Aal-i-Imraan 3:193

Aal-i-Imraan · from ayah 193

3:193

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا ۖۗ— رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ۟ۚرَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِىۡ لِلۡاِيۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ فَاٰمَنَّا  ۖرَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ‌ۚ

اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Our Lord, indeed we have heard a caller calling to faith, [saying], 'Believe in your Lord,' and we have believed. Our Lord, so forgive us our sins and remove from us our misdeeds and cause us to die with the righteous.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 20 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan

All translations of 3:193

مالک! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی، پس اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انہیں دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ منادی کرنے واﻻ بآواز بلند ایمان کی طرف بلا رہا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان ﻻئے۔ یا الٰہی اب تو ہمارے گناه معاف فرما اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے اور ہماری موت نیکوں کے ساتھ کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ہمارے پروردگار ! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ، چنانچہ ہم ایمان لے آئے۔ لہذا اے ہمارے پروردگار ! ہماری خاطر ہمارے گناہ بخش دیجیے، ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دیجیے، اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر کے اپنے پاس بلایئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ہمارے رب! (ہم تجھے بھولے ہوئے تھے) سو ہم نے ایک ندا دینے والے کو سنا جو ایمان کی ندا دے رہا تھا کہ (لوگو!) اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! اب ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری خطاؤں کو ہمارے (نوشتۂ اعمال) سے محو فرما دے اور ہمیں نیک لوگوں کی سنگت میں موت دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہمارے رب ! بیشک ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا، جو ایمان کے لیے آواز دے رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ تو ہم ایمان لے آئے، اے ہمارے رب ! پس ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ فوت کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ہمارے پروردگار ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا ، جو ایمان کی طرف دعوت دیتا اور کہتا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، تو ہم ایمان لے آئے، پس ہمارے گناہ معاف کردے اور ہماری برائیاں دور فرما اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا ایمان کی دعوت دیتے کہ لوگ، اپنے رب پر ایمان لاؤ، تو ہم ایمان لائے اے ہمارے رب، ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمیں موت اپنے وفادار بندوں کے ساتھ دے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے ہمارے رب، بیشک ہم نے سنا ایک پکارنے والے کو جو پکار رہا تھا ایمان کے لئے کہ (صدق دل سے) ایمان لاؤ تم سب (اے لوگو !) اپنے رب پر، سو ہم (صدق دل سے) ایمان لے آئے، پس تو اے ہمارے رب (اس ایمان کے طفیل) بخش دے ہمارے گناہوں کو، اور مٹا دے ہم سے ہماری برائیوں (کی میل کچیل) کو، (اپنے عفو و درگزر کے آب ذلال سے) اور ہمارا خاتمہ فرما نیک لوگوں کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

اے ہمارے پروردگار ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا ایمان کی پکار کرتے ہوئے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ سو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہماری خطاؤں کو زائل کردے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے ہمارے ربّ ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی ندا دے رہا تھا کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے ربّ ہمارے گناہ بخش دے ! اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے ! اور ہمیں وفات دیجیو اپنے نیکوکار (اور وفادار) بندوں کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ہمارے رب ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا کہ اپنے رب کو مانو ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی، پس اے ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہ معاف فرما ہماری برائیاں دور فرما اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر

— محترمہ رفعت اعجاز

Our Lord! Indeed we heard a crier calling to the faith saying: "Believe in your Lord"; so we did believe. Our Lord, forgive us our sins, and wipe out our evil deeds and make us die with the truly pious.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Our Lord, We heard a herald calling towards Faith: _Believe in your Lord.‘ So we believed. Our Lord, forgive us, then, our sins, and write off our evil deeds, and make us die only when we have joined the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani

Our Lord, We heard a herald calling towards Faith: _Believe in your Lord.‘ So we believed. Our Lord, forgive us, then, our sins, and write off our evil deeds, and make us die only when we have joined the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Our Lord! Verily, we have heard the call of one calling to faith: `Believe in your Lord,' and we have believed. Our Lord! Forgive us our sins and expiate from us our evil deeds, and make us die along with Al-Abrar (the most righteous).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Our Lord! Lo! we have heard a crier calling unto Faith: "Believe ye in your Lord!" So we believed. Our Lord! Therefor forgive us our sins, and remit from us our evil deeds, and make us die the death of the righteous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Our Lord, indeed we have heard a caller calling to faith, [saying], 'Believe in your Lord,' and we have believed. Our Lord, so forgive us our sins and remove from us our misdeeds and cause us to die with the righteous.

— Saheeh International

"Lord, we have heard the person calling to the faith and have accepted his call. Forgive our sins, expiate our bad deeds, and let us die with the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

Our Lord! surely we have heard a preacher calling to the faith, saying: Believe in your Lord, so we did believe; Our Lord! forgive us therefore our faults, and cover our evil deeds and make us die with the righteous.

— Muhammad Habib Shakir

Our Lord verily we heard a caller calling to belief: believe in your Lord, wherefore we have come to believe. Our Lord forgive us our sins, and expiate from us our misdeeds, and let us die along with the pious.

— Abdul Majid Daryabadi

"Our Lord! we have heard the call of one calling (Us) to Faith, 'Believe ye in the Lord,' and we have believed. Our Lord! Forgive us our sins, blot out from us our iniquities, and take to Thyself our souls in the company of the righteous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 3:193

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 190–194

مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 192–193

سورة اٰلِ عِمْرٰن 137 اسی طرح یہی مشاہدہ ان کو اس بات پر بھی مطمئن کردیتا ہے کہ پیغمبر اس کائنات اور اس کے آغاز و انجام کے متعلق جو نقطہ نظر پیش کرتے ہیں اور زندگی کا جو راستہ بتاتے ہیں وہ سراسر حق ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 191–194

الذین یذکرون اللہ قیاماً و قعودا و علی جنوبھم یعنی عقل والے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو یاد کریں کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہوئے مراد یہ ہے کہ ہر حالت اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آج کی دنیا نے جس چیز کو عقل اور عقلمندی کا معیار سمجھ لیا ہے وہ محض ایک دھوکا ہے، کسی نے مال و دولت سمیٹ لینے کو عقلمندی قرار دیدیا، کسی نے مشینوں کے کل پرزے بنانے یا برق اور بھاپ کو اصلی پاور سمجھ لینے کا نام عقلمندی رکھ دیا لیکن عقل سلیم کی بات وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل لے کر آئے کہ علم و حکمت کے ذریعہ سلسلہ اسباب میں ادنی سے اعلی کی طرف ترقی کرتے ہوئے درمیانی مراحل کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 193–194

193 تا 194:۔ دعوت اسلامی کے باب میں اولو الالباب کا رویہ :۔ اب یہ مذکورہ بالا اولو الالباب کا رویہ بیان ہورہا ہے کہ وہ اللہ کے رسول اور اس کی دعوت کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ فرمایا کہ نہ وہ کٹ حجتیاں کرتے، نہ خوارق اور معجزات مانگتے۔ پیغمبر کی دعوت خود ان کے اپنے دل کی آواز ہوتی ہے۔ وہ جس خدا اور آخرت پر ایمان کی دعوت دے رہا ہوتا ہے اس کی شہادت وہ خود اپنے باطن سے سنتے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے پیغمبر کی آواز اور اس کا چہرہ ہی معجزے کا کام کرتا ہے۔ جب اس کی دعوت سنتے ہیں تو اس کی مخالفت کر کے اس کو دبانے کے بجائے اس پر لبیک کہتے ہیں اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے گناہوں کو وہ معاف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 192–195

195۔ 1 فَا سْتَجَاب یہاں اَجَابَ ' قبول فرما لی ' کے معنی میں ہے (فتح القدیر) 195۔ 2 مرد ہو یا عورت کی وضاحت اس لئے کردی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلا قومیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے میں اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے، کہ نیک اعمال کی جزا میں بھی شاید مرد عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا، نہیں ! ایسا نہیں ہوگا، نیکی کا جو اجر مرد کو ملے گا وہی عورت کو بھی ملے گا۔ 195۔ 3 یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مقصد پچھلے نکتے ہی کی وضاحت ہے یعنی اجر و اطاعت میں تم…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 184–200

تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب یہ پر خشوع دعا ذرا آگے بڑھتی ہے : رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلإيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الأبْرَارِ ” مالک ! ہم نے ایک پکارنے والے کوسنا ‘ جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کی مانو ‘ ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی ‘ پس اے ہمارے آقا جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزرفرما ‘ جو برائیاں ہم میں ہیں انہیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر ۔ “ اہل دانش کھلے دل لئے ہوئے ہیں ‘ ان پر جو القاء ہوتا ہے وہ لبیک کہتے ہیں ۔ ان کا احساس مزید تیز ہوجاتا ہے ‘ اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی نبی کریم ﷺ جنہوں نے بڑی اونچی آواز سے دنیا کو پکارا۔ یا قرآن کریم جس کی آواز گھر گھر میں پہنچ گئی۔ 5 پہلے ایمان عقلی کا ذکر تھا، یہ ایمان سمعی ہوا جس میں ایمان بالرسول اور ایمان بالقرآن بھی درج ہوگیا۔ 6 یعنی ہمارے بڑے گناہ بخش دے، اور چھوٹی موٹی برائیوں پر پردہ ڈال دے اور جب اٹھانا ہو نیک بندوں کے زمرہ میں شامل کر کے دنیا سے اٹھالے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 193 رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّاق ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے بعد ایسے لوگوں کے کانوں میں جونہی کسی نبی یا رسول کی پکار آتی ہے تو فوراً لبیک کہتے ہیں ‘ ذرا بھی دیر نہیں لگاتے۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رض نے فوری طور پر رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول کرلی ‘ اس لیے کہ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت تک تو وہ خود پہنچ چکے تھے۔ سورة الفاتحہ کے مضامین کو ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ اولوا الالباب میں سے ایک شخص جو اپنی سلامت ‘ طبع ‘ سلامتئ فطرت اور سلامت ‘ عقل کی رہنمائی میں یہاں تک پہنچ گیا کہ اس نے اللہ کو پہچان لیا ‘ آخرت کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

193 پکارنے والے سے مراد اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہے۔ جو وحی الٰہی کی روشنی میں انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے اس معمہ کو محض انسانی عقل کے حوالے نہیں کیا بلکہ اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے اس معمہ کا حل خود ہی بتلا دیا ہے۔ اس کو بتلایا یہ گیا ہے کہ کائنات میں اس کا صحیح مقام یہ ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی چیز نہ اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے اور نہ سنوار سکتی ہے۔ اس کا تمام تر نفع و نقصان اس خالق ومالک کے ہاتھ میں ہے جو اس پوری کائنات کا خالق ہے۔ پھر رسولوں اور کتابوں ہی کے ذریعہ انسان کو اس کی زندگی کا مقصد یہ بتلایا کہ وہ صرف ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

404 ۔ (اس داعی حق کی ہدایت کے مطابق) ایمان شریعت میں وہی معتبر ومستند ہے جو پیغمبر کی ہدایات کے مطابق ہو نہ کہ اپنے ظن وتخمین کے ماتحت۔ امام ماتریدی نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ اپنے ایمان کو انشاء اللہ کے ساتھ مقید ومشروط کرنا درست نہیں۔ قال الشیخ ابو منصور (رح) فیہ دلیل بطلان الاستثناء فی الایمان (مدارک) (آیت) ” منادیا “ پکارنے والے سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ (آیت) ” ینادی للایمان “ یہ ضرور نہیں کہ پیغمبر کی دعوت براہ راست ہی پہنچتی ہو، کسی واسطہ سے بھی پہنچے، بہرحال پیغمبر ہی کی دعوت ہوگی ، (آیت) ” للایمان “ میں ل الی کے معنی میں ہے۔ اللام بمعنی الی ای الی الایمان (قرطبی) 405 ۔ (اور آخرت میں ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 191–195

فَاسْتَجَابَ لُھُمْ رَبُّھُمْ ۔ ان لوگوں کی دعاء اور درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم میں سے کسی کے عمل کو ضائع کرنے والا نہیں، خواہ مرد ہو یا عورت۔ مرد یا عورت کی وضاحت اس لیے فرما دی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلاً قوامیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ نیک اعمال کی جزاء میں بھی شاید مرد و عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا نہیں ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ہر نیکی کا جو اجر ایک مرد کو ملے گا وہ نیکی اگر عورت کرے گی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ربنا اننا سمعنا منادیا اے ہمارے ربّ ! ہم نے ایک ندا دینے والے سے سنا۔ حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر علماء کے نزیک منادی 1 ؂ سے مراد ہیں رسول اللہ۔ قرطبی نے کہا قرآن مراد ہے کیونکہ ہر شخص کی ملاقات تو رسول اللہ سے نہیں ہوسکتی۔ میں کہتا ہوں رسول اللہ کا متواتر فرمان سننا ہی ایسا ہے جیسے کسی نے خود حضور ﷺ سے سنا (یعنی رو در رو ہو کر سننا) جس طرح مفید یقین ہوتا ہے اسی طرح اگر کوئی فرمان تواتر کے ساتھ کسی کے پاس پہنچے تو وہ بھی خود زبان مبارک سے سننے کی طرح مفید یقین ہے۔ پکار نے والے کو سنا۔ فرمایا : پکارنے والے کے قول کو سنا۔ نہیں فرمایا : کیوں ؟ سننے کی قوت بتانے کے لیے۔ پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(193) اور اہل ایمان کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار ہم نے حضرت محمد ﷺ کو سنا وہ توحید کی طرف بلاتے ہیں ہم آپ پر اور آپ کی کتاب اور آپ کے رسول پر ایمان لے آئے، لہٰذا ہمارے بڑے گناہوں کو معاف فرمائیے اور اسکے ساتھ ساتھ چھوٹے گناہوں سے بھی درگزر فرمائیے، ہمارے روحوں کو حالت ایمان پر قبض فرمائیے اور انبیاء کرام اور صالحین کے ساتھ ہمارا حشر فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا۔۔ : اس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں یا قرآن یا پھر ہر وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو دعوت حق پیش کرے۔ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا : اس میں اپنے ایمان لانے کے عمل کے وسیلے سے گناہوں کی مغفرت کی دعا ہے اور یہ مسنون ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 190–200

آیت نمبر : 190 تا 200۔ اس میں پچیس : مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں کئی مقامات پر گزر کئی مقامات پر گزر چکا ہے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کا اختتام ان آیات میں نظر و استدلال کے حکم کے ساتھ کیا، کیونکہ یہ پیدا نہیں ہو سکتے مگر اسی کی جانب سے جو حی وقیوم ہے قدرت والا ہے، پاک ہے، سلامت ومحفوط ہے، (ہر عیب اور کمزوری سے) اور کل جہاں سے بےنیاز اور غنی ہے، تاکہ انکا ایمان یقین کے ساتھ مستند ہوجائے نہ کہ فقط تقلید (پر اس کا انحصار ہو) (آیت) ” لایت لاولی الالباب “۔ یعنی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقلوں کو دلائل میں غوروفکر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 193–195

(1) سعید بن منصور وعبد الرزاق والترمذی وابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اللہ تعالیٰ سے ہجرت کے بارے میں کچھ بھی عورتوں کا کوئی ذکر نہیں سنتی ہوں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” فاستجاب لہم ربہم انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی “ آیت تک انصار نے کہا یہ پہلی عورت ہے جو ہم سے آگے بڑھ گئی۔ (2) ابن مردویہ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آخری نازل ہونے والی آیت ” فاستجاب لہم ربہم “ سے لے کر اس کے آخر تک نازل ہوئی۔ (3) ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَبَّــنَــآ : اے ہمارے رب ] [اِنَّــنَا : بیشک ہم نے ] [سَمِعْنَا : سنا ] [مُنَادِیًا : ایک آواز دینے والے کو جو ] [یُّـنَادِیْ : آواز دیتا ہے ] [لِلْاِیْمَانِ : ایمان کے لیے ] [اَنْ : کہ ] [اٰمِنُوْا : تم لوگ ایمان لائو ] [بِرَبِّکُمْ : اپنے رب پر ] [فَاٰمَنَّا : توہم ایمان لائے ] [رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [فَاغْفِرْلَـنَا : پس تو بخش دے ہمارے لیے ] [ذُنُوْبَنَا : ہمارے گناہوں کو ] [وَکَفِّرْ : اور تو دور کر دے ] [عَنَّا : ہم سے ] [سَیِّاٰتِنَا : ہماری برائیوں کو ] [وَتَوَفَّــنَا : اور تو موت دے ہم کو ] [مَعَ الْاَبْرَارِ : نیک لوگوں کے ساتھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اولو الالباب یعنی عقل والوں کی یہ دعا بھی ذکر فرمائی (رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَ کَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَاعَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) (اے ہمارے رب بلاشبہ ہم نے ایک پکارنے والے کی پکار سنی جو ایمان کی دعوت دے رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، سو اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے، سو ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہمارے گناہوں کا کفارہ فرما اور ہمیں نیک بندوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 190–200

دلائل الوہیت ووحدانیت و کمال قدرت و حکمت وبیان حال دانشمنداں ودعا ہائے گوناگوں ایشاں۔ قال تعالیٰ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔۔ تفلحون۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں یعنی وللہ ملک السماوات۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ میں اللہ کی بادشاہت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اللہ کی الوہیت اور اس کی واحدانیت اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور اہل عقل اور اہل دانش کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے مخلوقات کو دیکھ کر خالق کا پتہ چلالیا اور مصنوعات کو دیکھ کر صانع کو پہچان لیا اور دن رات اپنے پروردگار کے ذکر اور فکر میں سرشار ہیں اور اسی کی تسبیح اور دعا اور استغفار میں مشغول ہیں قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

293 یہ بھی ان کی دعا کی حکایت ہے اور اس میں مضمون رسالت کا اعادہ ہے کیونکہ منادی سے یہاں حضرت رسول خدا ﷺ مراد ہیں۔ یعنی اے اللہ ! تیرے پیغمبر نے مسئلہ توحید بیان کیا، ہم نے اسے مان لیا۔ جیسا کہ ابن عباس ؓ ، ابن مسعود ؓ اور ابن جریج وغیرہم سے منقول ہے۔ والمراد بالمنادی رسول اللہ ﷺ وھو المروی عن ابن مسعود و ابن عباس وابن جریج و اختارہ الجبائی وغیرہ (روح ج 4 ص 163) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 192–194

ربط آیات : جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور توحید کے مسائل بیان فرمائے ہیں۔ اور ان میں عقلی اور سمعی یا نقلی دونوں قسم کے دلائل موجود ہیں۔ گذشتہ درس میں عقلی دلائل بیان ہوچکے ہیں اور اب نقلی دلائل پیش ہو رہے ہیں ابتداء میں ذکر آ چکا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور شب و روز کے اختلاف میں اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ جن کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی حکمت کاملہ اور قدرت تامہ کو سمجھ سکتا ہے اور ایمان اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اختیار کرسکتا ہے۔ پھر عقلمندوں کی علامات یہ بتائیں کہ ہر وہ حالت میں اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا۝ 0 ۤۖ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ۝ 193 ۚ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 190–195

ترکیب : فی خلق السموت الخ خبر ان لاٰیت اس کا اسم الذین الخ صفت یا بیان ہے اولی الالباب کا۔ قیاما اور قعودا حال ہیں فاعل یذکرون سے اور علی جنوبہم بھی محذوف ہے متعلق ہو کر حال ہے۔ اے کائنین علی جنوبہم۔ ویتفکرون معطوف ہے یذکرون پر۔ باطلا اسم فاعل بمعنی مصدر کا لعاقبۃ یہ مفعول لہ یا حال ہے ہذا کا مشار الیہ خلق ہے۔ تدخل النار شرط فقد اخزیتہ جواب مجموعہ خبر من ینادی صفت ہے مناد کی ‘ من ذکر اوانثٰی بدل ہے منکم سے بعضکم من بعض مستانف ہے یا حال ثواباً تمیز یا حال۔ تفسیر : اور جانب وجودی کو ان آیات میں اپنے صفات جلیلہ اور پرہیزگاروں کے رویہ عبادت و ذکر و دعاء سے ثابت فرمایا جاتا ہے کہ پرہیزگار خدا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 193–194

رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّـکُمْ فَاٰ مَنَّا صلے ق رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰ تِنَا وَتَوَفَّـنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ۔ ج رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَاوَعَدْتَّـنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اِنَّـکَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔ (اے ہمارے رب ! ہم نے سنا ایک پکارنے والے کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے کہ ایمان لائو اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے رب ! ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمیں موت دے اپنے وفادار بندوں کے ساتھ۔ اے ہمارے رب ! ہمیں عطا کر وہ سب کچھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 193–196

فہم القرآن ربط کلام : اپنی بادشاہی اور زمین و آسمانوں کے عبرت انگیز نشانات وآثارات کی نشاندہی ‘ ان پر مومنوں کی طرز فکر اور دعاؤں کے ذکر کے بعدمومنوں کے بہتر انجام کے بیان کے ساتھ نصیحت کی جارہی ہے کہ کفار کے کرّوفر پر فریفتہ نہیں ہونا، یہ تو دنیا کی زندگی کا عارضی سامان ہے تمہیں جنت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ قرآن مجید انسان کو بار بار یہ حقیقت بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی، ناپائیدار اور بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ نادان ہے وہ انسان جو اس کی زیب وزینت پر فریفتہ ہو کر اپنی زندگی کے اصل مقصد کو کھو بیٹھتا ہے۔ اس دنیا کی شادابی اور حسن و زیبائی نظر کا فریب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بڑے منادی کی نداء : 193: رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَا دِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ ٰامِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَٰامَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ۔ (اے ہمارے رب ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان کی نداء دے رہا تھا) محاورہ ہے : سمعت رجلاً یقول کذا اس میں فعل کو رجل پر ڈالا اور جو چیز سنی اس کو حذف کردیا کیونکہ تم نے اس چیز سے اس کا وصف بیان کیا جو وہ سنتا ہے۔ اس لئے سنی ہوئی چیز کے ذکر کی ضرورت نہ رہی۔ اگر فعل سے اس کی صفت نہ کی جاتی تو اس طرح کہتے : سمعت کلام فلان۔ المنادی سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ یا قرآن مجید ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 193۔: (آیت)” ربنا اننا سمعنا منادیا “ ۔ منادی سے مراد محمد ﷺ ہیں ، ابن مسعود ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس سے مراد اکثر لوگ ہیں قرظی نے فرمایا اس سے مراد قرآن ہے کیونکہ ہر شخص کی ملاقات تو حضور اقدس ﷺ سے نہیں ہوسکتی ” ینادی للایمان “ ایمان کے لیے پکار رہا تھا ۔ (آیت)” ان امنوا۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مع الابرار “۔ یعنی نیکی لوگوں کے ساتھ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 190–194

(190 ۔ 194) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے شان نزول اس آیت کی دہی بیان کی ہے جو اِنَّ فیِْ خلق السموا ات (2۔ 164) کے تحت میں اس سے پہلے سورة بقر میں بیان ہوچکی۔ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور سورة بقرہ بھی بلا خلاف مدنی ہے۔ اور قریش کا یہ سوال کہ صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے مکہ میں تھا۔ پھر یہ شان نزول کیونکر صحیح ہوسکتی ہے 1۔ جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری 2 میں دیا ہے کہ قریش کا وہ سوال اگرچہ مکہ میں تھا مگر اس زمانہ میں نہیں تھا۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں مقیم تھے بلکہ یہ سوال ہجرت کے بعد اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 190–194

آیت 190-194 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان فی خلق السموت ولارض واختلاف الیل والنھار لایت لا ولی الالبات) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد : (لایت) کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کردیتی ہیں جو الہ صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 188–200

اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

411 { مُنَادِیًا یُّنَادِیْ } سے مقصود و مراد ؟۔ سو " منادی " سے یہاں پر مراد ہیں امام الانبیاء داعی اکبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ (محاسن، معارف اور مراغی وغیرہ) ۔ جن جیسا دوسرا کوئی داعی نہ ہوا نہ قیامت تک کبھی ہوگا۔ اور جنہوں نے دعوت الی اللہ کا حق ادا کردیا ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ جنہوں نے سب دنیا کو توحید کی دعوت دی اور عقیدہ توحید کی اصل حقیقت سے دنیا کو روشناس فرمایا اور اپنی پوری حیات طیبہ میں طریق حق اور صراط مستقیم کی توضیح و تشریح کیلئے انہوں نے بےمثل جہاد فرمایا۔ اور ایسا جہاد کہ اس کا حق ادا کردیا۔ اور اپنی امت کو حق و ہدایت کی ایسی واضح اور روشن شاہراہ پر ڈال دیا جس میں نہ کوئی غموض…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–194

بندہ ٔ مسلم کی دعا تشریح : ان آیات میں انسان اپنے رب سے دعائیں کرتا ہے جیسا کہ آیات میں واضح بیان کیا گیا ہے آخر میں انسان التجا کرتا ہے کہ تو وعدہ پورا کرنا کبھی بھول نہیں سکتا مگر ہمیں اتنا پکا پرہیزگار اور نیک مسلمان بنا دے کہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو سکیں جن سے تو نے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن ان کو رسوائی اور عذاب جہنم سے تو بچا لے گا۔ آمین۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 190–200

آیات 190- 200 اسرارو معارف ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔ عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ ﷺ جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 192–193

ف 9 اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں یا قرآن اور پھر ہر وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو دعوت الہیٰ الحق پیش کرے (قرطبی کبیر) 10 ابراد یہ بر کی جمع ہے اور اسکا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگوں ساتھ ہمارا حشر فرما اور ابرار سے مراد خاص طور انبیا ( علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں یعنی مرنے کے بعد ہمیں ان کے غلاموں میں شامل فرما (وحیدی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 193–194

(3:193) کفر۔ امر معروف واحد مذکر حاضر۔ تکفیر۔ مصدر۔ مٹا دے۔ معاف کر دے۔ دور کر دے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 190–195

لغات القرآن آیت نمبر 190 تا 195 قیام (کھڑے ہوئے) کفر (اتاردے، دور کردے) قعود (بیٹھے ہوئے) مع الابرار (نیک لوگوں کے ساتھ) جنوب ( پہلوؤں (جنب کی جمع) لاتخزتا (ہمیں رسوا نہ کر) یتفکرون (وہ غوروفکر کرتے ہیں ) استجاب (قبول کیا) ماخلقت (تو نے پیدا نہیں کیا) لا اضیع (میں ضائع نہ کروں گا) ھٰذا باطل (اس کو بےفائدہ) عامل (کام کرنے والا) سبحٰنک (آپ کی ذات پاک ہے) اوذوا (ستائے گئے) اخزیت (تونے رسوا کردیا ) حسن التواب (بہترین ثواب) منادی (آواز دینے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 190 تا 195 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی پیدائش میں غور فکر کرنے اور کھڑے ، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے اللہ کا ذکر کرنے والے اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 185–200

[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 192–193

دعوت ایمان : (ف 1) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ آسمان و زمین کے متعلق صحیح غور وفکر ذوق عبادت و ایمان کی روح پیدا کردیتا ہے ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ رات کو اٹھتے ، آسمان کی طرف چشم بصیرت سے دیکھتے اور غور و فکر کی وجہ سے بےاختیار پکار اٹھتے کہ (آیت) ” ربنا ما خلقت ھذا باطلا “۔ اور سوچو کیا یہی وہ نتیجہ نہیں جو ایک مفکر طبیعات کے دماغ میں پہلے پہل چمکتا ہے ، تم خود کائنات کے اسرار وکفایا کے متعلق حکیمانہ تدبر سے کام لو ذرہ ذرہ سے یہی صدا سنائی دے گی (آیت) ” ربنا ما خلقت ھذا باطلا ۔ قرآن حکیم کا یہ مخصوص انداز دلائل ہے کہ وہ ایسے حقائق پیش کرتا ہے جو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 191–193

ف 1 وہ ادلیٰ الالباب ایسے ہیں جو ہر حال میں خواہ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں خواہ کسی پہلو پر لیٹے ہوں اللہ تعالیٰ کی یاد کیا کرتے ہیں اور آسمانوں کی اور زمین کی ساخت اور ان کے پیدا ہونے میں غور و فکر کرتے ہیں اور غورو فکر کے نتیجے کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے یہ سب کچھ فضول عبث اور بےکار و بےمقصد نہیں بنایا ہے بلکہ اس مخلوق کے بنانے میں تیری بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں ہم تجھ کو ہر عیب سے پاک سمجھتے ہیں سو تو ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ (تیسیر) اہلِ عقل و خرد کا وصف بیان فرمایا کہ یہ لوگ زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں یعنی زمین و آسمان کا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی اعظم و آخر ﷺ کی دعوت سن لینے کی شہادت : 351: منادی ندا سے ہے اور نداء آواز کے بلند کرنے کو کہتے ہیں اور بعض اوقات مجرد صوت پر بھی یہ الفاظ بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی و مفہوم ہو یا نہ ہو جیسے ” الا دُعائَ وَّنِدَائً “ (البقرہ : :2 171) اور بعض اوقات مرکب پر جس سے کچھ معنی و مفہوم ہوں جیسے وَاِذْ نَارٰی رَبُّکَ مُوْسیٰ (الشعراء :10:26) وَاِذَنَادَیْتُمْ اِلیَ الصَّلٰوۃِ (المائدہ :58:5) زیر نظر آیت میں یہ ” منادی “ کرنے والے کون ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس سے مراد حقیقی تو نبی اعظم و آخر ﷺ ہی ہیں اگرچہ آپ ﷺ مکہ بعد ہر دعوت اسلام دینے ولاے شخص پر یہ لفظ بولا جاسکتا ہے تاہم اس جگہ سب سے اول منادی کرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 191–194

That human intentions and plans keep failing everywhere all the time is a matter of common experience. These cannot be called the prime movers and operators of this universal system. Therefore, the outcome of the deliberation into the creation of the heavens and the earth and into what has been created in them is, as wisdom dictates, living to know, obey and remember Allah. Anyone unmindful of it does not deserve to be classed as wise. Therefore, the Holy Qur'an has given the following sign of the wise: الَّذِينَ يَذْكُرُ‌ونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ That is, the wise…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 192–193

137. Many eras have passed before you. Go about, then, in the land and behold the end of those who gave the lie to (the directives and ordinances of Allah).

Read the full tafseer →