4. Surah An-Nisaa
النساءThe Women · 176 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة نساء۔ سورة نمبر ٤۔ رکوع ٢٤، آیات ١٧٦۔ الفاظ وکلمات ٣٧٢٠۔ حروف ١٦٦٦٧۔ مقام نزول مدینہ منورہ۔ سورة النسا غزوہ احد کے بعد نازل کی گئی، جس جنگ میں ستر سے زیادہ صحابہ کرام شہید ہوئے۔ اتنی بڑی تعداد میں گھروں کے سرابراہوں کے اٹھ جانے سے عورتوں بچوں کے مسائل میراث و جائیداد کی مشکلات پیش آئیں، اللہ تعالیٰ نے سورة النساء۔ میں عورتوں کے حقوق کے ساتھ اخلاق معاشرے معیشت کے بنیادی اصول نازل فرمائے، تاکہ ان مطابق اسلامی معاشرہ اور خاندانوں کی شیرازہ بندی کی جاسکے۔ تعارف سورة النساء سورة النساء میں تمام انسانی حقوق خاص طور پر خواتین کے بنیادی حقوق، یتیم بچے، بچیوں۔ غلام اور باندیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض اہم ذمہ داریوں کی وجہ سے مردوں کو ایک درجہ فضیلت عطا کیا ہے لیکن انسانی حقوق میں مرد اور عورتیں دونوں یکساں اور برابر ہیں۔ چونکہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت عطا کیا گیا ہے اس لیے ان کو ایک خاندان کو بنائے رکھنے میں عظیم حوصلے اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ شریعت میں عورتوں کو ہر طرح کے ظلم وستم اور زیادتیوں سے بچانے کے لئے اس عرب معاشرہ میں جہاں بیویاں رکھنے پر کوئی پاندی نہیں تھی اور بیشمار شادیاں کرکے عورتوں کو بھیڑیوں کی طرح رکھتے تھے حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک ہی بیوی رکھیں کسی شدید ضرورت کے وقت ایک سے زیادہ بھی بیویاں کی جاسکتی ہیں مگر ان کی تعداد چار سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ ایک کے بعد دوسری عورت سے شادہ کرنے میں یہ شرط ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرنا ہوگا۔ یہ بھی خیال رہے کہ چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ہے ہر مسلمان کو حکم نہیں دیا گیا کہ وہ چار شادیاں ضرور کرے ورنہ وہ مسلمان نہیں رہے گا (نعوذ باللہ) چونکہ مرد خاندانی امور کا ذمہ دار بنایا گیا ہے اس لیے اس خاندان کو بنائے رکھنے کی گرہ مرد کے ہاتھ میں دی گئی ہے چاہے تو اس گرہ کو باندھے رکھے چاہے تو کھول دے یعنی طلاق دے دے۔ مگر شریعت میں طلاق دینے کو سب سے بری حرکت قرار دیا گیا ہے جس سے نہ صرف عرش الٰہی کانپ اٹھتا ہے بلکہ اللہ کا غصہ بھی نازل ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر طلاق دینا ضروری عرش الٰہی کانپ اٹھتا ہے بلکہ اللہ کا غصہ بھی نازل ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر طلاق دینا ضروری ہوجائے تو قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات کی روشنی میں پوری احتیاط سے طلاق دی جائے۔ کیونکہ طلاق دو حقیقت چلائے ہوئے اس تیر کی طرح ہے جو کمان میں واپس نہیں آتا۔ اگر یہ تیر کمان میں واپس آئے گا تو مرد اور عورت کو کافی ذلت اٹھانا پڑتی ہے۔ شریعت کے احکامات کے مطابق مرد اور عورت میراث میں شریک ہیں۔ عورتوں کو میراث سے محروم کرنا ظلم ہے جس کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ شریعت نے عورتوں کو ایک خاص حد تک آزادی دی ہے اس پر پابندی لگانے کا اکسی کو اختیار نہیں ہے اور عورتوں کو بھی شریعت نے جتنی آزادی عطا کی ہے ان حدود کا خیال رکھنا ہر مومن عورت کی ذمہ داری ہے۔ دنیا میں فیشن اور ترقی کے نام پر کھلی آزادی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان نبوت سے پہلے عورتوں پر ظلم کی انتہاء یہ تھی کہ عورتیں بھی شوہر کے مرتے ہی مراث کی طرح تقسیم کی جاتی تھیں۔ دین اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی اور قطعاً ممنوع قرار دیا گیا۔ عربوں میں یہ جاہلانہ رسم جاری تھی کہ وہ اپنی سوتیلی ماؤں سے نکاح کرلیا کرتے تھے ۔ فرمایا گیا کہ یہ کتنی بےحیائی اور بےشرمی کی بات ہے کہ کل تک جس کو ماں کہتے رہے ہو باپ کے مرنے کے بعد اس کو بیوی کی حیثیت سے رکھنے پر کیا تمہیں اس بےحسی پر غیرت نہیں ائے گی۔ اسی لیے شریعت نے سوتیلی ماؤں کو بھی حقیقی ماں کا مقام دے کر ان سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے۔ قرآن کریم میں بیان کیا گیا کہ نسب اور رضاعت (دودھ پلانے) سے کون کون سے عورتیں ہیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ عورتوں پر یہ بھی ظلم اور زیادتی تھی کہ لوگ عورتوں کا مہر ہڑپ کر جاتے تھے۔ اس کے لیے فرمایا کہ مہر درحقیقت عورت کی ملکیت ہے اس کو خوشدلی کے ساتھ ادا کرو اور اس میں خیانت نہ کرو۔ اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو مال کا ڈھیر بھی دیا ہو تو اس کو زبردستی واپس لینا حرام ہے۔ البتہ اگر خلع کی صورت میں مال دے کر عورت اپنی جان چھڑانا چاہے اور طلاق کا مطالبہ کرے تو اس صورت میں عورت سے مال لینا جائز ہے۔ فرمایا کہ صالح عورتیں وہ ہیں جو شوہر کی عدم موجودگی میں شوہر کی عزت و آبرو ، گھر بار اور مال و دولت کی حفاظت کرتی ہیں اور ذمہ داریوں کو نبھاتی ہیں۔ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت ، فرمانبرداری اور اللہ کا خوف رکھنا سب سے بہتر احسن اور کامیابی کا راستہ ہے۔ باہمی رضا مندی کے بغیر لین دین جائز نہیں ہے اور ناجائز طریقے پر مال کی لوٹ کھسوٹ کو حرام قرار دیا گیا ہے کسی مومن کو ناحق قتل کرنا اور جان بوجھ کر کسی انسان یا جان دار کی جان لینا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور دنیا سے ظلم و ستم کی حکمرانی کو مٹانے کیلئے جہاد کی ترغیب اور تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ کی ذات اور صفات میں کسی طرح کا بھی شرک کرنا ایک ایسا ظلم ہے جب تک اس سے توبہ نہ کرلے اس وقت تک اسکی معافی نہیں ہے عیسائیوں اور یہودیوں کے غلط عقیدوں اور رسموں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اہل ایمان کو غلط اور بری رسموں سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ مومنوں سے فرمایا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اپنے عقیدے کو درست رکھیں۔ نماز ایک اہم ترین عبادت اور اسلام کی بنیاد ہے نماز کے وقت اللہ کا خوف دامن گیر رہنا چاہیے کیونکہ جو لوگ اللہ کے خوف اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں دنیا اور آخرت کی کامیابیاں ان ہی کے قدم چومتی ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader
اے لوگو ! اللہ سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا پھر ان دونوں کے ذریعہ بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کا آپس میں واسطہ دے کر (تم اپنا حق) مانگا کرتے ہو اور رشتہ داریوں کا لحاظ رکھو۔ کیونکہ اللہ تمہارے اوپر نگہبان ہے۔
وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader
اور یتیموں کو ان کے مال دے دو ۔ اور برے مال سے اچھے مال کو نہ بدل ڈالو۔ اور ان کے مال کو اپنے مال میں ملا کر نہ کھا جاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader
اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے حق میں انصاف نہ کرسکو گے تو پھر عورتیں جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔ دو دو سے تین تین سے یار چار چار سے پھر اگر ایک سے زائد بیویں میں تمہیں اس بات کا ڈر ہو کہ تم ان کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی بیوی کرو یا ان (باندیوں) کو زرجیت میں لاؤ جو تمہاری ملکیت میں آئی ہیں کیونکہ بےانصافی سے بچنے کے لئے یہ عمدہ بات ہے۔
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader
اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دیا کرو۔ پھر اگر وہ اپنی خوشی سے تمہارے لئے کچھ چھوڑ دیں تو تم اس کو شوق سے کھا سکتے ہو۔
وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader
اور تم اپنے ان مالوں کو جو تمہارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ ہیں بےعقلوں کو نہ پکڑا دو ۔ البتہ ان مالوں میں سے ان کو کھلاؤ، پہناؤ اور ان سے قول معروف (یعنی قاعدے کی بات) کرو۔
وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader
اور یتیموں کو اس وقت تک آزماتے رہو جب تک وہ نکاح کی عمر کو نہ پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم ان میں ہوشیاری اور سمجھ داری کی صلاحیت پاؤ تو ان کے مال ان کے سپرد کردو اور یتیموں کا مال اس خوف سے زیادتی کرکے جلدی جلدی نہ اڑا جاؤ کہ بڑے ہوکر مطالبہ کریں گے۔ (ان سرپرستوں میں سے) جو شخص خود مال دار ہو تو اسے یتیم کے مال سے بچنا چاہئے اور جو شخص حاجت مند ہو وہ (اپنے ضروری اخراجات کے لئے) قاعدے طریقے سے لے سکتا ہے اور جب یتیموں کا مال ان کے سپرد کرو تو اس پر گواہ بھی کرلیا کرو۔ ویسے حساب لینے کے لئے تو اللہ ہی کافی ہے۔
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader
اس ترکہ میں جو والدین نے یا دوسرے رشتہ داروں نے چھوڑا ہے مرد بھی حصہ دار ہیں۔ اور عورتیں بھی اس ترکہ میں حصہ دار ہیں جو والدین نے یاد یگر اقربا نے چھوڑا ہے۔ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ۔ یہ حصے (اللہ کی طرف سے) مقرر ہیں۔
وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader
اور جب تقسیم کے موقع پر قرابت دار اور یتیم لڑکے لڑکیاں اور حاجت مند آجائیں تو انہیں بھی اس (چھوڑے ہوئے مال میں سے) کچھ دے دو اور ان کے ساتھ اچھی گفتگو کرو۔
وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader
اور اس بات کا تصور کرکے بھی ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں کمزور بچے چھوڑ جائیں تو انہیں کیسی کیسی فکریں لاحق ہوں گی۔ پس انہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور ٹھیک اور درست بات کہنی چاہیے
اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader
بلا شبہ جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کرکے کھا جاتے ہیں تو سوائے اس کے اور کیا ہے کہ وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ بہت جلد بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے۔
یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader
اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔ پھر اگر لڑکیاں دو یا اس سے زیادہ ہوں تو انہیں ترکہ کا دوتھائی حصہ دیا جائے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اسے ترکہ کا آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر مرنے والا صاحب اولاد ہو تو اس کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو ترکہ کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر مرنے والا صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تب ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے گا۔ اور اگر مرنے والے کے بہن بھائی بھی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حق دار ہوگی۔ یہ حصے اس وقت نکالے جائیں گے جبکہ مرنے والے کی وصیت پوری کردی گئی ہو اور اس پر جو قرض تھا وہ ادا کردیا گیا ہو۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے والدین اور تمہاری اولاد میں سے کون تمہیں زیادہ نفع پہنچانے والا ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کئے ہیں۔ بلاشبہ اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader
اور تمہارے لئے تمہاری ان بیویوں کے چھوڑے ہوئے مال میں سے آدھا حصہ ہے جن کے کوئی اولاد نہ ہو۔ لیکن اگر ان کے اولاد ہے تو تمہارے لئے اس مال میں سے چوتھائی حصہ ہے جب کہ اس وصیت کو پورا کردیا جائے جو انہوں نے کی ہے اور قرض ادا کردیا گیا ہو۔ (اسی طرح) تم جو مال وغیرہ چھوڑ کر جاؤ گے اس میں سے ان عورتوں کے لئے چوتھائی ہے اگر وہ صاحب اولاد نہ ہوں۔ لیکن اگر وہ صاحب اولاد ہوں تو ان عورتوں کے لئے تمہارے چھوڑے ہوئے مال میں سے آٹھواں حصہ ہے۔ کی گئی وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور اگر کوئی ایسا شخص ہے جس کی میراث ہو۔ اور وہ باپ، بیٹا کچھ بھی نہ رکھتا ہو یا ایسی ہی کوئی عورت ہو اور اس میت کے ایک بھائی ایک بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہیں۔ کی گئی وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو ۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور برداشت کرنے والا ہے۔
تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader
اللہ ہی نے یہ حدیں قائم کی ہیں۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی وہ ایسی جنتوں میں داخل ہوگا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اور یہ اس کے لئے عظیم کامیابی ہے۔
وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader
اور جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی اور اس کی مقرر کردہ حدوں کو پھلانگ گیا وہ ایسی آگ میں داخل ہوگا جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ تڑپتا رہے گا اور اس کے لئے بڑی ذلت کا عذاب ہوگا۔
وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader
اور جو تمہاری عورتیں بےحیائی کا کام کریں ، تم ان عورتوں پر اپنوں میں سے چار مردوں کو گواہ بنا لو اگر وہ گواہی دے دیں تو تم ان کو گھروں میں مقید رکھو یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کر دے یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ نکال دے۔
وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader
اور اگر دو مرد بےحیائی کا کام کریں تو تم ان کو اذیت پہنچاؤ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اپنے حال کی اصلاح کرلیں تو ان دونوں کو چھوڑ دو ۔ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader
توبہ جس کا قبول کرنا اللہ کے ذمے ہے ان لوگوں کے لئے ہے جو نادانی میں کوئی فعل کر بیٹھتے ہیں اور اس کے بعد فوراً ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ اللہ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader
مگر تو بہ ان لوگوں کی قبول نہیں کی جاتی جو (مسلسل) برے کام کئے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت آکر ہی کھڑی ہوجاتی ہے اس وقت وہ شخص کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کرلی ہے۔ اسی طرح توبہ ان لوگوں کے لئے بھی فائدہ مند نہیں ہے جو کفر پر مر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader
اے ایمان والو ! تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو۔ نہ تمہارے لیے یہ حلال ہے کہ تم انہیں اس لئے قید میں رکھو کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کوئی حصہ واپس لے لو۔ البتہ اگر وہ کوئی کھلی بدچلنی کا مظاہرہ کریں تو اور بات ہے۔ اور ان عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ممکن ہے ایک چیز تمہیں ناپسند ہو مگر اللہ نے اسی میں تمہارے لئے بہت ساری بھلائی اور منفعت رکھ دی ہو۔
وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader
اور اگر تم نے اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی کرنے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو خواہ تم نے اسے بہت سارا مال بھی دے دیا ہو تو اسے واپس نہ لو کیا تم اس پر الزام لگا کر اور کھلا ہوا ظلم کرکے واپس لوگے۔
وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader
بھلا تم ان سے کس طرح واپس لوگے جب کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بےحجابانہ مل چکے ہو اور وہ عورتیں تم سے پکے وعدے لے چکی ہیں۔
وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader
تم ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہیں۔ مگر پہلے جو ہوچکا وہ بات گئی گزری ہوئی۔ بیشک یہ ایک بےشرمی کی بات ہے۔ نہایت نفرت کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔
حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader
تمہارے اوپر حرام کردی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے۔ تمہاری دودھ شریک بہنیں ، تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان بیویوں کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صلب سے ہوں اسی طرح دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا (بھی حرام کردیا گیا ہے) ۔ سوائے اس کے جو پہلے ہوچکا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader
شوہر والی عورتیں تم پر حرام کردی گئی ہیں۔ سوائے ان کے جو تمہارے داہنے ہاتھ کی ملکیت ہوں (جنگ میں ہاتھ آئیں اور تمہارے حصہ میں لونڈی بنا کر دے دی جائیں) یہ احکام تم پر فرض کر دئیے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ تمام عورتیں تم پر حلال کردی گئی ہیں بشرطیکہ تم ان کو اپنے مال (مہر) کے بدلے ان سے نکاح کرو۔ باضابطہ بیوی بنا کر گھر میں رکھنے کے لئے۔ مقصد صرف شہوت رانی نہ ہو۔ بیوی بنا کر جو فائدہ تم اٹھاؤ تو ان کا حق مہر جو تم پر فریضہ ہے اسے خوش دلی سے ادا کرو۔ اور تم دونوں پر کوئی الزام نہیں اگر آپس کی خوشدلی کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے مہر کی کمی و بیشی پر سمجھوتہ کرلو۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ علم بھی رکھتا ہے اور حکمت بھی۔
وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader
اور تم میں سے جو شخص اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلم عورت سے نکاح کرسکے تو اسے چاہئے کہ ان باندیوں میں سے کسی ایک سے نکاح کرلے جو مال غنیمت بن کر تمہارے قبضہ میں ہوں اور صاحب ایمان ہوں اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم میں سے کون کتنا ایمان رکھتا ہے۔ تم سب آپس میں ایک دوسرے سے ہو۔ اس لئے باندیوں سے نکاح کرنے میں حرج نہیں ہے۔ مگر ان کے مالکوں کی اجازت سے۔ اور دستور کے مطابق ان کے مہر ادا کرو۔ یہ باندیاں شریف ” خاتون خانہ “ بننے والیاں ہوں نہ کہ چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں۔ پھر جب وہ نکاح کے بندھن میں آجائیں اس پر بھی بےحیائی کر بیٹھیں تو آزاد (خاندانی) عورت کے مقابلے میں ان پر آدھی سزا ہے (یعنی چالیس کوڑے) ۔ مومنہ باندی سے شادی کرنے کی اجازت اس لئے ہے کہ تمہیں خطرہ ہو کہیں اپنے آپ پر قابو ٹوٹ نہ جائے۔ بہرکیف اگر تم اپنے آپ پر قابو پالو تو تمہارے لئے بہت اچھا ہے۔ اور اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔