Explained with ayahs 190–194
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر
طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
سورة اٰلِ عِمْرٰن 137
اسی طرح یہی مشاہدہ ان کو اس بات پر بھی مطمئن کردیتا ہے کہ پیغمبر اس کائنات اور اس کے آغاز و انجام کے متعلق جو نقطہ نظر پیش کرتے ہیں اور زندگی کا جو راستہ بتاتے ہیں وہ سراسر حق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–194
الذین یذکرون اللہ قیاماً و قعودا و علی جنوبھم یعنی عقل والے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو یاد کریں کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہوئے مراد یہ ہے کہ ہر حالت اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں۔
اس سے معلوم ہوا کہ آج کی دنیا نے جس چیز کو عقل اور عقلمندی کا معیار سمجھ لیا ہے وہ محض ایک دھوکا ہے، کسی نے مال و دولت سمیٹ لینے کو عقلمندی قرار دیدیا، کسی نے مشینوں کے کل پرزے بنانے یا برق اور بھاپ کو اصلی پاور سمجھ لینے کا نام عقلمندی رکھ دیا لیکن عقل سلیم کی بات وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل لے کر آئے کہ علم و حکمت کے ذریعہ سلسلہ اسباب میں ادنی سے اعلی کی طرف ترقی کرتے ہوئے درمیانی مراحل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
190-191:۔ ارباب بصیرت کی نگاہ : محبت دنیا کے ان اندھوں کا ذکر کرنے کے بعد، جو نبی ﷺ کی تکذیب کے لیے اس قسم کی کٹ حجتیاں پیدا کر رہے تھے جن کی تفصیل اوپر بیان ہوئی اب یہ ان ارباب بصیرت کا بیان ہورہا ہے جو اللہ کو ہر جگہ اور ہر حال میں یاد رکھتے ہیں اور زمین و آسمان کی خلقت پر برابر غور کرتے رہتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ ذکر و فکر خود بخود ان کو اس نتیجے تک پہنچا دیتا ہے کہ یہ عظیم کارخانہ بےغایت و بےمقصد نہیں ہوسکتا، اور جب بےغایت و بےمقصد نہیں ہوسکتا تو لازم ہے کہ محض اتنے ہی پر تمام نہ ہوجائے جتنا ظاہر ہو رہا ہے بلکہ ضروری ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں گنہگار اور نیکو کار دونوں اپنے اپنے اعمال کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–195
195۔ 1 فَا سْتَجَاب یہاں اَجَابَ ' قبول فرما لی ' کے معنی میں ہے (فتح القدیر)
195۔ 2 مرد ہو یا عورت کی وضاحت اس لئے کردی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلا قومیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے میں اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے، کہ نیک اعمال کی جزا میں بھی شاید مرد عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا، نہیں ! ایسا نہیں ہوگا، نیکی کا جو اجر مرد کو ملے گا وہی عورت کو بھی ملے گا۔
195۔ 3 یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مقصد پچھلے نکتے ہی کی وضاحت ہے یعنی اجر و اطاعت میں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →ذرا آپ ان صاحبان عل و دانش کی ذہنی دنیا کا پہلا زلزلہ دیکھیں ۔ وہ اس میں اپنے رب کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاتے ہیں تاکہ وہ انہیں آگ کے عذاب سے بچائیں ذرا غور فرمائیں رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ……………” تونے جسے دوزخ میں ڈالا اسے درحقیقت بڑی ذلت اور رسوائی میں ڈال دیا۔ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ……………” پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ “
اس دعا سے اظہار ہوتا ہے کہ ان کا خوف آگ کے عذاب سے تھا ‘ اور اس سے بھی زیادہ ان کا خوف اس رسوائی سے تھا جو اہل دوزخ کو ہوا کرتی ہے ۔ ان کی ذہنی دنیا میں یہ ارتعاش اس شرمندگی اور رسوائی کی وجہ سے آیا جو اہل دوزخ کی…
Read the full tafseer →2 جو شخص جتنی دیر دوزخ میں رہے گا اسی قدر رسوائی سمجھو۔ اس قاعدہ سے دائمی رسوائی صرف کفار کے لئے ہے جن آیات میں عامہ مومنین سے خزی (رسوائی) کی نفی کی گئی ہے و ہاں یہ ہی معنی سمجھنے چاہیئں۔
3 یعنی جس کو خدا دوزخ میں ڈالنا چاہے، کوئی حمایت کر کے بچا نہیں سکتا، ہاں جن کو ابتداء میں یا آخر میں چھوڑنا اور معاف کردینا ہی منظور ہوگا (جیسے عصاۃ مومنین) ان کے لئے شفعاء کو اجازت دی جائیگی کہ سفارش کر کے بخشوائیں۔ وہ اس کے مخالف نہیں، بلکہ آیات و احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
آیت 191 الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج
اس غور و فکر سے وہ ایک دوسرے نتیجے پر پہنچتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں :
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا ج
اور پھر ان کا ذہن اپنی طرف منتقل ہوتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ میں کس لیے پیدا کیا گیا ہوں ؟ کیا میری زندگی بس یہی ہے کہ کھاؤ پیو ‘ اولاد پیدا کرو اور دنیا سے رخصت ہوجاؤ ؟ معلوم ہوا کہ نہیں ‘ کوئی خلا ہے۔ انسانی اعمال کے نتیجے نکلنے چاہئیں ‘ انسان کو اس کی نیکی اور بدی کا بدلہ ملنا چاہیے ‘ جو اس دنیا میں اکثر و بیشتر نہیں ملتا۔ دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
190 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عقلمند صرف وہ لوگ ہیں جو اس کارخانہ قدرت میں غور کرنے کے بعد اللہ کی بےپناہ قدرت و تصرف کی حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اس اعتراف حقیقت کے نتیجہ میں ان کے بدن کارواں رواں محبت الٰہی میں سرشار ہو کر اس کی حمد وثناء کرنے لگتا ہے اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس کارخانہ قدرت میں غورو فکر کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچیں کہ یہ عالم مادہ سے بنا ہے۔ پھر اتفاق سے یوں ہوگیا، پھر اتفاق سے یوں ہوگیا اور اس مضبوط و مربوط نظام کائنات کو محض اتفاقات کا نتیجہ کا قرار دیتے ہیں، وہ ہرگز اہل عقل نہیں ہیں۔ کیونکہ اتفاق سے کبھی کبھار…
Read the full tafseer →403 ۔ (کہ انہیں میرے عذاب سے کچھ بھی بچا سکے) (آیت) ” الظلمین “۔ ظالم سے یہاں کھلی ہوئی مراد کافر سے ہے۔ ای الکفار (قرطبی) والمراد الکفار (مدارک) القران دل علی ان الظالم بالاعلان ھو الکافر (کبیر) (آیت) ” من تدخل النار “۔ مراد وہ لوگ ہیں جو کفر وشرک میں مرے اور عذاب ابدی کے لیے دوزخ میں جھونکے جائیں گے، وہ گنہگار مسلمان مراد نہیں ہیں جو گناہوں سے پاک صاف ہونے کے لیے عارضی ووقتی طور پر دوزخ میں بھیجے جائیں گے۔ قال سعیدبن المسیب الایۃ خاصۃ فی قوم لا یخرجون من النار (قرطبی) حکماء وعلماء اسلام کے گروہ نے آیت سے یہ استنباط کیا ہے کہ عذاب روحانی عذاب جسمانی سے بھی بڑھ کر زبردست وشدید ہوگا اس لیے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–195
فَاسْتَجَابَ لُھُمْ رَبُّھُمْ ۔ ان لوگوں کی دعاء اور درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم میں سے کسی کے عمل کو ضائع کرنے والا نہیں، خواہ مرد ہو یا عورت۔ مرد یا عورت کی وضاحت اس لیے فرما دی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلاً قوامیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ نیک اعمال کی جزاء میں بھی شاید مرد و عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا نہیں ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ہر نیکی کا جو اجر ایک مرد کو ملے گا وہ نیکی اگر عورت کرے گی…
Read the full tafseer →ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ اے ہمارے رب تو نے جس کو دوزخ میں داخل کیا تو بس اس کو رسوا ہی کردیا۔ باربار رَبَّنَا کا ذکر (چند وجوہ سے کیا گیا ہے) تضرع اور زاری میں زور پیدا کرنے کے لیے۔ ہر مقصد کو مستقل حیثیت میں ظاہر کرنے کے لیے۔ ہر مطلب کی بلندی شان ظاہر کرنے کے لیے وصف ربوبیت پر پورا پورا اعتماد پیدا کرنے کے لیے اور اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرنے کے لیے خَزَاہُ اس پر غالب آیا اس کو اس کی خواہش سے روک دیا یا خزی (جمع) مصیبت میں پڑگیا۔ اَخْزَاہ اللہ (افعال) اللہ نے اس کو رسوا کردیا۔ (قاموس)
و ما للظالمین من انصار اور ظالموں کا کوئی ساتھ نہیں۔ بجائے ضمیر کے لفظظالمین کہنے سے یہ بتانا مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
(191۔ 192) جن کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جب کھڑے ہونے کی طاقت رکھتے ہیں کھڑے ہو کر اور جب اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کریاد کرتے یعنی کسی حالت میں اس کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور نمازیں پڑھتے ہیں۔
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ان چیزوں کو تو نے بےکار نہیں پیدا کیا، ہم اس کے ہر طرح کے شرک سے تجھ کو پاک ومنزہ سمجھتے ہیں، اے ہمارے رب ! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ اور خدا پر ایمان رکھنے والے ان مومنین کے بالمقابل ان مشرکوں کا دنیا وآخرت میں کوئی بھی مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ : پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے خالق اور رب ہونے کا ذکر تھا، اب اس اکیلے کی عبادت کا ذکر ہے، یعنی وہ ”اولوالالباب“ دل، زبان اور دوسرے سب اعضاء سے کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے ہر حالت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ روزی کماتے وقت اللہ کے حکم کا خیال رکھنا بھی اس کی یاد ہے، عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر اسے نہ بھولنا بھی یاد ہے، نظر کو بےلگام نہ ہونے دینا بھی اس کا ذکر ہے، اسلام کی سر بلندی کے لیے جہاد کی تیاری میں مصروف ہونا بھی اس کی یاد ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے صرف نماز اور تسبیح و تحمید کو ذکر سمجھ لیا اور اللہ کی جس یاد اور ملاقات کے شوق سے صحابہ و تابعین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیت نمبر : 190 تا 200۔
اس میں پچیس : مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں کئی مقامات پر گزر کئی مقامات پر گزر چکا ہے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کا اختتام ان آیات میں نظر و استدلال کے حکم کے ساتھ کیا، کیونکہ یہ پیدا نہیں ہو سکتے مگر اسی کی جانب سے جو حی وقیوم ہے قدرت والا ہے، پاک ہے، سلامت ومحفوط ہے، (ہر عیب اور کمزوری سے) اور کل جہاں سے بےنیاز اور غنی ہے، تاکہ انکا ایمان یقین کے ساتھ مستند ہوجائے نہ کہ فقط تقلید (پر اس کا انحصار ہو)
(آیت) ” لایت لاولی الالباب “۔ یعنی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقلوں کو دلائل میں غوروفکر…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم نے ابو درداء اور ابن عباس ؓ دونوں سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا نام رب ہے۔
(2) ابن جریر ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے لفظ آیت ” من تدخل النار فقد اخزیتہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ جس کو آپ ہمیشہ دوزخ میں داخل فرما دیں تو تحقیق آپ نے اس کو رسوا کردیا۔
(3) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن حسیب (رح) سے لفظ آیت ” ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ حکم خاص ان لوگوں کے لیے ہے جن کو جہنم سے نہیں نکالا جائے گا۔
(4) ابن جریر والحاکم نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہمارے پاس جابر بن عبد اللہ ؓ…
Read the full tafseer →[رَبَّـنَــآ : اے ہمارے ربّ ] [اِنَّکَ : بیشک تو ] [مَنْ : جس کو ] [تُدْخِلِ : داخل کرے گا ] [النَّارَ : آگ میں ] [فَقَدْ اَخْزَیْـتَہٗ : تو تو نے رسوا کردیا ہے اس کو ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [لِلظّٰلِمِیْنَ : ظالموں کے لیے ] [مِنْ اَنْصَارٍ : کسی قسم کا کوئی مددگار ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ) (اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہ ہوگا) سب سے بڑا ظلم کفر ہے۔ کما قال تعالیٰ (وَ الْکَافِرُوْنَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ ) میدان قیامت میں کافروں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ مددگار اور نہ سفارشی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
دلائل الوہیت ووحدانیت و کمال قدرت و حکمت وبیان حال دانشمنداں ودعا ہائے گوناگوں ایشاں۔
قال تعالیٰ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔۔ تفلحون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یعنی وللہ ملک السماوات۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ میں اللہ کی بادشاہت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اللہ کی الوہیت اور اس کی واحدانیت اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور اہل عقل اور اہل دانش کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے مخلوقات کو دیکھ کر خالق کا پتہ چلالیا اور مصنوعات کو دیکھ کر صانع کو پہچان لیا اور دن رات اپنے پروردگار کے ذکر اور فکر میں سرشار ہیں اور اسی کی تسبیح اور دعا اور استغفار میں مشغول ہیں قرآن…
Read the full tafseer →292 یہ اُولِیْ الْاَلْبَاب کی دوسری دعا ہے جس میں عذاب جہنم سے پناہ مانگنے کے لیے انتہائی تضرع وزاری کا اظہار ہے اور پہلی دعا کیلئے بمنزلہ علت ہے۔ یعنی اے ہمارے پروردگار تو جن مشرکوں اور نافرمانوں کو جہنم میں داخل کردے گا ان کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا اور انہیں کوئی نہیں بچا سکے گا اور جہنم کا داخلہ انتہائی ذلت اور ہلاکت کی آخری منزل ہوگی اس لیے اے ہمارے مہربان پروردگار ہمیں اس سے محفوظ فرمائیے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–194
ربط آیات : جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور توحید کے مسائل بیان فرمائے ہیں۔ اور ان میں عقلی اور سمعی یا نقلی دونوں قسم کے دلائل موجود ہیں۔ گذشتہ درس میں عقلی دلائل بیان ہوچکے ہیں اور اب نقلی دلائل پیش ہو رہے ہیں ابتداء میں ذکر آ چکا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور شب و روز کے اختلاف میں اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ جن کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی حکمت کاملہ اور قدرت تامہ کو سمجھ سکتا ہے اور ایمان اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اختیار کرسکتا ہے۔ پھر عقلمندوں کی علامات یہ بتائیں کہ ہر وہ حالت میں اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں…
Read the full tafseer →رَبَّنَآ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَہٗ 0 ۭ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ 192
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
خزی
خَزِيَ الرّجل : لحقه انکسار، إمّا من نفسه، وإمّا من غيره . فالذي يلحقه من نفسه هو الحیاء المفرط، ومصدره الخَزَايَة ورجل خَزْيَان،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
ترکیب : فی خلق السموت الخ خبر ان لاٰیت اس کا اسم الذین الخ صفت یا بیان ہے اولی الالباب کا۔ قیاما اور قعودا حال ہیں فاعل یذکرون سے اور علی جنوبہم بھی محذوف ہے متعلق ہو کر حال ہے۔ اے کائنین علی جنوبہم۔ ویتفکرون معطوف ہے یذکرون پر۔ باطلا اسم فاعل بمعنی مصدر کا لعاقبۃ یہ مفعول لہ یا حال ہے ہذا کا مشار الیہ خلق ہے۔ تدخل النار شرط فقد اخزیتہ جواب مجموعہ خبر من ینادی صفت ہے مناد کی ‘ من ذکر اوانثٰی بدل ہے منکم سے بعضکم من بعض مستانف ہے یا حال ثواباً تمیز یا حال۔
تفسیر : اور جانب وجودی کو ان آیات میں اپنے صفات جلیلہ اور پرہیزگاروں کے رویہ عبادت و ذکر و دعاء سے ثابت فرمایا جاتا ہے کہ پرہیزگار خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّـیْلِ وَالنَّھَار ِلَاٰیٰتٍ لِّاُوْلِی الْاَلْـبَابِ ۔ ج لا الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰماً وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَـکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَـکَ فَـقِـنَـا عَذَابَ النَّارِ ۔ رَبَّنَـآ اِنَّـکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخَزَیْتَـہٗ ط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۔
(بےشک آسمان اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی یاد کا تقاضا ہے کہ انسان کی فکر کا نتیجہ مثبت ہو اور وہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس کے عذاب سے پناہ اور اس کی عطاؤں کا طلب گار رہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایسے فکر وعمل کا حامل مرد ہو یا عورت اللہ تعالیٰ کسی ایک کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔
حقیقی دانشمند لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات اور عجائبات دیکھنے کے بعد نہ صرف ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات کو یاد رکھتے ہیں بلکہ وہ برملا اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے خالق ومالک نے زمین و آسمان کی کسی چیز کو بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی تخلیق کے مقصد…
Read the full tafseer →حقیقی رسوائی ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے :
192: رَبَّنَآ اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہٗ وَمَا لِلظّٰلمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۔ (اے ہمارے رب بیشک تو نے جس کو آگ میں داخل کردیا پس اس کو رسوا کردیا) اس کی تذلیل کردی یا اس کو ہلاک کردیا یا اس کو رسواء کردیا۔
غلط استدلال : اس آیت میں : یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَہٗج ( التحریم۔ 8) کو ملا کر استدلال کیا۔ کہ جو آگ میں داخل ہو وہ مومن نہیں ہوسکتا کیونکہ آگ میں داخل ہونے والا اس میں ہمیشہ رہے گا۔
فائدہ : جابر ؓ نے کہا مومن کو رسوا کرنے کا مطلب اس کو ادب سکھانا ہے۔ اور رسوائی تو اس سے بڑھ کر ہے۔
دونوں…
Read the full tafseer →192۔ (آیت)” ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ “۔ بمعنی رسوا کرنا ، بعض نے کہا کہ ہلاک کرنا، بعض نے کہا اللہ نے اس کو رسوا کردیا، یہ معنی ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ۔ کا فرمان (آیت)” ولاتخزون فی ضیفی “۔
سوال : اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ۔ کا ارشاد ہے (آیت)” یوم لایخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ “۔ اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو اور ان کے ساتھ جو ایمان لائے رسوا نہیں کرے گا حالانکہ مؤمن دوزخ میں جائیں گے جب اس آیت میں ہے کہ جو شخص دوزخ میں جائے گا وہ رسوا ہوگا ، دونوں آیتوں کے تضاد کو دور کرنے کی کیا صورت ہوگی ؟
جواب : انس ؓ قتادہ ؓ اس آیت کا معنی یہ کرتے ہیں جب تک وہ دوزخ میں رہے گا اس وقت تک وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
(190 ۔ 194) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے شان نزول اس آیت کی دہی بیان کی ہے جو اِنَّ فیِْ خلق السموا ات (2۔ 164) کے تحت میں اس سے پہلے سورة بقر میں بیان ہوچکی۔ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور سورة بقرہ بھی بلا خلاف مدنی ہے۔ اور قریش کا یہ سوال کہ صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے مکہ میں تھا۔ پھر یہ شان نزول کیونکر صحیح ہوسکتی ہے 1۔ جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری 2 میں دیا ہے کہ قریش کا وہ سوال اگرچہ مکہ میں تھا مگر اس زمانہ میں نہیں تھا۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں مقیم تھے بلکہ یہ سوال ہجرت کے بعد اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
آیت 190-194
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان فی خلق السموت ولارض واختلاف الیل والنھار لایت لا ولی الالبات) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد : (لایت) کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کردیتی ہیں جو الہ صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–200
اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…
Read the full tafseer →410 ظالموں کیلئے کوئی یار و مددگار نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کے لیے کوئی یار و مددگار نہیں جنہوں نے نور حق اور راہ صدق و صواب سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو دائمی خسارے میں ڈال دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دین حق سے منہ موڑنے والے اپنا اور صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کہ اس طرح ایک طرف تو وہ نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر کفر و باطل کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور متاع حیات کو حق و ہدایت کی روشنی میں اس کے صحیح مصرف میں صرف کرنے کی بجائے اس کو کفر و باطل کے مہیب اور ہولناک اندھیروں کی نذر کردیتے ہیں۔ اور دوسری طرف وہ اپنے اس خالق ومالک سے منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–194
بندہ ٔ مسلم کی دعا
تشریح : ان آیات میں انسان اپنے رب سے دعائیں کرتا ہے جیسا کہ آیات میں واضح بیان کیا گیا ہے آخر میں انسان التجا کرتا ہے کہ تو وعدہ پورا کرنا کبھی بھول نہیں سکتا مگر ہمیں اتنا پکا پرہیزگار اور نیک مسلمان بنا دے کہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو سکیں جن سے تو نے وعدہ کیا ہے کہ قیامت کے دن ان کو رسوائی اور عذاب جہنم سے تو بچا لے گا۔ آمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیات 190- 200
اسرارو معارف
ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔
عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ ﷺ جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔
یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
ف 9 اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں یا قرآن اور پھر ہر وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو دعوت الہیٰ الحق پیش کرے (قرطبی کبیر)
10 ابراد یہ بر کی جمع ہے اور اسکا مطلب یہ ہے کہ نیک لوگوں ساتھ ہمارا حشر فرما اور ابرار سے مراد خاص طور انبیا ( علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں یعنی مرنے کے بعد ہمیں ان کے غلاموں میں شامل فرما (وحیدی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
(3:191) قعودا۔ جمع قاعد کی۔ حالت نصب۔ بیٹھے ہوئے۔
جنوبھم۔ جنوب مضاف ہم مضاف الیہ ۔ جنب کی جمع ۔ ان کے پہلو۔
فقنا۔زائد ہے۔ ق۔ امر واحد مذکر حاضر۔ وقی یقی وقایۃ سے نا ضمیر جمع متکلم ۔ مفعول۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
لغات القرآن آیت نمبر 190 تا 195
قیام (کھڑے ہوئے) کفر (اتاردے، دور کردے) قعود (بیٹھے ہوئے) مع الابرار (نیک لوگوں کے ساتھ) جنوب ( پہلوؤں (جنب کی جمع) لاتخزتا (ہمیں رسوا نہ کر) یتفکرون (وہ غوروفکر کرتے ہیں ) استجاب (قبول کیا) ماخلقت (تو نے پیدا نہیں کیا) لا اضیع (میں ضائع نہ کروں گا) ھٰذا باطل (اس کو بےفائدہ) عامل (کام کرنے والا) سبحٰنک (آپ کی ذات پاک ہے) اوذوا (ستائے گئے) اخزیت (تونے رسوا کردیا ) حسن التواب (بہترین ثواب) منادی (آواز دینے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 190 تا 195
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی پیدائش میں غور فکر کرنے اور کھڑے ، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے اللہ کا ذکر کرنے والے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
مسلم شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام احوال میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے۔ بندہ کا کوئی حال یاد الہٰی سے خالی نہ ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
دعوت ایمان :
(ف 1) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ آسمان و زمین کے متعلق صحیح غور وفکر ذوق عبادت و ایمان کی روح پیدا کردیتا ہے ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ رات کو اٹھتے ، آسمان کی طرف چشم بصیرت سے دیکھتے اور غور و فکر کی وجہ سے بےاختیار پکار اٹھتے کہ (آیت) ” ربنا ما خلقت ھذا باطلا “۔ اور سوچو کیا یہی وہ نتیجہ نہیں جو ایک مفکر طبیعات کے دماغ میں پہلے پہل چمکتا ہے ، تم خود کائنات کے اسرار وکفایا کے متعلق حکیمانہ تدبر سے کام لو ذرہ ذرہ سے یہی صدا سنائی دے گی (آیت) ” ربنا ما خلقت ھذا باطلا ۔
قرآن حکیم کا یہ مخصوص انداز دلائل ہے کہ وہ ایسے حقائق پیش کرتا ہے جو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
ف 1 وہ ادلیٰ الالباب ایسے ہیں جو ہر حال میں خواہ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں خواہ کسی پہلو پر لیٹے ہوں اللہ تعالیٰ کی یاد کیا کرتے ہیں اور آسمانوں کی اور زمین کی ساخت اور ان کے پیدا ہونے میں غور و فکر کرتے ہیں اور غورو فکر کے نتیجے کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے یہ سب کچھ فضول عبث اور بےکار و بےمقصد نہیں بنایا ہے بلکہ اس مخلوق کے بنانے میں تیری بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں ہم تجھ کو ہر عیب سے پاک سمجھتے ہیں سو تو ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ (تیسیر)
اہلِ عقل و خرد کا وصف بیان فرمایا کہ یہ لوگ زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں یعنی زمین و آسمان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
ف 4۔ مراد اس سے محمد ﷺ ہیں بواسطہ یا بلاواسطہ۔
Read the full tafseer →اے ہمارے رب دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچا جو دوزخ میں گیا وہ رسوا ہوگیا :
350: اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کو آگ سے بچنے کی دعا سکھائی کیونکیہ آگ ہی قیامت کا بدترین عذاب ہے جس سے زیادہ بڑا اور زیادہ برا اور کوئی عذاب نہیں ہو سکتا۔ اور اگر غور کیا جائے تو آگ ہی اس دنیا میں انسان کے سارے امن اور اطمینان کو برباد کردیتی ہے۔ آخرت کی کامیابی بھی یہی ہے کہ انسان آگ سے بچے اور دنیا کی کامیابی بھی یہ ہے کہ انسان آگ سے بچے۔ وہ کتنے ہیں جو اس دنیا کی آگ میں جل رہے ہیں۔ اور پھر نکلنے کی صورت نظر نہیں آتی اور کتنے ہیں جو آخرت میں جلنے کے لئے زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رسوائی سے بچائے دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–194
That human intentions and plans keep failing everywhere all the time is a matter of common experience. These cannot be called the prime movers and operators of this universal system. Therefore, the outcome of the deliberation into the creation of the heavens and the earth and into what has been created in them is, as wisdom dictates, living to know, obey and remember Allah. Anyone unmindful of it does not deserve to be classed as wise. Therefore, the Holy Qur'an has given the following sign of the wise:
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ
That is, the wise…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
137. Many eras have passed before you. Go about, then, in the land and behold the end of those who gave the lie to (the directives and ordinances of Allah).
Read the full tafseer →