Explained with ayahs 190–194
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر
طبرانی میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے انہوں نے کہا اژدھا بن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے تھے جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کردینا اور کوڑھی کو اچھا کردینا اور مردوں کو زندہ کردینا۔ اب یہ قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا کی جس پر یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
سورة اٰلِ عِمْرٰن 134
یہ خاتمہ کلام ہے۔ اس کا ربط اوپر کی قریبی آیات میں نہیں بلکہ پوری سورة میں تلاش کرنا چاہیے۔ اس کو سمجھنے کے لیے خصوصیت کے ساتھ سورة کی تمہید کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →ربط آیات
چونکہ اوپر اختصاص سے توحید مفہوم ہوئی، اگلی آیت میں توحید پر دلیل لاتے ہیں اور اس کے ساتھ توحید کے کامل اقتضاء پر عمل کرنے والوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں، جس میں اشارة دوسروں کو بھی ترغیب ہے اس اقتضاء پر عمل کرنے کی، اوپر جو کفار سے ایذائیں پہنچنے کا مضمون تھا، آیت آئندہ کو اس سے بھی مناسبت ہے، اس طرح کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے عناداً یہ درخواست کی کہ صفاء پہاڑ کو سونے کا بنادیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ حق کے دلائل تو بہت ہیں، ان میں کیوں نہیں فکر کرتے۔
اور ان لوگوں کی یہ درخواست حقیقتا حق کے لئے نہ تھی، بلکہ عنادًا تھی جس سے درخواست پورا ہونے پر بھی ایمان نہ لاتے۔
خلاصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
190-191:۔ ارباب بصیرت کی نگاہ : محبت دنیا کے ان اندھوں کا ذکر کرنے کے بعد، جو نبی ﷺ کی تکذیب کے لیے اس قسم کی کٹ حجتیاں پیدا کر رہے تھے جن کی تفصیل اوپر بیان ہوئی اب یہ ان ارباب بصیرت کا بیان ہورہا ہے جو اللہ کو ہر جگہ اور ہر حال میں یاد رکھتے ہیں اور زمین و آسمان کی خلقت پر برابر غور کرتے رہتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ ذکر و فکر خود بخود ان کو اس نتیجے تک پہنچا دیتا ہے کہ یہ عظیم کارخانہ بےغایت و بےمقصد نہیں ہوسکتا، اور جب بےغایت و بےمقصد نہیں ہوسکتا تو لازم ہے کہ محض اتنے ہی پر تمام نہ ہوجائے جتنا ظاہر ہو رہا ہے بلکہ ضروری ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں گنہگار اور نیکو کار دونوں اپنے اپنے اعمال کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
190۔ 1 یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انہیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرمانروا کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرہ برابر خلل واقع نہیں ہوتا، یقینا اس کے پیچھے ایک ذات ہے جو اسے چلا رہی ہے اور اس کی تدبیر کر رہی ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔ آگے انہی اہل دانش کی صفات کا تذکرہ ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور کروٹوں پر لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ اِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّماوَاتِ سے لے کر آخر سورت تک آیات نبی کریم ﷺ رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتے تو پڑھتے اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →درس نمبر 29 ایک نظر میں
یہ سورت جس قدر سبقوں اور دروس پر مشتمل تھی یہ ان میں سے آخری درس ہے ۔ اس سورت میں اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں اہم عناصر کی ایک بڑی تعداد کا ذکر ہوا ہے ۔ اور ان عناصر کو ہر قسم کے اجمال ‘ اشتباہ اور اہل کتاب کے ساتھ مجادلوں اور مشرکین کے ساتھ مباحثے کرکے ان اساسی عناصر کو منقطع کیا گیا ہے۔ اس پوری سورت میں اسلامی نظام زندگی کی نوعیت اور جان ومال کے حوالے سے اس کے تقاضوں کا بیان ہوا ہے ۔ جماعت مسلمہ کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ان فرائض کو کس طرح ادا کرے گی ۔ اور مشکل حالات کے ابتلا میں اس کا رویہ کیا ہوگا اور خوشحالی کے حالات میں وہ ابتلا سے کس طرح عہدہ برآہوگی اور…
Read the full tafseer →5 یعنی عقلمند آدمی جب آسمان و زمین کی پیدائش اور ان کے عجیب و غریب احوال و روابط اور دن رات کے مضبوط و محکم نظام میں غور کرتا ہے تو اس کو یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ سارا مرتب و منظم سلسلہ ضرور کسی ایک مختار کل اور قادر مطلق فرمانروا کے ہاتھ میں ہے جس نے اپنی عظیم قدرت و اختیار سے ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی حد بندی کر رکھی ہے۔ کسی چیز کی مجال نہیں کہ اپنے محدود وجود اور دائرہ عمل سے باہر قدم نکال سکے۔ اگر اس عظیم الشان مشین کا ایک پرزہ یا اس کارخانہ کا ایک مزدور بھی مالک علی الاطلاق کی قدرت و اختیار سے باہر ہوتا تو مجموعہ عالم کا یہ مکمل و محکم نظام ہرگز قائم نہ رہ سکتا۔
Read the full tafseer →سورة آل عمران کا آخری رکوع قرآن مجید کے عظیم ترین مقامات میں سے ہے۔ اس کی پہلی چھ آیات کے بارے میں روایت آتی ہے کہ جس شب میں یہ نازل ہوئیں تو پوری رات حضور ﷺ پر رقت طاری رہی اور آپ ﷺ کھڑے ‘ بیٹھے ‘ لیٹے ہوئے روتے رہے۔ نماز تہجد کے دوران بھی آپ ﷺ پر رقت طاری رہی۔ پھر آپ ﷺ نے بہت طویل سجدہ کیا ‘ اس میں بھی گریہ طاری رہا اور سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ پھر آپ ﷺ کچھ دیر لیٹے رہے لیکن وہ کیفیت برقرار رہی۔ یہاں تک کہ صبح صادق ہوگئی۔ حضرت بلال رض جب فجر کی نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے اور آپ ﷺ ‘ کو اس کیفیت میں دیکھا تو وجہ دریافت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے بلال ‘ میں کیوں نہ روؤں کہ آج کی شب…
Read the full tafseer →189 یعنی عقلمند انسان جب زمین و آسمان کی پیدائش، سورج اور چاند کی گردش اور سیاروں کے احوال، دن رات کی آمدورفت کے مضبوط اور مربوط نظام میں غور کرتا ہے کہ کس طرح سب سیارے ایک معین رفتار اور معین قانون کے تحت فضاؤں میں گردش کر رہے ہیں اور ان کے اس انضباط میں کبھی لمحہ بھر کا بھی فرق نہیں پڑتا تو اسے یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ تمام تر کارخانہ کائنات ایک ہی قادر مطلق اور مختار کل فرمانروا کے ہاتھ میں ہوسکتا ہے۔ جس نے اپنی عظیم قدرت و اختیار سے کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو اپنی اپنی حدود میں جکڑ رکھا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ حدود سے تجاوز کرسکے۔ اگر اس عظیم الشان کارگاہ کا ایک پرزہ یا کوئی…
Read the full tafseer →397 ۔ (اللہ کی توحید اور فردیت کی، اس کی حکمت وصنعت کی اور اس کی قدرت وحاکمیت کی) نظام فلکی اور اس کی تفصیلات، چاند، سورج، ستاروں کی تعداد، ان کے درمیان فاصلے، ان کے باہمی تعلقات وتاثرات، ان کی گردشوں کی پیمائش، گرہن کے اسباب واوقات، انکے طلوع و غروب، نور و حرارت وغیرہ کے قاعدہ ضابطہ، اس قسم کی تفصیلات سے علم ہیئت کی کتابوں کے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔ رہی زمین تو ہیئت ارض، مساحت ارض، طبقات ارض، معدنیات ارض، کشش ارض، ہواؤں اور موسموں کے تغیرات وغیرہ کے لیے تو کوئی ایک پورا فن بھی کافی نہ ہوا بلکہ جغرافیہ، جغرافیہ طبعی، جیالوجی، فزالوجی، میٹیر ولوجی، آرکیالوجی خدا جانے کتنے فنون پر فنون نکلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–190
آیت نمبر 190 تا 200
ترجمہ : آسمانوں اور زمین اور ان میں جو عجائبات ہیں ان کی تخلیق میں اور آمدورفت اور زیادتی و کمی شب و روز کے بدلنے میں یقیناً عقل مندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جو لوگ (الذین) اپنے ما قبل کی صفت یا بدل ہے اللہ تعالیٰ کو کھڑے کھڑے بیٹھے بیٹھے لیٹے لیٹے یعنی ہرحال میں یاد کرتے ہیں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حسب طاقت مذکورہ ہئیتوں میں نماز پڑھتے ہیں۔ اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ زمین اور آسمان کے بنانے والے کی قدرت پر استدلال کریں۔ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! یہ مخلوق جس کو ہم دیکھ رہے ہیں تو نے بےفائدہ پیدا نہیں کی بلکہ…
Read the full tafseer →ان فی خلق السموات والارض بیشک آسمانوں کی اور زمین کی اور ان کے درمیانی کائنات کی تخلیق میں جو عجائب قدرت ہیں اور باوجودیکہ ذات ممکن مقتضی وجود نہیں (کیونکہ ذات امکان کی نسبت وجود و عدم دونوں سے برابر ہوتی ہے) پھر بھی اللہ نے ماہیات ممکنات پر فیضان وجود کیا (اور نیست سے ہست کیا) ۔
واختلاف اللیل والنھار اور رات ‘ دن کے تعاقب اور ترتیب کے ساتھ پر حکمت آمد و رفت میں۔
لایٰت خالق کی ہستئ کمال علمی ہمہ گیری قدرت اور ارادہ و حکمت کے ثبوت کی کھلی ہوئی دلیلیں موجود ہیں 1 ۔
لاولی الالباب ان لوگوں کے (جاننے اور ماننے کے) لیے جن کی دانش و فہم تو ہمات کی آمیزش سے پاک اور شیطانی وسوسوں سے منزہ ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →(190) کفار مکہ رسول اکرم ﷺ سے کہتے تھے جس چیز کے تم دعویدار ہو اس کے ثبوت کے لیے کوئی واضح دلیل لے کر آؤ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں اپنے دلائل قدرت بیان فرماتے ہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں فرشتے، چاند، سورج، ستارے اور بادل پیدا کیے گئے اور زمین کے پیدا کرنے اور اس میں جو کچھ پہاڑ، دریا، سمندر، درخت وجانور ہیں اور رات دن کے آنے میں عقل سلیم والوں کے لیے اس کی توحید کے بےپناہ دلائل موجود ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ان فی خلق السموت والارض“۔ (الخ)
طبرانی ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا معجزات لے کر آئے، انہوں نے کہا عصا…
Read the full tafseer →(اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) اس آیت سے آخر سورت تک آیات کی بڑی فضیلت ہے۔ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو ان آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (ربنا إنک من تدخل النار) : 4570، 4571، عن ابن عباس ؓ ]
2 لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ : ”الْاَلْبَابِ“ یہ ”لُبٌّ“ کی جمع ہے، جس کا معنی خالص عقل ہے، اس لیے ترجمہ ”عقلوں والوں“ کیا ہے۔ یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انھیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرماں روا کی پہچان ہوجاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیت نمبر : 190 تا 200۔
اس میں پچیس : مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں کئی مقامات پر گزر کئی مقامات پر گزر چکا ہے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کا اختتام ان آیات میں نظر و استدلال کے حکم کے ساتھ کیا، کیونکہ یہ پیدا نہیں ہو سکتے مگر اسی کی جانب سے جو حی وقیوم ہے قدرت والا ہے، پاک ہے، سلامت ومحفوط ہے، (ہر عیب اور کمزوری سے) اور کل جہاں سے بےنیاز اور غنی ہے، تاکہ انکا ایمان یقین کے ساتھ مستند ہوجائے نہ کہ فقط تقلید (پر اس کا انحصار ہو)
(آیت) ” لایت لاولی الالباب “۔ یعنی ان کے لئے نشانیاں ہیں جو اپنی عقلوں کو دلائل میں غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے طبرانی اور مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش یہودیوں کے پاس آئے اور کہا موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس کون سی نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا ان کی لاٹھی تھی اور ان کا سفید ہاتھ تھا اندھے اور برص والی بیماری والوں کو اچھا کردیتے تھے مردوں کو زندہ کردیتے تھے پھر یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا فرمائی تو یہ آیت ” ان فی خلق السموت والارض واختلاف الیل والنھار لایت لاولی الالباب “ نازل ہوئی یعنی پس چاہیے کہ وہ اس میں غور فکر کریں۔
(2) بخاری ومسلم و…
Read the full tafseer →[اِنَّ : یقینا ] [فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ] [وَاخْتِلَافِ الَّــیْلِ وَالنَّہَارِ : اور دن اور رات کے مختلف ہونے (یعنی آنے جانے) میں ] [لَاٰیٰتٍ : بیشک کچھ نشانیاں ہیں ] [لّاُولِی الْاَلْبَابِ : عقل والوں کے لیے ]
ج ن ب
جَنَبَ (ن) جَنْـبًا : پہلو پر مارنا ‘ کسی سے کسی چیز کو ہٹانا ‘ دُور کرنا۔
اُجْنُبْ (فعل امر) : تو دور کر ۔ { وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ ۔ } (ابراھیم) ” تو دور کر دے مجھے اور میرے بیٹوں کو کہ ہم پرستش کریں بتوں کی۔ “
جَنِبَ (س) جَنَابَۃً : ناپاک ہونا۔ (اس حالت میں انسان دوسروں سے اور عبادات سے دور رہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
عقلمندوں کی صفات اور ان کی دعائیں
ان آیات میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں کو اور زمین کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے کا جو نظام رکھا ہے جس کے مطابق رات اور دن آگے پیچھے آتے رہتے ہیں اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ یعنی یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ان کا پیدا فرمانے والا قادر مطلق ہے، خالق ہے، حکیم ہے، یہ نشانیاں ایسی ہیں کہ عقل والے ان کو دیکھتے ہیں اور ان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب یہ جو کچھ آپ نے پیدا فرمایا ہے بےکار، عبث اور لایعنی نہیں ہے۔ ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تو ہمیں عذاب دوزخ سے بچا دینا۔ درمیان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
دلائل الوہیت ووحدانیت و کمال قدرت و حکمت وبیان حال دانشمنداں ودعا ہائے گوناگوں ایشاں۔
قال تعالیٰ ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔۔ تفلحون۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یعنی وللہ ملک السماوات۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔ میں اللہ کی بادشاہت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا اب ان آیات میں اللہ کی الوہیت اور اس کی واحدانیت اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور اہل عقل اور اہل دانش کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے مخلوقات کو دیکھ کر خالق کا پتہ چلالیا اور مصنوعات کو دیکھ کر صانع کو پہچان لیا اور دن رات اپنے پروردگار کے ذکر اور فکر میں سرشار ہیں اور اسی کی تسبیح اور دعا اور استغفار میں مشغول ہیں قرآن…
Read the full tafseer →289 یہ بھی دعوی توحید پر عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی پیدائش میں اور دن رات کی آمد و رفت میں عقل و فہم رکھنے والوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لیے اللہ کی توحید، اس کی کمال صنعت و حکمت کے واضح دلائل موجود ہیں۔ اگر نظام فلکی کو دیکھا جائے تو اس میں سورج اور چاند، لا تعداد ستارے، آسمانوں اور سیاروں کی حرکات اور گردش فلک، آسمان کے آثار و نتائج، زمین کی شکل و صورت، اس پر اگنے والی کھیتیاں، باغات، پھل پھول اور زمین کے پیٹ کے خزانے، موسموں کی تبدیلی، دن رات کا اختلاف۔ دن رات کی کمی بیشی، غرضیکہ یہ امور اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ان سب کا پیدا کرنے والا اور اس پورے نظام کا نظم و نسق قائم رکھنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
سورة کی ابتداء اور انتہا : آج کے درس سے سورة آل عمران کا آخری رکوع شروع ہورہا ہے۔ سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید بیان فرمایا تھا۔ الم۔ اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ اور قائم ہے اب سورة کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور حاکمیت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ وللہ ملک السموات والارض۔ تمام سلطنت اللہ ہی کی ہے۔ واللہ علی کل شیء قدیر۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ قادر مطلق اور معبود برحق وہی ہے۔ اب آمدہ آیات میں دعوی ملکیت ، قدرت تامہ اور توحید…
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ 190 ۚۙ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
ترکیب : فی خلق السموت الخ خبر ان لاٰیت اس کا اسم الذین الخ صفت یا بیان ہے اولی الالباب کا۔ قیاما اور قعودا حال ہیں فاعل یذکرون سے اور علی جنوبہم بھی محذوف ہے متعلق ہو کر حال ہے۔ اے کائنین علی جنوبہم۔ ویتفکرون معطوف ہے یذکرون پر۔ باطلا اسم فاعل بمعنی مصدر کا لعاقبۃ یہ مفعول لہ یا حال ہے ہذا کا مشار الیہ خلق ہے۔ تدخل النار شرط فقد اخزیتہ جواب مجموعہ خبر من ینادی صفت ہے مناد کی ‘ من ذکر اوانثٰی بدل ہے منکم سے بعضکم من بعض مستانف ہے یا حال ثواباً تمیز یا حال۔
تفسیر : اور جانب وجودی کو ان آیات میں اپنے صفات جلیلہ اور پرہیزگاروں کے رویہ عبادت و ذکر و دعاء سے ثابت فرمایا جاتا ہے کہ پرہیزگار خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّـیْلِ وَالنَّھَار ِلَاٰیٰتٍ لِّاُوْلِی الْاَلْـبَابِ ۔ ج لا الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰماً وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَـکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَـکَ فَـقِـنَـا عَذَابَ النَّارِ ۔ رَبَّنَـآ اِنَّـکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخَزَیْتَـہٗ ط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۔
(بےشک آسمان اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے بندے ہر حال میں اس کے شکر گزار ‘ اس کی عبادت میں محو اور اس کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے ہیں، یہی دانشمندی ہے۔
اللہ تعالیٰ خالق کل اور حاکم مطلق ہے۔ اگر وہ چاہتا تو صرف حکم دیتا کہ میری ذات اور بات مانو لیکن اس نے اپنی ذات کو حاکم کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ خالق ومالک اور رحمن و رحیم کے طور پر تسلیم کرنے کی دعوت دی ہے اس لیے وہ انسان کو اس کی تخلیق، اپنی قدرتوں اور کائنات کی بناوٹ اور سجاوٹ پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ عقل و فکر اور دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اس پر ایمان لایا جائے۔ ایسا ایمان ہی آدمی کی فکر میں تبدیلی اور اس کے کردار میں نکھار پیدا کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →دلائلِ عقلیہ سے قدرت و عظمت باری کا اثبات :
190: اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ۔ (بیشک آسمان و زمین کی پیدائش اور دن رات کے آنے جانے میں البتہ نشانیاں ہیں) کیونکہ خالق کی ہستی میں کمال علمی، ہمہ گیر قدرت اور ارادہ و حکمت کے ثبوت کی کھلی دلیلیں موجود ہیں۔ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (ان لوگوں کیلئے جن کو دانش و فہم حاصل ہے) اور انکی عقل خواہشات سے اس طرح خالی ہو جس طرح مغز چھلکے سے۔ پس اس کی رائے یہ ہے کہ جواہر میں پیدا شدہ عرض جواہر کے حدوث کی علامت ہے۔ کیونکہ کوئی جوہر عرض حادث سے جدا نہیں ہوسکتا اور جو کسی حال میں…
Read the full tafseer →(تفسیر) 190۔:
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں ایک دن آپ ﷺ کے ہاں سویا ، دیکھا کہ آپ ﷺ اٹھے اور مسواک کیا پھر وضو کیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت)” ان فی خلق السموت والارض “ آخر سورة تک ، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں اس طور پر کہ اس میں قیام ، رکوع ، سجود کو خوب طویل کیا پھر آپ ﷺ نے نماز ختم کی پھر سو گئے ، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی ، اس طرح آپ ﷺ نے تین مرتبہ کیا اور چھے رکعات پڑھی اور ہر دفعہ مسواک کیا پھر وضوء کیا ، پھر یہ آیات تلاوت فرمائی پھر تین وتر پڑھے پھر مؤذن آیا آپ ﷺ نماز کے لیے نکلے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے اے اللہ تعالیٰ میری آنکھوں کو نور بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
(190 ۔ 194) ۔ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے شان نزول اس آیت کی دہی بیان کی ہے جو اِنَّ فیِْ خلق السموا ات (2۔ 164) کے تحت میں اس سے پہلے سورة بقر میں بیان ہوچکی۔ لیکن حافظ ابن کثیر نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور سورة بقرہ بھی بلا خلاف مدنی ہے۔ اور قریش کا یہ سوال کہ صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے مکہ میں تھا۔ پھر یہ شان نزول کیونکر صحیح ہوسکتی ہے 1۔ جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری 2 میں دیا ہے کہ قریش کا وہ سوال اگرچہ مکہ میں تھا مگر اس زمانہ میں نہیں تھا۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں مقیم تھے بلکہ یہ سوال ہجرت کے بعد اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
آیت 190-194
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ان فی خلق السموت ولارض واختلاف الیل والنھار لایت لا ولی الالبات) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد : (لایت) کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کردیتی ہیں جو الہ صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–200
اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
404 اللہ تعالیٰ کی بےمثال بادشاہی اور اس کے کمال قدرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین [ کی اس پوری کائنات ] کی۔ اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ سو بادشاہوں کے بادشاہ اور اس شہنشاہ حقیقی کی بادشاہی بےمثال اور اس کی قدرت لامحدود ہے۔ پس نہ کوئی کہیں چھپ کر اس کی پکڑ سے بچ سکتا ہے اور نہ کوئی کہیں بھاگ کر اس کی گرفت سے نکل سکتا ہے۔ کیونکہ نہ کوئی اس کی بادشاہی سے نکل کر کہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی قدرت لامحدود سے باہر ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات میں اس کے سوا کسی اور کا کوئی عمل دخل نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
آیات الٰہی میں غور و فکر
تشریح : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جب قریش نے رسول اللہ ﷺ سے معجزہ دکھانے کی خواہش کی اور کہا کہ آپ ﷺ اللہ سے دعا کریں کہ کوہ صفا سونے کا ہوجائے۔ اگر ایسا ہوجائے تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ ﷺ نے دعا کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر ابن کثیر)
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک، کائنات اور اس کی تمام چیزوں کے ذریعے یہ بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور وہی تمام کائنات کو چلانے والا ہے۔ اولی الالباب (عقل والے) اور ” عقل کو کام میں لانے والے۔ “ یہ الفاظ قرآن میں بیشمار دفعہ آئے ہیں تاکہ انسان کائنات کی پیدائش میں اور اس کے انتظام پر غور و فکر کرے اور اپنے لیے نئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
آیات 190- 200
اسرارو معارف
ان فی خلق السموت والارض……………انک لا تخلف المیعاد۔
عقل سلیم کے لئے تو موجودات عالم ہی میں عظمت باری کے دلائل موجود ہیں اور پھر آپ ﷺ جیسا سراپا رحمت نبی بھی مبعوث ہو جس کی ہر ادا عقل انسانی کو عاجز کئے دیتی ہے تو انکار صرف وہی کرسکتے ہیں جو شعور انسانی سے بیگانہ ہوں اور استعداد فطرت کو ضائع کرچکے ہیں۔ ہاں ! اگر عقل باقی ہو تو ارض وسماء کی تخلیق اور شب وروز کے آنے جانے میں معرفت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے۔
یہاں اولوالالباب ارشاد ہوا ہے ” لب “ کسی بھی شے کے مغزیا جو ہر کو کہا جاتا ہے جیسے عقل ظاہر تو ہر حیوان میں موجود ہے۔ دن اور رات کی تمیز رکھتے ہیں۔ غذا حاصل کرنے اور…
Read the full tafseer →ف 4 حضرت ابن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ یہود کے سکھائے پڑھائے آنحضرت ﷺ سے موقع بہ موقع یہ مطالبہ کرتے رہئے کہ جب حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے ید بیضا اور احیا موتی جیسے معجزاے تھے تو آپ ﷺ بھی کم از کم کو صفا کو سونا تو بنادیں۔ ایسے مطالبوں کے جو اب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ایمان لانے کے لیے ایسی باتوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ سمجھدار لوگوں کے لیے کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدر کی لاکھوں نشانیاں مو جود ہیں ( درمنشور) مگر حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کو شان نزول قرار دینا مشکل ہے کیونکہ یہ آیات مدنی ہیں اور صفا کو سونا بنانے کا مطا لبہ مکہ میں کیا گیا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
(3:189) ملک۔ اسم ومصدر۔ اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
لغات القرآن آیت نمبر 190 تا 195
قیام (کھڑے ہوئے) کفر (اتاردے، دور کردے) قعود (بیٹھے ہوئے) مع الابرار (نیک لوگوں کے ساتھ) جنوب ( پہلوؤں (جنب کی جمع) لاتخزتا (ہمیں رسوا نہ کر) یتفکرون (وہ غوروفکر کرتے ہیں ) استجاب (قبول کیا) ماخلقت (تو نے پیدا نہیں کیا) لا اضیع (میں ضائع نہ کروں گا) ھٰذا باطل (اس کو بےفائدہ) عامل (کام کرنے والا) سبحٰنک (آپ کی ذات پاک ہے) اوذوا (ستائے گئے) اخزیت (تونے رسوا کردیا ) حسن التواب (بہترین ثواب) منادی (آواز دینے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 190 تا 195
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کائنات کی پیدائش میں غور فکر کرنے اور کھڑے ، بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے اللہ کا ذکر کرنے والے اہل…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قریش نے یہود کے پاس جاکر پوچھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس کیا لائے تھے۔ کہا :” عصا اور ید بیضا “۔ پھر انصار کے پاس جاکر پوچھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کیا کرتے تھے۔ کہا کہ اندھوں کو بینا کرنا اور مردوں کو جلانا، روگیوں کو چنگا کرنا، بیماروں کو ٹھیک کرنا۔ یہ سن کر قریش آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ تم خدا سے دعا کرو کہ کوہ صفا ہمارے لئے سونا کردے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ان نشانیوں میں غور کرو۔ نبی سے معجزہ مانگنا کیا ضروری ہے جو بات وہ کہتا ہے یعنی توحید اس کی نشانیاں سارے عالم میں نمودار ہیں۔
مسئلہ : علماء پر واجب ہے کہ اپنے علم سے فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
(ف 1) یعنی جس طرح نظام کواکب میں ہر آن تبدیلی ہوتی رہتی ہے ، اور وقت وزمانہ صبح ومسا کے تغیرات سے محفوظ نہیں اسی طرح کفر و ایمان میں باہمی آویزش سے اور ضرور ہے کہ کفر کی تاریکی کے بعد ایمان کی روشنی کا زمانہ آئے اور پھر جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے ، اسی طرح حق و باطل میں بین اور واضح امتیاز ہے اور جس طرح رات کے بعد سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے ‘ اس طرح مایوسیوں کے بعد امیدوں کا افتاب طلوع ہوتا ہے اور جس طرح یہ درست ہے کہ تاریکیاں اجالے سے بدل جاتی ہیں ‘ اسی طرح موت کے اندھیرے حیات ما بعد کی صورت اختیار کریں گے اور جس طرح یہ حقیقت ہے کہ آفتاب صبح کے طلوع ہونے کے بعد آسمان پر کوئی ستارہ نہیں…
Read the full tafseer →ف 4 یقیناً آسمانوں کے اور زمین کے بنانے میں اور رات اور دن کے آگے پیچھے یکے بعد دیگر آنے جانے میں اہل عقل و خرد اور صحیح عقل رکھنے والوں کے لئے توحید کے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں۔ (تیسیر)
اوپر کی آیت میں وللہ ملک السمٰوٰت والارض ایک دعویٰ تھا اس آیت میں اس کی دلیل ہے۔ ہم پارہ سیقول کے چوتھے رکوع میں عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شکوک و شبہات کرنے والے دو قسم کے ہیں ایک تو وہ جو خدا کے وجود ہی کے منکر ہیں اور دوسرے وہ جو اس کے وجودکو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کسی نہ کسی کو شریک کردیتے ہیں پہلی قسم کے آدمی کو ملحد یا دہریہ کہتے ہیں۔ اور دوسری قسم کے آدمی کو مشرک کہتے ہیں۔ آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–191
ف 3۔ بلکہ اس میں حکمتیں رکھی ہیں جن میں ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اس مخلوق سے خالق تعالیٰ کے وجود پر توحید پر استدلال کیا جائے۔
Read the full tafseer →کائنات کے ذرہ ذرہ میں توحید الٰہی کے نشانات موجود ہیں :
ذوق نے کیا ہی عجیب کہا کہ :
گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوق اس جہاں میں ہے زیب اختلاف سے
چنانچہ اسی زیر نظر آیت میں قرآن کریم رات اور دن کے اختلاف کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر غور کرو تو اس اختلاف میں حکمت الٰہی کی کتنی ہی نشانیاں پوشیدہ ہیں۔ یہ بات کہ شب و روز کی آمدورفت کی دومختلف حالتیں ٹھہرا دی گئی ہیں اور وقت کی نوعیت ہر معین مقدار کے بعد بدلتی رہتی ہے زندگی کے زندگی کے لئے بڑی ہی تسکین و دل بستگی کا ذریعہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور قوت ہمیشہ ایک ہی حلت پر برقرار رہتا تو دنیا میں زندہ رہنادشوار ہوجاتا۔ اگر قطبین کے اطراف…
Read the full tafseer →Verse 189 appearing immediately earlier particularly and strongly stressed upon Tauhid, the Oneness of Allah. So, the verse (190) which follows here, presents the proof of Tauhid and, along with it, mentions the merit of those who act strictly in accordance with the dictates of Tauhid and, by implication, it also motivates others to do the same.
In addition, the earlier mention of pain caused by the disbelievers bears congruity to the verses appearing presently. This can be under-stood in the background in which the disbelievers, out of hostility, requested the Holy Prophet ﷺ that he should…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
134. This section constitutes the conclusion of the present surah. It is related not so much to the verses which immediately precede it as to the entire surah. In order to grasp its significance one should particularly bear in mind our introductory remarks to this surah. (See pp. 229 ff. above.)
Read the full tafseer →