Explained with ayahs 187–189
بدترین خریدوفروخت !
اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے کہ پیغمبروں کی وساطت سے جو عہد ان کا جناب باری سے ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ کے ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے انہیں آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے اور پھر جس وقت آپ آجائیں تو دل سے آپ کے تابعدار ہوجائیں گے لیکن انہوں نے اس عہد کو چھپالیا اور اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کرنے پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے وعدہ کیا تھا ان کے بدلے دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے ان کی یہ خریدو فروخت بد سے بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہہ ہے کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی…
Read the full tafseer →سورة اٰلِ عِمْرٰن 132
یعنی انہیں یہ تو یاد رہ گیا کہ بعض پیغمبروں کو آگ میں جلنے والی قربانی بطور نشان کے دی گئی تھی، مگر یہ یاد نہ رہا کہ اللہ نے اپنی کتاب ان کے سپرد کرتے وقت ان سے کیا عہد لیا تھا اور کس خدمت عظمٰی کی ذمہ داری ان پر ڈالی تھی۔
یہاں جس عہد کا ذکر کیا گیا ہے اس کا ذکر جگہ جگہ بائیبل میں آتا ہے۔ خصوصاً کتاب استثناء میں حضرت موسیٰ ؑ کی جو آخری تقریر نقل کی گئی ہے اس میں تو وہ بار بار بنی اسرائیل سے عہد لیتے ہیں کہ جو احکام میں نے تم کو پہنچائے ہیں انہیں اپنے دل پر نقش کرنا، اپنی آئندہ نسلوں کو سکھانا، گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے، ہر وقت ان کا چرچا کرنا، اپنے گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
ربط آیات
جیسا کہ پچھلی ایٓات میں یہودیوں کے افعال بد اور بری خصلتوں کا بیان تھا، مذکورہ پہلی آیت میں ان کے ایک ایسے ہی برے عمل کا ذکر ہے اور وہ ہے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کیونکہ اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام جو تورات میں آئے ہیں وہ ان کی اشاعت عام کریں گے اور کسی حکم کو اپنی نفسانی غرض سے چھپائیں گے نہیں اہل کتاب نے یہ عہد توڑ دیا، احکام کو چھپایا اور پھر دلیری یہ کی کہ اس پر خوشی کا اظہار کیا اور اپنے اس فعل کو قابل تعریف قرار دیا۔
خلاصہ تفسیر
(یہ حالت بھی قابل ذکر ہے) جبکہ اللہ تعالیٰ نے (کتب سابقہ میں) اہل کتاب سے یہ عہد لیا (یعنی ان کو حکم فرمایا اور…
Read the full tafseer →اہل کتاب کو آخری تنبیہ :۔ اس سورة میں اہل کتاب کو یہ آخری تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ خود ساختہ عہود کے حوالے دے کر یہ حق کی مخالفت کے معاملے تو بڑے چابکدست ہیں لیکن وہ اصل میثاق جو اللہ نے ان سے اپنی کتاب کو ایک ایک کے آگے آشکارا کرنے کا لیا تھا اور یہ جو ہدایت فرمائی تھی کہ اس کی کسی چیز کو چھپانا مت، اس عہد کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا اور دنیا کے حقیر فائدے کے عوض اس کو قربان کردیا۔ اس عہد کا حوالہ تورات اور انجیل دونوں میں مختلف اسلوبوں اور پیرایوں سے ہوا ہے۔ ہم بخیال اختصار صرف دو حوالے نقل کرتے ہیں۔ استثنا میں ہے ”اس لیے میری ان باتوں کو تم اپنے دل اور اپنی جان میں محفوظ رکھنا اور نشان کے طور پر…
Read the full tafseer →187۔ 1 اس میں اہل کتاب کو بتایا جا رہا ہے کہ ان سے اللہ نے یہ عہد لیا تھا کہ کتاب الٰہی (تورات اور انجیل) میں جو باتیں درج ہیں اور آخری نبی کی جو صفات ہیں، انہیں لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور انہیں چھپائیں گے نہیں، لیکن انہوں نے دنیا کے تھوڑے سے مفادات کے لئے اللہ کے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا، یہ گویا اہل علم کو تلقین و تنبیہ ہے کہ ان کے ہاں جو علم نافع ہے، جس سے لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہوسکتی ہو، وہ لوگوں تک ضرور پہنچانا چاہیے اور دنیاوی اغراض و مفادات کی خاطر ان کو چھپانا بہت بڑا جرم ہے، قیامت والے دن ایسے لوگوں کو آگ کی لگام پہنائی جائیگی (کما فی الحدیث)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 184–200
تشریح : قرآنی اصطلاح میں صبر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے، اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے، اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے اور نظریاتی حفاظت بھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
Read the full tafseer →اس سورت میں اہل کتاب کے بہت سے اقوال وافعال کو لیا گیا ہے خصوصا ! یہودیوں کے ۔ ان میں سے ممتاز ترین کرداران کا یہ بیان ہوا ہے کہ ان لوگوں کی یہ عادت رہی ہے کہ یہ حق کو چھپاتے ہیں حالانکہ ان کو اچھی طرح یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ حق ہے ۔ پھر یہ اس حق کو باطل کے ساتھ ملاتے ہیں اور اس طرح اپنے پروپیگنڈے کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ دین کے مفہوم میں شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں ۔ وہ اسلام کی صحت پر اعتراضات کرتے ہیں ۔ وہ اس بات کا بھی انکار کرتے ہیں کہ اسلام اور ادیان سابقہ کے اندر بنیادیں مشترک ہیں ۔ اسلام ادیان سابقہ کی تصدیق کرتا ہے اور دین اسلام کی تصدیق کرتے ہیں ۔ ان کے پاس تورات موجود تھی جس…
Read the full tafseer →2 یعنی علمائے اہل کتاب سے عہد لیا گیا تھا کہ جو احکام و بشارات کتاب اللہ میں ہیں انہیں صاف صاف لوگوں کے سامنے بیان کرینگے اور کوئی بات نہیں چھپائیں گے نہ ہیر پھیر کر کے ان کے معنی بدلیں گے، مگر انہوں نے ذرہ برابر پروا نہ کی اور دنیا کے تھوڑے سے نفع کی خاطر سب عہد و پیمان توڑ کر احکام شریعت بدل ڈالے آیات اللہ میں لفظی و معنوی تحریفات کیں جس چیز کا ظاہر کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا یعنی پیغمبر آخرالزماں کی بشارت، اسی کو سب سے زیادہ چھپایا، جس قدر مال خرچ کرنے میں بخل کرتے اس سے بڑھ کر علم خرچ کرنے میں کنجوسی دکھائی۔ اور اس کنجوسی کا منشاء بھی مال و جاں اور متاع دنیا کی محبت کے سوا کچھ نہ تھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–187
آیت 186 لَتُبْلَوُنَّ فِیْ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ قف
یہ وہی مضمون ہے جو سورة البقرۃ کے انیسویں رکوع میں گزر چکا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط آیت 155 اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مالوں ‘ جانوں اور ثمرات کے نقصان سے۔ یہاں مجہول کا صیغہ ہے کہ تمہیں لازماً آزمایا جائے گا ‘ تمہاری آزمائش کی جائے گی تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی۔ کان کھول کر سن لو کہ یہ ایمان کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہے ‘ یہ کانٹوں بھرا بستر ہے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ٹھنڈے ٹھنڈے اور بغیر…
Read the full tafseer →187 یہود سے ہرگز یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ صرف اسی نبی کو سچا سمجھیں اور اس پر ایمان لائیں جس کو آتشیں قربانی کا معجزہ دیا گیا ہو۔ لیکن انہوں نے اپنی طرف سے اللہ پر یہ بہتان لگا دیا تھا، تاکہ رسول اللہ پر ایمان نہ لانے کا معقول بہانہ ہاتھ آجائے اور جو عہد ان سے فی الواقعہ لیا گیا تھا اس کی ایک ایک شق میں انہوں نے اس عہد کو توڑ ڈالا اور جی بھر کے عہد شکنی کی۔ ان سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ وہ تورات پر سختی سے عمل کریں گے۔ اس کی خوب اشاعت کریں گے۔ اس میں سے کچھ بھی چھپائیں گے نہیں۔ لیکن یہود نے یہ کیا کہ اس کے بیشمار احکام کی خلاف ورزی کی جن کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس کی بہت سی آیات کو چھپاتے…
Read the full tafseer →392 ۔ (چنانچہ اس حکم کی شہادت کسی درجہ میں تو موجودہ منحرف توریت اور انجیل بھی دے رہی ہے۔ ” تم اس کلام میں جو میں تمہیں فرماتا ہوں کچھ زیادہ نہ کیجیو اور نہ اس میں کم کیجیو “ (استثناء 4:9) ” اس نے۔۔۔ بنی اسرائیل میں ایک شریعت بنا رکھی جس کی بابت اس نے ہمارے باپ دادوں کو حکم کیا کہ وہ اسے اپنی اولاد کو سکھلا دیں تاکہ آنے والی پشت وہ فرزند جو پیدا ہو ویں سیکیں اور وہ اٹھ کے اپنی اولاد کو سکھلا ویں “ (زبور۔ 78:5، 6) ” جو کچھ میں تم سے اندھیرے میں کہتا ہوں اجالے میں کہو اور جو کچھ تم کہتے ہو کوٹھوں پر اس کی منادی کرو “ (متی 10:27) (آیت) ” لتبیننہ “۔ تبیین کے معنی خوب کھول کر بیان کرنے کے ہیں۔ ہ،…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ ۔ ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات لوگوں میں پھیلانی ہونگی۔ انہیں پوشیدہ رکھنا نہیں ہوگا مگر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا کتنا برا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ مذکورہ تین آیتوں میں علماء اہل کتاب کے دو جرم اور ان کی سزا کا بیان ہے۔ اور یہ کہ ان کو حکم یہ تھا کہ اللہ کی کتاب میں جو احکام آئے ہیں ان کو سب کے سامنے بےکم وکاست بیان کریں گے، اور کسی حکم کو چھپائیں گے نہیں۔ مگر انہوں نے اپنی دنیاوی اغراض اور طمع نفسانی کی خاطر اس…
Read the full tafseer →و اذ اخذا اللہ میثاق الذین اوتوا الکتاب اور یاد کرو اس وقت کو جب اللہ نے اہل کتاب سے وعدہ لیا تھا یعنی توریت کے اندر علماء اہل کتاب سے وعدہ لیا تھا۔
لتبیننہ للناس کہ لوگوں کے سامنے اس کتاب (کے احکام) کو کھول کر بیان کرنا۔
و لا تکمتونہ اور اس (کے احکام اور بیانات) کو پوشیدہ نہ رکھنا۔
فنبذوہ وراء ظھورھم پھر انہوں نے کتاب کو پس پشت پھینک دیا یعنی اس پر عمل چھوڑ دیا اور توریت کے اندر جو اوصاف محمدی کا بیان تھا اس کو پوشیدہ رکھا۔
واشتروا بہ اور اس کے (اخفاء کے) عوض انہوں نے لیا۔
ثمناقلیلا حقیر معاوضہ یعنی کچھ کھانے کی چیزیں اور رشوتیں۔
فبئس ما یشترون پس بری ہے وہ چیز جو وہ (حق کو چھپانے کے) معاوضہ…
Read the full tafseer →(187) اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت بیان کرنے کا جو عہد لیا تھا اس کا تذکرہ فرماتے ہیں جن لوگوں کو توریت وانجیل دی گئی تھی، ان سے عہد و پیمان لیا گیا تھا کہ اپنی کتابوں میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کو نہیں چھپائیں گے مگر انہوں نے کتاب اور اس عہد کو بھی فراموش کردیا اور اس کی قدر نہ کی بلکہ رسول اکرم ﷺ کی نعت واوصاف چھپا کر اس کے مقابلہ کم حقیقت کھانے پینے کی معمولی سی چیز لی، ان لوگوں کا ایسا کرنا اور یہودیت کو اپنے لیے پسند کرنا بہت ہی بری اختیار کردہ چیز ہے۔
Read the full tafseer →یعنی اہل کتاب سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ ان کی کتابوں میں جو احکام دیے گئے ہیں اور نبی آخر الزمان ﷺ سے متعلق جو بشارتیں اور علامتیں بیان کی گئی ہیں، ان کا اعلانیہ اظہار کریں گے اور ان کو چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہیں کریں گے، مگر انھوں نے دنیا طلبی میں پڑ کر اس عہد کی کوئی پروا نہ کی اور ان احکام کی بھی لفظی اور معنوی تحریف کی اور ان بشارتوں اور علامتوں کو چھپایا، (فبئس ما یشترون) ”سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔“ اس آیت میں ضمناً عام مسلمان علماء کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حق بات کو جانتے بوجھتے ہوئے چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہ کریں۔ حدیث میں متعدد سندوں سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے :…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 187۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا اخذا اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب “۔ یہ یہود کے ذکر کے ساتھ متصل ہے، کیونکہ انہیں حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایمان لانے اور آپ کی شان کے بیان اور وضاحت کرنے کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے آپ کی شان کے بیان اور وضاحت کرنے کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے آپ کی نعت اور تعریف کو چھپالیا، پس یہ آیت ان کے لئے زجر وتوبیخ ہے، پھر اس کے ساتھ ساتھ یہ انکے لئے اور دوسروں کے لیے عام خبر ہے، حضرت حسن اور قتادہ ؓ نے کہا ہے : یہ آیت ہر اس کے بارے میں ہے جسے کتاب میں سے کسی شے کا علم دیا گیا جو کسی شے کا عالم ہو تو اسے چاہیے…
Read the full tafseer →(1) ابن اسحاق وابن جریر نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس “ سے لے کر ” عذاب الیم “ تک سے مراد ہے فخاص اشیع اور ان جیسے دوسرے علماء مراد ہیں۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس “ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ ان کو حکم تھا کہ وہ نبی امی کی تابعداری کریں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان لے آئے اور فرمایا اس کی تابعداری کرو تاکہ تم ہدایت پاجاؤ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو فرمایا لفظ آیت ” اوفوا بعھدی اوف…
Read the full tafseer →[وَاِذْ : اور جب ] [اَخَذَ : پکڑا (یعنی لیا) ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ : ان لوگوں کا عہد جن کو ] [اُوْتُوا : دی گئی ] [الْـکِتٰبَ : کتاب (کہ) ] [لَتُـبَــیِّنُـنَّـہٗ لِلنَّاسِ : تم لوگ لازماً واضح کرو گے اس کو ] [وَلاَ تَـکْتُمُوْنَـہٗ : اور تم لوگ نہیں چھپائو گے اس کو (یعنی کتاب کو ) ] [فَـنَـبَذُوْہُ : تو انہوں نے پھینکا اس کو (یعنی عہد کو) ] [وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ : اپنی پیٹھوں کے پیچھے ] [وَاشْتَرَوْا : اور انہوں نے خریدا (یعنی حاصل کیا) ] [بِہٖ : اس کے (یعنی کتاب کے ) بدلے ] [ثَمَنًا قَلِیْلاً : تھوڑی قیمت کو ] [فَبِئْسَ : تو کتنا برا ہے ] [مَا : وہ جو ] [یَشْتَرُوْنَ…
Read the full tafseer →اہل کتاب سے میثاق لینا اور ان کا عہد سے پھرجانا
جن لوگوں کو امت محمدیہ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب دی گئی جن میں یہود و نصاریٰ کے علماء بھی تھے ان سے اللہ تعالیٰ نے عہد لیا تھا کہ جو کتاب تمہیں دی گئی ہے اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرو گے اور کسی چیز کو چھپانا نہیں۔
عہد کی ان لوگوں نے پاسداری نہ کی، اور اس کو پس پشت ڈال دیا اور حقیر دنیا حاصل کرنے کے لیے کتاب کے مضامین کو چھپایا اور حق کو بیان کرنے سے پیچھے ہٹتے رہے، اللہ کے عہد کو پس پشت ڈال کر اور حق کو چھپا کر جو اپنے معتقدین سے ذرا بہت دنیا حاصل کرلی یہ انہوں نے بہت بڑے نقصان کا سودا کیا اپنی آخرت برباد کی اور ذرا سی دنیا کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قال اللہ تعالیٰ لقد سمع اللہ۔۔۔۔۔ الی۔۔ مایشترون۔ آیت۔
ربط) ابتداء سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود ونصاری) سے متعلق تھا اور درمیان میں خاص خاص مناسبات کے بنا پر غزوہ احد کی تفصیلات کا بیان ہوا اب اخیر سورت میں پھر اہل کتاب کی کچھ شنائع اور قبائح کو بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ اہل کتاب میں یہود کا معاملہ سخت تھا اور یہ گروہ مسلمانون کا شدید ترین دشمن تھا اور منافقین بھی اکثر انہی میں کے تھے اس لیے یہود کی گستاخیوں کو خاص طور پر ذکر کرتے ہیں۔
شان نزول۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی من ذالذی یقرض اللہ۔ الی۔۔۔ کثیرہ۔ آیت۔ تو یہود یہ کہنے لگے کہ اے محمد آپ کا پروردگار فقیر ہوگیا ہے جو…
Read the full tafseer →285 یہ ماقبل ہی سے متعلق ہے پہلے مومنوں کو تشجیع دلائی کہ اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے دی گئی ایذاؤں پر صبر کریں اب یہاں اہل کتاب کے لیے زجر کا ذکر فرمایا کہ ہم نے ان سے عہد لیا تھا کہ وہ حق یعنی مسئلہ توحید کو مانیں گے اور اسے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں لیکن انہوں نے اس عہد و میثاق کی کوئی پرواہ نہ کی۔ فَنَبَذُوْہُ وَرَاءَ ظَھُوْرِھِمْ ۔ ھم ضمیر میثاق کی طرف راجع ہے انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا اور اس کی پابندی نہ کی۔ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا۔ بہ کی ضمیر الکتاب کی طرف راجع ہے جس کتاب کو کھول کھول کر بیان کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس کتاب کو بیان کرنے کی بجائے اسے…
Read the full tafseer →ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے آزمائش کو اصول بیان فرمایا تھا۔ اور مسلمانوں کو خبردار کردیا تھا۔ کہ تمہیں تمہارے مالوں اور جانوں کے ذریعے لازمی طور پر آزمایا جائیگا۔ لہذ اس قسم کے امتحان کے لیے ہمہ وقت تیار رہو۔ نیز یہ کہ کسی مومن کا ایمان جس قدر پختہ ہوتا ہے ، اس کی آزمائش بھی اسی قدر سخت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے بڑی دل آزار باتیں سننی پڑیں گی۔ مگر ان سے دل برداشتہ ہو کر تبلیغ دین کا کام ترک نہ کر بیٹھنا ، بلکہ اپنا کام ہمیشہ اور ہر حالت میں جاری رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تکلیف دہ امور پر اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔ کہ اگر…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُوْنَہٗ 0 ۡفَنَبَذُوْہُ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا 0 ۭ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ 187
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
ترکیب : لتبیننہ کا مرجع عند البعض کتاب ہے۔ بعض کے نزدیک نبی (علیہ السلام) ہیں۔ وراء ظرف ہے نبذوا کا لاتحسبن بالتاء خطاب للنبی اولکل من یصلح للخطاب ‘ انت ضمیر اس کی فاعل اور الذین صلہ و موصول مع معطوف مفعول اول خیرًا مفعول ثانی محذوف یا لاتحسبن ثانی اسی کا اعادہ ہے۔ ھم مفعول اول بمفازۃ مفعول ثانی مفازۃ مفعلۃ ہے یعنی ظرف مکان من العذاب متعلق کے ہو کر مفازۃ کی صفت اور اگر مفازۃ کو مصدر میمی مانا جاوے تب اسی کے ساتھ متعلق ہے۔
تفسیر : صبر اور پرہیزگاری جس کا حکم دیا تھا اور اس کو ہمت کے کاموں میں سے بتایا تھا ‘ یہود میں سے جاتی رہی تھی۔ جس کا ذکر آیات میں کیا جاتا ہے۔ واذ اخذ اللّٰہ کہ خدا نے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
وَاِذْاَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ لِتُـبَـیِّـنُـنَّـہٗ لِلنَّاسِ وَلاَ تَـکْتُمُوْنَـہٗ ز فَـنَـبَذُوْہُ وَرَآئَ ظُھُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ط فَبِئْسَ مَایَشْتَرُوْنَ ۔ لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَـآ اَتَوْا وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلاَ تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ وَلِلّٰہِ مُلْـکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ع
(اور یاد کرو جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیاجنھیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے پھیلائو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کے من گھڑت بہانے کی تردید کرنے کے بعد انہیں اظہارِ حق کے عہد کی یاد دہانی کروائی گئی ہے۔
یہود و نصاری نہ صرف نبی آخر الزماں ﷺ کے اوصاف اور آپ کی نبوت کے ٹھوس دلائل چھپاتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے ہر اس بات کو تورات اور انجیل سے نکال دیا ہے جو ان کے مفادات کے خلاف ہے حالانکہ ان سے اللہ تعالیٰ نے پختہ عہد لیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے احکامات کو چھپانے کی بجائے انہیں کھول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرو گے۔ انہوں نے اس عہد کو اس طرح فراموش کردیا اور دور پھینکا جس طرح کوئی شخص کسی چیز کو اپنے پیچھے پھینک کر الٹے منہ دیکھ نہیں سکتا۔ دنیا کے وقتی وقار، عارضی اقتدار، معمولی…
Read the full tafseer →کتمانِ حق ‘ حق فروشی کی ممانعت :
187: وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ فَنَبَذُوْہُ وَرَآ ئَ ظُھُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا۔ فَبِئْسَ مَایَشْتَرُوْنَ ۔ (جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے پختہ وعدہ لیا جن کو کتاب دی گئی) یعنی اس وقت کو یاد کرو۔ جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے وعدہ لیا۔ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ (اس کو ضرور لوگوں کے سامنے بیان کرنا اور ہرگز نہ چھپانا لوگوں سے) وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ تَا کے ساتھ ان کے خطاب کی حکایت کے طور پر فرمایا جیسا اس ارشاد میں : وَقَضَیْنَآ اِلٰی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 187۔:
(آیت)” واذا اخذاللہ ۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔ ولا تکتمونہ “۔ ابن کثیر (رح) ، اہل بصرہ (رح) ، ابوبکر (رح) نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ” فنبذوہ وراء ظھورھم “۔ دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔
(آیت)” فنبذوھم وراء ظھورھم “۔ اس کو چھوڑ دیا اور اس کو ضائع کردیا اور اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ۔
(آیت)” واشتروا بہ ثمنا قلیلا “۔ حقیر معاوضہ اور رشوتیں لے لیں ، ” فبئس مایشترون “۔ قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ یہ وہ میثاق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے لیا تھا کہ جو تم میں سے کوئی علم سیکھنے تو اس کو چاہیے کہ وہ آگے علم سکھائے تو علم چھپانے سے بچو کیونکہ علم کا چھپانہ ہلاکت کا باعث ہے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے…
Read the full tafseer →یہ وہی معاہدہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزار ہا برس پہلے دنیا کے ہر ایک دورہ کی مصلحت کے موافق اپے علم ازلی میں ایک قانون قرار دیا ہے جس کو اس دورہ دنیوی کی شریعت کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے اور نبیوں نے اپنی اپنی امتوں سے یہ عہد لیا ہے کہ ہر زمانہ میں اس شریعت کے موافق عمل ہوگا جو شریعت اس زمانہ کے لئے ٹھہرائی گئی ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے اہل کتاب نے محض اس دشمنی سے کہ یہ نبی آخر الزمان بنی اسماعیل میں کیوں ہوئے ہیں بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے اس معاہدہ کی پابندی چھوڑ دی تھی۔ اور نبی آخر الزمان کے اوصاف کی آیتوں کو چھپا ڈالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
آیت 187-188
(میثاق) اس عہد کو کہتے ہیں جو بہت موکد اور بھاری ذمہ داری کا حامل ہو۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص سے لیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی اور اسے علم سے نوازا۔ اس سے یہ عہد لیا کہ لوگ اس کے علم میں سے جس چیز کے محتاج ہوں وہ ان کے سامنے بیان کرے اور ان سے کوئی چیز نہ چھپائے اور نہ علم بیان کرنے میں بخل سے کام لے خاص طور پر جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جو علمی راہنمائی کا متقاضی ہو۔ پس اس صورتحال میں ہر صاحب علم پر فرض ہے کہ وہ مسئلہ کو بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کر دے۔ اور جن لوگوں کو اللہ نے توفیق سے نوازا ہے، وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–187
قول باری ہے (واذاخذاللہ میثاق الذین اوتوالکتاب لتبیننہ للناس ولاتکتمونہ، ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاددلاؤجو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا۔ انھیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا) اس آیت کی نظیر کا ذکرسورہ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور سدی مروی ہے کہ اہل کتاب سے مرادیہود ہیں ۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہاں یہودونصاری دونوں مراد ہیں۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی علم دیاگیا ہو اور پھر وہ اسے لوگوں سے چھپائے رکھے۔ حضرت ابوہریر ؓ ہ نے فرمایا، اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہارے سامنے حدثیں بیان نہ…
Read the full tafseer →401 یہود سے اظہار و تبیین حق کے عہد کا ذکر وبیان : سو اس عہد و پیمان کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب اللہ نے پختہ عہد لیا ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی کہ تم نے ضرور بالضرور اس کو کھول کر بیان کرنا ہے لوگوں [ کی بھلائی اور نفع رسانی ] کے لیے اور اس [ کے کسی بھی حصے ] کو تم لوگوں نے چھپانا نہیں۔ تاکہ اس طرح لوگ اپنے خالق ومالک کی طرف سے نازل کردہ تعلیمات مقدسہ اور ارشادات حقہ سے مستفید و فیضیاب ہو سکیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں، کہ وحی الہٰی اور ہدایت خداوندی کی روشنی و رہنمائی کے بغیر اس مقصد جلیل کا حصول ممکن نہیں۔ سو اس اعتبار سے وحی کے علوم کو چھپانا بہت بڑا جرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–187
جان و مال کی آزمائش، اہل کتاب کا عہد
تشریح : اس آیت میں مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ تمہاری نیکی، تقوٰی اور ایمان کو آزمایا جائے گا کبھی جان کے نقصان سے کبھی مال اور عزت و وقار کے نقصان سے۔ کیونکہ اہل کتاب ہر صورت تمہیں پریشان کریں گے۔ ان کی طرف سے دی گئی تکالیف سے ہرگز پریشان نہ ہونا بلکہ پورے صبر، سکون، ہمت اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے سب کچھ برداشت کرکے ثابت قدم رہنا۔ کیونکہ یہ بڑے حوصلے، کا میابی اور نجات کا راستہ ہے، پھر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب فرماتا ہے کہ ان اہل کتاب کو یہ اعتراض کرنا تو یاد رہا کہ آگ کا معجزہ دکھائیں۔ ان کو اپنا وہ عہد کیوں بھول گیا جس کا ذکر بائبل میں آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 181–189
آیات 181- 189
اسرارو معارف
لقد سمع اللہ……………وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
اللہ ان کی بات بھی سن رہے ہیں جو صدقات وزکوٰۃ کے احکام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو مالدار ہیں اور اللہ فقیر اور مفلس ہے کہ اپنے لئے خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خرچ کرنا بھی مخلوق ہی کو فائدہ پہنچانا ہے اور خود یہود کا بھی ممکن ہے ایسا عقیدہ تو نہ ہو صرف آپ ﷺ کی مخالفت میں ایسی لغوبات کہہ دی جو بداہتہً باطل ہے اور کسی طرح قابل جواب بھی نہیں۔
ارشاد ہوا کہ یہ جملہ کلمات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ محض بات نہیں جو کہہ دی اور ختم ہوگئی۔ بلکہ نامہ اعمال کا حصہ ہے جو بالآخر سامنے آجائے گا۔ آپ ﷺ ان کی خرافات کی پرواہ…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اہل کتاب سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ ان کی کتابوں میں جو احکام دیئے گئے ہیں اور نبی آخرالزمان (ﷺ) کے متعلق جو بشارتیں اور علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان کا اعلانیہ اظہار کریں گے اور ان کو چھپانے کا جرم کا ارتکاب نہ کریں گے۔ مگر انہوں نے دنیا طلبی میں پڑکر اس عہد کی کوئی پر وا نہ کی اور ان احکام کی بھی لفظی اور معنوی تحریف کی اور ان بشارتوں اور علامتوں کو چھپایا فبئس ایشترون۔ اس آیت میں ضمنا مسلمان علمائ کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حق بات کو جانتے بوجھتے چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہ کریں حدیث میں متعدد طریق سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد مردی ہے من سل عن علم فکتمہ الجم یوم القیامتہ بلجام ناذ کہ…
Read the full tafseer →(3:187) لبیننہ۔ مضارع بلام تاکید و نون ثقلیہ۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ کہ تم ضرور بیان کروگے یہ میثاق کا مضمون ہے یعنی اہل کتاب سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ تم ضرور بیان کرو گے لوگوں کے سامنے اور اس کو چھپاؤ گے نہیں۔
فنبذوہ۔ ہ ضمیر میثاق کی طف راجع ہے۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ نبذ ینبذ (ضرب) نبذ سے پھینکنا۔ نبذ ینبذ ینبذ (نصر) نچوڑنا۔ نبیذ نچوڑا ہوا عرق۔ انہوں نے اس کو پھینک دیا۔ یا ڈال دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 186–189
لغات القرآن آیت نمبر 186 تا 189
لتبلون (البتہ ضرور تم آزمائے جاؤگے) لتسمعن (البتہ تم ضرور سنو گے) عزم الامور (البتہ تم اس کو ظاہر کرو گے) لا تکتمونه (تم اس کو نہ چھپاؤ گے) نبذوہ (انہوں نے اس کو پھینک دیا) لم یفعلو (انہوں نے نہیں کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 186 تا 189
آخرت کی کامیابی اور ناکامی اور دائمی جزا وسزا کا حال سنا کر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! ابھی جان دونوں ہی سے تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اللہ کی راہ میں تمہاری جانیں اور مال دونوں ہی طلب کئے جائیں گے۔ تمہیں کفار اور یہودیوں کی ابھی بہت سی تکلیف دینے والی باتیں بھی سننا پڑیں گی لیکن اگر تم نے صبر وتقویٰ کا…
Read the full tafseer →ان آیتوں میں یہ تنبیہ فرمائی کہ دنیا کے تھوڑے سے لالچ کے لئے اتنے بڑے سخت اور قدیمی معاہدہ کی مخالفت جو ان لوگوں نے اختیار کی ہے، اور پھر اس پر اس بات کی ان کو خوشی ہے کہ ان کی چوری کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ یہ ان کی تجارت ایک بڑے ٹوٹے (نقصان) کی ہے۔ دنیا چند روزہ ہے اس میں چل پھر کر اگر کچھ کیا، یا کما لیا تو پھر عقبیٰ کے ابد الآباد عذاب سے بچ کر کہاں جاویں گے۔ وہ اللہ جس کی بادشاہت زمین وآسمان میں ہے کیا کوئی ایسا ہے جو ان کو عذاب سے چھڑا سکے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ جو عالم جان کر کسی دین کی بات کو چھپاوے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جاوے گی۔ ترمذی نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–200
[70] یعنی اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں انہیں کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ نہ بیٹھے اور انہیں پر حق و باطل اور فلاح و خسران کے فیصلے کا مدار رکھے تو درحقیقت وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہاں کسی پر نعمتوں کی بارش ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی برحق ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت بھی حاصل ہے۔ اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا ہی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور مردود بارگاہ الٰہی ہے۔ اکثر اوقات اسی ابتدائی مرحلے کے نتائج ان آخری نتائج کے برعکس ہوتے ہیں جو حیات ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں اور دراصل اعتبار انہیں…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہر اہل کتاب مکلف ہے کہ خدا کے احکام کو بالوضاحت دوسروں تک پہنچائے اور کسی قسم کی تحریف سے کام نہ لے مگر یہودیوں نے محض اس لئے حقائق کو بدل دیا کہ اس سے ان کا دنیوی مفاد متعلق تھا ۔
ہر معاوضہ جو حق وصداقت کے بدلے قبول کیا جائے ، قرآن مجید کی اصطلاح میں وہ ثمن قلیل ہے یعنی ایک ایسی حقیر رقم جو بمقابلہ اخروی انعام کے نہایت کم ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
ف 2 اور وہ واقعہ یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان اہل کتاب سے انبیاء کی یا کتب سماویہ کی معرفت یہ عہد لیا کہ تم اس کتاب کے تمام مضامین کو لوگوں کے سامنے صاف صاف بیان کرنا اور کتاب کے کسی مضمون اور کسی حکم کو چھپانا نہیں اور نہ پوشیدہ رکھنا لیکن انہوں نے اس عہد کا یہ حشر کیا کہ اس عہد کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا اور اس پر عمل نہ کیا اور اس کتاب کے بدلے میں انہوں نے معمولی قیمت اور کم حقیقت معاوضہ حاصل کرلیا وہ چیز بہت بری ہے جس کو یہ لوگ حاصل کررہے ہیں۔
عہد کا مطلب یہ ہے کہ ان کو انبیاء کی معرفت یا ان کی کتابوں میں یہ حکم دیا گیا تھا اور انہوں نے اس کو قبول کیا تھا کہ ہم کتاب کے مضامین اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
ف 1۔ کردار بدیہی کے احکام کو چھپاتے تھے اور جو نیک کام نہیں کیا اس سے مراد اظہار حق ہے جس کو وہ نہ کرتے تھے لیکن دوسروں کو یقین دلانا چاہتے تھے کہ ہم اظہار حق کرتے ہیں تاکہ ان کا خداع معلوم نہ ہو چناچہ جناب رسول اللہ ﷺ کے روبرو بھی یہود نے یہ جرات کی۔
Read the full tafseer →یہود کو کتاب اللہ دی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا :
341: زیر نظر آیت میں علماء یہود کے اس جرم کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کو کتاب دی گئی تھی۔ کہ اس میں جو احکام ہیں بےکم وکاست لوگوں تک پہنچا دو اور اس میں سے کچھ مت چھپاؤ لیکن انہوں نے اپنی دنیوی اغراض کے لئے اور طمع نفسانی کی خاطر اس عہد کی پرواہ نہ کی اور بہت سے احکام کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا اگر وہ اس جرم کے مرتکب نہ ہوتے اور لوگوں تک صحیح صحیح حق پہنچاتے تو پیغمبر اسلام ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلیم کرلیتے اور آج مخالفت اور سب و شتم سے جو وہ کام لے رہے ہیں اس کی بجائے وہ پیغمبر اعظم و آخر ﷺ کے معین و مدد گار ہوتے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–189
In continuation of the description of evils practiced by the Jews mentioned in previous verses, the first of the present two verses (187, 188) takes up yet another evil practice of theirs. This is their habit of going back on solemn pledges and covenants - for Allah Almighty had taken pledge from the people of the Book that they would communicate the commandments of Allah appearing in the Torah freely, openly and universally and that they would not conceal any injunction out of their selfish ends. The people of the Book broke this covenant. They concealed injunctions. Not only that, they were…
Read the full tafseer →132. Although the Jews remembered that some Prophets had been endowed with the miracle of consuming fire, they conveniently forgot their covenant with God at the time they were entrusted with the Scripture, and their mission as the bearers of the Scripture. The 'covenant' to which this verse alludes is mentioned at several places in the Bible. In the last sermon of Moses, cited in Deuteronomy, he again and again calls the attention of Israel to the covenant in the following words: 'Hear, O Israel: The Lord our God is one Lord; and you shall love the Lord your God with all your heart, with all…
Read the full tafseer →