Explained with ayahs 190–194
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر
طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 135
یعنی ان نشانیوں سے ہر شخص بآسانی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ وہ خدا سے غافل نہ ہو، اور آثار کائنات کو جانوروں کی طرح نہ دیکھے بلکہ غور و فکر کے ساتھ مشاہدہ کرے۔
سورة اٰلِ عِمْرٰن 136
جب وہ نظام کائنات کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت ان پر کھل جاتی ہے کہ یہ سراسر ایک حکیمانہ نظام ہے۔ اور یہ بات سراسر حکمت کے خلاف ہے کہ جس مخلوق میں اللہ نے اخلاقی حس پیدا کی ہو، جسے تصرف کے اختیارات دیے ہوں، جسے عقل وتمیز عطا کی ہو، اس سے اس کی حیات دنیا کے اعمال پر باز پرس نہ ہو، اور اسے نیکی پر جزا اور بدی پر سزا نہ دی جائے۔ اس طرح نظام کائنات پر غور و فکر کرنے سے انہیں آخرت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–194
الذین یذکرون اللہ قیاماً و قعودا و علی جنوبھم یعنی عقل والے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو یاد کریں کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہوئے مراد یہ ہے کہ ہر حالت اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں۔
اس سے معلوم ہوا کہ آج کی دنیا نے جس چیز کو عقل اور عقلمندی کا معیار سمجھ لیا ہے وہ محض ایک دھوکا ہے، کسی نے مال و دولت سمیٹ لینے کو عقلمندی قرار دیدیا، کسی نے مشینوں کے کل پرزے بنانے یا برق اور بھاپ کو اصلی پاور سمجھ لینے کا نام عقلمندی رکھ دیا لیکن عقل سلیم کی بات وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل لے کر آئے کہ علم و حکمت کے ذریعہ سلسلہ اسباب میں ادنی سے اعلی کی طرف ترقی کرتے ہوئے درمیانی مراحل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
190-191:۔ ارباب بصیرت کی نگاہ : محبت دنیا کے ان اندھوں کا ذکر کرنے کے بعد، جو نبی ﷺ کی تکذیب کے لیے اس قسم کی کٹ حجتیاں پیدا کر رہے تھے جن کی تفصیل اوپر بیان ہوئی اب یہ ان ارباب بصیرت کا بیان ہورہا ہے جو اللہ کو ہر جگہ اور ہر حال میں یاد رکھتے ہیں اور زمین و آسمان کی خلقت پر برابر غور کرتے رہتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ ذکر و فکر خود بخود ان کو اس نتیجے تک پہنچا دیتا ہے کہ یہ عظیم کارخانہ بےغایت و بےمقصد نہیں ہوسکتا، اور جب بےغایت و بےمقصد نہیں ہوسکتا تو لازم ہے کہ محض اتنے ہی پر تمام نہ ہوجائے جتنا ظاہر ہو رہا ہے بلکہ ضروری ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں گنہگار اور نیکو کار دونوں اپنے اپنے اعمال کا…
Read the full tafseer →191۔ 1 ان دس آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت کی چند نشانیاں بیان فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ نشانیاں ضرور ہیں لیکن کن کے لئے ؟ اہل عقل و دانش کے لئے، اس کا مظلب یہ ہوا کہ ان عجائبات تخلیق اور قدرت الٰہی کو دیکھ کر بھی جس شخص کو باری تعالیٰ کا عرفان حاصل نہ ہو وہ اہل دانش ہی نہیں۔ لیکن یہ المیہ بھی بڑا عجیب ہے کہ عالم اسلام میں ' دانشور ' سمجھا ہی اس کو جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کا شکار ہو، دوسری آیت میں اہل دانش کے ذوق ذکر الٰہی اور ان کا آسمان اور زمین کی تخلیق میں غورو فکر کرنے کا بیان ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ' کھڑے ہو کر نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →زمین و آسمان کی تخلیق میں ‘ اور رات اور دن کی گردش میں وہ کیا آیات اور نشانیاں ہیں ‘ اور جب یہ اولوالالباب آسمان اور زمین میں تفکر کرتے ہیں تو وہ کیا نشانیاں ہیں ؟ جب وہ رات اور ان کی گردش میں غور کرتے ہیں تو انہیں کیا نظر آتا ہے ؟ جبکہ پھر وہ اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں کھڑے ہوکر بھی ‘ بیٹھ کر بھی اور کروٹ لیتے ہوئے بھی ۔ اور پھر سوال یہ ہے کہ ان کے نتیجہ فکر کا تعلق اللہ کے ذکر کے ساتھ کیسے مربوط ہوجاتا ہے کہ وہ فوراً کھڑے ‘ بیٹھے اور کروٹ لیتے اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔ اور پھر وہ اس ذکر کو اس پر خشوع و خضوع اور پر سوز دعا پر کیسے ختم کرتے ہیں ؟ وہ کہتے ہیں ۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا…
Read the full tafseer →6 یعنی کسی حال خدا سے غافل نہیں ہوتے۔ اس کی یاد ہمہ وقت ان کے دل میں اور زبان پر جاری رہتی ہے جیسے حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی نسبت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کان یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہٖ نماز بھی خدا کی بہت بڑی یاد ہے، اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے بیٹھ کر اور جو بیٹھ نہ سکے لیٹ کر پڑھ لے بعض روایات میں ہے کہ جس رات میں یہ آیات نازل ہوئیں نبی کریم ﷺ کھڑے، بیٹھے، لیٹے، ہر حالت میں اللہ کو یاد کر کے روتے رہے۔
1 یعنی ذکر و فکر کے بعد کہتے ہیں کہ خداوندا ! یہ عظیم الشان کارخانہ آپ نے بیکار پیدا نہیں کیا، جس کا کوئی مقصد نہ ہو یقیناً ان عجیب و غریب حکیمانہ انتظامات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
آیت 191 الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج
اس غور و فکر سے وہ ایک دوسرے نتیجے پر پہنچتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں :
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا ج
اور پھر ان کا ذہن اپنی طرف منتقل ہوتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ میں کس لیے پیدا کیا گیا ہوں ؟ کیا میری زندگی بس یہی ہے کہ کھاؤ پیو ‘ اولاد پیدا کرو اور دنیا سے رخصت ہوجاؤ ؟ معلوم ہوا کہ نہیں ‘ کوئی خلا ہے۔ انسانی اعمال کے نتیجے نکلنے چاہئیں ‘ انسان کو اس کی نیکی اور بدی کا بدلہ ملنا چاہیے ‘ جو اس دنیا میں اکثر و بیشتر نہیں ملتا۔ دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
190 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عقلمند صرف وہ لوگ ہیں جو اس کارخانہ قدرت میں غور کرنے کے بعد اللہ کی بےپناہ قدرت و تصرف کی حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اس اعتراف حقیقت کے نتیجہ میں ان کے بدن کارواں رواں محبت الٰہی میں سرشار ہو کر اس کی حمد وثناء کرنے لگتا ہے اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے اور اس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس کارخانہ قدرت میں غورو فکر کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچیں کہ یہ عالم مادہ سے بنا ہے۔ پھر اتفاق سے یوں ہوگیا، پھر اتفاق سے یوں ہوگیا اور اس مضبوط و مربوط نظام کائنات کو محض اتفاقات کا نتیجہ کا قرار دیتے ہیں، وہ ہرگز اہل عقل نہیں ہیں۔ کیونکہ اتفاق سے کبھی کبھار…
Read the full tafseer →398 ۔ یعنی یاد الہی خواہ دل سے ہو یا زبان سے، ہر حال اور ہر ہئیت کے ساتھ کرتے رہتے ہیں۔ المرادمنہ کون الانسان دائم الذکر فان الاحوال لیست الاھذہ الثلاثۃ (کبیر) قال سائر المفسرین ارادبہ المداومۃ علی الذکر فی عموم الاحوال (معالم) (آیت) ” علی جنوبھم “۔ سے مراد ہے لیٹے ہوئے۔ ای مضطجعین (قرطبی)
399 ۔ کائنات طبعی کے ان عظیم الشان موجودات کے قوانین طبعی اور قواعد تکوینی سے صانع اعظم و خالق عالم کی قدرت، حکمت، صنعت پر استدلال کرتے رہنا عبادت ہی نہیں ایک اعلی و اشرف عبادت ہے۔ ھو افضل العبادات کما قال علیہ الصلوۃ لاعبادۃ کالتفکر لانہ المخصوص بالقب والمقصود من الخلق (بیضاوی) دلت الایۃ علی ان اعلی مراتب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–195
فَاسْتَجَابَ لُھُمْ رَبُّھُمْ ۔ ان لوگوں کی دعاء اور درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم میں سے کسی کے عمل کو ضائع کرنے والا نہیں، خواہ مرد ہو یا عورت۔ مرد یا عورت کی وضاحت اس لیے فرما دی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلاً قوامیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ نیک اعمال کی جزاء میں بھی شاید مرد و عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا نہیں ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ہر نیکی کا جو اجر ایک مرد کو ملے گا وہ نیکی اگر عورت کرے گی…
Read the full tafseer →الذین یذکرون اللہ قیاماً و قعوداً و علی جنوبھمَ جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے بیٹھے اور پہلو کے بل لیٹے ہوئے۔ یہ اولی الالباب کی صفت ہے کیونکہ ذکر فکر تسبیح، استغفار، دعا تضرع اور ایمان عقلی کا تقاضا ہے جو ان صفات سے متصف نہیں وہ جانور ہے بلکہ چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ کیونکہ چوپائے بھی کسی نہ کسی طرح تسبیح میں مشغول رہتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی، حضرت ابن عباس، نخعی اور قتادہ کے نزدیک اس آیت میں ذکر سے مراد نماز ہے کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ کھڑا نہ ہو سکے تو بیٹھ کر پڑھے بیٹھ نہ سکے تو کروٹ سے لیٹ کر پڑھے۔ اسی آیت کی ہم مراد سورة نساء کی یہ آیت ہے : فَاِذا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃ فاذْکُرُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
(191۔ 192) جن کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جب کھڑے ہونے کی طاقت رکھتے ہیں کھڑے ہو کر اور جب اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کریاد کرتے یعنی کسی حالت میں اس کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور نمازیں پڑھتے ہیں۔
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ان چیزوں کو تو نے بےکار نہیں پیدا کیا، ہم اس کے ہر طرح کے شرک سے تجھ کو پاک ومنزہ سمجھتے ہیں، اے ہمارے رب ! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ اور خدا پر ایمان رکھنے والے ان مومنین کے بالمقابل ان مشرکوں کا دنیا وآخرت میں کوئی بھی مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ : پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے خالق اور رب ہونے کا ذکر تھا، اب اس اکیلے کی عبادت کا ذکر ہے، یعنی وہ ”اولوالالباب“ دل، زبان اور دوسرے سب اعضاء سے کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے ہر حالت میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ روزی کماتے وقت اللہ کے حکم کا خیال رکھنا بھی اس کی یاد ہے، عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر اسے نہ بھولنا بھی یاد ہے، نظر کو بےلگام نہ ہونے دینا بھی اس کا ذکر ہے، اسلام کی سر بلندی کے لیے جہاد کی تیاری میں مصروف ہونا بھی اس کی یاد ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے صرف نماز اور تسبیح و تحمید کو ذکر سمجھ لیا اور اللہ کی جس یاد اور ملاقات کے شوق سے صحابہ و تابعین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیت نمبر : 190 تا 200۔
اس میں پچیس : مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں کئی مقامات پر گزر کئی مقامات پر گزر چکا ہے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کا اختتام ان آیات میں نظر و استدلال کے حکم کے ساتھ کیا، کیونکہ یہ پیدا نہیں ہو سکتے مگر اسی کی جانب سے جو حی وقیوم ہے قدرت والا ہے، پاک ہے، سلامت ومحفوط ہے، (ہر عیب اور کمزوری سے) اور کل جہاں سے بےنیاز اور غنی ہے، تاکہ انکا ایمان یقین کے ساتھ مستند ہوجائے نہ کہ فقط تقلید (پر اس کا انحصار ہو)
(آیت) ” لایت لاولی الالباب “۔ یعنی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقلوں کو دلائل میں غوروفکر…
Read the full tafseer →(1) الاصبہانی نے الترغیب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک پکارنے والا قیامت کے دن پکارے گا عقل والے کہاں ہیں ؟ تو لوگ کہیں گے تو کون سے عقل والے چاہتا ہے ؟ تو وہ کہے گا لفظ آیت ” الذین یذکرون اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبہم ویتفکرون فی خلق السموت والارض ربنا ما خلقت ھذا باطلا سبحنک فقنا عذاب النار “ (یعنی وہ لوگ جو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کا ذکر کرتے تھے آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے تھے اور یہ کہتے تھے اے ہمارے رب آپ نے یہ سب کچھ بےکار پیدا نہیں فرمایا آپ کی ذات پاک ہے ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالے) ان کو ایک جھنڈا دیا جائے…
Read the full tafseer →[الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [یَذْکُرُوْنَ : یاد کرتے ہیں ] [اللّٰہَ : اللہ کو ] [قِیٰمًا : کھڑے ہوئے ] [وَّقُعُوْدًا : اور بیٹھے ہوئے ] [وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ : اور اپنی کروٹوں پر ] [وَیَتَفَکَّرُوْنَ : اور سوچ بچار کرتے ہیں ] [فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں ] [رَبَّـنَا : (تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ) اے ہمارے ربّ ] [مَا خَلَقْتَ : تو نے نہیں پیدا کیا ] [ہٰذَا : اس کو ] [بَاطِلًا : بےمقصد ہوتے ہوئے ] [سُبْحٰنَکَ : (ہم پاکی بیان کرتے ہیں) تیری پاکی بیان کرنا ] [فَقِنَا : پس تو بچا ہم کو ] [عَذَابَ النَّارِ : آگ کے عذاب سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
عقلمندوں کی صفات اور ان کی دعائیں
ان آیات میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں کو اور زمین کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے کا جو نظام رکھا ہے جس کے مطابق رات اور دن آگے پیچھے آتے رہتے ہیں اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ یعنی یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ان کا پیدا فرمانے والا قادر مطلق ہے، خالق ہے، حکیم ہے، یہ نشانیاں ایسی ہیں کہ عقل والے ان کو دیکھتے ہیں اور ان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب یہ جو کچھ آپ نے پیدا فرمایا ہے بےکار، عبث اور لایعنی نہیں ہے۔ ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تو ہمیں عذاب دوزخ سے بچا دینا۔ درمیان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
دلائل الوہیت ووحدانیت و کمال قدرت و حکمت وبیان حال دانشمنداں ودعا ہائے گوناگوں ایشاں۔
قال تعالیٰ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔۔ تفلحون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یعنی وللہ ملک السماوات۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ میں اللہ کی بادشاہت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اللہ کی الوہیت اور اس کی واحدانیت اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور اہل عقل اور اہل دانش کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے مخلوقات کو دیکھ کر خالق کا پتہ چلالیا اور مصنوعات کو دیکھ کر صانع کو پہچان لیا اور دن رات اپنے پروردگار کے ذکر اور فکر میں سرشار ہیں اور اسی کی تسبیح اور دعا اور استغفار میں مشغول ہیں قرآن…
Read the full tafseer →290 اَلَّذِیْنَ یَذَّکَّرُوْنَ سے بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ تک اُولِی الْاَ لْبَاب کے اوصاف اور ان کے حالات کا ذکر ہے۔ یہاں تک ان کی صفتیں بیان فرمائیں۔ ایک یہ کہ وہ ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے اور اس کی توحید کو بیان کرتے اور اسے ہی پکارتے رہتے ہیں اور کسی حال میں بھی اس سے غافل نہیں ہوتے۔ دوم یہ کہ وہ زمین و آسمان کی مخلوقات اور کائنات عالم میں غور و تدبر کرتے رہتے ہیں اور کائنات کے ذرے ذرے سے اللہ کی توحید پر استدلال کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔
291 یہ اُوْلِی الْاَلْبَاب کی دعا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے کا اعتراف کرتے اور کہتے ہیں اے اللہ ! تو ہی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
سورة کی ابتداء اور انتہا : آج کے درس سے سورة آل عمران کا آخری رکوع شروع ہورہا ہے۔ سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید بیان فرمایا تھا۔ الم۔ اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ اور قائم ہے اب سورة کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور حاکمیت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ وللہ ملک السموات والارض۔ تمام سلطنت اللہ ہی کی ہے۔ واللہ علی کل شیء قدیر۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ قادر مطلق اور معبود برحق وہی ہے۔ اب آمدہ آیات میں دعوی ملکیت ، قدرت تامہ اور توحید…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللہَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا 0ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 191
ذكر
الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل :
الذّكر ذکران :
ذكر بالقلب .
وذکر باللّسان .
وكلّ واحد منهما ضربان :
ذكر عن نسیان .
وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
ترکیب : فی خلق السموت الخ خبر ان لاٰیت اس کا اسم الذین الخ صفت یا بیان ہے اولی الالباب کا۔ قیاما اور قعودا حال ہیں فاعل یذکرون سے اور علی جنوبہم بھی محذوف ہے متعلق ہو کر حال ہے۔ اے کائنین علی جنوبہم۔ ویتفکرون معطوف ہے یذکرون پر۔ باطلا اسم فاعل بمعنی مصدر کا لعاقبۃ یہ مفعول لہ یا حال ہے ہذا کا مشار الیہ خلق ہے۔ تدخل النار شرط فقد اخزیتہ جواب مجموعہ خبر من ینادی صفت ہے مناد کی ‘ من ذکر اوانثٰی بدل ہے منکم سے بعضکم من بعض مستانف ہے یا حال ثواباً تمیز یا حال۔
تفسیر : اور جانب وجودی کو ان آیات میں اپنے صفات جلیلہ اور پرہیزگاروں کے رویہ عبادت و ذکر و دعاء سے ثابت فرمایا جاتا ہے کہ پرہیزگار خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّـیْلِ وَالنَّھَار ِلَاٰیٰتٍ لِّاُوْلِی الْاَلْـبَابِ ۔ ج لا الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰماً وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَـکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَـکَ فَـقِـنَـا عَذَابَ النَّارِ ۔ رَبَّنَـآ اِنَّـکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخَزَیْتَـہٗ ط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۔
(بےشک آسمان اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے بندے ہر حال میں اس کے شکر گزار ‘ اس کی عبادت میں محو اور اس کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے ہیں، یہی دانشمندی ہے۔
اللہ تعالیٰ خالق کل اور حاکم مطلق ہے۔ اگر وہ چاہتا تو صرف حکم دیتا کہ میری ذات اور بات مانو لیکن اس نے اپنی ذات کو حاکم کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ خالق ومالک اور رحمن و رحیم کے طور پر تسلیم کرنے کی دعوت دی ہے اس لیے وہ انسان کو اس کی تخلیق، اپنی قدرتوں اور کائنات کی بناوٹ اور سجاوٹ پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ عقل و فکر اور دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اس پر ایمان لایا جائے۔ ایسا ایمان ہی آدمی کی فکر میں تبدیلی اور اس کے کردار میں نکھار پیدا کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →191: اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًاط سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔
نحو : الَّذِیْنَ (جو لوگ) یہ مجرور مانیں تو اولیکی صفت ہے یا اعنی کو مضمر مانیں تو منصوب ہے۔ ہم کو مبتداء محذوف مانیں تو خبر مرفوع ہے۔ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ ( اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں) یعنی نماز پڑھتے ہیں۔ قِیَاماً (کھڑے ہونے کی حالت میں) جبکہ ان کو قیام پر قدرت ہو۔ وَّ قُعُوْدًا (بیٹھنے کی حالت میں) وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ (اپنے پہلوئوں پر) یعنی جب قیام و قعود سے عاجز ہوتے ہیں۔
نحو…
Read the full tafseer →(تفسیر) 191۔:
حضرت علی بن ابی طالب ؓ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے نخی (رح) ، اور قتادہ (رح) ، فرماتے ہیں کہ یہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے بیان میں ہے اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھ کر طاقت نہیں تو ایک پہلو کے بل نماز پڑھے ،
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ سے مریض کی نماز کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر بیٹھ کر پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو پھر پہلو کی بل نماز پڑھو، دوسرے مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے ہے کہ اس سے کسی عم پر مداومت اختیار کرنا مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
(190 ۔ 194) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے شان نزول اس آیت کی دہی بیان کی ہے جو اِنَّ فیِْ خلق السموا ات (2۔ 164) کے تحت میں اس سے پہلے سورة بقر میں بیان ہوچکی۔ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور سورة بقرہ بھی بلا خلاف مدنی ہے۔ اور قریش کا یہ سوال کہ صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے مکہ میں تھا۔ پھر یہ شان نزول کیونکر صحیح ہوسکتی ہے 1۔ جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری 2 میں دیا ہے کہ قریش کا وہ سوال اگرچہ مکہ میں تھا مگر اس زمانہ میں نہیں تھا۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں مقیم تھے بلکہ یہ سوال ہجرت کے بعد اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
آیت 190-194
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان فی خلق السموت ولارض واختلاف الیل والنھار لایت لا ولی الالبات) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد : (لایت) کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کردیتی ہیں جو الہ صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–200
اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…
Read the full tafseer →407 ذکر و فکر دونوں کی ضرورت کا اظہار وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ گوہر مقصود سے سرفرازی کیلئے ذکر و فکر دونوں کی ضرورت ہے۔ سو اس سے ایک اور عظیم الشان حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ گوہر مقصود سے سرفراز و بہرہ ور ہونے کیلئے ذکر و فکر دونوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ یعنی اپنے آس پاس اور گرد و پیش کی اس عظیم الشان کائنات کے خالق ومالک کی یاددلشاد اور اس کی عظمت کا استحضار بھی دل میں موجود ہو۔ اور اس کی اس حکمتوں بھری کائنات میں غور و فکر بھی۔ تو اس سے ایمان و یقین میں جلا پیدا ہوتی اور قوت آتی ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا کا حال اس سے یکسر مختلف ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ تو ان لوگوں کا ہے جو اس اتھاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
آیات الٰہی میں غور و فکر
تشریح : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جب قریش نے رسول اللہ ﷺ سے معجزہ دکھانے کی خواہش کی اور کہا کہ آپ ﷺ اللہ سے دعا کریں کہ کوہ صفا سونے کا ہوجائے۔ اگر ایسا ہوجائے تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ ﷺ نے دعا کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر ابن کثیر)
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک، کائنات اور اس کی تمام چیزوں کے ذریعے یہ بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور وہی تمام کائنات کو چلانے والا ہے۔ اولی الالباب (عقل والے) اور ” عقل کو کام میں لانے والے۔ “ یہ الفاظ قرآن میں بیشمار دفعہ آئے ہیں تاکہ انسان کائنات کی پیدائش میں اور اس کے انتظام پر غور و فکر کرے اور اپنے لیے نئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیات 190- 200
اسرارو معارف
ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔
عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ ﷺ جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔
یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور…
Read the full tafseer →ف 5 پہلی آیت ربوبیت کی تقریر تھی اب عبو دیت کا ذکر ہے یعنی دل و زبان اور جوارح ہر حالت میں ذکر الہیٰ میں مشغول رہتے ہیں (بیضاوی) اس آیت کے تحت آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر بیٹھ کہ نماز نہ پڑھ سکو تو (لیٹ کر) پہلو پر پڑھ لیا کرو، (ابن کثیر)6 یعنی زمین آسمان کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے جو حکمت رکھی ہے وہ پر غور وفکر کرتے ہیں۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں ایک ساعت کا غور و فکر رات بھر کے قیام سے بہتر ہے۔ حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز فرماتے ہیں زبان سے اللہ کا ذکر کرنا اچھا ہے لیکن اللہ کی نعمتوں پر غورو فکر کرنا اس سے بھی بہتر ہے (ابن کثیر) علوم ہیئت فلکیات اور ریاضی کو اگر دینی نقطہ نظر سے پڑھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
(3:191) قعودا۔ جمع قاعد کی۔ حالت نصب۔ بیٹھے ہوئے۔
جنوبھم۔ جنوب مضاف ہم مضاف الیہ ۔ جنب کی جمع ۔ ان کے پہلو۔
فقنا۔زائد ہے۔ ق۔ امر واحد مذکر حاضر۔ وقی یقی وقایۃ سے نا ضمیر جمع متکلم ۔ مفعول۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
لغات القرآن آیت نمبر 190 تا 195
قیام (کھڑے ہوئے) کفر (اتاردے، دور کردے) قعود (بیٹھے ہوئے) مع الابرار (نیک لوگوں کے ساتھ) جنوب ( پہلوؤں (جنب کی جمع) لاتخزتا (ہمیں رسوا نہ کر) یتفکرون (وہ غوروفکر کرتے ہیں ) استجاب (قبول کیا) ماخلقت (تو نے پیدا نہیں کیا) لا اضیع (میں ضائع نہ کروں گا) ھٰذا باطل (اس کو بےفائدہ) عامل (کام کرنے والا) سبحٰنک (آپ کی ذات پاک ہے) اوذوا (ستائے گئے) اخزیت (تونے رسوا کردیا ) حسن التواب (بہترین ثواب) منادی (آواز دینے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 190 تا 195
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی پیدائش میں غور فکر کرنے اور کھڑے ، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے اللہ کا ذکر کرنے والے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
مسلم شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام احوال میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے۔ بندہ کا کوئی حال یاد الہٰی سے خالی نہ ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →فسلفہ مذہب :
(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ عقل مند اور خوردودانش وہ لوگ ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور ہر حالت میں خدائے ذوالجلال کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہتے ہیں ، جو آسمان و زمین کے اسرار وخفایا کے متعلق غور وفکر سے کام لیتے ہیں اور بےاختیار کہہ اٹھتے ہیں کہ اے رب ! تونے کسی چیز کو بےکار نہیں پیدا کیا اور اس کے بعد وہ اپنی زندگی بالکل قدرتی اور طبعی بنا لیتے ہیں ، تاکہ عذاب وسخط الہی سے بچ جائیں ۔
مقصد یہ ہے کہ طبیعات اور ناموسات الہیہ میں غوروفکر انسان کو خدا پرست بنا دیتا ہے اور اس میں یہ یقین پیدا کردیتا ہے کہ کائنات کی چیزیں بخت واتفاق کا نتیجہ نہیں ، بلکہ زبردست قدرت وعقل کا کرشمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
ف 1 وہ ادلیٰ الالباب ایسے ہیں جو ہر حال میں خواہ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں خواہ کسی پہلو پر لیٹے ہوں اللہ تعالیٰ کی یاد کیا کرتے ہیں اور آسمانوں کی اور زمین کی ساخت اور ان کے پیدا ہونے میں غور و فکر کرتے ہیں اور غورو فکر کے نتیجے کو اس طرح ظاہر کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے یہ سب کچھ فضول عبث اور بےکار و بےمقصد نہیں بنایا ہے بلکہ اس مخلوق کے بنانے میں تیری بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں ہم تجھ کو ہر عیب سے پاک سمجھتے ہیں سو تو ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ (تیسیر)
اہلِ عقل و خرد کا وصف بیان فرمایا کہ یہ لوگ زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں یعنی زمین و آسمان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
ف 3۔ بلکہ اس میں حکمتیں رکھی ہیں جن میں ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اس مخلوق سے خالق تعالیٰ کے وجود پر توحید پر استدلال کیا جائے۔
Read the full tafseer →غور و فکر کرنے والے وہی ہیں جو اللہ کی کسی پیدائش کو عبث و بےکار نہیں سمجھتے :
348: ان صاحب عقل لوگوں کی دوسری علامت یہ ہے کہ وہ آسمان و زمین کی تخلیق و پیدائش میں اور جو کچھ آسمان و زمین میں پیدا ہوا ہے اس کے ایک ایک ذرہ کے متعلق تفکر و تدبر کرتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں کہ اے اللہ ! تو نے یہ سب کچھ جو پیدا کیا ہے تو بےکار و عبث نہیں پیدا کیا۔ “ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ذکر سے فکر کا مقام بڑا ہے اس لئے یہ سمجھنا بھی لازم ہے کہ فکر کیا ہے ؟ فکر اور تفکر کے لفظی معنی غور کرنے اور کسی چیز کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر عبادت ہے اور فکر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–194
That human intentions and plans keep failing everywhere all the time is a matter of common experience. These cannot be called the prime movers and operators of this universal system. Therefore, the outcome of the deliberation into the creation of the heavens and the earth and into what has been created in them is, as wisdom dictates, living to know, obey and remember Allah. Anyone unmindful of it does not deserve to be classed as wise. Therefore, the Holy Qur'an has given the following sign of the wise:
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ
That is, the wise…
Read the full tafseer →135. This means that with the help of those signs one can easily arrive at the Truth, provided one is not indifferent to God and looks at the phenomenon of the universe thoughtfully.
136. When people look carefully at the order of the universe, it becomes clear to them that it is an order permeated by wisdom and intelligent purpose. It is altogether inconsistent with wisdom that the man endowed with moral consciousness and freedom of choice, the man gifted with reason and discretion, should not be held answerable for his deeds. This kind of reflection leads people to develop a strong…
Read the full tafseer →