Explained with ayahs 187–189
بدترین خریدوفروخت !
اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آجائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہوجائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپالیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خریدو فروخت بد سے بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
سورة اٰلِ عِمْرٰن 134
یہ خاتمہ کلام ہے۔ اس کا ربط اوپر کی قریبی آیات میں نہیں بلکہ پوری سورة میں تلاش کرنا چاہیے۔ اس کو سمجھنے کے لیے خصوصیت کے ساتھ سورة کی تمہید کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
ربط آیات
جیسا کہ پچھلی ایٓات میں یہودیوں کے افعال بد اور بری خصلتوں کا بیان تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان کے ایک ایسے ہی برے عمل کا ذکر ہے اور وہ ہے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کیونکہ اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام جو تورات میں آئے ہیں وہ ان کی اشاعت عام کریں گے اور کسی حکم کو اپنی نفسانی غرض سے چھپائیں گے نہیں اہل کتاب نے یہ عہد توڑ دیا، احکام کو چھپایا اور پھر دلیری یہ کی کہ اس پر خوشی کا اظہار کیا اور اپنے اس فعل کو قابل تعریف قرار دیا۔
خلاصہ تفسیر
(یہ حالت بھی قابل ذکر ہے) جبکہ اللہ تعالیٰ نے (کتب سابقہ میں) اہل کتاب سے یہ عہد لیا (یعنی ان کو حکم فرمایا اور…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ الایہ، یہ اوپر والی دھمکی کی تصدیق و توثیق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی بادشاہی خدا ہی کے اختیار میں ہے، اس میں کسی اور کے زور و اثر کا کوئی دخل نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی سرکشی کر رہے ہیں وہ ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
۔۔۔۔۔
فصل 39: اگلی آیات 190 تا 200 کا مضمون :
خاتمہ سورة : اس مجموعہ آیات کی حیثیت خاتمہ سورة کی ہے اور یہ خاتمہ موازنہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ بہت کچھ ملتا جلتا ہوا ہے سورة بقرہ کے خاتمہ سے۔ خاص طور پر اس میں جو دعا ہے تو بالکل عکس ہے اس دعا کا جس پر سورة بقرہ ختم ہوئی ہے۔
اس خاتمہ میں پہلے تو اس عالم گیر حقیقت کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
190۔ 1 یعنی جو لوگ زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں، انہیں کائنات کے خالق اور اس کے اصل فرمانروا کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اتنی طویل و عریض کائنات کا یہ لگا بندھا نظام، جس میں ذرہ برابر خلل واقع نہیں ہوتا، یقینا اس کے پیچھے ایک ذات ہے جو اسے چلا رہی ہے اور اس کی تدبیر کر رہی ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔ آگے انہی اہل دانش کی صفات کا تذکرہ ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور کروٹوں پر لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ اِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّماوَاتِ سے لے کر آخر سورت تک آیات نبی کریم ﷺ رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتے تو پڑھتے اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے یہودیوں سے کوئی بات پوچھی ۔ انہوں نے اسے چھپادیا اور انہوں نے غلط جواب دیا ۔ وہ چلے گئے ۔ وہ یہ تاثر دیتے ہوئے گئے کہ انہوں نے رسول ﷺ کو وہ بات بتادی جو انہوں نے پوچھی تھی اور اس پر وہ اپنی جگہ خوش تھے کہ ان کو رسول ﷺ کے ہاں تعریف کا مستحق قراردیا گیا لیکن خوش اس لئے بھی تھے کہ انہوں نے اصل بات چھپادی تھی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :
لا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
” تم ان لوگوں کو عذاب…
Read the full tafseer →4 جب آسمان و زمین میں اسی کی سلطنت ہے تو مجرم بھاگ کر پناہ کہاں لے سکتا ہے اور جو ہر چیز پر قادر ہے اس کے نفوذ و اختیار سے کون باہر ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
آیت 188 لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا
اگر کچھ نیکی کرلیتے ہیں ‘ کسی کو کچھ دے دیتے ہیں تو اس پر بہت اتراتے ہیں ‘ اکڑتے ہیں کہ ہم نے یہ کچھ کرلیا ہے۔
وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْاص
آج کل اس کی سب سے بڑی مثال سپاس نامے ہیں ‘ جو تقریبات میں مدعو شخصیات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ ان سپاس ناموں میں ان حضرات کے ایسے ایسے کارہائے نمایاں بیان کیے جاتے ہیں جو ان کی پشتوں میں سے بھی کسی نے نہ کیے ہوں۔ اس طرح ان کی خوشامد اور چاپلوسی کی جاتی ہے اور وہ اسے پسند کرتے ہیں۔
فَلاَ تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ج تو ان کے بارے میں یہ خیال نہ کریں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
188 اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تین احادیث ملاحظہ فرمائیے یہ تینوں حدیثیں بخاری شریف میں مذکور ہیں۔
1۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپنے یہود کو بلا بھیجا اور ان سے دین کی کوئی بات پوچھی۔ انہوں نے حق چھپایا اور غلط بات بتلادی۔ پھر سمجھے کہ ہم (نے کمال کیا) آپ کے نزدیک قابل تعریف ٹھہرے یعنی آپ کو بتلایا بھی اور حق بات چھپا بھی لی۔ پھر یہی آیت پڑھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
2۔ مروان نے اپنے دربان رافع کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس بھیجا کہ اس آیت کا مطلب پوچھ کے آؤ، کیونکہ اس آیت کی رو سے ہر شخص عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص کو جو نعمت ملی، یا وہ جو کرتا ہے۔ اس پر خوش ہوتا…
Read the full tafseer →396 ۔ (چنانچہ مجرموں کی دنیوی واخروی سزاؤں پر بھی) اللہ کی ملکیت تامہ اور قدرت کاملہ کا استحضار رہے تو شاید ایک بھی معصیت نہ سرزد ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–190
آیت نمبر 190 تا 200
ترجمہ : آسمانوں اور زمین اور ان میں جو عجائبات ہیں ان کی تخلیق میں اور آمدورفت اور زیادتی و کمی شب و روز کے بدلنے میں یقیناً عقل مندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جو لوگ (الذین) اپنے ما قبل کی صفت یا بدل ہے اللہ تعالیٰ کو کھڑے کھڑے بیٹھے بیٹھے لیٹے لیٹے یعنی ہرحال میں یاد کرتے ہیں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حسب طاقت مذکورہ ہئیتوں میں نماز پڑھتے ہیں۔ اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ زمین اور آسمان کے بنانے والے کی قدرت پر استدلال کریں۔ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! یہ مخلوق جس کو ہم دیکھ رہے ہیں تو نے بےفائدہ پیدا نہیں کی بلکہ…
Read the full tafseer →واللہ ملک السموات والارض اور اللہ ہی کی ہے حکومت آسمانوں کی اور زمین کی یعنی بارش، رزق اور زمین کی روئیدگی کے خزانے اللہ ہی کے اختیار میں ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔
وا اللہ علی کل شی قدیر اور اللہ ہر چیز پر قابو رکھتا ہے پس ان کو سزا دینے کی بھی اس کو قدرت ہے۔ اس آیت میں یہودیوں کے قول ان اللہ فقیر کی تردید ہے۔
طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا موسیٰ کیا معجزات لے کر آئے تھے ؟ یہودیوں نے جواب دیا۔ عصاء اور ید بیضاء پھر عیسائیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا عیسیٰ کی کیا کیفیت تھی ؟…
Read the full tafseer →(189) آسمان و زمین کے تمام خزانے اس کی ملکیت میں داخل ہیں اور تمام آسمان و زمین والے اس کے مملوک ہیں۔
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ۔۔ : جب حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے تو یہ حقیقت اگر تم ہر وقت اپنے سامنے رکھو تو شاید ایک نافرمانی کی جرأت بھی نہ کرسکو۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 189۔
یہ ان کے خلاف استدلال اور حجت ہے جنہوں نے یہ کہا ہے : (آیت) ” ان اللہ فقیرونحن اغنیآء “ اور ان کی تکذیب ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے آپ خوش ہونے والوں کے بارے یہ گمان نہ کریں کہ وہ عذاب سے نجات پا جائیں گے، کیونکہ ہر شے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اور وہ قدرت رکھنے والے رب کے قبضہ میں ہیں، پس یہ پہلے کلام پر معطوف ہے، یعنی بلاشبہ وہ اس کے عذاب سے نجات نہیں پاسکتے، وہ انہیں پا سکتے، وہ انہیں پکڑ لے گا جب چاہے گا۔ (آیت) ” واللہ علی کل شیء قدیر “۔ اور اللہ تعالیٰ ہر ممکن پر قادر ہے، اس پر بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
(1) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے طبرانی اور مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش یہودیوں کے پاس آئے اور کہا موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس کون سی نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا ان کی لاٹھی تھی اور ان کا سفید ہاتھ تھا اندھے اور برص والی بیماری والوں کو اچھا کردیتے تھے مردوں کو زندہ کردیتے تھے پھر یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے آپ نے دعا فرمائی تو یہ آیت ” ان فی خلق السموت والارض واختلاف الیل والنھار لایت لاولی الالباب “ نازل ہوئی یعنی پس چاہیے کہ وہ اس میں غور فکر کریں۔
(2) بخاری ومسلم و…
Read the full tafseer →[وَلِلّٰہِ : اور اللہ کے لیے ہی ہے ] [مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کی حکومت ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ
عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ] [قَدِیْــرٌ: ہمیشہ سے قدرت رکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) اس میں بہت سی باتیں آگئیں جو لوگ حقیر دنیا کے لیے حق چھپاتے تھے ان کو بھی بتادیا کہ جو کچھ لینا ہے اللہ سے لو اس کی رضا کے کام کرکے لو۔ ہر چیز کا وہی مالک ہے اور مسلمانوں کو بھی توجہ دلا دی کہ اگر دنیا میں کسی فاسق فاجر کے پاس مال زیادہ ہے تو اس کی طرف نظریں نہ اٹھائیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ جب چاہے گا تم کو بھی عطا فرما دے گا۔ اور اس کی مشیت ہوگی تو تمہیں دشمنوں سے زیادہ عطا فرما دے گا، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
مذمت خود پسندی ومدح خواہی۔
قال تعالیٰ لاتحسبن الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ قدیر۔ آیت۔
نبی ﷺ جب علماء یہود سے کوئی بات دریافت کرتے تو وہ اصل بات کو تو چھپالیتے اور خلاف بات واقع بیان کرکے چلے جاتے پھر اپنے اس چھپانے پر دل میں خوش ہوتے کہ ہماری چالاکیوں کو کوئی پکڑا نہیں سکتا اور امید رکھتے کہ لوگ ہماری تعریف کریں گے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اے نبی آپان لوگوں کو جو اپنی اس چالاکی پر خوش ہوتے ہیں جو انہوں نے کی ہے اور چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے اس کام پر جو انہوں نے کیا یعنی جو بھلائی نہیں کی اس پر آفرین چاہتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ دیکھو کس طرح حیلہ اور بہانہ سے اپنی جان بچائی پس آپ ان کی…
Read the full tafseer →288 یعنی سب کچھ اللہ کا ہے نہ کہ حضرت عیسی، حضرت مریم اور آل عمران کے کسی بزرگ کا۔ اور ہر چیز کا خالق اور ہر چیز پر قادر بھی صرف اللہ ہی ہے نہ کہ یہ حضرات جب زمین و آسمان کا مالک اور ساری کائنات میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی قدرت اس قدر کامل اور حاوی ہے کہ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں تو پھر عبادت اور پکار کے لائق بھی صرف وہی ہے اور وہی سب کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے اور اس کے سامنے نہ کوئی شفیع غالب ہے اور نہ کوئی صفاتِ کارسازی میں اس کا شریک و نائب ہے۔ ای السلطان القاھر فیھما بحیث یتصرف فیھما و فیما فیھما کیف ما یشاء ویرید ایجادا و اعداما احیاء و اماتۃ تعذیبا واثابۃ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ کئی دروس سے سے اہل کتاب اور منافقین کی قباحتوں کا ذکر ہو رہا ہے اہل کتاب کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گستاخی کرنا ، ارتکاز دولت کرنا اور بخل سے کام لینا ، اسلام قبول کرنے میں مختلف حیلے بہانے کرنا اور بےہودہ مطالبات کرنے کے متعلق تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دی اور فرمایا کہ تمہاری آزمائش بھی ضرور ہوگی ، اس کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔ اور جان و مال کی قربانی سے درغ نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اے اہل ایمان ! تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی جانب سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سننا پڑیں گی ، جن کی وجہ سے تمہیں کوفت ہوگی اور فرمایا کہ…
Read the full tafseer →وَلِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 189 ۧ
ملك ( مالک)
فالمُلْك ضبط الشیء المتصرّف فيه بالحکم، والمِلْكُ کالجنس للمُلْكِ ، فكلّ مُلْك مِلْك، ولیس کلّ مِلْك مُلْكا . قال : قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وقال :
أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا[ الأعراف/ 188] وفي غيرها من الآیات
ملک کے معنی زیر تصرف چیز پر بذیعہ حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
ترکیب : لتبیننہ کا مرجع عند البعض کتاب ہے۔ بعض کے نزدیک نبی (علیہ السلام) ہیں۔ وراء ظرف ہے نبذوا کا لاتحسبن بالتاء خطاب للنبی اولکل من یصلح للخطاب ‘ انت ضمیر اس کی فاعل اور الذین صلہ و موصول مع معطوف مفعول اول خیرًا مفعول ثانی محذوف یا لاتحسبن ثانی اسی کا اعادہ ہے۔ ھم مفعول اول بمفازۃ مفعول ثانی مفازۃ مفعلۃ ہے یعنی ظرف مکان من العذاب متعلق کے ہو کر مفازۃ کی صفت اور اگر مفازۃ کو مصدر میمی مانا جاوے تب اسی کے ساتھ متعلق ہے۔
تفسیر : صبر اور پرہیزگاری جس کا حکم دیا تھا اور اس کو ہمت کے کاموں میں سے بتایا تھا ‘ یہود میں سے جاتی رہی تھی۔ جس کا ذکر آیات میں کیا جاتا ہے۔ واذ اخذ اللّٰہ کہ خدا نے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
وَاِذْاَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ لِتُـبَـیِّـنُـنَّـہٗ لِلنَّاسِ وَلاَ تَـکْتُمُوْنَـہٗ ز فَـنَـبَذُوْہُ وَرَآئَ ظُھُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ط فَبِئْسَ مَایَشْتَرُوْنَ ۔ لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَـآ اَتَوْا وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلاَ تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ وَلِلّٰہِ مُلْـکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ع
(اور یاد کرو جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیاجنھیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے پھیلائو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ریاکاروں، کنجوسوں، خوشامدیوں اور اللہ کے منکروں کو سوچنا چاہیے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اور ملکیت کس کے پاس ہے ؟ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تعریف تو اس کی ہونا چاہیے۔ اگر سمجھنا چاہو تو اس نے زمین و آسمان کے درمیان اور لیل ونہار کے آنے جانے میں بہت سی نشانیاں رکھ دی ہیں دوسری طرف مسلمانوں کو سمجھایا کہ جس طرح رات اور دن کا آنا جانا ہے اسی طرح زندگی میں دکھ، سُکھ، خوشی، غم، کامیابی اور ناکامی ایک دوسرے کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ اس میں مومن کے لیے خوش خبری اور اطمینان کا سبق ہے۔
” لُبْ “ کا معنی ہے عقل اور الباب اس کی جمع ہے۔ زمین و آسمان کی ملکیت تو ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے۔…
Read the full tafseer →ملکیت عامہ سے یہود کی مذمت :
189: وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (آسمان و زمین اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں) وہ ان کے معاملات کا اختیار رکھتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی۔ جو اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ (آل عمران : 8) کا نعرہ مارنے والے تھے۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں) وہ ان کو عذاب دینے کی بھی قدرت رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
188۔ (آیت)” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “۔ حمزہ (رح) ، عاصم (رح) ، کسائی (رح) ، نے ان کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے ، مطلب یہ ہوگا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 9 ان کی خوشی آپ گمان نہ کریں ، دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے (آیت)” لایحسبن الذین “۔ وہ آپ کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں کہ ہمیں بھی نجات ملے گی ،۔
ابن کثیر (رح) اور ابو عمرو نے (آیت)” فلا یحسبنھم “ یاء کے ساتھ اور اس پر ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، فارحین کی خبر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ گمان نہ کریں اپنے نفسوں پر ، بعض قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باء کے فتحہ سے اس صورت میں خطاب آپ ﷺ کو ہوگا ، پھر آگے (آیت)” فلا تحسبنھم تاکیدا لائے عبداللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
(188 ۔ 189) ۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کسی لڑائی پر جاتے تو منافق لوگ جھوٹے عذر پیش کر کے مدینہ میں رہ جاتے اور اپنے اس حیلہ سازی پر بہت خوش ہوتے تھے۔ اور جب آنحضرت ﷺ اور صحابہ لڑائی پر سے واپس آتے تو اپنے ان عذروں کے سچے ہونے اور لڑائی سے رہ جانے کے افسوس پر قسمیں کھاتے تھے 4 غرض ان کی اس قسما قسمی سے یہ ہوتی تھی کہ باوجود لڑائی میں شریک نہ ہونے کے لوگ ان کی تعریف کریں اور کہیں کہ مجبوری سے وہ لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ ورنہ وہ شریک ہونے پر پورے آمادہ تھے اب حکم اس آیت کا عام ہے جو کوئی بغیر کسی نیک کام کرنے کے اس کام پر اپنی جھوٹی تعریف چاہے گا وہ اس حکم میں…
Read the full tafseer →آیت 189
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوق کا مالک ہے اور وہی اپنی قدرت کاملہ اور انوکھی ربوبیت کے ذریعے سے ان پر تصرف کرتا ہے کوئی اس کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں اور کوئی اسے عاجز ولا چار نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–200
اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
404 اللہ تعالیٰ کی بےمثال بادشاہی اور اس کے کمال قدرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین [ کی اس پوری کائنات ] کی۔ اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ سو بادشاہوں کے بادشاہ اور اس شہنشاہ حقیقی کی بادشاہی بےمثال اور اس کی قدرت لامحدود ہے۔ پس نہ کوئی کہیں چھپ کر اس کی پکڑ سے بچ سکتا ہے اور نہ کوئی کہیں بھاگ کر اس کی گرفت سے نکل سکتا ہے۔ کیونکہ نہ کوئی اس کی بادشاہی سے نکل کر کہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی قدرت لامحدود سے باہر ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات میں اس کے سوا کسی اور کا کوئی عمل دخل نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ یہودی علماء اپنی مرضی اور دنیاوی فائدوں یا مصلحتوں کی وجہ سے تورات کے اصل مسائل لوگوں کو نہ بتاتے، بلکہ ان کو تبدیل کرکے بتایا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ دیکھو لوگوں کو کیسا بیوقوف بنا رہے ہیں اور پھر بھی لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ان کو علم و فضل والے نیک بندے سمجھ کر ان کی عزت کرتے ہیں وہ اپنی اس حرکت پر خوش بھی تھے اور مطمئن بھی۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ منافق اور مفاد پرست لوگ اپنے انجام سے نہ صرف بیخبر ہیں، بلکہ دھوکہ بھی کھائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اپنے برے اعمال سے یہ خود کو اور لوگوں کو تو دھوکہ دے سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–189
آیات 181- 189
اسرارو معارف
لقد سمع اللہ……………وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
اللہ ان کی بات بھی سن رہے ہیں جو صدقات وزکوٰۃ کے احکام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مالدار ہیں اور اللہ فقیر اور مفلس ہے کہ اپنے لئے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خرچ کرنا بھی مخلوق ہی کو فائدہ پہنچانا ہے اور خود یہود کا بھی ممکن ہے ایسا عقیدہ تو نہ ہو صرف آپ ﷺ کی مخالفت میں ایسی لغوبات کہہ دی جو بداہتہً باطل ہے اور کسی طرح قابل جواب بھی نہیں۔
ارشاد ہوا کہ یہ جملہ کلمات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض بات نہیں جو کہہ دی اور ختم ہوگئی۔ بلکہ نامہ اعمال کا حصہ ہے جو بالآخر سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ ان کی خرافات کی پرواہ…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی جب حقیقت یہ ہے اور تم بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے انتقام سے ڈر تے ہوئے اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
(3:189) ملک۔ اسم ومصدر۔ اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–189
لغات القرآن آیت نمبر 186 تا 189
لتبلون (البتہ ضرور تم آزمائے جاؤگے) لتسمعن (البتہ تم ضرور سنو گے) عزم الامور (البتہ تم اس کو ظاہر کرو گے) لا تکتمونه (تم اس کو نہ چھپاؤ گے) نبذوہ (انہوں نے اس کو پھینک دیا) لم یفعلو (انہوں نے نہیں کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 186 تا 189
آخرت کی کامیابی اور ناکامی اور دائمی جزا وسزا کا حال سنا کر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! ابھی جان دونوں ہی سے تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اللہ کی راہ میں تمہاری جانیں اور مال دونوں ہی طلب کئے جائیں گے۔ تمہیں کفار اور یہودیوں کی ابھی بہت سی تکلیف دینے والی باتیں بھی سننا پڑیں گی لیکن اگر تم نے صبر وتقویٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
جھوٹ بول کر اپنے تعریف کے خواہاں پر عذاب کا ذکر
شان نزول : جو لوگ اس بےجا حرکت یعنی پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی تعریف چھپانے سے خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی تعریف کی جائے۔ ایسے لوگوں کا اے محمد ﷺ آپ کوئی وقعت و اعتبار نہ سمجھیں۔ آنحضرت ﷺ نے یہود سے ایک بات پوچھی، یہود نے اس کا واقعی جواب چھپا کر دوسری طرح پر بات شروع کی اور ایسی بات بنا کر ظاہر کی کہ گویا سچا جواب دیا، اور جھوٹ جواب پر تحسین کے خواہاں بھی تھے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے محمد ﷺ تم یہ نہ سمجھنا کہ یہ عذاب سے چھوٹ جائیں گے اور ان کے واسطے دردناک عذاب ہے۔ آسمانوں اور زمینوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
(ف 1) یعنی جس طرح نظام کواکب میں ہر آن تبدیلی ہوتی رہتی ہے ، اور وقت وزمانہ صبح ومسا کے تغیرات سے محفوظ نہیں اسی طرح کفر و ایمان میں باہمی آویزش سے اور ضرور ہے کہ کفر کی تاریکی کے بعد ایمان کی روشنی کا زمانہ آئے اور پھر جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے ، اسی طرح حق و باطل میں بین اور واضح امتیاز ہے اور جس طرح رات کے بعد سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے ‘ اس طرح مایوسیوں کے بعد امیدوں کا افتاب طلوع ہوتا ہے اور جس طرح یہ درست ہے کہ تاریکیاں اجالے سے بدل جاتی ہیں ‘ اسی طرح موت کے اندھیرے حیات ما بعد کی صورت اختیار کریں گے اور جس طرح یہ حقیقت ہے کہ آفتاب صبح کے طلوع ہونے کے بعد آسمان پر کوئی ستارہ نہیں…
Read the full tafseer →ف 3 اے پیغمبر جو لوگ ایسے ہیں کہ اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں اور اپنی بدکرداری اور بداعمالی پر خوش اور نازاں ہوتے ہیں اور جو نیک کام انہوں نے نہیں کئے ان پر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے۔ یعنی برے کام کے کرنے پر خوش اور نیک کام کے ترک پر مدح و ثنا کے جویاں سوائے پیغمبر آپ ایسے شخصوں کو ہرگز ہرگز عذاب الٰہی سے نجات یافتہ نہ سمجھیں اور یہ خیال نہ کریں کہ ایسے لوگ عذاب الٰہی سے محفوظ رہیں گے بلکہ ان کو دردناک عذاب ہوگا اور تمام آسمان و زمین کی سلطنت و بادشاہت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے اور ہر شئے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (تیسیر)
یہود کا عام طریقہ یہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ پس چونکہ وہ سلطان حقیقی ہیں سب پر ان کا حکم ماننا ضروری ہے اور نافرمانی جرم ہے اور چونکہ وہ قادر ہیں اس لیے جرم کی سزا دے سکتے ہیں اور چونکہ انہوں نے اس سزا کی خبر دی ہے اس لیے ضرور سزادیں گے اور چونکہ یہ صفات ان کے ساتھ خاص ہیں لہذا ان کے سزادیے ہوئے کو کوئی بچا نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →آسمانوں اور زمین کی اصل بادشاہی تو اللہ ہی کی ہے باقی سب بکھیڑے ہیں :
آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے یعنی اللہ کے زیر فرمان ہے۔ پس اگر وہ تمہیں کا مییابی و کمرانی اور سر بلندی عطا فرمانا چاہے تو تمہاری راہکو کون روک سکتا ہے ؟ لیکن ہاں ! شرط کامیابی یہ ہے کہ ہم راہ حق پر استوار رہو۔ لیکن کفر و شرک حماقت میں جو لوگ مبتلا ہیں وہ اگر سمجھانے سے نہیں مانتے تو نہ مانیں حقیقت اپنی جگہ حقیقت ہے کسی کے ماننے نہ ماننے سے حقیقت کبھی بدل نہیں جاتی زمین و آسمان کی بادشاہی دنیا کے نام نہاد بادشاہوں ، جباروں اور سرداروں کے حوالے نہیں کردی گئی ہے نہ کسی نبی یا ولی یا دیوی اور دیوتا کا اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
In continuation of the description of evils practiced by the Jews mentioned in previous verses, the first of the present two verses (187, 188) takes up yet another evil practice of theirs. This is their habit of going back on solemn pledges and covenants - for Allah Almighty had taken pledge from the people of the Book that they would communicate the commandments of Allah appearing in the Torah freely, openly and universally and that they would not conceal any injunction out of their selfish ends. The people of the Book broke this covenant. They concealed injunctions. Not only that, they were…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
134. This section constitutes the conclusion of the present surah. It is related not so much to the verses which immediately precede it as to the entire surah. In order to grasp its significance one should particularly bear in mind our introductory remarks to this surah. (See pp. 229 ff. above.)
Read the full tafseer →