ۔ تو دوتہائی (3/2) مال ان سب بیٹیوں میں تقسیم ہوگا۔ (برابر، برابر) ۔ (3) اگر ایک ہی بیٹی چھوڑی ہے اور کوئی بیٹا نہیں چھوڑا تو بیٹی کو کل ترکہ میں سے نصف (2/1) حصہ ملے گا۔ (4) اگر میت نے اولاد چھوڑی ہے تو اس کے باپ کو کل مال میں سے چھٹا حصہ (6/1) ملے گا نیز بعض صورتوں میں دوسرے وارثوں کے حصے مل جانے کے بعد بچا ہوا پھر والد کو مل جاتا ہے جو اس کیلئے مقررہ چھٹے حصے کے علاوہ ہے۔ (5) اگر میت نے اولاد نہیں چھوڑی اور صرف ماں باپ وارث ہیں تو کل مال میں سے ماں کا حصہ ایک تہائی ہے (3/1) (باپ کا حصہ دو تہائی 3/2) (یہ اس صورت میں ہے کہ مرنے والے نے نہ اولاد چھوڑی نہ بیوی نہ شوہر نہ بھائی نہ بہن) لیکن اگر شوہر یا بیوی موجود ہے تو پہلے اس کا حصہ الگ کیا جائے گا۔ بقیہ میں ایک تہائی 3/1 ماں کو اور دوتہائی 3/2 باپ کو ملے گا ماں کو بقیہ مال کی ایک تہائی صرف دو صورتوں میں ملے گی پہلی صورت وارثوں میں صرف شوہر اور والدین ہوں۔ دوسری صورت وارثوں میں صرف بیوی اور والدین ہوں۔ لیکن اگر میت کی اولاد نہ ہوا لبتہ بھائی بہنوں میں سے کم از کم دو یا اس سے زیادہ ہوں تو اس صورت میں بھی ماں کو کل مال کا چھتا حصہ ملے گا (2/1) اور اگر کوئی وارث نہیں تو بقیہ 6/5 حصہ باپ کو مل جائے گا۔ بھائی بہن کو کچھ نہیں ملے گا کیوں کہ باپ رشتہ میں زیادہ قریب ہے۔ (6) اگر میت نے بھائی بہن چھوڑے ہیں تو ماں کو چھٹا حصہ (6/1) ملے گا۔ (7) یہ حصے اس وقت نکالے جائیں گے جب میت نے جو وصیت کی وہ ایک تہائی مال سے پوری کردی جائے اور جو قرض چھوڑا ہو وہ ادا کردیا جائے۔ (8) کسی کو کیا خبر کہ آگے چل کر اسے باپ سے زیادہ فائدہ پہنچے گا یا بیٹے سے۔ (اسلئے اسے اپنی پسند اور ناپسند کو بیچ میں نہیں ڈالنا چاہئے) (9) یہ سارے حصے اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے ہیں۔ اور وہی ایک ذات ہے جس کے پاس علم بھی ہے اور حکمت بھی ۔ اصول یہ ہے کہ مرنے والے کے مال میں سے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے۔ جس میں نہ کنجوسی ہو نہ فضول خرچی۔ اس کے بعد دوسرا حق قرض داروں کا ہے۔ اگر قرضے ادا کرنے کے بعد میراث بچی تو پھر تیسرا حق وصیت کا ہے۔ اور کسی کو اجازت نہیں ہے کہ اپنے کل مال میں سے ایک تہائی (3/1) سے زیادہ کی وصیت کرے اور کسی جائز حقدار کا حق مارے۔ اگر 3/1 سے زیادہ کی وصیت کی جائے تو صرف 3/1 کی حد تک تسلیم کی جائے گی۔ لیکن اگر تمام وارثوں کو 3/1 سے زیادہ وصیت پر اعتراض نہ ہو تو وصیت پر اسی طرح عمل کیا جائے گا۔ ان تین حقوق کی ادائیگی کے بعد ہی میراث کی تقسیم ہوگی۔
Ayah 4:12

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تمہارے لئے تمہاری ان بیویوں کے چھوڑے ہوئے مال میں سے آدھا حصہ ہے جن کے کوئی اولاد نہ ہو۔ لیکن اگر ان کے اولاد ہے تو تمہارے لئے اس مال میں سے چوتھائی حصہ ہے جب کہ اس وصیت کو پورا کردیا جائے جو انہوں نے کی ہے اور قرض ادا کردیا گیا ہو۔ (اسی طرح) تم جو مال وغیرہ چھوڑ کر جاؤ گے اس میں سے ان عورتوں کے لئے چوتھائی ہے اگر وہ صاحب اولاد نہ ہوں۔ لیکن اگر وہ صاحب اولاد ہوں تو ان عورتوں کے لئے تمہارے چھوڑے ہوئے مال میں سے آٹھواں حصہ ہے۔ کی گئی وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور اگر کوئی ایسا شخص ہے جس کی میراث ہو۔ اور وہ باپ، بیٹا کچھ بھی نہ رکھتا ہو یا ایسی ہی کوئی عورت ہو اور اس میت کے ایک بھائی ایک بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہیں۔ کی گئی وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو ۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور برداشت کرنے والا ہے۔

آیت نمبر 12 لغات القرآن : الربع، چوتھائی۔ الثمن، آٹھواں حصہ۔ اخت، بہن۔ غیر مضآر، نقصان نہ پہنچائے۔ تشریح : (1) ” اولاد چھوڑنے میں “ سوتیلی اولاد شامل ہے۔ خواہ بیوی کے پہلے شوہر یا شوہروں سے یا میاں کی پہلے بیوی یا بیویوں سے ہو۔ (2) اگر شوہر چند بیویاں چھوڑ کر ماجائے تو ایک چوتھائی ترکہ ساری بیویوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یہ اس صورت میں ہے اگر اولاد نہ چھوڑے۔ (3) اگر شوہر اولاد بھی چھوڑتا ہے اور چند بیویاں بھی (خواہ وہ اولاد یا اولادیں کسی ایک بیوی یا مختلف بیویوں سے ہوں) تو بیویوں کے درمیان کل ترکہ میں سے صرف آٹھواں حصہ 8/1 برابر تقسیم ہوگا۔ (4) یہاں آیت کریمہ میں اگرچہ ایک خاص حکمت کے تحت وصیت کو قرض پر مقدم کیا گیا ہے لیکن حکم کے اعتبار سے امت کا اس پر اجماع ہے کہ قرض وصیت پر مقدم ہے۔ یعنی سب سے پہلے میت کے ترکہ میں سے قرض ادا کیا جائے گا پھر ایک تہائی مال سے وصیت پوری کی جائے گی۔ (5) مہر قرض ہے۔ دیگر قرضوں کے ساتھ فوقیت ” دین مہر “ کو بھی دی جائے گی۔ اس کے بعد اگر ترکہ بچے گا تو تقسیم ہوگا۔ ایک بیوی (بیوہ) دین مہر بھی پائے گی اور اپنے حصہ کا ترکہ بھی۔ (1) اگر میت (مرد یا عورت) نہ تو اولاد چھوڑتا ہے، نہ اولاد کی اولاد چھوڑتا ہے، نہ زندہ ماں باپ یا دادا مگر ایک بھائی یا ایک بہن چھوڑتا ہے (ماں شریک) تو اس ایک بھائی یا ایک بہن کو چھٹا حصہ 6/1 ملے گا۔ (2) اگر ایک بھائی اور ایک بہن سے یعنی تعداد دو ہے تو ہر ایک کو چھٹا حصہ یعنی 6/1 حصہ ملے گا۔ (3) اگر بھائی اور بہن کی تعداد دو سے زیادہ ہے تو ایک تہائی 3/1 میں سے برابر کے شریک ہوں گے۔ (4) حسب معمول پہلا حق قرضے کا اور پھر وصیت کا ہے۔ (5) کوئی ایسی وصیت نہیں مانی جائے گی جس میں کسی جائز حق دار کا حق کل یا جزو مارا گیا ہو۔ (6) یہ تقسیم میراث کا حکم اللہ کا تاکیدی حکم ہے۔ وہ اللہ جو علم والا بھی ہے اور حلم والا بھی۔ (7) اوپر کی آیات میں ماں شریک بھائی بہن کا ذکر آیا ہے۔ باپ شریک اور حقیقی بھائی بہنوں کا ذکر سورة النساء کی آخری آیت میں آیا ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ہے کہ اگرچہ وصیت کا لفظ دین (قرضہ) سے پہلے آیا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ نے وصیت کو دین (قرض) کے بعد درجہ دیا ہے۔ (ترمذی) وہ وصیت نہیں مانی جائے گی جس میں کسی جائز حق دار کا حق مارنے کی نیت ہو۔ عرب میں جائز حق داروں کو محروم کرنے کے لئے بہت سی ترکیبیں کی جاتی تھیں جن سے اسلام نے روک دیا ہے تاکہ ہر ایک حق دار کو اس کا جائز حق مل جائے۔
Ayahs 4:13–14

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

اللہ ہی نے یہ حدیں قائم کی ہیں۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی وہ ایسی جنتوں میں داخل ہوگا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اور یہ اس کے لئے عظیم کامیابی ہے۔

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی اور اس کی مقرر کردہ حدوں کو پھلانگ گیا وہ ایسی آگ میں داخل ہوگا جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ تڑپتا رہے گا اور اس کے لئے بڑی ذلت کا عذاب ہوگا۔

آیت نمبر 13 – 14 لغات القرآن : حدود اللہ، اللہ کی حدیں ہیں۔ الفوز العظیم، بڑی کامیابی۔ یعص، نافرمانی کرتا ہے۔ یتعد، وہ حد سے بڑھتا ہے۔ مھین، ذلت، (ذلت والا عذاب) تشریح : یہ حصے اس نے مقرر کئے ہیں جس کے پاس علم بھی ہے اور حکمت بھی۔ اس کی مصلحتوں اور دانش کو کون پہنچ سکتا ہے۔ اگر ان حدود کی پرواہ نہ کی جائے تو پھر یہ جنگل کی انار کی اور لاقانونیت ہوگی۔ کسب مال، صرف مال، اقتصادیات، معاشرت، کنبہ داری، حقوق، عزت اور الفت سب تہہ وبالا ہوجائیں گے۔ اس لئے ان آیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اطاعت کرنے والوں کو عظیم انعامات کا یقین دلایا ہے اور بغاوت کرنے والوں کے لئے جہنم کی وعید سنائی ہے۔ کسی مذہب نے وراثت کے اصول اور حدیں مقرر نہیں کی ہیں۔ اگر کوئی قاعدہ یا قانون ہے تو وہ انسانوں کا بنایا ہوا ہے۔ جس میں نہ علم ہے نہ حکمت ہے۔ قرآن نے جو اصول وراثت پیش کئے ہیں ان کی وضاحت میں حضور ﷺ کی احادیث نے بھی بہت کچھ اصول پیش کئے ہیں۔ مثلاً (1) مورث اور وارث دونوں مسلم ہوں۔ مسلم کا ترکہ کافر یا کافر کا ترکہ مسلم کو نہیں پہنچ سکتا۔ اگر مورث مرتد ہوگیا تھا تو حالت اسلام میں جو کچھ مال اس کے پاس تھا اس کا ترکہ مسلم وراثوں کو ملے گا۔ حالت ارتداد میں جو کچھ اس نے کمایا وہ بیت المال میں جمع ہوجائے گا۔ (2) لیکن اگر عورت مرتد ہوگئی تھی تو اسکا کل مال، خواہ اس کا تعلق زمانہ اسلام سے ہو یا زمانہ ارتداد سے، اس کے مسلم وارثوں کو ملے گا۔ (3) مرتد مرد یا عورت ، اسے کسی مسلم کی میراث نہیں ملے گی۔ (4) قاتل کو مقتول کی میراث میں سے کوئی حصہ نہ ملے گا۔ بشرطیکہ قتل ایسا ہو جس پر شرعاً قصاص یا کفارہ لازم ہے۔ حضور ﷺ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوگا۔ البتہ جس قتل میں شرعاً قصاص یا کفارہ لازم نہیں اس میں وراثت ملتی ہے۔ (5) اگر بیوہ حاملہ ہے تو وہ بچہ بھی جو ابھی پیدا نہیں ہوا وارثوں میں شریک ہے۔ چونکہ یہ معلوم نہیں وہ بچہ لڑکا ہے یا لڑکی اسی لئے وضع حمل سے پہلے جائیداد کی تقسیم نہیں ہوگی لیکن اگر جائیداد کی فوری تقسیم ضروری ہے تو موجودہ ورثا سے پختہ عہد کے ساتھ ضمانت بھی لی جائے کہ حمل سے اگر ایک سے زیادہ بچے پیدا ہوگئے تو ان کے استحقاق کے مطابق واپس کردیں گے پھر ایک لڑکے اور ایک لڑکی کا حصہ موقوف چھوڑا جائے یا لڑکا یا لڑکی میں سے جس صورت میں زیادہ ملتا ہو وہی فرض کرکے محفوظ کرلیا جائے۔ پھر ولادت ہونے پر ہر ایک کے استحقاق کے مطابق تقسیم کیا جائے۔ (6) اگر کسی نے مرض الوفات میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی پھر عورت کی عدت ختم ہونے سے پہلے اسی بیماری میں شوہر کا انتقال ہوگیا تو بیوی کو میراث کا مقررہ حصہ ملے گا۔ خواہ طلاق طلاق بائن رجعی یا مغلظہ ہو سب کا ایک ہی حکم ہے لیکن اگر شوہر کا انتقال عدت ختم ہونے کے بعد ہوا تو بیوی کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں لے گا۔ اسی طرح اگر شوہر کا انتقال اسی بیماری میں نہیں ہوا بلکہ اس بیماری سے تندرست ہوگیا تھا پھر بیمار ہوکر وفات پائی تو اس صورت میں بھی بیوی کو کوئی حصہ نہیں ملے گا، خواہ عدت ختم ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ (7) اگر شوہر نے بیوی کے مانگنے پر طلاق بائن دی تو عورت کو میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، خواہ شوہر کا انتقال عدت کے اندر ہو یا عدت کے بعد دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ البتہ اگر عورت کے مانگنے پر طلاق رجعی دی ہے خواہ اس نے رجعی مانگی ہو یا بائن بہر صورت اگر عدت کے اندر شوہر کا انتقال ہوگیا تو بیوی کو اپنا مقررہ حصہ ملے گا۔ (8) شوہر کے مرض الوفات میں یا اس سے پہلے اگر عورت نے خلع لے لیا ہے تو وہ وارث نہیں۔ خواہ شوہر خلع کی عدت کے دوران مر جائے۔ (9) اس کے علاوہ فقہ کے اور بہت سے مسائل ہیں جو فقہ کی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
Ayahs 4:15–16

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

اور جو تمہاری عورتیں بےحیائی کا کام کریں ، تم ان عورتوں پر اپنوں میں سے چار مردوں کو گواہ بنا لو اگر وہ گواہی دے دیں تو تم ان کو گھروں میں مقید رکھو یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کر دے یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ نکال دے۔

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور اگر دو مرد بےحیائی کا کام کریں تو تم ان کو اذیت پہنچاؤ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اپنے حال کی اصلاح کرلیں تو ان دونوں کو چھوڑ دو ۔ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

آیت نمبر 15 – 16 لغات القرآن : التی، وہ (مونث) ۔ یا تین، لائیں، کریں۔ الفاحشۃ، بےحیائی بدکاری۔ استشھدوا، گواہ مانگو، گواہ طلب کرو۔ امسکوا، تم روک لو۔ البیوت، (بیت) گھر۔ الذان، وہ دو مرد (تشنیہ) ۔ اذوا، تم تکلیف پہنچاؤ۔ تشریح : نبی کریم ﷺ سے پہلے جاہلیت کے دور میں یتیموں اور میراث کے معاملہ میں بڑی کوتاہیاں کی جاتی تھیں جن کی مذمت میں گذشتہ آیات نازل ہوئیں اسی طرح عورتوں کے معاملہ میں سینکڑوں رسمیں رائج تھیں جن کے ذریعہ انہیں طرح طرح سے اذیتیں دی جایا کرتی تھیں۔ آئندہ آیات میں ان ہی کی اصلاح فرمائی گئی ہے۔ ان آیات میں جو حکم نازل ہوا ہے وہ تمام مفسرین کے نزدیک ابتدائے اسلام میں زنا کار عورت کے لئے نازل کیا گیا تھا۔ مگر اللہ نے اس میں کسی اور سبیل کا بھی وعدہ کیا تھا چناچہ اللہ نے اٹھارویں پارے کی سورة نور میں ارشاد فرمایا ہے کہ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد دونوں کو ایک ایک سو کوڑے مارے جائیں گے۔ اب شریعت اسلامیہ کا حکم یہ ہے کہ اگر شادی شادہ مرد یا شادی شدہ عورت بدکاری کریں گے تو ان کو سنگسار کیا جائے گا۔ یعنی پتھر مار کر ہلاک کیا جائے گا لیکن اگر غیر شادی شدہ ہیں تو ان کو ایک ایک سو کوڑے مارے مارے جائیں گے۔ سورة نور کی اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اب سورة نساء کی آیت 15 کا حکم منسوخ ہوگیا کیونکہ گھر میں قید رکھنے کا حکم اس وقت تک تھا جب تک یہ آیت نازل نہیں ہوئی تھی۔ سورة النساء کی سولہویں آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر یہ بےحیائی کا خلاف فطرت کام دو مرد کرتے ہیں تو ان کو شدید اذیت دی جائے گی۔ فقہ اسلامی میں اس گندے فعل کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ اس فعل کے کرنے والوں پر لعنت کی گئی ہے تاہم اس فعل شنیع کے لیے سخت سے سخت سزائیں منقول ہیں مثلاً اس کی شدید سزاؤں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کو آگ میں جلایا جائے۔ دیوار گرا کر کچل دیا جائے۔ اونچی جگہ سے پھینک کر سنگسار کردیا جائے یا اسے تلوار سے قتل کردیا جائے۔ سزا دینے کے بعد اگر ان دونوں نے توبہ کرلی اور اپنے افعال و اعمال کی اصلاح کرلی تو پھر خواہ مخواہ ان کے پیچھے نہ پڑا جائے گا۔
Ayahs 4:17–18

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

توبہ جس کا قبول کرنا اللہ کے ذمے ہے ان لوگوں کے لئے ہے جو نادانی میں کوئی فعل کر بیٹھتے ہیں اور اس کے بعد فوراً ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ اللہ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

مگر تو بہ ان لوگوں کی قبول نہیں کی جاتی جو (مسلسل) برے کام کئے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت آکر ہی کھڑی ہوجاتی ہے اس وقت وہ شخص کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کرلی ہے۔ اسی طرح توبہ ان لوگوں کے لئے بھی فائدہ مند نہیں ہے جو کفر پر مر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

آیت نمبر 17-18 لغات القرآن : التوبہ، توبہ، (لوٹنا) ۔ السوء، برائی ، گناہ۔ بجھالۃ، جہالت، نادانی۔ یتوبون، وہ توبہ کرتے ہیں۔ یعملون، عمل کرتے ہیں۔ السیات، (سیئۃ) برائی، گناہ۔ تبت، میں نے توبہ کرلی۔ اعتدنا، ہم نے تیار کیا ہے۔ تشریح : گذشتہ آیات میں بدکار مردوں اور بدکار عورتوں کی سزا کے بعد اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ذکر فرمایا تھا۔ اب سورة النساء کی آیت 17، 18 میں توبہ قبول ہونے اور نہ ہونے کی صورتوں کا بیان فرمایا ہے۔ توبہ کے لفظی معنی ہیں ” لوٹنا “ واپس آنا ۔ جس جگہ کو چھوڑا تھا وہیں پلٹ کر واپس آنا۔ جب کوئی انسان گناہ کرتا ہے تو گویا وہ اللہ کی راہ سے ہٹ جاتا ہے لیکن جب وہ ندامت کے آنسوؤں کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں پلٹ کر آتا ہے اور اس بات کا عہد کرتا ہے کہ جو خطا اس سے سرزد ہوگئی ہے اس پر وہ ہمیشہ کے لئے شرمندہ ہے اور اب آئندہ نہ کرنے کا وہ اللہ سے عہد کر رہا ہے۔ تو یہ توبہ کہلائے گی اگر کوئی شخص زبان سے تو ” توبہ توبہ “ کہہ رہا ہے لیکن ذہن کے کسی گوشے میں تصور گناہ بھی موجود ہے تو یہ سراسر دھوکہ ہے ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ توبہ کا منشا ہی یہ ہے کہ اب وہ گناہ کے راستے سے پلٹ کر آگیا ہے اور نیکی کے ساتھ زندگی گزارنے کا بھرپور عزم رکھتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں توبہ کے لیے یہ شرط ہے کہ گناہ کو برا سمجھ کر اسے چھوڑ دینا، جو کچھ خطا ہوچکی اس پر نادم اور شرمندہ ہونا۔ اس غلطی کو دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرنا۔ جن کاموں کا تدارک ہو سکتا ہے اسے دور کرنا یعنی اگر کوئی گناہ ہے جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو اس کو ادا کرنا اور اگر حقوق اللہ سے ہے تو اس کی قضا کرنا۔ جیسے چھوڑی ہوئی نمازیں اور روزے وغیرہ۔ جب یہ باتیں پوری ہوں گی تب تو بہ قبول کی جائے گی۔ لیکن وہ شخص جو گناہوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے مگر اس کو کبھی توبہ کی توفیق نہیں ہوتی وہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ ابھی تو کافی وقت پڑا ہے توبہ کرلیں گے جب موت کے فرشتے سامنے آکر کھڑے ہوجاتے ہیں تو پھر وہ شخص کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ اسی طرح وہ شخص جو کفر پر جما ہوا ہے اور اس کو موت آجاتی ہے تو اللہ ایسے لوگوں کی توبہ کو قبول نہیں کیا کرتا۔
Ayahs 4:19–21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو۔ نہ تمہارے لیے یہ حلال ہے کہ تم انہیں اس لئے قید میں رکھو کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کوئی حصہ واپس لے لو۔ البتہ اگر وہ کوئی کھلی بدچلنی کا مظاہرہ کریں تو اور بات ہے۔ اور ان عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ممکن ہے ایک چیز تمہیں ناپسند ہو مگر اللہ نے اسی میں تمہارے لئے بہت ساری بھلائی اور منفعت رکھ دی ہو۔

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم نے اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی کرنے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو خواہ تم نے اسے بہت سارا مال بھی دے دیا ہو تو اسے واپس نہ لو کیا تم اس پر الزام لگا کر اور کھلا ہوا ظلم کرکے واپس لوگے۔

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

بھلا تم ان سے کس طرح واپس لوگے جب کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بےحجابانہ مل چکے ہو اور وہ عورتیں تم سے پکے وعدے لے چکی ہیں۔

آیت نمبر 19-21 لغات القرآن : لایحل، حلال نہیں ہے۔ ترثوا، وارث (نہ) بن جاؤ (مالک بن بیٹھنا) ۔ کرہ، زبردستی کرنا۔ لاتعضلوا، مت روکو، بند نہ کرو۔ لتذھبوا، تاکہ تم لے جاؤ۔ اتیتموھن، تم نے ان کو دیا۔ عاشروا، تم زندگی گزارو۔ کر ھتموا، تم نے برا سمجھا۔ عسی، شاید۔ ان تکرھوا، یہ کہ تم برا سمجھو۔ یجعل، بناتا ہے، ڈالتا ہے۔ اردتم، تم نے ارادہ کرلیا۔ استبدال، بدلنا، بدلنے کی خواہش۔ زوج مکان زوج، بیوی کی جگہ بیوی۔ اتیتم، تم نے دیا۔ احدھن، ان میں سے کوئی ایک۔ قنطار، مال کا ڈھیر۔ تشریح : عرب جاہلیت میں عورتوں پر طرح طرح کے ظلم ہوا کرتے تھے جس سے ایک عورت کو اپنے معاشرہ میں تحفظ کے لئے کسی طرح کے بھی حقوق حاصل نہیں تھے عورتیں مردوں کے ہاتھ کا کھلونا بن کر رہ گئی تھیں۔ علاوہ اور رسموں کے ایک رسم یہ بھی تھی کہ جب کوئی شخص مر جاتا تو اس کا وارث جس طرح اور دوسرے مال و دولت کا مالک بن جاتا اسی طرح اس کی چھوڑی ہوئی بیوی کو بھی اپنی میراث اور ملکیت میں لے لیا کرتا تھا۔ اگر دل چاہتا تو بغیر مہر کے زبردستی اس سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتا تو دوسرے سے نکاح کرا دیتا اور اس کا مہر خود وصول کرلیتا۔ کبھی کبھی تو نہ خود نکاح کرتا اور نہ دوسرے سے نکاح کرنے دیتا تاکہ گھر کی دولت باہر نہ چلی جائے۔ نہ اس مجبور و بےکس عورت کو مرنے والے شوہر کی میراث میں سے حصہ ملتا۔ غرضیکہ عورت پر ظلم و ستم کی انتہاء تھی۔ ظلم کی دوسری شکل یہ تھی کہ عورت پر بلا قصور ظلم و زیادتی کی جاتی تاکہ وہ تنگ آکر خلع کرنے پر مجبور ہوجائے۔ یعنی جو کچھ اس عورت کے پاس ہے وہ دے دلا کر اس سے جان چھڑا لے۔ سورة النساء کی آیت 19، 20، 21 میں عربوں کی ان جاہلانہ رسموں کو مٹانے کے لئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اہل ایمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ بہترین اور بھلے طریقے سے زندگی گزاریں ۔ کسی مومن کے لئے جہالت کی یہ بری باتیں حلال نہیں ہیں بلکہ ان کو عورتوں کے تمام حقوق کی ادائیگی کا پابند بنایا گیا ہے۔ ایک سچا مومن کبھی کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالتا خاص طور پر اس بیوی کے حقوق پر ڈاکہ کیسے ڈالا جاسکتا ہے جو اس کے نکاح میں آنے کے ساتھ اس کے تمام حقوق ادا کرتی رہی ہے اور ایک دوسرے نے ساتھ مرنے اور جینے کے عہد و پیمان کئے تھے۔
Ayahs 4:22–23

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

تم ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہیں۔ مگر پہلے جو ہوچکا وہ بات گئی گزری ہوئی۔ بیشک یہ ایک بےشرمی کی بات ہے۔ نہایت نفرت کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تمہارے اوپر حرام کردی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔ تمہاری دودھ شریک بہنیں ، تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان بیویوں کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صلب سے ہوں اسی طرح دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا (بھی حرام کردیا گیا ہے) ۔ سوائے اس کے جو پہلے ہوچکا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 22-23 لغات القرآن : سلف، جو گزر گیا۔ مقت، اللہ کے عذاب کا (سبب) ۔ ساء سبیلا، برا راستہ۔ حرمت، حرام کردی گئی۔ امھت، مائیں۔ بنت، بیٹیاں۔ اخوات، بہنیں۔ عمت، پھوپھیاں۔ خلت، خالائیں۔ بنت الاخ، بھتیجیاں۔ بنت الاخت، بھانجیاں۔ ارضعن، جن عورتوں نے دودھ پلایا۔ الرضاعۃ، دودھ پلانا۔ ربائب، (ربیبہ) گود میں پلنے والیاں۔ حجور، گود میں (حجر، پہلو) ۔ دخلتم، تم نے صحبت کی ہے۔ ابناء، بیٹے۔ اصلاب، (صلب) پیٹھ۔ ان تجمعوا، یہ کہ تم جمع کرو (جمع نہ کرو) ۔ الاختین، دو بہنیں۔ تشریح : ان آیتوں میں سے سب پہلے عرب کی ایک جاہلانہ رسم کو مٹانے کا حکم فرمایا جا رہا ہے۔ عربوں میں یہ بھیجہالت رائج تھی کہ وہ اپنی سوتیلی ماؤں سے نکال کرلیا کرتے تھے ۔ فرمایا جارہا ہے کہ یہ کتنی بدترین بات ہے کہ کل تک جس کو تم اپنی ماں کہتے رہے ہو بات کے مرنے کے بعد اس کو بیوی کی حیثیت سے رکھو گے یہ ایک سخت بےحیائی اور بےشرمی کی بات ہے ۔ لہٰذا اب قیامت تک اپنی سوتیلی ماؤں سے بھی نکال کرنا حرام ہے ۔ دور جہالت میں جو ہو چکا سو ہو چکا اب آئندہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے ۔ آگے ان دوسری عورتوں کی تفصیل بیان کی جارہی ہے جن سے نکاح حرام ہے ۔ اس آیت میں جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں ۔ محرمات نسبیہ ۔ یعنی وہ عورتیں جو نسب میں شریک ہونے کی دجہ سے قیامت تک حرام ہیں ۔ (1) حرمت علیکم امھتکم : تمہاری مائیں تم پر حرام کردی گئی ہیں اس میں دادیاں نانیاں سب داخل ہیں ۔ (2) بنتکم : یعنی اپنی حقیقی بیٹیاں اور ان کی بیٹیاں یعنی پوتی ، پڑپوتی، نواسی ، پرنواسی وغیرہ ۔ (3) اخواتکم : یعنی حقیقی بہنیں۔ خواہ وہ حقیقی بہن ، ماں شریک بہن ہو یا باپ شریک ۔ (4) وعمتکم : یعنی اپنے باپ کی بہنیں جن کو پھوپھی کہتے ہیں ، خواہ باپ کی حقیقی بہن ہو یا سوتیلی بہن ۔ (5) خلتکم : یعنی اپنی ماں کی بہنیں جن کو خالہ کہتے ہیں خواہ وہ حقیقی ہوں یا سوتیلی، باپ شریک ہوں یا ماں شریک، تینوں طرح کی خالاؤں سے نکاح حرام ہے۔ (6) بنت الاخ : یعنی بھائی کی لڑکیاں جن کو بھتیجی کہا جاتا ہے ۔ خواہ وہ حقیقی ہوں یا سوتیلی، نکاح حرام ہے۔ (7) بنت الاخت : یعنی بہن کی لڑکیاں جن کو بھانجی کہا جاتا ہے خواہ وہ حقیقی ہوں یا سوتیلی سب طرح کی بھانجیوں سے نکاح حرام ہے۔ یہ سات قسمیں محرمات نسبیہ کی ہیں جو آدمی پر اس کے نسب میں شریک ہونے کی وجہ سے حرام ہیں۔ ان کی حرمت قطعی اور ابدی ہے یعنی ان رشتوں میں نکاح کرنا قیامت تک حرام ہے۔ محرمات نسبیہ کی طرح کچھ وہ رشتے بھی ہیں جن کو محرمات رضاعیہ کہا جاتا ہے۔ رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا اس آیت میں تذکرہ فرمایا ہے۔ یعنی تمہاری وہ رضاعی مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری وہ رضاعی بہنیں جو دودھ شریک رہی ہیں۔ یہ بھی سگی ماں اور سگی بہن کی طرح ہیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اس آیت میں اگرچہ صرف رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا ذکر ہے لیکن فقہ اسلامی کی رو سے وہ ساتوں رشتے جو نسب سے حرام ہیں جن کی تفصیل ابھی آپ نے ملاحظہ فرمائی ہے وہی ساتوں رشتے رضاعت سے بھی حرام ہیں۔ تیسری قسم محرمات صہریہ کی ہے۔ یعنی جن کی وجہ سے دوسروں سے نکاح حرام ہے۔ جیسے بیویوں کی مائیں یعنی ساسیں بھی شوہروں پر حرام ہیں۔ اس میں بیویوں کی نانیاں، دادیاں نسبی ہوں یا رضاعی سب شامل ہیں۔ بہرحال منکوحہ بیوی کی ماں حرام ہے۔ دوسری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو دوسرے شوہروں سے ہیں اور اس شوہر سے نکاح کے بعد اس بیوی سے ہم بستری یا اس کی قائم مقام کوئی کام کرلیا ہو تو اس طرح اس عورت کی لڑکیاں بھی اس شوہر پر حرام ہوگئیں اور اس کی پوتیاں اور نواسیاں بھی لیکن اگر ہم بستری یا اس کی قائم مقام کوئی بات نہیں ہوئی تو صرف نکاح کی وجہ سے مذکورہ قسمیں حرام نہیں ہوں گی۔ یہاں قرآن کریم میں سوتیلی لڑکی کے حرام ہونے کے لئے سوتیلے باپ کے گھر میں یا پرورش میں ہونے کا جو ذکر کیا گیا ہے وہ دوجہ شرط میں نہیں بلکہ چونکہ عادۃ وہ لڑکیاں اپنی ماں کے ساتھ سوتیلے باپ کے گھر ہی میں پرورش پاتی ہیں اس لئے بطور عادت یہ بھی ذکر کردیا اسی لئے فقہاء امت کا اس باپ پر تقریباً اجماع ہے کہ سوتیلی بیٹی آدمی پر بہرحال حرام ہے خواہ وہ سوتیلے باپ کے گھر میں پرورش پاتی ہو یا نہ پاتی ہو بس صرف یہ شرط ہے کہ سوتیلے باپ نے اس کی ماں کے ساتھ نکاح کے بعد ہم بستری یا کوئی ایسا کام کرلیا ہو جو ہم بستری کے قائم مقام ہے۔ تیسرے یہ فرمایا کہ بیٹے کی بیوی سے بھی نکاح حرام ہے۔ مگر یہاں ” اصلابکم “ کی قید لگائی گئی ہے۔ یعنی ان بیٹوں کی بیویاں حرام ہیں جو بیٹے تمہاری نسل اور صلب سے ہوں۔ اس طرح منہ بولے بیٹے کی بیوی حرام نہیں ہے۔ طلاق اور عدت کے بعد اس سے نکاح ہو سکتا ہے۔ چوتھی بات یہ فرمائی کہ دوسگی بہنوں کو بھی ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے خواہ وہ سگی بہنیں ہوں یا سوتیلی۔ البتہ ایک بہن کے انتقال کے بعد دوسری بہن سے نکاح کرنا جائز ہے۔ اسی طرح ایک بہن کو طلاق ہوجانے کے بعد دوسری بہن سے نکاح جائز ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ پہلی بہن کی عدت گزر چکی ہو۔ فرمایا گیا کہ پہلے جو کچھ ہوچکا سو ہوچکا لیکن آئندہ دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

شوہر والی عورتیں تم پر حرام کردی گئی ہیں۔ سوائے ان کے جو تمہارے داہنے ہاتھ کی ملکیت ہوں (جنگ میں ہاتھ آئیں اور تمہارے حصہ میں لونڈی بنا کر دے دی جائیں) یہ احکام تم پر فرض کر دئیے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ تمام عورتیں تم پر حلال کردی گئی ہیں بشرطیکہ تم ان کو اپنے مال (مہر) کے بدلے ان سے نکاح کرو۔ باضابطہ بیوی بنا کر گھر میں رکھنے کے لئے۔ مقصد صرف شہوت رانی نہ ہو۔ بیوی بنا کر جو فائدہ تم اٹھاؤ تو ان کا حق مہر جو تم پر فریضہ ہے اسے خوش دلی سے ادا کرو۔ اور تم دونوں پر کوئی الزام نہیں اگر آپس کی خوشدلی کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے مہر کی کمی و بیشی پر سمجھوتہ کرلو۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ علم بھی رکھتا ہے اور حکمت بھی۔

آیت نمبر 24 لغت القرآن : المحصنت، شوہر والی عورتیں (شوہر کے قلعہ میں محفوظ) ۔ ملکت، مالک ہیں۔ ایمانکم، تمہارے داہنے ہاتھ (مکمل ملکیت) ۔ احل، حلال کردیا گیا۔ ماوراء، جو اس کے علاوہ ہے۔ تبتغوا، تم تلاش کرو۔ محصنین، حفاظت کے قلع میں لانے کیلئے (نکاح میں لانے کے لئے) ۔ غیر مسافحین، نہ مستی نکالنے کے لئے۔ استمتعتم، تم نے فائدہ حاصل کیا۔ اجورھن، ان کے مہر (اجر۔ مہر) ۔ تراضیتم، تم آپس میں راضی ہوگئے۔ بعد الفریضۃ، فرض کی ادائیگی کے بعد۔ مقرر کرلینے کے بعد۔ تشریح : نکاح کے لئے حرام عورتوں کی فہرست میں ایک اہم اضافہ ہے۔ فرمایا تمام شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں۔ مگر یہاں بھی ایک استثنیٰ ہے۔ اس بارے میں یہ آیت قطعی ہے کہ کوئی عورت بیک وقت دو یا زیادہ شوہر نہیں رکھ سکتی۔ حالانکہ ایک مرد دو یا تین یا چار بیویاں تک رکھ سکتا ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کا حکم سب سے بڑی مصلحت ہے لیکن بظاہر جو مصلحت سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ دو یا زیادہ شوہر والی عورت کی اولاد کا پتہ لگنا ناممکن ہے کہ یہ کس باپ کی اولاد ہے۔ اس طرح اولاد کا ذہن اور مستقبل دونوں خراب ہو سکتے ہیں ۔ اس سے سماجی خرابیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ پھر وہ یا زیادہ شوہروں میں باہم لڑائیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ چناچہ جب نکاح ہوگیا تو ہمیشہ کے لئے یہ بات طے ہوگئی کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کے لئے مخصوص ہوچکے ہیں۔ کوئی تیسرا فریق اس میں دخل نہیں دے گا۔ اس میں کسی دوسرے کی شرکت اور حصہ داری نہیں ہے۔ مگر یہ حکم اس عورت پر لاگو نہیں ہے جو جنگ کی حالت میں گرفتار ہوکر دار الحرب سے دار الاسلام آگئی ہو، جس کا شوہر دار الحرب میں رہ گیا ہو اور جو دار الاسلام میں بطور مال غنیمت کسی شہری کے حصہ میں دے دی گئی ہو۔ اب وہ شہری چاہے تو اسے اپنی بیوی بنالے اور بیوی کے تمام حقوق ادا کرے یا اسے بیچ دے یا اس کا نکاح کسی اور سے کرا دے۔ اپنی بیوی بنانے میں اسے رسم نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ کم از کم ایک حیض آنے سے پہلے وہ بیوی نہیں بنائی جاسکتی۔ اور اگر حاملہ ہے تو وضع حمل سے پہلے بیوی نہیں بنائی جاسکتی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حقوق مقرر ہیں ان کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ بیوی اپنے حقوق رکھتی ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے حقوق مقرر ہیں۔ کوئی انسان ان میں دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ ان حقوق میں دین مہر کی ادائیگی بھی شامل ہے جو فریضہ ہے۔ ازدواجی اچھے تعلقات، بیوی کو گھر میں لاکر رکھنا۔ اور مقصد محض شہوانی نہ ہو بلکہ شریفانہ زندگی گزارنا مقصود ہو۔ اس بات کی اجازت ہے کہ بیوی خوش ہوکر دین مہر پورا یا کچھ حصہ اگر چاہے تو معاف کرسکتی ہے۔ جو عورت مال غنیمت کے طور پر کسی شہری کے حوالے کی جائے وہ کسی بھی مذہب یا لامذہب کی ہوسکتی ہے۔ البتہ نکاح کے لئے اسے دین اسلام میں داخل کرنا ضروری ہوگا۔ اس کی اولاد بالکل جائز قرار پائے گی۔ اسے میراث میں تمام حقوق حاصل ہوں گے۔ وہ عورت باندی سمجھی جائے گی مگر مالک کی زندگی ہی میں یا مالک کے مرتے ہی وضع حمل کے بعد وہ آپ سے آپ آزاد ہوجائے گی۔ ” اللہ علم بھی رکھتا ہے اور حکمت بھی “ یعنی اللہ ہی علم و حکمت رکھتا ہے۔ تمام معلومات اور تمام باریک بینی اسی کے پاس ہے۔ انسان کا علم بھی مختصر ہے اور عقل بھی۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ بات کسی کی ناقص سمجھ میں آئے یا نہ آئے اللہ کا حکم ماننا سب سے بڑی سعادت ہے۔ یہ دین اسلام کی برکت ہے کہ اب دنیا سے غلام اور باندیوں کا رواج ختم ہوگیا لیکن جس وقت یہ آیات نازل ہو رہی تھیں اس وقت غلام بنانا، فروخت کرنا اور خریدنا ایک عام بات تھی۔ اسی لئے اس کے لئے اسلام نے جو ضابطے اور قاعدے مقرر فرمائے تھے ان کا بیان کرنا ضروری تھا۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور تم میں سے جو شخص اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلم عورت سے نکاح کرسکے تو اسے چاہئے کہ ان باندیوں میں سے کسی ایک سے نکاح کرلے جو مال غنیمت بن کر تمہارے قبضہ میں ہوں اور صاحب ایمان ہوں اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم میں سے کون کتنا ایمان رکھتا ہے۔ تم سب آپس میں ایک دوسرے سے ہو۔ اس لئے باندیوں سے نکاح کرنے میں حرج نہیں ہے۔ مگر ان کے مالکوں کی اجازت سے۔ اور دستور کے مطابق ان کے مہر ادا کرو۔ یہ باندیاں شریف ” خاتون خانہ “ بننے والیاں ہوں نہ کہ چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں۔ پھر جب وہ نکاح کے بندھن میں آجائیں اس پر بھی بےحیائی کر بیٹھیں تو آزاد (خاندانی) عورت کے مقابلے میں ان پر آدھی سزا ہے (یعنی چالیس کوڑے) ۔ مومنہ باندی سے شادی کرنے کی اجازت اس لئے ہے کہ تمہیں خطرہ ہو کہیں اپنے آپ پر قابو ٹوٹ نہ جائے۔ بہرکیف اگر تم اپنے آپ پر قابو پالو تو تمہارے لئے بہت اچھا ہے۔ اور اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

آیت نمبر 25 لغات القرآن : طول، طاقت، گنجائش۔ فتیت، کنیزیں۔ (جواب لڑکیاں) ۔ اھلھن، ان کے مالک۔ لامتخذات، نہ بنانے والیاں۔ اخدان، دوست۔ احصن، نکاح کی حفاظت میں لائی گئیں۔ العنت، تکلیف میں پڑنا، خوف گناہ۔ تشریح : وہ مسلم خاندان جو سوسائٹی میں عزت والے ہیں اپنی بیٹیوں کا نکاح کرنے میں عموماً برابر کا جوڑ چاہتے ہیں۔ بہت سے مرد جو ویسے ہر لحاظ سے موزوں ہوتے ہیں مگر غریب ہیں۔ ان کا رشتہ وہاں قبول نہیں ہوگا۔ ایسے مردوں کیلئے مناسب ہے کہ ایسی باندی سے نکاح کرلیں جو پہلے ہی ایمان لا چکی ہو یا بعد میں ایمان لائے۔ کیونکہ ایسا رشتہ ملنا آسان بھی ہے اور دین مہر بھی زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نو مسلم عورت رشتہ ڈھونڈنے والے مرد کے مقابلہ میں زیادہ ایمان والی ہو۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کے پاس کتنا ایمان ہے۔ اس لئے نو مسلمہ یا نو مسلم سے رشتہ کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔ اب رہا خاندان کا سوال سارے انسان اولاد آدم ہیں اور سارے مومن ایک ہی ملت اور برادری کے فرد ہیں۔ مگر جب رشتہ نکاح طلب کیا جائے تو فریق ثانی کے کردار اور اخلاق کی تحقیقات کرلی جائے یہ دیکھ لیا جائے کہ جس باندی سے رشتہ ڈھونڈا جا رہا ہے وہ شریف خاتون خانہ بنے گی یا کہیں چوری چھپے بےحیائی کرنے لگ جائے گی۔ اگر نکاح کے بندھن میں آنے کے بعد وہ بےحیائی کر بیٹھیں تو ان کی سزا نصف ہے (یعنی پچاس درے) محصنہ (شریف خاندانی عورت، کنواری) کے مقابلے میں آدھی سزا مقرر کی گئی ہے۔ بہتر ہے کہ مرد اپنے آپ پر کنڑول کرے۔ لیکن اگر بند تقوی ٹوٹ جانے کا ڈر ہے تو ضرور نکاح کرلیا جائے۔ اگر شریف خاندانی اور آزاد لڑکی نہ ملے تو باندی ہی کی حفاظت نکاح میں لے آیا جائے۔ اس آیت نے یہ شرط لگا دی ہے کہ جب باندی سے رشتہ بھیجو تو اس کے مالک سے اجازت لو پھر نکاح کرو۔ باندی کا کوئی اختیار اپنے آپ پر نہیں ہے۔ جب نکاح کرو تو شریفانہ سلوک کرو اور اس کا حق مہر ادا کرو۔ اسلام کی تعلیمات کی برکت سے آج دنیا میں غلامی کا رواج ختم ہوچکا ہے لیکن جس دور میں غلام اور باندیاں ہوا کرتے تھے اس وقت کے لئے یہ مسائل تھے تاکہ کسی پر کوئی ظلم اور زیادتی نہ ہو۔