Explained with ayahs 187–189
بدترین خریدوفروخت !
اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آجائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہوجائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپالیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خریدو فروخت بد سے بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 133
مثلا وہ اپنی تعریف میں یہ سننا چاہتے ہیں کہ حضرت بڑے متقی ہیں، دیندار اور پارسا ہیں خادم دین ہیں۔ حامی شرع متین ہیں، مصلح و مزکی ہیں، حالانکہ حضرت کچھ بھی نہیں۔ یا اپنے حق میں یہ ڈھنڈورا پٹوانا چاہتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے ایثار پیشہ اور مخلص اور دیانت دار رہنما ہیں اور انہوں نے ملت کی بڑی خدمت کی ہے۔ حالانکہ معاملہ برعکس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
ربط آیات
جیسا کہ پچھلی ایٓات میں یہودیوں کے افعال بد اور بری خصلتوں کا بیان تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان کے ایک ایسے ہی برے عمل کا ذکر ہے اور وہ ہے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کیونکہ اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام جو تورات میں آئے ہیں وہ ان کی اشاعت عام کریں گے اور کسی حکم کو اپنی نفسانی غرض سے چھپائیں گے نہیں اہل کتاب نے یہ عہد توڑ دیا، احکام کو چھپایا اور پھر دلیری یہ کی کہ اس پر خوشی کا اظہار کیا اور اپنے اس فعل کو قابل تعریف قرار دیا۔
خلاصہ تفسیر
(یہ حالت بھی قابل ذکر ہے) جبکہ اللہ تعالیٰ نے (کتب سابقہ میں) اہل کتاب سے یہ عہد لیا (یعنی ان کو حکم فرمایا اور…
Read the full tafseer →فرمایا کہ جن کے کارنامے یہ کچھ ہیں، جنہوں نے حقیر دنیوی مفادات کی خاطر اس ڈھٹائی کے ساتھ شریعت فروشی کی ہے اور پھر اپنے اس کارنامے پر خوش بھی ہیں، جو چاہتے ہیں کہ اس کام کا کریڈٹ حاصل کریں جو انہوں نے کیا نہیں۔ فرمایا کہ ان کو عذاب الٰہی سے محفوظ نہ سمجھو، وہ دنیا میں بھی عذاب کی زد میں ہیں اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
’ مفازۃ ‘ کے معنی نجات اور پناہ کی جگہ کے ہیں اور وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب پر اللہ تعالیٰ نے کتاب کی جو ذمہ داری ڈالی اور اس کے اظہار و اعلان، اس کی تعلیم و تبیین، اور اس کے اجرا و نفاذ سے متعلق جو عہد ان…
Read the full tafseer →188۔ 1 ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو صرف اپنے واقعی کارناموں پر ہی خوش نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ان کے کھاتے میں وہ کارنامے بھی درج یا ظاہر کئے جائیں جو انہوں نے نہیں کئے ہوتے۔ یہ بیماری جس طرح عہد رسالت کے بعض لوگوں میں تھی جن کے پیش نظر آیات کا نزول ہوا۔ اسی طرح آج بھی جاہ پسند قسم کے لوگوں اور پراپیگنڈے اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے سے بننے والے لیڈروں میں یہ بیماری عام ہے، آیت کے سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی کتاب الٰہی میں تحریف کے مجرم تھے مگر وہ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہوتے تھے، یہی حال باطل گروہوں کا بھی ہے وہ بھی لوگوں کو گمراہ کر کے، غلط رہنمائی کرکے اور آیات الٰہی میں معنوی تحریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے یہودیوں سے کوئی بات پوچھی ۔ انہوں نے اسے چھپادیا اور انہوں نے غلط جواب دیا ۔ وہ چلے گئے ۔ وہ یہ تاثر دیتے ہوئے گئے کہ انہوں نے رسول ﷺ کو وہ بات بتادی جو انہوں نے پوچھی تھی اور اس پر وہ اپنی جگہ خوش تھے کہ ان کو رسول ﷺ کے ہاں تعریف کا مستحق قراردیا گیا لیکن خوش اس لئے بھی تھے کہ انہوں نے اصل بات چھپادی تھی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :
لا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
” تم ان لوگوں کو عذاب…
Read the full tafseer →3 یہود مسئلے غلط بتاتے، رشوتیں کھاتے اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صفات و بشارات جان بوجھ کر چھپاتے تھے پھر خوش ہوتے کہ ہماری چالاکیوں کو کوئی پکڑ نہیں سکتا اور امید رکھتے کہ لوگ ہماری تعریف کریں کہ بڑے عالم اور دیندار حق پرست ہیں۔ دوسری طرف منافقین کا حال بھی ان کے مشابہ تھا۔ جب جہاد کا موقع آتا گھر میں چھپ کر بیٹھ رہتے اور اپنی اس حرکت پر خوش ہوتے کہ دیکھو کیسے جان بچائی۔ جب حضور ﷺ جہاد سے واپس تشریف لاتے تو غیر حاضری کے جھوٹے عذرپیش کر کے چاہتے کہ آپ سے اپنی تعریف کرائیں، ان سب کو بتلا دیا گیا کہ یہ باتیں دنیا و آخرت میں خدا کے عذاب سے نہیں چھڑا سکتیں۔ اول تو ایسے لوگ دنیا ہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
آیت 188 لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا
اگر کچھ نیکی کرلیتے ہیں ‘ کسی کو کچھ دے دیتے ہیں تو اس پر بہت اتراتے ہیں ‘ اکڑتے ہیں کہ ہم نے یہ کچھ کرلیا ہے۔
وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْاص
آج کل اس کی سب سے بڑی مثال سپاس نامے ہیں ‘ جو تقریبات میں مدعو شخصیات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ ان سپاس ناموں میں ان حضرات کے ایسے ایسے کارہائے نمایاں بیان کیے جاتے ہیں جو ان کی پشتوں میں سے بھی کسی نے نہ کیے ہوں۔ اس طرح ان کی خوشامد اور چاپلوسی کی جاتی ہے اور وہ اسے پسند کرتے ہیں۔
فَلاَ تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ج تو ان کے بارے میں یہ خیال نہ کریں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
188 اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تین احادیث ملاحظہ فرمائیے یہ تینوں حدیثیں بخاری شریف میں مذکور ہیں۔
1۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپنے یہود کو بلا بھیجا اور ان سے دین کی کوئی بات پوچھی۔ انہوں نے حق چھپایا اور غلط بات بتلادی۔ پھر سمجھے کہ ہم (نے کمال کیا) آپ کے نزدیک قابل تعریف ٹھہرے یعنی آپ کو بتلایا بھی اور حق بات چھپا بھی لی۔ پھر یہی آیت پڑھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
2۔ مروان نے اپنے دربان رافع کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس بھیجا کہ اس آیت کا مطلب پوچھ کے آؤ، کیونکہ اس آیت کی رو سے ہر شخص عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص کو جو نعمت ملی، یا وہ جو کرتا ہے۔ اس پر خوش ہوتا…
Read the full tafseer →394 ۔ خاص طور پر مراد ہیں علماء یہود اور منافقین یہود، عنی بذلک قوم من اھل النفاق (ابن جریر) عنی بذلک قوم من احبار الیود (ابن جریر) ” بمااتو “۔ مثلا ان کا یہی کارنامہ کہ حق کا اخفاء اور اپنی بدکرداریوں کا کتمان کرتے رہے۔ (آیت) ” مالم یفعلوا “۔ مثلا یہی کہ دین حق کی نشرواشاعت نہ کی۔
395 ۔ (آخرت میں) (آیت) ” بمفازۃ من العذاب “ اس عذاب سے مراد اسی دنیا میں سزائیں ہیں۔ چناچہ یہود چند ہی سال کے اندر قتل ہوئے، گرفتار ہوئے، جلاوطن ہوئے، اور منافقین یہود ذلیل ورسوا ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–190
آیت نمبر 190 تا 200
ترجمہ : آسمانوں اور زمین اور ان میں جو عجائبات ہیں ان کی تخلیق میں اور آمدورفت اور زیادتی و کمی شب و روز کے بدلنے میں یقیناً عقل مندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جو لوگ (الذین) اپنے ما قبل کی صفت یا بدل ہے اللہ تعالیٰ کو کھڑے کھڑے بیٹھے بیٹھے لیٹے لیٹے یعنی ہرحال میں یاد کرتے ہیں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حسب طاقت مذکورہ ہئیتوں میں نماز پڑھتے ہیں۔ اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ زمین اور آسمان کے بنانے والے کی قدرت پر استدلال کریں۔ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! یہ مخلوق جس کو ہم دیکھ رہے ہیں تو نے بےفائدہ پیدا نہیں کی بلکہ…
Read the full tafseer →لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا و یحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا فلا تحسبنھم بمفازۃ من العذاب و لھم عذاب الیم جو لوگ اپنے (بد) کردار پر خوش ہوتے ہیں اور جو (اچھے) کام نہیں کئے، چاہتے ہیں کہ ان پر ان کی تعریف کی جائے سو تم ہرگز مت خیال کرنا کہ ایسے لوگ خصوصی عذاب سے بچے رہیں گے۔ (وہ نہیں بچیں گے) اور ان کو دکھ کا عذاب ہوگا۔ مَا اَتَواْ سے مراد ہے لوگوں کو گمراہ کرنا۔ فریب کاری کرنا۔ حق کو چھپانا یا عام گناہ مراد ہیں۔ مَا لَمْ یَفْعَلواْ سے مراد ہے عہد کو پورا کرنا حق کو ظاہر کرنا سچی خبر دینا اور دوسری نیکیاں۔ بد کرداری پر خوش ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بد کرداری تکذیب نبوت کی مدد گار تھی۔
ممکن…
Read the full tafseer →(188) یہود جو نیک کام نہیں کرتے تھے اس پر خواہ مخواہ تعریف اور ستائش کے طلب گار ہوتے تھے۔
اے محمد ﷺ آپ ان لوگوں کا ہرگز نہ خیال کیجیے جنہوں نے کتاب میں آپ کی نعت وصفت میں تبدیلی کردی اور وہ اب اس بات کے متمنی ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے اور ملت ابراہیمی اور فقرا کے ساتھ احسان کرنے کے بھی دعویدار ہیں، حالانکہ ذرہ برابر بھی ان میں کوئی ایسی نیکی نہیں کہ جس کے سبب وہ عذاب الہی سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔
شان نزول : (آیت) ”لا تحسبن الذین یفرحون“۔ (الخ)
بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حمید بن عبدالرحمن بن عوف ؒ کے ذریعہ سے روایت کیا ہے کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا کہ رافع، ابن عباس ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم…
Read the full tafseer →یعنی جو کام انھوں نے کیے ہیں ان پر اتراتے چلے جاتے ہیں اور جو کام انھوں نے نہیں کیے ان کے متعلق بھی چاہتے ہیں کہ انھیں ان کے کارناموں میں شمار کیا جائے، ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے چھوٹ جائیں گے۔ یہ آیت دراصل یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ چناچہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہود سے کوئی بات دریافت کی تو انھوں نے اس کا غلط جواب دیا، پھر خوش ہوئے کہ ہم نے آپ ﷺ کو مطمئن کردیا، اب انھیں ہماری تعریف کرنی چاہیے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا) : 4568 ]
ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 188۔
یعنی (وہ عذاب سے امن میں نہیں ہیں) اس فعل کے سبب جو انہوں نے غزوہ سے پیچھے رہ جانے اور گھر میں ہی بیٹھے رہنے کا کیا اور انہوں نے اس کے بارے عذر پیش کردیئے، صحیحین میں حضرت ابو سعیدخدری ؓ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں منافقین میں سے کچھ لوگ تھے کہ جب حضور نبی کریم ﷺ غزوہ کے لئے تشریف لے جاتے تو وہ آپ سے پیچھے رہ جاتے اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف اپنے بیٹھے رہنے پر خوش ہوتے، اور جب حضور نبی مکرم ﷺ واپس تشریف لاتے تو آپ کے پاس عذر پیش کرتے اور حلف دے دیتے اور یہ چاہتے اور پسند کرتے کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں سے جو انہوں نے نہیں کئے تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” لا تحسبن…
Read the full tafseer →(1) بخاری ومسلم واحمد ترمذی و نسائی وابن جریر ابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی وحاکم و بیہقی نے شعب الایمان میں حمید بن عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا ہے کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع ابن عباس ؓ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو اگر ہر آدمی ہم میں سے اپنے کئے پر خوش ہو اور وہ محبوب رکھتا ہے اس بات کو کہ اس کی تعریف کی جائے اس کام پر جو اس نے نہیں (کیا) اس پر اس کو عذاب ہوگا یا ہم (سب کے سب) ضرور عذاب دئیے جائیں گے ابن عباس ؓ نے فرمایا تمہارا اس آیت سے کیا تعلق یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت بھی تلاوت فرمائی لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب…
Read the full tafseer →[لاَ تَحْسَبَنَّ : تو ہرگز گمان نہ کر ] [الَّذِیْنَ : ان لوگوں کو جو ] [یَفْرَحُوْنَ : اتراتے ہیں ] [بِمَآ : اس پر جو
اَتَوْا : انہوں نے کیا ] [وَّیُحِبُّوْنَ : اور پسند کرتے ہیں ] [اَنْ : کہ ] [یُّحْمَدُوْا : ان کی تعریف کی جائے ] [بِمَا : اس پر جو ] [لَمْ یَفْعَلُوْا : انہوں نے کیا ہی نہیں ] [فَلاَ تَحْسَبَنَّہُمْ : پس تو ہرگز گمان نہ کر ان کو ] [بِمَفَازَۃٍ : کسی نجات کی جگہ میں ] [مِّنَ الْعَذَابِ : عذاب سے ] [وَلَہُمْ : اور ان کے لیے ہی ہے ] [عَذَابٌ اَلِیْمٌ : ایک دردناک عذاب ]
Read the full tafseer →اور بعض روایات میں یہ ہے کہ بہت سے لوگ منافقین میں سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں نہیں گئے اور مدینہ منورہ ہی میں بیٹھے رہے جب آپ واپس تشریف لائے تو جھوٹے عذر پیش کیے جن پر قسمیں کھا گئے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ جو کام نہیں کیا اس پر تعریف کی جائے (یعنی جہاد کے شرکاء میں ان کو شامل کرلیا جائے) اس پر آیت کریمہ (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ ) (آخر تک) نازل ہوئی۔ (درمنثور صفحہ 108: ج 2)
دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، دونوں ہی باتیں سبب نزول ہوسکتی ہیں۔ انسان کے نفسانی تقاضوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور اس کی محبت اس درجہ میں ہے کہ جو عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
مذمت خود پسندی ومدح خواہی۔
قال تعالیٰ لاتحسبن الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ قدیر۔ آیت۔
نبی ﷺ جب علماء یہود سے کوئی بات دریافت کرتے تو وہ اصل بات کو تو چھپالیتے اور خلاف بات واقع بیان کرکے چلے جاتے پھر اپنے اس چھپانے پر دل میں خوش ہوتے کہ ہماری چالاکیوں کو کوئی پکڑا نہیں سکتا اور امید رکھتے کہ لوگ ہماری تعریف کریں گے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اے نبی آپان لوگوں کو جو اپنی اس چالاکی پر خوش ہوتے ہیں جو انہوں نے کی ہے اور چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے اس کام پر جو انہوں نے کیا یعنی جو بھلائی نہیں کی اس پر آفرین چاہتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ دیکھو کس طرح حیلہ اور بہانہ سے اپنی جان بچائی پس آپ ان کی…
Read the full tafseer →286 اس کا تعلق وَلَا تَکْتُمُوْنَہ سے ہے اور مَا اَتَوا سے کتمان حق اور تحریف کا فعل مراد ہے یعنی پہلے تو ان علماء اہل کتاب نے عہد کیا تھا کہ وہ حق بیان کریں گے مگر اب وہ ایک طرف تو عہد شکنی کر کے حق چھپا رہے ہیں اور پھر اس فعل پر خوش بھی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی مدح سرائی ہو اور ان کی حق بیانی دیانت وامانت اور ان کے علم و فضل کی تعریف کی جائے۔ قال ابن عباس ؓ ھم الیھود حرفوا التوراۃ وفرحوا بذالک واحبوا ان یوصفوا بالدیانۃ والفضل (ابو السعود ج 3 ص 170) ۔
287 یہ علماء یہود کے لیے تخویف اخروی ہے اور اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے یا ہر مخاطب سے ان کی ظاہری شان و شوکت اور ٹھاٹھ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ کئی دروس سے سے اہل کتاب اور منافقین کی قباحتوں کا ذکر ہو رہا ہے اہل کتاب کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گستاخی کرنا ، ارتکاز دولت کرنا اور بخل سے کام لینا ، اسلام قبول کرنے میں مختلف حیلے بہانے کرنا اور بےہودہ مطالبات کرنے کے متعلق تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دی اور فرمایا کہ تمہاری آزمائش بھی ضرور ہوگی ، اس کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔ اور جان و مال کی قربانی سے درغ نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اے اہل ایمان ! تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی جانب سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سننا پڑیں گی ، جن کی وجہ سے تمہیں کوفت ہوگی اور فرمایا کہ…
Read the full tafseer →لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ 0 ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 188
فرح
الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ،
(ر ح ) ا لفرح
کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
ترکیب : لتبیننہ کا مرجع عند البعض کتاب ہے۔ بعض کے نزدیک نبی (علیہ السلام) ہیں۔ وراء ظرف ہے نبذوا کا لاتحسبن بالتاء خطاب للنبی اولکل من یصلح للخطاب ‘ انت ضمیر اس کی فاعل اور الذین صلہ و موصول مع معطوف مفعول اول خیرًا مفعول ثانی محذوف یا لاتحسبن ثانی اسی کا اعادہ ہے۔ ھم مفعول اول بمفازۃ مفعول ثانی مفازۃ مفعلۃ ہے یعنی ظرف مکان من العذاب متعلق کے ہو کر مفازۃ کی صفت اور اگر مفازۃ کو مصدر میمی مانا جاوے تب اسی کے ساتھ متعلق ہے۔
تفسیر : صبر اور پرہیزگاری جس کا حکم دیا تھا اور اس کو ہمت کے کاموں میں سے بتایا تھا ‘ یہود میں سے جاتی رہی تھی۔ جس کا ذکر آیات میں کیا جاتا ہے۔ واذ اخذ اللّٰہ کہ خدا نے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
وَاِذْاَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ لِتُـبَـیِّـنُـنَّـہٗ لِلنَّاسِ وَلاَ تَـکْتُمُوْنَـہٗ ز فَـنَـبَذُوْہُ وَرَآئَ ظُھُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ط فَبِئْسَ مَایَشْتَرُوْنَ ۔ لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَـآ اَتَوْا وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلاَ تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ وَلِلّٰہِ مُلْـکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ع
(اور یاد کرو جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیاجنھیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے پھیلائو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید تحریری شکل میں نازل نہیں ہوا یہ پر مغز خطابی انداز میں نازل ہوا ہے اس لیے مخاطب کو سمجھانے کے لیے جس پیرائے اور الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے وہی استعمال ہوتے ہیں جو موقعہ کے مطابق ہوں جس بنا پر بات کا تعلق بہت پیچھے کی بات سے جوڑ کر اسے کسی دوسرے انداز میں سمجھایا جاتا ہے یہاں یہ سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی مخالفت اور دنیا کی خاطر تم بخل اور خوشامد کرتے ہو اس وجہ سے جو تمہارا انجام ہونے والا ہے اس کی طرف توجہ دو ۔
انسان کی اخلاقی گراوٹ کی انتہا دیکھنا ہو تو اس شخص کے کردار کی طرف دیکھیے جو گناہ پر معذرت کرنے کے بجائے اس پر اصرار کرتے ہوئے خوش ہوتا اور فخر محسوس کرتا…
Read the full tafseer →یہود مدلسین اور ریاکاروں کو تنبیہ :
188: لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ ( ہرگز نہ خیال کریں آپ ان لوگوں کا جو اتراتے ہیں)
نحو : لَاتَحْسَبَنَّ میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ ایک مفعول الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ کا جملہ ہے۔ اور دوسرا مفعول بِمَفَازَۃٍ ہے۔ اور فلا تحسبنھم یہ اس کی تاکید ہے تقدیر عبارت یہ ہے لا تحسبنھم فائزین۔
بِمَآ اَتَوْا (اس پر جو انہوں نے کیا) یہ حضرت ابی ؓ کی قراءت ہے اور جاء اور أتٰی بمعنی فعل آیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
188۔ (آیت)” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا “۔ حمزہ (رح) ، عاصم (رح) ، کسائی (رح) ، نے ان کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے ، مطلب یہ ہوگا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 9 ان کی خوشی آپ گمان نہ کریں ، دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے (آیت)” لایحسبن الذین “۔ وہ آپ کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں کہ ہمیں بھی نجات ملے گی ،۔
ابن کثیر (رح) اور ابو عمرو نے (آیت)” فلا یحسبنھم “ یاء کے ساتھ اور اس پر ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، فارحین کی خبر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ گمان نہ کریں اپنے نفسوں پر ، بعض قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باء کے فتحہ سے اس صورت میں خطاب آپ ﷺ کو ہوگا ، پھر آگے (آیت)” فلا تحسبنھم تاکیدا لائے عبداللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
(188 ۔ 189) ۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کسی لڑائی پر جاتے تو منافق لوگ جھوٹے عذر پیش کر کے مدینہ میں رہ جاتے اور اپنے اس حیلہ سازی پر بہت خوش ہوتے تھے۔ اور جب آنحضرت ﷺ اور صحابہ لڑائی پر سے واپس آتے تو اپنے ان عذروں کے سچے ہونے اور لڑائی سے رہ جانے کے افسوس پر قسمیں کھاتے تھے 4 غرض ان کی اس قسما قسمی سے یہ ہوتی تھی کہ باوجود لڑائی میں شریک نہ ہونے کے لوگ ان کی تعریف کریں اور کہیں کہ مجبوری سے وہ لڑائی میں شریک نہ ہو سکے۔ ورنہ وہ شریک ہونے پر پورے آمادہ تھے اب حکم اس آیت کا عام ہے جو کوئی بغیر کسی نیک کام کرنے کے اس کام پر اپنی جھوٹی تعریف چاہے گا وہ اس حکم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
آیت 187-188
(میثاق) اس عہد کو کہتے ہیں جو بہت موکد اور بھاری ذمہ داری کا حامل ہو۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص سے لیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی اور اسے علم سے نوازا۔ اس سے یہ عہد لیا کہ لوگ اس کے علم میں سے جس چیز کے محتاج ہوں وہ ان کے سامنے بیان کرے اور ان سے کوئی چیز نہ چھپائے اور نہ علم بیان کرنے میں بخل سے کام لے خاص طور پر جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جو علمی راہنمائی کا متقاضی ہو۔ پس اس صورتحال میں ہر صاحب علم پر فرض ہے کہ وہ مسئلہ کو بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کر دے۔ اور جن لوگوں کو اللہ نے توفیق سے نوازا ہے، وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–200
اللہ کی راہ میں کمربستہ رہنے کی فضیلت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اصبرواصابرو اورابطوا۔ اے ایمان والو ! صبر سے کام لو۔ باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اورحق کی خدمت کے لیے کمربستررہو۔ ) حسن قتادہ ابن جریج اور ضحاک سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے۔ طاعت اللہ پر صبر سے کام لو، اپنے دین پر ڈٹ جاؤنیز اللہ کے دشمنوں کے آگے سینرسپر ہوجاؤ اور اللہ کی راہ میں کمربستہ ہوجاؤ۔ محمد بن کعب القرضی کا قول ہے۔ اپنے دین پر ڈٹ جاؤ تم سے کیے گئے میرے وعدے کے پورا ہونے کا صبر سے انتظارکرو اور اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ زیدبن اسلم کا قول ہے۔ جہاد میں صبر سے کام لو۔ دشمن کا صبر سے مقابلہ کرو اور…
Read the full tafseer →403 اہل باطل کیلئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ ایسا دردناک اور اس قدر ہولناک کہ کوئی شخص اپنے طور پر اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس آیت کریمہ کا نزول اگرچہ یہود بےبہبود کے بارے میں ہوا لیکن اس کے حکم اور عموم میں ہر ایسا شخص داخل ہے جو اپنے برے افعال سے خوش ہوتا ہو اور ناکردہ امور پر اپنی تعریف چاہتاہو۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس طرح کے ہر شر و فساد اور ہر بری نیت اور خصلت سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ یہودی علماء اپنی مرضی اور دنیاوی فائدوں یا مصلحتوں کی وجہ سے تورات کے اصل مسائل لوگوں کو نہ بتاتے، بلکہ ان کو تبدیل کرکے بتایا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ دیکھو لوگوں کو کیسا بیوقوف بنا رہے ہیں اور پھر بھی لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ان کو علم و فضل والے نیک بندے سمجھ کر ان کی عزت کرتے ہیں وہ اپنی اس حرکت پر خوش بھی تھے اور مطمئن بھی۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ منافق اور مفاد پرست لوگ اپنے انجام سے نہ صرف بیخبر ہیں، بلکہ دھوکہ بھی کھائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اپنے برے اعمال سے یہ خود کو اور لوگوں کو تو دھوکہ دے سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–189
آیات 181- 189
اسرارو معارف
لقد سمع اللہ……………وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
اللہ ان کی بات بھی سن رہے ہیں جو صدقات وزکوٰۃ کے احکام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مالدار ہیں اور اللہ فقیر اور مفلس ہے کہ اپنے لئے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خرچ کرنا بھی مخلوق ہی کو فائدہ پہنچانا ہے اور خود یہود کا بھی ممکن ہے ایسا عقیدہ تو نہ ہو صرف آپ ﷺ کی مخالفت میں ایسی لغوبات کہہ دی جو بداہتہً باطل ہے اور کسی طرح قابل جواب بھی نہیں۔
ارشاد ہوا کہ یہ جملہ کلمات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض بات نہیں جو کہہ دی اور ختم ہوگئی۔ بلکہ نامہ اعمال کا حصہ ہے جو بالآخر سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ ان کی خرافات کی پرواہ…
Read the full tafseer →ف 2 یہ کہ جو کام انہوں نے کئے ہیں ان پر اتر تے چلے ت جاتے ہیں اور جو کام انہوں نے نہیں کئے ہیں ان کے متعلق بھی جانتے ہیں کہ انہیں انکے کار ناموں میں شمار کیا جائے ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو وہ اللہ کی پکڑ اور اس کی عذاب سے چھوٹ جائیں گے یہ آیت دواصل یہود اور ان کے منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے (ابن جریر) چناچہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے یہود سے کوئی بات دریافت کی۔ انہوں نے اس کا غلط جواب دیا پھر خوش ہوئے کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کو مطمئن اب انہیں ہماری تعریف کرنی چاہیے (بخاری مسلم) حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ اس طرح کہ جب…
Read the full tafseer →(3:188) اتو۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ باب ضرب اتیان مصدر اتی یاتی (ب) کوئی چیز لانا کسی کو لانا۔ اتوا۔ وہ لائے۔ وہ آئے۔ وہ پہنچے۔ اتوا۔ ب انہوں نے کہا۔ یفرحون بما اتوا۔ خوش ہوئے اپنے کئے پر۔
مفازۃ۔ فاز (مادہ فوز) کا مصدر ہے۔ باب نصر۔ کامیاب ہونا۔ فاز یفوز ۔ بالامر۔ کسی امر میں کامیاب ہونا۔ فاز یفوز من المروہ کسی تکلیف سے نجات پانا۔
فلا تحسبھم بمفازۃ من العذاب۔ ہرگز خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے بجات پالیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–189
لغات القرآن آیت نمبر 186 تا 189
لتبلون (البتہ ضرور تم آزمائے جاؤگے) لتسمعن (البتہ تم ضرور سنو گے) عزم الامور (البتہ تم اس کو ظاہر کرو گے) لا تکتمونه (تم اس کو نہ چھپاؤ گے) نبذوہ (انہوں نے اس کو پھینک دیا) لم یفعلو (انہوں نے نہیں کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 186 تا 189
آخرت کی کامیابی اور ناکامی اور دائمی جزا وسزا کا حال سنا کر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! ابھی جان دونوں ہی سے تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اللہ کی راہ میں تمہاری جانیں اور مال دونوں ہی طلب کئے جائیں گے۔ تمہیں کفار اور یہودیوں کی ابھی بہت سی تکلیف دینے والی باتیں بھی سننا پڑیں گی لیکن اگر تم نے صبر وتقویٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 188–189
جھوٹ بول کر اپنے تعریف کے خواہاں پر عذاب کا ذکر
شان نزول : جو لوگ اس بےجا حرکت یعنی پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی تعریف چھپانے سے خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی تعریف کی جائے۔ ایسے لوگوں کا اے محمد ﷺ آپ کوئی وقعت و اعتبار نہ سمجھیں۔ آنحضرت ﷺ نے یہود سے ایک بات پوچھی، یہود نے اس کا واقعی جواب چھپا کر دوسری طرح پر بات شروع کی اور ایسی بات بنا کر ظاہر کی کہ گویا سچا جواب دیا، اور جھوٹ جواب پر تحسین کے خواہاں بھی تھے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے محمد ﷺ تم یہ نہ سمجھنا کہ یہ عذاب سے چھوٹ جائیں گے اور ان کے واسطے دردناک عذاب ہے۔ آسمانوں اور زمینوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →(ف 2) آیت کے نزول میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک یہ منافقین کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔ جیسے حضرت ابی سعید خدری ؓ سے روایت ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد محرفین یہود ہیں اور اصل بات یہ کہ دنای کا ہر بدباطن اور برا آدمی قدرتی طور پر چاہتا ہے کہ میرے ایمان کی تعریف کی جائے قرآن نے درحقیقت اسی نفسیت ستائش طلب کی توضیح کی ہے اور بتایا ہے کہ اہل حق وصداقت سے ان لوگوں کی اس قسم کی توقعات ناجائز ہیں وہ ان کے نفاق تحریف اور مداہنت کی تعریف نہیں کرسکتے ۔
(ف 3) مقصد یہ ہے خدا کی قدرتیں نہایت وسیع ہیں ، یہ لوگ دھوکے میں نہ رہیں ، وہ ان کے حالات کو خوب جانتا ہے اور اس میں یہ طاقت ہے کہ ایک لمحہ میں زمین وآسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
ف 2 اور وہ واقعہ یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان اہل کتاب سے انبیاء کی یا کتب سماویہ کی معرفت یہ عہد لیا کہ تم اس کتاب کے تمام مضامین کو لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرنا اور کتاب کے کسی مضمون اور کسی حکم کو چھپانا نہیں اور نہ پوشیدہ رکھنا لیکن انہوں نے اس عہد کا یہ حشر کیا کہ اس عہد کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا اور اس پر عمل نہ کیا اور اس کتاب کے بدلے میں انہوں نے معمولی قیمت اور کم حقیقت معاوضہ حاصل کرلیا وہ چیز بہت بری ہے جس کو یہ لوگ حاصل کررہے ہیں۔
عہد کا مطلب یہ ہے کہ ان کو انبیاء کی معرفت یا ان کی کتابوں میں یہ حکم دیا گیا تھا اور انہوں نے اس کو قبول کیا تھا کہ ہم کتاب کے مضامین اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
ف 1۔ کردار بدیہی کے احکام کو چھپاتے تھے اور جو نیک کام نہیں کیا اس سے مراد اظہار حق ہے جس کو وہ نہ کرتے تھے لیکن دوسروں کو یقین دلانا چاہتے تھے کہ ہم اظہار حق کرتے ہیں تاکہ ان کا خداع معلوم نہ ہو چناچہ جناب رسول اللہ ﷺ کے روبرو بھی یہود نے یہ جرات کی۔
Read the full tafseer →کچھ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہیں کہ کام لوگ کریں اور مدح سرائی ان کی ہو :
343: اس سے مراد یہود بھی ہو سکتے ہیں اور منافق بھی کیونکہ یہ بات ان دونوں گروہوں کی صفات سے ملتی جلتی ہے اور تفہیم یہ مقصود ہے کہ اگر کوئی شخص نیک عمل کرنے کے بعد اس پر مدح وثناء کا انتظار و اہتمام کرے تو نیک عمل کرنے کے بعد اس پر مدح وثناء کا انتظار و اہتمام کرے تو نیک عمل کرنے کے باوجود بھی قواعد شرعیہ کی رو سے یہ مذموم ہے اور یہ ان لوگوں کی صفت ہے جو میٹھا میٹھا ہپ ہپ کرنے کے عادی ہوتے ہیں خواہ وہ کسی قوم سے ہوں۔ جب بھی کہیں کوئی تعریف کی بات ہو خواہ وہ کیسی ہو اس لئے کہ بہت سی ایسی باتیں ہیں جو شرعاً اچھی نہیں لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
In continuation of the description of evils practiced by the Jews mentioned in previous verses, the first of the present two verses (187, 188) takes up yet another evil practice of theirs. This is their habit of going back on solemn pledges and covenants - for Allah Almighty had taken pledge from the people of the Book that they would communicate the commandments of Allah appearing in the Torah freely, openly and universally and that they would not conceal any injunction out of their selfish ends. The people of the Book broke this covenant. They concealed injunctions. Not only that, they were…
Read the full tafseer →133. Such people expected praises to be lavished upon them for being God-fearing, devout and pious, for being sincere servants of the true faith, for being defenders of God's Law and for having reformed and purified the lives of people, even though none of this might be true. They wanted people to go about trumpeting that such and such a person had made great sacrifices in the cause of God and had sincerely guided people to the right way even though the facts might be the reverse of what they claimed.
Read the full tafseer →