دعا کیجئے قبول ہوگی بشرطیکہ ؟
یہاں استجاب کے معنی میں اجاب کے ہیں اور یہ عربی میں برابر مروج ہے حضرت ام سلمہ نے ایک روز حضور ﷺ سے پوچھا کہ کیا بات ہے عورتوں کی ہجرت کا کہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں کرتا اس پر یہ آیت اتری، انصاری کا بیان ہے کہ عورتوں میں سب سے پہلی مہاجرہ عورت جو ہودج میں آئیں حضرت ام سلمہ ہی تھیں ام المومنین سے یہ بھی مروی ہے کہ صاحب عقل اور صاحب ایمان لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں جن کا ذکر پہلے کی آیتوں میں تھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھی ان کی منہ مانگی مراد انہیں عطا فرمائی، اسی لئے اس آیت کو "" سے شروع کیا، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِذَا سَاَلَكَ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 139
یعنی تم سب انسان ہو اور میری نگاہ میں یکساں ہو۔ میرے ہاں یہ دستور نہیں ہے کہ عورت اور مرد، آقا اور غلام، کالے اور گورے، اونچ اور نیچ کے لیے انصاف کے اصول اور فیصلے کے معیار الگ الگ ہوں۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 140
روایت ہے کہ بعض غیر مسلم نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ ؑ عصا اور ید بیضا لائے تھے۔ عیسیٰ ؑ اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو اچھا کرتے تھے۔ دوسرے پیغمبر بھی کچھ نہ کچھ معجزے لائے تھے۔ آپ فرمائیں کہ آپ کیا لائے ہیں ؟ اس پر آپ نے اس رکوع کے آغاز سے یہاں تک کی آیات تلاوت فرمائیں اور ان سے کہا میں تو یہ لایا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–199
ربط آیات
سابقہ آیات میں مومنین صالحین کی چند دعاؤں کا ذکر تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان دعاؤں کی قبولیت اور ان کے اعمال صالحہ کے اجر عظیم کا بیان ہے، دوسری تیسری آیتوں میں یہ ہدایت ہے کہ کفار کے ظاہر عیش و عشرت مال و دولت اور دنیا میں چلنے پھرنے سے مسلمانوں کو دھوکہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ چند روزہ ہے اور پھر عذاب دائمی۔
چوتھی آیت میں پھر تقوی شعار مسلمانوں کے لئے جنت کی لازوال نعمتوں کا وعدہ ہے، پانچویں میں خصوصیت سے ان مسلمانوں کے اجر عظیم کا ذکر ہے جو پہلے اہل کتاب میں سے تھے پھر مسلمان ہوگئے۔
خلاصہ تفسیر
سو قبول کرلیا ان کی دعاؤں کو ان کے رب نے اس وجہ سے (کہ میری عادت مستمرہ ہے کہ) میں کسی شخص…
Read the full tafseer →فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ ، نہایت بلیغ اسلوب میں دعا کی قبولیت کا اظہار ہے۔ گویا ادھر ان کی زبان سے دعا کے الفاظ نکلے ادھر بارگاہِ خداوندی سے ان کی قبولیت کی سند مل گئی۔ جو دعائیں صحیح جذبے کے ساتھ صحیح محل اور ٹھیک وقت پر نکلتی ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہی ہے۔ اس حقیقت کی طرف ہم دوسرے مقام میں بھی اشارہ کرچکے ہیں۔
مظلوموں اور کمزوروں کی حوصلہ افزائی : لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى، میں تمام اہل ایمان کی حوصلہ افزائی ہے جو دعوت اسلامی کے اس نازک مرحلے میں اس کی تائید کے لیے خطرات سے بےپروا ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ مرحلہ، جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–195
195۔ 1 فَا سْتَجَاب یہاں اَجَابَ ' قبول فرما لی ' کے معنی میں ہے (فتح القدیر)
195۔ 2 مرد ہو یا عورت کی وضاحت اس لئے کردی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلا قومیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے میں اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے، کہ نیک اعمال کی جزا میں بھی شاید مرد عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا، نہیں ! ایسا نہیں ہوگا، نیکی کا جو اجر مرد کو ملے گا وہی عورت کو بھی ملے گا۔
195۔ 3 یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مقصد پچھلے نکتے ہی کی وضاحت ہے یعنی اجر و اطاعت میں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →یہ ایک مفصل جواب دعا ہے ۔ طرز ادا بھی طویل ہے ۔ اور یہ قرآن کریم کے طرز ادا کے عین مطابق ہے ۔ تقاضائے حال اور فریقین کے موقف کے عین مطابق نفیساتی اور شعوری دونوں زاویوں سے ۔
اب ہم اللہ کی جانب سے آنیوالے جواب دعا اور قبولیت دعا کے مضامین کی طرف آتے ہیں ۔ یہ جواب اسلامی نظام زندگی کے کن امور کو ظاہر کرتا ہے اور یہ کہ اس نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور یہ نظام انسان کی تربیت کے لئے کیا منہاج اختیار کرتا اور اس کی خصوصیات کیا ہیں ؟
یہ اصحاب دانش جنہوں نے تخلیق ارض وسما میں غور کیا ‘ جنہوں نے گردش لیل ونہار میں تدبیر کیا اور جنہوں نے اس کائنات کی کتاب مفتوح سے دلائل وآیات…
Read the full tafseer →9 یعنی مرد ہو یا عورت ہمارے ہاں کسی کی محنت ضائع نہیں جاتی۔ جو کام کریگا اس کا پھل پائیگا، یہاں عمل شرط ہے۔ نیک عمل کر کے ایک عورت بھی اپنی استعداد کے موافق آخرت کے وہ درجات حاصل کرسکتی ہے جو مرد حاصل کرسکتے ہیں۔ جب تم مرد و عورت ایک نوع انسانی کے افراد ہو، ایک آدم سے پیدا ہوئے ہو، ایک رشتہ اسلامی میں منسلک ہو، ایک اجتماعی زندگی اور امور معاشرت میں شریک رہتے ہو تو اعمال اور ان کے ثمرات میں بھی اپنے کو ایک ہی سمجھو۔ روایت میں ہے کہ ام سلمہ ؓ نے عرض کیا تھا ! یا رسول اللہ ! قرآن میں کہیں ہم عورتوں کی ہجرت وغیرہ اعمال حسنہ کا بالتحضیص ذکر نہیں آتا اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا۔
10 یعنی جب کسی…
Read the full tafseer →آیت 195 فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ
یہ ہے دعا کی قبولیت کی انتہا کہ اس دعا کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کا اعلان ہورہا ہے۔
اَنِّیْ لَا اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی ج بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ ج
ایک ہی باپ کے نطفے سے بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی ‘ اور ایک ہی ماں کے رحم میں بیٹا بھی پلا ہے اور بیٹی ‘ بھی۔
فَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ
وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ
ان کے نامۂ اعمال میں اگر کوئی دھبے ہوں گے تو انہیں دھو دوں گا۔
وَلَاُدْخِلَنَّہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ…
Read the full tafseer →195 یعنی مرد اور عورت چونکہ دونوں ایک ہی نوع سے ہیں۔ لہذا نیک اعمال کا جس قدر بدلہ مردوں کو ملے گا۔ اتنا ہی عورتوں کو ملے گا۔ جزائے اعمال کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں اور اس دنیا میں جو مرد کو بیوی پر تفوق حاصل ہے۔ اس کی وجوہ دو ہیں۔ ایک عائلی نظام کا استقلال ہے جو ایک ہی سربراہ کی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے اور مرد چونکہ قویٰ کے لحاظ سے عورت سے مضبوط ہے۔ لہذا گھر کا سربراہ وہی ہونا چاہئے، اور دوسرے یہ کہ مرد چونکہ بیوی کے نان و نفقہ اور اولاد کی تربیت اور جملہ اخراجات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لہذا عقلی طور پر بھی جس کا خرچ ہو رہا ہو اسی کی رائے کو فوقیت دی جانی چاہئے اور یہ معاملہ صرف…
Read the full tafseer →408 ۔ (اور انہیں اپنے فضل وکرم کی جنت میں داخل کردیا) (آیت) ” استجاب “ یہاں بھی اجاب کے معنی میں ہے۔ استجابہ ای اجابہ (قرطبی)
409 ۔ (اور تم دونوں الگ الگ قسم کی مخلوق نہیں ایک ہی نوع کی دو شاخیں ہو) (آیت) ” انی لا اضیع “۔ ہر زبان کا ایک مخصوص اسلوب بیان وطرز انشاء ہوتا ہے، اوپر سے برابر صیغہ غائب چلا آرہا ہے۔ اب دفعۃ اس آیت کے اندر صیغہ متکلم آگیا، عربی ادب وانشاء میں یہ فوری انتقال صیغہ داخل عیب نہیں، داخل ہنر ہے اور اپنے موقع ومحل پر ایک خاص صفت، یہاں صیغہ متکلم خاص طور پر دلالت کررہا ہے تخصیص و شفقت پر۔ (آیت) ” من ذکر او انثی “۔ جاہلی مذہبوں میں یہاں تک کہ مسیحیت میں بھی عورت ہونا بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–195
فَاسْتَجَابَ لُھُمْ رَبُّھُمْ ۔ ان لوگوں کی دعاء اور درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم میں سے کسی کے عمل کو ضائع کرنے والا نہیں، خواہ مرد ہو یا عورت۔ مرد یا عورت کی وضاحت اس لیے فرما دی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلاً قوامیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ نیک اعمال کی جزاء میں بھی شاید مرد و عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا نہیں ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ہر نیکی کا جو اجر ایک مرد کو ملے گا وہ نیکی اگر عورت کرے گی…
Read the full tafseer →فاستجاب لھم ربھم پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ استجاب اور اجاببعض علماء کے نزدیک ہم معنی ہیں لیکن بیضاوی نے لکھا ہے استجاب اجاب سے خاص ہے استجاب کا معنی ہے دعاء کو قبول کیا۔ یہ بغیر حرف جار کے مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے اور لام کے ذریعہ سے بھی (پس استجاب لھم اور استجابھم دونوں طرح کہنا درست ہے۔
انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی بایں طوریا یہ کہتے ہوئے ان کی دعا قبول کی کہ میں تم میں 1 سے کسی عمل کرنے والے کا کوئی عمل اکارت نہیں کروں گا کرنے والا مرد ہو یا عورت 2 حضرت ام سلمہ ؓ میں سن رہی ہوں کہ ہجرت میں اللہ مردوں کا ذکر فرماتا ہے عورتوں کا کوئی تذکرہ نہیں اس پر یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →(195) ان کی درخواست کو منظور کیا کیوں کہ عادت مستمرہ میری یہی ہے کہ میں کسی کے نیک کام کے ثواب کو ضائع نہیں کرتا، جب کہ ایک دوسرے کے دین کی مدد ونصرت میں حامی ہوں، اب مہاجرین کے اعلی درجات کو اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ جن حضرات نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ اور آپ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور کفار مکہ نے ان کو ان کے مکانات سے نکال دیا اور جہاد فی سبیل اللہ میں دشمنوں کو قتل کیا اور خود بھی شہید ہوئے تو میں ان کی تمام خطاؤں کو معاف کردوں گا اور ایسے باغات میں داخل کروں گا جہاں محلات اور درختوں کے نیچے سے شہد دودھ، پانی اور شراب طہور کی نہریں بہتی ہوں گی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے…
Read the full tafseer →فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ۔۔ : یعنی انھوں نے اس طرح دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی۔ پھر ان کی دعا کی قبولیت کی صورت اور کیفیت کا بھی ذکر فرما دیا کہ باری تعالیٰ کسی عامل کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ اس میں مرد و عورت کا بھی کوئی فرق نہیں، کیونکہ ان کا بعض بعض سے ہے، وہ کوئی الگ الگ مخلوق نہیں ہیں۔ اخروی نجات اور اللہ کے ہاں درجات حاصل کرنے میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں، ہاں، مرد و عورت کی جداگانہ ذمہ داریوں کے اعتبار سے فطرتاً ان کی صلاحیتوں میں فرق ہے۔ [ دیکھیے النساء : 32، 34 ]
2 فَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا۔۔ : یعنی جنھوں نے دین کی خاطر اپنی خوشی سے ہجرت کی، اپنے وطن اور مال و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیت نمبر : 190 تا 200۔
اس میں پچیس : مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں کئی مقامات پر گزر کئی مقامات پر گزر چکا ہے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کا اختتام ان آیات میں نظر و استدلال کے حکم کے ساتھ کیا، کیونکہ یہ پیدا نہیں ہو سکتے مگر اسی کی جانب سے جو حی وقیوم ہے قدرت والا ہے، پاک ہے، سلامت ومحفوط ہے، (ہر عیب اور کمزوری سے) اور کل جہاں سے بےنیاز اور غنی ہے، تاکہ انکا ایمان یقین کے ساتھ مستند ہوجائے نہ کہ فقط تقلید (پر اس کا انحصار ہو)
(آیت) ” لایت لاولی الالباب “۔ یعنی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقلوں کو دلائل میں غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–195
(1) سعید بن منصور وعبد الرزاق والترمذی وابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اللہ تعالیٰ سے ہجرت کے بارے میں کچھ بھی عورتوں کا کوئی ذکر نہیں سنتی ہوں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” فاستجاب لہم ربہم انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی “ آیت تک انصار نے کہا یہ پہلی عورت ہے جو ہم سے آگے بڑھ گئی۔
(2) ابن مردویہ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آخری نازل ہونے والی آیت ” فاستجاب لہم ربہم “ سے لے کر اس کے آخر تک نازل ہوئی۔
(3) ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا ہے کہ…
Read the full tafseer →[فَاسْتَجَابَ : تو قبول کیا ] [لَہُمْ : ان کے لیے ] [رَبُّہُمْ : ان کے رب نے (ان کی دعا کو یہ کہتے ہوئے ) ] [اَنِّیْ : کہ میں ] [لَآ اُضِیْعُ : ضائع نہیں کرتا ] [عَمَلَ عَامِلٍ : کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ] [مِّنْکُمْ : تم میں سے ] [مِّنْ ذَکَرٍ : مذکر ہو ] [اَوْ اُنْثٰی : یا مؤنث ] [بَعْضُکُمْ : تم میں سے بعض ] [مِّنْ بَعْضٍ : بعض سے ہیں ] [فَالَّذِیْنَ : پس وہ لوگ جنہوں نے ] [ہَاجَرُوْا : ہجرت کی ] [وَاُخْرِجُوْا : اور جو نکالے گئے ] [مِنْ دِیَارِہِمْ : اپنے گھروں سے ] [وَاُوْذُوْا : اور جن کو اذیت دی گئی ] [فِیْ سَبِیْلِیْ : میرے راستے میں ] [وَقٰـــتَلُوْا : اور جنہوں نے جنگ کی ]…
Read the full tafseer →دعاؤں کی مقبولیت :
(فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی) (سو ان کے رب نے ان کی دعا کو قبول فرما لیا اور فرمایا کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، مرد ہو یا عورت) اعمال کا ثواب سب کو ملے گا، جو کبھی کوئی فرد ایمان قبول کرے گا، اعمال صالحہ میں لگے گا، دعائیں کرے گا اس کا کچھ بھی ضائع نہ ہوگا، جیسے مردوں کے اعمال صالحہ مقبول ہیں اسی طرح عورتوں کے اعمال صالحہ بھی مقبول ہیں۔
(بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ ) (تم میں سے بعض بعض سے ہیں) اس کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں ماقبل سے مرتب ہونے کے اعتبار سے ” ضحاک “ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
دلائل الوہیت ووحدانیت و کمال قدرت و حکمت وبیان حال دانشمنداں ودعا ہائے گوناگوں ایشاں۔
قال تعالیٰ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔۔ تفلحون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یعنی وللہ ملک السماوات۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ میں اللہ کی بادشاہت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اللہ کی الوہیت اور اس کی واحدانیت اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور اہل عقل اور اہل دانش کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے مخلوقات کو دیکھ کر خالق کا پتہ چلالیا اور مصنوعات کو دیکھ کر صانع کو پہچان لیا اور دن رات اپنے پروردگار کے ذکر اور فکر میں سرشار ہیں اور اسی کی تسبیح اور دعا اور استغفار میں مشغول ہیں قرآن…
Read the full tafseer →295 یہاں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا دعائیں کرنے والوں کو خوشخبری سنائی ہے کہ ان کی دعائیں اس نے قبول فرمالیں کیونکہ وہ کسی کا کوئی عمل ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل پر اجر وثواب دیتا ہے۔ عمل کرنیوالا خواہ مرد ہو یا عورت۔ اس لیے کہ وہ دونوں کوئی جدا جدا مخلوق نہیں ہیں بلکہ ایک ہی نوع کی دو شاخیں ہیں اور اعمال کی قبولیت تو عامل کے اخلاص پر موقوف ہے نہ کہ اس کے نر یا مادہ ہونے پر فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا سے وَ اللہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ تک مضمون جہاد کا اعادہ ہے اس میں قتال فی سبیل اللہ کی…
Read the full tafseer →ربط آیات : یہ آیت بھی گذشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہے۔ سابقہ دروس میں عقلمند لوگوں کی صفات بیان ہوتی رہی ہیں۔ کہ عقلمدن وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰکی پیدا کردہ چیزوں میں غور و فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اے پروردگار ! تو نے یہ سب چیزیں بیکار پیدا نہیں کیں۔ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں۔ پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل عقل و خرد کی بعض علامات بھی بیان فرمائیں کہ وہ اٹھتے ، بیٹھتے ، لیٹے ، ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور پھر اپنے رب کریم سے دعائیں بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔ کہ ہمیں تیرا پیغام پہنچا۔ ہمیں ایمان کی دعوت دی گئی جسے ہم نے قبول کرلیا۔ اس طرح…
Read the full tafseer →فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّىْ لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى 0ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ 0ۚ فَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ وَاُوْذُوْا فِيْ سَبِيْلِيْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَيِّاٰتِھِمْ وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ 0ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللہِ 0ۭ وَاللہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ 195
استجاب
والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24]
(…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
ترکیب : فی خلق السموت الخ خبر ان لاٰیت اس کا اسم الذین الخ صفت یا بیان ہے اولی الالباب کا۔ قیاما اور قعودا حال ہیں فاعل یذکرون سے اور علی جنوبہم بھی محذوف ہے متعلق ہو کر حال ہے۔ اے کائنین علی جنوبہم۔ ویتفکرون معطوف ہے یذکرون پر۔ باطلا اسم فاعل بمعنی مصدر کا لعاقبۃ یہ مفعول لہ یا حال ہے ہذا کا مشار الیہ خلق ہے۔ تدخل النار شرط فقد اخزیتہ جواب مجموعہ خبر من ینادی صفت ہے مناد کی ‘ من ذکر اوانثٰی بدل ہے منکم سے بعضکم من بعض مستانف ہے یا حال ثواباً تمیز یا حال۔
تفسیر : اور جانب وجودی کو ان آیات میں اپنے صفات جلیلہ اور پرہیزگاروں کے رویہ عبادت و ذکر و دعاء سے ثابت فرمایا جاتا ہے کہ پرہیزگار خدا…
Read the full tafseer →فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ اَنِّی لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْاُنْثٰی ج بَعْضُکُمْ مِّنْ م بَعْضٍ ج فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَقٰـتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰ تِھِمْ وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُج ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ ط وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ۔
(پس ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے سے ہو سوجنھوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–196
فہم القرآن
ربط کلام : اپنی بادشاہی اور زمین و آسمانوں کے عبرت انگیز نشانات وآثارات کی نشاندہی ‘ ان پر مومنوں کی طرز فکر اور دعاؤں کے ذکر کے بعدمومنوں کے بہتر انجام کے بیان کے ساتھ نصیحت کی جارہی ہے کہ کفار کے کرّوفر پر فریفتہ نہیں ہونا، یہ تو دنیا کی زندگی کا عارضی سامان ہے تمہیں جنت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔
قرآن مجید انسان کو بار بار یہ حقیقت بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی، ناپائیدار اور بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ نادان ہے وہ انسان جو اس کی زیب وزینت پر فریفتہ ہو کر اپنی زندگی کے اصل مقصد کو کھو بیٹھتا ہے۔ اس دنیا کی شادابی اور حسن و زیبائی نظر کا فریب…
Read the full tafseer →195: فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی بَعْضُکُمْ مِّنْم بَعْضٍ فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِ ھِمْ وَاُوْذُوْا فِی سَبِیْلِیْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُ کَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَلَاُدْ خِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَ نْھٰرُ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ۔ فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ (پس ان کے رب نے انکی دعا قبول فرمائی) یہاں استجاب اجاب کے معنی میں ہے۔
اَنِّیْ یہاں با اس سے قبل محذوف ہے۔ بایں طور لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ…
Read the full tafseer →195۔ (آیت)” فاستجاب لھم ربھم انی “ یہ اصل ” بانی “ تھا ” لااضیع “ نہیں اکارت کرتا، ” عمل عامل منکم “ اے مؤمنین ” من ذکر اوانثی “۔ مجاہد (رح) کا قول ہے حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں سن رہی ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب وسنت میں مردوں کا ذکر کرتا ہے عورتوں کا کوئی تذکرہ نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، (آیت)” بعضکم من بعض “ دین میں ہم مدد کرنے میں اور آپس میں دوستی میں اور بعض نے کہا کہ اس کا تمام انسانیت کے تحت ایکدوسرے کا معاملہ مراد ہے کیونکہ سب آدم وحواء کی اولاد ہیں ، ضحاک (رح) ، نے کہا کہ تمہارے مرد عورتوں کی طرح اور عورتیں مردوں کی طرح نیکی میں برابر ہیں ۔ ” کما قال والمؤمنون والمؤمنات…
Read the full tafseer →ترمذی ‘ حاکم ‘ سعید بن منصور ‘ عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی ہجرت کے اجر کا ذکر قرآن شریف میں نہیں فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک کاموں کا بڑا قدردان ہے۔ نیک کام خواہ کوئی مرد کرے یا عورت اللہ تعالیٰ ضرور اس کا اجر دے گا۔ حاکم نے اس شان نزول کو بخاری کی شرح کے موافق بتایا ہے 1۔
Read the full tafseer →آیت 195
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائے عبادت اور دعائے طلب، (دونوں دعائیں) قبول فرما لیں اور فرمایا : (انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی) ” میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت “ پس متام لوگ اپنے اعمال کا پورا پورا اور وافر اجر پائیں گے۔۔۔ تم میں سے تمام لوگ (خواہ مرد ہوں یا عورت) ثواب اور عقاب میں مساوی ہیں۔
(فالذین ھاجروا و اخرجوا من دیارھم و اوذوا فی سبیلی وقتلوا وقتلوا) ” وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور جنہیں میری راہ میں ایذا دی گئی اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کردیئے گئے “ پس انہوں نے ایمان، ہجرت اور اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–200
اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–198
418 اللہ کسی کے عمل کو ضائع نہیں فرماتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان سچے اہل ایمان کی دعاؤں کو قبول فرما لیا اور ارشاد فرمایا کہ میں تم میں سے کسی شخص کے عمل کو کبھی ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت۔ بلکہ میں ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا پورا بدلہ دیتا ہوں، بلکہ کئی گنا بڑھا کردیتا ہوں۔ اور اتنا دیتا ہوں اور اس طرح دیتا ہوں کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ بلکہ انسان اپنے عمل کو بھول بھی جائے گا مگر وہ نہیں بھولے گا۔ بلکہ وہ اس کو محفوظ رکھے گا تاکہ ہر کسی کو اس کے کئے کا پورا بدلہ مل سکے۔ جیسا کہ سورة مجادلہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے { اَحْصٰہُ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ }…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
دعا کا جواب
تشریح : اس آیت میں کوئی بات وضاحت کے قابل نہیں اللہ تعالیٰ نے بندے کی دعا کا صاف صاف جواب دیا ہے ایک نقطہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ عورت اور مرد دونوں برابر انسان ہیں۔ آج کل کئی ممالک میں عورت کو انسان ماننے سے ہی انکار کیا جارہا ہے تو قرآن نے اس فرق کو بالکل ختم کردیا اور صاف بتا دیا ہے کہ جس طرح مرد قابل احترام انسان ہے اسی طرح عورت بھی قابل احترام انسان ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ دعاؤں کو ضرور قبول کرتا ہے۔ دعا مومن کا بہترین ہتھیار ہے اور اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیات 190- 200
اسرارو معارف
ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔
عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ ﷺ جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔
یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور…
Read the full tafseer →ف 2 یہاں قرآن نے اسبابت دعا کو فا سببیہ کے ساتھ بیان فرمایا ہے یعنی اوصاف مذکورہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا پھر ان کی دعا کی قبولیت کی صورت اور کیفیت کا بھی ذکر فرمادیا ہے کہ ذات باری تعالیٰ کسی عمل کے عمل کو ضائع نہیں ہونے دے گی یعنی ہر عامل کو اس کے عمل کی جز اور ثواب مل کر رہے گا اور یہ دعا بھی من جملہ نیک ہے اعمال کے ہے لہذا اس پر بھی جزامترتب ہوگی اور ہر جملہ انی لا اضع علم عامل منکم میں تنبیہ فرمائی ہے کہ اخروی نجات اور حسن ثواب کے ساتھ فوزو فلاں عمل میں احسان واخلاص پر ہے نسیبی شرف یا مرد ہونے کی اس میں کچھ دخل نہیں ہے۔ اخروی وعند اللہ درجات حاصل کرنے میں مرد…
Read the full tafseer →(3:195) فاستجاب۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے قبول کیا۔ اس نے مانا۔ استجابۃ سے۔ باب استفعال۔
بعضکم من بعض۔ لفرط الاتصال والاتحاد۔ اتصال و اتحاد میں یگانگت کے لئے یا من بمعنی الکاف ہے ای بعضکم لبعض۔ یعنی طاعت و فرمانبرداری پر ثواب اور معصیت و نافرمانی پر عقوبت میں تم سب ایک دوسرے کی طرح ہو۔ کسی کے لئے الگ معیار جزا و سزا نہیں ہے یا تم میں سے مرد اور عورتیں سب جزا سزا کے ایک ہی اصول کے تحت ہیں ۔ یہ ایک جملہ معترضہ ہے۔
اخرجوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب وہ نکالے گئے۔
اوذوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب وہ ستائے گئے۔ ان کو اذیت دی گئی (اذی مادہ) اوذوا اصل میں اوذیوا تھا ۔ ی مفہول ما قبل مکسور کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
لغات القرآن آیت نمبر 190 تا 195
قیام (کھڑے ہوئے) کفر (اتاردے، دور کردے) قعود (بیٹھے ہوئے) مع الابرار (نیک لوگوں کے ساتھ) جنوب ( پہلوؤں (جنب کی جمع) لاتخزتا (ہمیں رسوا نہ کر) یتفکرون (وہ غوروفکر کرتے ہیں ) استجاب (قبول کیا) ماخلقت (تو نے پیدا نہیں کیا) لا اضیع (میں ضائع نہ کروں گا) ھٰذا باطل (اس کو بےفائدہ) عامل (کام کرنے والا) سبحٰنک (آپ کی ذات پاک ہے) اوذوا (ستائے گئے) اخزیت (تونے رسوا کردیا ) حسن التواب (بہترین ثواب) منادی (آواز دینے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 190 تا 195
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی پیدائش میں غور فکر کرنے اور کھڑے ، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے اللہ کا ذکر کرنے والے اہل…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ عورت مرد کو برابر کا اجر دیتا ہے
شان نزول : حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی ہجرت کے اجر کا ذکر قرآن شریف میں نہیں فرمایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک کاموں کا بڑا قدر دان ہے۔ خواہ کوئی مرد کرے یا عورت، اللہ تعالیٰ ضرور اس کا اجر دیوے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–196
(ف 1) یعنی اہل کفر کا مختلف شہروں میں رہنا ، ان کی وسعت مادی ۔ سازوسامان کی کثرت درحقیقت کوئی چیز نہیں ۔
بات یہ تھی کہ قریش مکہ تجارت کے سلسلہ میں سارے ملک میں گھومتے پھرتے ، یہودی بھی دولت مند ہونے کی وجہ سے عیش و عشرت سے بسر کرتے تھے ، مسلمان جب دیکھتے تو انہیں خیال ہوتا کہ ہم خدا کو ماننے والے ہیں اور عسرت وتنگ دستی میں بسر کرتے ہیں اور جو مستحق عذاب ہیں ، رفاہت سے ہیں یہ کیا بات ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، یہ چند دنوں تک ایسا ہے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے کہ ان کی امارت وتمول برباد ہوگیا اور نہایت ذلت اور مسکنت سے زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ اہل کفر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–198
ف 1 پھر ان لوگوں کے پروردگار نے ان کا دعا قبول فرمالی اور ان کی درخواست منظور فرما لی اور یوں فرمایا کہ میرا دستور یہ ہے کہ میں کسی محنت کرنے والے کی محنت کو جو تم میں سے محنت کرنے والا ہو ضائع نہیں کیا کرتا اور جو شخص تم میں سے نیک عمل کرنے والا ہو اس کے نیک عمل کو اکارت اور ضائع نہیں کیا کرتا خواہ وہ نیک کام کرنے والا مرد ہو یا عورت ہو کیونکہ تم سب آپس میں ایک دوسرے کی مثل اور ایک دوسرے کے جزو ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے ہجرت اختیار کی وہ اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں وہ اور مختلف قسم کی تکلیفیں دیئے گئے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے میری راہ میں جہاد بھی کیا اور بہت سے شہید بھی کئے…
Read the full tafseer →ف 1۔ دونوں کے لیے یکساں قانون ہے۔
2۔ یعنی کفار نے وطن میں پریشان کیا بیچارے گھر چھوڑ کر پردیس کو نکل کھڑے ہوئے۔
3۔ تمام خطائیں اس لیے کہا گیا کہ یہاں ہجرت و جہاد و شہادت کی فضیلت مذکور ہے اور حدیثوں سے ان اعمال کا تمام ذنوب سابقہ کا کفارہ ہونامعلوم ہوتا ہے۔
4۔ اوپر کی آیت میں مسلمانوں کی کلفتوں کا بیان اور ان کا انجام نیک مذکور تھا آگے کافروں کے عیش و آرام کا بیان اور ان کا انجام بد مذکور ہے تاکہ مسلمان کو اپنا انجام سن کر تسلی ہوئی تھی جو وہ کافروں کا انجام سن کر زیادہ تسلی ہو۔ اور ان کے عیش و آرام کی طرف حرصا یا حزنا التفات نہ کریں۔
Read the full tafseer →اللہ کے ہاں ہر عمل کرنے والے کے عمل کا اجر محفوظ ہے وہ مرد ہو یا عورت :
357: سبحان اللہ ! دعا کی قبولیت کا اظہار ہے لیکن کتنے پیارے انداز میں۔ کیا ہیں وہ جو اس طرح دعا کرتے ہیں اور کیا ہی ان کا عمل ہے اور کیا ہی اس کا نتیجہ ؟ ادھر ان کی زبان سے دعا کے الفاظ نکلے ادھر اس بذات الصدور ذات سے قبولیت کی سند مل گئی۔ جو دعائیں صحیح عمل و جذبے کے ساتھ صحیح محل اور ٹھیک وقت پر نکلتی ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ گزشتہ دعاؤں کے مضمون پر ایک بار نظر کرو اور ان کو دعا کے طور پر پڑھو اور ان دعا مانگنے والوں کو دیکھو انہوں نے کس طرح اللہ کا ذکر بلند کیا اور آسمان و زمین کی پیدائش پر فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–199
Mentioned in verses previous to this were some prayers made by good believers.
The first verse (195) appearing above reports that these prayers have been accepted and believers have been given the good news that great rewards have been marked for their good deeds. In the second and third verses (196-197), Muslims have been instructed not to be deceived by the apparent affluence and worldwide maneuvering of disbelievers for this is transitory and the punishment which follows in its wake is eternal.
The fourth verse (198) reasserts the promise of the lasting blessings of Paradise for Muslims…
Read the full tafseer →139. All humans are equal in the sight of God. God does not have separate criteria for judging the male and the female, the master and the slave, the high and the low.
140. It is reported that some non-Muslims came to the Prophet and said that Moses had produced his staff and had been endowed with the miracle of the shining hand (see Qur'an 7: 108; 20: 22), and that Jesus restored sight to the blind and cured the lepers (see Qur'an 31 49). Other Prophets had also been granted miracles. What miracles, they enquired, could the Prophet perform? In response the Prophet recited all the verses from…
Read the full tafseer →