Aal-i-Imraan 3:194

Aal-i-Imraan · from ayah 194

3:194

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ— اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۟رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ‌ؕ اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ

اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Our Lord, and grant us what You promised us through Your messengers and do not disgrace us on the Day of Resurrection. Indeed, You do not fail in [Your] promise."

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 20 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:194

خداوندا! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں اُن کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وه دے جس کا وعده تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، یقیناً تو وعده خلافی نہیں کرتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اے ہمارے پروردگار ! ہمیں وہ کچھ بھی عطا فرمایئے جس کا وعدہ آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہم سے کیا ہے، اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کیجئے۔ یقینا آپ وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کیا کرتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ہمارے رب! اور ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما جس کا تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے وعدہ فرمایا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہمارے رب ! اور ہمیں عطا فرما جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بیشک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ہمارے رب ! تو نے اپنے رسولوں (کی زبان) پر ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کرنا، بیشک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہمارے رب اور ہمیں بخش وہ کچھ جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجیو، بیشک تو اپنے عدے کے خلاف نہیں کرے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور عطا فرما دے ہمیں اے ہمارے رب، وہ کچھ کہ جس کا تو نے ہم سے وعدہ فرما رکھا ہے اپنے رسولوں کے ذریعے، اور ہمیں رسوا نہیں کرنا قیامت کے روز، بیشک تو (اے اصدق القائلین !) خلاف نہیں کرتا اپنے وعدے کے

— مولانا اسحاق مدنی

اے ہمارے پروردگار ہمیں عطا کر وہ چیز جس کا تو ہم سے اپنے پیغمبروں کی معرفت وعدہ کرچکا ہے اور ہم کو قیامت کے دن رسوا نہ کرنا۔ بیشک تو تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے ہمارے رب ہمیں بخش وہ سب کچھ جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے اور ہمیں رسوا نہ کیجیو قیامت کے دن یقیناً تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ہمارے رب ! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال، بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

'Our Lord, fulfil what You promised to us through Your Messengers, and disgrace us not on the Day of Resurrection; indeed You never go back on Your promise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Our Lord, give us what You have promised us through Your messengers, and do not put us to disgrace on the Day of Judgement. Surely you do not go back on Your promise.

— Muhammad Taqi Usmani

Our Lord, give us what You have promised us through Your messengers, and do not put us to disgrace on the Day of Judgement. Surely you do not go back on Your promise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Our Lord! Grant us what You promised us through Your Messengers and disgrace us not on the Day of Resurrection, for You never break (Your) Promise."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Our Lord! And give us that which Thou hast promised to us by Thy messengers. Confound us not upon the Day of Resurrection. Lo! Thou breakest not the tryst.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Our Lord, and grant us what You promised us through Your messengers and do not disgrace us on the Day of Resurrection. Indeed, You do not fail in [Your] promise."

— Saheeh International

Lord, grant us the victory that You have promised your Messenger and do not disgrace us on the Day of Judgment; You are the One who never ignores His promise."

— Muhammad Sarwar

Our Lord! and grant us what Thou hast promised us by Thy apostles; and disgrace us not on the day of resurrection; surely Thou dost not fail to perform the promise.

— Muhammad Habib Shakir

Our Lord! vouchsafe unto us that which Thou hast promised us by Thine apostles, and humiliate us not on the Day of Resurrection. Verily Thou failest not the tryst.

— Abdul Majid Daryabadi

"Our Lord! Grant us what Thou didst promise unto us through Thine messengers, and save us from shame on the Day of Judgment: For Thou never breakest Thy promise."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:194

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 190–194

مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اٰلِ عِمْرٰن 138 یعنی انہیں اس امر میں تو شک نہیں ہے کہ اللہ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا یا نہیں۔ البتہ تردد اس امر میں ہے کہ آیا ان وعدوں کے مصداق ہم بھی قرار پاتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے وہ اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ ان وعدوں کا مصداق ہمیں بنا دے اور ہمارے ساتھ انہیں پورا کر، کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا میں تو ہم پیغمبروں پر ایمان لا کر کفر کی تضحیک اور طعن وتشنیع کے ہدف بنے ہی ہیں، قیامت میں بھی ان کافروں کے سامنے ہماری رسوائی ہو اور وہ ہم پر پھبتی کسیں کہ ایمان لا کر بھی ان کا بھلا نہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 191–194

الذین یذکرون اللہ قیاماً و قعودا و علی جنوبھم یعنی عقل والے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو یاد کریں کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہوئے مراد یہ ہے کہ ہر حالت اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آج کی دنیا نے جس چیز کو عقل اور عقلمندی کا معیار سمجھ لیا ہے وہ محض ایک دھوکا ہے، کسی نے مال و دولت سمیٹ لینے کو عقلمندی قرار دیدیا، کسی نے مشینوں کے کل پرزے بنانے یا برق اور بھاپ کو اصلی پاور سمجھ لینے کا نام عقلمندی رکھ دیا لیکن عقل سلیم کی بات وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل لے کر آئے کہ علم و حکمت کے ذریعہ سلسلہ اسباب میں ادنی سے اعلی کی طرف ترقی کرتے ہوئے درمیانی مراحل کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 193–194

193 تا 194:۔ دعوت اسلامی کے باب میں اولو الالباب کا رویہ :۔ اب یہ مذکورہ بالا اولو الالباب کا رویہ بیان ہورہا ہے کہ وہ اللہ کے رسول اور اس کی دعوت کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ فرمایا کہ نہ وہ کٹ حجتیاں کرتے، نہ خوارق اور معجزات مانگتے۔ پیغمبر کی دعوت خود ان کے اپنے دل کی آواز ہوتی ہے۔ وہ جس خدا اور آخرت پر ایمان کی دعوت دے رہا ہوتا ہے اس کی شہادت وہ خود اپنے باطن سے سنتے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے پیغمبر کی آواز اور اس کا چہرہ ہی معجزے کا کام کرتا ہے۔ جب اس کی دعوت سنتے ہیں تو اس کی مخالفت کر کے اس کو دبانے کے بجائے اس پر لبیک کہتے ہیں اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے گناہوں کو وہ معاف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 192–195

195۔ 1 فَا سْتَجَاب یہاں اَجَابَ ' قبول فرما لی ' کے معنی میں ہے (فتح القدیر) 195۔ 2 مرد ہو یا عورت کی وضاحت اس لئے کردی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلا قومیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے میں اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے، کہ نیک اعمال کی جزا میں بھی شاید مرد عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا، نہیں ! ایسا نہیں ہوگا، نیکی کا جو اجر مرد کو ملے گا وہی عورت کو بھی ملے گا۔ 195۔ 3 یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مقصد پچھلے نکتے ہی کی وضاحت ہے یعنی اجر و اطاعت میں تم…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 184–200

تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس دعا کا خاتمہ توجہ الی اللہ اور فضل خداوندی کی امیدواری سے ہوتا ہے ۔ اس بات پر اعتماد اور یقین کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر وعدے کی وفا ہوتی ہے ۔ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ” خداوند ! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال ‘ بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے ۔ “ یہاں اب دعائیہ انداز میں یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ رسولوں نے آپ کے جو وعدے ہم پہنچائے ہیں ‘ اور ہمیں تو یقین ہے کہ آپ کے ہاں وعدہ خلافی نہیں ہوتی ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی پیغمبروں کی زبانی، ان کی تصدیق کرنے پر جو وعدے آپ نے کئے ہیں (مثلا دنیا میں آخرکار اعداء اللہ پر غالب و منصور کرنا اور آخرت میں جنت و رضوان سے سرفراز فرمانا) ان سے ہم کو اس طرح بہرہ اندوز کیجئے کہ قیامت کے دن ہماری کسی قسم کی ادنیٰ سے ادنیٰ رسوائی بھی نہ ہو۔ 8 یعنی آپ کے ہاں تو وعدہ خلافی کا احتمال نہیں، ہم میں احتمال ہے کہ مبادا ایسی غلطی نہ کر بیٹھیں جو آپ کے وعدوں سے مستفید نہ ہوسکیں۔ اس لئے درخواست ہے کہ ہم کو ان اعمال پر مستقیم رہنے کی توفیق دیجئے جن کی آپ کے وعدوں سے متمتع ہونے کے لئے ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 194 رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ہمیں شک ہے تو اس بات میں کہ آیا ہم تیرے ان وعدوں کے مصداق ثابت ہو سکیں گے یا نہیں۔ لہٰذا تو اپنی شان غفاری سے ہماری کوتاہیوں کی پردہ پوشی کرنا اور ہمیں وہ سب کچھ عطا کردینا جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے وعدہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

194 یعنی وہ اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ ہمیں اپنے ان وعدوں کا مصداق بنا دے جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے کئے ہیں اور ہم سے وہ وعدے پورے کر دے، کہیں ایسا نہ ہو دنیا میں تو ہم پیغمبروں پر ایمان لاکر کافروں کی تضحیک اور طعن و ملامت کا نشان بنے ہی ہوئے ہیں۔ آخرت میں بھی ان کے سامنے ہماری رسوائی ہو اور وہ ہم پر یہ پھبتی کسیں کہ ایمان لاکر بھی تمہیں کیا حاصل ہوا ؟ اور دوسرا معنی اس کا یہ بھی ہے کہ تو نے ہم سے جو اس دنیا میں کفار پر فتح و نصرت عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما، اور کافروں اور منافقوں کی تضحیک اور لعن طعن سے ہمیں بچا لے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

406 ۔ یعنی ابتداء ہی سے ہم پر فضل وکرم رکھ۔ جہنم وغیرہ کے جو شدید ترین عذاب ہیں، وہ تو خیرالگ رہے، باقی میدان حشر میں پبلک رسوائی، عام تفضیح، کچھ کم ہے، ذرا اس پر خیال تو کیا جائے، (آیت) ” اتنا ما وعدتنا “۔ یعنی اجر موعود، جنت موعود ، (آیت) ” علی رسلک “۔ اللہ کے وعدے معتبر تمامتر وہی ہیں جو پیغمبروں کی وساطت سے ہوں، مہر تصدیق صرف انہی پر لگی ہے نہ کہ اپنی عقل و ذہانت سے فرض کیے ہوئے وعدوں پر۔ (آیت) ” ربنا “۔ اس سلسلہ دعا میں بار بار اس لفظ کی تکرار، اللہ کی صفت ربوبیت کو بار بار مخاطب کرنا اور گویا اسے اس کی صفت کا واسطہ دینا دلیل ہے دعا کرنے والے کی خشیت اور الحاح اور تضرع کی۔ 407 ۔ (اس لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 191–195

فَاسْتَجَابَ لُھُمْ رَبُّھُمْ ۔ ان لوگوں کی دعاء اور درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم میں سے کسی کے عمل کو ضائع کرنے والا نہیں، خواہ مرد ہو یا عورت۔ مرد یا عورت کی وضاحت اس لیے فرما دی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلاً قوامیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ نیک اعمال کی جزاء میں بھی شاید مرد و عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا نہیں ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ہر نیکی کا جو اجر ایک مرد کو ملے گا وہ نیکی اگر عورت کرے گی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ربنا و اتنا ما وعدتنا اے ہمارے پروردگار اور ہم کو عطا کر جو تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے یعنی ثواب جنت۔ اپنا دیدار اور مرتبہ قرب آخرت میں اور دشمنوں پر فتح دنیا میں۔ علی رسللک اپنے پیغمبروں پر ایمان لانے کے بدلہ میں یا اپنے پیغمبروں کی زبانی کئے ہوئے وعدہ پر۔ یا یہ مطلب کہ پیغمبروں پر جو وعدہ تو نے نازل کیا تھا وہ عطا فرما۔ یا یہ مطلب کہ اپنے پیغمبروں کے ساتھ ہم کو بھی دے اور ہم کو بھی اپنی دادوہش میں ان کا شریک بنا دے۔ اس صورت میں علیٰ کا معنی ہوگا مع اس درخواست معیت کے اظہار سے مقصود ہے حق رسالت کو ادا کرنا اور پیغمبروں کی شرکت کی برکت سے اپنے لیے فضل کو بڑھانا۔ اٰتِنَا اور وَعَدْتَّنَا میں جمع…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(194) اور وہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار آپ نے جس چیز کا رسول اکرم ﷺ کی زبان پر وعدہ فرمایا ہے اس سے ہمیں بہرہ ور فرمائیے اور کفار کی طرف ہمیں عذاب نہ دیجیے، یقیناً آپ بعث بعد الموت (موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے) اور مومنین سے وعدہ فرمانے میں ہرگز خلاف نہیں کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا : یعنی تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے ان کی تصدیق اور اتباع کرنے پر دنیا اور آخرت میں جس نصرت اور اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے، وہ ہمیں عطا فرما۔ 2ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ : یعنی ہمیں یہ ڈر تو نہیں کہ تو وعدہ خلافی کرے گا، بلکہ ہمیں ڈر اپنے ہی اعمال سے ہے کہ یہ اچھے نہیں ہیں، کہیں ہماری رسوائی کا باعث نہ بنیں، اگر تو اپنی رحیمی و کریمی اور غفاری سے ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما دے اور ہمیں رسوائی سے بچا لے تو ہماری عین سرفرازی اور تیری بندۂ نوازی ہے۔ پس کلمہ (ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ) سے مقصد عاجزی، خشوع اور بندگی کا اظہار ہے نہ کہ اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 190–200

آیت نمبر : 190 تا 200۔ اس میں پچیس : مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں کئی مقامات پر گزر کئی مقامات پر گزر چکا ہے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کا اختتام ان آیات میں نظر و استدلال کے حکم کے ساتھ کیا، کیونکہ یہ پیدا نہیں ہو سکتے مگر اسی کی جانب سے جو حی وقیوم ہے قدرت والا ہے، پاک ہے، سلامت ومحفوط ہے، (ہر عیب اور کمزوری سے) اور کل جہاں سے بےنیاز اور غنی ہے، تاکہ انکا ایمان یقین کے ساتھ مستند ہوجائے نہ کہ فقط تقلید (پر اس کا انحصار ہو) (آیت) ” لایت لاولی الالباب “۔ یعنی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقلوں کو دلائل میں غوروفکر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 193–195

(1) سعید بن منصور وعبد الرزاق والترمذی وابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اللہ تعالیٰ سے ہجرت کے بارے میں کچھ بھی عورتوں کا کوئی ذکر نہیں سنتی ہوں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” فاستجاب لہم ربہم انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی “ آیت تک انصار نے کہا یہ پہلی عورت ہے جو ہم سے آگے بڑھ گئی۔ (2) ابن مردویہ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آخری نازل ہونے والی آیت ” فاستجاب لہم ربہم “ سے لے کر اس کے آخر تک نازل ہوئی۔ (3) ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [وَاٰتِنَا : اور تو عطا کر ہم کو ] [مَا : وہ جس کا ] [وَعَدْتَّــنَا : تو نے وعدہ کیا ہم سے ] [عَلٰی رُسُلِکَ : اپنے رسولوں (کی زبانی) ] [وَلَا تُخْزِنَا : اور تو رسوا مت کرنا ہم کو ] [یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [اِنَّکَ : بیشک تو ] [لَا تُخْلِفُ : خلاف نہیں کرتا ] [الْمِیْعَادَ : وعدے کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَاعَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) ” اور اے ہمارے رب جس کا ہم سے آپ نے اپنے رسولوں کی زبانی وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کیجیے اور بلاشبہ آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے) ایمان اور اعمال صالحہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے جو اجر وثواب عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے اس میں اس کے ملنے کی عاجزانہ درخواست ہے، اعمال میں جو کمی اور کوتاہی ہو اس سے درگزر فرما کر وہی ثواب پورا پورا عطا کیجیے، جس کا رسولوں کی زبانی وعدہ فرمایا ہے اور بعض حضرات نے (مَا وَعَدْتَّنَا) سے نصرت علی الاعداء یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 190–200

دلائل الوہیت ووحدانیت و کمال قدرت و حکمت وبیان حال دانشمنداں ودعا ہائے گوناگوں ایشاں۔ قال تعالیٰ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔۔ تفلحون۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں یعنی وللہ ملک السماوات۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ میں اللہ کی بادشاہت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اللہ کی الوہیت اور اس کی واحدانیت اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور اہل عقل اور اہل دانش کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے مخلوقات کو دیکھ کر خالق کا پتہ چلالیا اور مصنوعات کو دیکھ کر صانع کو پہچان لیا اور دن رات اپنے پروردگار کے ذکر اور فکر میں سرشار ہیں اور اسی کی تسبیح اور دعا اور استغفار میں مشغول ہیں قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

294 یہاں تک اللہ کے نیک بندوں کی دعائیں تھیں ان سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اللہ کے پیارے اور نیک بندے تو خود اللہ کے محتاج اور اس کے سامنے عاجز ہیں اور وہ ہر دم اس کو یاد کرتے اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے ہیں اور ہر حال میں اسے ہی پکارتے ہیں اس لیے وہ کسی طرح بھی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 192–194

ربط آیات : جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور توحید کے مسائل بیان فرمائے ہیں۔ اور ان میں عقلی اور سمعی یا نقلی دونوں قسم کے دلائل موجود ہیں۔ گذشتہ درس میں عقلی دلائل بیان ہوچکے ہیں اور اب نقلی دلائل پیش ہو رہے ہیں ابتداء میں ذکر آ چکا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور شب و روز کے اختلاف میں اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ جن کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی حکمت کاملہ اور قدرت تامہ کو سمجھ سکتا ہے اور ایمان اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اختیار کرسکتا ہے۔ پھر عقلمندوں کی علامات یہ بتائیں کہ ہر وہ حالت میں اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ 0 ۭ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۝ 194 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی " آنا "…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 190–195

ترکیب : فی خلق السموت الخ خبر ان لاٰیت اس کا اسم الذین الخ صفت یا بیان ہے اولی الالباب کا۔ قیاما اور قعودا حال ہیں فاعل یذکرون سے اور علی جنوبہم بھی محذوف ہے متعلق ہو کر حال ہے۔ اے کائنین علی جنوبہم۔ ویتفکرون معطوف ہے یذکرون پر۔ باطلا اسم فاعل بمعنی مصدر کا لعاقبۃ یہ مفعول لہ یا حال ہے ہذا کا مشار الیہ خلق ہے۔ تدخل النار شرط فقد اخزیتہ جواب مجموعہ خبر من ینادی صفت ہے مناد کی ‘ من ذکر اوانثٰی بدل ہے منکم سے بعضکم من بعض مستانف ہے یا حال ثواباً تمیز یا حال۔ تفسیر : اور جانب وجودی کو ان آیات میں اپنے صفات جلیلہ اور پرہیزگاروں کے رویہ عبادت و ذکر و دعاء سے ثابت فرمایا جاتا ہے کہ پرہیزگار خدا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 193–194

رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّـکُمْ فَاٰ مَنَّا صلے ق رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰ تِنَا وَتَوَفَّـنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ۔ ج رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَاوَعَدْتَّـنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اِنَّـکَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔ (اے ہمارے رب ! ہم نے سنا ایک پکارنے والے کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے کہ ایمان لائو اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے رب ! ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمیں موت دے اپنے وفادار بندوں کے ساتھ۔ اے ہمارے رب ! ہمیں عطا کر وہ سب کچھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 193–196

فہم القرآن ربط کلام : اپنی بادشاہی اور زمین و آسمانوں کے عبرت انگیز نشانات وآثارات کی نشاندہی ‘ ان پر مومنوں کی طرز فکر اور دعاؤں کے ذکر کے بعدمومنوں کے بہتر انجام کے بیان کے ساتھ نصیحت کی جارہی ہے کہ کفار کے کرّوفر پر فریفتہ نہیں ہونا، یہ تو دنیا کی زندگی کا عارضی سامان ہے تمہیں جنت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ قرآن مجید انسان کو بار بار یہ حقیقت بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی، ناپائیدار اور بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ نادان ہے وہ انسان جو اس کی زیب وزینت پر فریفتہ ہو کر اپنی زندگی کے اصل مقصد کو کھو بیٹھتا ہے۔ اس دنیا کی شادابی اور حسن و زیبائی نظر کا فریب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وعدہ والوں میں شمولیت کی دعا : 194: رَبَّنَا وَٰاتِنَا مَا وَعَدْتَّنَاعَلٰی رُسُلِکَ وَ لَاتُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ (اے ہمارے رب دے ہمیں جو آپ نے وعدہ فرمایا اپنے پیغمبروں کی زبانی) یعنی رسولوں کی تصدیق کے بدلہ میں جو وعدہ کیا یا پیغمبروں پر جو وعدہ تو نے نازل کیا تھا یا اپنے پیغمبروں کی زبانی کئے ہوئے وعدے۔ نحو : علٰی یہ وعدتنا سے متعلق ہے۔ جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ثواب ہے یا دشمنوں پر نصرت۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدے کی تکمیل طلب کی حالانکہ اللہ تعالیٰ تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے۔ کیونکہ اس دعا کا مطلب یہ ہے۔ اے اللہ ہم آپ سے اس بات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

194۔ (آیت)” ربنا واتنا ما وعدتنا علی رسلک “۔ تمہارے رسولوں کی زبان پر (آیت)” ولا تخزنا “ رسوا نہیں کرنا ، عذاب دینے کے ساتھ ہلاک کرنے کے ساتھ اور رسوائی کرنے کے ساتھ (آیت)” یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد “۔ سوال : جب معلوم تھا کہ اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمائے گا تو پھر ایسا ارشاد کیوں فرمایا ؟ جواب : لفظا دعا ہے اور معنی خبر ہے ۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے جو اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے اس کو ضرور پورا کریں گے ، تقدیر عبارت اس طرح ہے ، (آیت)” فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیئاتنا “۔ ۔۔۔۔۔۔ ” ولا تخزنا یوم القیامۃ “۔ ہم ان کو اپنے فضل اور رحمت سے ضرور عطاء کریں گے بعض نے کہا کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 190–194

(190 ۔ 194) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے شان نزول اس آیت کی دہی بیان کی ہے جو اِنَّ فیِْ خلق السموا ات (2۔ 164) کے تحت میں اس سے پہلے سورة بقر میں بیان ہوچکی۔ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور سورة بقرہ بھی بلا خلاف مدنی ہے۔ اور قریش کا یہ سوال کہ صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے مکہ میں تھا۔ پھر یہ شان نزول کیونکر صحیح ہوسکتی ہے 1۔ جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری 2 میں دیا ہے کہ قریش کا وہ سوال اگرچہ مکہ میں تھا مگر اس زمانہ میں نہیں تھا۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں مقیم تھے بلکہ یہ سوال ہجرت کے بعد اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 190–194

آیت 190-194 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان فی خلق السموت ولارض واختلاف الیل والنھار لایت لا ولی الالبات) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد : (لایت) کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کردیتی ہیں جو الہ صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 188–200

اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

415 راہ حق پر استقامت کی دعا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنے رب کے حضور مزید عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں وہ کچھ عطا فرما دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے فرما رکھا ہے۔ یعنی دنیا کی عزت اور نصرت و غلبہ اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں دائمی فوز و فلاح، نعیم جنان اور اپنی رضا کے شرف کے وعدے جو تو نے اے ہمارے خالق ومالک اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے فرما رکھے ہیں۔ سو تیرے وعدے تو بہرحال سچے ہیں مگر خطرہ ہماری اپنی طرف سے ہے کہ ہم کہیں راہ حق و ہدایت سے بھٹک اور پھسل کر ان سے محروم نہ ہوجائیں۔ پس تو اے ہمارے مالک ہمیں راہ حق و ہدایت پر پکا رکھ تاکہ ہم تیرے ان وعدوں سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–194

بندہ ٔ مسلم کی دعا تشریح : ان آیات میں انسان اپنے رب سے دعائیں کرتا ہے جیسا کہ آیات میں واضح بیان کیا گیا ہے آخر میں انسان التجا کرتا ہے کہ تو وعدہ پورا کرنا کبھی بھول نہیں سکتا مگر ہمیں اتنا پکا پرہیزگار اور نیک مسلمان بنا دے کہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو سکیں جن سے تو نے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن ان کو رسوائی اور عذاب جہنم سے تو بچا لے گا۔ آمین۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 190–200

آیات 190- 200 اسرارو معارف ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔ عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ ﷺ جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی یعنی اپنے رسولوں کے ذریعے ان کی تصدیق اور اتباع کرنے پر دنا اور آخرت میں جس اور اجر ثواب کا تو نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما (المنار ) 1 یعنی ہمیں یہ اندیشہ تو نہیں ہے کہ تو وعدہ خاف ورزی کرے گا بلکہ ہمیں ڈرا پنے ہے اعمال سے ہے کہ یہ اچھے نہیں ہیں۔ اگر تو اپنی رحیمی و کر یمی اور ستاری سے ہماری کو توہیوں کو معاف فرمادے تو ہماری عین سرفرازی اور تیری بندہ نوازی ہے۔ (وحیدی) پس کلمہ انک لاتخلف المیعاد سے مقصد خضوع وذلت اور عبودیت کا اظہار ہے نہ کہ اس کا مطالبہ کیونکہ باری تعالیٰ سے خلف وعدہ تو ایک دم محال ہے۔ پھر مومنین اس کا تصور کیسے کرسکتے ہیں (کبیر) قبولیت کا یہ وعدہ ایمان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 193–194

(3:193) کفر۔ امر معروف واحد مذکر حاضر۔ تکفیر۔ مصدر۔ مٹا دے۔ معاف کر دے۔ دور کر دے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 190–195

لغات القرآن آیت نمبر 190 تا 195 قیام (کھڑے ہوئے) کفر (اتاردے، دور کردے) قعود (بیٹھے ہوئے) مع الابرار (نیک لوگوں کے ساتھ) جنوب ( پہلوؤں (جنب کی جمع) لاتخزتا (ہمیں رسوا نہ کر) یتفکرون (وہ غوروفکر کرتے ہیں ) استجاب (قبول کیا) ماخلقت (تو نے پیدا نہیں کیا) لا اضیع (میں ضائع نہ کروں گا) ھٰذا باطل (اس کو بےفائدہ) عامل (کام کرنے والا) سبحٰنک (آپ کی ذات پاک ہے) اوذوا (ستائے گئے) اخزیت (تونے رسوا کردیا ) حسن التواب (بہترین ثواب) منادی (آواز دینے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 190 تا 195 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی پیدائش میں غور فکر کرنے اور کھڑے ، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے اللہ کا ذکر کرنے والے اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 185–200

[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 194–196

(ف 1) یعنی اہل کفر کا مختلف شہروں میں رہنا ، ان کی وسعت مادی ۔ سازوسامان کی کثرت درحقیقت کوئی چیز نہیں ۔ بات یہ تھی کہ قریش مکہ تجارت کے سلسلہ میں سارے ملک میں گھومتے پھرتے ، یہودی بھی دولت مند ہونے کی وجہ سے عیش و عشرت سے بسر کرتے تھے ، مسلمان جب دیکھتے تو انہیں خیال ہوتا کہ ہم خدا کو ماننے والے ہیں اور عسرت وتنگ دستی میں بسر کرتے ہیں اور جو مستحق عذاب ہیں ، رفاہت سے ہیں یہ کیا بات ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، یہ چند دنوں تک ایسا ہے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے کہ ان کی امارت وتمول برباد ہوگیا اور نہایت ذلت اور مسکنت سے زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ اہل کفر کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اے ہمارے پروردگار ہم دوزخ کے عذاب سے اس لئے پناہ مانگتے ہیں کہ بلاشبہ جس کو تو نے دوزخ میں داخل کردیا تو واقعی اس کو رسوا ہی کردیا اور ایسے ظالموں اور ناانصافوں کا کوئی بھی ساتھی اور مددگار نہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا کہ وہ ایمان لانے کے واسطے منادی کررہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے رب پر ایمان لے آئو لہٰذا اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے پروردگار اب تو ہمارے بڑے گناہوں کو بھی بخش دے اور ہماری چھوٹی خطائوں کو بھی ہم سے زائل کردے اور ہمارے قصوروں کو بھی معاف کردے اور ہم کو نیک لوگوں میں شامل رکھتے ہوئے موت دے یعنی نیکی پر خاتمہ فرما۔ اے ہمارے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ مطلب یہ کہ اول ہی سے جنت میں داخل کردیجیے۔ 6۔ لیکن ہم کو یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ ہم ان صفات سے موصوف نہ رہیں جن پر وعدہ ہے اس لیے ہم آپ سے یہ التجائیں کرتے ہیں کہ ہم کو اپنے وعدے کی چیزیں دیجیے یعنی ہم کو ایسا کردیجیے ایسا ہی رکھیے جس سے ہم وعدے کے مخاطب ومحل ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے ہمارے رب ! ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما دے جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے : 354: اپنے رب سے مانگنے میں کسی بندے کو نہ شرم آنی چاہیے نہ جھجک کیونکہ ہم سے مانگت ہیں اور وہی ہم سب کا داتا ہے۔ انبیاء کرام جو دوسرے سارے انسانوں سے افضل و اعلیٰ تھے وہ بھی اللہ سے مانگتے رہے قرآن کریم نے تقریبا ہر نبی کی پکار کا ذکر کیا ہے آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اعظم و آخر ﷺ تک سارے انبیائے کرام کو اللہ نے کود دعائیں سکھائیں اور خود ہی ان کو قبول فرما کر ساری امتوں کو یہ سبق دیا کہ جو کچھ مانگنا ہے صرف مجھ ہی سے مانگو اور یہی تعلیم محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کو دی۔ چناچہ فرمایا : وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 191–194

That human intentions and plans keep failing everywhere all the time is a matter of common experience. These cannot be called the prime movers and operators of this universal system. Therefore, the outcome of the deliberation into the creation of the heavens and the earth and into what has been created in them is, as wisdom dictates, living to know, obey and remember Allah. Anyone unmindful of it does not deserve to be classed as wise. Therefore, the Holy Qur'an has given the following sign of the wise: الَّذِينَ يَذْكُرُ‌ونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ That is, the wise…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

138. Such people do not doubt the fact that God will fulfil His promises. What they do doubt is whether they will be reckoned among those for whom those promises were made. Hence they pray to God to make them worthy of His promised rewards. They are afraid lest they remain targets of slander and ridicule by the unbelievers in this world, and then be disgraced in the Hereafter before the same unbelievers who may mock them once again saying that their faith has been of no avail to them.

Read the full tafseer →